آیة الله العظمی صافی گلپایگانی: خدمت به مشهد، خدمت به نشر و ترویج معارف نورانی حضرت رضا علیه السلام است./ فضای شهر مقدّس مشهد را جهت بهره‌برداری بیشتر معنوی زائران و مجاوران مهیّا کنید تا مردم توشه های معنوی از این شهر به ارمغان ببرند.  ...
يكشنبه: 1398/04/30 - (الأحد:18/ذو القعدة/1440)
Printer-friendly versionSend by email
شریعت کے احیاگر ؛ سچے امام
حضرت امام صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی تحریر

بسم الله الرحمن الرحيم

قال الله تعالي: ﴿يَا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾

حضرت صادق، امام راستین
پیشوا و مقتدای اهل دین
کرد احیا، شرع جدش مصطفی
داد رونق، رسم و آئین ولا
مکتب فقه و فضیلت باز کرد
دعوت مردم ز نو آغاز کرد

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی بہت ہی باعظمت علمی اور جامع الأطراف شخصیت سے تمام عالم السلام پر حق رکھتے ہیں ۔ آپ نے ہر علمی اور اسلامی شعبے میں کافی و وافی ہدایت و معارف باقی چھوڑے ہیں ۔ الٰہيات، عقائد، توحيد، اخلاق، فقه، احکام، تفسير قرآن اور اسلام کے دوسرے تمام علوم میں حضرت امام صادق علیه السلام کے آثار غیر معمولی درخشندگي و تابندگی کے حامل ہیں کہ جو صرف ہم شیعوں میں ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام میں جلوہ گر ہیں ۔

 چار هزار شاگرد

ابن‌عقده کی ایک کتاب ہے کہ جس میں انہوں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے مختلف علوم میں روایت کرنے والے چار ہزار افراد کے نام ذکر کئے ہیں اور ان کی روایات کو بھی نقل کیا ہے ۔

دوسرے علمی اور سائنسی شعبوں (جیسے آج کے جدید علوم یا کیمیاء اور طبعیات وغیرہ) میں بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے کہ جوغیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے ، مثلاً جابر بن حيان ؛ کہ  جب ان کی کتابوں کا یورپ میں ترجمہ کیا گیا تو آپ کو بابائے کیمیاء کا لقب دیا گیا ۔ علوم کے مختلف شعبوں میں ان کی ہزار یا پانچ سو کتب ہیں ۔ جب کہ آپ  ہمیشہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے تھے ۔ جابر بن حیان ایک ایسی شخصیت تھے کہ جو عجیب و غریب علوم اور علمی معلومات رکھتے تھے ۔ وہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد تھے ۔ دوسرے شعبوں میں بھی آنحضرت کے شاگرد تھے ، مثلاً شعبۂ تشریح ۔ آپ اسی توحید مفضل (کہ جس کا ترجمہ دستیاب ہے ) کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ اس زمانے میں امام صادق علیہ السلام نے لوگوں کو کیسے کیسے علوم سے آشنا کروایا ۔ بہت سے فقہی فروعات میں صرف  حدیث ہے کہ جو حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے ایک روایت ہوئی ہے ۔ آپ کی روایات کے ذریعے سے ہی فقہ اور دین کے احکام ہم تک پہنچے ہیں ۔ نجاشى نے احمد بن عیسی اشعرى سے نقل کیا ہے کہ اس کا بیان ہے :«میں علم حدیث کے حصول کے لئے کوفہ گیا اور وہاں حسن بن على وشا کی خدمت میں پہنچا ۔ میں نے ان سے کہا : مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دے دیں تا کہ میں اس سے تحریر کر سکوں ۔ انہوں نے مجھے وہ کتابیں دے دیں۔

 میں نے  کہا: روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

 فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ! تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ ، لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں گا۔

میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔

حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا اور سب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے  «۔

امام صادق علیہ السلام اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کا تعارف 

مرحوم شيخ صدوق ؒ اور شيخ طوسى ؒ میں سے ہر ایک  نے اپنی سند سے «سدير صيرفى» سے ایک مفصل حدیث روايت كی ہے کہ جس میں حضرت صاحب ‌الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر امام جعفر صادق علیہ السلام کا گریہ و ندبہ بیان ہوا ہے ۔ ہم اختصار کی رعایت کرتے ہوئے اس حدیث شریف کے کچھ جملوں اور اس کے کچھ مضمون کو ذکر کرتے ہیں :

سُدير صيرفى کہتے ہیں : میں مُفضّل بن عمر ، ابو بصير ، ابان بن تغلب کے ساتھ ہمارے آقا و مولا حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی خدمت میں شرفياب ہوا ۔ میں نے دیکھاکہ امام صادق علیہ السلام خاک پر بیٹھے ہوئے تھے ، جب کہ آپ نے اون سے بنا ہوا طوق دار ایک لباس زیب تن کیا ہوا تھا کہ جس کا گریبان نہیں تھا اور آپ ایک ایسے جگر سوختہ شخص کی طرح گریہ کر رہے تھے کہ جس کا بیٹا مر گیا ہو ۔ آپ کے چہرے اور رخسار سے غم و اندوہ کے آثار نمایاں تھے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے :

»سَيِّدِي! غَيْبَتُكَ نَفَتْ رُقَادِي، وَضَيَّقَتْ عَلَيَّ مِهَادِي، وَابْتَزَّتْ مِنِّي رَاحَةَ فُؤَادِي. سَيِّدِي! غَيْبَتُكَ أَوْصَلَتْ مُصَابِي بِفَجَائِعِ الْأَبَدِ، وَفَقْدُ الْوَاحِدِ بَعْدَ الْوَاحِدِ يَفْنِي الْجَمْعَ وَالْعَدَدَ ...»؛

«اے میرے آقا ! آپ کی غيبت (دورى) نے میری نیندیں اڑا دی ہیں اور میری خوابگاہ کو تنگ کر دیا ہے اور میرے دل کا چین اور سکون چھین لیا ہے ۔ اے میرے آقا ! آپ کی غیبت نے میری مصیبت کو دردناک ابدی مصائب سے متصل کر دیا ہے ۔ ایک کے بعد ایک کاکھونا جمع و عدد کو فنا کر دیتا ہے ۔ پس مجھے نہیں لگتا کہ میری آنکھوں سے آنسو خشک ہوں گے  اور میرے سینہ میں آہ و نالہ کم ہو گا  مگر یہ کہ میری آنکھوں کے سامنے اس سے بڑے ، سخت اور دلخراش مصائب مجسم ہو جائیں » ۔

سدير نے کہا : ہماری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا اور اس ہولناک غم و اندوہ اور خطرناک حادثے سے ہمارا دل پارہ پارہ ہو گیا ہے ۔ اور ہمارا یہ گمان ہے کہ آپ کسی دردناک اور ناگوار اتفاق کی وجہ سے اس طرح گریان و سوگوار ہیں  یا آپ کو کسی (دردناک) مصیبت کا سامنا ہے ۔ 

ہم نے عرض کیا : خدا آپ کو نہ رلائے ، اے فرزند خير الورى! آپ کس وجہ سے اس قدر گریہ کر رہے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں ؟ آپ کن حالات کی وجہ سے اس طرح سوگوار ہیں ؟

حضرت نے یوں لمبی آہ بھری کہ آپ کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا : «وای ہو تم پر ! آج صبح میں نے کتاب «جَفر» میں دیکھا اور یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس میں موت  ، بلاؤں ، مصیبتوں اور روز قیامت تک واقع ہونے والے واقعات کا علم درج ہے ۔ خدا نے اسے  محمّد (صلی الله علیه و آله) اور آپ کے بعد والے ائمہ سے مختص کیا ہے ۔ میں نے اپنے غائب کی ولادت ، ان کی غیبت ، ان کے طول عمر ، اس زمانے میں مؤمنین کی مشکلات اور ان کی غیبت  کے طولانی ہونے کی وجہ سے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات پر غور کیا اور یہ کہ ان میں سے اکثر اپنے دین سے پلٹ جائیں گے اور اسلام کو چھوڑ دیں گے ۔ (تا آخر حديث«  ۔

عظیم ترین مکتب اور دانشگاہ 

یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی ؟ اور ان کے لئے وہاں کیسے بلند پایہ علوم و معارف تھے  ؟ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو بارہا فرماتے تھے کہ : «أُذَكِّرُكُمُ‏ اللّهَ‏ فِي أَهْلِ بَيْتِي» يا «لَا تُعَلِّمُوهُمْ‏ فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ» ؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب صرف اپنے خاندان کی محبت میں بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان بزرگ ہستیوں کے درجات و مقامات اور علوم کی وجہ سے تھا ۔

چوتھی صدی ہجری میں ہمارے بزرگ علماء میں سے ابن عياش کی ایک کتاب ہے کہ جس کا نام ’’ مقتضب الأثر في النص علی الائمة الاثنی عشر‘‘ ہے ۔ میں نے پچاس سال سے بھی پہلے اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا کہ جو اچھی کیفیت میں چاپ نہیں ہوا تھا ۔ میں نے اسے دوبارہ چاپ کرنے کا ارادہ کیا ۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ کتاب اس زمانے (چوتھی صدی ہجری) کی ہے ؛ میں نے اس کی تمام دستاویزات اور شواہد کو ملاحظہ کیا اور دوسری کتابوں کو بھی استخراج کیا کہ جنہوں نے اس کتاب کے بعد اس سے روایت کیا تھا ۔ پھر میں نے اس کا مقدمہ لکھا اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کی عظمت کے بارے میں جامعۃ الأزھر کے رئیس عبد اللہ شبراوي کا قول نقل کیا ۔الشيخ عبد الله الشبراوي کی ’’ الاتحاف بحب الاشراف ‘‘ نامی کتاب ہے کہ جو فضائل سادات کے موضوع پر لکھی گئی گئی ہے ۔ وہ اس کتاب میں بعض اہل علم کے اقوال کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : اہلبیت علیہم السلام کے فضائل کے منکر کی مثال اس شخص کی مانند ہے کہ جو سورج کو ڈھانپنا چاہتا ہو ۔ اب تک کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جس نے ان سے سوال کیا ہو اور انہیں   اس کا جواب معلوم نہ ہو ۔

یہاں تک کہ الشیخ عبد اللہ الشبراوی کہتے ہیں : «وقد اشرق نور هذه السلسلة الهاشمية، والبيضة الطاهرة النبوية، والعصابة العلوية، وهم اثناعشر اماماً مناقبهم علية، و صفاتهم سنية، ونفوسهم شريفة ابيه، و أرومتهم كريمة محمدية. ثم ذكر اسمائهم الشريفة عليهم الصلوة والسلام » ۔

ہمیں اہلبیت علیہم السلام اور ان بزرگ ہستیوں سے ہم تک پہنچنے والی ہدایات اور علوم و معارف کی قدر و اہمیت کو جاننا چاہئے اور ہمیں چاہئے کہ ہم یہ علوم و معارف دنیا والوں تک پہنچائیں ؛ جو ان علوم کے لئے تشنہ ہیں تا کہ وہ معرفت کے اس بے نظیر اقیانوس سے بہرہ مند ہو سکیں ۔

سه شنبه / 19 تير / 1397