بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمین و الصّلوة و السّلام علی سیّد الأنبیاء و المرسلین أبی القاسم المصطفی محمّد و آله الطیبین الطاهرین سیّما بقیة الله فی الأرضین عجّل الله تعالی فرجه الشریف. عَنْ أَبِي عَبْدِ الله عليه‌السلام قَالَ: «...
پنجشنبه: 1397/09/22 - (الخميس:5/ربيع الثاني/1440)

Printer-friendly versionSend by email
عاشورا كے چودہ پيغامات

مقابلے ميں زمانہ جاہليت كي غلط رسم و رواج كو زندہ كرنا تھا ۔ امام حسين عليہ السلام نے جب ان حالات كا مشاہدہ كيا تو قيام كيا تاكہ پيغمبر(ص) كي سنت كو زندہ كريں اور اپنے نوراني بيان ميں قيام كے اس مقصد كي جانب اشارہ بھي فرمايا : اني لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً و لا ظالماً ۔۔۔(۱) ميں فساد پھيلانے كے لئے نہيں نكلا ہوں بلكہ اپنے جد كي امت كي اصلاح كے لئے نكلا ہوں ۔۔۔۔ ميرا ارادہ ہے كہ ميں اپنے جد رسول خدا(ص) اور بابا علي مرتضيٰ (ع) كي سنت كو زندہ كروں اور ان كي سيرت پر عمل كروں ۔ 
۲۔امر بالمعروف كا احياء 
امام حسين عليہ السلام كے بيانات ميں قيام كا ايك فلسفہ جس بنياد پر امام عليہ السلام نے كربلا كي عظيم عمارت تعمير كي ،يہ ہے كہ آپ نے امر بالمعروف اور نہي از منكر كے لئے قيام كيا اور اپني اس عظيم تحريك اور نہضت كا فلسفہ ان دو فرموش شدہ فرائض يعني امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو قرار ديا۔آپ نے فرمايا : اريد ان آمر بالمعروف وانھيٰ عن المنكر ۔۔۔ (۲) ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كرنا چاہتا ہوں ۔ اسي طرح ايك اور مقام پر فرمايا : اللہم اني احب المعروف و انكر المنكر (۳) خدايا ميں نيكيوں كو پسند كرتا ہوں اور برائيوں سے نفرت كرتا ہوں ۔
۳۔ مسلمان اور مسلمان نما افراد ميں جدائي 
جب تك امتحان و آزمائش كا مرحلہ پيش نہ آئے حقيقي ديندار اور ايمان كا زباني دعويٰ كرنے والے نہيں پہچانے جا سكتے ۔ كربلا حقيقت ميں وہ ميزان و معيار ہے جس كے ذريعہ حقيقي مومن اور زباني دعويٰ كرنے والے مسلمانوں كو پہچانا جا سكتا ہے ۔ جب تك زباني مسلمان اور حقيقي مسلمان كي پہچان نہ ہو اسلام كي حقيقي معرفت نہيں حاصل ہوسكتي جيسا كہ امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتہم فاذا محصوا بالبلاء قل الديانون" لوگ دنيا كے غلام ہيں اور دين ان كي نوك زبان پر ہے جب آزمائش كا وقت آتا ہے تو دينداروں كي تعداد كم ہو جاتي ہے۔ 
۴۔ عزت 
سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام كا تعلق اس خاندان سے جو آزادگي اور عزت كا كامل ترين نمونہ ہے اس لئے جس وقت آنحضرت ذلت بار زندگي اور با عزت موت كے دوراہے پر پہنچے تو آپ نے ذلت بار زندگي كو ٹھكرا كر با عزت موت كا راستہ اختيار فرمايا ۔ آپ نے اپنے بليغ كلام ميں اس كي جانب اس طرح اشارہ فرمايا : ابن زياد نے مجھے تلوار اور ذلت كے درميان ركھا ہے ليكن ذلت ہم سے دور ہے " ھيھات منّا الذلۃ " (۴) 
۵۔ ظالم حكومت كي مخالفت 
عاشورا كے عظيم اہداف ميں سے ايك ظلم و جور كا مقابلہ تھا ، اس زمانے كي ظالم و جابر حكومت معاويہ بن يزيد كے ہاتھوں ميں تھي ۔ اس لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے جد رسول خدا(ص) كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جو آپ نے فرمايا : " جو بھي كسي ظالم كو ديكھے كہ وہ حلال خدا كو حرام اور حرام الٰہي كو حلال كر رہا ہے ، ظلم و ستم كو جائز سمجھ رہا ہے، اور پھر اس پر اعتراض نہ كرے ، اس كے خلاف قيام نہ كرے تو خداوند كو يہ حق ہے كہ اسے اس كے اعمال كي سزا دے " (۵)
۶۔ مكتب شہادت كا احياء
جو چيز دين كي بقاء كا ضامن اور اس كے اقتدار و استحكام اور ترقي كا باعث ہے ، راہ خدا ميں جہاد اور شہادت طلبي كا جذبہ ہے ۔ امام حسين عليہ السلام نے يہ بيان كرنے كے لئے كہ دين صرف نماز ،روزہ اور حج كا نام نہيں ہے ، قيام كيا تاكہ دين خدا كي راہ ميں شہادت و فداكاري كے جذبے كو زندہ كريں اور لوگوں ميں شہادت طلبي كا جذبہ پيدا كركے ان كے دلوں سے دنيا كي محبت نكال ديں اور كربلا كے راستے ميں بارہا يہ جملہ ارشاد فرمايا : "فاني لا اريٰ الموت الا سعادۃ ۔۔۔" (۶)ميري نظر ميں موت سعادت و خوشبختي ہے ۔ 
۷۔ معيشتي اور عسكري محاصرہ سے خوف نہ كھانا 
عاشورا كا ايك اہم پيغام اپنے ايمان اور عقيدے پر ثابت قدم رہنا ہے چاہے انسان معيشتي اور عسكري محاصرے ميں گھر جائے ۔
جس طرح امام حسين عليہ السلام كو چاروں طرف سے گھير ليا گيا ، آپ پر پاني بند كر ديا گيا ، آپ كو آپ كے چاہنے والوں سے نہ ملنے ديا گيا ليكن امام اور ان كے اصحاب نے اپنے مقصد سے ايك قدم بھي پيچھے نہ ہٹايا ، اور كبھي شكست كا احساس نہ كيا ۔ اس لئے ايسے حالات ميں مسلم امت كا فريضہ ہے كہ جب وہ چاروں طرف سے مشكلات و مصائب ميں گرفتار ہو جائے تو امام حسين عليہ السلام كي اقتدا كرے اور اگر معيشتي پابندياں عائد كر دي جائيں تو مولائے كائنات كي پيروي كرے جيسا كہ آپ فرماتے ہيں : اگر سارے عرب فوج در فوج مجھ پر حملہ آور ہوں تو ميں وہ نہيں ہوں كہ پيٹھ دكھا كر فرار كر جاؤں ۔ (۷)
۸۔ منصوبہ بندي 
امام حسين عليہ السلام نے اپني نہضت كے تمام مراحل كے لئے منصوبہ بندي كي تھي چاہے وہ بيعت سے انكار كرنے كي بات ہو يا مدينہ سے مكہ كي جانب كوچ كرنے كا فيصلہ اور پھر وہاں چند مہينے قيام كے بعد عراق كي جانب سفر كرنے كا مرحلہ ہو ۔امام نے اس كے لئے كوفہ و بصرہ كي بزرگ شخصيات كو خط لكھا اور انھيں اپني نہضت ميں شريك ہونے كي دعوت دي ، مكہ و منا يہاں تك كہ كربلا ميں لوگوں كو اپنے مقاصد سے آگاہ كيا اور انھيں اپني طرف بلايا ۔ يہ ساري تياري اپنے اس ہدف كے لئے تھي جو امام حسين عليہ السلام كے سامنے تھا ۔ نہضت عاشورا كا كوئي عمل بغير تدبير و درايت اور منصوبہ بندي كے نہيں تھا يہاں تك كہ صبح عاشور امام حسين عليہ السلام نے اپنے مختصر سے اصحاب كو اكٹھا كر كے انھيں الگ الگ ذمہ دارياں ديں اور لشكر كا سردار معين فرمايا ۔ (۸)
۹۔ وظيفہ كي ادائگي 
عاشور كے اس پيغام كي طرف توجہ بہت ضروري ہے تاكہ يہ پيغام ہمارے معاشرے ميں اپنا مقام حاصل كر سكے اور معاشرے كي ثقافت كا جز بن سكے ۔ يعني انسان اپنا وظائف كو سمجھے اور اس پر عمل كرے چاہے اس كام ميں وہ كامياب ہو يا ناكام اسے اپنا وظيفہ انجام دينا چاہئے نتيجہ كي پرواہ نہيں كرني چاہئے ۔ كام كا نتيجہ كيا ہوگا يہ اہم نہيں ہے ۔ امام حسين عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں " ارجوا ان يكون خيراً ما اراد اللہ بنا ، قتلنا ام ظفرنا " (۹) ميري خداوند عالم سے درخواست ہے كہ جو اس نے ميرے حق ميں ارادہ كيا ہے اسے ميرے لئے خير قرار دے چاہے ميں اس راہ ميں قتل كر ديا جاؤں يا ظاہري كاميابي حاصل ہو ۔ يعني امام حسين عليہ السلام نے جو كام انجام ديا وہ ان كے حق ميں خير تھا چونكہ انھوں نے اپنے فرض كو ادا كيا ۔ اگر فرض شناسي اور وظائف كي انجام دہي معاشرے ميں رائج ہو جائے تو كبھي بھي معاشرے ميں كوئي اقدار پامال نہيں ہوں گي ۔ 
۱۰۔ ولي اور قائد كي حمايت 
واقعہ عاشورا ميں ايك چيز جو سب سے زيادہ جلوہ نما ہے وہ قائد اور امام برحق كي حمايت ہے ۔باوجود اس كے كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے بيعت اٹھا لي ليكن وہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت سے دستبردار نہ ہوئے اور انھيں تنہا نہيں چھوڑا ۔ كربلا ميں جن لوگوں نے امام كي حمايت ميں زبان كھولي ہے ان كے بيان سے يہ پيغام بالكل واضح ہے ۔ حبيب بن مظاہر ، زھير بن قين اور ديگر لوگوں كا بيان اس بات پر شاہد ہے ۔ خود علمدار كربلا حضرت ابوالفضل العباس عليہ السلام كے اشعار اس حمايت كي واضح دليل ہيں ۔ " اگر تم ہمارا داياں ہاتھ كاٹ بھي دو پھر بھي ميں امام كي حمايت سے دستبردار نہيں ہوں گا ۔ ميں اپنے دين اور امام برحق كي حمايت كرتا رہوں گا " (۱۰) مسلم بن عوسجہ نے بھي زخمي ہونے كے بعد آخري سانسيں ليتے ہوئے حبيب بن مظاہر سے وصيت كي كہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت كريں اور ان كي راہ ميں اپني جان قربان كر ديں ۔ " اوصيك بھٰذا ان تموت دونہ " (۱۱) ميں تمھيں ان (امام حسين عليہ السلام ) كي وصيت كرتا ہوں كہ جب تك جان ميں جان رہے ان كي حمايت كرنا۔
۱۱۔ دنيا، دار امتحان ہے 
دنياوي تعلقات اور دنيا طلبي ہي تمام فتنوں اور لغزشوں كا سبب ہے ۔ بہت سے لوگ جب ان امتحان ميں مبتلا ہوتے ہيں تو اپنے فرض كو ادا نہيں كر پاتے اور دنيا انھيں اپني طرف كھينچ ليتي ہے ۔ يہ دنيا طلبي ہي تھي جس كي وجہ سے ابن زياد ، عمر سعد (لعنھم اللہ) جيسے لوگ امام حسين عليہ السلام كے مقابلے ميں آگئے اور جو لوگ مولائے كائنات سے سياسي ضرب كھا چكے تھے سب كوفہ آ پہنچے ۔ 
جاہ و مال كے طالب حكومت ري كے خواہاں اور امير كوفہ كے انعامات كے شيفتہ لوگوں نے امام حسين عليہ السلام كے خون سے اپنے ہاتھ رنگين كر لئے ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے فرمايا : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتھم يحوطونہ ما درت معايشھم " (۱۲) لوگ دنيا كے غلام ہيں دين ان كي نوك زبان پر ہے جب تك ان كا كام چلتا ہے دين كي باتيں كرتے ہيں ليكن جب امتحان كا موقع آتا ہے تو دين كا ساتھ چھوڑ ديتے ہيں ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے دشمنوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمايا : " فلا تغرنكم ھذہ الدنيا فانھا تقطع رجاء من ركن اليھا "(۱۳) دنيا تمھيں فريفتہ نہ كرے جو بھي دنيا پر بھروسہ كرے گا اس كي اميديں كبھي پوري نہيں ہوں گي ۔ 
۱۲۔ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہے 
جيسا كہ قرآن كريم نے وعدہ كيا ہے اور روايت ميں بھي كثرت سے وارد ہوا ہے كہ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہوا ہے ۔ واقعہ عاشورا ميں اس كا كاملترين مصداق ديكھنے كو ملتا ہے ۔ حر بن يزيد رياحي جو امام حسين عليہ السلام كو گھير كر كربلا ميں لے آيا اور خود لشكر يزيد ميں ايك ہزار سپاہيوں كا سردار تھا ليكن صبح عاشور باطل كو چھوڑ كر حق كي طرف پلٹ آيا اور امام حسين عليہ السلام سے آ ملا اور توبہ و جہاد كر كے خود كو شہدائے كربلا ميں شامل كر ليا ۔ يہ واقعہ اس بات پر دليل ہے كہ انسان ہر حالت ميں حق و حقيقت كي طرف پلٹ سكتا ہے اور ہميشہ مغفرت كا راستہ كھلا ہوا ہے ۔ 
۱۳۔ حقوق الناس كي رعايت 
معصومين عليھم السلام كي سيرت ميں يہ امر بہت ہي اہميت كا حامل ہے اگر چہ دشت كربلا ميدان كارزار تھا ليكن وہاں بھي امام حسين عليہ السلام نے حقوق الناس كي رعايت كي ۔ آنحضرت نے كربلا كي زمين كو ان كے مالكوں سے خريدا اور اسے وقف كيا۔ زمين كربلا كا كل رقبہ چار ميل تھا (۱۴) اسي طرح عاشور كے دن يہ اعلان كيا كہ جو بھي كسي كا مقروض ہو وہ ہمارے ساتھ نہ رہے ۔(۱۵)
۱۴۔ رضائے الٰہي پر راضي رہنا 
رضائے الٰہي پر راضي رہنا عرفاء كے كمالات ميں سے ايك ہے ۔ اہلبيت(ع) كي ايك خاص صفت يہ تھي كہ ہميشہ خدا كي رضا پر راضي تھے اور خدا كي مرضي كو ہميشہ مقدم ركھتے تھے ۔ امام حسين عليہ السلام نے اپني زندگي كے آخري لمحات ميں اپنے خدا سے اس طرح مناجات كي ۔ " صبراً عليٰ قضائك يا رب ، لا الٰہ سواك " (۱۶) خدايا ميں تيري رضا پر راضي ہوں ، تيرے سوا كوئي معبود نہيں ہے ۔ اسي لئے اہلبيت(ع) كي مرضي كو خدا كي مرضي كہا گيا ہے جيسا كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے ايك خطبہ ميں ارشاد فرمايا : رضي اللہ رضانا اہل البيت " (۱۷) خدا كي مرضي ہم اہلبيت(ع) كي مرضي ہے ۔

حوالہ   جات
۱۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴ 
۲۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴
۳۔ بحارالانوار ، ج/۴۳،ص/۳۲۸
۴۔ لھوف ،ص/۵۷
۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۶۰ 
۶۔ بحارالانوار ،ج/۴۴،ص/۳۸۷
۷۔ نھج البلاغہ 
۸۔ رہ توشہ راھيان نور ،جواد محدثي ،ص/۷۶
۹۔ اعيان الشيعہ ، ج/۱ص/۵۹۷
۱۰۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۳۷
۱۱۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۹۷
۱۲۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۷۳
۱۳۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۷۸
۱۴۔ مجمع البحرين ، ذيل كلمہ حرم 
۱۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۴۱۷
۱۶۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۵۷
۱۷۔ اعيان الشيعہ ،ج/۱،ص/۵۹

سه شنبه / 20 شهريور / 1397