« اللَّهُمَ‏ صَلِ‏ عَلَى‏ مُحَمَّدِ بْنِ‏ عَلِيٍ‏ بَاقِرِ الْعِلْمِ‏ وَ إِمَامِ الْهُدَى وَ قَائِدِ أَهْلِ التَّقْوَى وَ الْمُنْتَجَبِ مِنْ عِبَادِكَ اللَّهُمَّ وَ كَمَا جَعَلْتَهُ عَلَماً لِعِبَادِكَ وَ مَنَاراً لِبِلَادِكَ وَ مُسْتَوْدَعاً...
جمعه: 1400/05/8 - (الجمعة:19/ذو الحجة/1442)

Printer-friendly versionSend by email
توحید کو قبول کرنے کی شرط
حضرت علی بن موسی الرضا علیہما السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله کے مکتوبات سے اقتباس

بسم الله الرحمن الرحیم

ایام اللہ اور ولایت و امامت کے ایّام کی تجلیل و تعظیم کرنا اور انسانیت کے وقار و عظمت اور عزت و کرامت کی تکریم کرنا ربوبیت و الوہیت کی مقدس بارگاہ سے انسانی تقرب کی معراج ہے ۔

یہ عظیم اور باعظمت ایّام ہر ایک شخص کے لئے قابل قدر ہیں اور یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی دینی معرفت  اور اولیائے دین کے ساتھ اپنے روحانی و معنوی رابطے کو اور زیادہ کامل اور مستحکم  کرے  اور ان بابرکت ایّام کی تجلیل و تکریم کرتے ہوئے خاندان وحی ونبوت علیہم السلام کے ساتھ اپنی عقیدت  کا اظہار کرے ۔

  • ہر کوئی ان کی توصیف بیان کرنے سے قاصر ہے !

ان نیک اور الٰہی ایّام میں سے ایک عالم آل محمد حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہم صلوات اللہ کی ولادت کا مسعود و مبارک دن ہے ۔

میں اس عظیم ذات کی مدح و ثنا اور توصیف و ستائش میں کیا کہہ سکتا ہوں ، جن کی فریقین میں سے بزرگان علم و دانش نے بہترین عبارات و الفاظ سے توصیف بیان کی ہے ۔ مجھ جیسے حقیر کا بیان اس ذات والا صفات کی عظمت کے بحر بیکراں میں ایک ناچیز قطرے سے بھی کم ہے ، لیکن میں اس علم و معرفت کے اس رہبر و پیشوا کی ولایت کے بارے شکر گذاری کے عنوان سے چند کلمات عرض کرنا چاہتا ہوں :

مرا بس است همين افتخار و عزّت و شأن

كه از ازل ز ولايش به گردنم رسن است‏
هزار سال سرايد مديحش ار «لطفى»

هنوز حرف نخستين و مطلع سخن است‏

 

  • ایک جاوداں ہجرت

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کی زندگی کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ آپ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے خراسان کی جانب سفر ہے ؛ جو بہت ہی مفید پیغامات کا حامل ہے ۔

امام رضا علیہ السلام کا یہ سفر سرکاری طور پر تھا ؛ یعنی اس طولانی سفر کے دوران  آپ بہت سے چھوٹے بڑے شہروں ، دیہاتوں اور قصبوں سے گزرے ، آپ جس سے اسلامی ملک سے بھی گزرتے وہاں عجیب جوش اور اضطراب  پیدا ہو جاتا تھا ، اورآپ کا  یہ سفر اس بات کا باعث بنا کہ جو لوگ اس وقت تک خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار نہیں کر سکے تھے ، وہ بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خاندان اور ذریت سے اپنی عقیدت ظاہر کریں ۔ لوگوں میں سے  عام و خاص سب  ہی اہل بیت علیہم السلام ، ان کے فضائل و مناقب اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

عوام کا جم غفیر امام رضا علیہ السلام کا دیدار کرنے کے لئے شوق و نشاط میں ڈوبا ہوا تھا  کیونکہ ان  لوگوں کی نظر میں  آپ کے حضور شرفیاب ہونا آپ کے جد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور شرفیاب ہونے کی طرح تھا ۔

راستوں ، گزر گاہوں ،مساجد   اورہر  اس جگہ لوگوں کا اجتماع تھا ، جہاں سے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کا گزر ہونا تھا ، اور ان لوگوں نے اپنے اس اجتماع سے تاریخ اسلام میں ایک نیا باب کھول دیا تھا ، اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عصر نبوت کے نظام و روش  اور امیر المؤمنین علی مرتضیٰ علیہ السلام کی خلافت کے زمانے کو احیاء کر دیا تھا ۔

وہ سب لوگ یک زباں ہو کر کہہ رہے تھے : کیاخوب ہے  کہ حق اس کے مرکز کی طرف واپس لوٹ گیا ۔ مأمون خود چاہتا ہے کہ امام کے لئے خلافت کی منتقلی کا زمینہ فراہم کرے ۔

امام رضا علیہ السلام جس جگہ بھی قدم رنجہ فرماتے تھے ؛ وہاں لوگوں  کی عقیدت و محبت آسمان کو چھو رہی ہوتی تھی  اور ایمان و اخلاص کے بدن میں روح تازہ ہو جاتی تھی ۔ لوگ امام علیہ السلام کی زیارت کرتے تھے  اور وہ  آپ  کے چہرے میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرے کی زیارت کر رہے تھے  ، عشق و محبت سے گریہ کر رہے تھے ، نالہ و ضجہ کر رہے تھے ، شعر خوانی کر رہے تھے ، خوشی منا رہے تھے  اور (محمد و آل  محمد علیہم السلام پر ) صلوات بھیج رہے تھے ۔

اور یہ سچ ہے کہ اس سے بڑھ کو کون سا واقعہ مذہب تشیع کو زندہ کر سکتا ہے  اور لوگوں کی حقیقت کی جانب رہنمائی کر سکتا ہے ؟امام کے ملکوتی و نورانی چہرے کی زیارت کرنے سے بڑھ کر اور کون سا منظر زیادہ خوبصورت ، پر کشش اور جذاب ہو سکتا ہے ؟

 نیشاپور کے ولائی عوام

اس سفر کے دوران حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کے راستے میں آنے والے شہروں میں سے ایک نیشاپور تھا ۔ امام علیہ السلام نے اپنے ملکوتی جلال ، شان و شوکت اور معنوی عظمت سے شہر نیشاپور کو مزین فرمایا ۔ 

جیسا کہ نقل ہوا ہے :امام رضا علیہ السلام  عماری میں تشریف فرما تھے  اور آپ کا نورانی و ملکوتی چہرہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ تھا  اور وہاں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمند آپ کے حسن و جمال اور منور  چہرے کی زیارت کی مشتاق تھی ، ہر طرف لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ نعرہ  لگا رہے تھے ، تکبیر کہہ رہے تھے اور صلوات پڑھ رہے تھے ۔ 

ان لوگوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث کے دو پیشوا و حافظ آگے بڑے اور انہوں نے امام رضا علیہ و السلام کو مخاطب کرتے ہوئے درخواست کی اور یوں عرض کیا : ’’أيُّهَا السُّلالَةُ الطَّاهِرَةُ الرَّضِيَّة، أَيُّها الخُلاصَةُ الزَّاكِيةُ النَّبَويَّة بِحَقِّ آبَائِكَ الأطهَرينَ وَأسلَافِكَ الأكرَمينَ إلّا أَرَيتَنا وَجهَكَ المُبَارَكَ الميمُونَ، وَرَوَيتَ لَنَا حَديثاً عَن آبائِكَ عَن جَدِّكَ نَذكُركَ بِهِ‘‘۔

ہماری تمام تلاش و جستجو کے باوجود ہمیں نیشاپور کے عوام کو میسر آنے والے اس سنہری موقع پر اس سے زیادہ جامع اور بامعنی سوال نہیں ملتا ۔ انہوں نے ایک ایسی حدیث کے بارے میں سوال پوچھا جسے نقل کرنے کا افتخار رہتی دنیا تک  ہر زمانے میں باقی رہےگا  ، اور لوگ  زبان بہ زبان ،قلم بہ قلم اور قرن بہ قرن اسے بیان کرتے رہیں گے ، سنتے رہیں گے  ، لکھتے رہیں گے  اور پڑھتے رہیں گے ۔

معرفت کی جستجو میں کئے جانے والے اس سوال کے بعد امام رضا علیہ السلام نے اس سوال کا جواب دینے کے اپنی سواری کو روکا  اور اپنے رخ انور سے پردہ ہٹایا اور مسلمانوں کی آنکھوں کو اپنے مبارک اور نورانی حسن و جمال  سے روشن فرمایا ، اور اس کے بارے میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے : «فَاستَوقَفَ البَغلَةَ وَ رَفَعَ المظَلَّةَ وَ أقَرَّ عُيُونَ المُسلِمينَ بِطَلعَتِهِ المُبَارَکةِ الميمُونَةِ»

جب لوگوں  کی نظر امام کے جہاں آرا حسن و جمال پر پڑی تو سبھی اپنے ہوش کھو بیٹھے ، اور ان کی وہی حالت تھی جو جناب یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کو دیکھ کر مصر  کی خواتین کی تھی اور اپنے وہ ان کے حسن کی تابانی میں خود کو بھی بھول گئی تھی ، اور ان کی زبان سے بے ساختہ نکل پڑا کہ : «مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ» ۔

اسی وجہ سے ان کا  جوش و خروش اور خوشی و مسرت اپنی اوج پر تھی اور ان پر وجد کی کیفیت طاری تھی ، اور فضا تکبیر و تہلیل کی صداؤں سے گھونج رہی تھی ، کچھ لوگ عشق  و شوق سے گریہ کر رہے تھے ،  کچھ لوک امام کی رکاب یا آپ کی سواری کو چوم رہے تھے ، کچھ لوگ امام کے جمال کو دیکھ رہے تھے ، وہاں لوگوں کے جذبات ، خوشی اور جوش و خروش  اور صدائے تکبیر و تہلیل کی وجہ سے امام لوگوں کو حدیث سے سرفراز نہیں کر سکتے ہیں ۔

اسی دوران علماء و دانشوروں اور حقیقت کی جستجو کرنے والوں کے پیشوا امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کلام کا  آغاز کیا  اور نیشاپور کے اس عظیم الشان اجتماع میں ایک ایسا کلام ارشاد فرمایا ، جس سے زیادہ  کوئی بلیغ ، واضح ، مفید اور جامع کلام نہیں تھا:

سمعت أبي موسى بن جعفر يقول: سمعت أبي جعفر بن محمد يقول : سمعت أبي محمد بن علي يقول: سمعت أبي علي بن الحسين يقول: سمعت أبي الحسين بن علي يقول : سمعت أبي أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليهم السلام يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله يقول: سمعت جبرئيل عليه السلام يقول : سمعت الله عز وجل يقول : لا إله إلا الله حصني، فمن دخل حصني أمن من عذابي، فلما مرت الراحلة نادانا : بشروطها و أنا من شروطها.

امام رؤوف عليه‌السّلام نے ایک ہی جملے میں لوگوں کو توحید اور يکتاپرستي کا بھی درس دیا اور انہیں ان کے لئے وہ چیز بھی بیان کی جو توحید کے لئے اکمال و اتمام اور مبیّن و تفسیر ہے ، یعنی آپ نے توحید کے ساتھ ساتھ توحید کی تفسیر و تبیین کرنے والے امر یعنی اپنی اور دوسرے ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت  کی طرف بھی لوگوں کی ہدایت کی  ۔

جی ہاں ! اہل بیت عصإت و طہارت علیہم السلام  اور امام رضا علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنا ہی توحید کو قبول کرنے اور خدا کی امان میں ہونے کی شرط ہے ۔

اگرچہ یہ حدیث شریف سند کے لحاظ سے سلسلۃ الذہب کے نام شے مشہور و معروف ہے ، لیکن اہل معرفت جانتے ہیں کہ  اگر دنیا کی گرانبہا چیزوں میں سے اگر کوئی چیز سونے اور جواہرات سے ہزار گنا قیمتی ہو تو بھی وہ اس کے برابر نہیں ہو سکتی  کہ ہم اس سند کو اس سے تشبیہ دے سکیں ۔

اگر ہم پوری دنیا کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیں  ، اور اس حدیث کی سند یا اس کے ایک لفظ کو ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیں تو اس حدیث کا پلڑا بھاری ہو  گا  اور یہ تشبیہ ؛ صورت و حقیقت کو مجاز  اور معقول کو محسوس سے تشبیہ دینے کی مانند ہے ،  اور اگر کسی مورد میں یہ تشبیہ دی بھی جائے تو یہ تنگیِ قافیہ کی وجہ سے  ہے ؛ ورنہ مرحوم آية الله والد معظّم اعلی الله مقامه کے بقول:

لعل و مرجان را چه کس گفته است بهتر از خزف

 جـان علوي را چه کـس سنجید با نقش جدار

ہم سب کو ولایت جیسی عظیم اور بے مثال نعمت کا قدرداں ہونا چاہئے ،  اور معارف اہل بیت علیہم السلام اور معارف رضوی علیہ السلام کی تبلیغ و ترویج کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہئے تا کہ تشنگان علم اور حقیقت و بینش اس ناب و خالص اور پاک و پاکیزہ چشمے سے سیراب ہو سکیں ۔

پنجشنبه / 24 تير / 1400