رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
يكشنبه: 1401/04/5
Printer-friendly versionSend by email
فاطمه (علیهاالسلام)،اصل کے عین مطابق نسخہ
(ایّام فاطمیہ کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے نوشتہ جات)

 

بسم الله الرحمن الرحیم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله علیها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟

فاطمه علیهاالسلام  اہلبیت کی وہ فرد ہیں کہ جن کے لئے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا ہے ، رسول خدا صلوات الله علیه وآله نے فرمایا ہے: «لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(۱) اور حضرت امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے: «فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(۲) یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد علیهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حدیث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِی»(۳) دوسری حدیث میں ارشاد ہوتا ہے: «لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(۴).انسان بالکل یہ سمجھ نہیں سکتا کہ خداوند عالم کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں: تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور تمام کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پیغمبر اكرم صلی الله علیه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(۵)

ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اہلبیت علیهم السلام کے طفیل و تصدق سے ہے۔ان کے علاوہ  دوسروں کے کہے ہوئے پر جب انسان غور کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی منبع سے متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ہر چیز مكتب اہلبیت علیهم السلام میں موجود ہے چونکہ پیغمبر صلی الله علیه و آله نے فرمایا ہے: «إنّی تاركٌ فیكُمُ الثّقلین كتاب الله وَ عِتْرَتی» یعنی ہر چیز اہلبیت سے اخذ کرو اور ان کے علاوہ کسی اور سے نہ لو۔

 رسول اکرم صلی الله علیه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ ان سے پیچھے رہو ، اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گےنیز آپ نے فرمایا: «لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں مت سکھاؤ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ وہ تم لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں.

اب اہلبیت علیهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله علیها ایک خاص مرکز و محور رکھتی ہیں ۔آپ ملاحظہ کریں کہ جب اہلبیت علیهم السلام کا تعارف کروایا جا رہا ہے تو انہیں مرکزیت حاصل ہے: «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(۶)

اہلبیت علیهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله علیها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار علیهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبیت علیهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله علیها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبیت علیهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله علیها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله علیها سیدة نساء العالمین، بضعة الرسول و قرینة ولیّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبیت علیهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پیغمبر اكرم صلی الله علیه و آله نے «إنّكِ على الخیر»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله علیها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله علیهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه علیهم السلام کی طرح آنحضرت کی سیرت اور کرداروگفتار بھی دین و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے معنی میں  مقام امامت پر فائز تھیں  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا : «إنّ اللهَ تَعَالى یَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ یَرْضى لِرِضَاهَا» اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله علیها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله علیها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلی الله علیه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ امیرالمؤمنین علی علیه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امیر الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں: «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِینَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَیْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(۷) اگرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صدیقه طاهره سلام الله علیها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلی الله علیه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبیت علیهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله علیها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى یَغْضِبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ یَرْضَى لِرِضَاهَا»(۸) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدی علیه‌السلام تک اس روایت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حدیث كه جو پیغمبر اكرم صلی الله علیه و آله نے حضرت زہرا سلام الله علیها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:
«أبشری یا فَاطِمة إنّ المَهْدِیّ منك»(۹) اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پیغمبر اكرم صلی الله علیه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله علیها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ایّام فاطمیه منانا لازم ہے:

ایّام فاطمیه،مواضع فاطمه،سیرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تألیفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله علیها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهایة ‘‘میں- کہ جو سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلی الله علیه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثیر کتاب النهایة ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا علیها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله علیها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیںکہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم یكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِی الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبی‌بكر: إنها خرجت فی لمة من نسائها تتوطأ ذیلها إلى أبی‌بكر فعاتبته»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله علیها  کے فرمودات و ارشادات اور بالخصوص آپ کے معجزات میں سے وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ دنیا والوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطمیه‌ میں حضرت زہرا سلام الله علیها کی ملکوتی شخصیت کی تجلیل و تعظیم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پیغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا علیها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہونے چاہئیں ۔ آپ  نے  عورت کی کرامت اور اس کے حقیقی مقام کو دنیا والوں تک پہنچاتے ہوئے فرمایا : بهترین عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں ۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا علیها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدی عجل الله تعالی فرجه الشریف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطمیه عاشورا ہے، ‌فاطمیه شب قدر ہے، فاطمیه غدیر اور نیمه شعبان ہے اور فاطمیه یعنی  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد اور جہالت و گمراہی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبیت علیهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بیداری، آگاهی و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نورانی افکار کا مکتب ہے  اور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزیز فاطمه حضرت امام مهدی عجل الله تعالی فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔ اللّهم عجل فرجه الشریف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدین بین یدیه.

 

منابع:
۱. عیون اخبار الرضا علیه السلام؛ ج۱، ب۲۶، ح۲۲.

۲. نهج البلاغة، نامه۲۸.

۳. الجواهر السنیة؛ شیخ حر عاملی، ص۷۱۰.

۴. بحار الانوار؛ ج۱۵، ب۱، ح۴۸.

۵. بحار الانوار؛ ج۶۸، ب۶۱، ح۱.

۶. عوالم العلوم، ص۹۳۳.

۷. نهج البلاغة، خ۲۳۳.

۸. صحیفه امام رضا علیه السلام، ص۴۵،ح۲۲.

۹. البرهان متقی هندی، ص۹۴.