رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
پنجشنبه: 1401/09/17
Printer-friendly versionSend by email
ولادت با سعادت امام حسن عسكري عليہ السلام

ہمارے گیارہویں امام جن كا تعلق خاندان پیغمبر(ص) اور خاندان حضرت زہرا(س) سے ہے ، آپ ۲۲ سال كی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور امت كے نجات و ہدایت كی باگ ڈور سنبھالی اور صاحب منصب ولایت قرار پائے ۔ ۶سال یہ منصب آپ كے ہاتھوں میں رہا اور پھر ۲۹ سال كی عمر میں اپنے اجداد طاہرین كی طرح جام شہادت نوش فرمایا ۔ 
امام حسن عسكری علیہ السلام كے بہت سے فضائل نقل كئے گئے ہیں ، آپ كا اخلاق ، طریقہ عبادت ،لوگوں كے ساتھ رابطہ بالخصوص اپنے چاہنے والوں پر آپ كی عنایات اور دشمنوں كے ساتھ خوش اخلاقی كا مظاہرہ وغیرہ ، جن میں سے ہم چند خصوصیات كو یہاں پر ذكر كر رہیں ہیں ۔ 
عبادت امام 
محمد بن اسماعیل ناقل ہیں : جس وقت امام حسن عسكری علیہ السلام زندان میں تھے ،آپ دن میں روزہ ركھتے اور رات عبادت میں بسر كرتے تھے ، گفتگو نہیں كرتے تھے اور عبادت كے علاوہ آپ كی اور كوئی مشغولیت نہیں تھی ۔
(اعیان الشیعہ،ج/۴،ص/۳۰۵)
امام عسكری علیہ السلام كی ایك نصیحت

امام حسن عسكری علیہ السلام كے بچپن میں ایك بار بہلول نے آپ كو گلی میں بچوں كے درمیان روتے ہوئے دیكھا جبكہ دیگر بچے كھیل میں مشغول تھے ۔ بہلول نے سوچا كہ امام كے رونے كا سبب یہ ہے كہ آپ كے پاس بچوں كی طرح كھلونا نہیں ہے ۔ پھر بہلول نے حضرت سے كہا : كیا آپ چاہتے ہیں كہ آپ كے لئے كھلونے خرید لاؤں تاكہ آپ بھی كھیلیں ؟ 
حضرت نے جواب دیا : ہم كھیل كود كے لئے پیدا نہیں ہوئے ہیں ، بہلول نے پوچھا : پھر كس لئے خلق كئے گئے ہیں ؟ 
حضرت نے جواب دیا : افحسبتم انما خلقناكم عبثاً و انكم الینا لا ترجعون (سورہ مومنون ،آیت/ ۱۱۵) 
ترجمہ : كیا تمہارا خیال یہ تھا كہ ہم نے تمہیں بیكار پیدا كیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹا كر نہیں لائے جاؤ گے ۔ 
پھر بہلول نے امام سے كہا كہ كچھ نصیحت كریں ، امام عسكری علیہ السلام نے چند اشعار كے ذریعہ نصیحت كی اور پھر غش كر گئے ، جب غش سے افاقہ ہوا تو بہلول نے پوچھا : آپ كو كیا ہوا ، آپ تو بچے ہیں اور گناہوں سے بھی پاك ہیں ؟ حضرت نے جواب دیا : بہلول مجھے تنہا چھوڑ دو ! جس وقت میری ماں آگ جلا رہی تھی تو میں نے دیكھا كہ بڑی لكڑیاں چھوٹی لكڑیوں كے سہارے جلتی ہیں ۔۔۔ مجھے ڈر ہے كہ كہیں میں جہنم كی چھوٹی لكڑیاں نہ بن جاؤں ۔ 
(ائمتنا ، ج/۲، ص/۲۶۹ منقول از نور الابصار ، ص/۱۵۱)
كریم آقا 
محمد الشاكری كا بیان ہے : حضرت كم خوراك تھے ، ایك بار حضرت كے سامنے انجیر ، انگور اور ہلو جیسے پھل ركھے ہوئے تھے ، حضرت نے ان میں سے ایك دو پھل كھانے كے بعد فرمایا : یہ پھل اپنے بچوں كے لئے لے جاؤ ، میں نے پوچھا : سارے پھل ، آپ(ع) نے فرمایا : سب 
محمد الشاكری كہتے ہیں : میں نے اپنی پوری عمر میں آپ سے كریم كسی كو نہیں پایا ۔ 
(بحارالانوار ، ج/۱۲، ص/۱۵۸)

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال