بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله الذی جعلنا من المتمسّکین بولایة مولانا أمیرالمؤمنین و الأئمة المعصومین علیهم‌السلام نخستین نشست مرکز تخصصی غدیرپژوهی در حوزه علمیه قم را به عزیزان شرکت‌کننده در این جلسه نورانی و به مسئولان و برگزارکنندگان محترم آن...
Thursday: 23 / 03 / 2017 ( )

Printer-friendly versionSend by email
ولایت علوی کی نصوص جليّه و خفيّه
دھہ ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمي صافي کے سلسلہ وار نوشتہ جات (۲)

غدیر؛حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل اور ولایت کی سب سے معتبر اور صریح نص ہے۔ غدیر کی نصوص کے علاوہ اس عظیم ولایت پر بہت  زیادہ صریح نصوص ہیں کہ جو کتاب و سنت میں موجود ہیں ۔ اگرچہ یہ نصوص بے شمار ہیں لیکن ان سب نصوص کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:نصّ جلی اور نصّ خفی 
نصوص جلیّہ
قرآن کی نصوص جلیّہ ، جیسے مباہلہ کی آيه ٔكريمه (1)یہ آیت مبارکہ: إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ الله (2) اور دوسری متعدد آیات کہ جنہیں ابن بطریق نے کتاب "خصائص الوحي المبين في مناقب اميرالمؤمنين عليه‌السّلام"  میں محدثین ، صاحب جوامع و صحاح اور مسانید عامہ میں معتبر سندوں سے روایت کرتے ہوئے شمار کیا ہے.
نصوص جلیّہ میں سے متواتر نبوی نصوص، جیسے مشہور حديث منزلت(3)  اور دوسری احادیث کہ جن میں سے عظیم و مشہور اور اتّم حدیث  شریف غدیر ہے  جو ابلاغ اور عام اعلان ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حیات رسالت میں اس سے عظیم اجتماع اور بزرگ دن   نہیں ہے۔اس عظیم اجتماع میں تمام نامور اصحاب اور حجاج شریک تھے  اوراس زمانے تک ایسے اجتماع کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

یہ دونوں آغاز ہیں اور دونوں یوم اللہ الاکبر ہے۔ ان دونوں دنوں کے لئے تیسرا دن مصلح یگانہ آخر الزمان، عالم بشریت کو نجات دینے والے، عدل کل، موعود رسل حضرت قائم آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ظہور کا دن ہے۔

نصوص جلیّہ میں حدیث غدیر سے بڑھ کر اور کوئی نصّ جلی نہیں ہے کہ جس کے اصحاب، تابعین اور تبع تابعین میں سے اس قدر زیادہ راوی ہوں اور جو ہر لحاظ سے اس قدر معتبر ہو۔ اس حدیث ، اس کی اسناد اور اس کے الفاظ کے بارے میں اتنی کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں کہ جن سے ایک  شاندار کتابخانہ تشکیل پا جائے۔
* نصوص خفيّه
نصّ جلیہ کے ساتھ  ساتھ خفیّہ نصوص بھی بڑا اہم اور محکم مقام رکھتی ہیں  اور وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بلا فصل ولایت اور بقیہ تمام ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت کو ثابت کرتی ہیں۔
خفیّہ نصوص کا ایک بڑا وسیع اور جامع باب ہے۔ علامہ حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب ’’آلفین‘‘ کو ان خفیّہ ادلہ  میں سے دو ہزار دلائل کے طور پر شمار کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ان نصوص کو خفیّہ کا نام دیا جاتاہے لیکن کسی طرح سے بھی ائمہ اطہار علیہم السلام اور بالخصوص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت پر ان کی دلالت میں کوئی مخفی پہلو نہیں ہے(بلکہ ان سب کی  دلالت آشکار ہے) ان خفیّہ نصوص میں بعض قرآنی آیات بھی ہیں کہ جن میں استفہام کے طور پر سب کو مخاطب قرار دیا گیا ہے۔جیسے:

أَ فَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَ يَهِدِّي إِلّا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ)۶)

یا ’’مَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَ الْبَصِير‘‘)۷)

یا پھر یہ آٰیت:’’هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لاَ يَعْلَمُونَ‘‘(۸)
ان آیات سے واضح طور پر اظہر مصادیق کے لحاظ سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام خلافت و امامت  کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ ان سب کا پیغام یہ ہے کہ بینا ہو نہ کہ نابینا، عالم ہو نہ کہ جاہل، فاضل ہو نہ کہ مفضول، علی علیہ السلام ہوں نہ کہ کوئی دوسرا۔

* ایک عقلی قانون؛فاضل کو مفضول پر فضیلت دینا

فاضل کو مفضول اور افضل کو فاضل پر برتری دینے کا موضوع اور اسی طرح افضل پر فاضل اور مفضول کو فاضل پر برتری دینے کی قباحت قرآن کریم کی متعدد آیات اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی بے شمار احادیث و روایات کا موضوع ہے ۔ نیز یہ واجب اور مستحب احکام کے  بعض موارد میں ہے اور قرآن و روایات کی اہم ہدایات میں سے ہے۔ ان تمام امور میں اور بالخصوص ولایت واور اختیارات میں ایک قانون ہے جسے ہر مسلمان اور ہر عاقل انسان کو اپنا آئین قرار دینا چاہئے کہ انتخاب میں اصلح کو صالح اور الیق کو لائق پر ترجیح دے ۔ اور اجمالی طور پر انسانی فطرت کے لحاظ سے (اگر کوئی دوسرا مقصد یا کوئی اور غرض مدنظر نہ ہو) بھی اس  قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اصل دینی و ولائی نظام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  کی خلافت کے  نظام میں ان تعلیمات و ارشادات کی رعائت کرنا اہم مطالب اور واجبات میں سے ہے۔
اسی اصل اور قانون کی طرف امام علیہ السلام نے اشارہ فرمایا ہے اور سب کو مخاطب قرار دیا ہے:
’’أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ أَقْوَاهُمْ عَلَيْهِ وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللهِ فِيهِ‘‘(۹)

نیز فرمایا ہے: إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالْأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُمْ بِمَا جَاءُوا بِهِ‘‘(۱۰)

اس بنیاد پر اور ان آیات و روایات کے حساب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد (چاہے آنحضرت کی حیات میں یا حیات کے بعد) جو واحد  و یگانہ ذات واجب الطاعۃ، صاحب ولایت امر اور منصوص من اللہ ہے؛ وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ذات ہے۔

جاحط کے بقول(انہوں نے اپنے ایک رسالہ میں اس بارے میں کہا ہے): اسلام میں فضائل ، مکارم اور مقامات کی اوج چار چیزوں کو قرار دے سکتے ہیں: خدا پر ایمان، علم و دانائی، زہد اور پرہیز گاری، راہ دین اور راہ خدا میں جہاد۔

پھر وہ کہتے ہیں: اگر تمام علماء اسلام سے یہ پوچھا جائے کہ ایمان کے لحاظ سے اسبق(سب سے پہلے ایمان لانے والے) اور اکمل کون ہیں؟ تو سب سے پہلے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو شمار کریں گے اور اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اصحاب میں سب سے اعلم کے بارے میں پوچھا جائے  تو سب سے پہلے علی علیہ السلام کا تعارف کروایا جائے گا اور اگر اس ذات کے بارے میں پوچھا جائے کہ جس نے دین کی راہ میں جہاد کیا اور جس کے جہاد کی برکت سے اسلام اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا تو پھر بھی سب سے پہلے علی علیہ السلام کا نام لیا جائے گا  کہ جن کے ایک جہاد کا ثواب روز قیامت تک پوری امت کی عبادت سے زیادہ ہے۔ اور اگر صحابیوں میں سب سے زیادہ متقی و زاہد کے بارے میں سوال کیا جائے کہ جس نے دنیا کو ترک کر دیا ہو،جو دنیا پر فریفتہ نہ ہوا ہو تو سب علی علیہ السلام کا نام لیں گے کہ جنہوں نے ایک لمحہ کے لئے بھی دنیا کی طرف نہیں دیکھا۔

الغرض یہ کہ اسلام، قرآن اور تمام انببیاء کی دعوت میں افضل کی طرف دعوت دی گئی ہے اور مفضول کو فاضل پر سبقت دینے کی مذمت کی گئی ہے ۔ شیعوں کے عقائد کی محکم بنیاد افضل کو فاضل پر برتری دینے کا مصداق ہے اور دوسرا مصداق غیروں کا عقیدہ ہے کہ جن کے باطل ہونے پر ںصوص خفیّہ دلالت کرتی ہیں اور مصداق و مصادیق کی شناخت کو خود عرف کے سپرد  کیا گیا ہے۔

حوالہ جات:
۱۔ سوره آل عمران، آيه 61.
۲۔ سوره مائده، ‌آيه 55.
۳۔ ارشاد مفيد، جلد 1، صفحه 156؛ بحار الأنوار، جلد 21، صفحه 208، تاريخ طبرى، جلد 2، صفحه 368؛  الكامل في التاريخ ابن اثير، جلد 1، صفحه 306؛ سيره ابن هشام، جلد 4، صفحه 163.
۴۔ مستدرك الوسائل، جلد 12، باب 31،‌ حديث 14094.
۵۔ بحار الأنوار، جلد 26، باب 5، حديث 47.
۶۔ سوره يونس، آيه 35.
۷۔ سوره فاطر، آيه 19.
۸۔ سوره زمر، آيه 9.
۹۔ نهج البلاغة صبحي صالح، خطبه 173.
۱۰۔ ایضاً، حكمت 96.

 

موضوع: 
Sunday / 18 September / 2016