بسم الله الرحمن الرحیم از حوادث و اتّفاقات تاريخي كه در روز اول ماه مبارك رمضان به ‌وقوع پيوست، بيعت با ولايتعهدي حضرت امام علي بن موسي الرّضا علیهماالسلام بود. واقعه واگذاری ولایتعهدی به حضرت رضا علیه السّلام از جانب مأمون، یک نقشه سیاسی بود و...
جمعه: 1400/02/3 - (الجمعة:10/رمضان/1442)

Printer-friendly versionSend by email
امیر المؤمنین علی عليه السلام کی معرفت و شناخت ممکن نہیں
امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولادت کی مناسبت سے حضرت آيت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله الوارف کے نوشتہ جات سے اقتباس

بسم الله الرحمن الرحیم

ہر میدان میں پیغمبر اعظم ، عقل کل ، خاتم رسل ، ہادی سبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کے درمیان معتبر و مشہور احادیث کی رو سے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی معانی سے بھرپور تمجیدات و تعریفات بیان فرمائی ہیں، اور آپ کو حق و قرآن اورقرآن و حق کو آپ کے ساتھ لازم الاتصال اور غیر قابل افتراق سمجھا ہے اور کبھی فرمایا ہو :   

وَ الَّذِی نَفْسِی بِیدِهِ لَوْ لَا أَنْ‏ تَقُولَ‏ طَوَائِفُ‏ مِنْ‏ أُمَّتِی‏ فِیكَ مَا قَالَتِ النَّصَارَى فِی ابْنِ مَرْیمَ لَقُلْتُ الْیوْمَ فِیكَ مَقَالًا لَا تَمُرُّ بِمَلَإٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَّا أَخَذُوا التُّرَابَ مِنْ تَحْتِ قَدَمَیكَ لِلْبَرَكَةِ. (۱)

اور کبھی معجز بیاں زبان اور ترجمانِ حقیقت سے یہ بیان فرمایا ہے : «لَوْ أَنَّ الْبَحْرَ مِدَادٌ وَ الْغِیاضَ أَقْلَامٌ وَ الْإِنْسَ‏ كُتَّابٌ‏ وَ الْجِنَّ حُسَّابٌ مَا أَحْصَوْا فَضَائِلَكَ یا أَبَا الْحَسَنِ.» (۲) یا کلمۃ اللہ کی سربلندی اور حق کا دفاع کرنے کے لئے اس مجاہد فی سبیل اللہ کے ایک میدان جہاد کی اہمیت کو جنّ و انس اور تمام امت کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے تو پھر دوسرے اس عظیم شخصیت کی مدح و ثناء میں کیا کہہ سکتے ہیں ؟!

رسول خدا صلّی ‌الله علیه و آله و سلّم کے بعد یہ عظیم المرتبت شخصیت اشرف كلمات الٰہیه، اكبر آیات ربّانیه، ادلّ دلایل جامعه، اتمّ براهین ساطعه، وسایل كافیه ، مظهر العجایب اور معدن الغرایب ہے ، اور آپ انسانوں کی تمام ما فوق اور برتر عظمتوں کے مالک ہیں ، اور خدا کے برحق خلیفہ ہیں ، آپ کی محبت و دوستی صحیفۂ مؤمن کا عنوان اور مولود کی طہارت کی علامت ہے ، اگر انسان کے منہ میں ہر ناطق زبان ہو اور ان میں سے ہر ایک کے ذریعہ مسلسل اور جاودانہ طور پر مدح و ثنا کرے تو پھر بھی وہ آپ کی مدح و ثناء کے حرف اوّل سے زیادہ نہیں ہو گا اور اس کی زبانِ حال یہ شعر ہی ہو گا :

ایـن شرح بینهایت كز وصف یار گفتند
حــرفی است از هزاران كاندر عبارت آمد

حقیقت یہ ہے کہ ان جملوں اور کلمات کے ذریعہ خدا کے خاص اور مخلص بندوں کی توصیف و ستائش نہیں کی جا سکتی کہ جن کی تعداد انتیس حروف سے زیادہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جن کی خداوند متعال نے خود قرآن مجید کی کثیر آیات میں مدح و ثناء اور توصیف و ستائش کی ہے :  

وَ إن قَمِیصاً خیطَ مِنْ نَسْجِ تِسْعَةٍ

وَ عِشْـرینَ حَرْفاً عَنْ مَعالیهِ قَاصِرٌ

اس عظیم امام ، سید المجاہدین ، رئیس الموحدین ، امام المتقین ، امیر المؤمنین کی جتنی بھی مدح و ثناء ہوئی ہے یہ اس ذات والا صفات کی عظمتوں کے ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے :

معاویہ کی مجلس و محفل میں اسی ہی کی درخواست اور اصرار پر امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی اس طرح توصیف و تمجید کی گئی :

«كَانَ وَ اللهِ‏ بَعِیدَ الْمُدَى‏ شَدِیدَ الْقُوَى یقُولُ فَصْلًا وَ یحْكُمُ عَدْلًا یتَفَجَّرُ الْعِلْمُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَ تَنْطِقُ الْحِكْمَةُ مِنْ نَوَاحِیهِ یسْتَوْحِشُ مِنَ الدُّنْیا وَ زَهْرَتِهَا وَ یسْتَأْنِسُ بِاللَّیلِ وَ وَحْشَتِهِ كَانَ وَ اللهِ غَزِیرَ الْعَبْرَةِ طَوِیلَ الْفِكْرَةِ یقَلِّبُ كَفَّیهِ‏ وَ یخَاطِبُ نَفْسَهُ وَ ینَاجِی رَبَّهُ یعْجِبُهُ مِنَ اللِّبَاسِ مَا خَشِنَ وَ مِنَ الطَّعَامِ مَا جَشِبَ كَانَ وَ اللَّهِ فِینَا كَأَحَدِنَا»(۳)

اور اس مختصر جملہ «إحتیاجُ الكُلِّ إلَیهِ وَ إسْتِغْنائُه عَنِ الكُلِّ دَلیلٌ عَلى أنَّه إمَامُ الكُلِّ.»(۴) کے ذریعہ اس عظیم امام کی مدح و ثناء کی ، اور ان کے کلام کی توصیف میں کہا گیا : «كَلامُهُ دُونَ كَلامِ الخَالِقِ وَ فَوْقَ كَلامِ الْمَخْلُوقینَ»(۵)

اور ان کے بارے میں کہا گیا : «لَوْلا عَلِی لَهَلَكَ عُمَر»(۶) اور «لَوْ لَا سَیفُهُ لَمَا قَامَ لِلْإسْلامِ عَمُودٌ»(۷)

اور ان کے بارے میں کہا گیا : «قُتِلَ فی مِحْرابِ عِبادَتِهِ لِشِدَّةِ عَدْلِهِ»(۸)

اور اس بہادر خاتون نے معاویہ کے سامنے ان دو اشعار کے ذریعہ اپنی معرفت کے مطابق آپ کی مدح و ثناء کی :

«صَلَّى الإلهُ عَلـى جِسْمٍ تَضَمَّنَهُ

قَبْــرٌ فَـاَصْبَحَ فیهِ الْعَدْلُ مَدْفوناً

قَدْ حالَفَ الْحَقُّ لا یبْغی بِهِ بَدَلاً

فَـصارَ بِالْعَدْلِ وَ الایمَانِ مَقْروناً»(۹)

اور اس عیسائی شخص نے اپنے اس جملہ میں کائنات کی اس عظیم ہستی اور کمالات وجود محمدی کی تجلی گاہ  کی ستائش کی ہے :

«فی عَقیدَتی اَنَّ عَلی بْنَ أَبی طالِب اَوَّلُ عَرَبِی لازَمَ الرُّوحَ الْكُلِّیةَ فَجاوَرَها وَ سامَرَها»(۱۰)

اور جس نے آپ کی عزت و شرف کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

«قيل لي قل في عليّ مدحة       ذكره يخمد نارا مؤصدة

قلت هل أمدح من في فضله    حار ذو اللّب إلى أن عبده‏

اَلنّبِی الْــمُصْطَفى قالَ لَنا        لَیلَــة الْـمِعْراجِ لَمّا صَعِدَهُ

وَضَــعَ اللهُ عَلى ظَهْری یداً       فَاَرانِی الْقَلْــبَ اِنْ قَدْ بَرَّدَهُ

وَ عَلِی واضِـــعٌ أقدامه          بِمَكان وَضَـعَ اللهُ یــدَهُ»(۱۱)

ان میں سے ہر ایک نے کسی ایک منقبت کے ذریعہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے مناقب کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اگرچہ چودہ صدیوں سے علماء و حکماء ان کے فضائل بیان کر رہے ہیں  تا کہ ان کے علم ، فضیلت ، زہد ، عدل اور کمالات انسانی کی ستائش کریں ، اور آنے والے بھی اس ذات کی ستائش کرتے رہیں گے ۔ نیز اس انسان اکمل و والا صفات کی شخصیت کے بارے میں  قصائد ، بے شمار اشعار ، ہزاروں کتب اور مقالات لکھے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی روزِ اوّل کی طرح ہی مقررین اور دانشوروں کے لئےکلام و سخن کا میدان کھلا ہے بلکہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ وسیع ہو گیا ہے ۔

جیسا کہ احادیث شریفہ  میں بیان ہوا ہے کہ علی علیہ السلام ایک ایسا معجزہ ہیں جو خداوند کریم نے خاتم الأنبیاء حضرت محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عطا فرمایا ہے ، اور یہ ایسا معجزہ ہے جو گذشتہ انیباء کے تمام معجزات سے بزرگ تر اور حیرت انگیز تر ہے ، اور یہاں حضرت امام جعفر  صادق علیہ السلام کا یہ سخن بیان کرنا بجا  ہے کہ آپ نے فرمایا : «الصُّورَةُ الإنْسَانِیةُ هِی أكْبَرُ حُجَجِ اللهِ عَلى خَلْقِهِ وَ هِی الكِتابُ الَّذی كَتَبَه بِیدِهِ وَ هِی الهَیكَلُ الّذی بَناهُ بِحِكْمَتِهِ وَ هِی مَجْمُوعُ صُوَرِ العَالَمینَ وَ هِی المُخْتَصَرُ مِنَ العُلُومِ فی اللَّوحِ الْمَحْفُوظِ»(۱۲) علی علیہ السلام جیسی شخصیت کے ذریعہ ہی واقع و حقیقت بیان ہوتی ہے :

ہم معتزلی عالم دین ابن ابی الحدید کے ہم نوا ہو کر کہتے ہیں :

«هُوَ النَّبَأُ الْمَكْنُونُ وَ الجَوْهَرُ الّذی     تَجَسَّدَ مِنْ نُورٍ مِنَ القُدْسِ زاهِــر
وَ وَارِثُ عِلْـمِ المُصْطَفى وَ شَقیقِه     أخاً وَ نَظیراً فِی العـلى و الأواصِر
  وَ ذُو المُعْجِزاتِ الوَاضِـحاتِ أقلّها         الظُّهور عَلى مُسْتَـوْدِعاتِ السَّرائر
ألا إنَّما التَّوْحیدُ لَوْلا عُلــــومُهُ         كَعَــرْضَةِ ضِلّیــلٍ وَ نَهْبَةِ كافر»(۱۳)

پس لازم ہے کہ ہم زمین ادب کو چومیں اور امیر کائنات حضرت علی بن ابیطالب علیہما السلام اور حضرت ولی عصر ، مالک امر ، مولانا امام المہدی ارواح العالمین لہ الفداء تک آپ کے کریم بیٹوں کی نعمتِ ولایت پر خداوند کریم کا شکر بجا لائیں ۔

حوالہ جات :
۱. بحار الأنوار، جلد ‏۴۰، باب ۹۱، حدیث ۱۱۴.
۲. ایضاً.
۳. بحار الأنوار، جلد ‏۴۱، باب ۱۰۷، حدیث ۲۸.
۴. بغیة الوعاة سیوطی، صفحه ۲۴۳؛ تنقیح المقال مامقانی، جلد ۱، صفحه ۴۰۲، شماره ۳۷۶۹.
۵. شرح نهج البلاغة ابن أبی‌الحدید، جلد ‏۱، صفحه ۲۴.
۶. شرح نهج البلاغة ابن أبی‌الحدید، جلد ‏۱، صفحه ۱۱.
۷. ایضاً، جلد ۱۲، صفحه ۸۳.
۸. جرج جرداق مسیحی در كتاب «الامام علی صوت العدالة الإنسانیة».
۹. بلاغات النساء ابن ابی طاهر، صفحه ۴۸، كلام سودة بنت عمارة رحمها الله.
۱۰. یہ عیسائی دانشور جبران خلیل جبران سے جارج جرداق کی کتاب «الامام علی صوت العدالة الانسانیة» جلد ۱، صفحه ۳۶۴سے نقل ہوا ہے.  
۱۱. یہ اشعار شافعی سے منسوب ہیں جو مختلف کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ، منجملہ : تاریخ الخمیس دیار بكری، جلد ۲، صفحه ۸۷؛ الغدیر علّامه امینی، جلد ۷، صفحه ۱۲.
۱۲. تفسیر صافی میں سورۂ بقرہ کی آیت ۲ کے ذیل سے منقول.
۱۳. القصائد السبع العلویات ابن ابی الحدید، القصیدة الخامسة.

پنجشنبه / 14 اسفند / 1399