بسم الله الرحمن الرحیم وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ حوادث ناگواری که هم اکنون در کشمیر هند در حال وقوع است قلب هر انسان آزاده‌ای را آزرده و متأثر می‌کند. مردم بی‌گناه و مظلوم کشمیر، کدام جرم و...
سه شنبه: 1398/05/29 - (الثلاثاء:18/ذو الحجة/1440)
Printer-friendly versionSend by email
ميلاد مولود كعبہ (ولادت با سعادت مولائے كائنات عليہ السلام)

مولائے كائنات ۱۳رجب جمعہ كے دن سن ۳۰ عام الفيل كو مكہ مكرمہ ميں خانہ كعبہ كے اندر پيدا ہوئے ۔ ( خصائص الائمہ ، ص/ ۳۹ ؛ تہذيب الاحكام ، ج/۶،ص/ ۱۹ )
علامہ اميني (رض) آپ كي جائے ولادت اور اس بے نظير فضيلت كے بارے ميں لكھتے ہيں : 
يہ ايك واضح حقيقت ہے جس پر فريقين كا اتفاق ہے اور اس سلسلے ميں متواتر احاديث كتابوں ميں بھري ہوئي ہيں اس لئے اس مقام پر بيہودہ بكواس كرنے والوں كي باتوں كو ميں كوئي اہميت نہيں ديتا ہوں ۔ چونكہ شيعہ اور اہلسنت دونوں فرقوں كے بزرگ علماء نے اس واقعہ كي روايتوں كے متواتر ہونے كي تصديق كي ہے ۔ ( الغدير ، ج/۶، ص/۲۲ )
المستدرك علي الصحيحين : متواتر روايات اس بات پر دلالت ركھتي ہيں كہ فاطمہ بنت اسد نے اميرالمومنين علي بن ابي طالب عليہ السلام كو كعبہ كے اندر پيدا كيا ۔ ( المستدرك علي الصحيحين ، ج/۳، ص/ ۵۵۰ حديث ۶۰۴۴)

روضۃ الواعظين نے جابر بن عبداللہ انصاري سے نقل كيا ہے كہ پيغمبر خدا(ص) سے اميرالمومنين علي بن ابي طالب عليہ السلام كي ولادت كے بارے ميں پوچھا : 
آپ نے فرمايا : " واہ ، واہ ! تم نے مجھ سے ميرے بعد سنت عيسيٰ (ع) ميں پيدا ہونے والے سب سے بہتر مولود كے بارے ميں پوچھا ہے ، خدائے تبارك و تعاليٰ نے مجھے اور علي كو ايك نور سے پيدا كيا ، آدم كے صلب سے ہم پاك صلبوں سے پاكيزہ ارحام ميں منتقل ہوتے رہے يہاں تك كہ خدائے عزوجل نے مجھے جناب عبداللہ بن عبدالمطلب كے پاك صلب سے ظاہر فرمايا اور مجھے بہترين رحم يعني جناب آمنہ كے رحم ميں قرار ديا ، پھر خداوند تبارك و تعاليٰ نے علي كو جناب ابوطالب كے صلب سے ظاہر فرمايا اور ان كے نور كو بہترين رحم يعني فاطمہ بنت اسد كے رحم ميں قرار ديا " (روضۃ الواعظين ، ص/۸۸)
ارشاد شيخ مفيد : شيخ مفيد(رہ) ناقل ہيں كہ (علي عليہ السلام ) ۱۳ رجب سن ۳۰ عام الفيل جمعہ كے دن مكہ مكرمہ ميں خانۂ كعبہ كے اندر پيدا ہوئے اور ان كے علاوہ كوئي بھي مولود نہ ان سے پہلے ، نہ ان كے بعد خانہ خدا ميں پيدا نہيں ہوا اور يہ اس وجہ سے تھا كہ خداوند عالم نے ان كے مقام و منزلت كو بلند فرمايا تھا ۔ (الارشاد ، ج/۱، ص/۵ )
علل الشرائع : شيخ (رہ) سعيد بن جبير سے نقل كرتے ہيں كہ يزيد بن قعنب ناقل ہيں كہ ميں عباس بن عبدالمطلب اور قبيلہ عبدالعزيٰ كے ايك گروہ كے ساتھ كعبہ كے سامنے بيٹھا ہوا تھا كہ اچانك اميرالمومنين (ع) كي ماں فاطمہ بنت اسد آئيں ۔ ان كے حمل كا نواں مہينہ چل رہا تھا اور زائمان كا درد شروع ہو چكا تھا ، انھوں نے عرض كي : خدايا! ميں تجھ پر تيري جانب سے آنے والے انبياء اور كتابوں پر ايمان ركھتي ہوں اور اپنے جد ابراہيم كي باتوں كي تصديق كرتي ہوں كہ انھوں نے تيرے قديمي گھر كي تعمير كي ، پس اس گھر كے بنانے والے كے حق كي قسم ! اور ميرے شكم ميں موجود بچے كے حق كا واسطہ ميري مشكل كو آسان فرما ! ۔ 
يزيد بن قعنب كہتے ہيں : ہم نے ديكھا كہ كعبہ كي پچھلي ديوار ميں شگاف ہوا اور فاطمہ داخل ہو گئيں اور ہماري نظروں سے اوجھل ہوگئيں اور كعبہ كي ديوار مل گئي ، ہم نے كعبہ كا تالا كھولنا چاہا تو وہ بھي نہ كھل سكا تو ہميں يہ يقين ہو گيا كہ يہ امر خداوند عالم كي جانب سے ہے ۔ 
پھر فاطمہ چار دن كے بعد باہر آئيں اس عالم ميں كہ آپ كے ہاتھوں پر علي عليہ السلام موجود تھے پھر انھوں نے فرمايا : ميں گزشتہ تمام عورتوں پر برتري ركھتي ہوں چونكہ آسيہ بنت مزاحم نے خدا كي عبادت ايسي جگہ پر كي كہ جہاں پر خدا صرف مجبوري كے عالم ميں عبادت پسند كرتا ہے ، مريم بنت عمران نے خرما كے سوكھے درخت كو ہلايا تو اس سے تازہ خرمے گرے جبكہ ميں خدا كے محترم گھر كے اندر گئي اور وہاں بہشتي غذاؤں اور پھلوں سے سيراب ہوئي ۔ ( علل الشرائع ، ج/۳ ، ص/۱۳۵)
اقتباس : دانشنامۂ اميرالمومنين عليہ السلام ، ج/۱، بخش اول ، فصل اول 

سه شنبه / 28 اسفند / 1397