وریز وجوهات
▪️ برگزاری مراسم سوگواری و عزاداری به مناسبت وفات کریمه اهل بیت حضرت فاطمه معصومه سلام الله علیها.  - به مناسبت وفات کریمه اهل بیت حضرت فاطمه معصومه سلام الله علیها، مجلس عزاداری و سوگواری در دفتر مرجع عالیقدر شیعه آیت الله العظمی صافی...
سه شنبه: 5 / 11 / 1395 ( )

عيد نوروز کے متعلق سوال اور آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا جواب

عيد نوروز کے متعلق سوال اور آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا جواب

 

بسمه تعالي

مرجع عالیقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله العالي.
سلام عليكم؛
آپ سے گذارش ہے کہ نوروز کی شرعی حیثیت بیان فرمائیں؟اور کیا اسے عید کا عنوان دے سکتے ہیں؟

 

بسم الله الرحمن الرحيم
 

عليكم السلام ورحمة‌ الله و برکاتہ

عید الفطر، عید الضحی ،عید غدیر، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی ولادت کے ایّام اسلام کی بزرگ، مذہبی اور شرعی عیدیں ہیں۔

اگر مؤمنین عید نوروز کے دن بھی دینی و مذہبی پروگرام (جیسے مؤمن بھائیوں سے ملاقات کرنا،بیماروں کی عیادت کرنا،ضرورت مندوں کی مدد کرنا)تشکیل دیں اور برائی پھیلانے والے امورانجام نہ دیں تو یہ مناسب ہے۔

حدیث میں وارد ہوا ہے : «كُلُّ‏ يَوْمٍ‏ لَا يُعْصَى‏ اللهُ فِيهِ فَهُوَ يَوْمُ عِيدٍ»(1)؛یعنی جس دن خدا کی معصیت انجام نہ دی جائے تو وہ عید کا دن ہے۔

نوروز یعنی روز نو(نیا دن)، بہار کا پہلا دن اور یہ خود موسم بہار کی طرح واقعی و تکوینی امر ہے اور اس کا جمشید سے کوئی ربط نہیں ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس کا وجود جمشید سے کتنے ہزار اور کتنے ملین سال پہلی تھا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: «اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها»(2)

نیزاحتمال کہ اس دن غسل یا کوئی بھی دوسری عبادت اسی مناسبت سے ہو۔ واللہ العالم۔

انشاء اللہ کامیاب و کامران رہیں۔

                                                                                                                                     لطف الله صافي/ 23 ربيع الثاني1433
 

 


۱۔ نهج البلاغة؛ حكمت428.
۲۔ سوره حديد؛ آيه 17.
 

 

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
جمعه / 25 تیر / 1395
حجاب اور فلسفۂ حجاب کے متعلق سوالات اور حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی کے جوابات

حجاب اور فلسفۂ حجاب کے متعلق سوالات اور حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی کے جوابات

اشاره: یکم تیر ماہ کے دن کو پہلوی فوج کی جانب سے حجاب کو ختم کرنے کے خلاف مشہد کے شریف لوگوں کے قیام  کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔

مرجع عالیقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله الوارف کو حال میں ہی مشہد مقدس میں ایک جوان لڑکی نے خط لکھا کہ جس میں اس نے حجاب اور فلسفۂ حجاب کے متعلق سوالات پوچھے کہ جنہیں ہم قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

اس خط کا مضمون اور حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني کا جواب درجہ ذیل ہے:

 

بسم الله الرحمن الرحيم

محترم اور عالیقدر مرجع حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني!

السلام عليكم؛

میں فاطمہ ہوں اور میری عمر ۲۱ سال ہے۔ میں نے مشہد میں کئی بار آپ کو دیکھا  اور میں آپ کو ایک معنوی باپ کی نظر سے دیکھتی ہو۔ میں ایک بے حجاب لڑکی ہوں۔ اور حقیقت میں میں یہ نہیں جانتی کہ حجاب کیا ہے؟ ہم پر کیوں حجاب واجب ہے؟ کیوں حجاب کی اتنی اہمیت ہے؟ کیا چارد یعنی کپڑے کا ایک ٹکڑا اتنا مقدس اور اہمیت کا حامل ہے؟ ۹ سال کی لڑکی کو چادر کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟ چادر اور حجاب صرف ہمارے دین میں ہی کیوں ہے؟  کیا دوسرے پیغمبر یہ نہیں جانتے تھے؟!

کیا پردے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس سماج اور معاشرے میں میرا وجود نہیں ہے؟ پس میں کس طرح اس سماج کے لئے مفید ہو سکتی ہوں؟ آخر کیوں ہم عورتیں ہی بعض مردوں کے بیمار دل کا تاوان ادا کریں؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ ملک میں حجاب اختیاری ہو؟

 براہ کرم مجھے نصیحت فرمائیں اور میرے سوالات کا جواب عنائت فرمائیں کہ میں حقیقت کی جستجو میں ہو۔

میں آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

میری بیٹی! ان شاء اللہ ہمیشہ تندرست اور سعادتمند رہو اور ہمیشہ نیک اور درست افکار کو پروان چڑھاؤ ۔

میں نے آُپ کا خط پڑھا ۔ میں آپ کے باطن کی بیداری، پاک معنویت اور فطرت کی اصلیت کے بارے میں پرامید ہوں۔

اس خط میں آپ حقیقت کی جستجو میں ہیں اور نصیحت کی خواہاں ہیں۔ حقیقت ظاہر و آشکار ہے  اور جس چیز کی طرف بھی نگاہ کریں ،ذرّہ سے کہکشاں، زمین سے آسمان اور بڑے اور چھوٹے حیوانات کہ جو ظاہری آنکھ سے بہ مشکل دکھائی دیتے ہیں  ، آب و ہوا، سبز وشاداب کھیت، درخت، بری و بحری حیوانات اور یہ انسان، یہ ہم اور تم،  اور ہمارے بدن میں کام کرتی  ہوئی یہ مشینری کہ جس میں ہمارا کوئی کردار نہیں، یہ تمام پھول، یہ سب پھل اور یہ سب کچھ انسان کو نصیحت کر رہے ہیں؛ یہ سب حق و حقیقت کا پتہ بتا رہے ہیں کہ غافل نہ بنو، غفلت سے کام نہ لو، بیدار اور ہوشیار ہو جاؤ۔ اس کتاب خلقت کو پڑھو اور اس سے درس اور نصیحت لو کہ جس میں لاکھوں ،کروڑوں بلکہ بصیرت ومعرفت کے بے شمار درس ہیں۔

جان لیں کہ آپ کو ان ظریف معانی اور حکمت سے لبریز اس وجود کے مقابلہ میں آرام سے نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ جس قدر ہو سکے جہالت کے پردوں کو چاک کریں اور مزید روشنی و نور کی جانب گامزن رہیں۔

حجاب،جنسی مسائل اور جنسیت کا کسی جوان لڑکے یا لڑکی کے احساسات کے تحت تجزیہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان مسائل کو غیر احساساتی نظر سے دیکھا جائے۔

ان مسائل، مرد اور عورت کے تعلقات اور حجاب؛ ان سب کا عقل اور مصلحت کی نظر سے تجزیہ کرنا چاہئے۔ یہاں بہت سی اچھائیاں اور برائیاں دکھائی دیں گی۔ عورت کی کرامت و شخصیت وہ سب سے بڑی مصلحت ہے کہ جس کا خیال رکھا جانا چاہئے۔

عقل اور اسلام کی مقدس شریعت کے حکم کی رو سے حجاب،پردہ، چادر اور دو جنس مخالف کے درمیان جدائی کی رعائت کی جانی چاہئے اور یہ سب چیزیں سماج کو فساد اور خاندانوں کو تباہی سے بچاتی ہیں۔حجاب؛عورت کے لئے  مضبوط ڈھال اور محکم قلعہ ہے۔

معاشرے میں عورت اور مرد کی طبیعی صورتحال کے حساب سے عمل کیا جائے کیونکہ دونوں صاحب شرف ہیں، دونوں کی رعائت کی جائے تا کہ سماج صحیح نظام کے تحت چل سکے۔

امور خانہ داری عورت کے اشرف کاموں میں سے ہے۔ خانہ داری کے امور انجام دینے والی عورت بیکار نہیں ہے۔مرد گھر سے باہر کے سخت مشاغل اور امور انجام دیتا ہے جو جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ سخت اور زحمت والے کام مرد کے ذمہ ہیں۔

بعض افراد کم علمی کی بناء پر مغرب،یورپ اور امریکہ کی جانب ظاہری نگاہ کرتے ہیں اور ایک عورت کو دیکھتے ہیں کہ وہ مثلاً وکیل یا وزیر ہے ، لیکن وہ مختلف اقتصادی محرومیوں کی شکار ہزاروں عورتوں کو نہیں دیکھتے۔

آج مغرب میں فساد، بے حجابی اور عورت و مرد کے تعلقات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ وہ لوگ اس کی روک تھام سے عاجز  آ چکےہیں اور  اس کے بہت مضر اور تخریب کارانہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔مغرب میں مختلف اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ہر شعبہ اور بالخصوص فوج میں مرودوں کی اذیت کی وجہ سےخواتین  غیر معمولی تکالیف اور مشکلات کا شکار ہیں۔ انہیں انسانی زندگی اور آرام و سکون میسر نہیں ہے۔شناختی کارڈ میں اڑتالیس فیصد بچوں کا اندراج باپ کے بغیر ہوتا ہے۔

ہمیں اسلام کی تعلیمات پر افتخار کرنا چاہئے۔ سب سے سالم سماج اور معاشرہ’’ اسلامی معاشرہ‘‘ ہے۔ جنسی تفکیک و جدائی اسلامی سماج کے لئے بنیادی شرط ہے ۔چادر، حجاب، محرم اور نا محرم کی رعائت کرنا، بعض کاموں کا عورتو ں سے مختص ہونا اور بعض امور کا مردوں سے مختص ہونا،یہ سب اسی ضروری جنسی تفکیک ،ترتیبات اور قواعد و ضوابط کی رو سے ہے۔

اسلامی احکام میں عورت اور مرد کے جسمانی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے  اور اسلام میں ایسا کوئی حکم یا  دستور نہیں  ہے کہ جس میں صرف ایک جنس کو دوسری جنس  پر برتری دی گئی ہو۔ سب پیغمبروں نے حجاب کا حکم دیا ہے اور یہ صرف اسلام سے مخصوص نہیں ہے اور اس  حکم میں عورت اور مرد کے درمیان تلازم ہے۔

انہی ایّام میں اٹلی کے ایک وزیر کو تجویز پیش کی گئی کی کہ مسلمان عورتوں کے حجاب پر پابندی عائد کی جائے تو اس نے جواب دیا کہ جو عمل  حضرت مریم انجام دیتیں تھیں ،میں اس عمل سے کسی کو منع نہیں کر سکتا!یعنی حضرت مریم بھی مکمل طور پر با حجاب تھیں۔

میری بیٹی!حجاب، عورت اور مرد کی توانائیوں، عقلی اعتبار سے حجاب کا پسندیدہ ہونا، اور با کرامت سماج کی تشکیل میں ان دونوں کے کردار کے متعلق شیعہ و سنّی، مسلمانوں اور کافروں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔

میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ اپنی حقیقی سعادت چاہتی ہیں تو اپنے پورے وجود سے حجاب اور ہر قدم پر اسلام کی عالی تعلیمات کی رعائت کریں۔

خداوند متعال آپ کو حفظ و امان میں رکھے اور آپ کی تمام عاقلانہ اور جائز خواہشات پوری فرمائے۔

                                                                                                                                         والسلام

                                                                                                                               19شعبان المعظم1433

                                                                                                                              لطف الله صافي/مشهد مقدس

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
حضرت زہراء علیہا السلام کی شہادت کی مناسبت سے ایّام عزاء کے متعلق سوال

حضرت زہراء علیہا السلام کی شہادت کی مناسبت سے ایّام عزاء کے متعلق سوال

بسمه تعالي

محترم مرجع عاليقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله
السلام علیکم؛
ہم بنت پیغمبر اسلام صلي الله عليه و آله حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی شہادت کے ایّام کی مناسب سے آپ کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں۔کیونکہ حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی شہادت کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے لہذا بی بی دو عالم جناب سیدہ  زہراءعلیہا السلام کی عزاداری کے لئے بہترین ایّام کون سے ہیں؟ اور اس شہادت عظمیٰ کے موقع پر عزاداری کی کون سی قسم سب سے بہتر ہے؟

                                                                                                                شکریہ/ مؤمنين کا ایک گروہ

 

بسم الله الرحمن الرحيم
 

عليكم السلام و رحمة الله و برکاتہ!
صدیقۂ کبریٰ حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام  کے یوم شہادت کے متعلق مختلف اقوال ذکر ہوئے ہیں،لیکن جن ایّام پر علماء نے زیادہ توجہ دی ہے وہ ایّام فاطمیۂ اوّل اور ایّام فاطمیۂ دوّم ہیں کہ جو جمادی الاوّل اور جمادی الثانی کے مہینوں میں واقع ہیں۔ بہتر یہ ہے شیعہ تیرہ جمادی الاوّل سے تین جمادی الثانی تک سوگوار اور عزادار رہیں اور جانب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کی مجالس عزاء کے ذریعہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے اپنی عقیدت اور محبت و مودّت کااظہار کریں،اوران مجالس میں ایسی رسومات انجام دینے سے پرہیز کریں کہ جو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزاء کے لئے توہین کا باعث ہیں  ۔

بہترین عزداری یہ ہے کہ جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب، مصائب اور آپ کی اخلاقی و عملی سیرت کا ذکر کیا جائے اور ہر دور میں لوگوں سے امام مظلوم حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے دفاع میں جناب سیدہ ٔ زہراء علیہا السلام کے کردار کوضرور بیان کرنا چاہئے۔

ان شاء اللہ تعالی مؤمنین قرآن و عترت سے متمسک رہتے ہوں بہترین انداز سے صدیقۂ کبریٰ جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت میں اخلاص سےعرض ادب کریں اور بالخصوص متدین و دین دار خواتین حجاب،عفت اور پاکدامنی کا خیال کرتے ہوئے حضرت فاطمہ علیہا السلام کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیں۔

                                                                                                                  لطف الله صافي/10 جمادي الاولي1433

 

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
شادی کے لئے استخارہ کرنے کے متعلق سوال

 

شادی کے لئے استخارہ کرنے کے متعلق سوال

بسمه تعالي
مرجع عاليقدر حضرت آيت الله العظمي صافي‌دام ظله الشريف

السلام علیکم؛
 کچھ عرصہ سے میں نے شادی کرنے کا ارادہ کیا اور بہت بار خواستگاری کے لئے گیا لیکن ہر بار مورد نظر فرد سے بات کرنے کے بعد استخارہ برا آتا ہے۔آپ سے میری گذارش ہے کہ کیا اس  سلسلہ میں استخارہ کرنے کی کوئی شرعی حیثیت  ہے یا نہیں؟

آپ کی رہنمائی کے سلسلہ میں ہم آپ کے مشکور ہیں۔
 
 
 
 
بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

کلی طور پر استخارہ وہاں کیا جاتا ہے کہ جہاں انسان کسی کام کو انجام دینے کے سلسلہ میں تذبذب کا شکار ہو اور تحقیق، غورو فکر اور اہل فن سے مشورہ کرنے کے باوجود بھی اس کا شک و تردید برطرف نہ ہو ۔لیکن شادی کے سلسلہ میں چونکہ ابھی تک مورد نظر فرد کے متعلق بطور کامل تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی اس بارے میں مشورہ کیا گیا ہے لہذا یہ استخارہ کرنے کا مورد نہیں ہے۔ نیز کلی طور پر استخارہ سے کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

                                                                                                                                                                                       والله العالم                                           
                                                                                                                                                                                   لطف الله صافي

 

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
وسواس کے متعلق سوال کا جواب

وسواس کے متعلق سوال کا جواب

بسمه تعالي

مرجع عاليقدر حضرت آيت‌الله العظمي صافي گلپايگاني‌مدظله‌العالي

السلام علیکم:

مہربانی فرما کر شیطانی وسواس کو دفع کرنے کے لئے کوئی ذکر بیان فرمائیں اور بالخصوص اگر کوئی انسان فکری وسواس میں مبتلا ہو تو اسے کیا  کرنا چاہئے؟ شکریہ

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة‌الله

یہ حالت عارضی ہے اور ان شاء اللہ وسواس  کی طرف توجہ نہ کرنے کی صورت میں یہ حالت برطرف ہو جائے گی۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ خدا سے توکل اور اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام سے توسل کے ذریعہ وسواس کا سد باب کرے ۔یہ ذکر مبارک (لااله الَّا الله) اور (لاحول و لاقوة الاّٰ بالله العلي العظيم) کا زیادہ سے زیادہ ورد کرے اور اسی طرح زیادہ سے زیادہ صلوات پڑھے،ہر دن قرآن کی تلاوت کرنے کی کوشش کرے اور ہمیشہ باوضو رہے۔ ان شاء اللہ یہ حالت زائل ہو جائے گی۔

                                                                                      4رجب المرجب1432

 

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
مہر کی شرعی مقدار کے بارے میں سوال

مہر کی شرعی مقدار کے بارے میں سوال

بسمه تعالي

حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني‌مدظله العالي

سلام عليكم؛

 آپ سے گذارش ہے کہ عقد نکاح میں مہر کی شرعی مقدار بیان فرما دیں؟

شکریہ

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

ج.بہت زیادہ مہر عورت کی سعادت کا باعث نہیں ہے اور مستحب یہ ہے کہ عورت کا مہر ،مہر السنہ سے زیادہ نہ ہو ۔جن لڑکیوں نے کم مہر اور آسان شرائط کے ساتھ شادی کی ہے یا کر رہی ہیں ،وہ خوش اور سعادتمند ہیں۔حدیث کی معتبر کتابوں میں سے ایک کتاب ’’وسائل الشیعۃ‘‘ میں نقل ہوا ہے کہ ’’إنّ من بركة المرأة قلة مهرها و من شؤمها كثرة مهرها‘‘۔نيز دوسری روایت میں وارد ہوا ہے ’’افضل نساء أمتي اصبحهن وجهاً و اقلّهن مهراً‘‘

                                                                                                    لطف الله صافي

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
عید الزہراء علیہا السلام کے متعلق حضرت آيت الله العظمی صافی گلپایگانی کا نظریہ

بسمه تعالي

مرجع عاليقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني

السلام علیکم؛

مجھے اور کچھ دوستوں کو ایک سوال درپیش ہے اور اس شک و شبہ کو رفع کرنے کے لئے ہم آپ سے راہنمائی لینا چاہتے ہیں اور ہمارا سوال عید الزہراء علیہا السلام کے متعلق ہے کہ کیا ایک شیعہ مسلمان کے لئے ایسی محافل کا انعقاد کرنا صحیح ہے؟

شکریہ

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمةالله

ج۔ایسی محافل ومجالس میں صحیح احادیث و روایات اور تاریخ سے اہلبیت اطہار علیہم السلام کے فضائل و مناقب اور ان ہستیوں کی تعلیمات و معارف اور ان کی ہدایات، ان کی حقانیت کے دلائل اور ان کے دشمنوں کے ظلم کو ذکر کرنا چاہئے۔نیز بعض امور انجام دینے کے لئے زمان و مکان اور ان کے تقاضوں کا مکمل طور پر خیال رکھنا چاہئے۔

لطف الله صافي

ربيع الاول1433

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
مہر ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں شوہر کو قید کرنے کے متعلق سوال کا جواب

 

بسمه تعالي
بزرگ مرجع حضرت آيت‌ الله العظمی صافی ‌گلپايگانی مدظله‌الشريف

السلام علیکم؛

آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ مہر کا رواج ہو گیا ہے جو بذات خود خاندان کے بعض امور میں خلل کا باعث ہے۔کچھ ایسے ہی خاندانوں میں زیادہ مہر ہونے کی وجہ سے شوہر اسے ادا کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور زوجہ مہر معاف بھی نہیں کرتی ،جس کی وجہ سے شوہر کو گرفتار کرکے قید کر دیا جاتا ہے۔

اگر شوہر مہر ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو کیا اسلام کی رو میں اسے قید کر دینا شرعی اور جائز امر ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة‌الله
كلّی طور پر اگر مقروض ، اپنا قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو(چاہے وہ مہر ہو یا مہر کے علاوہ کوئی اور قرض) تو اسے مہلت دی جانی چاہئے،اور اسے قید کر دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔والله العالم

 لطف الله صافي

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اذان وغیرہ کی آواز نشر کرنے اور پڑوسیوں کے لئے زحمت کا سبب بننے کے متعلق سوال

بسمه تعالي

مرجع عالیقدر حضرت آيت الله العظمی صافی دامت بركاته

السلام علیکم؛

اگر مساجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اذان،مناجات،دعا اور قرآن کی تلاوت پڑوسیوں کے لئے اذیت کا باعث ہو تو شریعت کی نظر میں ان کا کیا حکم ہے؟

 

بسم الله الرحمن الرحيم

عليكم السلام و رحمة الله

 میں مساجد ، امام بارگاہوں اور دوسرے مذہبی مقامات میں مختلف پروگرام منعقد کرنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جن امور میں شعار کا پہلو پایا جاتا ہو جیسے اذان ،تو انہیں لاؤڈ اسپیکر سے نشر کیا جائے اور دوسرے امور میں یہ خیال رکھا جائے کہ وہ لوگوں کے  لئے اذیت کا باعث نہ ہوں تا کہ بہانہ تلاش کرنے والوں کو کوئی بہانہ نہ ملے کہ جس کی وجہ سے وہ تمام پروگراموں پر سوال اٹھائیں،بالخصوص بیماروں اور بوڑھوں کا خیال رکھا جائے۔

               نیز میں مساجد اور مذہبی پروگراموں کے لاؤڈ اسپیکر پر شکایت کرنے والوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کا شمار ان لوگوں میں سے نہ ہو کہ جن کے بارے میں خداوند کریم نے فرمایا: «وَ إذا ذُكِرَ اللهُ وَحْدَهُ إشْمَئَزَّتْ قُلُوبُ الذينَ لايُؤْمِنُونَ بِالآخرةِ و إذا ذُكِر الَّذينَ مِنْ دُونِه إذا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ»؛یعنی اگر لاؤڈ اسپیکر سے اذان ،قرآن، وعظ و نصیحت، عزاداری اہلبیت علیہم السلام کی آواز نشر ہو تو یہ بے سکونی اور اذیت کا باعث بنے لیکن اگر موسیقی اور گانے بجانے کی آواز ہو تو اس پر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔

              آپ کوشش کریں کہ آُ پ کا شمار اس گروہ سے ہو کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام  کہ طرح ہو کہ بعض روایات کے مطابق جب آپ نے یہ ذکر مبارک«سبّوح قدّوس ربُّ الملائكةِ والرُّوح» سنا آپ نے اس ذکر کے کرنے والے سے درخواست کی کہ ایک مرتبہ پھر یہ ذکر کہے تا کہ اپنی کچھ بھیڑیں اس شخص کو عطا کر دیں، اور ذکر پڑھنے والے نے یہ ذکر اتنی مرتبہ دہرایا کہ آپ  نے اسے اپنی ساری بھیڑیں عطا کر دیں اور آخر میں آپ نے اس سے کہا کہ تم ایک مرتبہ اور یہ ذکر پڑھو تو میں خود کو تیری ملکیت میں قرار دے دوں گا۔خداوند متعال ہم سب کو شرعی احکام اور واجبات کی انجام دہی میں کامیاب فرمائے۔

لطف الله صافی

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین
A question regarding the mourning days of martyrdom of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her)

A question regarding the mourning days of martyrdom of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her)

In the name of Allah the most beneficial and the most merciful

To the auspicious presence of Grand Ayatollah Saafi Golpayegani

Salam Alaikum

Meanwhile, I would like to give my condolences regarding the days of mourning of martyrdom of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her), the beloved daughter of Prophet Mohammad (may peace be upon him), which are the most preferable days of mourning for the martyrdom of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her) since the exact date of the martyrdom is not confirmed? What kind of mourning is highly recommended during these grievous days?

Thank you

Group of Believers (Momineen)

In the name of Allah the most beneficial and the most merciful

Wa Alaikum As – Salam

Regarding the specific date of martyrdom of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her) there are many statements and sayings mentioned in books, however the one which is most favorable and widely acceptable by Islamic scholars are in the months of Jamadi Al – Awwal and Jamadi Al – Thani (Fatimiyeh Awwal and Fatimiyeh Thani), it is recommended that Shias should mourn for the Martyrdom of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her) from thirteenth of Jamadi Al – Awwal till third of Jamadi Al – Thani, and should express their grieves and condolences towards the Prophet Mohammad (peace be upon Him) and His Holy Household (peace be upon Them) by organizing mourning ceremonies and gatherings and should restrain ourselves from things which can waste away our mourning’s.

The best way of mourning, which should be expressed and told in every period of time, is by quoting the virtues, excellences of Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her) and adversities took place on Her (peace be upon Her), and by remembering Her etiquettes and Her defense from our oppressed Imam Ali (peace be upon Him), the commander of believers (peace be upon Him).

Inshallah, believers will pay respect and honor Her by grasping the teachings of Quran and the holy household of Prophet (peace be upon Him), specially the practicing and pious ladies should make Hazrat Fatima Zahra (peace be upon Her) their ideal and role model by preserving their veil (Hijab).

Lotfullah Saafi

10thJamadi Al – Awwal 1433

موضوع: 
استفتائاتجدیدترین

صفحه‌ها

  • of 12
اشتراک در RSS - جدیدترین