پیام ‌مرجع عالیقدر شیعه حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف به دوازدهمین اجلاس سالانه غدیر-مشهد مقدس، ۱۴۴۰ ه.ق بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله الذی هدانا لهذا و ما کنّا لنهتدی لولا أن هدانا الله  الحمد لله الذی جعلنا من...
شنبه: 1398/06/2 - (السبت:22/ذو الحجة/1440)
Printer-friendly versionSend by email
حضرت فاطمۂ زهرا علیہا السلام کی عصمت

 س. شیعہ عصمت کو صرف فاطمہ (علیہا السلام) سے ہی کیوں مخصوص سمجھتے ہیں اور آپ کی دوسری دو بہنوں یعنی حضرت رقیہ اور ام کلثوم کو مقام عصمت کی حامل نہیں سمجھتے ، حالانکہ یہ دونوں بھی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی بیٹیاں اور آپ کے جسم کا ٹکڑا ہیں ؟

ج. شيعه کبھی بھی کسی کو اپنے طرف سے عصمت نہیں دیتے بلکہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کو خداوند متعال کی طرف سے عصمت عطا کی گئی ہے ۔

اس بارے میں آپ آيهٔ مباہله۱، آيهٔ تطهير۲ اور دیگر تمام آیات و روایات پڑھیں ۔

نیزحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی حضرت رقيّه اور حضرت امّ كلثوم کے بارے میں یہ نہیں فرمایا :

«بَضْعَةٌ مِنِّی‏» .۳

آپ اس سوال کے بارے میں خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ کیوں عصمت کو صرف فاطمہ علیہا السلام سے ہی مختص کیا ؟

تم لوگ اس طرح کی گستاخانہ باتیں کرتے ہو اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصوص کو نظر انداز کر دیتے ہو کہ جیسے کوئی غیر مسلم یہ سوالات پوچھ رہا ہو !

نیز کیا یہ دونوں بیبیاں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ربیبہ تھیں یا آنحضرت کی بیٹیاں ؟!۴ آپ پر لازم ہے کہ اس بارے میں جاننے کے لئے مسلمین کی کتابوں کی طرف رجوع فرمائیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ سورۂ آل عمران ، آیت : 61

۲ ۔ سورۂ احزاب ، آیت : 33

۳۔ صحیح بخاری ، ج 4، ص 210 ؛‌ «میرے جسم کا ٹکڑا ہیں ».

۴ ۔ ابن‌اثير جزري، اسد‌الغابه، ج5، ص613؛ صفدى، الوافي بالوفيات، ج24، ص271 – 272؛ ابن‌حجر عسقلاني، الإصابه، ج8، ص461 – 462.

يكشنبه / 21 بهمن / 1397