باسمه تعالی إنّا لِلهِ وَإِنّا إِلَيْهِ راجِعُون رحلت فقیه عالی قدر آیت الله آقای حاج شیخ محمّد تقی شریعتمداری رضوان الله علیه موجب تأثّر و تأسّف گردید. شخصیت بزرگواری که سالیان متمادی به تدریس فقه آل محمد علیهم‌السّلام و ترویج اسلام و دفاع از...
چهارشنبه: 1400/03/26

Printer-friendly versionSend by email
عيد الفطر كے سلسلہ ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي دامت بركاتہ كے بيانات

اَسْئَلُكَ بِحَقِّ هذَا الْيَومِ الَّذِي جَعَلتَهُ لِلْمُسْلِمِينَ عِيداً
عيد سعيد فطر كے دن ساري دنيا كے مسلمان خوشي و مسرت ميں غرق رہتے ہيں اور اس بات پر فخر محسوس كرتے ہيں كہ انھوں نے ماہ مبارك رمضان كو خدا كي طاعت و عبادت ميں بسر كيا اور اس كي رحمتوں اور بركتوں سے فيض حاصل كيا ۔ 
خدا كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اسلام كے ايك عظيم تربيتي درس كو ايك مہينہ ميں تمام كيا ہے ۔ اور اس ميں جو سبق انھيں ديا گيا ہے اسے اپني صلاحيت اور استعداد كے مطابق سمجھا ہے اور اسے اپنے دل ميں اتارا ہے ۔ 
اس دن مسلمان ايك ايسے ميدان جہاد سے كامياب و سرفراز ہو كر نكلے ہيں جس ميں بڑے بڑے پہلوان اور قدآور لوگ خاك چاٹ چكے ہيں ۔ 
اس جہاد كا نام جہاد بالنفس ہے ،جس ميں انسان اپنے دل كي خواہشات ، حيواني غرائز اور نفساني لذات سے جہاد كرتا ہے ۔ 
نفس كو اس كے شہواني امور سے روكنا ، لذيذ غذاؤں اور گوارا مشروبات سے پرہيز كرنا ، نگاہوں كو شيطاني ہوا و ہوس اور حرام چيزوں سے بچانا ، جھوٹ ، غيبت ، غصہ ، بد اخلاقي ، تكبر ، جاہ و مقام طلبي اور ہر طرح كے گناہوں سے پرہيز كرنا ہي اس ميدان جہاد ميں فتح و كاميابي كي علامت ہے ۔ 
يہ سب جہاد ہيں بلكہ جہاد اكبرہيں جيسا كہ پيغمبر اسلام (ص) نے ميدان جہاد ميں جانے والے اور دشمن كے ساتھ اسلحہ اور تلوار سے جنگ كرنے والے گروہ سے فرمايا:
مَرحَبا بِقَوم قَضُوا الجِهادَ الاَصغَر وَبَقِىَ عَلَيهِمُ الجِهادُ الاَكبرَ

" جہاد اكبر" وہ مرحلہ ہے جس ميں با ايمان افراد ، وہ خواتين و حضرات جن كي تربيت اسلام كے دامن ميں ہوئي ہے ، ان كے علاوہ كوئي ثابت قدم نہيں رہ سكتا ، نہ ہي وہاں سے كامياب ہو كر نكل سكتا ہے ۔ 
يہ وہ ميدان ہے جہان قوي الجثہ افراد ، مال و مقام كے عاشق ، شہوت پرست ، خونخوار جلاد ، دنيا طلب فاتح ، مغرور جوان ، كينہ توز افراد ، بے رحم ظالم ، نسل كشي كرنے والے جلاد صفت ، بے پروا خواتين ، ناپاك دوشيزائيں اور مادي دنيا ميں غرق رہنے والے افراد ہلاكت كي ذلت سے دوچار ہوتے ہيں اور اس ميدان ميں شركت كرنے سے عاجز و ناتوان ہيں ، انھيں كوئي فخر نصيب نہيں ہوتا ۔ 
اس ميدان ميں باايمان خواتين اور مرد ، خداپرست افراد ، خاكسار لوگ ، متقي و پرہيزگار ، صبر و زہد ركھنے والے ،دنيا اور مال دنيا سے بے رغبت افراد لباس جنگ پہن كر بلند ہمت او رمستحكم ارادے كے ساتھ ميدان ميں اترتے ہيں اور اپنے حريف كو شكست دے كر كاميابي كے ساتھ اس ميدان سے باہر نكلتے ہيں ۔ 
يقيناً نفساني خواہشات سے جنگ آسان ہونے كے باوجود دشوار ہے ، آسان ہے چونكہ انسان كي پاك فطرت اور عقل و خرد مصلحتوں كو درك كرتي ہے اور اگر اس ميدان ميں انسان قدم ركھے تو جتنا آگے بڑھتا جائے گا، كاميابي ملتي جائے گي يہاں تك كہ اپنے سركش نفس كو مغلوب كر كے اپنا فرمانبردار بنا لے گا اور اپنے بدن كي مملكت ميں اپني ملكوتي اور عقلاني طاقت كو حاكم بنا دے گا ۔ 
دوسري طرف يہ كام دشوار بھي ہے چونكہ نفس سے جہاد ، اپني طرح طرح كي خواہشات كے مقابلے ميں قيام كرنا ، انھيں كنٹرول كرنے كي كوشش كرنا ، شيطاني مكر و فريب اور مخفي خواہشات كو پہچاننا ہر انسان كے بس كي بات نہيں ہے ۔ نفس امارہ كر لگام لگانا اور دنيا كي مادي لذتوں سے چشم پوشي ، اپنے سركش نفس كي ہزار قسم كي مختلف خواہشات كو قابو ميں كرنا اتني جلدي ممكن نہيں ہے ۔ بلكہ يہ اندروني دشمن ان بيروني طاقتوں سے مدد ليتا ہے جو انسان كے غريزے اور خواہشات كي مددگار ہيں ۔ 
اسي لئے نفس سے جہاد كرنا دشوار كام ہے ، ليكن كامياب وہي ہے جو اپنے نفس كو اپنے قابو ميں ركھے اور اسے صحيح طريقہ سے كام ميں لائے ۔ 
ماہ مبارك رمضان جہاد بالنفس كا مہينہ ہے ، اس ميں انسان اپني خواہشات كو كنٹرول كرتا ہے اور اپنے ارادہ كي قوت سے ان پر قابو پاتا ہے ، اور اب يہ موقع ختم ہو گيا اور جشن عيد و سرور برپا كرنے كا موقع آگيا ، يہ عيد اسلامي عيد الفطر ہے ، يہ ايك عمومي عيد ہے جو تمام لوگوں كے لئے ہے ۔ 
اَسئَلُكَ بِحَقِّ هذَا اليَومِ الَّذِي جَعَلتَهُ لِلْمُسلِمينَ عيِداً
يہ وہ عيد ہے جسے خداوند عالم نے تمام مسلمانوں كے لئے عيد اور خوشي كا دن قرار ديا ہے ۔ 
يہ وہ عيد ہے جس ميں عالمي پيمانے پر مساجد اور اسلامي مقامات پر خدا كي بندگي اورعبادت كا جلوہ نظر آتا ہے ۔ 
اس عيد كے رسوم صرف اہل دولت ، حكام ، سرشناختہ شخصيات اور اہل مملكت سے مخصوص نہيں ہيں ۔ 
مادي ڈيكوريشن ، گرانقيمت تحفہ و تحائف كا لين دين ، جيسا كہ اسلام سے پہلے عيدوں ميں رواج تھا ، اس عيد ميں رائج نہيں ہے ۔ 
اس ميں رعايا پر حكام كي زيارت كے لئے جانا ضروري نہيں ہے بلكہ مزدور اور ثروت مند ، افسر اور سپاہي ، فقير اور غني ، شاہ و گدا سبھي ايك ہي صف ميں كھڑے ہو كر خدا كي بندگي ، عبادت اور دعا كيا كرتے ہيں ۔ 
جيسا كہ ہميں معلوم ہے كہ اس عيد كا سب سے اہم ركن " نماز" اور " زكات فطرہ" ہے ۔ 
نماز اور زكات
جيسا كہ بتايا گيا كہ نماز ميں ہر طرح كے لوگ شريك ہوتے ہيں جس سے اسلامي برادري اور برابري كا جذبہ آشكار ہوتا ہے ۔ اس عيد ميں نماز ادا كي جاتي ہے اور قنوت ميں دعا پڑھي جاتي ہے اور پھر نماز كے بعد دو خطبہ ہيں جن ميں اسلام كا سب سے عظيم درس انسان كو پڑھايا جاتا ہے اور بہت سي ضروري چيزيں انسان كو بتائي جاتي ہيں، اور تمام لوگوں كو يہ دعوت دي جاتي ہے كہ اسلامي مقاصد كي تكميل ، ديني شعائر كي تعظيم ، علم و حكمت كي ترويج اور امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كے لئے مكمل طريقہ سے كوشش كريں ۔ 
جن لوگوں كے پاس سال بھر كا خرچ موجود ہے يا ايسا ذريعہ آمدني پايا جاتا ہے جس سے سال بھر كا خرچ پورا ہو سكتا ہے ان پر يہ فريضہ عائد كيا گيا ہے كہ وہ زكات ادا كر كے مسلمانوں كي مدد كريں ۔ 
اس عيد ميں مہنگے اور كمر شكن خرچ و بيہودہ اسراف كي كوئي جگہ نہيں ہے اس لئے بدكردار افراد كي عياشي اور فضول خرجي اور شہوت راني اور ميگساري كي بھي اس عيد ميں كوئي گنجائش نہيں ہے ۔ 
يہ عيد " كريسمس ڈے" كي طرح نہيں ہے جس ميں عيسائي برے كاموں اور فساد و فحشا ميں غرق رہتے ہيں اور بيہودہ كاموں ، ناچ گانے ، شباب و شراب اور فسق و فجور ميں ملوث رہتے ہيں اور دين اور حضرت عيسيٰ عليہ السلام كے نام پر لہو لعب ، جوا ، مستي ، شراب ، گانے اور ميوزيك كے پروگرام برپا كئے جاتے ہيں جب كہ يقيناً خدا كے پاك پيغمبر حضرت عيسيٰ عليہ السلام ان چيزوں سے بيزار ہيں ، نہ ہي يہ عيد " سيزدہ بدر" اور نوروز كي طرح ہے كہ جس ميں كچھ ہي سالوں پہلے تك شراب فروشي ، مجالس لہو و لعب ، شہوت انگيز فيلم اور سينيما كا رواج تھا اور ان ايام ميں بدترين جرم و جنايت كي تاريخ رقم كي جاتي ہے يہاں تك كہ اعداد و شمار كے مطابق وہ بچے جن كا نطفہ ان ايام ميں منعقد ہوتا تھا وہ ذہني اور فكري حوالہ سے پسماندگي كا شكار ہوتے تھے ، اسي طرح بہت سے دن ہيں جن كو مقدس نام ديا گيا ہے ، جيسے " مدر ڈے " ، "ٹيچر ڈے" وغيرہ ليكن يہ سب صرف اور صرف دكھاوا ہے اس كا حقيقت سے كوئي تعلق نہيں ہے ، جن كو ايك رسم كے طور پر ادا كيا جاتا ہے جس سے بچكانہ اور نادان جذبات وقتي طور پر ان سے متاثر ہوتے ہيں ۔ 
اس طرح كے ايام كو عيد نہيں كہنا چاہئے ، يہ رسومات اغيار كي تقليد اور مغرب كي جھوٹي اور حقيقت سے خالي سوغات پر مشتمل ہيں ، ورنہ اسلام ميں ہر دن " مدر ڈے " ہے ۔ ہر دن ماں باپ اور استاد كا احترام واجب اور ضروري ہے ۔ 
اسلامي ماحول جو كہ انساني مہر و محبت كا سب سے عمدہ نمونہ ہے ، اس ميں ماں ، استاد اور بچوں كا احترام ہميشہ اور ہر روز مورد تاكيد قرار ديا گيا ہے ۔ 
جن جگہوں پر سال كے ديگر ايام ميں يہ ديكھنے كو ملتا ہے كہ ماں باپ اور استاد كا احترام ختم ہو چكا ہے ان لوگوں نے اس مردہ جذبہ كو زندہ كرنے كے لئے سال ميں ايك دن معين كر ديا ہے جس ميں ماں باپ يا استاد كو تصنع اور بناوٹي انداز ميں ياد كيا جائے ۔ اس لئے ان دنوں كو صرف سالانہ ياد اور نابود شدہ انساني اقدار كي برسي كے طور پر منايا جاتا ہے ۔ 
وہ قوم جس خود كو اپنے ماں باپ اور استاد كا مرہون منت سمجھتي ہے اور ان كا دين انھيں ان كے حقوق كي ادائگي كا حكم ديتا ہے انھيں اس طرح كي نمايشوں كي ضرورت نہيں ہے ۔ 
ہم مسلمان اسي ماہ رمضان كے ايام ميں ماں باپ وغيرہ كے حقوق كے حوالے سے كتنے سبق سيكھتے ہيں ، دعاؤں ميں بارہا ماں كي زحمتوں كو ياد كيا جاتا ہے اور اس كي خدمات كو ذہن نشين كرايا جاتا ہے ۔ 
زندہ باد اسلام! جس نے تربيت اور معاشرے كي روحاني صلاح و فلاح كو سرمشق عمل قرار ديا ہے اور ہر موقع پر انسان كے قوت فكر اور قوت ارادہ كو مضبوط بنانے كے لئے انتظام كيا ہے ۔ 
يہ عيد فطر بھي ان تمام باارزش اور عالي مفاہيم كي يادآوري ہے جو انسان كو ہر نيك عمل كي ہدايت كرتے ہيں ۔ 
 اَن تُدخِلَنِي فِي كُلِّ خَير اَدخَلتَ فِيهِ مُحَمَّداً وآلَ مُحَمَّد،
وَاَن تُخرِجَنِي مِن كُلِّ سُوء اَخرَجتَ مِنهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّد
يہ عيد خدايي عيد ہے ، يہ دعا و نماز ، بندگان خدا كے ساتھ اچھا برتاؤ اور برادران اسلامي سے ملاقات كا بہترين موقع ہے ۔ 
چودہ صديوں سے يہ عيد منائي جا رہي ہے ، ليكن آج تك يہ سننے كو نہيں ملا كہ كسي نے اس عيد كے وسائل مہيا نہ ہونے كي وجہ سے خودكشي كر لي ہے ، يا زن و شوہر نے اس بات كو لے كر عدالت ميں مقدمہ دائر كيا ہے ۔ 
يہ وہ عيد ہے جس ميں بيجا تفريح كے بجائے لوگ مسجد اور بيت الصلاۃ كي طرف جاتے ہيں ۔ خداوند عالم نے اس عيد كو پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے خير كا ذخيرہ ، شرف اور كرامت كي نشاني اور اسلامي اقدار كي عظمت و بلندي كا ذريعہ قرار ديا ہے ۔ 
________________________________________
منبع : ماہ مبارك رمضان ؛ مكتب عالي تربيت و اخلاق ، تاليف حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

چهارشنبه / 22 ارديبهشت / 1400