رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
پنجشنبه: 1401/09/10
Printer-friendly versionSend by email
مولائے غدير کی دوستی؛صحيفه مؤمن کا عنوان
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۵)

اس عظیم شخصیت کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ؛ جو ذات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کلمات الٰہیہ میں اشرف، آیات ربّانیہ میں اکبر، دلائل جامعہ میں سب سے محکم دلیل، براہین ساطعہ میں اتمّ برہان، وسائل کافیہ، مظہر العجائب، معدن الغرائب اور تمام برتر انسانی عظمتوں کی مالک ہو۔ جو خدا کا برحق خلیفہ ہو اور جن کی محبت مؤمن کے صحیفہ کا عنوان  اور ولادت میں طہارت کی علامت ہو۔ اگر انسان کے دہن میں تمام ناطق زبانیں ہوں اور انسان ان میں سے ہر ایک زبان کے ساتھ جاودانہ طور ہر مدح و ثناء کرے تو پھر بھی یہ سب اس ذات کی مدح میں حرف اوّل سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کی عکاسی اس شعر سے کی جا سکتی ہے:

ایـن شرح بی‎نهایت كز وصف یار گفتند * حــرفی است از هزاران كاندر عبارت آمد

* زبان پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ  وسلّم سے علی علیہ السلام

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عقل کل،خاتم الرسل، ہادی سبل ہیں اور مسلمانوں  کے درمیان مشہور اور معتبر احادیث میں مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی معانی سے لبریز اور واضح تمجیدات و تعریفات بیان فرمائی ہیں اور آپ نے امیرالمؤمنین کو حق اور قرآن کے ساتھ اور حق و قرآن کو امیر المؤمنین کے ساتھ لازم الاتصال قرار دیا ہے کہ جن میں افتراق و جدائی ممکن نہیں ہے۔ اور آپ نے فرمایا:
»وَ الَّذِی نَفْسِی بِیَدِهِ لَوْ لَا أَنْ‏ تَقُولَ‏ طَوَائِفُ‏ مِنْ‏ أُمَّتِی‏ فِیكَ مَا قَالَتِ النَّصَارَى فِی ابْنِ مَرْیَمَ لَقُلْتُ الْیَوْمَ فِیكَ مَقَالًا لَا تَمُرُّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَّا أَخَذُوا التُّرَابَ مِنْ تَحْتِ قَدَمَیْكَ لِلْبَرَكَةِ. « (1)
اور کبھی آپ نے حقیقت کی ترجمان اپنی معجزْ بیان زبان سے فرمایا:

»لَوْ أَنَّ الْبَحْرَ مِدَادٌ وَ الْغِیَاضَ أَقْلَامٌ وَ الْإِنْسَ‏ كُتَّابٌ‏ وَ الْجِنَّ حُسَّابٌ مَا أَحْصَوْا فَضَائِلَكَ یَا أَبَا الْحَسَنِ« (2)

میدان جہاد میں آنحضرت نے اس مجاہد فی سبیل اللہ کو حق کا دفاع کرنے والوں میں سب سے اعلٰی کلمۃ اللہ، جنّ و انس کی عبادت سے افضل اور تمام امت قرار دے۔ پھر دوسرے لوگ آنحضرت کی مدح و ثناء میں کیا کہہ سکتے ہیں؟!
* غیروں کے کلام میں امیرالمؤمنین علی علیهالسلام کی عظمت

حقیقت یہ ہے کہ ان جملوں اور کلمات کے ذریعہ (کہ جن کے حروف کی تعداد انتیس سے زیادہ نہیں ہے)اس عظیم شخصیت اور خدا کے خاص و مخلص انسان کی مدح و ثناء اور توصیف و تمجید نہیں کر سکتے  کہ خداوند متعال نے قرآن کی متعدد آیات میں جس کی توصیف و مدح اور ستائش بیان کی ہو۔

وَ إن قَمِیصاً خیطَ مِنْ نَسْجِ تِسْعَةٍ * وَ عِشْـرینَ حَرْفاً عَنْ مَعالیهِ قَاصِرٌ

اس عظیم امام ، رہبر موحّدین، پیشواء مجاہدین، سیدالمتقین اور امیر المؤمنین کی مدح و ثناء جس قدر بھی بلند اور شائستہ ہو لیکن اس کے باوجود پھر بھی وہ آنحضرت کی عظمت کے ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے۔

معاویہ کی مجلس میں اس کے اصرار اور درخواست پر اس طرح سے امام کی توصیف و تمجید کی گئی۔
«كَانَ وَ اللهِ‏ بَعِیدَ الْمُدَى‏ شَدِیدَ الْقُوَى یَقُولُ فَصْلًا وَ یَحْكُمُ عَدْلًا یَتَفَجَّرُ الْعِلْمُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَ تَنْطِقُ الْحِكْمَةُ مِنْ نَوَاحِیهِ یَسْتَوْحِشُ مِنَ الدُّنْیَا وَ زَهْرَتِهَا وَ یَسْتَأْنِسُ بِاللَّیْلِ وَ وَحْشَتِهِ كَانَ وَ اللهِ غَزِیرَ الْعَبْرَةِ طَوِیلَ الْفِكْرَةِ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ‏ وَ یُخَاطِبُ نَفْسَهُ وَ یُنَاجِی رَبَّهُ یُعْجِبُهُ مِنَ اللِّبَاسِ مَا خَشِنَ وَ مِنَ الطَّعَامِ مَا جَشِبَ كَانَ وَ اللَّهِ فِینَا كَأَحَدِنَا»(3)
بعض نے اس مختصر جملہ سے امام کو خراج عقیدت پیش کیا:إحتیاجُ الكُلِّ إلَیْهِ وَ إسْتِغْنائُه عَنِ الكُلِّ دَلیلٌ عَلى أنَّه إمَامُ الكُلِّ۔(4)

بعض نے آپ کے کلام کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہا:كَلامُهُ دُونَ كَلامِ الخَالِقِ وَ فَوْقَ كَلامِ الْمَخْلُوقینَ۔(۵)
اور بعض نے کہا:لَوْ لَا سَیْفُهُ لَمَا قَامَ لِلْإسْلامِ عَمُودٌ۔(۶)

آپ کی توصیف میں کسی نے کہا: قُتِلَ فی مِحْرابِ عِبادَتِهِ لِشِدَّةِ عَدْلِهِ۔(۷)
اور اس عیسائی شخص نے ان جملوں سے اس عظیم شخصیت اور وجود محمدی کے  یگانہ کمال کی جھلک کی توصیف و ستائش یوں بیان کی ہے۔

’’فی عَقیدَتی اَنَّ عَلیَّ بْنَ أَبی طالِب اَوَّلُ عَرَبِیّ لازَمَ الرُّوحَ الْكُلِّیةَ فَجاوَرَها وَ سامَرَها‘‘(۸)

اور اس شرف و عزّت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے:
اَلنّبِی الْــمُصْطَفى قالَ لَنا * لَیلَــة الْـمِعْراجِ لَمّا صَعِدَهُ * وَضَــعَ اللهُ عَلى ظَهْری یداً * فَاَرانِی الْقَلْــبَ اِنْ قَدْ بَرَّدَهُ * وَ عَلِیٌ واضِـــعُ رِجْلَیهِ لی * بِمَكان وَضَـعَ اللهُ یــدَهُ(۹)

ان میں سے ہر ایک  مورد میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے مناقب میں سے ایک منقبت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
* رسول خدا صلی الله علیه و آله کا عظیم معجزہ
خلاصۃ یہ کہ علی علیہ السلام  کی ذات ایک ایسا معجزہ ہے کہ جو خداوند متعال نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو عطا فرمایا۔ ایک ایسا معجزہ جو تمام گذشتہ انبیاء کے معجزوں سے عظیم اور حیرت انگیز ہے۔ یہاں یہ بجا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کا یہ فرمایان بیان کیا جائے:
’’الصُّورَةُ الإنْسَانِیَّةُ هِیَ أكْبَرُ حُجَجِ اللهِ عَلى خَلْقِهِ وَ هِیَ الكِتابُ الَّذی كَتَبَه بِیَدِهِ وَ هِیَ الهَیْكَلُ الّذی بَناهُ بِحِكْمَتِهِ وَ هِیَ مَجْمُوعُ صُوَرِ العَالَمینَ وَ هِیَ المُخْتَصَرُ مِنَ العُلُومِ فی اللَّوحِ الْمَحْفُوظِ‘‘(۱۰)

علی علیہ السلام جیسی عظیم شخصیت کے ذریعہ حقیقت و واقعیت بیان ہوتی ہے:بزرگ معتزلی عالم دین ابن أبی الحدید بھی ہمنوا ہوتے ہوئے کہتے ہیں:

’’هُوَ النَّبَأُ الْمَكْنُونُ وَ الجَوْهَرُ الّذی * تَجَسَّدَ مِنْ نُورٍ مِنَ القُدْسِ زاهِــر * وَ وَارِثُ عِلْـمِ المُصْطَفى وَ شَقیقِه * أخاً وَ نَظیراً فِی العـلى و الأواصِر * وَ ذُو المُعْجِزاتِ الوَاضِـحاتِ أقلّها * الظُّهور عَلى مُسْتَـوْدِعاتِ السَّرائر * ألا إنَّما التَّوْحیدُ لَوْلا عُلــــومُهُ * كَعَــرْضَةِ ضِلّیــلٍ وَ نَهْبَةِ كافر‘‘(۱۱)
پس یہ ضروری ہے کہ زمین ادب کو چومیں، امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور اور حضرت صاحب الزمان ولی عصر، مالک امر مولانا المہدی ارواح العالمین لہ الفداء تک آپ کے تمام بزرگ فرزندوں کی ولایت کے لئے خداوند متعال کی حمد و ثناء کی جائے اور خدا کا شکر بجالایا جائے۔

اَلْحَمْدُللهِ الَّذی جَعَلَنا مِنَ الْمُتَمَسِّكینَ بِولایةِ اَمیرَالْمُؤْمِنینَ وَ الائِمَّةِ الْمَعْصُومینَ سِیّما خاتَمِهِمْ وَ قائِمِهِمْ صَلَواتُ اللهِ عَلَیهِمْ اَجْمَعینَ.

حوالہ جات:
1،۲۔ بحار الأنوار، جلد ‏40، باب 91، حدیث 114.

۳۔ بحار الأنوار، جلد ‏41، باب 107، حدیث 28.
۴۔ بغیة الوعاة سیوطی، صفحه 243؛ تنقیح المقال مامقانی، جلد 1، صفحه 402، شماره 3769.
۵۔ شرح نهج البلاغة ابن أبی‌الحدید، جلد ‏1، صفحه 24.
۶۔ایضاً، جلد 12، صفحه 83.
۷۔ عیسائی مؤلف جارج جرداق کی کتاب’’الامام علی صوت العدالة الإنسانیة‘‘ سے منقول
۸۔ جارج جرداق کی كتاب ’’الامام علی صوت العدالة الانسانیة‘‘(جلد 1، صفحه 364.)میں عیسائی دانشور جبران خلیل جبران سے منقول
۹۔ یہ اشعار شافعی سے منسوب ہیں جو مختلف کتابوں میں نقل ہوئے ہیں منجملہ: تاریخ الخمیس دیار بكری، جلد 2، صفحه 87؛ الغدیر علّامه امینی، جلد 7، صفحه 12.

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال