در پی شرکت علّامه دکتر  سیدمصطفی محقق‌داماد در همایش تغییرات اقلیمی در واتیکان، حضرت آیت الله العظمی صافی دامت برکاته، از ایشان تقدیر و تشکر نمودند.   معظم له با ارسال پیامی شفاهی، خطاب به ایشان فرمودند: اوّلاً از شرکت جنابعالی در این...
شنبه: 1400/07/24 - (السبت:9/ربيع الأول/1443)

Printer-friendly versionSend by email
نویں بین الاقوامی حضرت امام سجاد علیہ السلام کانفرنس میں عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کا پیغام ۔ (ہرمزگان ، محرم الحرام سنہ ۱۴۴۱ ہجری)

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمدلله ربّ العالمين و الصّلوة و السلام علي أشرف الأنبياء و المرسلين حبيب إله العالمين أبي‌القاسم محمد و آله الطاهرين سيّما بقية الله في الأرضين عجّل الله تعالی فرجه الشریف

ہم آستان ملائک پاسبان حضرت امام زین العابدین علیہ الصلاۃ و السلام سے توسل اور تعظیم و تکریم کے عنوان سے منقعد ہونے والی اس ملکوتی و ولائی کانفرنس میں شرکت کرنے والے اہل بیت نبوت علیہم السلام کے شیعوں  اور محبوں کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں ۔ اور خداوند متعال کی  بارگاہ میں سب کے لئے برکات اور فیوضاتِ الٰہیہ کے نزول  کی دعا کرتے ہیں ۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام مکام اخلاق ، فضائل حمیدہ ، ملکوتی صفات اور مقامات کی عظمت کے لحاظ سے تمام امت کے لئے موردِ ستائش ہیں ۔ سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام  علم ، معرفت ، ایمان ، عبادت اور تمام کمالات میں مشہور و معروف تھے ۔

عرب کا مشہور ادیب اور سخنور ’’جاحظ ‘‘ نے  کچھ اس طرح سے امام زین العابدین علیہ السلام کی توصیف کی ہے کہ : ’’ امَّا علىُّ بن الحسين بن علىّ فلم أرَ الخارجىَّ فى أمره إلّا كالشيعىِّ و لم أرَ الشّيعىَّ إلّا كالمعتزلىِّ و لم أرَ المعتزلىَّ إلّا كالعامىِّ و لم أر العامىَّ إلّا كالخاصىِّ و لم أجد أحداً يَتمارى فى تَفضيلِه و يَشُكّ فى تقديمه ‘‘

جی ہاں ! سب لوگ حضرت امام علی بن الحسین علیہما السلام کے مقامِ والا و ارفع کے معترف ہیں  اور ایسا کوئی شخص نہیں ہے کہ جسے آپ کی فضیلت یا آپ کے مقدم  ہونے میں کوئی شک و شبہ یا تردید ہو ۔ حضرت امام سجاد علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کے معجزات میں سے ایک گرانقدر اور بے نظیر و بے مثال کتاب ’’ صحیفۂ سجادیہ ‘‘ ہے ؛ ایک ایسی کتاب کہ جو توحیدی مطالب ، معرفتی حقائق ، اخلاقی موضوعات اور اعلٰی انسانی مکارم سے لبریز ہے  کہ جس میں انسانوں کو خالق کائنات سے گفتگو کرنے ، بندگی کے اظہار  اور بارگاہ ربوبیت میں خضوع و خشوع کا طریقہ و سلیقہ سکھایا گیا ہے ۔ خالق کائنات اور اس لامتنائی دنیا کے خالق کے سامنے انسان کو انتہائی حقیر دکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر کے افق کو رشد و کمال کے اعلیٰ ترین مراتب  تک پہنچایا گیا ہے  ۔

حضرت زين العابدين و سيّد الساجدين علي ابن الحسين عليه أفضل صلوات المصلين اس میدان میں یگانہ ہیں اور عالم اسلام ایسی کتاب کی وجہ سے سب دنیا والوں پر افتخار کرتا ہے ۔

آج انسانیت نے مادی علوم کے لحاظ سے بہت ترقی کی ہے اور انسان روز بروز علم و دانش کے بلند قلعوں کو فتح کر رہا ہے ، لیکن اس دوران ایک حقیقت گم ہو چکی ہے اور اس سے غفلت برتی جا رہی ہے اور وہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے بغیر زندگی فضول (اور بے مقصد)  ہو جاتی ہے اور جس کے بغیر  انسان  حیرت و سرگرادنی کی دلدل میں پھنس جاتا  ہے ۔

اور وہ حقیقت دنیا کی حقیقی شناخت ، مافوق طبیعت دنیا اور غیب کی معرفت ہے ،  انسانوں کو پاکیزہ فطرت اسی کی جستجو کر رہی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ اپنی جان و مال اور جاہ و قدرت کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

کون یہ گمشدہ حقیت دکھا سکتا ہے ؟ کیا ان کے علاوہ کوئی اور زندگی کا جاودانی کمال دکھا سکتا ہے کہ جو عالمِ غیب سے ارتباط رکھتے ہوں اور جو دنیا کی حقیقت کو پہچانتے ہوں ؟!

اور جب انسان اس عظیم شناخت و معرفت سے لبریز کتاب کے روبرو ہوتا ہے تو اسے اپنے پورے وجود سے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ جس نے اس عزیز امام کے وسیلے سے ایسے اعلیٰ معارف دنیا والوں کی دسترس میں قرار دیئے ہیں ۔

اور آخر میں ہم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہم سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی عظیم شخصیت اور کتاب شریف صحیفۂ سجادیہ کے بارے میں بیان کرنا چاہئیں تو ہم بہت حقیقر ہیں اور ہم خداوند متعال کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں امام سجاد علیہ السلام کے نورانی معارف اور اس عظیم آسمانی گنج و خزانے سے آشنا فرمائے ، تا کہ ہم ان کی کچھ تعلیمات کو اپنی زندگی اور اپنے آج کے سماج میں اسوہ و نمونہ قرار دے سکیں ۔

میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام حاضرین کرام اور اس کا انعقاد کرنے والے محترم حضرات کا شکر گذار ہوں اور خداوند متعال سے دعاگو ہوں کہ حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص عنایات و توجہات ان کے شامل حال ہوں ۔ و السلام عليکم و رحمة الله و برکاتہ ۔

لطف الله صافی

23 محرّم الحرام ، سنہ 1441

 

موضوع:

چهارشنبه / 3 مهر / 1398