بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
چهارشنبه: 22/آذر/1396 (الأربعاء: 24/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
فقه عاشورائی ( عزاداری کے احکام )

 

عزاداری کی کیفیت

س) امام حسين عليه‌السلام کی مصیبت میں گربیان چاک کرنے، سر اور چہرے پر مارنے کا کیا حکم ہے؟

ج)امام حسین علیہ السلام کی مصیبت میں سر اور چہرے پر مارنے اور گریبان چاک کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

س)بعض لوگ معصومین علیہم السلام کی عزاداری اور ماتم داری کے دوران اپنے چپرے کو نوچتے ہیں کہ جس سے ان کے چہرے سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ اس انداز سے عزاداری کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)معلوم نہیں کہ یہ عمل اہلبیت اطاہر علیہم السلام کے مصائب کی شدت اور ان کی عزاداری کے لئے توہین ہو۔ لیکن اگر یہ حد سے زیادہ ضرر کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے۔

س)کچھ عزادار خود کو مٹی ملتے ہیں اور ننگے پاؤں چلتے ہیں ۔ایسی عزاداری کا کیا حکم ہے؟

ج) ایسے امور کہ جن کے ذریعہ کسی خاص علاقہ کے لوگ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام  سےحزن و عزا کا اظہار کریں اور اس سے ان کے جسم و جان کو نقصان نہ پہنچے تو کوئی مانع نہیں ہے۔

س)دائرہ کی صورت میں گھومتے ہوئے اور اٹھک بیٹھک کرتے ہوئے ماتم کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج) اس میں کوئی اشكال نہیں ہے لیکن یہ خیال رہے کہ عزاداری کا وقار پامال نہ ہو۔

س) کیا سید الشہداء حضرت  امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں قمیض اتار کر سینہ زنی کرنا جائز ہے ؟

ج) اگر کسی نامحرم کی نگاہ نہ پڑے توکوئی اشکال نہیں ہے۔

س)عزاداری کے دوران سينه‌زنی، زنجيرزنی و يا سر اور چہرے کا ماتم کہ جو ضرر جیسے زخمی ہونے یا جسم کے سرخ ہونے کا باعث بنے تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج) اگر حد سے زیادہ ضرر نہ ہوتو اشكال نہیں ہے.

س)اگر سینہ زنی کے دوران قمیض اتار کر ماتم کرناتحریک(گناہ کی طرف مائل ہونے)کا باعث ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج) اگر گناہ کی طرف مائل کرنے کا باعث بنے تو اس میں اشکال ہے اور بہتر ہے کہ لباس  کے ساتھ عزداری کی جائے۔

س)ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزاداری میں ماتم کرنے اور اس طرح سے چہرے کو نوچنے کا کیا حکم ہے کہ جس سے خون جاری ہو جائے؟

ج)ان بزرگ ہستیوں کے لئے کسی بھی انداز میں عزاداری کرنا کہ جو حد سے زیادہ ضرر کا باعث نہ ہو جائز و مطلوب ہے البتہ یہ کہ وہ کسی بھی طرح سے شریعت کے برخلاف نہ ہو۔

س)مجالس عزا میں«هروله» کی کیا حکم ہے جب کہ یہ عزاداری کی بے حرمتی، توہین اور عزادروں میں حزن اور عزاداری کے آثار میں کمی کا باعث ہے ۔مہربانی فرما کر جواب بیان کرنے کے علاوہ عزاداری کے متعلق کوئی نصیحت بھی فرمائیں۔

ج) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ لوگ غم کی شدت کے باعث کھڑے ہو کر بھاگنے لگتے ہیں،خود کو مارتے ہیں اور نالہ و فریاد کرتے ہیں ؛اگر کسی میں سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے غم (جو سب سے بڑے مصائب ہیں) کے باعث ایسی حالت ایجاد ہو جائے یا رونے کی وجہ سے ایسی حالت پیدا ہو جائے تو اسے اہانت یا توہین نہیں کہہ سکتے ۔البتہ یہ لازم ہے کہ سب ان مجالس کی عظمت ،حقیقت  اور ملکوتی وقار کی حفاظت کریں اور انتہائے غم و حزن کا اہتمام کریں ۔خداوند تائید فرمائے۔

س)عزاداری اور سینہ زنی کے وقت بعض حج کے ایّام میں ہونے یا حضرت زینب علیہا السلام کی یاد میں کہ جو حالت ہرولہ میں تھیں ،ہرولہ کرتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں۔اس کے متعلق اپنا نطریہ بیان فرمائیں؟

ج) حج کے ایّام میں ہونے کی نیت سے ہرولہ کرنا صحیح نہیں ہے لیکن ان مصائب کی وجہ سے غم اور حزن کی شدت سے ایسا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض لوگ مذہبی جلسوں اور مجالس عزا  میں اہلبیت اطہار علیہم السلام کے سامنے انتہائے تذلّل اور حقیر ہونے کااظہار کرنے کے لئے کچھ حیوانات جیسے کتے کی آوازیں نکالتے ہیں ۔اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔

ج)چونکہ بعض کی نظر میں یہ توہین کا باعث ہے لہذا ضروری ہے کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام سے اپنی عقیدت و ولایت کا اظہار قابل تحسین صورت اور پرکشش انداز میں کیا جائے۔

س)ایسی گلی کوچوں میں انجمنوں کا ماتم داری منعقد کرنے کا کیا حکم ہے کہ جہاں کے لوگ دینی شعائر کےپابند نہیں  ہیں بلکہ ان کی نظر میں سینہ زنی وغیرہ عجیب و غریب عمل ہے  اور کبھی یہ مجالس عزا کی اہانت اور تمسخر کا بھی باعث بنتے ہیں؟

ج) مذکورہ مقامات میں واقع مسجد اور امام بارگاہوں میں انجمنیں مذہبی مجالس کا شائستہ انداز میں انعقاد کریں اور بافضیلت علما ءاور واعظین کو ان مجالس میں مدعو کیا جائے کہ وہ دین مبین اسلام کو اس کی حقیقی صورت میں سامعین کے سامنے بیان کریں،اس صورت میں گمان نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تمسخر کا باعث بنیں۔نیز تبلیغ دین میں کچھ جاہل اور نادان لوگوں کے تمسخر پر توجہ نہیں کرنی چاہئے ۔

 

عزاداری  کے آئین اور نشانیاں

س) عاشورا کے مراسم کے دوران علم‌برداری، چہل چراغ كشی ،نخل گردانی کا کیا حکم ہے؟

ج) کوئی مانع نہیں ہے.

س) عَلَم سے کس طرح استفادہ کیا جانا چاہئے ؟

ج) سالار شهيداں حضرت ابا عبد الله الحسين عليه‌السلام کی عزاداری میں علم(جو تعظیم شعائر میں سے شمار ہوتا ہے) سے استفاہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ یہ مطلوب ہے بشرطیکہ وہ ذی روح مجسمہ پر مشتمل نہ ہو۔

س)کیا آپ کی نظر میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے شام غریباں میں شمعیں روشن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؟ کیا یہ بدعت کے مصادیق میں سے نہیں ہے؟

ج)اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

س)بعض مجالس و مراسم میں شبیہ بنائی جاتی ہے جیسے حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی قبر مطہر کی شبیہ بنانا یا حضرت رقيه سلام الله عليہا کا تابوت بنانا، ان کا حكم کیا ہے؟

ج) ان میں کوئی اشكال نہیں ہے.

 

س)تعزیہ  و مرثیہ خوانی کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟

ج)اگر تعزیہ و شبیہ خوانی آلات لہو منجملہ ڈھول ،نقارہ  اور صنج وغیرہ پر مشتمل نہ ہو اور اس میں جھوٹے اشعار اور غنا بھی نہ ہو اور مرد خواتین کا لباس نہ پہنے ہوں تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض لوگ منظر کشی کے دوران امام معصوم علیہ السلام یا جلیل القدر شخصیات جیسے حضرت عباس علیہ السلام کی شبیہ کی صورت میں کردار ادا کرتے ہیں ،جبکہ یہ کردار ادا کرنے والے افراد کا ماضی درخشاں نہیں ہوتا اور صرف اچھے انداز میں کردار نبھانے کی وجہ سے انہیں شبیہ سازی میں رکھا جاتا ہے۔اس کے متعلق اپنا نظریہ ٔ مبارک بیان فرمائیں؟

 ج)شبیہ سازی میں کردار ادا کرنے والے افراد کا ماضی درخشاں ہونا شرط نہیں ہے لیکن اگر برے ماضی یا برے حال کی وجہ سے عرف میں توہین ہو تو ایسے افراد کو یہ کردار  ادانہیں کرنا چاہئے ۔ اصولاًمناسب یہ ہے کہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی عزاداری مجالس عزا کی صورت میں منعقد کی جائے کہ جس میں علماء ،واعظین،خطباء اور  ذاکرین ان ہستیوں کے مصائب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فضائل و مناقب، تاریخ ،احادیث اور احکام بیان کریں نیزمعارف اسلام کی تبلیغ کریں،شبہات کا جواب دیں اور لوگوں کو آگاہ کریں اور مکتب اہلبییت اطہار علیہم السلام کی جانب ان کی ہدایت کریں۔

 

س)آج کل یہ بیان کیا جارہا ہے کہ مجالس عزا اور بالخصوص سید الشہداءحضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا اور مصائب خوانی اصل صورت کی بجائے نمائش اور تھیٹر کی صورت میں ہونی چاہئیں اور اس بات پر بہت اصرار کیا جارہا ہے ۔آپ اپنا نظریۂ مبارک بیان فرمائیں؟

ج) ان عظیم ہستیوں کے لئے منعقدکی جانے والی مجالس عزا میں علماء و ذاکرین کے ذریعہ صحیح و معتبر کتابوں سے مصائب بیان کئے جائیں اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کا خیال رکھا جائے۔انہیں تھیٹر کی صورت میں پیش کرنا عام طور پر فاسد اور غیر شرعی امور سے خالی نہیں ہوتاہے.

س۔ایسی تصاویر اور پوسٹر وغیرہ کہ جن میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے چہرے کو دکھایا گیا ہو،ان کی خرید و فروخت ،تولید اور ان سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

 ج۔ مذکورہ تصاویر اور پوسٹر وغیرہ کے بارے میں کوئی صحیح سند موجودنہیں ہے،لہذا بہتر ہے کہ اس عمل سے پرہیز کیا جائے۔

 

عزاداری کے آداب و اخلاق

س)اگو کرئی شخص عزاداری کے دوران دکھاوے کے لئے بلند آواز سے گریہ کرے یا بہت زور سے زنجیر مارے یا ماتم کرے تو کیا اس نے ریاکاری کی ہے اور اس کی عزاداری باطل ہے؟ اور اگر یہ عمل دوسروں کو رلانے کی نیت سے ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج)ریا کسی عمل میں بھی صحیح نہیں ہے لیکن عزاداری اور شعائر کی تعظیم کے طور پر رلانا ریاکاری نہیں ہے۔  

س۔بعض اوقات سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس میں(کہ جن میں لوگوں کا بہت ہجوم بھی  ہوتا ہے)یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ  خادمين ابا عبدالله الحسین عليه‌السلام عزاداروں کے ساتھ ناشائستہ طریقے سے پیش آتے ہیں(مثلاً ان پر چیخنا اور دھکے دینا وغیرہ)شریعت کے لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟

ج۔عزاداروں اور سامعین کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آیا جائے۔

س) کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں شرکت کے لئے ماں باپ کی رضائیت واجب ہے ؟اور کیا ان کے رضائیت کے بغیر ان مجالس میں شرکت کر سکتے ہیں؟

ج)موارد مختلف ہیں۔

س)محرم کے مہینے اور بالخصوص عاشورا کے دن ہنسی مذاق کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)صحیح نہیں ہے۔

س)گلی کوچوں اور بازاروں میں عزاداری کے ایسے جلوس برآمد کرنے کا کیا حکم ہے کہ جو ٹریفک میں خلل کا باعث ہوں؟

ج۔عزاداری سے مخصوص و متعارف ایّام کے دوران اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض اوقات گلی کوچوں میں خیمہ وغیرہ لگا کر عزاداری کا انعقاد کیا  جاتا ہے کہ جس سے کچھ پڑوسی راضی نہیں ہوتے ۔ایسی صورت میں مجالس کا انعقاد کرنے اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)ان مجالس کا اس طرح سے انعقاد کیا جائے کہ جو وہاں سے گذرنے والوں اور پڑوسیوں کے لئے زحمت کا باعث نہ بنے۔

س)عزاداری میں کم یا زیادہ شور کرنے کا کیا حکم ہے کہ جب پڑوسیوں کی رضائیت کے متعلق علم نہ ہو؟کیا پڑوسیوں میں سے ہر ایک کی رضائیت  ضروری ہے یا ان میں سے اکثر کی رضائیت کافی ہے؟

ج)ان مجالس کی عزت و شان کا تقاضا یہ ہے کہ زحمت ایجاد نہ ہو۔

س)آدھی رات کے وقت عزاداری کا شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے کہ جو لوگوں کے آرام اور نیند میں خلل کا باعث ہو؟

ج)کلی طور پر لوگوں کو اذیت و زحمت دینا جائز نہیں ہے چاہے وہ نیند کی حالت میں ہو یا بیداری کی حالت میں۔یہ مجالس و مراسم معمول اور متعارف صورت میں انجام دی جائیں اور بعض موارد جیسے شب عاشورا میں اذیت صدق نہیں کرتی۔

س)کی ا یہ بات صحیح ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا کے  بانی یہ چاہیں  کہ اس مجلس میں زیادہ لوگ شریک ہوں ؟

ج)مجالس عزا میں لوگوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو اور جس قدر زیادہ باعظمت ہوں تو ان کا دلوں میں اثر بھی زیادہ ہو گا نیز اس کے آثار و اثرات بھی زیادہ ہوں گے۔اگر اس مسئلہ کو اہمیت نہ دی جائے تو دین کے دشمن ،فریب کھائے ہوئے مسلمان اور مغرب زدہ ظاہر بین واقعۂ کربلا کا انکار کر دیتے۔البتہ سب کو متوجہ رہنا چاہئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا کے انعقاد اور ان میں شرکت کرنے سے حاصل ہونے والا بے شمار اجر و ثواب ان میں محرمات داخل کرنے سے ضائع نہ ہو جائے۔لہذا مذہب اور مجالس عزا کی توہین کا باعث بننے والی ہر چیز سے اجتناب کیا جائے۔

 س) بعض اوقات حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزا کے ایّام کچھ دوسری مناسبات جیسے نوروز سے ہم زمان ہوتے  ہیں۔عزائے حسینی کے ایّام میں دوسری مناسبات کو انجام دینے کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟

ج)یہ واضح  ہے کہ مؤمنین و محبین اہلبیت علیہم السلام محرم و صفر کے ایّام میں ایسے مراسم اور ایسے اعمال انجام دینے سے گریز کرتے ہیں کہ جو محبّ اہلبیت علیہم السلام کی شان کے مناسب نہیں ہیں اور وہ مجالس اور سیرت عزا کی حفاظت کرتے ہیں۔

 

نماز اور عزاداری

س)اگر کوئی شخص رات دیر تک عزاداری کرنے یا صبح کی نماز قضا نہ ہونے کا خیال رکھنے کے درمیان مردد ہو تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)نماز قضا نہ ہونے کا خیال رکھنا واجب ہے۔

س)اگر کوئی شخص نماز نہ پڑھے،روزہ نہ رکھے اور امام حسین علیہ السلام سے نیکی کرے اور ماتم کرے ،زنجیر زنی کرے اور گریہ و عزاداری کرے  اور نیز جو شخص اپنے مال سے خمس اور زکات ادا نہ کرے تو کیا اس مال کو امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کر سکتا ہے ؟اور کیا ایسے شخص کو اجر و ثواب ملے گا؟

ج)نماز ار روزہ واجب ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام پر عزاداری و گریہ مستحب ہے ،انسان کو چاہئے کہ وہ نماز پڑھے،روزہ رکھے اور عزاداری بھی کرے ۔نیز جس پیسوں پر خمس ہو،پہلے واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کیا جائے اور پھر اسے امام حسین علیہ السلام کی راہ اور دوسرے کار خیر میں خرچ کیا جائے۔جس مال پر خمس واجب ہو چکا ہو اس کا خمس نکالنے سے پہلے اسے کسی بھی کام میں خرچ کرنا حرام ہے اگرچہ وہ کار خیر ہی کیوں نہ ہو۔

 س)روز عاشور ظہر کے وقت عزادار اظہار حزن کے لئے تیار ہوتے ہیں اور دوسری طرف نماز ظہر کا وقت ہو جاتا ہے ایسے میں مؤمنین کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)ایسے موارد میں اغراض اور فضائل کے حصول میں جمع کیا جائے یعنی سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداری بھی کی جائے اور نماز ظہر بھی اوّل وقت بجا لائی جائے۔

 

خواتین کی عزاداری

س) کیا ائمہ اطہار علیہم السلام اور بالخصوص سيد الشهداء حضرت امام حسین عليه‌السلام کی مجالس عزا میں خواتین کا بلند آواز سے گریہ کرنا جائز ہے؟

ج)اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

 

س)عورتوں کا گلی کوچوں میں کھڑے ہو کر عزداری کرتے ہوئے مردوں کو دیکھنے کا کیا حکم ہے؟اور اس سلسلہ میں ہیئت و انجمن کی ذمہ داری کس حد تک ہے؟

ج)عورتوں کا نامحرم مردوں کے جسم کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔

س) خواتین کا عزاداری کے دستوں کے پیچھے چلنے کا کیا حکم ہے؟

ج)اگر اس سے معصیت کا ارتکاب لازم نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

مجلس عزا کے خطباء و ذاکرین 

س)مداحی کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟اور ایک ذاکر و مداح اہلبیت علیہم السلام میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟

ج)اگر اہلبيت عصمت و طهارت سلام الله عليهم اجمعين کی مداحی خدا کے لئے ہو تو عبادت ہے اور اس کا اجر عظیم ہے۔اس لئے ذاکر و مداح کو متقی و پرہیزگار ہونا چاہئے نیز اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جو اشعار پڑھے وہ حقیقت کے برخلاف اور جھوٹ پر مبنی نہ ہوں۔جہاں تک ہو سکے ان عبادات کو قصد قربت سے انجام دے تا کہ ان کا ثواب حاصل ہو سکے اگرچہ اس عمل کے لئے اجرت لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض مداح اس انداز میں حسین حسین کا ذکر کرتے ہیں کہ جو شور اور ہیجان کا باعث بنتا ہے اور وہ گریہ و ماتم کے ساتھ لوگوں میں اچھلنے کودنے جیسا عمل ایجاد کرتے ہیں ،کیا یہ کام صحیح ہے؟

 ج)اگر نوحہ خوانی و مداحی غنا کی صورت میں ہو تو حرام ہے۔

س)کیا موسیقی کے سر ،ساز اور غنا کی صورت میں کی جانے والی مداحی حرام ہے؟

ج)جی ہاں!حرام ہے۔

س)کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں  ذاکرین و مداح اور خطباء کا اجرت لینا جائز ہے؟

ج)جائز ہے۔

س)مداح حضرات دعائے کمیل ، دعائے ندبہ اور زیارت عاشورا کے درمیان اشعار اور مصائب پڑھتے ہیں ،اس عمل کا کیا حکم ہے؟

 ج)بہتر یہ ہے کہ وارد ہونے والی دعاؤں کو ان کے ضمن میں اشعار یا کوئی اور چیز پڑھے بغیر ہی پڑھا جائے لیکن بعض موقعوں  پر صحیح مصائب پڑھنے میں کوئی شرعی اشکال نہیں ہے کہ جو دعا سے مناسب ہو۔جی ہاں!اگر اس عمل میں اس طرح سے افراط کیا جائے کہ جو دعا پڑھنے کی صورت سے خارج ہو جائے تو معلوم نہیں کہ اس دعا کا ثواب ملے۔

 

عزاداری کے روائی منابع

س)کیا مرحوم ملّا حسین کاشفی کی کتاب روضه الشهداء اور ملّا آقا دربندی کی کتاب  اسرار الشهادة میں واقعۂ کربلا کے متعلق تحریف شدہ روایات ہیں؟

ج) ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم مذکورہ دو کتابوں کے مؤلفین کو واقعۂ کربلا میں تحریف کرنے سے متہم کریں۔ان میں جو مطالب درج ہیں کہ جو محتمل الوقوع ہیں لہذا جب تک ان کے نہ ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو ان کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ ہی مؤلفین کی طرف جھوٹ لکھنے کی نسبت دے سکتے ہیں  اور اگر دلیل کی رو سے کسی چیز کا واقع نہ ہونا قطعی ہو تو اسے نقل نہیں کرنا چاہئے۔ 

س) آپ کی نظر میں فارسی اور عربی میں معتبر مقاتل کون سے ہیں؟

ج)اس بارے میں مرحوم محدّث جناب حاج شيخ عباس قمی صاحب کی تألیفات سے استفادہ کیا جائے۔

س)مداحان و ذاکرین اور خطباء کا بے بنیاد اورمشکوک مصائب پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

ج)بے بنیاد مصائب پڑھنا جائز نہیں ہے اور ایسی چیز پڑھنا کہ جس کے صحیح ہونے کا احتمال ہو تو اگر یہ احتمال کی صورت میں ہو تو اشکال نہیں ہے۔

س)اگر بے بنیاد مصائب پڑھا جائے تو ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

ج)اگر ذاکرین سے جھوٹ سنیں تو شرعی ذمہ داری کے طور پر انہیں نہی از منکر کے عنوان سے تنبیہ کریں اور یہ سب مکلفین کی ذمہ داری ہے۔ 

 

عزاداری منعقد کرنے سے مخصوص اموال

س) اگرماتمداری و عزاداری کے لئے فرض کریں کہ کسی ایسے مال سے استفادہ کیا جائے کہ جس کا مالک راضی نہ ہو تو ان مجالس کے انعقاد اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر مال کے مالک کی رضائیت کا علم نہ ہو تو مسئلہ کا کیا حکم ہو گا؟

ج)اگر کسی ایسے عین مال (اصل مال)سے استفادہ کیا جائے کہ جس کا مالک راضی نہ ہو تو حرام ہے اوروہ  اس کا ضمان بھی ہو گا۔

س)اگر عزاداری میں کوئی مال کسی خاص مقصد کے لئے دیا جائے تو کیا اسے عزاداری میں کسی دوسرے مورد میں خرچ کر سکتے ہیں؟(مثلاً کھانے کے لئے دئے گئے پیسوں کو کسی دوسری چیز کی خریداری میں خرچ کیا جائے)

ج)ایسے کسی خاص مورد میں خرچ کرنے کے لئے پیسے دیئے گئے ہوں تو ان کسی دوسرے مورد میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے  نیز وہ ضامن بھی ہو گا۔

اگر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری  میں استفادہ کرنے کے لئے کچھ وسائل و لوازمات صیغۂ وقف پڑھے بغیر لئے گئے ہوں تو ان وسائل و لوازمات سے ذاتی طور پر استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر کوئی شخص کئی بار مسئلہ نہ جانے کی صورت میں یہ ایسا کرے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)مذکورہ  وسائل سے ذاتی طور پر استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اور جس نے ان سے ذاتی طور پر استفادہ کیا ہو وہ توبہ کرے اور بعض موارد میں یہ ضامن ہونے کا بھی باعث ہے۔

س) اگر ظہر عاشورا کے لئے کھانے اور نذر و نیاز کی منت مانگی گئی ہو تو کیا اسے محرم کے دوسرے ایّام میں انجام دے سکتے ہیں؟

ج)سوال کے فرض کی بنیاد پر مذکورہ نذار و نیاز ظہر عاشورا کے علاوہ کسی اور دن نہیں دے سکتے۔

  

عزاداری میں موسیقی کے آلات

 

س)عزداری میں موسیقی کے آلات جیسے ڈھول،صنج ،ارگ وغیرہ سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)جائز نہیں ہے۔

س)سرور شہیداں حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام کی عزداری کے وقت عزاداروں میں ہماہنگی کے لئے ڈھول اور صنج سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)اس میں اشکال ہے۔

آيت الله العظمی صافی کی كتاب « گفتمان عاشورايي» سے اقتباس

موضوع:

يكشنبه / 11 مهر / 1395