بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
چهارشنبه: 22/آذر/1396 (الأربعاء: 24/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
مصائب عاشورا

(مرحوم حضرت آيت ‌اللّه آخوند ملا محمد جواد صافی گلپايگانی ‌(قدس سره) کے بیانات سے اقتباس)

پہلی مصيبت

جب ابو الفضل العباس علیہ السلام کے دونوں بازو قلم ہو گئے اور آپ کی آنکھ میں تیر پیوست ہو گیا ، اور آپ کا بدن مطہر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے زخموں سے اس طرح چھلنی ہو چکا تھا کہ جس طرح شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہو ۔ آپ بچوں کے لئے جو پانی لا رہے تھے وہ زمین پر بہہ گیا : آيِساً مِنَ الحَيَاةِ  وَ قَرِيباً  إِلَى الْمَمَاةِ ، آپ زندگی سے ناامید اور موت کے قریب تھے کہ ایک ملعون لوہے کا گرز لے کر سامنے آیا اور جب اس نے دیکھا کہ عباس کے ہاتھ نہیں ہیں اور اب وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو اس نے نہ خدا و رسول سے شرم کی اور نہ ہی اس مظلوم پر رحم کیا اور وہ گرز اپنی پوری قوت سے آپ کے سر اقدس پر مارا کہ آپ کا مغز  آپ کے شانوں پر گر گیا ۔

چو دشت بلا از غمش تار شد
ور افتاد با سينه چاک‌چاک
 

 

کشيد آه و از زين نگون‌سار شد
به‌ سر باد خاکم، ز زين روي خاک
 

 

 حضرت عباس نے آواز دی : يَا أَخَاه ! أَدْرِكْ أَخَاكَ الْعَبَّاسَ ۔ اے بھائی ! اپنے بھائی عباس کی مدد کو پہنچئے ۔ جب امام ‌حسين علیہ السلام نے اپنے بھائی کی فریاد سنی تو ایک  آہ بلند کی اور جگر سوز فریاد کی : «اَلْآنَ انْکَسَرَ ظَهْرِي وَ انْقَطَعَ رَجَائِي وَ قَلَّتْ حِيلَتِي». وَأَتَی زَيْنَبُ، فَنَادَتْ: «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔ (۱)

’’ اب میری کمر ٹوٹ گئی ، میری امید دم توڑ گئی ، میرا حیلہ اور چارہ جوئی کم ہو گئی ‘‘ ۔ اور جب حضرت زینب کبریٰ نے حضرت عباس کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا : «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔

دوسری مصيبت

آپ سب نے سنا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ عاشورا کے دن (لشکر حسین علیہ السلام میں سے ) چند لوگوں پر پتھر برسائے گئے کہ جن میں سے ایک قاسم بن حسن ہیں کہ جن کے نازک اور پھول سے بدن پر پتھر برسائے گئے اور ان کے جسم کو تیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور کسی نے ان کے بچپن ، بے کسی ، غریب الوطنی ، یتیمی اور ان کی پیاس پر رحم نہ کیا ۔

آه آه ۔ وا اسَفاه ! کتاب بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ حميد‌ بن مسلم کہتا ہے : میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جو چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا اور جس کی نعلین کا ایک بند کھلا ہوا تھا اور اس پر لشکر نے ہر طرف سے بھیڑیوں کی طرح حملہ کر دیا لیکن جب وہ نوجوان حملہ کرتا تو لشکر اس طرح سے بھاگ جاتا کہ جیسے بھیڑیں کسی شجاع شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں ۔ عمر بن سعد ازدی نے کہا : ان لوگوں کے گناہ مجھ پر ہوں  اگر مجھے موقع ملے اور میں اسے قتل نہ کروں ۔ پس اسے موقع ملا اور اس نے پیچھے سے قاسم پر حملہ کیا اور اس طرح قاسم کے سر پر تلوار سے وار کیا کہ قاسم کا سر شگافتہ ہو گیا ۔ لشکر نے قاسم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کے پھول سے نازک بدن کو نیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور جب گھوڑے سے گرے تو فریاد کی : يَا عَمَّاهُ ! أَدْرِکْنِي ۔اے چچا ! میری مدد کو پہنچئے ۔

امام‌ حسين‌ علیه‌السلام ایک غضبناک شیر کی طرح ان کی طرف روانہ  ہوئے ۔ اور جب آپ وہاں پہنچے تو ملعون ؛ قاسم کا سر جدا کرنا چاہتا تھا ۔  آپ نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کا ہاتھ  کاٹ دیا ۔

 اس نے لشکر سے مدد مانگی اور اس کی قوم نے امام حسین علیہ السلام کو گھیر لیا  اور اسی جنگ میں قاسم کا بدن گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال ہو گیا ۔ اور جب لشکر حیدر صفدر کے حملوں سے منتشر ہو گیا تو امام حسین علیہ السلام قاسم کے پاس آئے ، جب کہ قاسم کے جسم میں کچھ رمق باقی تھی ، اور اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے تھے ؛ فَبَکَی الْحَسَيْنُ‌ (علیه‌السلام) وَ قَالَ : «وَاللهِ يَعِزُّ عَلَی عَمِّكَ أَنْ تَدْعُوهُ فَلَا يُجِيبُكَ أَوْ يُجِيبُكَ فَلَا يُعِينُكَ أَوْ يُعِينُكَ فَلَا يُغْنِي عَنْكَ».

 پس حسیں علیہ نے گریہ کیا اور فرمایا : ’’ خدا کی قسم ! تمہارے چچا کے لئے بہت ناگوار ہے کہ تم اسے پکارو ، لیکن وہ تمہیں جواب نہ دے سکے ، یا جواب دے لیکن تمہاری مدد نہ کر سکے ، یا تمہاری ممد کے لئے آئے لیکن وہ تمہیں بے نیاز نہ سکے ‘‘ ۔

تیسری مصيبت

صديقۂ صغریٰ فرماتی ہیں :

لَيَتَ‌ السَّمَاءَ طُبِقَتْ عَلَی الْأَرْضِ

وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدْکَدَکَتْ عَلَی السَّهْلِ   (۲)

 «اے کاش ! آسمان ، زمین پر گر پڑتا  اور اے کاش ! پہاڑ ، دشت کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتے» ۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گرے اور آپ کا بدن مطہر خاک و خون میں غلطاں تھا ۔ عبد الله ‌بن ‌الحسن اپنے چچا کو اس حال میں میں دیکھ کر سخت بے قراری و بے تابی کے عالم میں امام علیہ السلام  کی طرف دوڑے ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «يَا اُخْتَاه ! أَحْبِسِيهِ» ؛ «اے میری بہن ! عبد الله کو روکو کہ وہ اس مصیبت انگیز بیابان میں نہ آئے اور خود کو تیروں اور تلواروں کا ہدف قرار نہ دے» ۔

جناب زينب نے عبد اللہ بن حسن کو پکڑا اور انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن عبد اللہ بن حسن نے بہت اصرار کیا  اور کہا : لَا وَ اللهِ ! لَا أُفَارِقُ عَمِّيِ ۔ خدا کی قسم ! میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔ وہ خود کو جناب زینب سے چھڑا کر امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔

اسی وقت ابن ‌کعب لعنۃ اللہ علیہ نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار سے حملہ کرنا چاہا ، فَقَالَ لَهُ: وَيْلَكَ يَا بْنَ الْخَبِيثَة! أَ تَقْتُلُ عَمِّي؛ عبد الله بن حسن نے کہا : اے زانيه کے بیٹے ! کیا تم میرے چچا کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ (وہ اپنے چچا کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ) انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے چچا کے لئے ڈھال بنایا لیکن اس ملعون نے تلوار سے وار کیا جس سے عبد اللہ بن حسن کے ہاتھ کٹ گئے ۔پس انہوں نے آواز دی : يا عمّاه ! امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے انہیں پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «يَا ابْنَ أَخِي! اِصْبِرْ عَلَی مَا نَزَلَ بِكَ وَاحْتَسِبْ فِي ذَلِكَ الْخَيْر فَإِنَّ‌ اللهَ يَلْحَقُكَ بِآبَائِكَ الصَّالِحِينَ» ۔ (۳)  ’’ اے میرے بھتیجے ! تم پر جو مصیبت بھی آئے اس پر صبر کرو ، اور اس میں خیر ہی سمجھو ، اور بیشک خدا تمہیں تمہارے صالح آباء و اجداد کے ساتھ ملحق فرمائے ‘‘۔

جب عبد اللہ بن حسن ، امام حسین علیہ السلام کی آغوش میں تھے تو حرملہ ملعون نے ایک تیر چلا کہ جس سے عبد اللہ بن حسن کی شہادت واقع ہو گئی ۔

پس آن‌سان ظالمي تيري رها کرد                                 که اندر مقتل شه‌زاده جا کرد

ندانم شاه را چون گشت احوال                                                که اينجا، عقل مات و نطق شد لال

چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

چوتھی مصيبت

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے علی اکبر کو دیکھا کہ جس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے ، جس کا سر شگافتہ ہے ، جس کے ہونٹ خشک ہیں اور جو خاک و خون میں غلطاں ہو کر جان دے رہا ہے تو آپ نے بے ساختہ ایسی فریاد کی کہ دوست اور دشمن سبھی ان کی حالت پر روئے ۔

پس امام حسین علیہ السلام نے خود کو گھوڑے سے گرا دیا ’’وَ وَضَعَ خَدَّهُ عَلَی خَدِّه ‘‘ ، اور اپنا چہرا ان کے چہرے پر رکھ دیا ، اور جب آپ نے بے تابی کے عالم میں اپنے بیٹے کے چہرے پر اپنا چہرا رکھا تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ شمس و قمر کی آپس میں ملاقات ہو رہی ہو ۔

راوی کہتا ہے : کچھ دیر کے بعد ہی امام حسین علیہ السلام نے اپنا چہرا اٹھایا تو علی اکبر کے سر سے خون ان کے چہرے پر جاری ہوا ۔

يقين شد صافي آن‌سان حالت شاه                                                          که اشکش شد بماهي آه بر ماه

پانچویں مصيبت

امام‌ حسين‌ علیه‌ السلام آخری دم تک صابر اور قضاء الٰہی پر راضی تھے اور آنحضرت سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دیا جائے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف راغب نہیں ہو گا اور میں اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

اور شاید آپ نے یہ کلمات اس وقت بیان فرمائے کہ جب آپ صالح بن وہب کے نیزے کی ضرب سے گھوڑے کی زین سے زمین پر آئے ۔

جگر تفتيده با چشمان نمناک
گُهر ريزان ز ديده لعل مي‌سُفت
تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا
 

 

فتاد آن هيکل توحيد بر خاک
به‌ شکر وصل در آن حال مي‌گفت
وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا
 

 

چھٹی مصيبت

جب علی بن الحسین علیہما السلام (علی اکبر علیہ السلام) کا بدن مبارک زخموں کی کثرت اور خون بہہ جانے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تو ایک ملعون کو موقع ملا ، اس نے اپنی تلوار سے آپ کے سر اقدس پر وار کیا کہ جس سے بہت گہرا زخم لگا اور (یہ دیکھ کر )سارا لشکر جری ہو گیا ، لشکر نے چاروں طرف سے حملہ کیا ، اور انہیں تیروں اور تلواروں کا نشانہ بنایا ۔ جب جناب علی اکبر کی طاقت جواب دے گئی تو آپ نے گھوڑے کی گردن میں باہیں ڈالیں اور نیچے کی جانب جھک گئے اور گھوڑے کی لگام چھوڑ دی ، گھوڑ ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور وہ جس سوار کے پاس بھی پہنچتا تھا وہ آپ کے بدن مبارک پر حملہ کر کے زخمی کرتا تھا ۔ فَقَطَّعُوهُ بِسُيُوفِهِمْ إِرْباً إِرْباً ؛ ان کے بدن مطہر کو تلواروں سے پارہ پارہ کر دیا ۔ پس جناب علی اکبر  گھوڑے سے زمین پر آئے تو آواز دی : يَا أَبَتَاه! هَذَا جَدِّي رَسُولُ اللهِ قَد سَقَانِي بِکَأْسِهِ الْأَوْفَى.اے بابا جان ! یہاں مرے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) موجود ہیں کہ جنہوں نے مجھے اپنے جام سے سیراب فرمایا ہے ‘‘

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے کی فریاد سنی تو آپ نے جگر سوز فریاد کی اور فرمایا : «قَتَلَ اللهُ قَوْماً قَتَلُوكَ» ؛ ( ۴)

گفت: اي جان پدر روحي فداک                               باد بر دنيا پس از مرگ تو خاک

ساتویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام ان تمام مصائب ، مشکلات ، تکالیف اور سختیوں (اگر یہ  پہاڑوں پر پڑتیں تو وہ اس کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو جاتے) پر صابر اور قضائے الٰہی پر راضی رہے ۔ بھوک اور پیاس کی شدت کا عالم ، بدن پر بے شمار زخم ، ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے کہ جو آپ کے بدن پر ایک کے بعد ایک زخم لگا رہے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود آپ بار بار خدا کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں : «صَبْراً عَلَی بَلَائِكَ وَ رِضاً بِقَضَائِكَ» ؛ ’’ خدایا ! میں تیری بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر ہوں اور تیری رضا پر راضی ہوں ‘‘  اور آپ خشک زبان  اور سوختہ جگر سے کبھی پانی طلب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :

«وَاعَطَشَاه ! وَاقِلَّةَ نَاصِرَاه ! يَا قَوْمِ !ِ اِسْقُونِي شَرْبَةً مِنَ الْمَاءِ قَبْلَ طُلُوعِ رُوحِي مِنْ جَسَدِي»؛

«اے بے مروت لوگو! اے بے رحم لوگو ! مجھے ایک گھونٹ پانی دے دو ، اس سے پہلے کہ مرے جسم سے میری روح پرواز کر جائے» ۔

به سبط پيمبر خدا را ثوابي                             گذاريد منّت به يک جرعه آبي

شد از تيغ و خنجر دلم پاره‌پاره                        شده زخم‌هايم فزون از ستاره

شما را گر از قتل من نيست چاره                   دهيد آب، رحمي به حال خرابي

بده مهلت اي شمر تا مادر آيد                      رها کن مگر باب من بر سر آيد

ز خيمه به بالين من خواهر آيد                     مکن بي‌مروّت به قتلم شتابي

آٹھویں مصیبت 

امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف نہیں جائے گا اور اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

نمودم ترک مردم را جميعاً در هواي‌ تو                          يتيم‌ و دربه‌در کردم عيال خود براي ‌تو
نمایي پاره‌پاره‌گر مرا اندر ره‌ عشقت                                           دلم هرگز نخواهد رفت سوي ما‌سواي ‌تو 

آه آه! مجھے نہیں معلوم کہ امام حسین علیہ السلام نے کس وقت یہ کلمات بیان فرمائے ؛ کیا اس وقت یہ کلمات بیان فرمائے کہ جب سہ شعبہ تیر آپ کے قلب مبارک پر پیوست ہو گیا اور جس سے ناودان (پرنالہ) کی طرح خون جاری ہو گیا اور آپ نے وہ خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے چہرے اور داڑھی پر مل لیا اور فرمایا : «هَکَذَا أَکُونُ حَتَّی اَلْقَی جَدِّي رَسُولَ اللهِ وَ (أَنَا مَخْضُوبٌ بِدَمی ) و َ أَقُوُلَ قَتَلَنِي فُلَانٌ وَ فُلاَنٌ » ؛ (۵)

خدا کی قسم !میں اسی خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) سے ملاقات کروں گا اور کہوں گا : اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مجھے فلاں فلاں نے قتل کیا ہے ۔

یا آپ نے اس وقت یہ کلمات بیان کئے کہ جب صالح بن وہب  لعنۃ اللہ علیہ نے آپ کے پہلو میں اس طرح سے نیزہ  مارا کہ آپ گھوڑے کی زین سے زمین پر آ گئے ۔

چو پهلو شد ز جنب‌الله پاره                                       ز عين‌الله بر مه شد ستاره

شد اندر ذات حقّ چون باب ممسوس                          فتاد از صدر زين با آه و افسوس

نویں مصیبت

اگر صحرائے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے جسم مطہر زخمی نہ ہوتا ، اور آپ کے سر اقدس کو بدن اطہر سے جدا نہ کیا جاتاتب بھی  آپ کی شہادت کے لئے وہ تیر ہی کافی تھا کہ جو آپ کے دل میں پیوست ہو گیا ۔ جب ابو الحتوف ملعون نے کمان سے ایک تیر چلایا جو آپ کی پیشانی مبارک پر آ کر لگا  اور ایک روایت کے مطابق کہ اس  نے آپ کی پیشانی مبارک پر ایسا پتھر مارا کہ پیشانی شگافتہ ہو گئی ۔

ز کف ، سنگين‌دلي ، سنگي رها کرد                       به پيشاني وجه‌الله جا کرد

چو  پيشاني  وجه ‌الله  بشکست                               به عين‌الله، خون، راه نظر بست

         پر از خون گشت روي شاه اطهر                            چو  در  روز  اُحد  روي  پيمبر

آپ کے چہرے اور داڑھی پر خون جاری ہوا ، اور آپ نے اپنے  چہرۂ اقدس سے خون  صاف کرنے کے لئے دامن سے زرہ ہٹائی اور اپنے پیراہن کو کھینچا تو آپ کا قلب مبارک درخشاں آفتاب کی مانند نمایاں ہوا ؛ فَأَتَاهُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ لَهُ ثَلَاثَةُ شُعَبٍ ؛ (۶) ’’ایک سہ شعبہ زہر آلود تیر آیا ۔

چو دامان کرد بالا، شد نمايان                                    يکي تيري سه‌پَر از شصت بدخواه
چو آن تير از قفايش سر به ‌در کرد                                ندانم رفت چون بر شاه مظلوم
چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     دل پر نور، يعني عرش رحمن
رها گشت و نشست اندر دل شاه                                   دل پاک پيمبر را خبر کرد
دل نازک کجا و تير مسموم                                        بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

دسویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام کے عظیم اور سخت مصائب میں سے ایک آپ کا آخری وداع اور اہلبیت اطہار علیہم السلام سے رخصت ہونا ہے ۔ آپ تصور کریں کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی کیا حالت اور کیا کیفیت رہی ہو گی ، جب وہ یہ جانتے ہیں کہ اس کے اب کبھی حسین کو نہیں دیکھ پائیں گے مگر جب حسین خاک و خون میں غلطاں ہوں گے  اور حسین کا سر نیزے پر بلند ہو گا ۔ اس وقت نہ کوئی یاور و انصار ، نہ کوئی ناصر و مددگار  ہو گا ،  اس وقت سب  بیکس و لاچار اور بے یار و مددگار   ہوں گے  ، اور ایک بیابان ہے ہو گا کہ جس میں سنگدل  اور بے رحم دشمن ہو گا۔ 

قَالَتْ سَکِينَةُ: يَا أَبَتَاه! اِسْتَسْلَمْتَ لِلْمَوْتِ ؛

سکينه نے عرض کیا : اے بابا جان ! کیا آپ موت کی طرف جا رہے ہیں ؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«کَيْفَ لَا يَسْتَسْلِمُ (لِلْمَوْتِ) مَنْ لَا نَاصِرَ لَهُ وَ لَا مُعِينَ» ؛ (۷)

«وہ کیسے موت کی طرف نہ جائے کہ جس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہو؟» ۔

سکینہ نے اپنے سر پر ماتم کرتے ہوئے  نوحہ و گریہ کی بنیاد رکھی ۔

امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے فرمایا :

لَا تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِكَ حَسْرَةً                         مَادَامَ مِنِّي الرُّوحُ فِي جُثْمَانِي

(اے سکینہ جان ! ) اپنے حسرت بھرے آنسؤں سے میرے دل کو مٹ جلاؤ کہ جب میرے جسم میں روح موجود ہے ۔

فَإِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي                          تَأْتِينَهُ يَا خَيْرَةَ النِّسْوَانِ  (۸)

اور جب میں قتل ہو جاؤں تو تم سب سے زیادہ مجھ پر رونے کی مستحق ہو ، اے سب سے بہترین نسواں ۔

حوالہ جات

۱ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص42 ۔

 ۲ ۔ ابن ‌طاووس ، اللہوف ، ص73 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص54 ۔

۳ ۔ طبری ، تاريخ ، ج 4 ، ص344 ؛ مفيد ، الارشاد ، ج2 ، ص110 ؛ ابن ‌نما حلی ، مثیر ‌الاحزان ، ص55 ـ 56 ۔

 ۴ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص44 ؛ بحرانی اصفہانی ، عوالم ‌العلوم ، ص286 ـ 287۔

 ۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص53 ۔

 ۶ ۔ ابن‌ طاووس ، اللہوف ، ص71 ؛ امين عاملی ، اعيان ‌الشيعه ، ج 1، ص 610 ؛ ایضاً ، لواعج ‌الاشجان ، ص187 ۔

۷ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص47 ۔

۸ ۔ ابن ‌شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، ج4 ، ص109ـ 110۔

يكشنبه / 16 مهر / 1396