در پی شرکت علّامه دکتر  سیدمصطفی محقق‌داماد در همایش تغییرات اقلیمی در واتیکان، حضرت آیت الله العظمی صافی دامت برکاته، از ایشان تقدیر و تشکر نمودند.   معظم له با ارسال پیامی شفاهی، خطاب به ایشان فرمودند: اوّلاً از شرکت جنابعالی در این...
يكشنبه: 1400/07/25 - (الأحد:10/ربيع الأول/1443)

Printer-friendly versionSend by email
مظهر رحمت الٰہی
امام حسن مجتبی علیه السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت الله صافی گلپایگانی دام ظله الوارف کے نوشتہ جات سے اقتباس

بسم الله الرحمن الرحیم

 حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام جیسے عالیقدر رہبر و پیشوا کی اعلیٰ شخصیت اس سے کہیں عظیم تر ہے کہ مجھ جیسا حقیر انسان مقالہ لکھ کر اس کی شرح اور وضاحت کرے ۔

*  اہل سنے دانشوروں کی نظر میں

بزرگ شیعہ مصنفین اور دانشوروں کے علاوہ اہل سنت کے بھی علماء اور بزرگوں نے امام حسن علیہ السلام مکی حیات مبارکہ ، تاریخ اور سیرت کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں اور دسیوں تاریخی، روایی، تفسیری، اخلاقی اور تراجم وغیرہ میں اس عظیم ہستی کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں ۔ جیسے یہ کتابیں : «صحیح بخاری»، «صحیح مسلم»، «سنن ترمذی»، «سنن ابن ماجه»، «طبقات ابن سعد»، «سنن ابی داود»، «خصائص نسائی»، «مصابیح السنّه»، «اسعاف الرّاغبین»، «نور الأبصار»، «تذکرۃ الخواص»، «الاتحاف»، «کفایۃ الطّالب»، «شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید»، «مرآۃ الجنان»، «ملتقی الأصفیاء»، «نظم درر السمطین»، «فرائد السّمطین»، «سیرهٔ حلبیه»، «اسد الغابه»، «الاستیعاب»، «الاصابه»، «تاریخ الخلفاء»، «الفصول المهمّه» ….۔

اب ہم اختصار کی رعایت کرتے ہوئے  اہل سنت کی کتابوں میں سے ’’توفیق ابو علم ‘‘ (۱) کی حال ہی میں لکھی گئی  کتاب ’’اہل البیت ‘‘ (۲) کے کچھ حصہ کا ترجمہ اضافات کے ساتھ نقل کرتے ہیں ، یہ کتاب مصر میں شائع ہوئی ہے :

*  بے شمار فضائل

 اہل تشیع اور اہل سنت کا متفقہ طور پر یہ عقیدہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام اصحاب «کساء» میں سے ایک ہیں کہ جن کی شان میں آیۂ «تطهیر» نازل ہوئی ہے ؛ اور حدیث متواتر ثقلین کے مطابق آپ عدل قرآن ہیں ، اور آپ ان چار افراد میں سے ایک ہیں جنہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ’’نجران‘‘ کے نصاریٰ کے ساتھ مباہلہ کے لئے لے کر گئے تھے ۔

اسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی نے فرمایا : ’’ یہ دونوں (حسن و حسین علیہما السلام) میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ۔ خدایا ! میں ان سے محبت کرتا ہوں ، پس تو بھی ان سے محبت کر  اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر ۔

عائشہ نے نقل کیا ہے کہ : «اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ کانَ یَأخُذُ حَسَناً فَیَضُمْهُ اِلَیهِ ثُمَّ یَقُولُ: «اللّهُمَّ إنَّ هذا ابْنی وَ اَنَا اُحِبُّهُ فَاَحِبَّهُ وَ اَحِبَّ مَنْ یُحِبُّهُ» ۔ (۳)

 انس بن مالک کہتے ہیں : حسن علیه السّلام ، پیغمبر صلّی الله علیه و آله و سلم کے پاس آئے ۔ میں نے انہیں رسول خدا صلّی الله علیه و آله و سلم سے دور کرنا چاہا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «وای ہو تم پر اے انس ! میرے بیٹے اور میری زندگی کے ثمر کو چھوڑ دو ۔ جو اسے اذیت پہنچائے ، اس نے مجھے اذیت پہنچائی ؛ اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی ، اس نے خدا کو اذیت پہنچائی ۔

 
* مکارم اخلاق

امام حسن علیه السّلام نے وحی کے گھرانے میں پرورش پائی اور اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آغوش لطف و رحمت اور مدرسۂ توحید میں تربیت پائی ۔ آپ مکارم اخلاق ، صفات حسنہ اور نیک سیرت میں اسوہ و نمونہ تھے اور آپ کی غیر معمولی محبوبیت کی ایک وجہ آپ کا کریمانہ اخلاق تھا ۔ سب لوگ آپ کو آپ کی صفات حمیدہ کی وجہ سے سراہتے تھے ۔

آپ ادب، حِلم، فصاحت، صداقت، سخاوت، شجاعت، تقویٰ، عبادت، زہد، تواضع اور تمام صفات حسنہ و حمیدہ کا مجموعہ تھے اور آپ میں خَلق و خُلق محمدی ظاہر  و آشکار تھا ۔

* عذاب الٰہی کا خوف

امام حسن علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے عابد ، زاہد اور فاضل شخص تھے ۔  آپ جب بھی حج کا ارادہ  کرتے تو پیدل اور  اکثر اوقات پا برہنہ حج کا سفر طے کرتے تھے ۔ وضو کرتے وقت آپ کے  بدن پر(خوف خدا سے) لرزہ طاری ہو جاتا تھا اور آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا  اور کسی بھی حالت میں ذکرِ خدا کو ترک نہیں کرتے تھے ۔ آپ پارسا ، بردبار اور صاحب فضل تھے اور آپ خوف خدا رکھتے تھے۔

* بے نظیر زہد

 امام حسن علیہ السلام کے زہد کا یہ عالم تھا کہ آپ نے دنیوی امور اور اس کی محبت کے تمام اسباب کو ترک کر دیا اور آپ آخرت اور پرہیزگاروں کی منزل کی طرف متوجہ تھے اور جیا کہ آپ نے خود فرماتے تھے : «مَنْ عَرَفَ اللهُ اَحَبَّهُ، وَ مَنْ عَرَفَ الدُّنْیا زَهَّدَ فیها، وَ الْمُؤْمِنُ لایَلْهُو حَتّی یَغْفُلَ، اِذا تَفَکَّرَ حَزَنَ»(۴)

امام حسن علیه السلام نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر حکومت اور حکمرانی کو ترک کیا ۔ آپ جب بھی موت اور انسان کے مقام کو اپنے ذہن میں تصور کرتے تھے تو بے اختیار روتے تھے اور جب آپ صور پھونکنے ، قبروں سے اٹھائے جانے  اور پل صراط سے گزرنے کے مراحل کو یاد کرتے تھے تو گریہ کرتے تھے اور جب حساب وکتاب  کے وقت خدا کی  بارگاہ میں حاضر ہونے کی منزل کو یاد کرتے تھے تو بلند آواز سے گریہ کرتے تھے اور بے ہوش ہو جاتے تھے۔

 
* مظہر رحمت الٰہی

امام حسن مجتبي علیہ السلام بھی اپنے جد پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح رحمت الٰہی کا بارز نمونہ تھے کہ جو ناامید اور غمگین دلوں کو امید و رحمت سے بھر دیتے تھے ۔ آپ غعیفوں سے ملنے کے لئے جاتے ، بیماروں کی عیادت کرتے اور جنازوں میں شركت کرتے تھے ۔ آپ مسلمانوں کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی یہی کوشش ہوتی کہ کہیں کوئی آپ سے ناراض نہ ہو جائے ۔ نیز آپ کبھی کسی سے کوئی بدی نہیں کرتے تھے اور کبھی  کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتے تھے ۔ آپ فقراء کے ساتھ ہمنیشن ہوتے تھے اور برائی کا جواب اچھائی سے دیتے تھے ۔

 
* حلم امام

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ہر لحاظ سے انسان کامل اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اخلاق کا کامل نمونہ تھے ۔ غضب اور غصہ سے آپ پر ہیجان طاری نہیں ہوتا تھا اور ناخوشايند امور آپ پر کوئی اثرات مرتب نہیں کرتے تھے  ۔ آپ غصے کے عالم میں اس سے متأثر ہو کر کوئی کام انجام نہیں دیتے تھے ۔ آپ قرآن کریم کی ان آیات شریفہ کے کامل مصداق تھے کہ :

«وَ الْکاظِمینَ الْغَیْظَ وَالْعافینَ عَنِ النّاسِ وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ»(۵)؛ «وَلا تَسْتَوِی الْحَسَنَهُ وَلاَالسَیِّئَهُ، اِدْفَعْ بِالَّتی هِی اَحْسَنُ»(۶)

حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام اپنے دشمنوں کو بھی صبر و استقامت اور عفو و درگذر سے جواب دیتے ؛ یہاں تک کہ اہلبیت علیہم السلام کے ایک خبیث ترین دشمن «مروان حكم »نے آپ کے حلم و بردباری اور صبر کو یہاڑ سے تشبیہ دی ہے۔
 امام حسن علیہ السلام اپنے جد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح حلم و بردباری اور عفو و درگذر میں دنیا والوں کے لئے نمونہ تھے ۔ تاریخ نے آپ کے اخلاق کے ایسے نوادرات  محفوظ کئے ہیں کہ جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ دنیائے اسلام یں ادب و اخلاق کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ہیں ۔

 * لوگوں سے محبت

کریم اہل بیت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام شیریں بیان، با الفت اور محبوب تھے اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ بوڑھے ، جوان  اور سب لوگ آپ کی صفات حمیدہ کی وجہ سے آپ سے محبت کرتے تھے ، ہمیشہ عطا و بخشش کرتے تھے ، چاہے لوگ آُ سے درخواست کرتے تھے یا کوئی تقاضا نہیں کرتے تھے ۔

آپ نماز صبح کے بعد طلوع آفتاب تک تعقیبات کرتے تھے اور پھر ان لوگوں سے ملنے کے لئے جاتے تھے کہ جن سے ملاقات کرنی ہوتی اور ان سے الفت و محبت کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو علم و ادب کی تعلیم دیتے تھے ۔

یہ امام حسن مجتبیٰ علیه السلام کے فضائل و مناقب کا ایک ناچیز قطرہ تھا ۔ آپ  کے فضائل و مناقب اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ جنہیں بیان کیا جا سکتا ہے ۔

آخر میں ہم کریم اہل بیت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں چند اشعار کے ذریعے نذرانۂ عقیدت پیش کرتے تھے :

آن که حریمش حَرَم کبریا است       خاک درش کعبه اهل وفا است
 
آن که سراپا همه لطف است و مهر      و آن که دلش منبع فیض خدا است
 
شخص شرف گوهر بحر کَرَم            و آن‌که رُخش آینه حق‌نما است
 
اُسوه حلم است و مُدارا و صبر        مظهر بخشایش و صلح و صفا است
 
عین کمالات و خصال نکو          معدن ایثار و گذشت و حیا است
 
آن‌ که پس از شاه ولایت على           مقصد و مقصود ز دو انّما است
 
آیه تطهیر و فمن حاجّک              سوره‌اى از منقبتش هل اتى است
 
عالم تفسیر و بطون کتاب     گواه آن کریمه قل کفى است
 
در کف امرش همه کَون و مکان      تابع فرمان جنابش قضا است
 
ز ابر عطایش همگان بهره‌مند              غم‌زدگان را کرمش غم‌زدا است
 
همچو نبى صاحب صفح جمیل            مُلتزم عهد الست و بلى است
 
صاحب این وصف و علامات کیست؟            کاین همه‌اش قدر و مقام و بها است
 
سبط مهین حافظ شرع مبین            سیّد خوبان حسن مجتبى است

 
حوالہ جات :

۱. مجلس ادارهٔ مسجد «السیّده نفیسه» کے سربراہ ، «وزارۃ العدل» کے وکیل اور باخبر دانشور۔

 ۲. صفحات ۴۱۵- ۲۶۳.

۳. پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم ، حسن (علیہ السلام) کو اٹھا کر خود سے لگاتے تھے اور فرماتے تھے : خدایا ! بیشک یہ میرا بیٹا ہے ۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں ، پس تو  بھی اسے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت کر ۔

۴. اہل البیت، توفیق ابو عَلم، ص ۲۹۶؛ جو کوئی بھی خدا کو پہچان جائے تو وہ اس سے محبت کرے گا اور جو کوئی دنیا کو پہچان جائے تو وہ اس کی رغبت چھوڑ دے گا ، اور مؤمن (قیامت تک) لہو و لعب سے میں مبتلا نہیں ہو مگر یہ کہ وہ اس سے غافل ہو، اور جب سوچے گا تو غمگین ہو جائے گا ۔  

۵. سوره آل عمران، آیت ۱۳۴ ؛ اور غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

۶. سوره فصلت، آیت ۳۴؛ نيکي اور برائی برابر نہیں ہو سکتی لہذا تم برائی کا جواب بہترین طریقہ سے دو  ۔

 
يكشنبه / 18 مهر / 1400