حجة الاسلام والمسلمین آقای رمضانی دبیر کل مجمع جهانی اهل البیت علیهم السلام با حضور در بیت مرجع عالیقدر حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله الوارف با ایشان دیدار کرد. در ابتدا، ایشان گزارشی از فعالیت های گذشته و برنامه‌های آتی این مجمع...
سه شنبه: 1400/09/9 - (الثلاثاء:24/ربيع الثاني/1443)

Printer-friendly versionSend by email
به مناسبت عید بزرگ 17 ربیع الأول؛
پیغمبر رحمت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور امام صادق علیہ السلام کی عظمت
۱۷ ربیع الاول  کی عظیم عید کی مناسبت سے آیت اللہ صافی گلپایگانی دام ظلہ العالی کے بیانات سے اقتباس

 

بسم الله الرحمن الرحیم

پیغمبر گرامی اسلام ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صفات و خصوصیات کے بارے میں کئی کتابیں اور بہت زیادہ آثار لکھے گئے ہیں ۔

*  مصنفین اور شعراء کے کلام میں

مسلمانوں میں سے شیعوں اور سنیوں کے ساتھ ساتھ مستشرقین اور اسی طرح عرب و عجم کے شعراء نے بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثناء میں بہت کچھ لکھا اور کہا ہے ، اور سب نے اس بزرگ ہستی کی توصیف میں اپنی عاجزی کا اعتراف کیا ہے ۔

عجم کے شعراء میں سے جنہوں نے آپ کی مدح و ثناء میں اشعار کہے ہیں ، ان میں سے ایک سروش اصفہانی ہیں جنہیں شمس الشعراء کا لقب بھی  دیا گیا ہے ، وہ اپنے شعری دیوان میں کہتے ہیں :

امروز فسرد آذر برزين * كردند براق مَحْمِدَت را زين

امروز بهشتيان به استبرق * بستند بهشت عدل را آذين

امروز بُوَد فرشتگان را سور * اهريمن، سوگوار و اندوهگين

امروز شكست صفّه كسري * و آمد به جهان يكي درست آيين

امروز به گلْستان دين بشكفت * شمشاد و گل و بنفشه و نسرين

سالار پيامبران ابوالقاسم * آن كرده خطاب، ايزدش: ياسين

چون شعله كشد جحيم آتش را * حبّ وي و آل وي دهد تسكين

عرب کے شعراء نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثنا اور آپ کے فضائل و مناقب میں بہت سے اشعار کہے ہیں ، مثال کے طور پر عرب کے شاعر احمد الشوقی اپنے اشعار میں کہتے ہیں :

وُلِدَ الهُدى فَالكَائِناتٌ ضِياء*وَ فَمُ الزَّمانِ تَبَسُّمٌ وَ ثَناء

الرُّوحُ وَالملأ المَلائكُ حَولَه *لِلدِّينِ وَالدُّنيا بِه بُشرَاء

وَالعَرشُ يَزهُو وَالحَظيرةُ تَزدَهي *وَ المُنتَهى وَالسِّدرَة العَصمَاء

یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں :

بِكَ بَشَّرَ اللهُ السَّماءَ فَزُيِّنَت *وَ تَضَوَّعَت مِسكاً بِكَ الغَبراءُ

يَــومٌ يَتيهُ عَلَى الزَّمانِ صَبــاحُهُ *وَ مَسَاؤُهُ بِمُحمَّدٍ وَضَّاء(1)

یہ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثنا اور توصیف میں لکھے گئے اشعار کا ایک نمونہ ہے ۔

* قرآن کی نگاہ میں

ہم جو کچھ بھی کہیں اور دوسرے جس چیز کا بھی اعتراف کر لیں ، لیکن پھر بھی قرآن سب سے بالاتر ہے :

«لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ.»(2)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کے  بارے میں بالکل کچھ کہا نہیں جا سکتا ، انسان حیرت زدہ اور مبہوت ہو جاتا ہے ، اور جو لوگ بہت بلند و بالا ہیں ، وہ بھی مبہوت ہو جاتے ہیں ۔

*  امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلام میں

امير المؤمنين عليه الصلاة و السلام جیسی شخصیت کو پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توصیف کرنی چاہئے ۔ اگر آپ آنحضرت کی توصیف دیکھنا چاہتے ہیں تو نہج البلاغہ میں امیر المؤمنین علیہ الصلاۃ و السلام کا وہ خطبۂ شریفہ ملاحظہ فرمایں ، جس میں آپ فرماتے ہیں :

«إِنَّ اللهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّداً نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ وَ أَمِيناً عَلَى‏ التَّنْزِيلِ‏ وَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَ حَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ الْأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ الْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَة»(3)

يا نہج البلاغہ میں ہی ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں : «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ وَ أَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ وَ مَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ وَ نَصَحَ لِلْخَلْقِ‏ وَ هَدَى إِلَى‏ الرُّشْدِ وَ أَمَرَ بِالْقَصْدِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّم‏.»(4)

نیز یہ کہ امير المؤمنين علي بن ابي طالب عليہما الصلاة و السلام اپنے مشہور خطبهٔ قاصعه (5) میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایک معجزہ نقل کرتے ہیں ، جس کے بارے میں ایک مؤرخ لکھتا ہے : مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ معجزہ واقع ہوا ہے ، کیونکہ اس زمانے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہم عصر افراد  زندہ تھے ، اور امیر المؤمنین علیہ السلام نے انہی لوگوں کے درمیان یہ خطبہ دیا ، اور وہ سب لوگ جانتے تھے کہ یہ امر واقع ہوا ہے ۔

امیر المؤمنین علی علیہ السلام اس خطبہ میں فرماتے ہیں : «لَقَدْ كُنْتُ مَعَهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ. فَقَالُوا لَهُ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ قَدِ ادَّعَيْتَ‏ عَظِيماً لَمْ يَدَّعِهِ آبَاؤُكَ وَ لَا أَحَدٌ مِنْ بَيْتِكَ وَ نَحْنُ نَسْأَلُكَ أَمْراً إِنْ أَنْتَ أَجَبْتَنَا إِلَيْهِ وَ أَرَيْتَنَاهُ عَلِمْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَ رَسُولٌ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ عَلِمْنَا أَنَّكَ سَاحِرٌ كَذَّابٌ»

امير المؤمنين علي عليه السلام فرماتے ہیں : میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھا کہ قریش کا ایک گروہ آیا اور انہوں نے کہا : اے محمد ! تم نے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے کہ تمہارے آباء و اجداد میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا ۔ ہم اتم سے معجزے کا تقاضا کرتے ہیں ، اگر ہمیں معجزہ دکھا دو گے تو ہم سمجھ جائیں گے کہ تم پیغمبر ہو ، ورنہ ہم سمجھ جائیں گے تم ساحر ، جادوگر اور جھوٹے ہو ۔

«فَقَالَ: وَ مَا تَسْأَلُونَ؟ قَالُوا: تَدْعُو لَنَا هَذِهِ الشَّجَرةَ حَتَّى تَنْقَلِعَ بِعُرُوقِهَا وَ تَقِفَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ. فَإِنْ فَعَلَ اللهُ لَكُمْ ذَلِكَ أَ تُؤْمِنُونَ وَ تَشْهَدُونَ بِالْحَقِّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنِّي سَأُرِيكُمْ مَا تَطْلُبُونَ وَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكُمْ لَا تَفِيئُونَ إِلَى خَيْرٍ وَ إِنَّ فِيكُمْ مَنْ يُطْرَحُ فِي الْقَلِيبِ وَ مَنْ يُحَزِّبُ الْأَحْزَابَ. ثُمَّ  قَالَ: يَا  أَيَّتُهَا  الشَّجَرَةُ  إِنْ كُنْتِ تُؤْمِنِينَ بِاللهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تَعْلَمِينَ  أَنِّي رَسُولُ الله فَانْقَلِعِي بِعُرُوقِكِ حَتَّى تَقِفِي بَيْنَ يَدَيَّ بِإِذْنِ اللهِ»

فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا : یہاں جو درخت موجود ہے اسے بلاؤ تا کہ وہ تمہارے قریب آ جائے ۔ آنحضرت ن ے فرمایا : اگر خداوند تمہیں یہ امر دکھا دے تو کیا تم ایمان لے آؤں گے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ...

آپ  نے درخت کی طرف رخ کیا اور فرمایا : اگر تم مجھے جاتے ہو تو آ جاؤ ۔

«فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَانْقَلَعَتْ‏ بِعُرُوقِهَا وَ جَاءَتْ وَ لَهَا دَوِيٌّ شَدِيدٌ وَ قَصْفٌ كَقَصْفِ أَجْنِحَةِ الطَّيْرِ حَتَّى وَقَفَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ مُرَفْرِفَةً وَ أَلْقَتْ بِغُصْنِهَا الْأَعْلَى عَلَى رَسُولِ اللهِ وَ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا عَلَى مَنْكِبِي وَ كُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ. فَلَمَّا نَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى ذَلِكَ قَالُوا: عُلُوّاً وَ اسْتِكْبَاراً فَمُرْهَا فَلْيَأْتِكَ نِصْفُهَا وَ يَبْقَى نِصْفُهَا.

فَأَمَرَهَا بِذَلِكَ. فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ نِصْفُهَا كَأَعْجَبِ إِقْبَالٍ وَ أَشَدِّهِ دَوِيّاً فَكَادَتْ تَلْتَفُّ بِرَسُولِ اللهِ. فَقَالُوا: كُفْراً وَ عُتُوّاً. فَمُرْ هَذَا النِّصْفَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى نِصْفِهِ كَمَا كَانَ. فَأَمَرَهُ  فَرَجَعَ»

امير المؤمنين عليه السلام فرماتے ہیں : وہ درخت آنحضرت کی طرف آیا ، جب کہ وہ بہت کچھ کہہ رہا تھا ، وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے کھڑا ہوا گیا ...

قريش حیرت زدہ اور مبہوت ہو گئے ۔ انہوں نے کہا اب اسے حکم دو کہ وہ اپنی جگہ واپس چلا جائے اور اس میں سے آدھا درخت آپ  کے پاس آئے ۔

پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے حکم دیا تو وہ درخت واپس چلا گیا اور اس میں سے آدھا درخت آپ کے پاس آ گیا ۔

«فَقُلْتُ: أَنَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِنِّي أَوَّلُ مُؤْمِنٍ بِكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ أَوَّلُ مَنْ أَقَرَّ بِأَنَّ الشَّجَرَةَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ بِأَمْرِ اللهِ تَعَالَى تَصْدِيقاً بِنُبُوَّتِكَ وَ إِجْلَالًا لِكَلِمَتِكَ»

جب یہ معجزہ رونما ہوا تو اس وقت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : میں وہ سب سے پہلا شخص ہوں جو آپ پر ایمان لایا ہے ۔

*  مستشرقین اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت :

المختصر یہ کہ اگر ہم ہر دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کے  مختلف پہلوؤں کو بیان کریں تو پھر بھی وہ  تمام نہیں ہو سکتے ، یہاں تک کہ بیگانوں اور مستشرقین نے بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمت کے سامنے اپنی عاجزی کا اعتراف کیا ہے ۔

 توماس کارلایل نے  اپنی کتاب «الأبطال» (جس کا ترجمہ ’’قہرمانان‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے ) ہر صنف اور ہر شعبے کے  قہرمان (یعنی ہر صنف کے برجستہ افراد)  اور اس شعبے میں کامیاب ہونے والوں کا تذکرہ کیا ہے ، مثلاً  البطل في صورة القائد ، البطل في صوره الشاعر ۔ ایک مقام پر انہوں نے لکھا ہے : «البَطَلُ في صُورَةِ النَّبي» پیغمبروں کا قهرمان ۔ وہاں انہوں نے نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا ہے اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور نہ ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بیان کیا ہے ، بلکہ وہ کہتے ہیں : نبوت و رسالے قہرمان ’’محمد‘‘ ہیں ۔

* امام صادق علیه السلام کی شخصیت

حضرت امام صادق علیہ السلام کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے امت اسلام کے لئے ایک ایسا  مدرسہ قائم کیا  کہ جس  کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ  اگر وہ  نہ ہوتا تو دین ناقص ہو جاتا ۔  اصول و فروع کے بارے میں جو کچھ بھی ضروری تھا ، آپ نے بیان فرمایا  ۔ ابو حنیفہ کہتے ہیں :  «مَا رَأيتُ أفقهَ مِن جَعفَرِ بنِ مُحَمَّد؛ میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا ۔ »(6)

یا ابن عقدہ (متوفی سنہ ۳۳۳ ہجری ) جو معتبر محدثین میں سے ہیں اور جنہیں مسلمانوں میں سے شیعہ اور اہل سنت قبول کرتے ہیں ، نے«أسماء الرِّجال الّذين رووا عن الصادق عليه السلام»  نامی اپنی کتاب  میں ان چار ہزار افراد کے نام نقل کئے ہیں جنہوں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل کی ہے اور آپ سے علم حاصل کیا ہے ۔ لیکن افسوس ! کہ دوسری بہت سی کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی ناپید ہو چکی ہے  ، جسے اب بزرگان صرف یاد کرتے ہیں ۔ (۷)

یا یہ کہ نجاشی نے اپنی  کتاب ’’رجال ‘‘ میں احمد بن عیسیٰ اشعری سے کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

«قَالَ: خَرَجتُ إلَى الكُوفَةِ فِي طَلَبِ الحَديثِ فَلَقيتُ بِها الحَسنَ بنَ عَلي الوَشّاء فَسَألتُهُ أنَ يَخرُجَ إلي كِتابِ العَلاء بنِ رَزين القلاء وَ أبان بن عُثمان الأحمر فَأخرَجَهُما إليّ فَقُلتُ لَهُ: أحَبُّ أن تُجيزَهُما لِي. فَقَال لِي: يَا رَحِمَك اللهُ وَ ما عَجَلتُك أذهَب فَاكتُبهُما وَ أسمع مِن بعد. فَقُلتُ: لا آمُنُ الحَدثان‏. فَقَال: لَو عَلِمتُ أنَّ هذا الحَديثَ يَكُونُ لَه هذَا الطَّلب لاستَكثَرتُ مِنهُ فَإنّي أدرَكتُ فِي هذَا المَسجِد تِسعمِائة شيخٍ كُلٌّ يَقُولُ حَدَّثَني جَعفَرُ بنُ مُحمَّد ؛ میں علم حدیث کی طلب میں کوفہ گیا ،  اور وہاں حسن بن علی وشا کی خدمت میں پہنچا اور ان سے کہا: مجھے علاء بن رزین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دے دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کروں۔ انہوں نے مجھے وہ دونوں کتابیں دیں۔

میں نے کہا: روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ، تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ اور لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں گا۔

میں نے کہا: میں آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔

حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا اور سب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے۔»(8)

*  اہل بیت علیہم السلام کا اعلیٰ مقام

یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی ؟ اور یہ ہستیاں کیسے کیسے بلند پایہ علوم و معارف کی حامل تھیں ؟ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو بارہا فرماتے تھے کہ : «أُذَكِّرُكُمُ‏ اللهَ‏ فِي أَهْلِ بَيْتِي»(۹)يا «لَا تُعَلِّمُوهُمْ‏ فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ» (۱۰) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب صرف اپنے خاندان کی محبت میں بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان بزرگ ہستیوں کے درجات و مقامات اور علوم کی وجہ سے تھا ۔

چوتھی صدی ہجری میں ہمارے بزرگ علماء میں سے احمد بن عبد العزیز المعروف بہ ابن عياش کی ایک کتاب ہے کہ جس کا نام «مُقتَضَب الأثَر فِي النَّصِّ عَلي الائمَّة الإثنی عَشَر» ہے ۔ میں نے پچاس سال سے بھی پہلے اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا کہ جو اچھی کیفیت میں چاپ نہیں ہوا تھا ۔ میں نے اسے دوبارہ چاپ کرنے کا ارادہ کیا ۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ کتاب اس زمانے (چوتھی صدی ہجری) کی ہے ؛ میں نے اس کی تمام دستاویزات اور شواہد کو ملاحظہ کیا اور دوسری کتابوں کو بھی استخراج کیا کہ جنہوں نے اس کتاب کے بعد اس سے روایت کیا تھا ۔ پھر میں نے اس کا مقدمہ لکھا اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کی عظمت کے بارے میں جامعۃ الأزہر کے رئیس عبد اللہ شبراوي کا قول نقل کیا ۔ الشيخ عبد الله الشبراوي کی «الإتحاف بحبّ الأشراف»نامی کتاب ہے کہ جو فضائل سادات کے موضوع پر لکھی گئی گئی ہے ۔ وہ اس کتاب میں بعض اہل علم کے اقوال کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : « إنَّ آلَ البَيتِ حَازُوا الفَضَائلَ كُلَّها عِلماً وَحِلماً وَ فَصَاحَةً، وَ ذَكاءً وَ بَديهَةً وَ جُوداً وَ شُجَاعَةً. فَعُلُومُهُم لا تَتَوَقَّفُ عَلى تَكرارِ دَرسٍ، وَلا يَزيدُ يَومَهُم فِيها عَلى مَا كَانَ بِالأمسِ. بَل هِيَ مَواهِب مِن مَولاهِم. مَن أنكَرَها وَ أرادَ سَترَها كَانَ كَمَن أرادَ سَترَ وَجهِ الشَّمسِ. فَمَا سَأَلَهُم فِي العُلومِ مُستَفيد وَ وَقفوا وَلا جَرى مَعَهُم في مِضمَار الفَضلِ قَومٌ إلّا عَجَزُوا وَ تَخَلَّفُوا وَ كَم عَايَنُوا فِي الجِلاد و الجِدالِ أمُوراً، فَتَلَقَّوها بِالصَّبرِ الجَميلِ، وَمَا استَكَانُوا و ما ضعفوا تقرّ الشقائق إذا هدرت شقائقهم و تصغي الأسماع إذا قال قائلهم و نطق ناطقهم سجايا خصهم بها خالقهم»

اہلبیت علیہم السلام کے فضائل کے منکر کی مثال اس شخص کی مانند ہے کہ جو سورج کو ڈھکنا چاہتا ہو ۔ اب تک کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جس نے ان سے سوال کیا ہو اور انہیں اس کا جواب معلوم نہ ہو ۔

یہاں تک کہ الشیخ عبد اللہ الشبراوی کہتے ہیں : «وَقَد أشرَقَ نُورُ هذِه السِّلسلةِ الهَاشِميّة، وَالبيضَةُ الطَّاهرة النبوية،و العِصَابة العَلَوية،وَ هُم إثنا عشر اماماً مَناقِبُهم عَلية،وَ صِفاتهم سَنِية،وُ نُفُوسُهم شَريفَة أبيه، و أرومَتُهم كريمة محمّدية. ثم ذكر اسمائهم الشريفة عليهم الصلوة والسلام... »

ہمیں اہلبیت علیہم السلام اور ان بزرگ ہستیوں سے ہم تک پہنچنے والی ہدایات اور علوم و معارف کی قدر و اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور اس کے علاوہ ہمیں یہ علوم و معارف دنیا والوں تک پہنچانیں چاہئیں تا کہ  حقیقت  و معرفت کے تشنہ اس بے نظیر اقیانوس سے بہرہ مند ہو سکیں  ۔ انشاء اللہ ۔

حوالہ جات :

  ۱. یہ شعر کتاب ’’الشوقيات احمد الشوقي‘‘  چاپ دار الشروق مصر ، میں ذکر ہوا ہے ۔

۲ . سورۂ  آل عمران ، آیت : 164.

۳ . نهج البلاغة ، خطبه۲۶.

۴ . ایضاً؛ خطبه۱۹۵.

۵ . ایضاً؛ خطبه۱۹۲.

۶ . طبقات الحفاظ؛ الذهبي، الطبقة الخامسة، ص۱۶۶.

۷ . رجال علامہ حلي؛ دوسری قسم ، چوتھا باب ، احمد بن محمد بن سعيد المعروف به ابن عقدة کے حالات زندگی۔رجال طوسي کے مقدمہ میں اس کتاب کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

۸ . رجال نجاشي؛ شرح حال حسن بن على بن زياد الوشا.

۹ . بحارالانوار؛ج۲۳،باب۷،حديث۱۰.

۱۰ . كافي؛ جلد۱، بَابُ مَا نَصَّ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُولُهُ عَلَى الْأَئِمَّةِ.

شنبه / 1 آبان / 1400