رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
پنجشنبه: 1401/04/9
Printer-friendly versionSend by email
شیعوں کے لئے حضرت امام رضا علیه السلام کے کیا احکامات ہیں؟
حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی قدس سره کے نوشتہ جات سے اقتباس ، اور عشرۂ کرامت کی مناسبت سے ان کی شعر خوانی کی ویڈیو

امام‏ رضا علیه السلام نے فرمایا : «جس میں ورع اور پرہیزگارى نہ ہو ، اس میں دین نہیں ہے ، اور جو تقیہ نہ کرے ، اس میں ایمان نہیں ہے ، اور خدا کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ دار ہو ؛ یعنی جو تقیہ پر زیادہ عمل کرے » ۔ عرض کیا گیا : «یابن رسول اللہ ! ہم کب تک یہ عمل انجام دیں ؟» آپ نے فرمایا: « ظہور کے دن اور قائم علیہ السلام کی آمد تک ، اور اگر کوئی قائم علیہ السلام کے ظہور سے پہلے تقیہ کو ترک کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے » ۔ حضرت سے دوبارہ سوال پوچھا گیا : «آپ اہل بیت (علیہم السلام) کا قائم (علیہ السلام) کون ہے ؟»

فرمایا: «میری آل میں سے میرا چوتھا فرزند ، اور وہ سیدۃ النساء کے فرزند ہیں ، خدا ان کے ذریعہ زمین کو ہر ظلم و ستم سے پاک کر دے گا ، ان کی ولایت کے بارے میں لوگوں کو شک ہو گا ، ظہور سے پہلے ان کی ایسی غیبت ہو گی ، جب وہ ظہور کریں گے تو زمین ان کے نور سے منور ہو جائے گی ، اور وہ لوگوں کے درمیان عدالت پر عمل پیرا ہوں گے ، اس طرح سے کہ کوئی کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرے گا ، ان کے قدموں تلے زمین نورانی دکھائی دے گی اور ان کا سایہ نہیں ہو گا ، منادی آسمان سے ندا دے گا [ تمام اہل زمین اس کی آواز سنیں گے اوروہ  لوگوں کو ان کی طرف دعوت دے گا ]  اور کہے گا : امام زمانہ  کا خانۂ خدا (خانۂ کعبہ) کے ساتھ ظہور ہوا ہے ، پس ان کی پیروی کرو ، (کیونکہ) حق ان کے ساتھ ہے ، اور (حق) ان میں ہے ، خداوند کریم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

إِنْ نَشَأْ نُنَزّلْ عَلَیْهِمْ مِنَ السَّمآءِ آیَةً فَظَلَّتْ أَعْناقُهُمْ لَها خاضِعِینَ‏؛ «اور اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کر دیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جاتیں » ۔

دعبل خزائى نے کہا : میں نے اپنے آقا و مولا علی بن موسی الرضا علیه السلام کی خدمت میں اپنا قصیدہ  پڑھا اور ان سے عرض کیا : «میرا یہ قصیدہ کیسا تھا؟» امام رضا علیه السلام نے مجھ سے فرمایا :

«کیا تم اس میں دو بیت (اشعار) کا مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے ؟» میں نے عرض كیا : «جی ہاں ! (کیوں نہیں) ، یابن رسول اللہ !» فرمایا : « اور طوس میں ایک قبر ، اور اس صاحب قبر پر وارد ہونے والی مصیبت پر افسوس ہے ، یہ مصیبت ان پر بہت زیادہ دباؤ اور مشقت ڈالے گی ، یہاں تک کہ خدا قائم علیہ السلام کو مبعوث کر دے ، اور وہ ہمارے غم اور پریشان کو دور کر دے» ۔

دعبل کہتے ہیں : پھر میں نے امام رضا علیه السلام کے سامنے اپنا باقی قصیدہ پڑھا ، اور جب میں نے یہ اشعار پڑھے  تو امام علیہ السلام نے شدت سے گریہ کیا:

ظهور امامى كه حتماً اتفاق خواهد افتاد*** و با نام خدا، قیام مى‏كند و داراى بركات است‏

حق و باطل را در میان ما جدا خواهد كرد*** و بر حق، نعمت و بر باطل، لعنت جارى مى‏شود.

اور پھر فرمایا : «اے دعبل! روح القدس نے اشعار تمہاری زبان پر جاری کئے ہیں ۔ کیا تم اس امام کو جانتے ہو؟»

میں نے عرض كیا: « نہیں ! لیکن میں نے صرف یہ سنا ہے کہ آپ اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک امام ظہور کرے گا ، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا » ۔

امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام نے فرمایا : « میرے بعد میرا بیٹا محمد امام ہے ، ان کے بعد ان کے فرزند علی امام ہیں ، ان کے بعد ان کے فرزند حسن امام ہیں ، اور حسن کے بعد ان کے فرزند حجت قائم علیه السلام ہیں  .

لوگ ان کی غیبت کے زمانے میں ان کے منتظر ہوں گے اور ان کےظہور کے زمانے میں ان کے پیروکار ہوں گے ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے ، جس طرح وہ  ظلم و جور سے بھری ہو گی ۔ اور یہ کہ وہ کب آئیں گے ؟ یہ ظہور کے وقت کے بارے میں خبر دینا ہے [ اسے (یعنی ظہور کو) معین  کرنے والا جھوٹا ہے ] بیشک میرے والد گرامی نے اپنے آباءو اجداد سے  میرے لئےنقل کیا ہے  کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

« قائم علیه السلام کی مثال اس وقت اور زمان کی طرح  ہے جو ناگہانی طور پر تمہاری تلاش میں آتا ہے» ۔

 


منبع: سلسله مباحث امامت و مهدویت : ج‏4 ، ص234

 

 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال