بسم الله الرحمن الرحیم «إنّا لله و إنّا إلیه راجعون» رحلت آیة الله زاده معظّمِ مرجع عالیقدر مرحوم آیة الله العظمی آقای حاج سید احمد خوانساری قدّس سره حجة الإسلام و المسلمین آقای حاج سید جعفر خوانساری ره صهر مکرّم مرجع عالیقدر مرحوم آیة الله...
سه شنبه: 1397/09/20 - (الثلاثاء:3/ربيع الثاني/1440)

Printer-friendly versionSend by email
مدینه فاضله کا آغاز
۹ ربيع الأول ؛ حضرت امام مہدی عليه السلام کی امامت کے آغاز کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی صاحب کی خصوصی تحریر

بسم الله الرحمن الرحيم

 

۹ ربیع الاوّل ؛ مقدس اور بزرگ ایّام اللہ میں سے ہے ۔ یہ بابرکت اور مبارک دن حضرت ولي الله الاعظم امام مبين و حصن حصين بقية الله في الأرضين موعود انبياء مرسلين ، خاتم الأوصياء المعصومين ، مولانا المنتظر و العدل المشتهر و الإمام الثاني عشر الحجة بن الحسن المهدی ارواح العالمين له الفداء کی ولایت کے ظہور کا آغاز کا دن ہے ۔ اور درحقیقت یہ کہنا چاہئے کہ آج کے دن سے ہجری تاریخ کے دور سے عصر مہدی کی جدید تاریخ کا آغاز ہو رہا ہے ۔

یہ دن اس زمانے کے لئے ایک آغاز ہے کہ جو دنیا کو درپیش ہے اور روئے زمین پر پوری تاریخ انسانی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے اور اس کی خصوصیات انبیاء و مرسلین میں سے کسی کے زمانے میں بھی ظاہر نہیں ہوئی ہیں ۔ وہ زمانہ کہ جس میں زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی اور ہر جگہ امن و امان اور اطمینان و سکون حاکم ہو گا ۔ ہر جگہ کے اربوں انسان ایک ہی حکومت اور ایک ہی قانون کے تحت زندگی بسر کریں گے اور جس میں زمین و آسمان کی برکتیں ظاہر ہوں گی کہ جو ایک بے مثال و بے نظیر زمانہ ہے ۔

مہدوی زمانہ ؛ یعنی تمام نقائص اور فساد کی نفی ، یعنی اس عالمی سماج اور حقیقی مدینۂ فاضلہ کا  انتظار کہ جس کے تمام ارکان و اعضاء اور جس کے منصوبے کے بارے میں خود رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیان فرمایا ہے  اور جو ایک انسان کے اعضائے بدن کی طرح  اپنی ذمہ داری انجام دیں گے ۔

ہر سماج اور معاشرے کی راہ اسی سماج کی طرف جاتی ہے اور انسان کا اس معاشرے تک پہنچنا سنّت الٰہی اور قاعدۂ تخلّف ناپذید ہے ۔ اگر کوئی اس مہدوی سماج کے متحقق ہونے میں حائل ہونا چاہئے تو اس کی ممانعت و مخالفت خود ہی کچل جاتی ہے ۔

یہاں یہ نکتہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اگر موجودہ سماج اور معاشرہ سعادت ، آسائش ، قدرت ، قوّت ، عزت و عدالت کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتا ہے تو جب تک دنیا اس زمانے اور عظیم مہدوی سماج تک نہیں پہنچ جاتی تب تک اسے اسی مہدوی سماج کے اصولوں کو ہی اپنی سیاسی و سماجی اور اقتصادی حیات کی بنیاد قرار دینا چاہئے اور انہیں اصولوں کو معیار سمجھنا چاہئے اور انہیں کے مطابق صلاح و فساد کو پرکھنا چاہئے ۔

اب ہم اس معیار و میزان کے ذریعے ایک چھوٹے سے شہری یا دیہاتی معاشرے کو مہدوی معاشرہ بنا سکتے ہیں ۔ جس شہر یا دیہات میں بھی حق کی رعائت کی جاتی ہو ، حق کی حمایت کی جاتی ہو ، وہاں کے لوگ حق پر عمل پیرا ہوں ، لوگوں کے درمیان اتحاد ، اخوت و یگانگت اور بھائی چارہ ہو ، صحیح تعلیم و تربیت ہو تو وہ ایک مہدوی معاشرہ ہو گا ، چاہے وہ معاشرہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

آج ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا والوں کو مہدوی سماج کی خصوصیات و امتیازات اور خدا کی اس کریم حکومت سے روشناس کروائیں ۔ دنیا کو عدل و انصاف اور مساوات و مواسات  کے لئے تشنہ ہے لہذا ظلم و بربریت ، قتل و غارت ، تباہی و بربادی  اور خونریزی سے تھک جانے والے دنیا کو اس نجات بخش اور مہربان و کریم دن کے لئے تیار کریں اور واحد عادلانہ حکومت کے سلسلے میں وعدۂ الٰہی ہے متحقق ہونے کی امید رکھیں اور اس کے منتظر رہیں  کہ «إنّهم يَرَوْنَهُ بَعيداً وَ نَراهُ قَريباً» اللهم اجعلنا من أنصاره و أعوانه.

سه شنبه / 5 دى / 1396