بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
سه شنبه: 21/آذر/1396 (الثلاثاء: 23/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
عظمتوں کے سید و سردار کی بعثت

(۲۷ رجب المرجب؛ روز بعثت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپايگانی مدظله الوارف کی خصوصی تحریر)

بسم الله الرحمن الرحیم

’’لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْ أَنْفُسِهِمْ يتْلُوا عَلَيهِمْ آياتِهِ وَ يزَكِّيهِمْ وَ يعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ‘‘

’’یقیناً خدا نے صاحبان ایمان پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ان پر آیات الٰہیہ کی تلاوت کرتا ہے ، انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ پہلے سے بڑی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘

مرسل اعظم، نبی مکرم اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ اور آپ کے مکتب کی شناخت و معرفت عظیم اسلامی سماج بلکہ انسانی سماج کے لئے بہترین اسوہ ہے کہ جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے سب سے زیادہ تعمیراتی کردار کی حامل ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کو عالمی پیمانہ پر  علم و معرفت کے عنوان سے پیش کرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کا تعارف کروایا جانا چاہئے  اور اسے پہچنوانا چاہئےکیونکہ حیران و پریشان اور سرگردان انسانی سماج ہر لحاظ سے اس جامع اور عمیق سیرت کی شناخت کا محتاج ہے۔

ختمی المرتبت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مبارک و مقدس وجود تمام انسانی عظمتوں کے لحاظ سے جامع ہے اور آپ عظمت اور بزرگی میں بے نظیر اور بے مثل بشر ہیں ، ان میں سے کسی ایک کی تفصیلات اور شرح کو کسی بھی تقریر یا تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

حتی اغیار اور مستشرقین بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔

تھومس كارلايل نے كتاب ’’الأبطال‘‘ (کہ جس کا  فارسی زبان میں ترجمہ ’’قهرمانان‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے) میں ہر صنف کے ہیرو کا نام ذکر کیا ہے یعنی ہر اس انسان کا نام ذکر کیا ہے کہ جو کسی نہ کسی صنف میں ہیرو اور یگانہ ہو اور اسے قہرمان اور بطل کہا ہے مثلاً البطل في صورة القائد، البطل في صورۃ الشاعر.

ایک دوسرے مقام پر کہتے ہیں: البطل في صورة النّبي۔ پیغمبروں کا قہرمان اور ہیرو۔ اس مقام پر نہ تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ذکر کیا ہے، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور نہ ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام ذکر کیا ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں: نبوت اور رسالت کے ہیرو اور قہرمان ’’محمد‘‘ ہیں۔

اس مختصر مقالہ میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ اجمالی طور پر کائنات کی اس یگانہ اور عظیم المرتبت شخصیت کی عظمتوں کے کچھ پہلوؤں کو بیان کریں:
پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وجود کی عظمتوں میں سے ایک اہم ترین عظمت ’’تشریع احکام و قوانین کی عظمت‘‘ ہے اس باب میں آنحضرت کی کوئی نظیر و مثال نہیں ہے۔ شریعت اور قانون کا نٖفاذ کرنے والے بزرگان میں سے کسی کو وہ توفیق نصیب نہیں ہوئی جو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نصیب ہوئی۔

اس موضوع کی اہمیت اس وقت زیادہ ظاہر ہوتی ہے کہ جب قانون بنانے والے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے، ہم فکری، مطالعات اور بحث و مباحثہ کے بعد کسی ایک قانونی شق کو مجلس مقننہ میں پیش کرتے ہیں تا کہ عدلیہ و مقننہ کی شوری اس کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے اس پر توجہ کرے۔

اب کیا یہ عظمت نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی مشاور و معاون کے بغیر، کسی مدرسہ یا حقوق و قانون کی کسی یونیورسٹی میں تعلیم اور مطالعہ کے بغیر اور صحت، سماج، قضاوت اور اقتصاد وغیرہ میں کسی سابقہ کے بغیر تمام جہات سے حقوق الناس کی ہر قانونی شق  کو پیش کرے کہ چودہ سو سال گذرنے کے باوجود بھی اس کے بیان کئے گئے قوانین دنیا میں زندہ اور باقی ہیں جو انسانی سماج کے لئے سب سے بہترین قوانین اور بہترین اصول ہیں جسے دور حاضر کے ماہر قانون دان، حقوق دان، اہل تحقیق اور منصف مزاج حضرات انسانیت  کی مشکلات کا واحد راہ حل قرار دیتے ہیں؟

بیشک یہ عظمت حیرت انگیز ہے اور اس کی دلیل روح الٰہی اور رسالت آسمانی ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری عظمتوں میں سے ایک بے نظیر قہرمان اور ہیرو ہونا ہے۔ عظمت سماج و معاشرہ کی بنیادی اصلاحات کے اعتبار سے ہے۔ تاریخ میں آنے والے تمام عظیم اور برجستہ انقلابوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا انقلاب نہیں ہے کہ جس میں رسول معظم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح مختصر سی مدت میں بے نظیر فکری و عملی انقلاب وجود میں آیا ہو۔

تولستوی کہتے ہیں: ’’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ محمّد صلي الله عليه و آله و سلم ان عظیم اور سب سے بزرگ شخصیات میں سے ہیں کہ جنہوں نے سماج کے لئے بہت بڑی خدمت سرانجام دی۔ ان کے فخر مباہات کے لئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے ایک امت کی نور حق کی طرف ہدایت کی اور انہیں خونريزی، بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے اور انسانوں کی قربانی کرنے سے روکا۔ ان جیسی ذات اور شخصیت احترام و اکرام کی حق دار ہے‘‘

ہر دور، ہر زمانے اور ہر مکان میں اجتماعی و سماجی اور انقلابی اصلاحات کے لحاظ سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمتوں کی شرح کرنا بہت طولانی ہے اور حق و انصاف یہ ہے کہ تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جسے اصلاح اور انقلاب کے لحاظ سے اتنی کم مدت میں مادی ومعنوی، روحانی و جسمانی، انفرادی و اجتماعی شعبوں میں اس قدر کامیابی میسر آئی ہو۔

کائنات کے اس یگانہ و تنہا قہرمان اور سید و سرادر کی دیگر عظمتوں میں سے ایک عظمت دنیا سے بے اعتنائی ہے۔ پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیاوی کشش اور ظاہری امور پر توجہ نہ دینے کے لئے لحاظ سے تمام عابدوں اور زاہدوں کے لئے نمونہ اور اسوہ ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زہد کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ جب آپ ظاہری عظمت اور مادی قدرت و طاقت کے اعتبار سے اوج پر تھے تو اس وقت بھی آپ اپنے ہاتھوں سے اپنے جوتے گانٹھتے تھے اور اپنے کپڑوں کو خود پیوند لگاتے تھے اور آپ دنیا تجملات سے گریز کرتے تھے اور اگر دنیا آسائش کی کوئی چیز گھر میں دیکھتے تو فرماتے:’’ اسے میری نظروں سے مخفی کر دوں کہ کہیں میں اسے دیکھ کر دنیا کی یاد میں مشغول نہ ہو جاؤں‘‘۔

جی ہاں! رسول اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عظمتوں کے یگانہ سید و سرادر اور قہرمان ہیں؛ عظمتِ استقامت و شجاعت، تقوا و عبادت، صداقت و امانت، عفو و درگذر، خلق عظيم، آپ کے معجزات اور قرآن مجيد میں آپ کی عظمتیں کہ جن میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ سے بھی لکھا جائے تو پھر بھی وہ ایک کتاب یا چند مقالات و مضامین کی صورت میں تمام نہیں ہوں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم آنحضرت کی عظمتوں کا اعتراف کریں اور اس عیسائی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ:

جی ہاں! پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام عظمتوں کے واحد و یگانہ قہرمان ہیں۔

’’إنى مسيحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا‘‘

 میں عیسائی ہوں اور محمد کی تکریم و تجلیل اور احترام کرتا ہوں اور انہیں کتاب عظمت و بلندی کا عنوان سمجھتا ہوں۔

انسانیت کے ایسے قہرمان کے مکتب کی تبلیغ و ترویج کرنی چاہئے کیونکہ اگر دنیا کے سامنے اس شخصیت کی سیرت کا تعارف کرایا جائے( اور اسے دنیا تک پہنچایا جائے) تو اس سے بڑھ کر انسانیت کی کوئی اور خدمت اور اصلاح نہیں ہو سکتی۔

آخر میں ہم رسول کرم اور پیغمبر رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں (فارسی کے)چند اشعار پیش کرتے ہیں:

زهي در رفعت از كيهان گذشته * ز مهر و انجم تابان گذشته
ز ابراهيم و عيسي و ز آدم * ز نوح و موسي عمران گذشته
زهي پيغمبري كز غايت جود * يم احسانش از عمان گذشته
زهي پيغمبري كز شأن و رتبت * ز هر ذيشان و عاليشان گذشته
گرفته ز امر حق ملك بقا را * ز خضر و چشمه حيوان گذشته
چنان با واجب اندر اتصال است * كه آيد در گمان ز امكان گذشته
محمد فيض اول سرور كل * كه صيت فضلش از كيوان گذشته
ز يمن بعثت فرخنده او * جهان از دوره خسران گذشته
به‎ مدحش منطق(لطفي) كليل است * و گر از قيس و از سحبان گذشته

سه شنبه / 5 ارديبهشت / 1396