وریز وجوهات
فرمانده نیروی انتظامی جناب آقای سردار اشتری صبح امروز پنج شنبه 3 فروردین 1395 با مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دامت برکاته در بیت معظم له دیدار و گفتگو کردند. در این دیدار معظم له از خدمات پرسنل زحمت کش نیروی انتظامی تقدیر و...
دوشنبه: 7 / 01 / 1396 ( )

پاسخ به استفتاء پیرامون «بازی بیلیارد»
حکم بازی بیلیارد

بسمه تعالي
مرجع بزرگوار حضرت آيت‌ الله العظمی صافی ‌گلپايگانی
با سلام و ادب؛
به استحضار مبارك می‌رساند مي‌خواستم نظر شرع را در مورد حلال يا حرام بودن باشگاه بيليارد بدانم. با تقديم احترام
بسم الله الرحمن الرحیم
علیکم السلام و رحمة الله
اگر عرفاً بيليارد از آلات قمار باشد، خريد و فروش و بازي آن، و تأسيس باشگاه، و شركت در آن حرام است و الله العالم.

موضوع: 
سه شنبه / 5 بهمن / 1395
عاشورا کے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب گفتمان عاشورائی سے اقتباس
عاشورا کے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات

عاشورا کے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات

آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب گفتمان عاشورائی سے اقتباس

 

۱۔عاشورا؛امام حسین علیہ السلام  کا اپنے محبوب سے وصال کا دن تھا؛ پس پھر عزداری کیوں کریں؟

بعض لوگ کہتے ہیں: عاشورا کا دن اہلبیت علیہم السلام کے لئے خوشی و مسرت اور شادمانی کا دن ہے کیونکہ یہ دن امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی کامیابی و کامرانی اور پروردگار متعال سے آپ کے وصال کا دن ہے۔ اس دن عزاداری منانا اور افسوس کرنے کہ وجہ یہ ہے کہ ہم امام حسین علیہ السلام کی عظمت اور مقام سے جاہل ہیں اور یہ دنیا سے ہماری محبت اور وابستگی کا نتیجہ ہے ۔ یہ نظریہ کس حد تک  درست ہے؟

 

أَلسَلامُ عَلَيْكَ يا أَبا عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنِ وَعَلَى الْأَرْواحِ الَّتي حَلَّتْ بفِنائِكَ.

قالَ الرِّضا(علیه السلام) : «إِنَّ يَوْمَ الْحُسَيْنِ أَقْرَحَ جُفُونَنا، وَأَسْبَلَ دُمُوعَنا... أَوَرثَتْنَا الكَرْبَ وَالْبَلاءَ إلی يَوْمِ الْإِنْقِضاءِ، فَعَلی مِثْلِ الْحُسَيْنِ فَلْيَبْكِ الْباكُونَ، فَإِنّ الْبُكاءَ عَلَيْهِ يَحُطُّ الذُّنُوبَ الْعِظامَ».(۱)

 

عاشورا کی عظمت

روز عاشورا؛ انسانی کرامت کی اوج کے ظہور کا دن ہے ۔اس دن معنوی درجات کی عظمت اپنی انتہا تک پہنچ گئی۔ اس دن سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے وجود سے جو جلیل القدر فضائل ( جیسے شرف، ایمان، اعلیٰ مکارم اخلاق ،صبر،استقامت، توکل ، شجاعت اور عزت  ۔۔۔)وجود میں آئے ہم زبان سے ان کی توصیف بیان کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔

 

لو لا صوارمھم و وقع نبالھم

لم یسمع الآذان صوت مبکر

قد غیر الطعن منھم کل جارحۃ

سوی المکارم فی امن من الغیر(۲)

أَشْهَدُ أَنَّهُ(علیه السلام)  بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِي اللهِ حَتَّی اسْتَنْقَذَ عِبادَهُ مِنَ الْجَهالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلالَةِ(۳)

جیسا کہ آپ نے کہا ہے:یہ دن ملائکہ مقربین پر افتخار و مباهات کرنے کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس کی عظمت و ہیبت کائنات کے پہاڑوں،كهكشاؤں اور منظومہ شمشی سے زیادہ وزین ہے ، جس نے عقلاء کی عقل کو مات دی اور حیران کر دیا۔پوری دنیا  اور زمین و آسمان سے زیادہ وسیع اس عظیم روح کے سامنے خاضع ہے لہذا ضروری ہے کہ ہر آگاہ انسان بلکہ سب لوگ اس دن پر افتخار کریں اور اور اس پر فخر محسوس کریں ۔یہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے مقام و عظمت کی وجہ سے ہے اور یہ بے نظیر قیام  مکمل طور پر افتخار  اور عظمت ہے کہ جس کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے جابروں کو شکست دی جا سکتی ہے اور انہیں تسلیم خم کیا جا سکتا ہے۔

سخت اور جانگداز مصائب کا دن

اهل‌بيت علیہم السلام کی جانب سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم کفار کے اس ظلم و بربریت، خدا کے دشمنوں کی ایسی شقاوت ( جس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی)اور سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام پر کئے جانے والے ناقابل برداشت سخت مصائب کی مذمت کریں اور اس واقعہ کے مرتکب افراد سے بیزاری و نفرت کا اظہار کریں۔نیز عاشورا اور دیگر مناسبات کے دوران زیادہ سے زیادہ مجالس عزاء کا انعقاد کریں،نوحہ خوانی،سینہ زنی اور ماتم کریں۔

«اَللهُ أَكْبَرُ مَاذَا الْحَادِثُ الْجَلَلُ»(۴)کہیں اور جس طرح ، عقیلۃ القریش جناب زينب كبريٰ علیہا السلام نے فرمایا:

«لَيْتَ السَّمَاءَ أَطْبَقَتْ عَلَی الْأَرْضِ وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدَكْدَكَتْ، عَلَى السَّهْلِ»(۵)

جس قدر ہو سکے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کے مصائب میں غمگین رہیں اور افسوس کا ظاہر کریں اور جب بھی پانی پیئیں تو امام حسین علیہ السلام پر درود و سلام بھیجیں۔ یہ سنت بھی ہے اور احترام و کریم بھی۔ روز حسین(علیہ السلام) مکتب ہے، مدرسہ ہے، مذہب ہے، انسان ساز  ہے، احیائے دین ہے، ظلم و ستم کو محکوم کرنے  اور حق و اسلام کی حمایت کا دن ہے۔

 

۲۔کیا تبرّی کو تولّی پر فوقیت حاصل ہے؟

یہ مسلم و قطعی ہے کہ تولی و تبری ایک دوسرے کا لازمہ ہیں یعنی ہر مسلمان جس قدر خدا اور اولیاء خدا سے تبرّی اور بیزاری رکھتا ہو اسی قدر تولی و محبت بھی ہونی چاہئے ۔ لعنت، تبری پر مشتمل ہے اور صلوات تولّی پر مشتمل ہے ۔لیکن ان میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہونے کے بارے میں کوئی قطعی ثبوت مشکل ہے۔ تحلیہ پر تخلیہ کے مقدم ہونے کے باب سے یہ کہہ سکتے ہیں تبرّی کامل کے بغیر تولّی کامل حاصل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

(لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ )(۶)

 

۳۔کیا ائمہ اطہار علیہم السلام پر ظلم کرنے والوں پر تقیہ کے ضوابط کی رعائت کرتے ہوئے لعنت کرنا عبادت ہے؟

اگر یہ تقیہ کے برخلاف نہ ہو اور فساد پر مشتمل نہ ہو تو یہ راجح ترین عبادت ہے۔(۷)

 

 

حوالہ جات:

۱۔حضرت امام­­‌رضا علیه السلام  نے فرمایا: «بیشک روز حسين علیه السلام نے ہماری آنکھوں کو زخمی کیا ہے اور ہمارے آنسو جاری کئے ہیں... اور ہمیشہ کے لئے غم و اندوہ کو ہماری میراث قرار دیا ہے. پس امام حسین علیہ السلام پر رونے والوں کا اشک بہانا گناهان كبيره کو ختم کرتا ہے ». صدوق، الامالی، ص190 - 191؛ ابوالفرج اصفهانی، مقاتل­ الطالبیین، ص169؛‌ ابن­شهر‌آشوب، مناقب آل ابی­طالب، ج3، ص238؛ ابن‌طاووس، اقبال‌الاعمال، ج3،‌ ص28.

۲۔ اگران کی آگ برساتی تلواریں اور تیر اندازی نہ ہوتی،کان کبھی صدائے تکبیر نہ سن پاتے، نیزوں کے طعنوں نے ان کے اعضاء و جوارح کو بدل دیا ،صرف ان کے مکارم و اقدار متغیر ہونے سے امان میں رہے۔

۳۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں( حسين علیه السلام) نے راہ خدا میں  اپنا  خون پیش کیا تا  کہ بندگان الٰہی جهالت و سرگرداني  اور گمراهي سے نجات حاصل کریں.

۴۔اللہ اکبر؛یہ کیسا بڑا سانحہ و حادثہ ہے؟

۵۔ ابن ­طاووس،‌ اللهوف، ص73؛ مجلسی، بحارالانوار، ج45، ص54؛ بحرانی اصفهانی، عوالم‌العلوم، ص297. «اے كاش! آسمان زمين پر گر جاتا، اے کاش! پہاڑ صحرا میں تبدیل ہو جاتے(یعنی ریزہ ریزہ ہو جاتے».

۶۔ سورۂ مجادلہ،آیت ۲۲۔’’آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رہی ہے جو اللہ اور اس  کے رسول سے دشمنی کرنے والے ہیں چاہے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرہ و قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں ،اللہ نے صاحبان ایمان ک ے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے‘‘

۷۔ آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب گفتمان عاشورائی سے اقتباس

 

موضوع: 
زکات فطرہ کے احکام

زکات فطرہ کے احکام

- عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی سے آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے ۔کہ جب یہ کہا جائے کہ آج رات اسے کھانا کھلایا گیا،اور اگرچہ وہ شخص اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار نہ ہو۔
- اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی کے بغیر مہمان آئے اور کچھ مدت میزبان کے ہاں رہے تو احتیاط کی بناء پر اس کا فطرہ بھی میزبان و صاحب خانہ پر واجب ہے اور اسی طرح اگر انسان کو کسی کا خرچہ دینے پر مجبور کیاگیا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
- عید الفطر کی رات مغرب کے بعد آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب نہیں ہے ،اگرچہ اسے مغرب سے پہلے دعوت دی گئی ہو اور وہ میزبان و صاحب خانہ کے گھر ہی افطار کرے۔
- اگر کوئی کسی ایک ایسے شخص کو جو اس کے ہاں کھانا کھانے والا شمار کیا جائے ،اسے دوسرے شہر میں نمائندہ و وکیل مقرر کرے کہ اس کے مال(یعنی صاحب خانہ کے مال)سے اپنا فطرہ دے دے اور اسے اطمینان ہو کہ وہ شخص فطرہ دے دے گا تو خود صاحب خانہ پر اس کا فطرہ دینا ضروری نہیں ہے۔

- اگر کوئی عید الفطر کی رات مغرب کے وقت پاگل و دیوانہ  ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔
- اگر مغرب سے پہلے یا مغرب کے قریب بچہ بالغ ہو جائے ،یا پاگل و دیوانہ عاقل ہو جائے ،یا فقیر غنی ہو جائے تو اگر ان میں فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود ہوں تو انہیں زکات فطرہ ادا  کرنی چاہئے۔
- اگر کسی شخص میں عید الفطر کی رات مغرب تک زکات فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود نہ ہوں(یعنی اس پر زکات فطرہ واجب نہ ہو)،لیکن عید الفطر کے دن ظہر سے پہلے تک اس میں زکات فطرہ کے واجب ہونے کی شرائط موجود ہو جائیں تو مستحب ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے۔
- عید الفطر کی رات مغرب کے بعد مسلمان ہونے والے کافر پر فطرہ واجب نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا مسلمان جو شیعہ نہ ہو اور وہ عید کا چاند دیکھنے کے بعد شیعہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے۔
- اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک صاع (تقریباً تین کلو)گندم  یا اس جیسی کوئی جنس ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ فطرہ ادا کرے اور اگر اس کے اہل و عیال بھی ہوں اور وہ ان کا فطرہ بھی دینا چاہتا ہو تو وہ فطرہ کی نیت سے ایک صاع گندم وغیرہ اپنے اہل و عیال میں سے کسی ایک فرد کو دے اور وہ بھی اسی نیت سے دوسرے فرد کو دے دے، یہاں تک کہ وہ خاندان کے آخری فرد تک پہنچ جائے اور بہتر ہے کہ جو چیز آخری فرد کو ملے ،وہ کسی ایسے شخص کو دے کہ جو خود ان لوگوں میں سے نہ ہو۔ اور اگر ان میں کوئی بچہ(نابالغ) ہو  تو اس کا ولی و سرپرست اس کی بجائے فطرہ لے سکتا ہے اور احتیاط یہ ہے جو چیز  بچہ(نابالغ)کے لئے لی جائے وہ کسی دوسرے کو نہ دی جائے۔
- اگر عید الفطر کی رات مغرب کے بعد کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوا  یا کوئی اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار ہو تو ان کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے ؛اگرچہ ان لوگوں کا فطرہ دینا مستحب ہے کہ جو عید الفطر کی رات مغرب کے بعد سے عید کے دن ظہر سے پہلے تک صاحب خانہ کے ہاں کھانا کھانے والے شمار ہوں۔
- اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کھانا کھاتا ہو اور مغرب سے پہلے کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھانے والا بن جائے تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب کہ جس کے ہاں وہ  کھانا کھانے والا بن جائے۔مثلاً اگر عورت مغرب دے پہلے اپنے شوہر کے گھر چلی جائے تو ضروری ہے کہ اس کا شوہر اس کا فطرہ دے۔
- جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو،اس پر اپنا فطرہ خود دینا واجب نہیں ہے۔
- جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو  اور اگر وہ فطرہ نہ دے تو خود اس انسان پر فطرہ واجب نہیں ہو گا۔مگر یہ کہ کوئی غنی کسی فقیر کے ہاں کھانا کھائے تو اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ غنی اپنا فطرہ خود دے۔
- اگر کسی شخص کا فطرہ کسی اور پر واجب ہو لیکن وہ اپنا فطرہ خود دے تو جس شخص پر اس کا فطرہ واجب ہو اس پر اس فطرہ کی ادائیگی کا وجوب ساقط نہیں ہو گا۔
- جس عورت کا شوہر اس کو اخراجات نہ دیتا ہو اور اگر وہ کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھاتی ہو تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب ہے کہ جس کے ہاں وہ کھانا کھاتی ہے اور اگر وہ کسی کے ہاں کھانا نہ کھاتی ہو اور فقیر بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنا فطرہ خود دے۔
- غیر سید کسی سید کو فطرہ نہیں دے سکتا حتی اگر کوئی سید اس کے ہاں کھانا کھاتا ہو تو بھی اس کا فطرہ کسی سید کو نہیں دے سکتا۔
- جو بچہ ماں یا دایہ کا دودھ پیتا ہو ،اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراجات برداشت کرتا ہو لیکن اگر ماں یا دایہ کے اخراجات خود بچہ کے مال سے پورے ہوتے ہوں تو بچہ کا فطرہ کسی پر واجب نہیں ہے۔
- اگرچہ انسان اپنے اہل و عیال کے اخراجات حرام مال سے ادا کرتا ہو لیکن ان کا فطرہ حلال مال سے دینا ضروری ہے۔
- اگر انسان کسی شخص کو أجرت پر رکھے اور اس سے اس کے اخراجات ادا کرنے کی شرط کرے تو اس کا فطرہ دینا بھی واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ شرط کرے کے اس کے کچھ اخراجات ادا کرے مثلاً اس کے کچھ اخراجات کے لئے پیسے دے تو اس کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔
- اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے بعد فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دیا جائے ؛لیکن اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔
- احتیاط واجب کی بناء پر زکات فطرہ فقط شیعہ اثنا عشری فقراء کو دینی چاہئے۔اگرچہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہی کیوں نہ ہوں اور چونکہ دوسرے شہر زکات منتقل کرنا خلاف احتیاط ہے ،اگر اپنے شہر میں شیعہ فقیر نہ ملے تو اپنا مال دوسرے شہر میں منتقل کرے اور وہاں زکات کی نیت سے کسی شیعہ کو دے۔  
- اگر کوئی شیعہ بچہ فقیر ہو تو انسان ولی شرعی کی اجازت سے اس پر فطرہ خرچ کر سکتا ہے ،یا وہ بچہ کو ولی کو دے کر بچہ کی ملکیت میں قرار دے سکتا ہے۔
-جس فقیر کو فطرہ دیا جائے،ضروری نہیں کہ وہ عادل ہو لیکن احتیاط واجب یہ ہے شرابی اور اور سر عام  گناہ و معصیت کرنے والے کو فطرہ نہ دیا جائے۔
- جو شخص فطرہ گناہ و معصیت اور ناجائز کاموں پر صرف کرتا ہو ،اسے فطرہ نہیں دینا چاہئے۔
- احتياط واجب یہ ہے کہ ایک فقیر کو ایک صاع تقريباً تین كلو سے کم فطره نہ دیا جائے. البتہ اگر اس سے زیادہ دیا جائے تو اس میں اشکال نہیں ہے۔
- اگر ایک جنس کی قیمت اسی جنس کی معمولی قسم سے دگنی ہو مثلاً کسی گندم کی قیمت معمولی قسم کی گندم سے دو گنی ہو  تو اگر کوئی شخص اچھی جنس کی گندم میں سے آدھا صاع(جس کی مقدار و معنی گذشتہ مسئلہ میں بیان کی گئی ہے) گندم فطرہ کے عنوان سے دے تو یہ کافی نہیں ہے اور اگر وہ آدھا صاع فطرہ کی قیمت کی نیت سے بھی دے تو کافی نہیں ہے۔
- انسان آدھا صاع ایک جنس(مثلاً گندم) سے  اور آدھا صاع دوسری جنس(مثلاً جو) سے بطور فطرہ نہیں دے سکتا بلکہ اگر یہ آدھا آدھا صاع فطرہ کی قیمت کی نیت سے بھی دے تو کافی نہیں ہے۔
- مستحب ہے کہ انسان زکات فطرہ دینے میں اپنے فقیر رشتہ داروں کو دوسروں پر ترجیح دے اور پھر فقیر ہمسایوں اور پھر اہل علم فقراء کو دوسروں پر ترجیح دے۔لیکن اگر دوسروں کو کسی اور وجہ سے برتری حاصل ہو تو انہیں ترجیح دینا مستحب ہے۔
- اگر انسان یہ خیال کرتے ہوئے کہ ایک شخص فقیر ہے،اسے فطرہ دے اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ فقیر نہیں تھا اور اگر اس نے جو مال فقیر  کو دیا تھا،وہ ختم نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ اسے واپس لے کر کسی مستحق کو دے اور اگر وہ مال ختم ہو گیا ہو اور فطرہ لینے والا یہ جانتا ہو کہ اس نے جو مال لیا ہے وہ فطرہ ہے ،تو ضروری ہے کہ وہ اس مال کا عوض دے اور اگر وہ نہ جانتا ہو کہ اس نے جو مال لیا ہے وہ فطرہ ہے تو اس کا عوض دینا اس پر واجب نہیں ہے اور ضروری ہے کہ انسان فطرے کا عوض دے۔
- اگر کوئی شخص کہے کہ میں فقیر ہوں تو اسے فطرہ نہیں دیا جا سکتا مگر یہ کہ انسان کو اس کے کہنے سے اطمینان حاصل ہو جائے یا انسان کو علم ہو کہ وہ پہلے فقیر تھا۔
- ضروری ہے کہ انسان قصد قربت (یعنی خداوند عالم کے حکم کی بجاآوری) کے لئے فطرہ دے اور اسے دیتے وقت فطرہ کی نیت کرے۔
- اگر کوئی انسان ماہ مبارک رمضان سے پہلے فطرہ دے تو یہ صحیح نہیں ہے لیکن ماہ رمضان کے فطرہ دینے کا جواز بعید نہیں ہے اور اگر ماہ رمضان سے پہلے یا ماہ رمضان کے دوران فقیر کو قرض دے اور جب اس پر فطرہ واجب ہو جائے تو فطرہ کو قرض میں شمار کر لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
- گندم یا فطرہ کے طور پر دی جانے والی کسی بھی دوسری جنس میں مٹی نہ ملی ہو اور اگر اس میں مٹی ملی ہو اور اس کی خالص مقدار ایک صاع یعنی تین کلو تک پہنچ جائے یا ملی ہوئی چیز اس قدر کم ہو کہ جو قابل توجہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
- اگر کوئی شخص معیوب چیز فطرہ کے طورپر دے تو کافی نہیں ہے۔
- جس شخص کو کئی لوگوں کا فطرہ دینا ہو اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ سارا فطرہ ایک ہی جنس سے دے مثلاً اگر بعض چیزوں کا فطرہ گندم اور بعض کا فطرہ جو سے دے تو کافی ہے۔
- عید کی نماز پڑھنے والے شخص کے لئےضروری ہے کہ وہ احتیاط واجب کی بناء پر عید کی نماز سے پہلے فطرہ دے یا  فطرہ کی مقدار جد اکر لے ۔لیکن اگر کسی نے عید نہ نماز نہ پڑھنی ہو  تو وہ عید کے دن ظہر تک فطرہ دینے میں تأخیر کر سکتا ہے۔
- اگر کوئی شخص فطرہ کی نیت سے اپنے مال کی کچھ مقدار علیحدہ کر دے اور عید کے دن ظہر تک مستحق کو نہ دے تو جب بھی وہ مال مستحق کو دے تو فطرہ کی نیت کرے۔
- اگر کوئی شخص فطرہ واجب ہونے کے وقت فطرہ نہ دے اور فطرہ الگ بھی نہ کرے تو اس کے بعد ادا اور قضا کی نیت کے بغیر فطرہ دے۔
- اگر کوئی شخص فطرہ الگ کر دے تو وہ اسے اپنے مصرف میں لا کر دوسرا مال اس فطرہ کے طور پر نہیں دے سکتا۔
- اگر انسان کے پاس کوئی ایسا مال ہو کہ جس کی قیمت فطرہ سے زیادہ ہو اور اگر وہ شخص فطرہ نہ دے اور نیت کرے کہ اس  مال کی کچھ مقدار فطرہ کے لئے ہو گی تو ایسا کرنے میں اشکال ہے۔
- اگر کسی شخص نے فطرہ کے لئے مال الگ کیا ہو لیکن وہ تلف ہو جائے اور اگر وہ شخص فقیر تک پہنچ سکتا تھا اور اس نے فطرہ دینے میں تأخیر کی ہو  تو اس کا عوض دینا ضروری ہے ،اور اگر فقیر تک نہیں پہنچ سکتا تھا تو پھر ضامن اور ذمہ دار نہیں ہے۔
 

- اگر اپنے علاقہ میں ہی مستحق مل جائے تو احتیاط واجب یہ کہ دوسری جگہ فطرہ نہ لے جائے اور اگر دوسری جگہ لے جائے اور تلف ہو جائے تو اس کا عوض دے۔

زکات فطرہ کے متعلق بعض سوالات کے جوابات

س۔زکات فطرہ کس وقت ادا کرنی چاہئے؟کیا کسی خاص فقیر کو فطرہ دینے کی غرض سے زکات فطرہ کی ادائیگی میں تأخیر کر سکتے ہیں؟

ج۔ زکات فطرہ ادا کرنے کا وقت عید فطر کا دن ہے اور کسی خاص فقیر کو فطرہ دینے کی غرض سے زکات فطرہ کی ادائیگی میں تأخیر کر سکتے ہیں۔لیکن فطرہ ادا کرنے میں کوتاہی و غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ نیز منی آڈر یا بینک کے ذریعہ بھی فطرہ فقیر تک پہنچا سکتے ہیں۔

س۔ کیا کسی مسجد یا مدرسہ کی مدد کے لئے انہیں زکات فطرہ دے سکتے ہیں؟

ج۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ زکات فطرہ شیعہ اثنا عشری فقراء کی دی جائے اگرچہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہی کیوں نہ ہوں۔

س۔کیا زکات فطرہ کے پیسوں سے فقیر کے لئے کوئی چیز خرید سکتے ہیں؟

ج۔ جی نہیں! زکات فطرہ کو الگ کر لینے کے بعد اسی صورت میں فقیر کو دی جائے اور اسے کسی دوسری جنس میں تبدیل کرنا صحیح نہیں ہے۔

س۔ پولیس یا فوج کے ان سپاہیوں کا کیا حکم ہے کہ جو عید فطر کی رات اپنے ادارہ میں ہی ہوں،تو اس صورت میں کیا فطرہ خود ان پر یا ان کے باپ پر یا پولیس اور فوج کے ادارے پر واجب ہے؟
ج۔ اس سوال کی بناء پر اگر مالی طور پر ممکن ہو تو خود فطرہ دے۔والله العالم

س۔اگر میزبان کی اجازت سے مہمان اپنا فطرہ خود دے تو کیا  میزبان سے ان کا فطرہ ساقط ہو جائے گا؟
ج. ساقط نہیں ہو گا. والله العالم

س۔کیا زکات فطرہ ماں،باپ،بیٹے یا بیوی وغیرہ(اگر یہ لوگ مستحق ہوں) کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
ج. واجب النفقه افراد کو زکات فطرہ نہیں دے سکتے. والله العالم

س۔امداد کمیٹیوں اور بعض خیراتی اداروں کو زکات فطرہ کس صورت میں دے سکتے ہیں؟
ج.میری نظر میں احتیاط واجب کی بناء پر زکات فطرہ شیعہ اثنی عشری فقراء تک پہنچنی چاہئے اور اگر مکلف امدادی کمیٹیوں یا خیراتی اداروں کو زکات فطرہ دے تو یہ یقین ہونا چاہئے کہ وہ وہ کسی کمی و زیادتی کے بغیر شیعہ اثنی عشری فقراء پر خرچ ہوئی ہے ورنہ وہ بری الذمہ نہیں ہو گا۔پس اگر کسی کو یہ یقین حاصل ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ مثلاً اگر غیر سید زکات فطرہ دے تو اسے یقین ہو کہ یہ غیر سید فقیر پر ہی خرچ ہوئی ہے نہ کہ کسی سید  یا مسجد و مدرسہ یا امام بارگاہ پر۔والله العالم

موضوع: 
یکشنبه / 16 خرداد / 1395
ایک بیٹی کا امام زمانہ(عج) سے خط میں شکوہ کرنا اور مرجع عالیقدر کے خوبصورت جوابات

ایک بیٹی کا امام زمانہ(عج) سے خط میں شکوہ کرنا اور مرجع عالیقدر کے خوبصورت جوابات

میں یہ خط امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی خدمت میں لکھ رہی ہوں اور چونکہ میں نے آنحضرت کو درک نہیں کیا لہذا میں اس کا جواب آپ سے چاہتی ہوں کیونکہ آپ آنحضرت کے نمائندہ ہیں:

میں نہیں جانتی کہ آپ کون ہیں؟شاید ہو سکتا ہے کہ آپ کا وجود بھی نہ ہو،بلکہ صرف ایک وہم و خیال!یا پھر مطلق ناامیدی میں ایک امید کہ جس کی پناہ مانگتی ہوں۔چونکہ اگر مجھے آپ پر یقین ہوتا تو آپ کا میری حقیقی زندگی میں ایک خاص مقام ہوتا۔

اے امام عصر! اے میرے سرور و سردار! تو مجھے اس نفرت سے دور رکھ۔۔۔اب میں مزید پیش قدمی نہیں کر سکتی۔۔۔ میں ہر چیز سے متنفر ہو چکی ہوں۔۔۔۔میں جتنا آگے بڑھتی ہوں میری نفرت میں اسی قدر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔اور زندگی و سماج بھی اس نفرت میں میری حوصلہ افزائی کرتا ہے۔۔۔اے امام عصر!میں اپنی صنف کی وجہ مشکلات سے دچار ہوں۔۔۔میں سرکش و باغی لڑکی ہوں۔۔۔اور جس دین کے ذریعہ میں تجھے پہچانتی ہوں ،وہ مجھے گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔۔۔وہ مجھے سرکشی و بغاوت پر مجبور کرتا ہے۔۔۔میں کسی تعارف کے بغیر یہ سب  کچھ کہہ رہی ہوں؟!میں شرمندہ ہوں لیکن۔۔۔میری نفرت میں اضافہ ہو رہاہے۔اس کی ہر چیز سے ،نہ صرف اس کی بعض چیزوں سے،،،،دوسرے تمام ادیان اور تمام انسانوں کی طرح تیرا دین بھی میری صنف پر ظلم کرتا ہے۔۔۔میری توہین و تحقیر کرتا ہے۔۔۔مجھے دوسرے درجہ کا انسان خیال کرتاہے۔

اے امام عصر !مجھے معاف فرمائیں۔۔۔لیکن میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے لہذا میں آپ کو یہ خط لکھ رہی ہوں۔۔۔میری اس جسارت کو اپنے بےنظیر دامن عفو و کرم اور فہم و بخشش میں جگہ عنائت فرمائیں۔مجھے اس وقت اپنے احساسات پر قابو نہیں ہے۔۔۔میں تنہا رو رہی ہوں اور یہ خط لکھ رہی ہوں اور میں آپ کی پناہ میں آتی ہوں تا کہ مجھے ان جان فرسا سوالوں سے نجات دیں۔میں یہ سوچتی ہوں کہ آپ پیغمبر خداؐ کے فرزند ہیں اور وہ رؤف و بردبار تھے۔

پس میری اس جسارت سےدرگذر فرمائیں چونکہ یہ آپ سے  ایک گناہگار و نادان انسان کی بے پناہ محبت کا نتیجہ ہے۔میں نے ان لوگوں کے بے شمار واقعات پڑھے ہیں جنہوں نے آپ کو درک کیا اور آپ کے ساتھ نشت و برخاست کی۔۔۔اور بارہا میرے دل نے ان کی اس حالت پر رشک کیا۔۔۔چونکہ آُ پ جیسی ہستی کے ساتھ ایک لمحہ کے لئے بھی ہمنیشی ابدی سعادت ہے کہ جس کو یاد کر کے مستقبل کی بھی تمام تلخیوں اور بدبختیوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔

میں ایک مسلمان لڑکی ہوں اور میں نے زندگی میں یہی کوشش کی  ہےکہ گناہان کبیرہ سے دور رہوں اور گناہان صغیرہ کو بھی آہستہ آہستہ ترک کر دوں۔۔۔میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئی کہ جہاں اسلامی احکامات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔لیکن سولہ سال کی عمر میں میں نے یہ ارادہ کیا کہ اوروں کے مقابلہ میں کچھ مختلف رہوں۔۔۔۔تب تک نہ تو میں نماز پڑھتی تھی اور نہ ہی حجاب کرتی تھی اور۔۔۔مگر میں مطیع بن گئی اور میں نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔

کئی سال گذر گئے اور میں چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی امان میں تھی اور میں اپنی جانب خدا کی خاص توجہ محسوس کرتی تھی۔

میں نے نوجوانی کے طوفان کو سلامتی کے ساحل تک پہنچا دیا اور گناہ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔۔۔لیکن بائیس سال کی عمر میں فکری پختگی اور عقلی کمال کے ساتھ آہستہ آہستہ میری قوت تحلیل ہونے لگی۔۔۔اور میرے ذہن میں بے جواب سوالات نے جنم لیئے۔ اور مجھ سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ۔۔۔بہت بڑا گناہ۔

میں آپ سے معافی طلب کرتی ہوں اور اپنے گناہگار چہرے کوخاک پر رکھتی ہوں۔۔۔چونکہ آپ کے دوستوں نے مجھ سے یہ کہا کہ آپ ہر ہفتہ اپنے شیعوں کا نامۂ اعمال پڑھتے ہیں۔۔۔لیکن آپ میرے ان آنسوں کی پروا  نہ کریں اور مجھ سے امید نہ رکھیں۔چونکہ میرے اندر ہمیشہ کے لئے ترک گناہ کا عزم نہیں ہے۔یہ آنسو صرف ایک بیزاری و پشیمانی کی عکاسی کر رہے ہیں۔میرے اندر بھی آپ اہلبیت کے اکثر دوسرے اور تیسرے درجہ کے دوستوں اور محبوں کی طرح گناہ ترک کرنے کی توانائی نہیں ہے۔ اور میں یہ جانتی ہوں کہ آپ کو بھی اپنے حقیقی اور پہلے درجہ کے دوستوں اور محبوں سے امید ہے۔۔۔اور میں آپ کو یہ حق دیتی ہوں کہ آپ ان کا خیال کریں اور انہیں کی جانب توجہ کریں۔۔۔میں جانتی ہوں کہ میرے نامۂ اعمال سے آپ کو صدمہ ہوا ہو گا۔ایک روشن و درخشاں نامہ اعمال کہ جو ایک ہی لمحہ میں سیاہ ہو گیا۔۔۔لیکن آپ میرے سوالوں کا جواب دیں۔شاید میں خود کو قانع کر سکوں اور پھر سے مسلم ایمان کے ساتھ اطمینان سے خدائے متعال کی جانب گامزن ہو جاؤں۔

اے عظیم اور عالم امام!اے وہ ذات کہ جس کے اختیار میں تمام علوم الٰہیہ ہیں۔۔۔ اے بزرگ اور بردبار ذات!مجھ میں خدا کی مصلحت کو سمجھنے کی تواناتی نہیں ہے۔۔۔شک وتردید اور سوالات میرے پیروں میں لغزش پیداکرتے ہیں۔ادرکنی ۔اور اب یہ چند سوال:

۱۔کیوں ہماری اور اہلسنت کی فقہ میں شیر خوار بچی کو باپ کی اجازت سے کسی شخص کے عقد میں دے سکتے ہیں کہ اور وہ اس سے دخول کے علاوہ ہر قسم کی لذت حاصل کر سکتا ہے؟کیا اس بچی کوعمر کے اس حصہ میں روحانی اور نفسانی طور پر ہزار مرتبہ اذیت نہیں ہوتی؟کیا وہ بالغ و عاقل ہونے کے بعد اپنے باپ اور شوہر کو معاف کر سکتی ہے؟کیوں پیدائش سے لے کر موت تک مردوں کو ہی ہم پر سو فیصد تسلط حاصل ہے؟کیا ہم خدا کی دوسرے درجہ کی مخلوق ہیں؟کیوں خدا نے ہمیں اس طرح سے خلق کیا ہے؟میں نہیں چاہتی کہ یہ سب ظلم برداشت کروں۔۔۔میں یہ نہیں چاہتی۔

۲۔کیا مرد اس قدر پاک اور بزرگوار ہیں کہ ایک بچی اس کے ہاتھ سونپ دی جائے اور پھر مطمئن ہو جائیں کہ وہ بلوغ تک اس کی طرف دستدرازی نہیں کرے گا؟نیز فقہ میں ذکر ہوا ہے کہ عمر کے جس حصہ میں بھی دخول کو برداشت کر لے وہ یہ کام کر سکتی ہے۔یعنی لڑکی مردوں کے لئے خلق کی گئی ہے کہ جب بھی وہ یہ برداشت کر سکے ،اسے مکمل عورت خیال کر لیاجائے؟اور اگر وہ حاملہ ہو جائے تو کیا وہ وضع حمل کی توانائی رکھتی ہے؟اور اگر وہ بالغ ہونے کے بعد اس مرد کو پسند نہ کرتی ہو کہ جو اس کی چاہت اور مرضی کے بغیر اس کا شوہر بن گیا تو پھر کیا حکم ہے؟کیا طلاق لے لے؟پھر کس کے ساتھ شادی کرے؟کیا اس کی پسند کا لڑکا اسے چاہے گا؟جب وہ مکمل عورت بن چکی ہے اور بچپن میں ہی جنسی عمل سے اس پر ہزاروں نفسانی ضربیں لگ چکی ہیں ،تو کیا یہ عورت ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار سکتی ہے؟اور کیا یہ خدا کی طرف گامزن ہو سکتی ہے؟ایسے میں اس کی ذمہ داری کیا ہے؟وہ اپنا نفسیاتی تعادل کھو دیتی ہے ،استحصال کا شکار ہو جاتی ہے،تو ان سب کا گناہ کس پر ہے؟کیا ان سیاہ و تاریک دنوں میں تباہ ہو جانے والے زندگی کے لمحات کی تلافی کی جا سکتی ہے؟

۳۔کیوں ایک مرد جب چاہے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے حتی اگر اس کی بیوی طلاق لینے پر راضی نہ بھی ہو؟لیکن عورت طلاق نہیں لے سکتی مگر بہت ہی سخت و دشوار حالات اور شرائط کے ساتھ؟

۴۔اگر شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو  پچہ باپ کے ملکیت ہو جاتا ہے جب کہ نو مہینے تک ماں اسے اپنے شکم میں رکھتی ہے،زچگی کا درد برداشت کرتی ہے،دو سال تک اسے دودھ پلاتی ہے کہ جس سے خود اس کی اپنی ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں،خون کی کمی،رحم  اور مختلف قسم کے سرطان۔۔۔عورت ہی کو ان سب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ اور آخر میں بچہ باپ کی ملکیت ہو جاتا ہے کہ جس نے اس کے لئے بہت کم زحمت کی ہوتی ہے؟کیا یہ صرف اس لئے ہے کہ ماں مالی طور پر مستحکم نہیں ہوتی؟ بہت خوب!مرد کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہ زندگی کے آخر تک بچوں کا خرچہ دے ۔کیا مرد تربیت کرنے کی توانائی نہیں رکھتا؟پس پھر تربیت کی ذمہ داری صرف عورت ہی کی کیوں ہے؟جب کہ باپ کا ان سب میں بہت ناچیز حصہ ہوتا ہے۔

۵۔کیوں عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مرد کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتی اور اسے مکمل طور پر اس کا مطیع ہونا چاہئے ورنہ اس کی تمام عبادتیں باطل ہو جائیں گی اور وہ ملعون ہو گی لیکن مرد بیوی کی رضائیت کے بغیر بھی جو چاہے کر سکتا ہے؟اس عظیم حق کی وجہ سے بہت سے مرد اپنی بیویوں اس سے سوء استفادہ کرتے ہیں ۔

۶۔ کیوں باپ کی وفات کے بعد بچوں کی سرپرستی کا حق دادا یا اس کے چچا کو حاصل ہو گا؟اسے کیسے قبول کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ماں سے زیادہ اس کے بچوں پر حق رکھتا ہو؟

۷۔آپ کے عظیم اور بزرگ جد امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے ایک خطبہ میں عورتوں کو ناقص العقل اور ناقص الایمان کہا ہے،کیا عورتیں حقیقتاً ناقص العقل ہیں؟پھر کس طرح آج کی دنیا میں عورتیں بھی اس مقام تک پہنچ جاتی ہیں جہاں مرد پہنچتے ہیں؟کیا ہم نے یہ چاہا تھا کہ ہماری عقل ناقص ہو،ایمان ناقص ہو،ماہواری کی وجہ سے ہماری نماز ناقص ہو؟کیا یہ خدا کی مشیت نہیں تھی؟مشیت خدا کی وجہ کیوں ہماری تحقیر کی جائے؟اور کیوں خدا نے ہمیں اس طرح سے خلق کیا؟کیا رسول اکرم ؐ کی حدیث کی رو سے جہنم میں مردوں کی بنسبت عورتوں کی تعداد زیادہ ہونے کی یہی وجہ نہیں ہے؟

 ۸۔مردوں کی طرح تمام شرعی ذمہ داریوں کے علاوہ ہمیں شوہر کی اطاعت نامی ایک اور اضافی ذمہ داری کیوں سونپ دی گی؟حتی اگر خدا کے تمام فرامین کی اطاعت کی ہو اور تمام احکامات پر عمل کیا ہو لیکن شوہر کی فرمانبرداری نہ کی ہو تو پھر بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا؟میرے ذہن و وجود میں ہزاروں دوسرے سوال بھی ہیں لیکن اگر آپ انہیں کا جواب دے دیں تو میرے لئے یہی کافی ہے  اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ بقیہ سوالوں سے قطع نظر کروں گی۔ میں زیادہ توقعات رکھنے والی انسان نہیں ہوں۔میں جانتی ہوں کہ مجھ میں یہ لیاقت نہیں ہے کہ میں شخصی طور پر آپ سے سوالات کے جوابات لے سکوں۔لہذا میں آپ کے جس نمائندہ کو یہ خط ارسال کر رہی ہوں،میں ان کی زبان سے آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔ والسّلام علیکم و رحمة الله و برکاته.

 

بسم الله الرحمن الرحیم

میری محترم بہن

میں نے شروع سے آخر تک آپ کا خط پڑھا۔اگرچہ اس کے ابتدائی حصہ میں آپ نے بہت تند اور سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔لیکن اس کی عبارات اور مؤمنانہ خطاب(جو بہٹ سادہ اور با معنی ہے)اور آپ کے وہ جملے جنہیں آپ نے گستاخانہ جملوں سے تعبیر کیا ہے، اور آپ کا صادقانہ معذرت خواہی کرنا کوئی دوسرا حال ہی بیان کرتا ہے۔

اگرچہ حضرت صاحب الأمر امام زمانہ عجّل‌الله تعالی فرجه الشریف اور خداوند متعال سے ہمارے رابطہ کو بہت عزیزدوستوں اوررشتہ داروں سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔لیکن دوستانہ تعلقات بہت گہرے اور پرانے ہو جائیں تو کبھی دوست اپنے دوست سے شکوہ و گلہ بھی کر لیتا ہے اگرچہ خطا اس کی اپنی ہی کیوں نہ ہو اور کبھی اعتراض آمیز لہجہ میں گلہ کرتا ہے لیکن وہ کسی دوسرے سے شکوہ و گلہ نہیں کرتا۔

آپ نے اس غیر مناسب اور آلودہ ماحول میں گناہوں سے پرہیز کیا اور نماز و حجاب کی پابندی کی ۔یقیناً آپ نے جہاد کیا ہے اور آپ کا ثواب میدان جنگ میں کفار سے جہاد کرنے والوں سے کم نہیں ہے۔پھر کن وجوہات کی بنا پر آپ کا راستہ بدل گیا؟!

آپ خود پہلے حصہ میں لکھے گئے اپنے جملے کو پڑھئے اور اس سے نور حاصل کیجیئے۔میں آپ کی اس تحریر کو معتبر اور قیمتی سمجھتا ہوں لیکن شکوہ آمیز جملوں کو معتبر نہیں سمجھتا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس زبان اور لہجہ سے آپ نے اپنی کوتاہی کا اعلان کیا ہے۔

آپ کی تحریر میں توبہ کا انداز کس قدر خوبصورت اور شیرین ہے:’’مجھ سے گناہ کبیرہ سرزد ہو گیا ۔۔۔بہت بڑا گناہ۔میں آپ سے معافی طلب کرتی ہوں اور اپنے گناہگار چہرے کو خاک پر رکھتی ہوں۔۔۔چونکہ آپ کے دوستوں نے مجھ سے یہ کہا کہ آپ ہرہفتہ اپنے شیعوں کا نامۂ اعمال پڑھتے ہیں۔۔۔‘‘

یہ بہت ہی جذّاب،پرکشش،دل نشین اور امید بخش کلمات ہیں جو اہل معرفت کے علاوہ کسی اور کی زبان پر جاری نہیں ہو سکتے۔

دوسرا حصہ اور سوالات کے جوابات:

یہ مسئلہ چھوٹے بچہ پر باپ کی ولایت کے شبہات میں سے ہے؛بچہ چاہے بیٹا ہو یا بیٹی۔یہ اہم مسائل میں سے ہے اور اس کا تعلق صرف عقد نکاح کے مسائل سے نہیں ہے بلکہ بچے کے اموال اور اس کی حفاظت،مصلحت اور تربیت سے بھی وابستہ ہے۔

اختیار مطلق نہیں ہے بلکہ اس کی معتبر شرائط ہیں کہ جن کا محقق اور واقع ہونا بہت ہی نادر ہے۔لیکن قانون میں ان موارد کو پہلے ہی سے مدنظر رکھنا لازم ہے اور اگر یہ نہ ہوں تو قانون کا نقص لازم آتا ہے  اور جس طرح آپ نے تصور کیا ہے یہ سب ولی کے اختیارات سے خارج ہے۔

یہاں آپ نے اس شخص کی طرح بات کی ہے جو عمداً اور خود غرضی کے تحت فقیہ پر اعتراض کرتا ہے   اورآپ نے  ایسی صورت بیان کی ہے کہ جسے صرف فرض کیا جا سکتا ہے اور جس کا صرف تصور ممکن ہے لیکن وہ خارج میں کبھی واقع نہیں ہوا۔کیا آپ ایسا کوئی مورد دکھا سکتی ہیں کہ جس میں باپ نے اس طرح سے اپنے بچوں(چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی) کے ساتھ سلوک کیا ہو۔اپنے رشتہ داروں، جاننے والوں یا کسی اور سے بھی پوچھیں تو کوئی بھی آپ کو ایسا مورد نہیں دکھا سکتا۔البتہ باپ کی اس ولایت کا یہ تقاضا ہے کہ جہاں بھی اولاد کی مصلحت ہو باپ اپنی اس ولایت پر عمل کرے اور مطلق ہونے کی وجہ سے اس قانون کی حدود اس قدر وسیع ہیں کہ اگر اولاد کی مصلحت کا تقاضا ہو تو باپ کسی بھی عقد میں اس پر عمل کر سکتا ہے ۔یہ ولایت بچہ کی مصلحت کی محافظ ہے۔

آپ نے ایک ایسے مورد کی مثال پیش کی ہے کہ جس کی خارج میں کوئی مثال نہیں ہے اور جس میں مفسدہ و فساد پایا جاتا ہے۔مثلاً معمولی قیمت پر مال کرایہ پر دینا، جب کہ  اس کا کوئی وجود خارجی نہیں ہے  اور گویا اولاد پر باپ کی ولایت کے حکم پر حملہ کیا گیا ہے ، حلانکہ اگر بعض شرائط میں اس کی ضرورت پیش آئے تو اس میں مصلحت کے تمام پہلوؤں کی رعایت کی جاتی ہے۔

بچہ کے عقد نکاح کے موارد کا تعلق محرمیت سے مخصوص مسائل سے ہے  کہ جس میں خاندان اور چھوٹے بڑے  کی مصلحت ہے اور وہ بھی عقد موقّت کی صورت میں ہے کہ جس کے بعد مدت بھی بخش دی جاتی ہے۔

آپ نے بچہ پر باپ کی ولایت کے موضوع کو حتی عقد نکاح میں بھی اس طرح سے بیان کیا ہے اور اس طرح سے اس عمل کی تشریح بیان کی ہے کہ جیسے یہ کوئی ایسا عمل ہے جو شہروں اور دیہاتوں کے تمام مسلمانوں میں رائج ہے اورایسی فاسد شرائط کی بناء پر  کمسن بچیوں کا مردوں سے نکاح دائم کر دیا جاتا ہے۔یہ ایسا مورد ہے جو صدیوں  میں بھی کبھی رونما نہیں ہوتا اور ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جسے اس طرح کے موارد کا علم ہو۔

کیا ایسا کوئی بچہ ہے جو آپ کی لکھی گئی صورت حال سے دچار ہو؟ایک بچی پر آنے والے ان تمام برے اثرات(جنہیں آپ نے لکھا ہے) کو ایک بعید فرض سے ہی تصور کیا جا سکتا ہے!اس کی بناءپر آپ یہ کہتی ہیں :کیا مرد اس قدر پاک و پاکیزہ اور بزرگوار ہیں کہ بچی ان کی سپرد کر دی جائے۔۔۔اور اگر وہ حاملہ ہو گئی۔۔۔اور اگر یہ ہو گیا۔۔۔۔

آپ نے یہ سب اس طرح سے لکھا جیسے ہمیشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے بڑی عمر کے مرد کمسن بچیوں پر تصرف کرتے ہیں لیکن آپ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور آپ یہ نہیں دیکھ رہیں کہ آپ کے اپنے خاندان،آپ کے دوستوں کے خاندان اور یہاں یا وہاں ،کہیں بھی ایسے فرض کا سابقہ نہیں ہے۔

آپ ایک سالم و کامل قانون پر اعتراض کر رہی ہیں یا ولادت سے موت تک عورتوں پر مردوں کے سو فیصد تسلط کے بارے میں بات کر رہی ہیں اور سو فیصد حقیقت کا انکار کر رہی ہیں؟

یہ قرآن مجید اور یہ آیات عورت اور مرد کے رابطہ سے متعلق ہیں جن میں ان کے حقوق متقابل کو بیان کیا گیا ہے: «هُنَّ لِبَاسٌ لَكُم وَ أنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ»[۱]  اور سورهٔ  احزاب کی ۳۵ ویں آیت[۲] میں حقیقی و واقعی مقام و ارزش کے لحاظ سے عورت اور مرد کو ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔

اسلام نے عورت کو مرد اور مرد کو عورت کا شریک حیات قرار دیا ہے۔اسلام سے پہلے عورت کوکسی جگہ اور کسی بھی قوم و ملت میں کوئی مناسب انسانی مقام حاصل نہیں تھا۔

اسلام ایسا دین ہے جس نے عورت کو مقام و عزت دی لیکن یہ اسلام پر ظلم ہے کہ خواتین اسلام کے عظیم حقوق نسواں سے لاعلم ہوں   اور انہوں نے قرآن کی ان آیات کو بھی فراموش کر دیا جن میں عورت کو مرد کے ساتھ انسانی قلعہ کا ستون قرار دیا گیا ہے: «مَنْ عَمِلَ صالِحاً مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى‏ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيينَّهُ حَياةً طَيبَةً وَ لَنَجْزِينَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ ما كانُوا يعْمَلُون»[۳] 

اور اب وہ نادانستہ طور پر فقہ اسلامی پر اعتراض کریں اور العیاذ باللہ یہ گمان کریں کہ جس طرح بعض معاشروں اور ممالک میں رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں کو دو   طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے (حالانکہ ان کی شان مساوی و برابر ہے)اسی طرح اسلام میں بھی عورتوں اور مردوں کے سلسلہ میں درجہ بندی ہے۔حالانکہ اسلام میں اس چیز کا کوئی وجود نہیں ہے۔

- طلاق میں مرد کو اختیار ہونے میں بھی کچھ مصلحتیں کارفرما ہیں کہ جس میں پورے خاندان کی مصلحت وابستہ ہے اور اگر اس میں عورت کے لئے زیادہ خیر نہ ہو تو کم بھی نہیں ہے۔

بعض حالات و واقعات میں عورت کے احساسات، مہر و محبت ،غضب و نفرت زیادہ بھڑک جاتی ہے اور اس کے برعکس مرد ایک خاص قوت کا حامل ہوتا ہے کہ اس پر دیر سے ہیجانی کیفیت طاری ہوتی ہے اور وہ اپنے احساسات پر ملسط ہوتا ہے کہ دونوں میں ہر ایک کے لئے کمال ہے۔

عورت کو اس طرح اور مرد کو اس طرح سے ہونا چاہئے ؛کہ فرمایا: «إِنَّ الْمَرْأَةَ رَیحَانَةٌ وَ لَیسَتْ بِقَهْرَمَانَة»[۴]مردوں میں پہلوانی و طاقت زیادہ ہوتی ہے لیکن عورت  میں پھول کی طرح لطافت اور نزاکت پائی جاتی ہے۔

طلاق سے باز رکھنے والی قوت مرد میں زیادہ عمل کرتی ہے ۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ طلاق اور اس جیسے دوسرے مسائل میں بنیاد و اساس ایک ہی ہے یعنی اس کی بنیاد عورت اور مرد کے ازدواج پر رکھی جاتی ہے اور اس کی بنیاد عورت کے مرد سے مختص ہونے پر رکھی جاتی ہے نہ کہ مرد کے عورت سے مختص ہونے کی بنیاد پر ،اور یہ اختصاص ان کی جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر ہے۔

جنسی تعلقات اور تولید نسل میں عورت کو ایک سے زیادہ مردوں کو ضرورت نہیں ہوتی اور اس کی تولید محدود ہے لیکن اس کے برعکس تولید کے اعتبار سے مرد ایک وقت میں زیادہ تولید پر قادر ہوتا ہے۔(ظاہراً تولید نسل ہی ازدواج کی طبیعی و فطری غرض ہے)ازدواج اور نکاح میں عورت ایک ہی مرد سے قابل اختصاص ہوتی ہے اور وہ قرارداد کے مطابق  ایک مرد سے خاص ہو جاتی ہے لیکن مرد ایک عورت سے اختصاص نہیں رکھتا کیونکہ اس کا خاص ہونا نظام تولید کے خلاف ہے ۔اس بناء پر ازدواج میں اس اختصاص کو رفع کرنا عورت کے برعکس مرد کے اختیار میں ہے۔

کلی طور پر خاندان اور ازدواج و شادی کا یہ سب نظام الٰہی و وحیانی اور شرعی ہے کہ جس میں تما م پہلوؤں اور مصلحتوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور جس طرح تمام مؤمن مرد اور عورتیں اس نظام کو تسلیم کرتی ہیں  اور اس  الٰہی نظام کی وجہ سے ان کے  دل میں پریشانی نہیں ہوتی۔

یہ نظام کامل ہے اور زوجین میں تعلقات مکمل طور پر مقدس و پاکیزہ ہیں اور یہ دونوں ایک وجود کی طرح ہوتے ہیں،دونوں ہمیشہ اکٹھے،ایک ساتھ ہوتے ہیں ۔المختصر یہ کہ اسلام میں ازدواج اور شادی کا نظام بہترین نظام ہے جو کہ دنیا و آخرت میں زوجین کے لئے خیر کا ضامن ہے۔

ماں کے عنوان سے عورت کا باپ سے زیادہ احترام کیا جاتا ہے۔«رسول اکرم صلّی‌الله علیه و آله و سلّم سے پوچھا گیا کہ کسے زیادہ اہمیت حاصل ہے یا کس سے زیادہ حُسن سلوک سے پیش آیاجائے؟ آپ نے فرمایا:ماں۔ پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد؟فرمایا:ماں،یہاں تک کہ تین یا چار مرتبہ ماں کہنے کے بعد آپ نے فرمایا:باپ۔»[۵]

فطری ،طبیعی اور تکوینی طور پر عورت حمل، بچہ کی شیر خوری کی مدت اور زوجہ ہونے کی وجہ ائمہ علیہم السلام کے فرامین میں عورت کا بلند مقام اور اس کی اہمیت و احترام  کوواضح و آشکار طور سے بیان کیا گیا ہے، جو مسلمان عورت کے لئے باعث افتخار ہے۔

-کہتے ہیں:کیوں عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مرد کی اجازت کے بغیر کوئی کام انجام دے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ کہاں اور کس نے کہا ہے کہ عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں ہے؟!

عورت بھی مرد کی طرح خودمختار ہے اور وہ بھی دوسروں کی طرح اپنے مال میں جیسے تصرف کرنا چاہے کر سکتی ہے۔ایسا لگتا  ہے جیسے آپ اسلامی سماج میں زندگی بسر نہیں کر رہیں اور آپ نے زوجہ اور شوہر میں عشق و محبت سے بھرپور رشتہ نہیں دیکھا  یا یہ کہ آپ کے خاندان میں اسلامی اخلاق کا ظہور نہیں ہے؟

ہم نے مکرّر بیان کیا ہے کہ اسلامی تربیت کے نتیجہ میں عورت اور مرد ایک وجود اور جسم میں ایک روح کی مانند ہیں۔ان کے درمیان یہ جدال اور یہ توتو میں میں نہیں ہے۔آج دنیا کی منفی تبلیغات نے زوجہ اور شوہر میں جدائی ڈالی ہے اور انہیں ایک دوسرے کے مدمقابل لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے  کوکھا جانے والوں نظروں  سے دیکھتے ہیں۔

- افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بچے پر دادا یا چچا کی ولایت و سرپرستی کے متعلق آپ کے اعتراضات اسلامی احکام سے آپ کی کم علمی کا نتیجہ ہیں۔بچہ کے چچا کو بچہ پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے۔دادا کو ولایت حاصل ہے یعنی دادا بچہ کے امور کی دیکھ بھال کرے گا تا کہ بچہ کا فائدہ اور مصلحت ضائع نہ ہو جائے اور بچہ کی تربیت کسی بڑے بزرگ کے زیر سایہ انجام پائے اور باپ کے فوت ہو جانے کی صورت میں ماں کو ہی حق حضانت حاصل ہے۔

- یہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے منقول خطبہ میں بیان ہوا ہے اور یہ خطبہ عائشہ کی جانب سے ان نامناسب مصائب کی طرف اشارہ ہے کہ جو امت اسلامی پر فتنہ کے در کھلنے اور جنگ جمل و صفین اور اس کے بعد بنی امیہ ان کے جابر ظالم حکمرانوں کے تسلط کا باعث بنا۔یہ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے  خطبہ کا ایک حصہ ہے اور چونکہ اس خطبہ کو مکمل طور پر نقل نہیں کیا جاتا لہذا صرف اس ایک جملہ کو دنیا بھر کی تمام عورتوں پر جاری کر دیاجاتا ہے جب کہ قرآن مجید نے عورتوں اور مردوں کی ایک ساتھ توصیف و تمجید کی ہے۔اب یہ واضح ہے کہ یہ  حکم کلی نہیں ہے اور یہ حکم حضرت فاطمۂ زہراء  اور حضرت مریم علیہما السلام اور ہزاروں لاکھوں دوسری خواتین پر لاگو نہیں ہوتا کہ جن کی فضیلت مردوں کی اکثریت پر ثابت ہے۔

-عورت کا مرد کی اطاعت کرنا اور مرد کے عورت پر خاص حقوق نکاح میں دونوں کی رضامندی سے ثابت ہوتے ہیں،اطاعت خاص ہے اور اگر اطاعت نہ ہو تو ازدواج و نکاح کی بنیاد و اساس کے منافی ہے۔مرد کے کچھ حقوق ہیں اور اس کی مناسبت سے عورت کے بھی مرد پر کچھ حقوق ہیں۔

یہ آپ کے یہ سوالات اور جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ کائنات میں ایسے ہزاروں سوالات ہیں ۔لیکن آپ اپنی سوچ اور فکر کی اصلاح کریں ۔آپ کے ذہن میں جو کچھ ہے وہ اعتراض نہیں بلکہ بدفکری ہے جو کائنات کی صحیح تفسیر اور اس کے مسائل سے لاعلمی کے نتیجہ میں وجود میں آئی ہے۔

آپ کے خط میں کچھ ایسے موارد تھے جو نورفطرت کی بقاء اور خدا و حقیقت کی طرف مائل ہونے پر دلالت کرتے تھے۔سولہ سال کی عمر میں آپ کو حاصل ہونے والی توفیق اتمام حجت تھی،اسی کو خود میں زندہ کرتے ہوئے خدا کی راہ پر گامزن رہیں ،اس کی بندگی کریں اور نیک اعمال بجا لائیں۔

ان شاء اللہ خدا کی توفیق و فضل سے آپ ایسے سوالات سے نجات پائیں کہ جن کا جاننا یا نہ جاننا راہ خدا،دینی واجبات،عبادات،محرّمات سے پرہیز اور خود سازی و تذکیہ نفس کے لئے کوئی  اثر نہیں رکھتا۔

ہمیشہ کامیاب و کامران رہیں۔

 

آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی  کی کتاب "زن در پرتو اسلام" سے اقتباس

 حوالہ جات:


[۱]. «وہ تمہارے لئے پردہ پوش ہیں اور تم ان کے لئے(یعنی دونوں ایک دوسرے کے لئے زینت اور حفاظت کا باعث ہیں)». سوره بقره، آيه ۱۸۷.

[۲]. «إِنَّ الْمُسْلِمينَ وَ الْمُسْلِماتِ وَ الْمُؤْمِنينَ وَ الْمُؤْمِناتِ وَ الْقانِتينَ وَ الْقانِتاتِ وَ الصَّادِقينَ وَ الصَّادِقاتِ وَ الصَّابِرينَ وَ الصَّابِراتِ وَ الْخاشِعينَ وَ الْخاشِعاتِ وَ الْمُتَصَدِّقينَ وَ الْمُتَصَدِّقاتِ وَ الصَّائِمينَ وَ الصَّائِماتِ وَ الْحافِظينَ فُرُوجَهُمْ وَ الْحافِظاتِ وَ الذَّاكِرينَ اللهَ كَثيراً وَ الذَّاكِراتِ أَعَدَّ اللهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَ أَجْراً عَظيماً؛ بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صابر مرد اور صابر عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں  روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں، اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے.»

[۳]. «جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو،ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انہیں ان اعمال سے بہتر جزاء دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے». سوره نحل، آیت ۹۷.

[۴]. «بیشک عورت ریحانہ ہے اور خادم و قہرمان نہیں ہے ». نهج البلاغة (صبحی صالح)، نامه ۳۱.

[۵]. مستدرک الوسائل؛ ج ۱۵،‌ ص۱۸۱، ح۱۷۹۳۶.

موضوع: 
منیٰ کے المناک سانحہ میں جان بحق اور زخمی ہونے والوں کے حج کا حکم

بسمه تعالی

مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی

سلام علیکم؛

منیٰ میں رونما ہونے والا المناک سانحہ کہ جس میں متعدد مسلمان جان بحق اور زخمی ہوئے کہ جن کے اعمال حج ابھی تک مکمل نہیں ہوئے تھے،ان کے حج کے متعلق اپنا نظریہ بیان فرمائیں:

۱. جان بحق ہونے والے افراد کے نامکمل حج کا کیا حکم ہے؟

۲. اس سانحہ میں زخمی ہونے والوں کے لئے کیا حکم ہے کہ جو وہاں بقیہ مدت کے دوران اعمال  حج انجام نہیں دے سکتے ؟

۳. کیا سانحہ میں جان بحق ہونے والوں کے دفن کے متعلق کوئی خاص حکم ہے؟

 

بسم الله الرحمن الرحیم

علیکم السلام و رحمة الله

۱۔کلی طور پر احرام عمره تمتّع اور حرم میں داخل ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مر جائے  تو یہ حجة الاسلام  کے لئے کافی ہے اور اس کی قضا نہیں ہے چاہے وہ اپنے لئے محرم ہوا ہو یا کسی کی نیابت میں۔

۲. سانحہ کے ایسے زخمی افراد کہ جو بقیہ اعمال کو انجام نہیں دے سکتے وہ دوسروں کو اس کی نیابت دے کر اعمال حج انجام دے سکتے ہیں، لہذا ان کے دوست ان کی نیابت میں رمی اور قربانی انجام دیں اورنائب اپنی طرف سے تقصیر کے بعد ان کی طرف سے مکہ کے اعمال انجام دیں اور اگر انہوں نے ابھی تک ایسا نہ کیا ہو اور وہ خود یہ اعمال انجام دینے پر قادر نہ ہوں تو تیرہویں تک اپنی نیابت میں رمی انجام دے سکتے ہیں ۔

۳۔احرام سے خارج نہ ہونے والے حاجی کو کافور ملے پانی سے غسل دینے کی بجائے عام پانی سے غسل دیا جائے اور اسے حنوط بھی نہ کیا جائے۔والله العالم

 

لطف الله صافی

۱۳ ذی الحجہ ۱۴۳۶

موضوع: 
سانحہ مکّه مکرّمه میں جان بحق اور لاپتہ افراد کے بارے میں سوالات
سانحہ منیٰ(مکہ مکرمہ) کے زخیموں اور لا پتہ افراد کے بارے میں جدید سوالات کے جوابات

بسم  الله الرحمن الرحیم

محترم و مکرم مرجع عالیقدر آیة الله العظمی صافی گلپایگانی دام‌ظله الوارف

سلام علیکم؛

مکہ مکرمہ میں منیٰ کے مقام پر میں متعدد حجاج کرام کی رحلت، زخمی اور لا پتہ ہونے کی مناسب سے امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اور آپ کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں۔اس بارے میں کچھ سوالات ہیں،یقیناً آپ جیسے عظیم الشان مرجع کے جوابات راہنمائی و اطمیان کے باعث ہیں۔

 

۱۔جن زخمیوں اور لا پتہ افراد نے تیرہ ذی الحجہ تک خود یا نیابتاً  رمی جمرات انجام نہیں دی ان کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب:آئندہ سال عید کے دن یا گیارہ و بارہ ذی الحجہ کو خود یا ان کے نائب رمی کی قضا انجام دیں۔

 

۲. یہ حضرات کسی طرح احرام سے خارج ہوں؟

جواب. ذی الحجہ کے آخر تک قربانی انجام دیں اور حلق و تصیر خود انجام دیں جب کہ نائب طواف ،نماز اور سعی انجام دے ،اس صورت میں  ان کا حج صحیح ہے اور احتیاط کی بنا پر وہ شخص خود بھی نماز طواف بجا لائے۔

 

۳. اگر حاجی صرورہ ہو اور منیٰ کے بعد کے اعمال بنفسہ یا نیابتاًانجام نہ دے سکے تو کیا یہ حج حجة الاسلام  سے ناقص شمار ہو گا؟اس صورت میں کیا وہ آئندہ سال اسے مکمل کرے یا دوبارہ اعادہ کرے؟

جواب. دونوں وقوف کے بعد حج صحیح ہے اس لحاظ سے نائب و صروره اور مستحبّ و احتیاطی و غیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔

 

 

۴. اگر کوئی شخص کسی کی نیابت میں حج انجام دے رہا ہو تو نائب اور منوب عنه کی کیا ذمہ داری ہے؟

۵. اگر کسی کا مستحبی یا احتیاط کی بنا پرحجّ ہو تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

جواب۴اور۵. مذکورہ جوابات سے واضح ہو جائے گا.

 

۶. مذکورہ مسائل میں اگر حاجی بیہوش ہوجائے تو بنفسہ اور نیابتاً اس کے اعمال کا کیا حکم ہے؟

جواب۔اس صورت میں اس پر کوئی تکلیف نہیں ہے.

 

 

لطف الله صافی

۱۵ ذی الحجہ ۱۴۳۶

موضوع: 
چهارده هزار روز تاریخ ساز
(نوشتاری از آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی بمناسبت سالروز وفات حضرت ابوطالب علیه السلام

 

 

 

 

بسم الله الرحمن الرحيم

 روزهاي عمر اكثر افراد بشر مربوط به خود و امري است فردي، ولي رجال مصلح و خدمت‌گذاران به عالم انسانيت، مردان خدا و انبيا و اوليا، روزهايشان به همه‌ي جامعه، به تاريخ و به خدا ارتباط دارد و به حساب همه موجب فخر و مباهات، عزّت و خير، صلاح و ترقي و حركت‌هاي بزرگ تاريخي است. هرچه اين روزها وجهه‌ي الهي، خيرخواهي براي جامعه و نجات مردم از جهالت، دعوت به رستگاري، حق و عدالت و جلوه هدايت داشته باشد پايدارتر و ماندگارتر است.

نكوداشت اين روزها، نكوداشت حق و نصرت ايمان است. در تاريخ اسلام اين ايام درخشان و تاريخي جلوه‌اي خاص دارد و تاريخ اسلام مزيّن به اين روزهاست.
از جمله مرداني كه در اسلام به واسطه نقش خاص، موقعيت و حفظ مواضع بسيار حسّاس و مسئوليت‌دار بايد خود او و نه روزش بلكه روزهايش و همه‌ي ياد و خاطره‌هايش زنده باشد سيّد بطحا، رئيس مكّه و قبله قبيله است؛ او که جميع فضايل اخلاقي را دارا بود و همه به او احترام مي‌گذاشتند و شخصيّت و مكارم اخلاقش را مي‌ستودند؛ «عَلَيْهِ بَهَاءُ الْمُلُوكِ وَ وَقَارُ الْحُكَمَاءِ؛ در رخساره او ظرافت پادشاهان و وقار حكيمان ديده مي‌شد»
آري! او كسي نیست جز ابوطالب پدر بزرگوار اميرالمؤمنين علي عليه السلام. كسي كه حكيم معروف عرب «اكتم بن صيفي» وقتي از او پرسيدند: «حكمت و رياست و حُكم و سيادت را از كه آموختي؟» گفت: «از حَليف علم و ادب، سيّد عجم و عرب، ابوطالب بن عبد المطلب»
او بود كه در حمايت از پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله و سلم در حساس‌ترين مواقع تاريخ اسلامي يعني سرآغاز ابلاغ وحي و شروع و ظهور آن، نقش حفاظت و حراست او، اساسي، سازنده، نجات‌بخش و موجب استقرار اين دين مبين گرديد.

او به همه امت اسلام حق دارد و همه وامدار اويند و روزهاي چهل و دو سال حمايت و كمك و خدمت او به حضرت رسول اكرم صلي الله عليه و‌آله بيش از چهارده هزار روز است كه هر كدامشان تاريخ ساز و الهي است؛ هر يك از اين ايام به حساب پشتيباني آن مرد تاريخ از اسلام و دين توحيد و آن حركت بزرگ كه جامعه‌ي انسانيت را به سوي ترقي و تكامل و خودشناسي و خداشناسي هدايت كرد روز خدا و روز اسلام است.

هيچ كس شمار روزهاي نصرتش از پيغمبر صلي الله عليه و آله و دعوت او و ياري حق  به اين شمار نرسيد. ابوطالب عليه السلام به واسطه فداكاري‌هاي عجيب و مواجهه محكم با دشمنان دين خدا، آنان را از خاموش كردن نور الهي بازداشت.

همه روزها و همه كارهايش، سزاوار نكوداشت و الگوگيري است. چهارده هزار روز در نصرت و خدمت به رسول خدا صلي الله عليه و‌آله و سلم، همه از ايام الله است. چهارده هزار روز استقامت، چهارده هزار روز تحمل شدايد، محروميت‌ها، تحريم‌ها و انواع فشارها و توطئه‌هاي مشركين، اسلام را بيمه كرد.

اين ابوطالب بود و ابوطالب بود و باز هم ابوطالب بود كه در روزهاي نخست و سال‌هاي آغازين دعوت با موقعيت خاص و استفاده از احترام بالايي كه در جامعه داشت از دين خدا پاسداري نمود و پيغمبر را در ابلاغ دعوت ياري مي‌‌داد.

قصيده‌ي لاميّه ابوطالب در مدح حضرت رسول صلي الله عليه و آله، نمونه‌اي از اوج ايمان و خلوص نيت و وفاداري و نصرت كامل او از پيغمبر صلي الله عليه و آله است. اين قصيده به اعتراف بعضي بزرگان ادب و بلاغت و سخن شناس اهل سنت، در اعلي مرتبه‌ي بلاغت و فصاحت است و از قصايد سبعه‌ي معلّقه قوي‌تر و برتر است و به جز ابوطالب، احدي را نمي‌توان سراينده آن گفت. اين قصيده، نشان مي‌دهد كه ابوطالب، آن مرد عزم و تصميم خلل‌ناپذير در پشتيباني از رسالت الهي پيغمبر تا به كجا و تا چه حد مصمم، جازم و قاطع بوده است و در برابر دشمنان قوي پنجه، خطرناك و خونخوار، يك تنه دفاع نموده و اسلام را در مسير حركت غير قابل برگشت قرار داد.

همان گونه كه روزهاي همراهي ابوطالب با پيامبر اسلام  صلي الله عليه و‌آله و سلم در بين روزهاي تاريخ، درخشان است اين قصيده نيز در ميان هزاران قصيده از عرب و عجم كه در مدح پيغمبر و اسلام سروده شده و مي‌شود، ممتاز و يگانه و اساسي است. سزاوار است مخصوصاً فضلا و طلاب عزيز، آن را كه نزديك به صد بيت است، حافظ باشند.

نسل جوان و جامعه كنوني اسلام بايد تاريخ حيات و زندگي حضرت ابوطالب را وجهه‌ي نظر و الگو قرار دهند و درس‌هاي بزرگ و آموزنده‌ي اين تاريخ را فرا بگيرند. بايد در برنامه مدارس و كتاب‌هاي درسي اين تاريخ آموزنده و پرمايه را در نظر بگيرند. حيف است شخصيتي مثل ابوطالب، كه شخصيتش با ظهور اسلام و دعوت پيغمبر صلي الله عليه و آله ارتباط جدايي‌ناپذير دارد، بر جوانان ما ناشناخته باشد.

روز ۲۶ ماه رجب بر حسب مصباحين، مصباح شيخ و مصباح كفعمي، روز وفات اين مرد تاريخ است. سزاوار است همگان از اين روز تجليل نمايند و برنامه‌هاي مناسب براي آن در نظر بگيرند و با مجالس سوگواري و سخنراني و نوشتن مقالات از حقوق اين بزرگوار بر مسلمانان و بر تاريخ اسلام ستايش نمايند.

موضوع: 
پنجشنبه / 24 اردیبهشت / 1394
امام حسين عليہ السلام كے غم سياہ لباس پہننے كا استحباب

محضر مبارك حضرت آيۃ اللہ العظميٰ شيخ لطف اللہ صافي گلپائگاني دامت بركاتہ
سوال : حضرت عالي كي نظر ميں امام حسين عليہ السلام اور ديگر ائمہ كے غم سياہ لباس پہننا شرعي رجحان ركھتا ہے يا نہيں ؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحيم
سلام اللہ و سلام انبيائہ وملائكتہ علي سيدنا ومولانا ابي عبداللہ الحسين المظلوم سيد الشہداء وابي الاحرار وعليٰ اہل بيتہ واولادہ واصحابہ ۔

جواب : چونكہ كالے لباس اہل مصيبت كا شعار اور غم زدہ افراد كي نشاني ہيں لہذا حضرت سيد الشہدا(ع) اور ديگر ائمہ عليہم السلام كے غم ميں ان كا پہننا بے شك رجحان ركھتا ہے اور شعاير الٰہي كي تعظيم ،اہل بيت عليہم السلام سے محبت اور ان كے دشمنوں سے نفرت، ان كے ايثار و فداكاريوں اور راہ حق ميں شہادت كي قدرداني اور دين اسلام كي حفاظت اور بہت سے عناوين كا مصداق ہونے كي وجہ سے رجحان ركھتا ہے ۔
عراق كے شيعوں ميں رائج ہے كہ وہ دس دن محرم ميں اپنے گھر كے اوپر سياہ پرچم لہراتے ہيں ،يہاں تك كہ اگر كوئي سنسان جنگل ميں كسي چھوپڑي ميں بھي رہتا ہے تو وہ بھي اپنے گھر پر سياہ پرچم ضرور لگاتا تھا ۔

يقينا يہ طريقہ ،سياہ لباس پہننا ،گھر اور امامبارگاہوں كے در و ديوار كو سياہ پوش كرنا اور مجالس برپا كرنا ايك عظيم اور عبرت آميز درس ہے جس كے ذريعہ سے ہماري فكروں ميں بلندي پيدا ہوتي ہے اور مذہبي اور انساني شعور بيدار ہوتا ہے ،نيز اس كے ذريعہ سے مذہب زندہ ہوتا ہے اور ہمارے اور اہل بيت عصمت و طہارت عليہم السلام كے رابطے مستحكم ہوتے ہيں، ان اعمال كے ذريعہ ہم اہل بيت عليہم السلام سے كئے ہوئے پيمان كي تجديد كركے ظلم و جور كي مخالفت كا اعلان كرتے ہيں ۔
اور جن لوگوں نے اجماع يا بعض روايات كي بنياد پر سياہ لباس پہننے كو مكروہ قرار ديا ہے وہ حكم چند جہت سے قابل اشكال ہے :
اول : اصل كراہت كا يہ حكم قابل اشكال ہے چونكہ اس پر سب سے بڑي دليل اجماع ہےاور كسي حكم پر اجماع منعقد ہوناامكان سے باہر ہے اور بالفرض ممكن ہو بھي تب بھي چونكہ احتمال ہے كہ اجماع كرنے والوں نے اس خبر كي بنياد پر حكم ديا ہو جو ضعيف ہے لہذا يہ اجماع معتبر نہيں ہوگا۔
اسي طرح سے ان كا ان اخبار پر قاعدہ تسامح در ادلہ سنن كے تحت عمل كرنا كراہت كو ثابت نہيں كر سكتا ہے ۔
ايك دوسرا اشكال يہ بھي ہے كہ ايك موضوع كے حكم كا دوسرے ايسے موضوع كے لئے ثابت كرنا جس  ميں كوئي خصوصيت بھي پائي جاتي ہو ،قياس ہے اور جائز نہيں ہے
لہذا قاعدہ تسامح در ادلہ سنن كو مكروہات ميں جاري نہيں كيا جا سكتا ہے، خاص كر ايسي صورت ميں جب كہ يہ قاعدہ اپني جگہ پر خود مورد اشكال ہے۔
انہ يستفاد من ھٰذہ الاخبار انّ من بلغہ عن النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ثواباً علي امرٍ ثبت رجحانہ بالشرع سواء كان مستحباً او واجباً،او لم يثبت رجحانہ ،اِن اتيٰ بہ التماساً لھذا الثواب يعطيٰ بہ ذلك الثواب ويوجر بہ واين ھٰذا من الحكم بالاستحباب حتيٰ يقال بہ في غيرہ
چونكہ اس قاعدہ سے جو بات سمجھ ميں آتي ہے وہ يہ ہے كہ جن چيزوں كے بارے ميں پيغمبراكرم(ص) سے ثواب نقل كيا گيا ہے وہ رجحان ركھتے ہوں چاہے واجب كي صورت ميں ہوں يا مستحب كي صورت ميں،يا رجحان نہ ركھتے ہوں ،اگر كوئي ان اعمال كو ثواب كي اميد سے انجام دے تو اس كو اس كام كا اجر ملے گا ۔ اس قاعدہ سے ايسے امر كا استحباب سمجھ ميں نہيں آتا ہے ۔
بہر حال جو دليليں كراہت پر دلالت كرتي ہيں وہ سند كے اعتبار سے ضعيف ہيں ،اور اصحاب كا عمل سند حديث كے ضعف كو اس صورت ميں جبران كر سكتا ہے جبكہ وہ خود اس روايت سے استناد كرتے ہوں ليكن اگر ان كا استناد بھي قاعدہ تسامح كي بنياد پر ہوتو يہ عمل سند كے ضعف كو جبران نہيں كر سكتا ہے ۔
خاص كر ايسي صورت ميں جبكہ كراہت كا حكم ،حكم اولي كے عنوان سے نہيں تھا بلكہ اس وجہ سے تھا كہ بني عباس سياہ لباس پہن كر اپنے كو عزادار ظاہر كرتے تھے اور لوگوں كو فريب ديتے تھے تو اس لباس كو منع كيا گيا تاكہ اس كےذريعہ يہ شائع نہ ہو كہ بني عباس كي تعداد زيادہ ہے ۔اور اس صورت ميں سياہ پہننا خود كو ظالمين سے مشابہ كرنے كے مترادف تھا اس لئے ممنوع قرار ديا گيا ۔لہذا يہ حكم اس علت مذكورہ كے دائر مدار ہوگا اور جب علت ختم ہو جائے تو حكم بھي ختم ہو جائے گا ۔
لہذا جب بني عباس ہي ختم ہو گئے تو اس حكم كے بقاء كي كوئي علت باقي نہيں رہ جاتي ہے ۔
دوم : اگر كراہت ثابت بھي ہو اور اس كي دليل اجماع ہو تو ائمہ كے غم ميں سياہ لباس پہننا چونكہ ائمہ عليہم السلام كے زمانے ميں رائج تھا اس لئے اس مورد كا اجماع ميں داخل ہونا يقيني نہيں ہے بلكہ قدر متيقن يہ ہے كہ جہاں عزا اور غم كا عنوان نہ ہو وہاں يہ حكم ثابت ہے ۔
اس تفصيل كے بعد جس روايت كو صاحب حدائق نے علامہ مجلسي(رہ) كي جلاء العيون سے نقل كيا ہے وہ خود اپنے حصر كے لحاظ سے اس بات پر دلالت كرتي ہے كہ عزاداري كا مورد اس اطلاق سے باہر ہے اور اگر يہ روايت نہ بھي دلالت كرتي ہو تو ديگر روايات سے اس اطلاق كو مقيد كيا جا سكتا ہے ۔صاحب حدائق نے اس روايت سے شايد اس وجہ سے استناد نہيں كيا چونكہ علامہ مجلسي(رہ) نے اس حديث كي سند كو ذكر نہيں كيا ہے اورانھوں نے وقت كي تنگي يا كتاب كي فراہمي نہ ہونے كي بنياد پر دوسري جگہوں پر مراجعہ نہيں فرمايا ۔
اصل حديث اس طرح سے ہے :
مشہور محدث خالد برقي طبقہ ہفتم سے كتاب محاسن ص/۴۲۰ حديث نمبر۱۹۵ ميں اپنے والد محمد بن خالد ،وہ حسن بن ظريف بن ناصح (جن كا تعلق رواۃ كے چھٹے طبقہ سے ہے)سے ،وہ اپنے والد ظريف بن ناصح (جن كا تعلق رواۃ كے پانچويں طبقہ سے ہے)سے اور انھوں نے حسين بن زيد (ظاہراً ان سے مراد حسين بن زيد بن علي بن الحسين عليہم السلام ہيں جن كا لقب ذي الدمعہ ہے اور ان كا تعلق پانچويں طبقہ سے ہے )وہ اپنے چچا عمر بن علي بن الحسين عليہ السلام سے روايت كرتے ہيں جس كي سند اور حديث اس طرح سے ہے :
"عنہ عن الحسن بن ظريف بن ناصح عن ابيہ عن الحسين بن زيد عن عمر بن علي بن الحسين عليہ السلام قال:
لما قتل الحسين بن علي عليہما السلام لبسن نساء بن ہاشم السواد والمسوح وكن لا تشتكين من حر ولا برد ،وكان علي بن الحسين عليہما السلام يعمل لھن الطعام للماتم (۱)
اس حديث كو مشہور شخصيات اور اہل بيت كي نظر ميں ثقہ راويوں نے نقل كياہے اور اس سے چند مطالب پر استدلال كيا ہے از جملہ :
۱۔ غم اور ماتم ميں سياہ لباس پہننا شروع سے رائج تھا ،لہذا خاندان اہل بيت عليہم السلام كي عورتوں نے حضرت سيد الشہداء عليہ السلام كے غم ميں سياہ لباس پہنا،اور اس سے يہ بھي ظاہر ہوتا ہے كہ يہ سنت بہت پہلے سے رائج تھي حتي پيغمبر اكرم (ص) كے زمانے اور اس سے پہلے بھي تھي كہ سياہ لباس پہننا غم اور مصيبت كي علامت تھا۔
لہذا كراہت كے سلسلے ميں جو روايات وارد ہوئي ہيں وہ غم و مصيبت ائمہ عليہم السلام كے موارد كو شامل نہيں ہونگي ۔چونكہ يہ مورد اس عام سے خارج ہے اور ايك خصوصيت كا حامل ہے ۔
۲۔امام عليہ السلام كي تشويق اور ترغيب بھي اس عمل كے راجح ہونے پر دليل ہے اور اس سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے كہ اس عمل كو جاري ركھنا اس نہضت كي بقاء اور ياد آوري كے لئے ضروري ہے اور سيد الشہداء عليہ السلام كے موقف كي تعظيم ہے لہذا راجح اور مستحب ہے ۔
يہ كہنا صحيح نہيں ہے كہ يہ روايت عورتوں كے بارے ميں ہے ،ان كے لئے سياہ لباس پہننا رجحان ركھتا ہے ليكن مردوں كے لئے رجحان نہيں ركھتا ۔ چونكہ اس رجحان كي دليل يہ ہے كہ امام (ع) اس عمل كو اس لئے راجح قرار ديا ہے كہ اس سے حزن و غم كا اظہار ہوتا ہے چاہے مرد پہنے يا عورت لہذا يہ بھي اسي طرح ہے جس طرح كہا جاتا ہے"رجل شك بين الثلاث والاربع" كہ يہاں پر رجل سے مراد صرف مرد نہيں بلكہ عورت بھي شامل ہے اور دونوں اس حكم ميں مساوي اور برابر ہيں ۔
يہ حديث اميرالمومنين علي عليہ السلام كے اس كلام كي مانند ہے"الخضاب زينۃ ونحن قوم في مصيبۃٍ" (خضاب كرنا زينت ہے اور ہم مصيبت زدہ لوگ ہيں )يعني ہم لوگ خضاب نہيں كرتے چونكہ زينت كرنا غمزدہ لوگوں كے لئے مناسب نہيں ہے چاہے يہ زينت خضاب كي صورت ميں ہو يا غير خضاب ہو،اس سے يہ سمجھ ميں آتاہے كہ سياہ لباس كے ذريعہ غم كا اظہار امام عليہ السلام كي رضا كا موجب ہے چاہے يہ اظہار مردوں كي جانب سے ہو يا عورتوں كي طرف سے ،خود يہ عمل دونوں صنفوں سے مطلوب ہے ۔
بلكہ ہم يہ كہہ سكتے ہيں كہ اس حديث كا يہ بھي مفہوم ہے كہ : ہر اس طريقہ سے عزاداري اور سوگ منانا جو جائز ہو مطلوب اور راجح عمل ہے چاہے سياہ لباس پہننے سے ہو يا گريہ و زاري كے ذريعے ،مرثيہ خواني اور ماتم سے ہو يا ننگے پاؤں چلنے سے يا كسي دوسرے وسيلے سے ،ان ميں سے ہر ايك صحيح اور مطلوب ہے اور خداوند متعال كے نزديك اس كا اجر و ثواب ہے ۔
جعلنا اللہ من القائمين بھا وحشرنا في زمرتھم بحق محمد وآلہ الطاھرين صلوات اللہ عليھم اجمعين

(۱)اس حديث كو علامہ مجلسي (رہ) نے بحار الانوار جلد۷۹ ص/۸۴ باب التعزيہ والماتم حديث نمبر ۲۴ ميں محاسن برقي سے نقل كيا ہے ۔

موضوع: 
آية اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني كي نظر ميں گدائي اور مصنوعي ناخن كا شرعي حكم

س ۔ عورتوں كے لئے مصنوعي ناخن لگوانے كا كيا حكم ہے ؟ 
جواب ۔ ايسا مصنوعي ناخن لگوانا جس كو وضو و غسل كرتے وقت نكالا نہ جا سكتا ہو ، شرعاً جائز نہيں ہے ليكن اگر كسي نے لگوا ليا ہے تو اگر ممكن ہو تو اسے نكال دے تاكہ معمول كے مطابق غسل اور وضو كر سكے اور اگر نكالنا ممكن نہيں ہے تو اسي طرح سے غسل اور وضو جبيرہ كے طور پر كرے اور احتياط كے طور پر تيمم بھي كرے ۔

س ۔ ہونٹ يا بھنووں پر گدائي كروانے كا كيا حكم ہے ؟ 
جواب ۔ اگر يہ عمل كھال تك پاني پہنچنے ميں مانع نہيں ہے تو كوئي حرج نہيں ہے البتہ چونكہ يہ زينت ہے اسلئے اسے نامحرم سے چھپانا واجب ہے ۔

موضوع: 
مرقد حضرت زينب(س) كے متعلق ايك استفتاء

بسمہ تعاليٰ 
مرجع عاليقدر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني مد ظلہ الشريف 
السلام عليكم و رحمۃ اللہ
ميرا سوال يہ ہے كہ جناب زينب كبريٰ (س) كي قبر مدينہ ميں ہے يا شام ميں يا مصر ميں ؟ اپني نظر مبارك بيان فرمائيں چونكہ جناب زينب(س) كا شام سے مدينہ لوٹ كر آنے كي كوئي خاص وجہ سمجھ ميں نہيں آتي اسلئے كہ جيسے ہي اہلبيت(ع) مدينہ پہنچے عبداللہ بن حنظلہ غسيل الملائكہ اور ان كے اصحاب نے يزيد كو خلافت سے معزول كر ديا اور بني اميہ كو مدينہ سے باہر كر ديا ۔ نيز يہ بھي سوال پيدا ہوتا ہے كہ اگر جناب زينب(س) كي قبر مدينہ ميں ہو تو شام اور مصر ميں جو قبر آپ سے منسوب ہے وہ كس كي قبر ہے ؟

 

بسم اللہ الرحمن الرحيم 
عليكم السلام و رحمۃ اللہ وبركاتہ 
جناب زينب كي مزار دمشق ميں بھي ہے اور قاہرہ ميں بھي ہے دونوں ہي مشہور ہيں عبيدلي نسابہ نے اخبار الزينبيات ميں آنحضرت كي وفات قاہرہ ميں بتائي ہے ۔ بہر حال دو مقام كا منسوب ہونا جبكہ دونوں آج بھي مظہر كرامات و معجزات ہيں ، اس ميں كوئي حرج نہيں ہے چونكہ دونوں قبريں اہلبيت عليھم السلام اور جناب زينب(س) سے منسوب ہيں ۔ 
قاہرہ ميں ہر سال پہلي رجب سے پندرہ رجب تك بہت بڑا پروگرام مرقد جناب زينب پر ہوتا ہے اور مختلف اقوام كے تقريباً دس لاكھ لوگ اس ميں شريك ہوتے ہيں بعض رپورٹروں كے بقول انسان جس چيز كا عقل سے تصور نہيں كر سكتا وہ وہاں مشاہدہ كر سكتا ہے ، دمشق ميں بھي شايد آپ خود گئے ہوں ۔ ميري نظر ميں يہ مزارات اہلبيت عليھم السلام كي حقانيت كا مظہر اور ان كے عظمت كي علامت ہيں ، جيسا كہ امام حسين عليہ السلام كے سر مبارك كي تدفين كے سلسلے ميں جو اختلاف پايا جاتا ہے اس ميں بھي عقل يہي فيصلہ كرتي ہے يہ بھي امام حسين عليہ السلام كي خصوصيت ہے كہ جو مقامات بھي ان سے منسوب ہيں ہر جگہ انھيں ياد كيا جائے ۔ قاہر ميں موجود سر مبارك امام حسين عليہ السلام كي زيارتگاہ اور مسجد امام حسين عليہ السلام جيسا كہ ہم نے متعدد كتابوں ميں پڑھا ہے كہ لوگوں كي نظر ميں توسل و تبرك كے لحاظ سے وہ مقامات كربلا سے كم نہيں ہيں جامع دمشق ميں مقام راس الحسين (ع) لوگوں كي زيارتگاہ اور معجزات كا مظہر ہے ۔ 
رزقنا اللہ زيارۃ جميع تلك المشاھد والبيوت اللتي اذن اللہ ان ترفع و يذكر فيھا اسمہ يسبح لہ فيھا بالغدو والآصال ۔۔۔

خداوند عالم ہميں ان تمام مقامات اور گھروں كي زيارت نصيب كرے جن ميں صبح و شام ذكر خداوند عالم ہوتا ہے ۔ 

لطف اللہ صافي

 

موضوع: 

صفحه‌ها

  • of 2
اشتراک در RSS - استفتائات