بسمه تعالى در پى واقعه تاسف بار سيل در نقاط مختلف كشور ، حضرت ايت الله العظمى صافى مد ظله العالى ضمن اظهار همدردى باحادثه ديدگان عزيز ، اجازه فرمودند كه مومنين محترم مجاز به پرداخت از ثلث سهم مبارك امام عليه السلام به سيلزدگان تمامى مناطق،  ...
چهارشنبه: 1398/02/4 - (الأربعاء:18/شعبان/1440)

Printer-friendly versionSend by email
اسلامی_ایرانی تمدن و ثقافت میں علّامہ حلّی کا مقام و مرتبہ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے لئے حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ الوارف کا پیغام

 

بسم الله الرحمن الرحیم

خداوند حکیم اپنی کتاب کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ’’ يَرْفَعِ اللّه الَّذِينَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ‘‘

اور حضرت امام  جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہیں : ’’ الرَّاوِيةُ لِحَديثِنا يَشُدُّ بِه قُلُوبَ شِيعَتِنا أفضَلُ مِن ألف عَابد ‘‘

السلام عليکم  و رحمة الله و برکاته

ہم عتبہ مقدسہ حسینیہ علیہ الصلاۃ و السلام کے محترم مسؤلین ، مرکز علامہ حلی قدس سرّہ  اور اس عظیم کانفرنس کو منعقد کرنے والے دیگر مراکز اور اداروں کے اراکین اور اس جلسہ کو  اپنی شرکت سے مزیّن کرنے والی بزرگ شخصیات کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہیں ۔ اور ہم مکتب تشیع کے عظیم افتخارات ، مشاہير رُواة احاديث اور حاملان علوم قرآن و عترت میں سے ایک برجستہ شخصیت کے بارے میں اس سیمینار کے انعقاد کو سراہتے ہیں ۔

عالم انسانیت کی برجستہ شخصیات کی قدر کرنا ، ان کی سیرت کو یاد کرنا اور انہیں اسوہ قرار دینا قرآنی سیرت اور وحیانی دستور ہے ۔ ہدایت و وعظ کرنے والی دین کی بزرگ شخصیات اور انسانیت کے خادموں کے ناموں کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہر کسی کو ہمیشہ ان سے درس حاصل کرنا چاہئے اور ا ن کے مکتب تربیت میں سیکھنا چاہئے ۔

علم و ارشاد اور ہدایت کے عالمی مکتب کے بزرگوں میں سے ایک بزرگ عالم و زعیم علامہ حلی اعلی اللہ مقامہ الشریف ہیں کہ جو فخر شیعہ ، مجسمۂ اخلاق اور ائمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین کے سچے پیروکاروں میں سے ہیں ۔

علامہ حلی علیہ الرحمہ فکر بشری کے بزرگ نوابغ میں سے ہیں ۔ آپ علم معقول و منقول میں بلند پایہ اور کم نظیر ہیں ۔ تذكرة الفقهاء ، منتهی المطلب فی تحقیق المذهب ، کشف المقال فی معرفه الرجال ، كشف المراد ، نهج الحق ، الدرّ النضيد ؛ منهاج الكرامة ، ايضاح المقاصد اور طريحى سے نقل ہونے والی دوسری کتابیں کہ انہوں نے خود علامہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی پانچ سو کتابیں دیکھی ہیں ۔ یہ سب اس بزرگ دانشور اور فخر شیعہ کے پاک و  پاکیزہ اور نورانی افکار کی ایک شعاع ہے ۔

علامہ حلی علیہ الرحمہ  کی صرف کتاب «الفین» مولی المتّقین امیر المؤمنین علی علیه السلام کی امامت کے ہزار دلائل پر مشتمل ہے اور یہ ہزار دلائل شبہات کے ردّ میں وافی کافی ہیں اور یہ   کتاب شیعوں کے امتیازات و افتخارات میں سے ہے کہ جس  کی طرف دانشور حضرات (ہمیشہ سے ) رجوع کرتے ہیں ۔

اور دوسری طرف سے سنہ آٹھ ہجری میں الجایتو کے حکم پر سلطانی نامی ایک موبائل مدرسہ یا حوزہ کی بنیاد رکھی گئی اور یہ مدرسہ ہمیشہ سلطان محمد خدا بندہ کے لشکر کے ساتھ  ہوتا تھا اور خیموں میں کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا تھا ۔ ان کے ذریعہ دانشور اور بزرگان شيخ نظام ‏الدين عبدالملك ، نور الدين تسترى ، عضد الدين آوجى اور سيدبرهان الدين عبدى جیسے علماء سے استفادہ کرتے تھے ، جب کہ  علامہ حلی علیہ الرحمہ ان مدارس کی نظارت و قیادت انجام دے رہے تھے ۔

جی ہاں ! حق بات تو یہ ہے کہ : «علّامه حلّی ؛ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے بزرگ معجزات میں سے ہیں ۔

آخر میں ہم علامہ حلّی علیہ الرحمہ کے علمی مقام کے بارے میں دانشوروں کی بیان کی گئی توصیفات کو نقل کرنے پر ہی اکتفاء کرتے ہیں ۔ «اور حق کی بناء پر یہی کہنا چاہئے کہ : ائمه معصومين عليهم السلام کے بعد شیعوں میں ان جیسا کوئی عالم نہیں آیا ...
علّامه حلّی کو فقه میں سيّد مرتضى اور شيخ طوسى ، حكمت میں خواجه نصير الدين طوسى اور رياضى میں آپ کے ہم پلہ ابوريحان البيرونى سے قیاس کرنا چاہئے ۔ عقلی تحقیق اور تنبّہ میں ارسطو اور ہر فنّ میں آپ اس فنّ کے بزرگ ترین فرد کے برابر ہیں ۔ پس بیشک آپ شیعہ اور اہل سنت میں سے اسلام کے بزرگ ترین عالم ہیں ۔ اگرچہ آپ کو فقہ پر عبور حاصل تھا لیکن کسی بھی فنّ میں آپ کی مہارت فقہ سے کم نہیں تھی ، آپ عرب کا افتخار اور امت اسلام کا شرف ہیں ۔

میں علامہ حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تجلیل کے عنوان سے منعقد کئے گئے اس سیمینار کو لازم اور بہت مفید سمجھتا ہوں ۔ میں یہ سیمنار منعقد کرنے والے حضرات ، علماء کرام ، حجج اسلام اور علامہ حلّی علیہ الرحمہ کو مزید پہچنوانے کے لئے اس سیمنار کے مصنفین کا شکر گذار ہوں کہ جنہوں نے اپنی کاوشوں سے اس سیمینار کے انعقاد میں تعاون کیا ۔

ان شاء اللہ تعالیٰ ہم سب ولایت و امامت کے عظیم مکتب کے حقیقی پیروکاروں میں قرار پائیں اور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص عنایات ہمارے شامل حال ہوں اور ہم امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی رضائیت کا باعث بنیں ۔ والسّلام عليكم و رحمةالله و بركاته‏

۴ جمادی الثانی ۱۴۴۰ ہجری

لطف الله صافی

 

 

 

موضوع:

شنبه / 11 اسفند / 1397