بسم الله الرحمن الرحیم الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام علي خير خلقه حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمّد و آله الطّاهرين سيّما بقية الله في الأرضين قال الله الحکيم: «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ...
چهارشنبه: 22/آذر/1396 (الأربعاء: 24/ربيع الأول/1439)

Printer-friendly versionSend by email
غدير؛ بعثت کا تسلسل
دہہ مبارک ولایت کی مناسب سے حضرت آيت‌الله العظمی صافی کے سلسلہ وار نوشتہ جات/ 1

  

قال ‌الله تبارک و تعالي: "يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ‌الله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ" (1)

روز بعثت اور غدير؛ اسلام کی تأسيس اور بقاء

عید سعید غدیر کا عظیم اور تاریخی دن ، بعثت جیسے باعظمت دن کی طرح اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک بے نظیر دن ہے ۔ یہ دونوں دن ایک دوسرے سے مکمل وابستگی رکھتے ہیں ۔ بعثت ؛ جاودانی و عالمی اسلام اور انقلاب الٰہی کی بیناداور  اصل و اساس ہے ۔ نیز غدیر کا دن اسلام کے اکمال اور اسے تداوام بخشنے کا دن ہے۔

غدير اپنے وجود میں بعثت کی فرع ہے اور بقاء کے لحاظ سے بعثت ؛ غدیر کا مقصد ہے ۔ بعثت ؛ وحی کے آغاز ، اسلام کے ہمہ جانبہ نظام کی ترویج ، اسلامی حکومت کی تشکیل اور رسول اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قیادت میں خدا کی حاکمیت کا دن ہے  ۔ اور غدیر کا دن دین کو کامل کرنے ، امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام ، آپ کے بیٹوں (امام حسن اور امام حسین علیہما السلام) اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی رہبری و قیادت میں عصر نبوت کے استمرار و تسلسل کے اعلان کا دن ہے ۔

یہ دو یکساں دن ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے والی معنوی وابستگی رکھتے ہیں ۔ اگر اسلام کو ایک عمارت سے تشبیہ دی جائے تو توحید اس کی بنیاد ، امامت اس کی چار دیواری اور بعثت اس کی چھت ہے ۔ پس ان دونوں دنوں میں سے کوئی ایک دن بھی کسی دوسرے سے بے نیاز نہیں ہے۔ ان دونوں دنوں میں سے ایک اسلام کی تأسیس اور دوسرا  اسلام کی بقاء کا دن ہے ، نہ تو اسلام سے حکومت اور نظام غدیر کو نکالا جا سکتا ہے اور نہ نظام غدیر سے اسلام کو نکالا جا سکتا ہے ۔

غدير؛ انبیاء الٰہی کے نظام کا تسلسل

غدیر میں جلوہ گر ہونے والا عام نظام ایک ایسا نظام ہے کہ جو ہمیشہ سے جاری و ساری ہے اور جو ہرگز منقطع نہیں ہو گا اور زمین کبھی بھی اس نطام کے صاحب ، سربراہ اور رہبر سے خالی نہیں رہے گی ۔ جیسا کہ اميرالمؤمنين علي عليه ‌السّلام نے ایک روایت میں بیان فرمایا ہے کہ جسے عامہ و خاصہ ( یعنی اہلسنت اور شیعہ) نے روایت کیا ہے : " اللَّهُمَ‏ بَلَي‏ لَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ قَائِمٍ للهِ بِحُجَّةٍ إِمَّا ظَاهِراً مَشْهُوراً وَ إِمَّا خَائِفاً مَغْمُوراً"(2)

نظام امامت کی پیروی ؛ سب کی ذمہ داری

سچے مسلمان ہمیشہ سے اس نظام امامت و ولایت کی پیروی کرتے آئے ہیں اور اب بھی وہ اس نظام امامت و ولایت کے تابع ہیں ۔ لیکن اگر ظاہری طور پر وہ کسی دوسرے نظام کے تابع ہوں ، یا دوسرے ممالک میں ان کے نظام کی رعائت کرنے پر مجبور ہو تو اسی حال میں اسی جگہ بھی انہیں نظام ولایت کے تابع ہونا چاہئے اور غیر مسلم نظام کی رعائت کرتے ہوئے انہیں نظام امامت پر عمل پیرا ہونا چاہے اور اس (نظام الٰہی)سے خارج نہیں ہونا چاہئے ۔

غدیر کی تجلیل و تکریم لازم ہے

یہ امر واضح ہے کہ غدیر ؛ اس نظام کے تشکیل پانے کے اعلان و ابلاغ کا دن ہے کہ جس نظام میں حاکمیت الٰہی کی ہویّت و واقعیت نے ظہور پایا اور یہ دن ایّام اللہ ہے ۔ لہذا ہر سال اس  دن کی تجلیل و تکریم کرنی چاہئے اور اس دن کی مناسبت سے تمام دنیا والوں اور بالخصوص مسلمانوں تک اس دن کا پیغام اور درس پہنچانا چاہئے ۔ غدیر ؛ ایسا دن کہ جس میں دن کمال تک پہنچا اور اس امت پر خداوند متعال کی نعمتیں تمام ہوئیں ، یہ دن بہت باعظمت دن ہے ۔

اس دن کی یاد ہمیشہ دل میں زندہ رہنی چاہئے کہ جو دین کے سیاسی نظام ، فکری ، علمی ، معنوی اور سیاسی رہبری و قیادت کے اعلان کا دن ہے اور جو امام ، حجۃ اللہ ، ولی اللہ اور خلیفہ اللہ کے تعارف کا دن ہے ۔ معاشرے کو اس دن کی تجلیل و تکریم کا عہد کرنا چاہئے اور آشکار طور پر اس کی پیروی کرنی چاہئے ۔

ہر مناسب موقع اور بالخصوص ماہ ذی الحجہ میں اس نظام کے مختلف پہلؤوں ، اس کی شرائط ، اس کے رہبروں کی شخصیت اور اسلام میں حکومت کی خصوصیات کو بیان کرنے کے لئے خطابات ، کانفرنس اور سمینار وغیرہ کا انعقاد کرنا چاہئے اور کتابوں کی تألیفات اور تحقیقات کے ذریعہ ان کا تجزیہ و تحلیل کرنا چاہئے ۔ 

غدیر کا پیغام درحقیقت پیام ولایت اور پیام اکمال دین ہے اور یہ دن اسلام کے عالمی و جاودانی نظام کے اعلان اور عصر رسالت کے نظام کے تسلسل اور بقاء کے بیان کا دن ہے ۔ اس پیغام کا مضمون اور محتوی واحد اسلامی و عالمی حکومت کا وجود ہے کہ جو کسی انقطاع کے بغیر تمام ادوار اور تمام زمانوں میں قائم تھی ۔ اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس نظام امامت کی پیروی کرے ؛ چاہے وہ کہیں بھی کسی بھی جگہ ہو ۔ اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ خود پر اس نظام کی پیروی کو لازم سمجھے ۔

سچے مسلمان چودہ سو سال سے بھی زائد عرصے میں اس نظام کی پیروی کرتے رہے ہیں اور اب بھی اس نظام کی پیروی کر رہے ہیں ، حتی انہوں نے بنی امیہ ، بنی عباس اور دوسرے سلاطین کی حکومت میں اس نظام ولایت کی پیروی کی ۔ اگرچہ یہ پیروی کسی جبری طاقت کے ذریعے ان پر مسلط نہیں کی گئی بلکہ اس نظام امامت کے سلسلہ میں کئے گئے عہد وپیمان ، امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی بیعت ( جو ہر زمانے میں ان پر لازم ہے) کی وفاداری کرتے ہوئے اس نظام کی پیروی کرتے ہیں۔ دور حاضر میں شمس آسمان ولایت حضرت بقیۃ اللہ ارواح العالمین لتراب مقدمہ الفداء پردۂ غیب میں ہیں لہذا اس زمانے میں باعمل علماء اور عادل فقہاء کی پیروی و تبعیت کی جاتی ہے کہ جو خلیفۂ یزدان و رہبر دوران امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے نوّاب عام ہیں اور جو ظاہری طور پر نظام امامت کے عہدیدار اور دین کے محافظ ہیں اور جو بدعت ایجاد کرنے والوں کی بدعتوں اور ملحدیں کے شبہات کو ردّ کرتے ہیں۔

 

 

حوالہ جات:

۱ ۔  سورهٔ مائده ، ‌آيه 67 ۔  (اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ) ۔

2 ۔ نهج البلاغة صبحي صالح ، حكمت 147 ۔ (خداوندا ، جی ہاں! زمین کبھی بھی قیام کرنے والی خدا کی حجت سے خالی نہیں رہتی ، چاہے وہ قائم ظاہر و آشکار اور مشہور ہو ، یا خائف و پنہان ہو ) ۔

چهارشنبه / 29 شهريور / 1396