السَّلامُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةَ الْهُدَى السَّلامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ التَّقْوَى السَّلامُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الْحُجَجُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا ...   مجلس عزاداری سالروز تخریب حرم ائمه بقیع (ع). با حضور علماء، فضلا، هیئات مذهبی و...
يكشنبه: 1397/04/3 - (الأحد:10/شوال/1439)

Printer-friendly versionSend by email
مریم دوراں : حضرت فاطمه معصومه علیہا السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی کے بیانات

بسم الله الرحمن الرحیم

 

 

ای دختر دین و خواهر ایمان

ای مهر سپهر دانش و عرفان

 

ای اسوه شرم و عفّت و عصمت

الگوی وقار و حشمتِ نسوان

 

بر اوج شرف، مثالی از زهرا

در قدس مقام، مریم دوران

 

جی ہاں ! یہ  کریمۂ اہلبیت  دختر امام موسی بن جعفر علیہم السلام حضرت فاطمۂ معصومہ سلام اللہ علیہا کا تذکرہ ہے ۔ یہ وہ بی بی ہے کہ جو ایمان ، عبادت ، بندگی خدا ، زہد ، دنیا سے بے اعتنائی ، اسلام میں عورتوں کو تاکید کی جانے والی کرامت کی حفاظت کرنے ، حیاء و عفت کی رعائت کرنے اورعورتوں کے لئے سورۂ احزاب میں بیان ہونے والی تمام برجستہ صفات ( کہ جن میں انہیں مردوں کی طرح افتخار کا باعث شمار کیا گیا ہے) میں اسوہ و نمونہ ہیں ۔

حضرت فاطمۂ معصومہ علیہا السلام کی ان تمام خصوصیات اور موقف میں سے ایک خاص موقف وہ تھا کہ جب آپ نے اپنے بزرگوار بھائی حضرت امام رضا علیہ الصلاۃ و السلام سے ملاقات کے لئے سفر کیا ۔ آپ کے اس موقف کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا یہ موقف اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں کے ظلم کو فاش کرنے اور تشیع کے ناب معارف کی ترویج کے لئے بہت اہم تھا ۔

اس سفر کے دوران حضرت فاطمۂ معصومہ سلام اللہ علیہا اور پیروان اہلبیت علیہم السلام کے ذریعے بہت سے ناب معارف اور قرآن و عترت کے حیات بخش احکامات و دستورات کی ترویج ہوئی  اور دشمنان دین کا ظلم و ستم عیاں ہو گیا ۔ البتہ کریمۂ اہلبیت حضرت فاطمۂ معصومہ علیہا السلام کے وجود کی برکات صرف آپ کے زمانۂ حیات تک ہی مختص نہیں تھیں بلکہ آپ کی حیات (اور ظاہری زندگی) کے بعد بھی آپ کا روضۂ مطہر اور حرم مبارک قرآن و اہلبیت علیہم السلام کے علوم و معارف تشیع کی تبلیغ و ترویج کے مرکز میں تبدیل ہو گیا جیسا کہ ان اشعار میں عرض کیا ہے :

قم بارگاه حضرت معصومه عشّ آل

کز علم و از حديث در آن يادگارهاست

 

هم موطن صحابه و خاصان شيعيان

مردان پاک طينت و دانش مدارهاست

 

 جی ہاں ! قم صحابہ اور اہلبیت علیہم السلام کے شیعوں کے خواص کا وطن تھا ۔ لیکن حضرت فاطمۂ معصومہ سلام اللہ علیہا السلام کے بابرکت وجود اور آپ کی نورانیت میں اس کی اہمیت میں کئی سو گناہ اضافہ ہو گیا اور آپ کا بابرکت روضۂ مطہر فقہاء و بزرگان دین کے لئے ملجاء اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے تمام شیفتگان کے لئے امن کی جگہ بن گیا ۔ اور آج بھی قم سے علم و فقاہت اور اخلاق دنیا تک منتقل ہو رہا ہے ۔ یہ سب قم میں موجود کریم بی بی حضرت فاطمۂ معصومہ سلام اللہ علیہا کے منور و مطہر روضۂ مبارک کے وجود کی برکات کا ثمر  ہے ۔

 اس عظیم نعمت کی قدر او ہمیت کو جاننا چاہئے اور اس نعمت کے سلسلہ میں قدر شناس ہونا چاہئے ۔ اور یہ قدر دانی اس وقت تک انجام نہیں پا سکتی جب تک ہم خدا کی اطاعت ، عفت ، حجات اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی دوسری خصوصیات و امتیازات میں کریمۂ اہلبیت علیہم السلام کو اپنے لئے نمونۂ عمل اور اسوہ قرار نہ دیں ۔ آج تمام محبان و شیفتگان اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ اور اہداف کو زندہ رکھیں اور بالخصوص خواتین کی یہ ذمہ داری  ہے کہ وہ خدا کی بندگی ، حیاء و عفت ، حجاب اور اپنے وقت کے امام کی مکمل پیروی کرنے میں حضرت فاطمۂ معصومہ علیہا السلام کو اپنے لئے نمونۂ عمل اور اسوہ قرار دیں اور خود کو سورۂ احزاب میں مسلمان خواتیں کے لئے بیان ہونے والی صفات سے مزیّن کریں ۔

شنبه / 16 دى / 1396