کتاب (پرتوی از فضائل امیرالمومنین علی علیه السلام در حدیث) مشتمل بر ۱۱۰ حدیث از کتب اهل سنّت راجع به شخصیت عظیم امیرالمومنین علیه السلام و فضائل آن حضرت است. کتاب (پیام غدیر) مشتمل بر مقالات، پیام‌ها و متن بیانات حضرت آیت الله...
جمعه: 1400/05/8 - (الجمعة:19/ذو الحجة/1442)

Printer-friendly versionSend by email
پیشوائے معرفت و فضیلت کے سوگ میں
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے نوشتہ جات

بسم الله الرحمن الرحيم

قال الله الحکیم فی کتابه الکریم: «يَا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا الله وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ» ۔ «1»

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی بہت ہی باعظمت علمی اور جامع الأطراف شخصیت سے تمام عالم السلام پر حق رکھتے ہیں ۔ آپ نے ہر علمی اور اسلامی شعبے میں کافی و وافی ہدایت و معارف باقی چھوڑے ہیں ۔ الٰہيات، عقائد، توحيد، اخلاق، فقه، احکام، تفسير قرآن اور اسلام کے دوسرے تمام علوم میں حضرت امام صادق علیه السلام کے آثار غیر معمولی درخشندگي و تابندگی کے حامل ہیں کہ جو صرف ہم شیعوں میں ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام میں جلوہ گر ہیں ۔

امت میں افقه اور  افضل

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے امت اسلام کے لئے جس مدرسے کا افتتاح کیا ؛ اگر وہ نہ ہوتا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دین ناقص رہ جاتا ۔ آپ نے تمام ضروری اصول و فروع بیان فرمائے ۔ ابو حنیفہ کہتے ہیں : «مَا رَأيتُ أفقهَ مِن جَعفَرِ بنِ مُحَمَّد؛  میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا» ۔«2»

ابن عقده (متوفىٰ سنہ ۳۳۳ ہجرى ) -جو شیعہ اور ایل سنت مسلمانون کے نزدیک معتبر اور قابل قبول محدثین میں سے ہیں – نے «أسماء الرِّجال الّذين رووا عن الصادق عليه السلام» کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس كتاب میں ان چار ہزار افراد کے نام ذکر کئے ہیں جنہوں نے حضرت صادق عليه السلام سے حديث نقل کی ہے اور آپ سے علم اخذ کیا ہے ، لیکن بدقسمتی سے دوسری بہت سے کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی معدوم ہو چکی ہے ، جس کا صرف بزرگوں نے تذکرہ کیا ہے ۔ «3»

نجاشى نے اپنی کتاب رجال میں احمد بن عيسى اشعرى سے نقل كیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : «قَالَ: خَرَجتُ إلَى الكُوفَةِ فِي طَلَبِ الحَديثِ فَلَقيتُ بِها الحَسنَ بنَ عَلي الوَشّاء فَسَألتُهُ أنَ يَخرُجَ إلي كِتابِ العَلاء بنِ رَزين القلاء وَ أبان بن عُثمان الأحمر فَأخرَجَهُما إليّ فَقُلتُ لَهُ: أحَبُّ أن تُجيزَهُما لِي. فَقَال لِي: يَا رَحِمَك اللهُ وَ ما عَجَلتُك أذهَب فَاكتُبهُما وَ أسمع مِن بعد. فَقُلتُ: لا آمُنُ الحَدثان‏. فَقَال: لَو عَلِمتُ أنَّ هذا الحَديثَ يَكُونُ لَه هذَا الطَّلب لاستَكثَرتُ مِنهُ فَإنّي أدرَكتُ فِي هذَا المَسجِد تِسع‌مِائة شيخٍ كُلٌّ يَقُولُ حَدَّثَني جَعفَرُ بنُ مُحمَّد؛

نجاشى نے احمد بن عیسی اشعرى سے نقل کیا ہے کہ اس کا بیان ہے :«میں علم حدیث کے حصول کے لئے کوفہ گیا اور وہاں حسن بن على وشا کی خدمت میں پہنچا ۔ میں نے ان سے کہا : مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دے دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کر سکوں ۔ انہوں نے مجھے وہ کتابیں دے دیں۔ میں نے  کہا:مجھے  روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ! تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ ، لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں ۔میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا ، جوسب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے» ۔ «4»

دوسرے علمی اور سائنسی شعبوں (جیسے آج کے جدید علوم یا کیمیاء اور طبعیات وغیرہ) میں بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایسے شاگرد تھے جوغیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے ، مثلاً جابر بن حيان ؛ کہ  جب ان کی کتابوں کا یورپ میں ترجمہ کیا گیا تو آپ کو بابائے کیمیاء کا لقب دیا گیا ۔، علوم کے مختلف شعبوں میں ان کی ہزار یا پانچ سو کتب ہیں ۔ جب کہ آپ  ہمیشہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے تھے ۔ جابر بن حیان ایک ایسی شخصیت تھے کہ جو عجیب و غریب علوم اور علمی معلومات رکھتے تھے ۔ وہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد تھے ۔ دوسرے شعبوں میں بھی آنحضرت کے شاگرد تھے ، مثلاً شعبۂ تشریح  یا یہی توحید کہ جو رسالۂ توحید مفضل میں ذکر ہوئی ہے ۔

حج کے بہت سے فقہی فروع امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت سے استفادہ کئے جاتے ہیں ، آپ کی روایات کے وسیلہ سے ہی فقہ اور دین کے احکام  ہم تک پہنچے ہیں ۔

امام صادق علیہ السلام اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کا تعارف 

مرحوم شيخ صدوق ؒ اور شيخ طوسى ؒ میں سے ہر ایک  نے اپنی سند سے «سدير صيرفى» سے ایک مفصل حدیث روايت كی ہے کہ جس میں حضرت صاحب ‌الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر امام جعفر صادق علیہ السلام کا گریہ و ندبہ بیان ہوا ہے ۔ ہم اختصار کی رعایت کرتے ہوئے اس حدیث شریف کے کچھ جملوں اور اس کے کچھ مضمون کو ذکر کرتے ہیں :

سُدير صيرفى کہتے ہیں : میں مُفضّل بن عمر ، ابو بصير ، ابان بن تغلب کے ساتھ ہمارے آقا و مولا حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی خدمت میں شرفياب ہوا ۔ میں نے دیکھاکہ امام صادق علیہ السلام خاک پر بیٹھے ہوئے تھے ، جب کہ آپ نے اون سے بنا ہوا طوق دار ایک لباس زیب تن کیا ہوا تھا کہ جس کا گریبان نہیں تھا اور آپ ایک ایسے جگر سوختہ شخص کی طرح گریہ کر رہے تھے کہ جس کا بیٹا مر گیا ہو ۔ آپ کے چہرے اور رخسار سے غم و اندوہ کے آثار نمایاں تھے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے :

«سَيِّدِي! غَيْبَتُكَ نَفَتْ رُقَادِي، وَضَيَّقَتْ عَلَيَّ مِهَادِي، وَابْتَزَّتْ مِنِّي رَاحَةَ فُؤَادِي. سَيِّدِي! غَيْبَتُكَ أَوْصَلَتْ مُصَابِي بِفَجَائِعِ الْأَبَدِ، وَفَقْدُ الْوَاحِدِ بَعْدَ الْوَاحِدِ يَفْنِي الْجَمْعَ وَالْعَدَدَ ...»؛

«اے میرے آقا ! آپ کی غيبت (دورى) نے میری نیندیں اڑا دی ہیں اور میری خوابگاہ کو تنگ کر دیا ہے اور میرے دل کا چین اور سکون چھین لیا ہے ۔ اے میرے آقا ! آپ کی غیبت نے میری مصیبت کو دردناک ابدی مصائب سے متصل کر دیا ہے ۔ ایک کے بعد ایک کاکھونا جمع و عدد کو فنا کر دیتا ہے ۔ پس مجھے نہیں لگتا کہ میری آنکھوں سے آنسو خشک ہوں گے  اور میرے سینہ میں آہ و نالہ کم ہو گا  مگر یہ کہ میری آنکھوں کے سامنے اس سے بڑے ، سخت اور دلخراش مصائب مجسم ہو جائیں » ۔

سدير نے کہا : ہماری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا اور اس ہولناک غم و اندوہ اور خطرناک حادثے سے ہمارا دل پارہ پارہ ہو گیا ہے ۔ اور ہمارا یہ گمان ہے کہ آپ کسی دردناک اور ناگوار اتفاق کی وجہ سے اس طرح گریان و سوگوار ہیں  یا آپ کو کسی (دردناک) مصیبت کا سامنا ہے ۔ 

ہم نے عرض کیا : خدا آپ کو نہ رلائے ، اے فرزند خير الورى! آپ کس وجہ سے اس قدر گریہ کر رہے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں ؟ آپ کن حالات کی وجہ سے اس طرح سوگوار ہیں ؟

حضرت نے یوں لمبی آہ بھری کہ آپ کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا : «وای ہو تم پر ! آج صبح میں نے کتاب «جَفر» میں دیکھا اور یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس میں موت  ، بلاؤں ، مصیبتوں اور روز قیامت تک واقع ہونے والے واقعات کا علم درج ہے ۔ خدا نے اسے  محمّد (صلی الله علیه و آله) اور آپ کے بعد والے ائمہ سے مختص کیا ہے ۔ میں نے اپنے غائب کی ولادت ، ان کی غیبت ، ان کے طول عمر ، اس زمانے میں مؤمنین کی مشکلات اور ان کی غیبت  کے طولانی ہونے کی وجہ سے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات پر غور کیا اور یہ کہ ان میں سے اکثر اپنے دین سے پلٹ جائیں گے اور اسلام کو چھوڑ دیں گے ۔ (تا آخر حديث)  ۔

 عظیم ترین مکتب اور یونیورسٹی

یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی ؟ اور ان کے لئے وہاں کیسے بلند پایہ علوم و معارف تھے  ؟ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو بارہا فرماتے تھے کہ : «أُذَكِّرُكُمُ‏ اللهَ‏ فِي أَهْلِ بَيْتِي»«5» يا «لَا تُعَلِّمُوهُمْ‏ فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ»«6» رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب صرف اپنے خاندان کی محبت میں بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان بزرگ ہستیوں کے درجات و مقامات اور علوم کی وجہ سے تھا ۔

چوتھی صدی ہجری میں ہمارے بزرگ علماء میں سے  احمد بن عبد العزیز المعروف بہ ابن عياش کی ایک کتاب ہے کہ جس کا نام «مُقتَضَب الأثَر فِي النَّصِّ عَلي الائمَّة الإثنی عَشَر» ہے ۔ میں نے پچاس سال سے بھی پہلے اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا کہ جو اچھی کیفیت میں چاپ نہیں ہوا تھا ۔ میں نے اسے دوبارہ چاپ کرنے کا ارادہ کیا ۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ کتاب اس زمانے (چوتھی صدی ہجری) کی ہے ؛ میں نے اس کی تمام دستاویزات اور شواہد کو ملاحظہ کیا اور دوسری کتابوں کو بھی استخراج کیا کہ جنہوں نے اس کتاب کے بعد اس سے روایت کیا تھا ۔ پھر میں نے اس کا مقدمہ لکھا اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کی عظمت کے بارے میں جامعۃ الأزھر کے رئیس عبد اللہ شبراوي کا قول نقل کیا ۔ الشيخ عبد الله الشبراوي کی «الإتحاف بحبّ الأشراف» نامی کتاب ہے کہ جو فضائل سادات کے موضوع پر لکھی گئی گئی ہے ۔ وہ اس کتاب میں بعض اہل علم کے اقوال کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : »إنَّ آلَ البَيتِ حَازُوا الفَضَائلَ كُلَّها عِلماً وَحِلماً وَ فَصَاحَةً، وَ ذَكاءً وَ بَديهَةً وَ جُوداً وَ شُجَاعَةً. فَعُلُومُهُم لا تَتَوَقَّفُ عَلى تَكرارِ دَرسٍ، وَلا يَزيدُ يَومَهُم فِيها عَلى مَا كَانَ بِالأمسِ. بَل هِيَ مَواهِب مِن مَولاهِم. مَن أنكَرَها وَ أرادَ سَترَها كَانَ كَمَن أرادَ سَترَ وَجهِ الشَّمسِ. فَمَا سَأَلَهُم فِي العُلومِ مُستَفيد وَ وَقفوا وَلا جَرى مَعَهُم في مِضمَار الفَضلِ قَومٌ إلّا عَجَزُوا وَ تَخَلَّفُوا وَ كَم عَايَنُوا فِي الجِلاد و الجِدالِ أمُوراً، فَتَلَقَّوها بِالصَّبرِ الجَميلِ، وَمَا استَكَانُوا و ما ضعفوا تقرّ الشقائق إذا هدرت شقائقهم و تصغي الأسماع إذا قال قائلهم و نطق ناطقهم سجايا خصهم بها خالقهم«

اہلبیت علیہم السلام کے فضائل کے منکر کی مثال اس شخص کی مانند ہے کہ جو سورج کو ڈھکنا چاہتا ہو ۔ اب تک کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جس نے ان سے سوال کیا ہو اور انہیں   اس کا جواب معلوم نہ ہو ۔

یہاں تک کہ الشیخ عبد اللہ الشبراوی کہتے ہیں : «وَقَد أشرَقَ نُورُ هذِه السِّلسلةِ الهَاشِميّة، وَالبيضَةُ الطَّاهرة النبوية،و العِصَابة العَلَوية،وَ هُم إثنا عشر اماماً مَناقِبُهم عَلية،وَ صِفاتهم سَنِية،وُ نُفُوسُهم شَريفَة أبيه، و أرومَتُهم كريمة محمّدية. ثم ذكر اسمائهم الشريفة عليهم الصلوة والسلام... «

اہل بیت علیہم‌ السلام کی طرف رجوع کرنا لازم ہے

لیکن بدقسمتی سے عالم اسلام میں اہل بیت علیہم السلام کو ترک کرنے کی سیاست رائج ہو گئی ، یہاں تک کہ بخاری جیسے افراد نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بھی روایت نقل نہیں کی ہے ، بقول شاعر :

قضِيَّةٌ أشْبَهَ بِالمرْزِئَةِ * هذا البُخاريّ إمامُ الفِئَةِ
بِالصَّادِقِ الصِّدِّيقِ ما إحتجَ في *صَحيحِهِ وَ احتجّ بِالمرجِئَة
وَمِثل عُمران بْن حطان أو * مَروان وَ ابْن المرأة المخْطِئة
مُشْكِلَة ذات عوار إلى * حيْرَة أرباب النّهْى مُلْجِئَة
وَحَقُّ بَيْت يمّمته الوَرى *مغذة في السّيرِ أو مُبْطِئة
إنَّ الإمَامَ الصَّادِقَ المجْتَبى * بفَضْلِهِ الآي أتَت منبئة
أجَلّ مِنْ في عَصْرِه رُتْبَة * لم يَقْتَرِفْ في عُمْرِه سَيِّئَة
قَلامة مِنْ ظفر إبهَامِه * تَعْدِلُ مِنْ مِثْلِ البُخاري مِئَة«7«

ہمیں اہلبیت علیہم السلام اور ان بزرگ ہستیوں سے ہم تک پہنچنے والی ہدایات اور علوم و معارف کی قدر و اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور ہمیں یہ علوم و معارف دنیا والوں تک پہنچانیں چاہئیں  ؛ تا کہ  حقیقت  و معرفت کے تشنہ اس بے نظیر اقیانوس سے بہرہ مند ہو سکیں  ، اور سب اس عظیم دانشگاہ میں زانوی ادب تہہ کریں ۔

علم و فضیلت سے محبت کرنے والوں کو چاہئے کہ امام صادق علیہ السلام کی شہادت کے ایّام کی تجلیل و تکریم کریں اور اس عظیم شیعہ رہبر کے علمی و اخلاقی  فضائل کی نشر و اشاعت کرنے کا اہتمام کریں ۔

حوالہ جات:
۱۔  اے مؤمنو ! تقویٰ الٰہی اختیار کرو ، اورسچوں کے ساتھ ہو جاؤ . سورهٔ توبه ، آیت : 119.
۲۔ طبقات الحفاظ؛ الذهبي، الطبقة الخامسة، ص166.
۳۔ رجال علامه حلي؛ دوسری قسم ، چوتھا باب ، احمد بن محمد بن سعيد المعروف به ابن عقدة کے حالات زندگی ، اور رجال طوسي ، المقدمة میں اس کتاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے.
۴۔ رجال نجاشي؛ شرح حال حسن بن على بن زياد الوشا.
۵ ۔ بحار الأنوار؛ج23،باب7،حديث10.
۶ ۔ كافي؛ جلد1، بَابُ مَا نَصَّ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُولُهُ عَلَى الْأَئِمَّةِ.
۷ ۔ یہ مشہور شاعر ’’أبوبكر بن شهاب الدّين علويّ حضرميّ‘‘ کے اشعار ہیں ۔

شنبه / 15 خرداد / 1400