عصر پنج‌شنبه 20 مهرماه 1396 حجة الإسلام و المسلمین آقای قاضی عسکر با حضور در بیت مرجع عالیقدر حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله الوارف با ایشان دیدار، و گزارشی از برنامه با شکوه حجّ امسال، ارائه داد. معظّم له در ابتدای این...
دوشنبه: 1 / 08 / 1396 ( )

Printer-friendly versionSend by email
حضرت زہراء سلام الله علیہا کے میلاد سعید کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی کی خصوصی تحریر

اللّهم صلّ علي الصديقة فاطمة الزكية حبيبة حبيبك و نبيّك و ام أحبّائك و أصفيائك الّتي انتجبتها و فضّلتها و اخترتها علي نساء العالمين و صلّ علي ولدها الذي بشّرها به خاتم النبيين صلوات الله عليه و آله، بقية الله في ارضه ارواح العالمين له الفداء.

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی جامع الاطراف اور وسیع الأبعاد شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، لکھا گیا اور مستقبل میں بھی جو کچھ لکھا  جائے گا یا کہا جائے ،لیکن اس کے باوجود خاتون جنت بی بی دو عالم حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و درجات کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔
اگرچہ جانگداذ ظلم و ستم کی وجہ سے بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ظاہری زندگی بہت مختصر تھی لیکن اس کے باوجود آپ کی یہی مختصر حیات پوری تاریخ میں تمام لوگوں اور بالخصوص ہر حق پرست اور ہر رہبر کے لئے نمونہ ہے۔

اور اس شاعر کے بقول کہ جس نے کہا:ضلّ من جعل مقياس الحياة الطولا،

زندگی کا مقیاس و معیار ظاہری زندگی اور لمبی عمر کو قرار نہیں دینا چاہئے بلکہ انسان کی حیات کا حقیقی مقیاس ومعیار  اس کے وجود  کی برکات ہیں۔

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليہا کی حیات بھی آپ کے پدر بزرگوار حضرت خاتم الانبياء محمد بن عبد الله صلي الله عليه و آله و سلم کی حیات کی طرح برکات و آثار سے سرشار اور بہت وسیع و عریض تھی۔

عالم وجود اور کائنات ہستی میں کوئی انسان بھی حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کے علم و اخلاق، سیرت، انسانی کمالات و مقامات اور روحی و جسمی خصوصیات کے لحاظ سے حضرت زہراء علیہا آلاف التحیۃ والثناء سے زیادہ قریب نہیں ہے۔

اگرچہ  بنت پیغمبر حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی عمر کا طول ۱۸ سال سے زیادہ نہیں تھا لیکن اس کا عرض کئی ملین سال سے بھی زیادہ ہے۔ اہم یہ ہے کہ انسان اپنی مختصر حیات میں ایس عظیم کارنامہ انجام دے کہ  جنہیں دوسرے افراد کئی ہزار سالوں میں بھی انجام نہ دے سکیں۔

ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس موضوع اور اس ہستی کے درجات و فضائل کے بارے میں جس قدر بھی بحث کریں لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ حق مطلب ادا نہیں کر سکتے۔

ایک انسان کامل کے لئے فرض کئے جانے والے تمام مقامات میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پہلے درجہ پر فائز ہوں گی۔ ایمان، معرفت الٰہی، خدا کی بندگی و عبادت، دنیا سے بے اعتنائی، قناعت، دوسروں کے لئے ایثار، ہمسرداری، تربیت اولاد، عفت و حجات کی رعائت، اسلام میں خواتین کے لئے تاکید کی جانے والی کرامت و حشمت کی حفاظت اور سورۂ احزاب میں عورتوں کے لئے بیان ہونے والی دس صفات ( کہ جس طرح ان صفات کو مردوں کے لئے بھی  افتخار شمار کیا گیا ہے) میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا یگانہ  مقام رکھتی ہیں اور آپ سب کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔

انسان کے لئے حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مکمل تاریخ حیات اعجاز آفرین ہے کہ کس طرح ایک عورت ان اعلٰی و ارفع مقامات پر فائز ہو سکتی ہے اور کس طرح خداوند متعال کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے انوار وجود اس قدر درخشاں ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض ازواج آپ کی توصیف میں یوں بیان کرتی ہیں:

«مَا رَأَيْتُ أفْضَل مِنْ فَاطِمَة غَير أبِيهَا؛ میں نے فاطمہ سے برتر کسی کو نہیں دیکھامگر ان کے بابا کو »(1)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا نے جو موقف اختیار کیا ؛ وہ بہت اعلٰی اور حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی اہم ذمہ داری اپنے ذمہ لی اور مسجد نبوی میں عظیم الشأن خطبہ دیا۔

اس موقع پر ایسے حالات میں کسی انسان کے لئے ایسا خطبہ دینا اور حقائق کو آشکار کرنا ممکن نہیں تھا لیکن صدیقہ ٔطاہرہ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا وہ واحد اور یگانہ ذات ہے جس نے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ سامعین کے دلوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یاد تازہ ہو گئی۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس انداز میں مسجد نبوی میں داخل ہوئیں کہ آپ نے چادر اور عباء اوڑھی ہوئی تھی جو زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور بنی ہاشم کی عورتوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حکم پر عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ کیا گیا تا کہ آپ پردہ کے پیچھے سے خطبہ دے سکیں اور آپ نے بالبداہہ ایسا خطبہ دیا کہ جسے سن کر سامعین پر سکوت طاری ہو گیا اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليہا کا وجود ایک آسمانی وملکوتی وجود ہے، ہم جیسے افراد ان کے وجود کی عظمت کو درک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس عظیم ہستی کی توصیف بیان کر سکتے ہیں.

اہلبیت اطہار علیہم السلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔ آیت تظہیر «إنّما يُريدُ اللهُ لِيُذهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ البَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُم تَطْهِيراً»(2) میں حضرت فاطمهٔ زہراء سلام الله عليہا پنج تن میں واحد اور یگانہ خاتون ہیں کہ جن کی شان میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے اور آپ بھی اس آیت میں شامل ہیں۔

اور اس آیت «فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ»(3)، میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود واحد خاتون حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله عليہما ہیں۔

نیز اس آیت «قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏»(4) میں بھی جب حضرت رسول خدا صلی الله عليه و آله و سلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے قرابتدار کون ہیں کہ جن سے اس آیت میں خدا نے مودت کا حکم دیا ہے؟

آپ نے فرمایا: علی، فاطمه، حسن اور حسين صلوات الله عليهم اجمعين. (5)

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا معنوی مقام اور آپ کا وجود مبارک شیعوں کی حقانیت کے لئے حجت ہے۔ میں ایک موقع پر مدینہ میں تھا اور میں نے سنا کہ یہاں کوئی کتابخانہ ہے کہ جس میں شیعوں کے خلاف کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔ میں وہاں گیا اور وہاں موجود کتابوں کوجائزہ لینے لگا۔ میں نے دیکھا کہ صاحب مکتب کی میز پر ایک کتاب رکھی ہوئی ہے کہ جس کا نام «و جاء دور المجوس‏»تھا۔

میں كتابخانہ کے مالک کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گیا۔ انہوں نے کچھ ایسی کتابوں کے نام بتائے جنہیں میں جانتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ ان کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں میں ان کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ان کے تمام مطالب جھوٹ اور بہتان ہیں۔

اس شخص نے کہا: آپ بغیر پڑھے ان کتابوں کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟

میں نے جیسے ہی وہ کتاب کھولی تو پہلی نظر میں ہی میں نے اس شخص کے ئے یہ بات ثابت کر دی دی کہ اس کتاب میں لکھے ہوئے مطالب  جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔

کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے پوچھا کہ ان دو افراد کی خلافت کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

میں نے کہا: آپ یہ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں!  یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی ان دونوں پر عقیدہ نہ رکھتا ہو تو وہ دین سے خارج نہیں ہو گا اور اگر کوئی ان کی معرفت کے بغیر اور انہیں پہچانے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ بے دین نہیں ہے۔

وہ مسلسل خلافت کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو جاننے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ میں نے کہا: عقيدتنا عقيدة سيدة فاطمه سلام الله عليها، یعنی ہمارا عقیدہ وہی ہے جو سیدہ فاطمہ زہراء کا عقیدہ تھا.جب میں نے یہ بات کی تو وہ خاموش ہو گیا۔ کیوکہ یہ معلوم تھا کہ وہ خلفاء کے بارے میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے عقیدہ کو رد نہیں کر سکتا۔

پھر اس نے پوچھا:آپ کا اس (خود ساختہ) اجماع کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

میں نے کہا: ہم حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اسی عقیدہ پر باقی ہیں۔

جب میں نے دوبارہ اسی محکم بات کو دہرایا تو پھر وہ کوئی بات نہ کہہ سکا۔

الغرض یہ کہ حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله و سلامه عليہا کا موقف ایک ایسا موقف ہے کہ جو مذہب و مکتب تشیع کی اساس اور بنیاد کو تقویت دیتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے۔

اس بناء پر ہمیں چاہئے کہ سب لوگوں کے مطالعہ کے لئے سیدۃ نساء العالمین بضعۃ الرسول صلوات الله عليه و آله کی تعلیمات پیش کریں کیونکہ یہی عقائد اور تعلیمات تشیع کے لئے حجت ہیں۔

ان ایّام میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس معجزاتی خطبہ پر خاص توجہ کرنی چاہئے کہ جس کے ضمن میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے اور جس میں ہر لازم پیغام کا بیان ہے۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس خاص مقام و منزلت پر توجہ دیں کہ جس میں فرمایا گیا ہے:«خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ أَنْ لَا يَرَيْنَ‏ الرِّجَالَ‏ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَال‏؛ عورتوں کے لئے بہترین حالت یہ ہے کہ نہ تو کوئی اجنبی شخص انہیں دیکھے اور نہ ہی وہ کسی اجنبی شخص کو دیکھیں »(6)۔ زہرائی و فاطمی خواتین کو اس امر پر توجہ کرنی چاہئے۔

بی بی دو عالم سیدۂ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مجالس اور ذکر فضائل ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں کیونکہ یہ خدا کے تقرب، امر اہلبیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص  حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے امر کے احیاء کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان موقعوں  پر زیادہ سے زیادہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کی تکریم و تجلیل کریں اور آپ کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں کہ یہ اجر رسالت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے اور آنحضرت کی تجلیل و تکریم ہے۔

البتہ جو لوگ آپ کے مقام و منزلت کی تجلیل و تکریم کرتے ہیں وہ آپ کے احکام پر بھی حتمی طور ہر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا:

                 تَعْصِي الْإِلَهَ وَ أَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ                             هَـذَا مُحَالٌ فِي الْفِعَالِ بَدِيعٌ‏
                 لَـوْ كَــانَ حُبُّكَ صَادِقاً لَأَطَعْتَهُ                           إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيع(7)‏       

یعنی حضرت فاطمۂ زہراء عليها آلاف التحية و الثناء کی محبت میں ہمارے صدق و صداقت کی علامت یہ ہے کہ ہم اس بزرگ ہستی کی راہ پر ثابت قدم رہیں اور ہمیشہ ہر حال میں خدا، رسول اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے امر کی اطاعت کو اپنے زندگی کے تمام امور میں قرار دیں۔

حوالہ جات:
۱۔ مجمع الزوائد هيثمي، كتاب المناقب، باب مناقب فاطمة بنت رسول الله صلي الله عليه و آله، ح15193.
۲۔ سوره احزاب، آيه33.(بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہلبیت علیہم السلام تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح سے پاک و پاکیزہ رکھے کہ جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)
۳۔ سورهٔ آل عمران،آيه61.( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ  حجتی کریں تو ان سے کہہ  دیجئے کہ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے  اپنے نفسوں کو  بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں)
۴۔ سوره ٔشوري، آيه23.( اور (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو)
۵۔ بحار الأنوار؛ج23، ب13.
۶۔ وسائل الشيعة، ج20،ح25054.
۷۔  امالي شيخ صدوق ره، مجلس74.

مناسبت‌ها