بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
سه شنبه: 21/آذر/1396 (الثلاثاء: 23/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
دنیائے اسلام کی ممتاز خاتون کے سوگ میں
دنیائے اسلام کی ممتاز خاتون کے سوگ میں (ماه رمضان کی مناسبت سے مخصوص تحریر /5)
(ماہ مبارک رمضان کے بارے میں آیت ‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات /5)

ہجرت سے تین سال قبل اور بعثت کے دوسوں سال ماہ مبارک رمضان میں مؤمنہ اور فداکار خاتون امّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنی پینسٹھ سال کی بابرکت عمر کے بعد رحلت فرما گئیں۔ شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ دردناک واقعہ دس ماہ رمضان کو پیش آیا۔ (1) اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو خود اپنے ہاتھوں سے حجون مکہ مکرمہ میں دفن کیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے آپ کی رحلت اس قدر غم و اندوہ کا باعث بنی کہ آپ نے اس سال کو «عامُ الْحُزْن»  کا نام دے دیا۔

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کا خاندان

حضرت خديجه سلام الله عليہا اپنے ماں باپ اور دودھیال و ننیہال کی طرف سے جزیرۃ العرب کے اصیل خاندان سے تھیں کہ جو صاحب شرافت و سيادت تھے۔

برجستہ صفات کی حامل

خدا نے یہ چاہا کہ یہ بے نظیر اور یگانہ خاتوں حرم نبوت اور امامت و ولایت کے گیارہ تابناک ستاروں کی ماں اور عقل، ادب، حکمت، بصیرت اور معرفت میں ممتاز اور بے مثال ہو۔

آپ کمالات، نبوغ فکری، فہم و فراست اور عقل و بینش کے لحاظ سے برجستہ نمونہ تھیں۔ مردوں اور عورتوں میں ان کی مثال نہیں ملتی۔  عفّت، نجابت، طہارت، سخاوت، حسن معاشرت، محبت اور وفا آپ کی کچھ برجستہ صفات تھیں۔

شوہر داری میں نمونه

ایک شوہر کے لئے اور بالخصوص اگر وہ گھر سے باہر اہم سماجی امور میں مصروف ہو اور اس کے عظیم مقاصد ہوں، نیز وہ جنگ اور جہاد کے فرائض بھی انجام دے رہا ہو اور اسے دشمنوں اور مخالفین کی جانب سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو تو ایک دلسوز، مہربان، عقل مند، اور ہوشیار بیوی ہی اس کے دل کو آرام، روح کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور اس کی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ختم کرنے اور اس کے لئے استقامت اور ثابت قدمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اگر شوہر گھر سے باہر دشمنوں سے برسر پیکار ہو اور اسے دشمن کی طرف سے وحشیانہ حملوں، تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہو اور گھر میں بھی نادان، بد اخلاق، ڈرپوک اور منہ پھٹ بیوی کا سامنا کرنا پڑے کہ جو تو یہ اسے اس کے ہدف و مقصد سے دور کرے، اس کی سرزنش کرے، جنگ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے اور کہے کہ ہر دن جاہل لوگ اس کے شوہر پر سبّ و شتم کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ جس سے وہ تھک گئی ہے  لیکن ان مشکلات کے حل کے لئے اپنے شوہر کی مدد نہ کرے تو اس صورت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ شوہر کی مشکلات کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایسے شخص کی مشکلات اور دشواریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ نہ صرف اس کی بیوی مشکلات کو حل کرنے میں اس کی مدد کرتی ہے بلکہ اپنے غیر منطقی اعمال و افعال (منجملہ بے جا سرزنش اور اعتراض) کے ذریعہ اس کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند متعال کی جانب سے سب سے اہم آسمانی رسالت پر مؤمور تھے اور مشرکین اپنی تمام تر توانائیوں ( منجملہ انہوں نے اپنے بہادروں، بدزبانی کرنے والے شعراء، سبّ و شتم کرنے والے اوباش افراد، عورتوں، مردوں، اپنوں اور بیگانوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محاذ آرائی کے لئے جمع کیا ہوا تھا) کے ساتھ آنحضرت کے مقابلہ میں کھڑے تھے اور جہاں تک ممکن ہو وہ آپ اور آپ کے اصحاب کو تکالیف پہنچاتے اور برا بھلا کہتے، آپ کی راستہ میں کانٹے بچھا دیتے، نماز کے دوران آنحضرت کی توہین کرتے اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب سے تعلقات ختم کر دیئے۔

ان تمام دشمنوں،  مشکلات اور مصائب کے ہوتے ہوئے اگر  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر واپس جاتے اور دیکھتے کہ ان کی زوجہ ( کہ جو قریش کی عورتوں کی سرادر ہیں اور جو صاحب شخصیت اور مال و دولت کے لحاظ سے ملیکہ ہیں)ان سے دلسوزی اور ترحم کر رہیں ہیں یا ان پر اعتراض کرتے ہوئے یہ تقاضا کر رہی ہیں کہ وہ اپنی اس دعوت سے دستبردار ہو جائیں تا کہ آپ کے دشمن آپ کی توہین نہ کریں اور آپ کا مذاق نہ اڑائیں؛ اگر ایسی صورت حال ہوتی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کوکیسی عجیب مشکل کا سامنا ہوتا؟ !

لیکن خدا کا لطف تھا کہ خدا نے دعوت اسلام کی حقانیت کو درک کرنے کے لئے قلب خدیجہ کو اس طرح سے کھول دیا تھا اور آپ کے دل کو اس طرح سے منور اور معرفت و حکمت سے سرشار کر دیا تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی گھر میں ایسا کوئی افسوسناک منظر نہیں دیکھا تھا۔

دعوت الٰہی کا استقبال

ڈاکٹر «بنت الشّاطي» کہتی ہیں: « کیا خدیجہ کے علاوہ کسی اور بیوی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ اس تاریخی دعوت کے بعد قوی ایمان، کھلی آغوش اور محبت و عطوفت سے اس کا استقبال کرتی کہ جب وہ غار حرا سے آئے تھے اور دل میں اس کی سچائی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ آنے دیتی اور اسے تسلی دیتی کہ خدا اسے تنہا نہیں چھوڑے گا؟

کیا خدیجہ کے علاوہ اس قدر ناز و نعمت سے پلی ہوئی اور اس قدر احترام و آسائش میں زندگی بسر کرنے والی کوئی اور خاتون اپنی مکمل رضائیت سے اپنی عالی شان زندگی، بے حد مال و دولت اور توانگری سے منہ موڑ سکتی ہے اور کیا کوئی اور یہ سب چھوڑ کر زندگی کے سخت اور دشوار لمحات میں اپے شوہر کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہوئے راہ حق میں آنے والی مشکلات اور مصائب میں اس کی مدد کرے؟ نہیں! ہرگز نہیں! صرف خدیجہ ہی ایسی خاتون تھی اور کوئی دوسری خاتون آپ کی طرح نہیں ہو سکتی مگر یہ وہ آپ کے ہم مرتبہ ہو» (2)

کائنات کی بہترین خواتین

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے کبھی بھی آپ کو فراموش نہیں کیا اور آنحضرت آپ کے اخلاق اور صفات کو یاد فرماتے تھے اور جو لوگ ان سے آشنا اور ان کے دوست تھے؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان پع لطف و احسان فرماتے تھے۔

«عائشه» سے روایت ہوئی ہے کہ: «رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم اس وقت تک گھر سے باہر نہ جاتے جب تک جناب خديجه سلام اللہ علیہا کو یاد نہ کر لیتے اور نیکی و اچھائی سے آپ کی مدح و ثناء فرماتے۔

ایک دن مجھے اس بات پر حسد ہوا اور میں نے کہا: وہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھی اور خدا نے آپ کو ان کے بدلے بہتر عطا کیا ہے۔

پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم اس قددر غضبناك ہوئے کہ آپ کے سر کے سامنے کے بال غصہ سے ہل رہے تھے اور پھر آپ نے فرمایا: «نہیں! خدا کی قسم! خدا نے مجھے اس سے بہتر کوئی نہیں دیا، وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے، اور تب میری تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کر رہے تھے، اور تب میرے ساتھ اپنا مال (راہ خدا میں) خرچ کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا اور خدا نے ان سے مجھے اولاد عطا کی اور دوسری عورتوں سے محروم فرمایا ».(3)

«انس بن مالك» نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا: «کائنات کی بہترین عورتیں مريم بنتِ عمران ، آسيه بنت مزاحم ، خديجه بنت خُوَيْلِد اور فاطمه بنت محمّد صلّی الله عليه و آله و سلّم ہیں».(4)

«صحيحين» میں عائشه سے روايت ہوئی ہے کہ: «پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی کہ جہان کوئی شور و شرابا اور رنج و زحمت نہیں ہے ».(5)

آج ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے کمالات اور آپ کی بلند صفات کے گوشوں کو دنیا اور بالخصوص خواتین کے لئے بیان کریں۔ نیز اسلام، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور شوہر داری کے لحاظ سے لوگوں کے سامنے آپ کا تعارف نمونۂ عمل کے طور پر کرایا جائے اور ان کے راہ و روش کی پیروی کی جائے۔

 

حوالہ جات:

1. مسار الشیعة شیخ مفید رحمۃ اللہ ۔

2. اهل البيت، توفيق ابو علم، ص 102، ترجمه نقل بہ معنی۔

3. ایضاً۔

4. اسدالغابة، ج 5، ص 437 ـ الاستيعاب، بهامش الاصابة، ج 4، ص 284 و 285۔

5. الاصابة، ج 4، ص 282 ـ اسدالغابة ، ج 5، ص 438 اس کی مانند ایک اور حدیث تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 26، میں ذكر ہوئی ہے ۔

چهارشنبه / 24 خرداد / 1396