بسم الله الرحمن الرحیم انا لله و اناالیه راجعون  رحلت عالم ربانی فقیه اهل بیت عصمت و طهارت علیهم السلام حضرت آیت الله آقای سیدمحمدسعید طباطبائی حکیم رضوان الله تعالی علیه موجب تاثر و تاسف گردید. ایشان یکی از استوانه‌های بزرگ علمی در...
شنبه: 1400/07/3 - (السبت:18/صفر/1443)

عاشورا؛ تاریخ کا جاودانہ دن
سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کے بارے میں مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی کی سلسلہ وار تحریر

* کاش ! کل کا سورج طلوع نہ ہوتا

خدایا! اگر تاسوعا کے بعد وہ کل نہ  ہوتی اور قیامت کی صبح تک اس دن کی صبح نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟

خدايا! اگر وہ کل نہ ہوتی تو کیا ہوتا ، اور وہ خوفناک مظالم جن کی اس وقت تک تاریخ میں کوئی نظیر نہیں تھی اور اس کے بعد دوبارہ بھی نہیں ہوگی ، اور انسانیت کی تاریخ اس قدر سیاہ اور اتنی شرم و رسوائی سے بھری ہوئی نہ ہوتی ، اور کربلا میں تاریخ کے سب سے بڑے جرائم کے ارتکاب کے لئے جمع ہونے والے درندوں کو اس سب گستاخی اور نفس کی خباثت کے اظہار کا موقع نہ ملتا ۔

وہ بدترین ظالم اور مجرم تھے جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا ، یزید اور ابن زیاد کے سامنے  بیچ دیا  تھا ، جو کم ظرف ، ظلم کی تصویر ، بے عزت و شرف ، پست ، پلید ، تمام اخلاقی برائیوں کے مالک اور مظلومین کے دشمن تھے ۔

خدايا! اگر تاسوعا کا دن اپنے اختتام تک نہ پہنچتا تو شمر و سنان ، ابن سعد ، حرملہ اور تیرے اولیاء کا محاصرہ کرنے والے ظالم و جابر  اپنے تمام تر مظالم بنی نوع انسان کی سیاہ  کتاب میں درج نہیں  کروا سکتے تھے  کہ جنہوں نے  پوری تاریخ میں آ چکے اور آنے والے اربوں انسانوں کو ذلیل و رسوا اور شرمندہ کیا ۔

خدایا ! کیا ہو جاتا  اگر تیرا سورج اور چاند حرکت کرنا چھوڑ دیتا اور زمین گردش کرنا چھوڑ دیتی  تاکہ کل تاسوعا کے بعد تیرے سب سے عزیز اور بہترین عبد حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار تیرے دشمنوں کے ہاتھوں شہید نہ ہوتے  اور تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اہل بیت پر وہ سب جانگداز مصائب نہ آتے ؟

لیکن خدایا ! تو خود اس کائنات کا مالک ہے اور تو نے دنیا کو امتحان اور آزمائش کا گھر  قرار دیا ہے اور فرمایا ہے :

«ليبلوكم ايّكم احسن عملاً» ، تیری قضا و قدر سے انسانوں کی قدر و منزلت ظاہر ہوتی ہے  تا کہ کمال انسانیت کے اعلیٰ مراتب اور درجات  پر فائز ہو کر «ان الله اشتري من المؤمنين انفسهم و اموالهم بان لهم الجنه» کے ذریعے تجھے سب سے بہترین خریدار کے طور پر پہچانیں اور خود تیرے حضور فروخت شدہ قرار دیں ۔ نیز  (خدا نے ) اسفل السافلين میں جگہ پانے والوں کی «اولئك كالانعام بل هم اضل» کے ذریعے ان کی خباثت کو بیان کیا ہے تا کہ انہیں پہچانا جا سکے ۔

* عاشورا ؛  حق و باطل کا معرکہ

شب عاشورہ کی طرح دونوں گروہوں کے سربراہان ، جن کے بارے میں ہم نے پڑھا اور پڑھیں گے کہ وہ تاریخ میں ہمیشہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ،  جو واقعۂ کربلا میں بھی ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں ، انہوں نے اس دنیا کے اختتام تک پوری دنیا کو حق و باطل کے دو محاذوں اور  ان کے موقف کو دیکھنے میں مصروف کر دیا ۔

حسین علیہ السلام، اہل بیت اطہار علیہم السلام اور آپ کے اصحاب کا مؤقف  الٰہی و رحمانی تھا ، اور وہ ظاہری طور پر محدود و معدود اور کم تھے لیکن باطنی طور پر  امت اور بے نظیر و بے بدیل شخصیات کی ایک دنیا تھے  ،  جنہوں نے راہ خدا میں عزت و کرامت ، انسانی شرف ، کلمۃ اللہ کی بلندی اور معالم دین کے احیاء کا ارادہ کیا ،اور کسی قسم کا دباؤ ، دھمکی ، ناگوار حالات ، نوجوانوں کی شہادت ، بچوں کی پیاس اور کائنات کی سب سے فاضل اور  سب سے باوقار بیبیوں کی اسیری سے بھی ان کے ارادے میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہیں پڑا ، اور آپ نے کوفہ کی سپاہ  کا نحس ، پلید ، غیر انسانی اور بے شرم چہرہ آشکار کر دیا ، جنہوں نے خدا سے جنگ کا اعلان کیا ، اور جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے فرزند سے جنگ کرنا چاہتی تھی  ، آپ  کے تمام ساتھیوں کو تشنہ لب تہہ تیغ کرنا چاہتی تھی اور  خدا کی بارگاہ میں سب سے محترم اور معزز خواتین کو اسیر بنانا چاہتی تھی ۔

ابن سعد و شمع ، سنان و خولی اور یزید و ابن زیاد کے گروہ کو انعامات اور عہدوں کا لالچ یا یزید و ابن زیاد کا خوف کربلا کھینچ لایا تھا ، لیکن حسین علیہ السلام کا  گروہ حزب خدا تھا جو اعلیٰ درجات کو درک کرنے کے شوق  سے اور دین کے ناموس ، حرم نبوت اور ولایت کے دفاع میں اس امتحان  و آزمائش کے میدان میں حاضر ہوئے تھے ۔

* سعادت منداور شقاوت مند

کربلا میں سنہ ۶۱ ہجری میں شب عاشورا کا منظر ایک عبرت انگیز اور سبق آموز منظر تھا ؛ جس میں امام حسین علیہ السلام کے مبارک چہروں سے سعادت ، عزت نفس اور بلند ہمت آشکار تھی اور بنی امیہ کے پیروکاروں کے پلید چہروں سے شقاوت ، ذلت اور پستی نمودار ہو رہی تھی ۔

امام حسین علیہ السلام کا لشکر اپنے رہبر و رہنما کی طرح خود کو سعید سمجھ رہا تھا اور اپنے اس اعلیٰ منصب پر افتخار کر رہا تھا  اور ان کے دل میں اپنے حسن عاقبت میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں تھا ،  ان کی نظر میں ان کے اور ان کی کامیابی کے درمیان اور لقاء اللہ تک پہنچنے تک کا فاصلہ صرف ان کے آقا و مولا کے ہم رکاب شہید ہونا تھا ، انہوں نے بڑے آرام اور اطمینان کے ساتھ پوری رات عبادت میں گزاری  ۔

یزید  ، ابن زیادہ اور عمر سعد کی فوج ظاہری طور پر خود کو کامیاب سمجھ رہی تھی ، لیکن وہ اپنے اس مقام کی وجہ سے خود کو سعادت مند نہیں سمجھ رہی تھی ، شمر اور اس کے ساتھ اس جیسے بدصورت کردار کے مالک افراد ؛ جو شاید اولیائے خدا  ، اولاد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ایمان ، توحید اور کمال انسانیت کے مظاہر  کو قتل کرنے سے لذت محسوس کرتے تھے  اور جو اپنے اس عمل پر شرم محسوس نہیں کرتے ہیں ، ان کے علاوہ بقیہ تمام افراد اپنے ضمیر اور وجدان کے ساتھ جنگ و جدال  اورکشمکش میں مبتلا تھے ۔ بہرحال اگرچہ ہم بنی امیہ کی جانب سے حق کی غیر معمولی مخالفت اور خاندان رسالت علیہم السلام کے ساتھ ان کی بے انتہا دشمنی اور دین کے خلاف ان کی عداوت کا اندازہ نہیں لگا سکتے ، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کے باوجود ان اشقیاء میں کوئی ایسا نہیں تھا  جو قتل ہونے اور اپنی جان قربان کرنے کے لئے آیا ہو ،  سب لوگ صرف اس لئے آئے تھے کہ وہ واپس جا کر انعام لے سکیں ،  یا یہ کہ انہیں ابن زیاد کے غیظ و عضب کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ان کے درمیان کچھ ایسے افراد بھی تھے جو حر کی طرح یہ پیشنگوئی نہیں کر رہے تھے کہ اس واقعہ کا انجام امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر ہو گا  ، اور کچھ دوسرے ایسے افراد بھی تھے جنہیں  ان حالات میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں  کی استقامت اور ثابت قدمی کا یقین نہیں تھا اور  وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ہونے یا جنگ و شہادت کی پیش کش کارگر ثابت ہو گی ، کیونکہ ان حالات میں دنیا کے بڑے بڑے شجاع بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ، لہذا ان کا خیال تھا کہ امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی بھی العیاذ باللہ اس ذلت کو قبول کر لیں گے ۔

المختصر یہ کہ چند گنے چنے افراد کے علاوہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو معنویات کے لحاظ سے خود کو قانع کر سکے اور اس جنگ میں ہونے والے معنوی نقصان کا استقبال کر سکے  اور اس ہلاکت میں موت کو  اپنی حقیقی ہلاکت نہ سمجھے ۔ وہ امام علیہ السلام اور آپ  کے ساتھیوں کا مرتبہ نہیں پا سکتے تھے ؛ کیونکہ وہ باطل پر تھے اور وہ اپنے وجدان اور ضمیر میں فرزند پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف جنگ کا کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے تھے ۔لیکن جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے خود بھی اپنے اصحاب کی توصیف بیان کی ہے ، اور انہوں نے بطور مکرر اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ امام علیہ السلام کی راہ میں شہادت کے علاوہ کسی چیز پر راضی نہیں ہیں ، وہ سب تیار تھے کہ اس جنگ میں اپنی جان کی قربانی پیش کریں اور شہادت کے درجہ پر فائز ہو سکیں ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ قرآن نے راہ خدا میں مجاہدین کے مرتبہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہم رکاب ہو کر جہاد کرنے والوں کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : «قل هل تربصون بنا الا احدي الحسنين»  ۔ ان کا موقف تسلیم ، حق کو ترک کرنے ، امام کو ترک کرنے یا راہ خدا میں شہادت کے درمیان خلاصہ کیا گیا تھا اور عظیم ، با ایمان اور انسانی وقار کی حامل شخصیات نے شہادت کا راستہ اختیار کیا اور ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں کوئی شک و تردید نہیں کی کہ وہ حق پر ہیں اور ان کی شہادت خدا کی راہ میں اور اس جنگ میں انہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا ، اور یہ کہ خدا کی بارگاہ میں قتل ہونے کا انہیں کوئی بدلہ نہیں دیا جائے گا ، وہ محکم ایمان رکھتے تھے  اور اس لحاظ سے ان میں سے کوئی ایک بھی عاشور کے دن میدان سے نہیں بھاگا ، حالانکہ ان کے دشمنوں کو جہاں کہیں بھی موت کا خطرہ دکھائی دیتا تھا وہ فوراً وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے ۔

* آخری رات

شب عاشورا امام حسین علیہ السلام کے خیام طاہرہ اور آپ  کی لشکر گاہ معنویت ، پاکیزگی اور لقاء اللہ کے شوق سے بھرپور تھے ، اور ان سے مناجات کی دل نواز صدا بلند تھی ، تہجد اور ان کی عبادت انسانیت کی اقدار میں اضافہ کر رہی تھی : «لهم دويّ كدويّ النحل ما بين راكع وساجد وقائم وقاعد».

ان میں سے کسی کو بھی اس بات کا افسوس نہیں تھا کہ وہ کل رات زندہ نہیں ہو گا ۔ وہ غیرت مند اور بہادر صرف اس بات پر پریشان تھے کہ کل رات کائنات کی ان عظیم ترین ، اور سب سے زیادہ صاحب شرف و کرامت خواتین کو دشمن اسیر بنا لے گا اور کوئی ان کا حامی و ناصر نہیں ہو گا ۔

 شب عاشورا امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصھاب کا منظر کوفہ کی فوج کے لئے ایک اور اتمام حجت تھا تا کہ وہ یہ جان لیں کہ وہ کتنا بڑے جرم کے مرتکب ہونا چاہتے ہیں ، تا کہ وہ یہ سمجھ جائیں کہ وہ شب زندہ داروں ، قرآن کے قاریوں اور خدا کی بہترین مخلوق کے خلاف برسرپیکار ہیں ، اگرچہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے لئے آنے والے اکثر چہرے ان کے لئے ناآشنا نہیں تھے ۔

حبیب ابن مظاہر  اور مسلم بن عوسجہ جیسے حضرات ان شخصیات میں سے تھے کہ اسلام میں جن کا ماضی سپاہ کوفہ اور بالخصوص ان کے سربراہان پر پوشیدہ نہیں تھا اور وہ سب ان شخصیات کو زہد و پارسائی ، حافظ قرآن  اور عابد کے طور پر جانتے تھے ۔ ابو عمر نہشلی کی تہجد اور کثرت سے نماز ادا کرنے سے توصیف کی جاتی تھی  اور اسی طرح سوید بن عمرو شرافت اور کثرت نماز سے مشہور تھے ۔

امام حسین علیہ السلام کے غلام قارب ، قرآن کے قاری تھے ،  شؤذب روايت کی مجلس رکھتے تھے اور مشائخ حدیث میں سے تھے ، اسی طرح برير بن خضير قرآن کے قراء میں سے تھے ۔ قيس بن مسہر ، عمرو بن خالد ، ابو ثمامه ، سويد ، عبد الله بن عمير اور سعيد بن عبد الله... یہ سب ایسی شخصیات تھیں کہ جن کا امام حسین علیہ السلام کی ہم رکاب ہو کر جانثار کرنا ان کی اور ان کے گروہ  کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے ۔ ان کے علاوہ پيغمبر صلی الله عليه و آله و سلم کے کچھ اصحاب ، جیسے : انس بن حارث ، حبيب بن مظهر ، مسلم بن عوسجه ، ابو سلامه ، ہانی ، عبد الرحمن بن عبد رب انصاری اور عبد الله بن يقطر بھی امام حسین علیہ السلام پر جان قربان کرنے کے شرف افتخار سے مشرف ہوئے ۔ امام حسين عليہ ‌السلام کے اصحاب میں بزرگ شخصیات ، حاملان حديث، عباد، زہاد، مشہور قراء اور تابناک ماضی اور سوابق کے حامل تھے ، ان میں سے کسی ایک کا قتل دوسرے فریق کی محکومیت اور باطل ہونے   کی واضح اور معتبر سند ہے ۔

* تاریخ میں جاودانہ سربلندی

وہ رات اور وہ دن وقت کے لحاظ سے بہت مختصر تھا ، جو بہت ہی تیزی سے گزر گیا ، لیکن اس رات کے ہر ایک سیکنڈ میں وہ صبر ، ثابت قدمی اور ارادے میں استقامت صرف ان لوگوں کی طرف سے ظاہر ہوئی جو نیک کردار ، صاحب فضیلت اور شخصیت تھے ۔

انہیں خدا کی رضا ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رضا ، امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی رضا ، حضرت فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کی رضا ، امام حسن مجتبی علیہ السلام کی رضا اور ان کے آقا و مولا امام حسین علیہ السلام کی رضا مبارک ہوا ۔

اس معرکہ میں ان کے تمام مادی پہلو ختم ہو گئے لیکن ان کی فضیلت ، معنویت   اور نام جاوداں ہو گیا  ، اگرچہ دشمن ان کے ابدان پر تو غالب آ گیا لیکن ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ ان کے مکارم اخلاق ، حریّت ، ایمان ، اصطبار  اور  ظلم و بربریت کے خلاف ان کے موقف پر مسلّط نہیں ہو سکا

امام‌حسين علیہ السلام احادیث کی نگاہ میں  
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی شہرۂ آفاق کتاب ’’عظمت امام حسین علیہ السلام‘‘ سے اقتباس

 

1ـ حسين علیہ السلام ؛ جوانان جنت کے سردار

احمد بن حنبل نے مسند میں ، بيہقي نے السنن‌الکبری میں ، طبراني نے المعجم‌الاوسط و المعجم‌الکبير میں ، ابن‌ماجه نے سنن میں ، سيوطي نے الجامع‌الصّغير ، الحاوی اور  الخصائص‌الكبری میں ، ترمذی نے سنن میں ، حاكم نيشابوری نے المستدرك میں ، ابن‌حجرهيتمی نے الصّواعق‌المحرقه میں ، ابن‌عساكر نے تاریخ مدینۃ الدمشق میں ، ابن‌حجر عسقلاني نے الاصابہ میں ،  ابن‌عبدالبر نے الاستیعاب میں ،  بغوي نے مصابیح السنہ میں ، ابن‌اثير نے  اسد  الغابہ  میں ، حمويني شافعي نے  فرائدالسمطين میں ، ابوسعيد نے شرف‌النّبوۃ میں ، محبّ طبري نے ذخائرالعقبیٰ میں ، ابن‌سمّان نے الموافقه میں ، نسائي نے خصائص ‌اميرالمؤمنين میں ، ابونعيم نے حليةالاولياء میں ،  خوارزمي نے مقتل الحسین علیہ السلام میں ،  ابن‌عدي  نے الکامل میں ، مناوي نے کنوز الحقائق میں ، اور ان کے علاوہ دوسرے علماء نے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :

«حسن اور حسين دونوں ؛ جوانان جنت کے سردار ہیں» ۔

یہ احاديث متعدد سند کے ساتھ کئی اصحاب جیسے اميرالمؤمنين علي علیہ السلام ، ابن‌مسعود، حذيفه، جابر، ابوبكر، عمر، عبداللّه بن عمر، قرّه، مالك بن ‌حويرث، بريده، ابو‌سعيد خدري، ابوهريره، اسامه، براء اور  اَنَس سے روایت ہوئی ہے  ، اور ان سب سے مجموعی طور پر یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بطور مکرر حسن و حسین علیہما السلام کو  اس صفت کے ذریعہ متعارف  فرمایا  ، اور آپ نے  یہ صفت ان الفاظ میں  بیان فرمائی :

«اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»؛[1]

 

مسلمانوں کے درمیان رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث متواتر اور مسلم صورت میں مشہور و معروف ہے ۔

اکثر احادیث کا متن یہ ہے کہ «اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» اور کچھ دوسرے متون کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا : «آسمان کے ایک ایسے فرشتے نے میری زیارت کے لئے خدا سے اجازت طلب کی کہ جس نے میری زیارت نہیں کی تھی ، پس اس نے خبر دی اور مجھے خوشخبری سنائی کہ میری بیٹی فاطمہ میری امت کی عورتوں کی سردار ہیں ، اور حسن و حسین دونوں ؛ جوانان جنت کے سردار ہیں »:

«وَ إِنَّ حَسَناً وَحُسَيْناً سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ».

بعض روایات میں یہ جملہ میں مزکور ہے کہ آپ نے فرمایا :

«وَأَبُو هُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا».[2]

« اور ان (امام حسن اور امام حسین علیہما السلام) کے پدر ان سے بہتر ہیں».

نیز اس کے بعض طرق اور اسناد میں اہل بیت علیہم السلام کے کچھ دیگر فضائل بھی بیان ہوئے ہیں : [3]

2ـ حسين علیہ السلام ؛ محبوب پيغمبر

«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ». [4]

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حسن و حسین علیہ السلام سے بے حد محبت کرتے تھے  اور آپ ان سے انتہائی شفقت اور چاہت کا ظاہر کرتے تھے ۔ 

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت امام حسین علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے اورآنحضرت کی آپ  سے غیر  معمولی محبت تھی ۔روایات اور تواریخ کا اس بات پر  اتفاق ہے  کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام لوگوں اور اپنے قریبی رشتہ داروں کی بنسبت حضرت علی علیہ السلام،حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام  اور حضرت امام حسن و حسین علیہما السلام سے زیادہ محبت و مودّت کا اظہار فرماتے تھے ۔ ان کی محبت ایک باپ کی اپنی اولاد سے عام محبت کی طرح نہیں تھی  بلکہ اس کی بنیاد میں روحانی وابستگی پائی جاتی ہے جو ایک اتحاد ،معنوی اتصال اور مکمل فکری تکامل کی نشانی تھی۔ لہذا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

«إِنَّهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ»؛[5]

«وہ مجھ سے ہیں ، اور میں ان سے ہوں».

يا جیسا کہ زيد بن اَرْقَمْ کی حدیث میں وارد ہوا ہے :

«أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ»؛[6]

« جس کی تم سے صلح ہے  ،اس سے میری صلح ہے اور جس کی تم سے جنگ ہے ،اس سے میری بھی جنگ ہے»۔

و تعبيرات ديگر در ترجمه و تفسير اين رابطه و محبّت گزاف و مبالغه نيست؛ و عين واقع و حقيقت است.

اس محبت اور رابطے کے ترجمہ و تفسیر  کی دوسری تعبیرات میں کوئی مبالغہ نہیں ہے ، بلکہ یہ بالکل حقیقت اور واقعیت ہے ۔

روح کے حقیقی و واقعی رابطہ و اتصال  کے لئےہم فکر ہونا اور خالص وابستگی ضروری ہے  جس کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس جملہ سے وضاحت فرمائی ہے: «أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ»اور یہ جملہ اس نکتہ پر واضح دلالت کرتا ہے کہ ان کا طرز تفکر،روش اور طریقہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تفکر،روش اور سلوک کے ساتھ یکساں ہے۔جس میں کوئی فرق نہیں ہے اور کردار و رفتار اور جنگ و صلح کے لحاظ سےیہ ذوات مقدسہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کردار کی مانند ہیں۔

جب ہم  اس روایت کا مطالعہ کرتے ہیں ، اور امام حسین علیہ السلام سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت و الفت سے آگاہ ہوتے ہیں تو ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ان الفاظ و کلمات کے کہنے والے خود  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں، اور آپ وہ ذات ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں حقیقت سے عاری  باتوں ، بیہودہ گوئی اوت بیجا مدح و ثنا کا مقابلہ کیا  اور آپ کے کلمات و فرامین انسان کے لئے ہمیشہ حجت،قانون اور شریعت ہیں ۔آپ کے تمام فرمودات حقیقت کے  ترجمان ہیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جناب فاطمہ علیہا السلام کے علاوہ اور بھی بیٹیاں تھیں  اور علی علیہ السلام کے علاوہ  اور بھی چچا زاد بھائی  اور نزدیکی رشتہ دار تھے  لیکن اس کے با وجود صرف فاطمہ علیہا السلام ،علی علیہ السلام اور اولاد علی علیہم السلام سے ہی یہ سب اظہار محبت کیوں مخصوص تھا؟ کیوں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سب لوگوں اور اپنے اصحاب میں سے صرف ان ہستیوں کا انتخاب کیا؟

کیونکہ یہ چار ہستیاں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روح ، صفات  اور اخلاق و کمالات کی نمائندہ تھیں۔

ایک مؤمن مسلمان کے لئے امام حسین علیہ السلام کی عظمت کا بہترین معرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے یہی فرمودات ہیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت و دوستی کو بیان کرنے والی احادیث میں سے ایک یعلی بن مرّہ[7] کی حدیث ہے ۔ یعلی بن مرّہ روایت کرتے ہیں: ایک دن پیغمبرؐ کے اصحاب کے ہمراہ کسی دعوت میں شریک ہونے کے لئے روانہ ہوئے  کہ اچانک حسین علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جو کوچہ میں کھیل رہے تھے ،پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو روک کر اپنی باہیں پھیلائیں ، حسین علیہ السلام ادھر ادھر بھاگ رہے تھے  اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں ہنسا رہے تھے اور پھر آپ نے انہیں پکڑ لیا اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا ہاتھ ان کے سر کے نیچے رکھا اور  انہیں چوما  اور پھر فرمایا:

«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْناً، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ»؛

« حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ،خدا اس سے محبت کرے گا  جو حسین سے محبت کرے ،حسین اسباط میں سے سبط ہے»۔

نیز اسی حدیث مبارکہ کو  بخاري ،[8] ترمذي،[9] ابن‌ماجه[10] و حاكم[11] نے ان الفاظ میں روایت کیا ہے :

«حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْناً، اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْباطِ».

شرباصي ’’قاموس‘‘ میں یہ  حدیث  «حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْباطِ: اُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ»نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:’’سبط ‘‘ کے معنی جماعت و قبیلہ کے ہیں اور شاید حدیث کے معنی یہ ہوں کہ حسین علیہ السلام مقام کی رفعت و بلندی کے اعتبار سے ایک امت کا مرتبہ رکھتے ہیں یا یہ کہ ان کے عمل کا اجر و ثواب ایک امت کے اجر و ثواب کے برابر ہے ۔ [12]

مسلم ، ابن ‌عبدالبرّ اور شبلنجي نے ابوہريره سے روايت کیا ہے کہ پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حسن و حسين (علیہما السلام) کے حق میں فرمایا ہے :

«اَللَّهُمَّ إِنِّي اُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا»؛[13]

«خدايا ! بیشک میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، پس (تو بھی) ان سے محبت کر ، اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر» ۔

بغوي، ترمذي،[14] ابن‌اثير،[15] نسائي،[16] ابن‌حجر عسقلانی،[17] و سيد احمد زيني[18] نے اُسامه سے روايت كیا ہے کہ انہوں نے کہا : ایک رات میں اپنی حاجت بیان کرنے کے لئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر گیا ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر سے باہر تشریف لائے ، جب کہ آپ نے اپنی عباء میں کوئی چیز لپٹی ہوئی تھی ، جب میں نے اپنی حاجت بیان کر لی تو میں نے آنحضرت سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے جسے آپ نے اپنی عباء سے لپیٹا ہوا ہے ؟ اپنی نے عباء کا دامن ہٹایا تو میں نے حسن و حسین (علیہما السلام) کو دیکھا ؛ آپ  نے فرمایا ؛

«هَذَانِ ابْنَايَ وَاِبْنَا ابْنَتِي اَللَّهُمَّ إِنِّي اُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا»؛

«یہ دونوں میرے بیٹے ہیں ، اور میرے بیٹی کے بیٹے ہیں ۔ خدایا بیشک میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، پس تو بھی ان سے محبت کر ، اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر» ۔

ترمذي نے براء سے نقل كیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :

«اَللَّهُمَّ إِنِّي اُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا».[19]

«خدایا ! بیشک میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، پس تو بھی ان سے محبت کر» ۔ [20]

ترمذي[21] اور بغوي[22] نے انس سے روايت كیا ہے کہ پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا گیا کہ آپ اہل بیت میں کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں :

آپ نے فرمایا : «حسن اور حسين سے» ۔

سيوطي اور مناوي نے نقل كیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

«أَحَبُّ أَهْلِ بَيْتي إِلَيَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ».[23]

نيز ترمذي اور بغوي نے انس سے روایت کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فاطمہ علیہا السلام سے فرمایا :

«اُدْعِي لِي إِبْنَيَّ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ»؛[24]

«میرے بیٹوں کو بلاؤ تا کہ وہ میرے پاس آئیں ، پس آپ ان دونوں کو سونگھتے تھے اور اپنے سینے سے لگا تے تھے » ۔

احمد بن حنبل نے روايت كیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

«اَللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّ حُسَيْناً فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ»؛[25]

«خدايا ! بیشک میں حسین سے محبت کرتا ہوں ، پس جو کوئی بھی اس سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر» ۔

ابن ابی شیبہ نے نے بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روايت كیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

«اَللَّهُمَّ إِنّي اُحِبُّهُما فَأَحِبَّهُما وَأَبْغِضْ مَنْ يُبْغِضُهُما»؛[26]

«خدايا ! بیشک میں حسن و حسين سے محبت کرتا ہوں ، پس ان سے محبت کر ، اور ان سے دشمنی رکھنے والوں سے دشمنی رکھ » ۔

 

 


[1]. «حسن و حسين  دونوں  جوانان جنت کے سردار ہیں ».

.[2] ابن‌حجر هیتمی، الصّواعق‌المحرقه، ص191.

[3]. ابن ‌ماجه قزوینی، سنن، ج1، ص44؛ ترمذي، سنن، ج5، ص321، 326؛ نسائی، خصائص امیرالمؤمنین، ص117 ـ 118، 123 ـ 124؛ ابونعیم اصفهانی، حليةالاولياء، ج5، ص71؛ ابن‌عبدالبر، الاستيعاب، ج1، ص391؛ خوارزمي، مقتل‌الحسین علیہ السلام ، ج1، ص92، فصل 6؛ بغوی، مصابيح‌السنه، ج2، ص459؛ ابن‌طلحه شافعی، مطالب‌السّؤول، ص335، 376 ـ 378؛  طبری، ذخائرالعقبي، ص129؛ ابو‌الفداء، المختصر، ج‌1، ص284 ؛ حموینی، فرائدالسّمطين، ج1، ص35؛  زرندی، نظم دررالسّمطين، ص205؛  سیوطی، الجامع‌الصّغير، ج1، ص20؛ همو، الخصائص‌الكبري، ج‌2، ص395؛ همو، الحاوي، ج2، ص253؛ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج6، ص252؛ ابن‌حجر هیتمی، الصواعق‌المحرقه، ص137، 187، 191.

.[4] احمد بن حنبل، مسند، ج4، ص172؛ ابن‌ماجه قزويني، سنن، ج1، ص51؛ ترمذي، سنن، ج5، ص324؛ مفيد، الارشاد، ج2، ص127؛ ابن‌بطريق، عمدة عيون صحاح‌الاخبار، ص406؛ طبري، ذخائرالعقبي، ص133. «حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ».

[5]. خوارزمي، المناقب، ص63؛ رزندي، نظم دررالسّمطين، ص100؛ متّقي هندي، کنزالعمّال، ج12، ص101؛ قندوزي، ينابيع‌المودة، ج1، ص322؛ ج2، ص334، 443.

[6]. ابن‌ماجه قزوینی، سنن، ج1، ص52؛ ترمذي، سنن، ج5، ص360 (باب ما جاء فی فضل فاطمه).

[7]  ۔ ابن‌ماجه قزوینی، سنن، ج1، ص51؛ ترمذی، سنن، ج5، ص324؛ بغوی، مصابیح‌السنه، ج2، ص459؛ ابن‌طلحه شافعی، مطالب‌السّؤول، ص377؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج2، ص19؛ ج5، ص130 ۔

.[8] بخاري، الادب‌المفرد، ص85؛ همو، التاریخ الکبیر، ج8، ص414 ـ 415.

[9]. ترمذي، سنن، ج5، ص324.

[10]. ابن‌ماجه قزوینی، سنن، ج1، ص‌51.

[11]. حاکم نيشابوري، المستدرک، ج3، ص177.

[12]. شرباصي، حفيدةالرسول، ص40.

[13]. مسلم نیشابوری، صحیح، ج7، ص129؛ ابن‌عبدالبر، الاستيعاب، ج1، ص391؛ شبلنجی، نورالابصار، ص268.

[14]. ترمذي، سنن، ج5، ص322.

[15]. ابن‌اثير جزري، اسدالغابه، ج2، ص11.

[16] . نسائي، خصائص اميرالمؤمنين علیہ السلام، ص123.

[17]. ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج2، ص61.

[18]. زینی دحلان، السیرة‌النبويه، ج3، ص313.

[19] . ترمذي، سنن، ج5، ص322.

[20] . ترمذي، سنن، ج5، ص322.

.[21] ترمذي، سنن، ج5، ص323.

[22]. بغوي، مصابيح‌السنه، ج2، ص459.

[23]. سيوطي، الجامع‌الصّغير، ج1، ص37. «میرے اہل بیت میں میرے نزدیک سب سے محبوب حسن و حسين هیں».

[24]. ترمذي، سنن، ج5، ص323.

[25]. مناوی، كنوزالحقائق، ج1، ص44.

[26]. ابن‌ابی‌شیبه کوفی، المصّنف، ج7، ص511 ـ 513؛ مناوی، كنوزالحقائق، ج1، ص44؛ قندوزی، ینابیع‌الموده، ج2، ص71.

عاشورا كے چودہ پيغامات

مقابلے ميں زمانہ جاہليت كي غلط رسم و رواج كو زندہ كرنا تھا ۔ امام حسين عليہ السلام نے جب ان حالات كا مشاہدہ كيا تو قيام كيا تاكہ پيغمبر(ص) كي سنت كو زندہ كريں اور اپنے نوراني بيان ميں قيام كے اس مقصد كي جانب اشارہ بھي فرمايا : اني لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً و لا ظالماً ۔۔۔(۱) ميں فساد پھيلانے كے لئے نہيں نكلا ہوں بلكہ اپنے جد كي امت كي اصلاح كے لئے نكلا ہوں ۔۔۔۔ ميرا ارادہ ہے كہ ميں اپنے جد رسول خدا(ص) اور بابا علي مرتضيٰ (ع) كي سنت كو زندہ كروں اور ان كي سيرت پر عمل كروں ۔ 
۲۔امر بالمعروف كا احياء 
امام حسين عليہ السلام كے بيانات ميں قيام كا ايك فلسفہ جس بنياد پر امام عليہ السلام نے كربلا كي عظيم عمارت تعمير كي ،يہ ہے كہ آپ نے امر بالمعروف اور نہي از منكر كے لئے قيام كيا اور اپني اس عظيم تحريك اور نہضت كا فلسفہ ان دو فرموش شدہ فرائض يعني امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كو قرار ديا۔آپ نے فرمايا : اريد ان آمر بالمعروف وانھيٰ عن المنكر ۔۔۔ (۲) ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كرنا چاہتا ہوں ۔ اسي طرح ايك اور مقام پر فرمايا : اللہم اني احب المعروف و انكر المنكر (۳) خدايا ميں نيكيوں كو پسند كرتا ہوں اور برائيوں سے نفرت كرتا ہوں ۔
۳۔ مسلمان اور مسلمان نما افراد ميں جدائي 
جب تك امتحان و آزمائش كا مرحلہ پيش نہ آئے حقيقي ديندار اور ايمان كا زباني دعويٰ كرنے والے نہيں پہچانے جا سكتے ۔ كربلا حقيقت ميں وہ ميزان و معيار ہے جس كے ذريعہ حقيقي مومن اور زباني دعويٰ كرنے والے مسلمانوں كو پہچانا جا سكتا ہے ۔ جب تك زباني مسلمان اور حقيقي مسلمان كي پہچان نہ ہو اسلام كي حقيقي معرفت نہيں حاصل ہوسكتي جيسا كہ امام حسين عليہ السلام فرماتے ہيں : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتہم فاذا محصوا بالبلاء قل الديانون" لوگ دنيا كے غلام ہيں اور دين ان كي نوك زبان پر ہے جب آزمائش كا وقت آتا ہے تو دينداروں كي تعداد كم ہو جاتي ہے۔ 
۴۔ عزت 
سيد الشہداء امام حسين عليہ السلام كا تعلق اس خاندان سے جو آزادگي اور عزت كا كامل ترين نمونہ ہے اس لئے جس وقت آنحضرت ذلت بار زندگي اور با عزت موت كے دوراہے پر پہنچے تو آپ نے ذلت بار زندگي كو ٹھكرا كر با عزت موت كا راستہ اختيار فرمايا ۔ آپ نے اپنے بليغ كلام ميں اس كي جانب اس طرح اشارہ فرمايا : ابن زياد نے مجھے تلوار اور ذلت كے درميان ركھا ہے ليكن ذلت ہم سے دور ہے " ھيھات منّا الذلۃ " (۴) 
۵۔ ظالم حكومت كي مخالفت 
عاشورا كے عظيم اہداف ميں سے ايك ظلم و جور كا مقابلہ تھا ، اس زمانے كي ظالم و جابر حكومت معاويہ بن يزيد كے ہاتھوں ميں تھي ۔ اس لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے جد رسول خدا(ص) كے اس فرمان پر عمل كرتے ہوئے جو آپ نے فرمايا : " جو بھي كسي ظالم كو ديكھے كہ وہ حلال خدا كو حرام اور حرام الٰہي كو حلال كر رہا ہے ، ظلم و ستم كو جائز سمجھ رہا ہے، اور پھر اس پر اعتراض نہ كرے ، اس كے خلاف قيام نہ كرے تو خداوند كو يہ حق ہے كہ اسے اس كے اعمال كي سزا دے " (۵)
۶۔ مكتب شہادت كا احياء
جو چيز دين كي بقاء كا ضامن اور اس كے اقتدار و استحكام اور ترقي كا باعث ہے ، راہ خدا ميں جہاد اور شہادت طلبي كا جذبہ ہے ۔ امام حسين عليہ السلام نے يہ بيان كرنے كے لئے كہ دين صرف نماز ،روزہ اور حج كا نام نہيں ہے ، قيام كيا تاكہ دين خدا كي راہ ميں شہادت و فداكاري كے جذبے كو زندہ كريں اور لوگوں ميں شہادت طلبي كا جذبہ پيدا كركے ان كے دلوں سے دنيا كي محبت نكال ديں اور كربلا كے راستے ميں بارہا يہ جملہ ارشاد فرمايا : "فاني لا اريٰ الموت الا سعادۃ ۔۔۔" (۶)ميري نظر ميں موت سعادت و خوشبختي ہے ۔ 
۷۔ معيشتي اور عسكري محاصرہ سے خوف نہ كھانا 
عاشورا كا ايك اہم پيغام اپنے ايمان اور عقيدے پر ثابت قدم رہنا ہے چاہے انسان معيشتي اور عسكري محاصرے ميں گھر جائے ۔
جس طرح امام حسين عليہ السلام كو چاروں طرف سے گھير ليا گيا ، آپ پر پاني بند كر ديا گيا ، آپ كو آپ كے چاہنے والوں سے نہ ملنے ديا گيا ليكن امام اور ان كے اصحاب نے اپنے مقصد سے ايك قدم بھي پيچھے نہ ہٹايا ، اور كبھي شكست كا احساس نہ كيا ۔ اس لئے ايسے حالات ميں مسلم امت كا فريضہ ہے كہ جب وہ چاروں طرف سے مشكلات و مصائب ميں گرفتار ہو جائے تو امام حسين عليہ السلام كي اقتدا كرے اور اگر معيشتي پابندياں عائد كر دي جائيں تو مولائے كائنات كي پيروي كرے جيسا كہ آپ فرماتے ہيں : اگر سارے عرب فوج در فوج مجھ پر حملہ آور ہوں تو ميں وہ نہيں ہوں كہ پيٹھ دكھا كر فرار كر جاؤں ۔ (۷)
۸۔ منصوبہ بندي 
امام حسين عليہ السلام نے اپني نہضت كے تمام مراحل كے لئے منصوبہ بندي كي تھي چاہے وہ بيعت سے انكار كرنے كي بات ہو يا مدينہ سے مكہ كي جانب كوچ كرنے كا فيصلہ اور پھر وہاں چند مہينے قيام كے بعد عراق كي جانب سفر كرنے كا مرحلہ ہو ۔امام نے اس كے لئے كوفہ و بصرہ كي بزرگ شخصيات كو خط لكھا اور انھيں اپني نہضت ميں شريك ہونے كي دعوت دي ، مكہ و منا يہاں تك كہ كربلا ميں لوگوں كو اپنے مقاصد سے آگاہ كيا اور انھيں اپني طرف بلايا ۔ يہ ساري تياري اپنے اس ہدف كے لئے تھي جو امام حسين عليہ السلام كے سامنے تھا ۔ نہضت عاشورا كا كوئي عمل بغير تدبير و درايت اور منصوبہ بندي كے نہيں تھا يہاں تك كہ صبح عاشور امام حسين عليہ السلام نے اپنے مختصر سے اصحاب كو اكٹھا كر كے انھيں الگ الگ ذمہ دارياں ديں اور لشكر كا سردار معين فرمايا ۔ (۸)
۹۔ وظيفہ كي ادائگي 
عاشور كے اس پيغام كي طرف توجہ بہت ضروري ہے تاكہ يہ پيغام ہمارے معاشرے ميں اپنا مقام حاصل كر سكے اور معاشرے كي ثقافت كا جز بن سكے ۔ يعني انسان اپنا وظائف كو سمجھے اور اس پر عمل كرے چاہے اس كام ميں وہ كامياب ہو يا ناكام اسے اپنا وظيفہ انجام دينا چاہئے نتيجہ كي پرواہ نہيں كرني چاہئے ۔ كام كا نتيجہ كيا ہوگا يہ اہم نہيں ہے ۔ امام حسين عليہ السلام ارشاد فرماتے ہيں " ارجوا ان يكون خيراً ما اراد اللہ بنا ، قتلنا ام ظفرنا " (۹) ميري خداوند عالم سے درخواست ہے كہ جو اس نے ميرے حق ميں ارادہ كيا ہے اسے ميرے لئے خير قرار دے چاہے ميں اس راہ ميں قتل كر ديا جاؤں يا ظاہري كاميابي حاصل ہو ۔ يعني امام حسين عليہ السلام نے جو كام انجام ديا وہ ان كے حق ميں خير تھا چونكہ انھوں نے اپنے فرض كو ادا كيا ۔ اگر فرض شناسي اور وظائف كي انجام دہي معاشرے ميں رائج ہو جائے تو كبھي بھي معاشرے ميں كوئي اقدار پامال نہيں ہوں گي ۔ 
۱۰۔ ولي اور قائد كي حمايت 
واقعہ عاشورا ميں ايك چيز جو سب سے زيادہ جلوہ نما ہے وہ قائد اور امام برحق كي حمايت ہے ۔باوجود اس كے كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے اصحاب سے بيعت اٹھا لي ليكن وہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت سے دستبردار نہ ہوئے اور انھيں تنہا نہيں چھوڑا ۔ كربلا ميں جن لوگوں نے امام كي حمايت ميں زبان كھولي ہے ان كے بيان سے يہ پيغام بالكل واضح ہے ۔ حبيب بن مظاہر ، زھير بن قين اور ديگر لوگوں كا بيان اس بات پر شاہد ہے ۔ خود علمدار كربلا حضرت ابوالفضل العباس عليہ السلام كے اشعار اس حمايت كي واضح دليل ہيں ۔ " اگر تم ہمارا داياں ہاتھ كاٹ بھي دو پھر بھي ميں امام كي حمايت سے دستبردار نہيں ہوں گا ۔ ميں اپنے دين اور امام برحق كي حمايت كرتا رہوں گا " (۱۰) مسلم بن عوسجہ نے بھي زخمي ہونے كے بعد آخري سانسيں ليتے ہوئے حبيب بن مظاہر سے وصيت كي كہ امام حسين عليہ السلام كي حمايت كريں اور ان كي راہ ميں اپني جان قربان كر ديں ۔ " اوصيك بھٰذا ان تموت دونہ " (۱۱) ميں تمھيں ان (امام حسين عليہ السلام ) كي وصيت كرتا ہوں كہ جب تك جان ميں جان رہے ان كي حمايت كرنا۔
۱۱۔ دنيا، دار امتحان ہے 
دنياوي تعلقات اور دنيا طلبي ہي تمام فتنوں اور لغزشوں كا سبب ہے ۔ بہت سے لوگ جب ان امتحان ميں مبتلا ہوتے ہيں تو اپنے فرض كو ادا نہيں كر پاتے اور دنيا انھيں اپني طرف كھينچ ليتي ہے ۔ يہ دنيا طلبي ہي تھي جس كي وجہ سے ابن زياد ، عمر سعد (لعنھم اللہ) جيسے لوگ امام حسين عليہ السلام كے مقابلے ميں آگئے اور جو لوگ مولائے كائنات سے سياسي ضرب كھا چكے تھے سب كوفہ آ پہنچے ۔ 
جاہ و مال كے طالب حكومت ري كے خواہاں اور امير كوفہ كے انعامات كے شيفتہ لوگوں نے امام حسين عليہ السلام كے خون سے اپنے ہاتھ رنگين كر لئے ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے فرمايا : " الناس عبيد الدنيا والدين لعق عليٰ السنتھم يحوطونہ ما درت معايشھم " (۱۲) لوگ دنيا كے غلام ہيں دين ان كي نوك زبان پر ہے جب تك ان كا كام چلتا ہے دين كي باتيں كرتے ہيں ليكن جب امتحان كا موقع آتا ہے تو دين كا ساتھ چھوڑ ديتے ہيں ۔ اسي لئے امام حسين عليہ السلام نے اپنے دشمنوں كو خطاب كرتے ہوئے فرمايا : " فلا تغرنكم ھذہ الدنيا فانھا تقطع رجاء من ركن اليھا "(۱۳) دنيا تمھيں فريفتہ نہ كرے جو بھي دنيا پر بھروسہ كرے گا اس كي اميديں كبھي پوري نہيں ہوں گي ۔ 
۱۲۔ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہے 
جيسا كہ قرآن كريم نے وعدہ كيا ہے اور روايت ميں بھي كثرت سے وارد ہوا ہے كہ توبہ كا دروازہ ہميشہ كھلا ہوا ہے ۔ واقعہ عاشورا ميں اس كا كاملترين مصداق ديكھنے كو ملتا ہے ۔ حر بن يزيد رياحي جو امام حسين عليہ السلام كو گھير كر كربلا ميں لے آيا اور خود لشكر يزيد ميں ايك ہزار سپاہيوں كا سردار تھا ليكن صبح عاشور باطل كو چھوڑ كر حق كي طرف پلٹ آيا اور امام حسين عليہ السلام سے آ ملا اور توبہ و جہاد كر كے خود كو شہدائے كربلا ميں شامل كر ليا ۔ يہ واقعہ اس بات پر دليل ہے كہ انسان ہر حالت ميں حق و حقيقت كي طرف پلٹ سكتا ہے اور ہميشہ مغفرت كا راستہ كھلا ہوا ہے ۔ 
۱۳۔ حقوق الناس كي رعايت 
معصومين عليھم السلام كي سيرت ميں يہ امر بہت ہي اہميت كا حامل ہے اگر چہ دشت كربلا ميدان كارزار تھا ليكن وہاں بھي امام حسين عليہ السلام نے حقوق الناس كي رعايت كي ۔ آنحضرت نے كربلا كي زمين كو ان كے مالكوں سے خريدا اور اسے وقف كيا۔ زمين كربلا كا كل رقبہ چار ميل تھا (۱۴) اسي طرح عاشور كے دن يہ اعلان كيا كہ جو بھي كسي كا مقروض ہو وہ ہمارے ساتھ نہ رہے ۔(۱۵)
۱۴۔ رضائے الٰہي پر راضي رہنا 
رضائے الٰہي پر راضي رہنا عرفاء كے كمالات ميں سے ايك ہے ۔ اہلبيت(ع) كي ايك خاص صفت يہ تھي كہ ہميشہ خدا كي رضا پر راضي تھے اور خدا كي مرضي كو ہميشہ مقدم ركھتے تھے ۔ امام حسين عليہ السلام نے اپني زندگي كے آخري لمحات ميں اپنے خدا سے اس طرح مناجات كي ۔ " صبراً عليٰ قضائك يا رب ، لا الٰہ سواك " (۱۶) خدايا ميں تيري رضا پر راضي ہوں ، تيرے سوا كوئي معبود نہيں ہے ۔ اسي لئے اہلبيت(ع) كي مرضي كو خدا كي مرضي كہا گيا ہے جيسا كہ امام حسين عليہ السلام نے اپنے ايك خطبہ ميں ارشاد فرمايا : رضي اللہ رضانا اہل البيت " (۱۷) خدا كي مرضي ہم اہلبيت(ع) كي مرضي ہے ۔

حوالہ   جات
۱۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴ 
۲۔ حياۃ الامام الحسين بن علي (ع) ، ج/۲، ص/۲۶۴
۳۔ بحارالانوار ، ج/۴۳،ص/۳۲۸
۴۔ لھوف ،ص/۵۷
۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۶۰ 
۶۔ بحارالانوار ،ج/۴۴،ص/۳۸۷
۷۔ نھج البلاغہ 
۸۔ رہ توشہ راھيان نور ،جواد محدثي ،ص/۷۶
۹۔ اعيان الشيعہ ، ج/۱ص/۵۹۷
۱۰۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۳۷
۱۱۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۹۷
۱۲۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۳۷۳
۱۳۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۲۷۸
۱۴۔ مجمع البحرين ، ذيل كلمہ حرم 
۱۵۔ موسوعۃ كلمات الامام الحسين(ع) ،ص/۴۱۷
۱۶۔ مقتل الحسين (ع) مقرم ، ص/۳۵۷
۱۷۔ اعيان الشيعہ ،ج/۱،ص/۵۹

مصائب عاشورا

(مرحوم حضرت آيت ‌اللّه آخوند ملا محمد جواد صافی گلپايگانی ‌(قدس سره) کے بیانات سے اقتباس)

پہلی مصيبت

جب ابو الفضل العباس علیہ السلام کے دونوں بازو قلم ہو گئے اور آپ کی آنکھ میں تیر پیوست ہو گیا ، اور آپ کا بدن مطہر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے زخموں سے اس طرح چھلنی ہو چکا تھا کہ جس طرح شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہو ۔ آپ بچوں کے لئے جو پانی لا رہے تھے وہ زمین پر بہہ گیا : آيِساً مِنَ الحَيَاةِ  وَ قَرِيباً  إِلَى الْمَمَاةِ ، آپ زندگی سے ناامید اور موت کے قریب تھے کہ ایک ملعون لوہے کا گرز لے کر سامنے آیا اور جب اس نے دیکھا کہ عباس کے ہاتھ نہیں ہیں اور اب وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو اس نے نہ خدا و رسول سے شرم کی اور نہ ہی اس مظلوم پر رحم کیا اور وہ گرز اپنی پوری قوت سے آپ کے سر اقدس پر مارا کہ آپ کا مغز  آپ کے شانوں پر گر گیا ۔

چو دشت بلا از غمش تار شد
ور افتاد با سينه چاک‌چاک
 

 

کشيد آه و از زين نگون‌سار شد
به‌ سر باد خاکم، ز زين روي خاک
 

 

 حضرت عباس نے آواز دی : يَا أَخَاه ! أَدْرِكْ أَخَاكَ الْعَبَّاسَ ۔ اے بھائی ! اپنے بھائی عباس کی مدد کو پہنچئے ۔ جب امام ‌حسين علیہ السلام نے اپنے بھائی کی فریاد سنی تو ایک  آہ بلند کی اور جگر سوز فریاد کی : «اَلْآنَ انْکَسَرَ ظَهْرِي وَ انْقَطَعَ رَجَائِي وَ قَلَّتْ حِيلَتِي». وَأَتَی زَيْنَبُ، فَنَادَتْ: «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔ (۱)

’’ اب میری کمر ٹوٹ گئی ، میری امید دم توڑ گئی ، میرا حیلہ اور چارہ جوئی کم ہو گئی ‘‘ ۔ اور جب حضرت زینب کبریٰ نے حضرت عباس کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا : «وَاعَبَّاسَاهُ!» ۔

دوسری مصيبت

آپ سب نے سنا ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ عاشورا کے دن (لشکر حسین علیہ السلام میں سے ) چند لوگوں پر پتھر برسائے گئے کہ جن میں سے ایک قاسم بن حسن ہیں کہ جن کے نازک اور پھول سے بدن پر پتھر برسائے گئے اور ان کے جسم کو تیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور کسی نے ان کے بچپن ، بے کسی ، غریب الوطنی ، یتیمی اور ان کی پیاس پر رحم نہ کیا ۔

آه آه ۔ وا اسَفاه ! کتاب بحار الانوار میں ذکر ہوا ہے کہ حميد‌ بن مسلم کہتا ہے : میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ جو چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا اور جس کی نعلین کا ایک بند کھلا ہوا تھا اور اس پر لشکر نے ہر طرف سے بھیڑیوں کی طرح حملہ کر دیا لیکن جب وہ نوجوان حملہ کرتا تو لشکر اس طرح سے بھاگ جاتا کہ جیسے بھیڑیں کسی شجاع شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں ۔ عمر بن سعد ازدی نے کہا : ان لوگوں کے گناہ مجھ پر ہوں  اگر مجھے موقع ملے اور میں اسے قتل نہ کروں ۔ پس اسے موقع ملا اور اس نے پیچھے سے قاسم پر حملہ کیا اور اس طرح قاسم کے سر پر تلوار سے وار کیا کہ قاسم کا سر شگافتہ ہو گیا ۔ لشکر نے قاسم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان کے پھول سے نازک بدن کو نیروں ، تلواروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا گیا اور جب گھوڑے سے گرے تو فریاد کی : يَا عَمَّاهُ ! أَدْرِکْنِي ۔اے چچا ! میری مدد کو پہنچئے ۔

امام‌ حسين‌ علیه‌السلام ایک غضبناک شیر کی طرح ان کی طرف روانہ  ہوئے ۔ اور جب آپ وہاں پہنچے تو ملعون ؛ قاسم کا سر جدا کرنا چاہتا تھا ۔  آپ نے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کا ہاتھ  کاٹ دیا ۔

 اس نے لشکر سے مدد مانگی اور اس کی قوم نے امام حسین علیہ السلام کو گھیر لیا  اور اسی جنگ میں قاسم کا بدن گھوڑوں کے سموں کے نیچے پامال ہو گیا ۔ اور جب لشکر حیدر صفدر کے حملوں سے منتشر ہو گیا تو امام حسین علیہ السلام قاسم کے پاس آئے ، جب کہ قاسم کے جسم میں کچھ رمق باقی تھی ، اور اپنے پاؤں زمین پر رگڑ رہے تھے ؛ فَبَکَی الْحَسَيْنُ‌ (علیه‌السلام) وَ قَالَ : «وَاللهِ يَعِزُّ عَلَی عَمِّكَ أَنْ تَدْعُوهُ فَلَا يُجِيبُكَ أَوْ يُجِيبُكَ فَلَا يُعِينُكَ أَوْ يُعِينُكَ فَلَا يُغْنِي عَنْكَ».

 پس حسیں علیہ نے گریہ کیا اور فرمایا : ’’ خدا کی قسم ! تمہارے چچا کے لئے بہت ناگوار ہے کہ تم اسے پکارو ، لیکن وہ تمہیں جواب نہ دے سکے ، یا جواب دے لیکن تمہاری مدد نہ کر سکے ، یا تمہاری ممد کے لئے آئے لیکن وہ تمہیں بے نیاز نہ سکے ‘‘ ۔

تیسری مصيبت

صديقۂ صغریٰ فرماتی ہیں :

لَيَتَ‌ السَّمَاءَ طُبِقَتْ عَلَی الْأَرْضِ

وَلَيْتَ الْجِبَالَ تَدْکَدَکَتْ عَلَی السَّهْلِ   (۲)

 «اے کاش ! آسمان ، زمین پر گر پڑتا  اور اے کاش ! پہاڑ ، دشت کی طرح ریزہ ریزہ ہو جاتے» ۔

یہ وہ وقت تھا کہ جب امام حسین علیہ السلام گھوڑے سے زمین پر گرے اور آپ کا بدن مطہر خاک و خون میں غلطاں تھا ۔ عبد الله ‌بن ‌الحسن اپنے چچا کو اس حال میں میں دیکھ کر سخت بے قراری و بے تابی کے عالم میں امام علیہ السلام  کی طرف دوڑے ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «يَا اُخْتَاه ! أَحْبِسِيهِ» ؛ «اے میری بہن ! عبد الله کو روکو کہ وہ اس مصیبت انگیز بیابان میں نہ آئے اور خود کو تیروں اور تلواروں کا ہدف قرار نہ دے» ۔

جناب زينب نے عبد اللہ بن حسن کو پکڑا اور انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن عبد اللہ بن حسن نے بہت اصرار کیا  اور کہا : لَا وَ اللهِ ! لَا أُفَارِقُ عَمِّيِ ۔ خدا کی قسم ! میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا ۔ وہ خود کو جناب زینب سے چھڑا کر امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچے ۔

اسی وقت ابن ‌کعب لعنۃ اللہ علیہ نے امام حسین علیہ السلام پر تلوار سے حملہ کرنا چاہا ، فَقَالَ لَهُ: وَيْلَكَ يَا بْنَ الْخَبِيثَة! أَ تَقْتُلُ عَمِّي؛ عبد الله بن حسن نے کہا : اے زانيه کے بیٹے ! کیا تم میرے چچا کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ (وہ اپنے چچا کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ) انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے چچا کے لئے ڈھال بنایا لیکن اس ملعون نے تلوار سے وار کیا جس سے عبد اللہ بن حسن کے ہاتھ کٹ گئے ۔پس انہوں نے آواز دی : يا عمّاه ! امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے انہیں پکڑا اور اپنے سینے سے لگا کر فرمایا : «يَا ابْنَ أَخِي! اِصْبِرْ عَلَی مَا نَزَلَ بِكَ وَاحْتَسِبْ فِي ذَلِكَ الْخَيْر فَإِنَّ‌ اللهَ يَلْحَقُكَ بِآبَائِكَ الصَّالِحِينَ» ۔ (۳)  ’’ اے میرے بھتیجے ! تم پر جو مصیبت بھی آئے اس پر صبر کرو ، اور اس میں خیر ہی سمجھو ، اور بیشک خدا تمہیں تمہارے صالح آباء و اجداد کے ساتھ ملحق فرمائے ‘‘۔

جب عبد اللہ بن حسن ، امام حسین علیہ السلام کی آغوش میں تھے تو حرملہ ملعون نے ایک تیر چلا کہ جس سے عبد اللہ بن حسن کی شہادت واقع ہو گئی ۔

پس آن‌سان ظالمي تيري رها کرد                                 که اندر مقتل شه‌زاده جا کرد

ندانم شاه را چون گشت احوال                                                که اينجا، عقل مات و نطق شد لال

چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

چوتھی مصيبت

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے علی اکبر کو دیکھا کہ جس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے ، جس کا سر شگافتہ ہے ، جس کے ہونٹ خشک ہیں اور جو خاک و خون میں غلطاں ہو کر جان دے رہا ہے تو آپ نے بے ساختہ ایسی فریاد کی کہ دوست اور دشمن سبھی ان کی حالت پر روئے ۔

پس امام حسین علیہ السلام نے خود کو گھوڑے سے گرا دیا ’’وَ وَضَعَ خَدَّهُ عَلَی خَدِّه ‘‘ ، اور اپنا چہرا ان کے چہرے پر رکھ دیا ، اور جب آپ نے بے تابی کے عالم میں اپنے بیٹے کے چہرے پر اپنا چہرا رکھا تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ شمس و قمر کی آپس میں ملاقات ہو رہی ہو ۔

راوی کہتا ہے : کچھ دیر کے بعد ہی امام حسین علیہ السلام نے اپنا چہرا اٹھایا تو علی اکبر کے سر سے خون ان کے چہرے پر جاری ہوا ۔

يقين شد صافي آن‌سان حالت شاه                                                          که اشکش شد بماهي آه بر ماه

پانچویں مصيبت

امام‌ حسين‌ علیه‌ السلام آخری دم تک صابر اور قضاء الٰہی پر راضی تھے اور آنحضرت سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دیا جائے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف راغب نہیں ہو گا اور میں اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

اور شاید آپ نے یہ کلمات اس وقت بیان فرمائے کہ جب آپ صالح بن وہب کے نیزے کی ضرب سے گھوڑے کی زین سے زمین پر آئے ۔

جگر تفتيده با چشمان نمناک
گُهر ريزان ز ديده لعل مي‌سُفت
تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا
 

 

فتاد آن هيکل توحيد بر خاک
به‌ شکر وصل در آن حال مي‌گفت
وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا
 

 

چھٹی مصيبت

جب علی بن الحسین علیہما السلام (علی اکبر علیہ السلام) کا بدن مبارک زخموں کی کثرت اور خون بہہ جانے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تو ایک ملعون کو موقع ملا ، اس نے اپنی تلوار سے آپ کے سر اقدس پر وار کیا کہ جس سے بہت گہرا زخم لگا اور (یہ دیکھ کر )سارا لشکر جری ہو گیا ، لشکر نے چاروں طرف سے حملہ کیا ، اور انہیں تیروں اور تلواروں کا نشانہ بنایا ۔ جب جناب علی اکبر کی طاقت جواب دے گئی تو آپ نے گھوڑے کی گردن میں باہیں ڈالیں اور نیچے کی جانب جھک گئے اور گھوڑے کی لگام چھوڑ دی ، گھوڑ ایک طرف سے دوسری طرف بھاگ رہا تھا اور وہ جس سوار کے پاس بھی پہنچتا تھا وہ آپ کے بدن مبارک پر حملہ کر کے زخمی کرتا تھا ۔ فَقَطَّعُوهُ بِسُيُوفِهِمْ إِرْباً إِرْباً ؛ ان کے بدن مطہر کو تلواروں سے پارہ پارہ کر دیا ۔ پس جناب علی اکبر  گھوڑے سے زمین پر آئے تو آواز دی : يَا أَبَتَاه! هَذَا جَدِّي رَسُولُ اللهِ قَد سَقَانِي بِکَأْسِهِ الْأَوْفَى.اے بابا جان ! یہاں مرے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) موجود ہیں کہ جنہوں نے مجھے اپنے جام سے سیراب فرمایا ہے ‘‘

جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے جوان بیٹے کی فریاد سنی تو آپ نے جگر سوز فریاد کی اور فرمایا : «قَتَلَ اللهُ قَوْماً قَتَلُوكَ» ؛ ( ۴)

گفت: اي جان پدر روحي فداک                               باد بر دنيا پس از مرگ تو خاک

ساتویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام ان تمام مصائب ، مشکلات ، تکالیف اور سختیوں (اگر یہ  پہاڑوں پر پڑتیں تو وہ اس کی تاب نہ لا کر ریزہ ریزہ ہو جاتے) پر صابر اور قضائے الٰہی پر راضی رہے ۔ بھوک اور پیاس کی شدت کا عالم ، بدن پر بے شمار زخم ، ہر طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے کہ جو آپ کے بدن پر ایک کے بعد ایک زخم لگا رہے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود آپ بار بار خدا کی بارگاہ میں عرض کر رہے ہیں : «صَبْراً عَلَی بَلَائِكَ وَ رِضاً بِقَضَائِكَ» ؛ ’’ خدایا ! میں تیری بلاؤں اور مصیبتوں پر صابر ہوں اور تیری رضا پر راضی ہوں ‘‘  اور آپ خشک زبان  اور سوختہ جگر سے کبھی پانی طلب کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :

«وَاعَطَشَاه ! وَاقِلَّةَ نَاصِرَاه ! يَا قَوْمِ !ِ اِسْقُونِي شَرْبَةً مِنَ الْمَاءِ قَبْلَ طُلُوعِ رُوحِي مِنْ جَسَدِي»؛

«اے بے مروت لوگو! اے بے رحم لوگو ! مجھے ایک گھونٹ پانی دے دو ، اس سے پہلے کہ مرے جسم سے میری روح پرواز کر جائے» ۔

به سبط پيمبر خدا را ثوابي                             گذاريد منّت به يک جرعه آبي

شد از تيغ و خنجر دلم پاره‌پاره                        شده زخم‌هايم فزون از ستاره

شما را گر از قتل من نيست چاره                   دهيد آب، رحمي به حال خرابي

بده مهلت اي شمر تا مادر آيد                      رها کن مگر باب من بر سر آيد

ز خيمه به بالين من خواهر آيد                     مکن بي‌مروّت به قتلم شتابي

آٹھویں مصیبت 

امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے کہ آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا :

تَرَکْتُ النَّاسَ طُرّاً فِي هَوَاکَا                                                           وَأَيْتَمْتُ الْعِيَالَ لِکَيْ أَرَاکَا؛

اے میرے خدا ! میں نے لوگوں کو تیری خواہش اور تیری محبت میں چھوڑ دیا ، اور تیری رضا اور وصل تک پہنچنے کے لئے میں نے اپنے بچوں کو یتیم اور اپنے اہل و عیال کو در بہ در کیا ۔

وَلَوُ قَطَعْتَنِي فِي الْحُبِّ إِرْباً                                                          لَمَا حَنَّ الْفُؤَادُ إِلَی هَوَاکَا؛

اور اگر ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دے تو پھر بھی میرا دل ہرگز تیرے غیر کی طرف نہیں جائے گا اور اپنا درد دل کسی اور جگہ بیان نہیں کروں گا ۔

نمودم ترک مردم را جميعاً در هواي‌ تو                          يتيم‌ و دربه‌در کردم عيال خود براي ‌تو
نمایي پاره‌پاره‌گر مرا اندر ره‌ عشقت                                           دلم هرگز نخواهد رفت سوي ما‌سواي ‌تو 

آه آه! مجھے نہیں معلوم کہ امام حسین علیہ السلام نے کس وقت یہ کلمات بیان فرمائے ؛ کیا اس وقت یہ کلمات بیان فرمائے کہ جب سہ شعبہ تیر آپ کے قلب مبارک پر پیوست ہو گیا اور جس سے ناودان (پرنالہ) کی طرح خون جاری ہو گیا اور آپ نے وہ خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنے چہرے اور داڑھی پر مل لیا اور فرمایا : «هَکَذَا أَکُونُ حَتَّی اَلْقَی جَدِّي رَسُولَ اللهِ وَ (أَنَا مَخْضُوبٌ بِدَمی ) و َ أَقُوُلَ قَتَلَنِي فُلَانٌ وَ فُلاَنٌ » ؛ (۵)

خدا کی قسم !میں اسی خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جد رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) سے ملاقات کروں گا اور کہوں گا : اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) مجھے فلاں فلاں نے قتل کیا ہے ۔

یا آپ نے اس وقت یہ کلمات بیان کئے کہ جب صالح بن وہب  لعنۃ اللہ علیہ نے آپ کے پہلو میں اس طرح سے نیزہ  مارا کہ آپ گھوڑے کی زین سے زمین پر آ گئے ۔

چو پهلو شد ز جنب‌الله پاره                                       ز عين‌الله بر مه شد ستاره

شد اندر ذات حقّ چون باب ممسوس                          فتاد از صدر زين با آه و افسوس

نویں مصیبت

اگر صحرائے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے جسم مطہر زخمی نہ ہوتا ، اور آپ کے سر اقدس کو بدن اطہر سے جدا نہ کیا جاتاتب بھی  آپ کی شہادت کے لئے وہ تیر ہی کافی تھا کہ جو آپ کے دل میں پیوست ہو گیا ۔ جب ابو الحتوف ملعون نے کمان سے ایک تیر چلایا جو آپ کی پیشانی مبارک پر آ کر لگا  اور ایک روایت کے مطابق کہ اس  نے آپ کی پیشانی مبارک پر ایسا پتھر مارا کہ پیشانی شگافتہ ہو گئی ۔

ز کف ، سنگين‌دلي ، سنگي رها کرد                       به پيشاني وجه‌الله جا کرد

چو  پيشاني  وجه ‌الله  بشکست                               به عين‌الله، خون، راه نظر بست

         پر از خون گشت روي شاه اطهر                            چو  در  روز  اُحد  روي  پيمبر

آپ کے چہرے اور داڑھی پر خون جاری ہوا ، اور آپ نے اپنے  چہرۂ اقدس سے خون  صاف کرنے کے لئے دامن سے زرہ ہٹائی اور اپنے پیراہن کو کھینچا تو آپ کا قلب مبارک درخشاں آفتاب کی مانند نمایاں ہوا ؛ فَأَتَاهُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ لَهُ ثَلَاثَةُ شُعَبٍ ؛ (۶) ’’ایک سہ شعبہ زہر آلود تیر آیا ۔

چو دامان کرد بالا، شد نمايان                                    يکي تيري سه‌پَر از شصت بدخواه
چو آن تير از قفايش سر به ‌در کرد                                ندانم رفت چون بر شاه مظلوم
چرا صافي نشد زين درد و ماتم                                     دل پر نور، يعني عرش رحمن
رها گشت و نشست اندر دل شاه                                   دل پاک پيمبر را خبر کرد
دل نازک کجا و تير مسموم                                        بسيط خاک، جاي چرخ اعظم؟

دسویں مصیبت

امام حسین علیہ السلام کے عظیم اور سخت مصائب میں سے ایک آپ کا آخری وداع اور اہلبیت اطہار علیہم السلام سے رخصت ہونا ہے ۔ آپ تصور کریں کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی کیا حالت اور کیا کیفیت رہی ہو گی ، جب وہ یہ جانتے ہیں کہ اس کے اب کبھی حسین کو نہیں دیکھ پائیں گے مگر جب حسین خاک و خون میں غلطاں ہوں گے  اور حسین کا سر نیزے پر بلند ہو گا ۔ اس وقت نہ کوئی یاور و انصار ، نہ کوئی ناصر و مددگار  ہو گا ،  اس وقت سب  بیکس و لاچار اور بے یار و مددگار   ہوں گے  ، اور ایک بیابان ہے ہو گا کہ جس میں سنگدل  اور بے رحم دشمن ہو گا۔ 

قَالَتْ سَکِينَةُ: يَا أَبَتَاه! اِسْتَسْلَمْتَ لِلْمَوْتِ ؛

سکينه نے عرض کیا : اے بابا جان ! کیا آپ موت کی طرف جا رہے ہیں ؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«کَيْفَ لَا يَسْتَسْلِمُ (لِلْمَوْتِ) مَنْ لَا نَاصِرَ لَهُ وَ لَا مُعِينَ» ؛ (۷)

«وہ کیسے موت کی طرف نہ جائے کہ جس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہو؟» ۔

سکینہ نے اپنے سر پر ماتم کرتے ہوئے  نوحہ و گریہ کی بنیاد رکھی ۔

امام ‌حسين‌ علیه ‌السلام نے فرمایا :

لَا تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِكَ حَسْرَةً                         مَادَامَ مِنِّي الرُّوحُ فِي جُثْمَانِي

(اے سکینہ جان ! ) اپنے حسرت بھرے آنسؤں سے میرے دل کو مٹ جلاؤ کہ جب میرے جسم میں روح موجود ہے ۔

فَإِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي                          تَأْتِينَهُ يَا خَيْرَةَ النِّسْوَانِ  (۸)

اور جب میں قتل ہو جاؤں تو تم سب سے زیادہ مجھ پر رونے کی مستحق ہو ، اے سب سے بہترین نسواں ۔

حوالہ جات

۱ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص42 ۔

 ۲ ۔ ابن ‌طاووس ، اللہوف ، ص73 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص54 ۔

۳ ۔ طبری ، تاريخ ، ج 4 ، ص344 ؛ مفيد ، الارشاد ، ج2 ، ص110 ؛ ابن ‌نما حلی ، مثیر ‌الاحزان ، ص55 ـ 56 ۔

 ۴ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص44 ؛ بحرانی اصفہانی ، عوالم ‌العلوم ، ص286 ـ 287۔

 ۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص53 ۔

 ۶ ۔ ابن‌ طاووس ، اللہوف ، ص71 ؛ امين عاملی ، اعيان ‌الشيعه ، ج 1، ص 610 ؛ ایضاً ، لواعج ‌الاشجان ، ص187 ۔

۷ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج45 ، ص47 ۔

۸ ۔ ابن ‌شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب ، ج4 ، ص109ـ 110۔

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام کا معجزاتی کردار

 

 

اسلام کی ترقی میں مجالس حسین علیہ السلام  کا معجزاتی کردار

محرم الحرام کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے سلسلہ وار نوشتہ جات (5)

 

 

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے نتائج میں سے ایک عزاداری و سوگواری اور آپ کے ذکرمصائب ہے جو سال بھر بیان کیاجاتا ہے اور جس میں سماج کی تعلیم و تربیت اور ہدایت و اخلاق کا سامان ہے۔

مشہور فرانسیسی مستشرق کتررینو(جوزف) اپنی کتاب ’’اسلام و مسلمان‘‘(جو عربی زبان میں ’’الاسلام والمسلمون‘‘کے نام سے شائع ہوئی ہے)میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے فلسفہ،مصائب، ماتمی انجمنوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان کی ہے۔نیز ان مراسم کے سیاسی و اخلاقی ،تربیتی و کمالاتی پہلو ؤں اورشیعہ سماج میں ایران کی مرکزیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔انہوں نے پوری دنیا اور بالخصوص بعض ممالک جیسے بندوستان وغیرہ میں سید الشہداء کی عزاداری کو شیعہ مذہب کی ترقی و بقاءکا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان مجالس و مراسم کی حفاظت سے مستقبل میں شیعوں کی آبادی اور شیعہ مذہب کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گا۔

یہ شرف شناس شخص شیعوں کی جانب سے عزاداری امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کئے جانے والے اموال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی بنسبت دوسرے مذاہب تبلیغ اور دین کی دعوت کے لئے اس قدر خرچ نہیں کرتے ۔اس راہ میں اسلام کے باقی فرقوں کے مقابلہ میں شیعہ تین گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں  اور اگر کوئی شیعہ کسی دور افتادہ مقام پر بھی ہو تو وہ تنہا طور پر مجالس عزاء کا انعقاد کرتا ہے اور فقراء پر انفاق کرتا ہے اور نذر و نیاز تقسیم کرتا ہے اور حقیقت میں دین کی تبلیغ کرتا ہے۔ 

خطبا ء و واعظین اوربرجستہ مقررین کی تربیت ،عوام الناس کے اخلاق کی پرورش اور انہیں علوم و معارف سے آشنا کرنے کے لئے منبر،وعظ اور خطابت کو خاص مقام حاصل ہے۔منبر سے تمام مسائل کو بیان کیا جاتا ہے اور ان کے متعلق بحث کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شیعہ عوام دوسرے تمام فرقوں کی بنسبت اپنے مذہب کے عقائد سے زیادہ آشنا ہے اور اگر پوری دنیا میں دیکھا جائے تو کسی بھی دوسرے معاشرے میں شیعوں کی مانند علمی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار نہیں ہے  اور شیعہ فرقہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ فرقہ ہے اور جو علوم  اور جدید صنعت کے حصول کے لئے زیادہ آمادہ ہے۔آبادی کے تناسب سے شیعہ طبقہ زیادہ تعداد میں اعلیٰ درجوں پر فائز ہے ۔شیعوں نے تلوار کے زور سے اپنے مذہب کی ترویج نہیں کی بلکہ تبلیغ اور دین کی طرف دعوت کے ذریعہ شیعت کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔ مجالس عزاء کا انعقاد باعث بنا کہ دو تہائی مسلمان بلکہ ہندؤوں اور مجوسیوں کی ایک جماعت اور دوسرے مذاہب نے بھی شیعوں کے ساتھ مل کر امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء کا انعقادکیا ۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں شیعوں کی آبادی دوسرے  تمام فرقوں کی بنسبت زیادہ ہو گی۔شیعوں نے ان مجالس و مراسم کے ذریعہ (کہ جن میں دوسرے لوگ بھی شرکت کرتے ہیں)دوسرے مذاہب اور اقوام و ملل میں نفوذ کیا  اور دوسروں تک اپنے مذہب کے اصول کی تبلیغ کی۔اکثر مغربی سیاستدان عیسائیت کی ترقی و ترویج کے لئے بے شمار مال و دولت خرچ کرکے اسی نتیجہ کی خواہش رکھتے ہیں۔

انہوں نے مختلف انجمنوں ،عزاداری کے پرچموں اور نشانیوں کے فوائد اور ان کی شرح بیان کی ہے۔پھر وہ اتحاد  اور شوکت و استقلال میں اضافہ کے لئے ان شعائر کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:شیعوں کی تائید کرنے والے طبیعی و فطری امور میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص فطری طور پر مظلوم کا طرفدار ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔

 یہ یورپی مصنفین و مؤلفین ہیں جو اپنی کتابوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شہادت کو مفصل طور پر لکھتے ہیں اور جو سید الشہدا ء امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی مظلومیت کی تصدیق کرتے ہیں  اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کا نام نفرت سے لیتے ہیں ، کوئی چیز بھی ان فطری امور ، وجدانی ادراکات  اور شیعہ مذہب کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

البتہ ممکن ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو سال بھرشیعوں کی جانب سے مجالس عزا ء کے انعقاد میں کروڑوں  کے اخراجات کو  اسراف شمار کرتے ہوں لیکن اگر ان مجالس کے معنوی فوائد اور سماج کی تربیت  اور اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مجالس ہی اصلاح اور تربیت کا بہترین وسیلہ ہیں۔

یہ مجالس امر اہلبیت علیہم السلام کے احیا ء اور مذہب شیعہ بلکہ اسلام کی بقاءکے  اعلٰی رموذ میں سے ہیں۔اگر ہزاروں لاکھوں ملین کا بجٹ اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترویج کے لئے قرار دیا جائے  اور اس مقصد کے لئے پورے  سال کلاسیں رکھی جائیں تو پھر بھی وہ اس قدر پائیدار واقع نہیں ہوں گی اور نہ ہی عوام الناس میں انہیں اتنا سراہا جائے گا۔

لیکن امام حسین علیہ السلام نے اخلاق،پاک و خالص نیت اور راہ خدا میں جاں نثاری کی دولت کے ذریعہ ایک ایسی درسگاہ قائم کی ہے کہ چودہ صدیوں کے بعد بھی اس کی کلاسوں اور اس کے مختلف شعبوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مختلف مقامات پر ان کلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،نشریات و مطبوعات اور تقاریر کے ذریعہ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کلاسوں میں عورتیں اور مرد سبھی شرکت کرکے حقیقت اور فداکاری کا درس حاصل کرتےہیں۔

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے قیام اور آپ کی جاں نثاری و فداکاری کی تاریخ کو پڑھنا اور سننا ایمان کو راسخ،اخلاق کو نیک و پسندیدہ اور ہمتوں کو بلند کرتا ہے۔

سال بھرمساجد،امام بارگاہوں اور گھروں میں منعقد ہونے والی یہ مجالس ظلم و استبداد اور کفر و شرک کے خلاف جنگ اور امام حسین علیہ السلام کے اغراض و مقصد کی کامیابی کا اعلان ہیں۔

لوگوں کو اخلاقی فضائل اور حریت کی طرف راغب کرنے کی ایک مؤثر راہ یہ ہے کہ انہیں عملی نمونہ دکھایا جائے اور ان کے سامنے دنیا کے ممتاز حضرات کی تاریخ زندگی بیان کی جائے۔اب امام حسین علیہ السلام کی تاریخ حیات سے بڑھ کر کس کی تاریخ زندگی زیادہ مؤثر اور مفید ہو سکتی ہے؟

سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء  اسلام کی طرف دعوت دینے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ان مجالس میں لوگوں کو معارف قرآن،اصول و فروع دین، تفسیر و حدیث ،تاریخ، سیرت پیغمبر و ائمہ اطہار علیہم السلام ،سیرت صحابہ، مواعظ، اخلاقی و سماجی رہنمائی،امور خانہ داری سے لے کر ملک چلانے تک کے آئین زندگی تعلیم دیئے جاتے ہیں۔ان مجالس میں امام حسین علیہ السلام کے نام کی کشش لوگوں کو ریاکاری کے بغیر سادگی سے تعلیم و ہدایت اور تربیت کے لئےحاضر کرتا ہے۔

یقینی طور پر کوئی بھی دوسرا ذریعہ اس مقصد کو پورا نہیں کر سکتا ۔امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک مقناطیس کی طرح سب کو اپنی طرف جذب کرتا ہے اور آنحضرت کی غیر معمولی محبوبیت ایسی  ہے کہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے آپ سے وابستہ رہے،آپ کے محبوں میں شمار ہو اور آپ کے مصائب پر اشکبار ہو ۔

یہ کم نہیں ہے کہ اگر لوگوں سے امور خیریہ اور لوگوں کی مالی معاونت کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ بہت ہی کم مال صرف کرتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے نام پر کسی کے کہے بغیر خود ہی بے شمار مال و دولت خرچ کرتے ہیں اور مستحقین تک پہنچاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان مجالس کی صورت میں اصلاح اور ملکی ترقی،نوجوان نسل کی ہدایت، عورتوں اور مردوں کی ہدایت کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہے لیکن افسوس کہ ہم اس سے صحیح اور شائستہ طور پر استفادہ نہیں کرتے۔کیا سماج کی تربیت و رہنمائی اور معاشرے کی اخلاق و فکری سطح کی ترقی کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء سے بڑھ کر کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جا سکتا ہے کہ جسے عام لوگ بھی اس انداز سے سراہیں؟!

جن لوگوں کے پاس حسین ہو،اور جو حسین کے غم میں  ماتم،سینہ زنی اور گریہ کرتے ہوں،انہیں آزادی اور سماجی عدالت کے لئے نمونہ ہونا چاہئے۔

جن لوگوں کے امام کا یہ خوبصورت و جذاب اور جاودانہ جملہ «لا اَرَی الْمَوْتَ اِلّا سَعادَةً وَلاَ الْحَياةَ مَعَ الظّالِمينِ اِلّا بَرَما» تاریخ کے صفحات میں يادگار بن جائے، انہیں کسی ظالم و جابر کا ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

جو لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اس پر لعن و طعن کی وجوہات میں ایک کفار سے مل کر سازش کرنا اور اسلامی ممالک کے خلاف خیانت شمار کرتے ہیں،انہیں خود بھی اس قبیح روش سے دور رہنا چاہئے۔
ہمارے موجودہ زمانے میں امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزاء  اور تعزیہ سے بڑھ کر اور کوئی اہم تبلیغی شعبہ نہیں ہے،اگر ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کریں تو تربیت اور انسانی فضائل کی طرف دعوت دینے کے لئے اس کے بے شمار فوائد و نتائج ہیں۔
سال بھراخلاق اور دین و علم کی یہ درسگاہیں کھلی رہتی ہیں اور محرم و صفر کے مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہوں گے جو ان درسگاہوں میں حاضر نہیں ہوتے۔ بالخصوص ہمارے موجودہ دور میں جدید تبلیغی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ہدایت کے اس وسیلہ سے بہتر انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔

میری نظر میں ايران، افغانستان، پاكستان، هندوستان، عراق، شام، لبنان، احسا و قطيف، بحرين و قطر، يمن و مصر اور دنیا کے جن دوسرے ممالک میں امام حسين ‎عليه السّلام کی عزاداری رائج ہے،وہاں دوسرے تمام ممالک کی بنسبت عوام الناس کی صلاح و خیر کے لئے زیادہ خیراتی ادارہ قائم ہیں۔ پس امام حسین علیہ السلام کے اداروں کی مانند اور کسی ادارے سے اس قدر  استفادہ نہیں کیا جا سکتا۔

میں پھر یہ بات دہراتا ہوں: انصاف یہ ہے كه ہم اس وسیع دسترخوان سے اس طرح مستفید نہیں ہو رہے جس طرح اس سے استفادہ کرنے کا حق تھا۔جو لوگ جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہندوستان میں سید الشہدا ء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا ء کے ذریعہ ہی شیعہ مذہب کی تبلیغ و ترویج ہوئی ہے اور عزاداری کی انہی مجالس کے ذریعہ مختلف اقوام و ملل پر آپ کی حقیقت و روحانیت اثرانداز ہوئی ہے۔ «ماربين» کے بقول؛کچھ سال پہلے تک ہندوستان میں شیعوں کی آبادی انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا تھا لیکن اب امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی برکتوں سے شیعہ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

پس اب یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام کی شہادت و فداکاری اسلام کی نجات کا باعث بنی،اسی طرح آپ کی مجالس عزا ء اور ذکر مصائب بھی دین کی بقا ء اور سماج کی ہدایت کا باعث تھیں اور ہیں۔

رسالت عاشورائی (۱)

مبلغین کی عاشورائی رسالت

ماہ محرم میں تبلیغ کی اہمیت

مرحوم آیت اللہ العظمی حائزی یزدی (قدس سرہ) کی کاوشوں سے سنہ ۱۳۴۰ ہجری میں قم کے قدیمی حوزۂ علمیہ کی تجدید عمل میں لائی گئی ۔ اس حوزۂ علمیہ میں درسی سرگرمیوں کے ساتھ  ساتھ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے کہ جس میں بزرگ اساتید ، علماء ، آیات عظام ، مؤلفین ، خطباء ، واعظین اور برجستہ مبلغین شہروں ، دیہاتوں اور ہر سماج کو تبلیغ ، معارف دین  اور  اہلبیت اطہار علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ احکام اسلام سے روشناس کروانے کواپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لئے وہ مکتب حسینی اور ذکر مصائب اہلبیت علیہم السلام سے  لوگوں کی باطنی اور پاکیزہ رغبت اور بالخصوص کربلا کے جانسوز واقعہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اور ماہ مبارک رمضان کے علاوہ ماہ محرم میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر مصائب سے کربلا کی بے نظیر نہضت و تحریک کے مقاصد کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مدرسہ اسّی سال سے زائد عرصے سے  تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے جوکہ انحرافات ، کج روی ، کج فہمی ، بدعات اور دوسری برائیوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہا ہے ۔ حوزۂ علمیہ باطل کے ابطال اور عقائد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ سے سماج میں مؤثر اور کارساز رہا ہے ۔

تبلیغ کے متعلق اہم نکات

تبلیغ کے متعلق ایسے اہم نکات کہ جنہیں جاننا چاہئے :

بندۂ حقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ تبلیغ کے متعلق کچھ ایسے نکات بھی بیان کئے جائیں کہ جو شاید بعض حضرات کی نظر میں مخفی اور پنہاں نہ ہوں:

1ـ مخاطبین کو ان اہم مطالب سے خبردار کریں:

اب کچھ ایسے حالات درپیش ہیں کہ اسلام اور کفر میں ایک طرح کی تازہ کشمکش دکھائی دیتی ہے ۔ انقلاب اسلامی ایران ، اسلامی تفکر کا احیاء و تجدید ، مسلمانوں کا اسلامی استقلال کی طرف رجحان ، دیرینہ عظمت کی طرف بازگشت  اور المختصر یہ کہ عام بیداری ؛ اور بالخصوص نوجوان اور پڑھے لکھے طبقہ کا بیدار ہونا اور اس کے علاوہ کچھ دیگر موارد باعث بنیں ہیں کہ اسلام کے دشمن تقریباً پہلی جنگ عظیم کے بعد بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی ممالک پر مسلط ہو گئے اور انہوں نے ان ممالک میں اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے ان پر قبضہ کر لیا ۔ لہذا اب وہ اپنے قبضہ اور تسلط کے خاتمہ سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام خواہی کے نام پر مسلمانوں کی مخالفت اور انہیں نابود کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اس مقصد کے لئے وہ وسیع پیمانے پر تبلیغات  کے علاوہ مختلف قسم کے آشکار و مخفی اور سیاسی و اقتصادی وسائل بروئے کار لائے حتی انہوں نے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا ۔

لہذا مسلمانوں کو استقامت، صبر، پائيداری اور خداوند متعال  کی نصرت سے دشمنوں پر غلبہ پانے کی امیددلانی چاہئے اور انہیں اس کی تشویق و ترغیب کرنی چاہئے ۔

غرب گرائی (Westernization) ، مغربی سماج کی عادات کی پیروی ، ان کی تقلید حتی لباس اور ظاہری طور پر معمولی اور چھوٹے نظر آنے والے امور سے لے کر اہم امور تک سب میں ان کی تقلید کرنا جیسے عورتوں اور مردوں کے درمیان مخلوط نظام  کی ترویج ، مختلف قسم کے نعرے ، منجملہ عورتوں سے تبعیض کا خاتمہ ، یا آزادی بیان کے نام پر مطلق آزادی ، شریعت کے بعض احکام کو پامال کرنا، موسیقی کی ترویج ، شریعت سے بے اعتناء ہنرمندوں اور اسلامی شعار سے بیزاری کا اظہار کرنے والوں کی بڑے پیمانے پر تشویق ؛ یہ سب اسلامی ہویّت و شناخت کوبدلنے یا اسے کمزور کرنے کی سازشیں ہیں ۔

مسلمانوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ غرب گرائی کی جانب ترجحان کے خطرات کی طرف توجہ کریں لیکن بد قسمتی سے ان میں کافی وسعت آ چکی ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اسلامی ہویّت اور شناخت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیں اور ہر حال میں ہر جگہ اس کے پابند رہیں اور اس پر ناز کریں ۔ اسلام ، قرآن ، تشیع اور ولایت ائمہ علیہم السلام پر افتخار کریں ۔ تمدن اور اسلامی اخلاق کو ہر تمدن اور اخلاق سے برتر سمجھیں»۔  (۱)

امام حسین علیہ السلام کی راہ ؛ قرآن کی راہ ہے ، احکام پر عمل کرنے کی راہ ہے ، اسلام اور توحید پر افتخار کرنے کی راہ ہے ، خدا پر ایمان رکھنے کی راہ ہے ۔ یہ راہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ کفر و بت پرستی ، شرک یزدان و اہرمن ، فرعون و نمرود اور جمشید کے استکبار کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ فساد ، فرسودہ نظام ، گناہوں اور ان امور پر فخر کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کی راہ تجمل پرستی ، اسراف  ، تکبر ، استکبار اور لوگوں کو حقیر شمار کرنے کی راہ نہیں ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام ؛ قرآنی پیغام ہے کہ جس میں حقیقی اقدار کے لحاظ سے عورت و مرد میں مساوات ہے :

’’إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللّٰهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً‘‘(۲)

«بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ، اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں ، اور صابر مرد اور صابر عورتیں ، اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں ، اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں ، اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ، اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی عورتیں ، اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے خدا کا ذکر کرنے والی عورتیں ،  اللہ نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہیا کر رکھا ہے » ۔

جو سماج اور معاشرہ امام حسین علیہ السلام کی راہ پر گامزن ہو ؛ وہاں ان امور اور اقدار پر افتخار کیا جاتا ہے اور ان اقدار میں مرد اور خواتین نہ صرف ہم پلہ ہوتے ہیں بلکہ ان اقدار میں وہ  ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ اور ان کا مختلف مجالس و محافل ، کالج ، یونیورسٹیوں اور دفاتر وغیرہ میں ( جہاں اجنبی حضرات سے براہ راست واسطہ پڑتا ہے ) میں مخلوط ہونا مسلمان عورت کی شأن ، پارسائی اور اسلامی تربیت سے سازگار نہیں ہے ۔ مغرب زدگی یعنی مغرب کی اندھی تقلید انسان کی ہویّت و شناخت اور اس کی شخصیت کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے ۔ ماہ محرم و صفر میں علماء و فضلا ، اساتید اور خطباء کو چاہئے کہ وہ اپنے مواعظ ، بیانات اور تقاریر میں لوگوں کو ان بنیادی اور اہم مطالب کی طرف متوجہ کریں ۔

2ـ تبلیغ  کے بنیادی اصولوں کو پہچانیں

تقاریر ، خطابات اور بیانات میں یہ معانی خیز حدیث مبارک واضح ہے کہ :

«حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَامْسِکُوا عَمَّا یُنْکِرونَ». (۳)

«لوگوں کے لئے وہی چیزیں بیان کریں کہ جنہیں وہ جانتے ہیں اور ایسی چیزیں بیان کرنے سے گریز کریں کہ جن کے وہ منکر ہو جائیں» ۔

یہ حدیث ایک دستور العمل ہے اور مقتضائے حال کی بناء پر کلام و تکلّم میں بلاغت کا بھی یہی تقاضا ہے ۔ تبلیغ کے دوران انبیاء علیہم السلام کا بھی یہی منشور رہا ہے لہذا مناسب یہی ہے کہ ہر علاقہ کا جائزہ لیا جائے اور وہاں کی دینی اور مذہبی کمزوریوں کو ( اگر وہاں دینی و مذہبی کمزوریاں موجود ہوں تو) پہنچانا جائے اور تقاریر و بیانات اور خطابات کے دوران شائستہ انداز میں ان ضعف نکات کر برطرف کرنے کی طرف توجہ کی جائے ۔

3 ۔ جوانوں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں

جوانوں ، نوجوانوں اور طالب علموں سے شفیقانہ رابطہ برقرار کریں اور والہانہ انداز میں ان کا استقبال اور پذیرائی کریں اور تسلی و اطمینان سے ان کی باتوں اور ان کے سوالات کو سنیں اور ان کے جوابات دیں ۔(۴)

عاشورائی دروس

درس معرفت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ الله(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ؛ أَلَا وَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ بُغَاةَ الْعِلْمِ». (۵)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ؛ آگاہ ہو جاؤ کہ علم حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے» ۔

قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (عليه ‌السلام) : «أَيُّهَا النَّاسُ اعْلَمُوا أَنَّ كَمَالَ الدِّينِ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ بِهِ وَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ أَوْجَبُ عَلَيْكُمْ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ، إِنَّ الْمَالَ مَقْسُومٌ بَیْنَکُمْ مَضْمُونٌ لَكُمْ قَدْ قَسَمَهُ عَادِلٌ بَيْنَكُمْ وَضَمِنَهُ سَيَفِي لَكُمْ وَ الْعِلْمُ مَخْزُونٌ عَلَیْکُمْ عِنْدَ أَهْلِهِ قَدْ أُمِرْتُمْ بِطَلَبِهِ مِنْهُمْ فَاطْلُبُوهُ» ۔ (۶)

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا : «اے لوگو ! جان لو کہ دین علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے کامل ہوتا ہے ۔ اور بیشک تم پر مال کےحصول سے زیادہ علم کا حصول واجب ہے ، مال تم میں تقسیم ہو چکا ہے اور اس کی ضمانت دی جا چکی ہے اور ایک عادل شخص نے اسے تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے اور جلد ہی اس پر وفا کریں گے ، لیکن علم و دانش کو اہل علم اور دانشوروں کے پاس رکھا گیا ہے اور تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے علم طلب کرو ، پس ان سے طلب کرو» ۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «تَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ مِنْكُمْ فِي الدِّينِ فَهُوَ أَعْرَابِيٌّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: ﴿لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾» ۔ (۷)

« دین میں تفقہ ، بصیرت اور آگاہی حاصل کرو ؛ تم میں سے جو دین میں بصیرت اور تفقہ نہ رکھتا ہو وہ اعرابی اور بادیہ نشین ہے ۔ خداوند عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : ’’ اور دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو انہیں عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح سے ڈرنے لگیں».

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «عَلَيْكُمْ بِالتَّفَقُّهِ فِي دِينِ الله وَلَا تَكُونُوا أَعْرَاباً فَإِنَّهُ مَنْ لَمْ يَتَفَقَّهْ فِي دِينِ اللهِ، لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُزَكِّ لَهُ عَمَلاً» ۔ (۸)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «تم پر لازم ہے کہ خدا کے دین میں تفقہ کرو ( یعنی دین میں بصیرت اور آگاہی حاصل کرو) اور اعرابی نہ بنو ( یعنی تمدن و ثقافت سے دور بادیہ نشین نہ رہو) ؛ کیونکہ جو شخص دین میں بصیرت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ، خداوند قیامت کے دن اس پر نظررحمت نہیں کرے گا اور اس کے عمل کو پاکیزہ نہیں کرے گا»۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (عليه ‌السلام) : «لَوَدِدْتُ أَنَّ أَصْحَابِي ضُرِبَتْ رُءُوسُهُمْ بِالسِّيَاطِ حَتَّى يَتَفَقَّهُوا» ۔ (۹)

حضرت امام جعر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «میں یہ دوست رکھتا ہوں کہ اپنے اصحاب کہ سروں  پر تازیانے ماروں تا کہ وہ دین میں تفقہ اور بصیرت حاصل کریں» ۔

مکتب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شاگرد

اس بارے میں معتبر روایات دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام اور آپ کے فرزندوں کو مخصوص علم تعلیم دیا ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی املاء اور علی علیہ السلام کے خط سے لکھی گئی کتاب سے ہمیشہ اس خاندان تطہیرنے استناد کیا اور اس کی طرف رجوع کیا ۔ حقیقت میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات و تبلیغات اور ان کی سیرت و اسلوب معاشرے کی تربیت اور انسانیت کی ہدایت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مکمل و متمم ہدف تھا۔

مشہور اور متواتر حدیث ’’حدیثِ ثقلین‘‘(۱۰)کی بنیاد پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام امت کو ان بزرگ ہستیوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس حدیث شریف کی رو سے اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کی علمی صلاحیت ظاہر و آشکار ہو جاتی ہے ۔

ان کے علاوہ اہلسنت سے بھی اس بارے میں دوسری بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں کہ مکتب نبوت کے تربیت شدہ افراد میں سے علی علیہ السلام نے دوسرے تمام اصحاب کی بنسبت سب سے زیادہ انوار نبوت سے استفادہ کیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علمی مسائل اور مشکلات میں علی علیہ السلام ہی سب کے لئے مرجع ہیں اور تمام شرعی علوم آنحضرت پر منتہی ہوتے ہیں ۔

حضرت امام علی علیه ‌السلام کے بعد امامت اور علمی و دینی رہبری کا ‏منصب الٰہی آپ کے بیٹوں حضرت امام ‌حسن ‌مجتبی اور سید الشہداء حضرت امام ‌حسين علیہ السلام کو حاصل تھا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اسلامی مسائل ، علوم تفسیر اور شرعی احکام میں لوگوں کے لئے پناہگاہ تھے اور آپ کے سخن قاطع و مقبول اور آپ کی روش و اسلوب نمونہ و میزان تھی ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام ؛ چراغ اسلام

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور حالات پر جس قدر زیادہ غور و فکر کیاجائے ، ہم پر یہ راز و رمز  اسی قدر آشکار ہوتا چلا جاتا ہے کہ دین کے امور میں آنحضرت خارق العادہ بصیرت اور غیبی بینش کے حامل تھے ۔ اہلبیت علیہم السلام کے دشمنوں اور بالخصوص معاویہ اور مروان کے مقابلہ میں آنحضرت کے احتجاجات ، معاویہ کو لکھے گئے خطوط ، مختلف مناسبات کے موقع پر آپ کے ارشاد فرمائے گئے خطبات ، دعائے عرفہ اور دوسری دعاؤں سے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا علم و دانش ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات ، مکتوبات ، فرمودات اور دعائیں شیعہ و سنّی کتب میں نقل ہوئے ہیں ۔

خوارج میں سے فرقۂ ازارقہ کے سربراہ نافع بن ازرق نے امام‌حسين‌‏‌علیه‌ السلام سے ‏عرض كیا :

آپ اپنے خدا کی توصیف بیان کریں کہ جس کی آپ پرستش کرتے ہیں !۔

امام‌ حسين‌‏ علیه ‌السلام نے فرمایا :

«يَا نَافِعُ إِنَّ مَنْ وَضَعَ دينَهُ عَلَی الْقِيَاسِ لَمْ يَزَلِ الدَّهرَ فِي الْإِلْتِبَاسِ مَائِلاً نَاكِباً عَنِ الْمِنْهَاجِ ظَاعِناً بِالْإِعْوِجَاجِ ضَالّاً عَنِ السَّبِيلِ قَائِلاً غَيْرَ الْجَمِيلِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ أَصِفُ إِلَهِي بِمَا وَصَفَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَعْرِفُهُ بِمَا عَرَفَ بِهِ نَفْسَهُ، لَا يُدْرَكُ بِالْحَواسِّ وَلَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ، قَرِيبٌ غَيْرُ مُلْتَصِقٍ، وَبَعِيدٌ غَيْرُ مُسْتَقْصِي، يُوَحَّدُ، وَلَا يُبَعَّضُ، مَعْرُوفٌ بِالْآيَاتِ، مَوْصُوفٌ بِالْعَلَامَاتِ، لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالُ»؛

«اي نافع! جو شخص بھی اپنے دین کی بنیاد قیاس پر رکھے ؛ وہ پوری عمر غلطی پر ہی رہے گا اور راہ سے منحرف ہو جائے گا ، کج روی اختیار کرے گا اور گمراہ ہو جائے گا اور نازیبا کلمات کہے گا ۔ اے ابن ازرق! میں اس چیز سے خدا کی توصیف کرتا ہوں کہ جس سے اس نے خود اپنی توصیف بیان فرمائی ہے ۔ اسے نہ تو حواس سے درک کیا جائے اور نہ ہی لوگوں پر اس کا قیاس کیا جائے ۔ وہ نزدیک ہے لیکن کسی چیز سے متصل اور ملحق شدہ نہیں ہے ۔ اور وہ دور ہے لیکن اس نے دوری اختیار نہیں کی ( خداوند متعال کی دوری و نزدیکی ؛ دوسری مخلوقات و موجودات کی دوری و نزدیکی کی مانند نہیں ہے ۔ اس کی دوری و نزدیکی مادی حواس کے ذریعے قابل درک نہیں ہے ) ۔ وہ یگانہ ہے لیکن وہ تبعیض اور تجزیہ و ترکیب سے مبرّا ہے ، وہ کچھ نشانیوں سے پہچانا گیا ہے اور کچھ علامتوں سے اس کی توصیف کی جاتی ہے اور خدائے کبیر و متعال کے سوا کوئی خدا نہیں ہے».

ابن‌ ازرق نے روتے ہوئے کہا :

یَا حُسَیْنُ مَاأَحْسَنَ كَلَامَكَ؛

اے حسین ! آپ کا کلام کس قدر خوبصورت ہے!

امام حسين علیه ‌السلام نے فرمایا : «مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میرے پدر اور میرے بھائی کے سامنے میرے کفر کی گواہی دیتے ہو!».

ابن‌ازرق نے کہا : أَمَا وَاللهِ یَا حُسَیْنُ لَئِنْ کَانَ ذَلك لَقَدْ کُنْتُمْ مَنَارَ الْإِسْلَامِ وَنُجُومَ الْأَحْکَامِ ۔ (۱۱)

اے حسین ‌(علیه‌ السلام) ! اگر مجھ سے یہ نازیبا حرکت صادر ہوئی ! تو بیشک آپ اسلام کے چراغ اور احکامِ خدا کے ستارے ہیں ۔

یعنی لوگوں کو آپ کے علوم و معارف کے انوار سے نور اور روشنی حاصل کرنی چاہئے اور تاریکی میں آپ کے وجود کے ستاروں سے ہدایت پانی چاہئے ۔

امام حسين علیه‌ السلام ؛ شمع بزم عالمان

 ابن‌كثير نے کتاب البدایة و النهایه میں بیان کیا ہے کہ : امام حسین (علیہ السلام) اور ابن زبیر مدینہ سے مکہ کی طرف گئے اور مکہ میں قیام پذیر ہوئے ۔ امام حسین (علیہ السلام) لوگوں کے لئے مورد توجہ قرار پائے ۔ لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے پاس آئے ، آپ کے ارد گرد بیٹھتے ، آپ کے فرامین سنتے ، آپ سے سنے گئے فرمودات سے مستفید ہوتے ، آپ کے کلمات کو محفوظ کرتے اور انہیں روایت کرنے کے لئے لکھتے تھے۔(۱۲)

علایلي نے کتاب سمو المعني میں لکھا ہے کہ : لوگ اس طرح سے امام حسین (علیہ السلام) کی معنویت و عظمت پر فریفتہ و شیفتہ تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کو اس قدر محبوب رکھتے تھے کہ وہ ہر کسی اور ہر جگہ سے منصرف ومنقطع ہو کر آنحضرت کی طرف آتے ۔ امام حسین (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کے اتنے مرید اور عقیدت مند نہیں تھے ؛ گویا لوگ امام حسین (علیہ السلام) کے وجود میں عالم ابداع الٰہی کی کسی دوسری حقیقت کا مشاہدہ کرتے تھے ۔ اور جب امام حسین (علیہ السلام) خطاب فرماتے تھے تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے عالم غیب کی زبان گویا ہو چکی ہے کہ جو انہیں مخفی اسرار و رموز اور نہاں حقائق سے آگاہ کر رہی ہے ، اور جب آپ خاموش ہو جاتے تو آپ کی خاموشی بھی کسی مختلف انداز میں انہیں دوسرے حقائق سے باخبر کرتی تھی  ؛ کیونکہ بعض حقائق کا عمیق خاموشی کے سوا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے آپ سطور ، کلمات اور جملات کے درمیان فاصلہ اورنقطہ کی مثال کو مد نظر رکھیں کہ لکھی گئی کتاب کی طرح اسی ایک خالی نقطہ کا بھی معنی ہے اور اس نقطہ کے علاوہ کسی تحریر کا کوئی معنی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ (۱۳)

مذکورہ کلام سے لوگوں کے درمیان امام حسین علیہ السلام کی علمی محبوبیت آشکار ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے لوگوں کو سختی کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ حکومتی کارندے اور جاسوس ہمیشہ لوگوں کا تعاقب کرتے تھے کہ کہیں کوئی شخص امام حسین علیہ السلام سے رابطہ نہ رکھے ۔ لیکن تلوار اور فوجی طاقت کے ذریعے لوگوں کو کیسے ان کے دل اور ضمیر سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ طاقت اور قدرت کبھی بھی انسانی شعور پر مسلط نہیں ہو سکتی ۔ تلوار کے زور پر لاگو کیا گیا قانون کبھی بھی انسان کے باطن اور معنویت پر نفوذ نہیں کر سکتا ۔

اس کے بعد علايلی لکھتے ہیں : حسين ‌(علیه‌ السلام)  كثير الحديث و الروايه تھے ۔ اس زمانے میں اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہت سارے اصحاب حدیث نقل کرتے تھے لیکن لوگ سب کو چھوڑ کر حسین (علیہ السلام) کی مجلس میں آتے ۔ اس کے بعد علایلی نے حضرت امام حسین علیہ السلام سے کچھ احادیث نقل کی ہیں ۔ (۱۴)

حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات علم و ذوق سے سرشار ہیں جو آپ کی قوّت فطانت ، استعداد اور منطقی استحکام کی حکایت کرتی ہیں ۔ یہ روایات و اخبار قابل شمار نہیں ہیں ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام علمی مسائل میں اس طرح سے اظہار نظر فرماتے اور فتویٰ دیتے کہ جو لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوتا ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ بن عمر نے آپ کے حق میں کہا :

إِنَّهُ يَغُرُّ الْعِلْمَ غَرّاً ۔ (۱۵)

جس طرح پرندے اپنے بچوں کو اپنی چونچ سے غذا کھلاتے ہیں ، اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے بیت نبوت و ولایت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علوم کی غذا کھا کر اور معارف اسلام کے سینہ سے دودھ پی کر نشو و نما پائی ۔

درس عبادت

احادیث

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «فِي التَّوْرَاةِ مَكْتُوبٌ : يَا ابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ غِنًى وَلَا أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ وَعَلَيَّ أَنْ أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَمْلَأَ قَلْبَكَ خَوْفاً مِنِّي وَ إِنْ لَا تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأُ قَلْبَكَ شُغُلاً بِالدُّنْيَا ثُمَّ لَا أَسُدَّ فَاقَتَكَ وَ أَكِلُكَ إِلَى طَلَبِكَ» ۔ (۱۶)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : « توریت میں لکھا ہے : اے ابن آدم ! تمہاری توجہ میری عبادت و بندگی کی طرف رہے  تو میں تمہارے دل کو بے نیازی سے بھر دوں گا اور تمہیں تمہاری طلب اور جستجو میں نہیں چھوڑوں گا ، اور تمہاری ضرورتوں کو اپنے ذمہ لے لوں گا اور تمہارے دل کو اپنے خوف سے بھر دوں گا ، اور اگر تمہاری توجہ میری عبادت کی طرف نہ ہوئی تو میں تمہارے دل کو دنیا میں مشغول ہونے سے بھر دوں گا اور تمہارے فقر کی چارہ جوئی  نہیں کروں  گا اور تمہیں تمہاری طلب پر چھوڑ دوں گا » ۔

قَالَ الصَّادِقُ ‌‌(عليه ‌السلام) : «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَا عِبَادِيَ الصِّدِّيقِينَ ! تَنَعَّمُوا بِعِبَادَتِي فِي الدُّنْيَا فَإِنَّكُمْ تَتَنَعَّمُونَ بِهَا فِي الْآخِرَةِ» ۔ (۱۷)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «خداوند نے فرمایا : اے میرے سچے اور حقیقی بندو ! دنیا میں میری عبادت کے ذریعے نعمتیں حاصل کرو اور بیشک اسی کے ذریعے تمہیں جنت میں بھی نعمتیں ملیں گی» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «أَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ عَشِقَ الْعِبَادَةَ فَعَانَقَهَا وَأَحَبَّهَا بِقَلْبِهِ وَبَاشَرَهَا بِجَسَدِهِ، وَتَفَرَّغَ لَهَا فَهُوَ لَا يُبَالِي عَلَى مَا أَصْبَحَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى عُسْرٍ أَمْ عَلَى يُسْرٍ» ۔ (۱۸)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «لوگوں میں افضل وہ ہے جو عبادت کا عاشق ہو اور  اسے اخذ کر لے اور اسے دل سے دوست رکھتا ہو اور بدن سے انجام دیتا ہو اور وہ اس کے لئے فارغ ہو اور اس کی مکمل توجہ عبادت کی طرف ہو اور دنیا کی سختی و آسانی کو اہمیت نہ دے»۔

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «إِنَّ الْعُبَّادَ ثَلَاثَةٌ : قَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَوْفاً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى طَلَبَ الثَّوَابِ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأُجَرَاءِ وَقَوْمٌ عَبَدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حُبّاً لَهُ فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْأَحْرَارِ وَهِيَ أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ» ۔ (۱۹)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : «عبادت کرنے والوں کی تین قسمیں ہیں : ایک گروہ خوف کی وجہ سے خدا کی عبادت کرتا ہے، یہ غلاموں کی عبادت ہے ؛ کچھ لوگ ثواب کے لئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور یہ اجیر شدہ افراد کی عبادت ہے ؛ اور ایک گروہ خدا کی محبت میں خداوند عزوجل کی عبادت کرتا ہے اور یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے اور یہی عبادت کی سب سے افضل قسم ہے » ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «مَا أَقْبَحَ الْفَقْرَ بَعْدَ الْغِنَى، وَأَقْبَحَ الْخَطِيئَةَ بَعْدَ الْمَسْكَنَةِ، وَأَقْبَحُ مِنْ ذَلِكَ الْعَابِدُ لِلّٰهِ ثُمَّ يَدَعُ عِبَادَتَهُ» ۔ (۲۰)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «غنی و بے نیاز ہونے کے بعد فقر کس قدر قبیح ہے ، اور بدبختی و ناداری کے بعد گناہ کس قدر قبیح ہے ، اور اس سے بھی قبیح وہ عابد ہے کہ جو خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دے » ۔

قَالَ السَّجَّادُ‌ (عليه ‌السلام) : «مَنْ عَمِلَ بِمَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ مِنْ أَعْبَدِ النَّاسِ» ۔ (۲۱)

 حضرت امام سجاد  نے فرمایا : «جو شخص خدا کی جانب سے واجب کردہ  امور پر عمل کرے ؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عابد ہے » ۔

امام حسین علیه‌السلام ؛ سید العابدین

ابن عبد البر اور ابن ‌اثیر نے مصعب زبیری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا :

«حسین (علیہ السلام) صاحب فضیلت اور دین سے متمسّک تھے ؛ جو کثرت سے نماز و روزه اور حجّ انجام دیتے تھے» ۔ (۲۲)

عبد الله بن زبیر نے ان کی عبادت کی توصیف کرتے ہوئے کہا : «حسین قائم الیل اور صائم النہار تھے» ۔ (۲۳)

عقّاد کہتے ہیں : «حسین علیہ السلام پنجگانہ نمازوں کے علاوہ دیگر نمازیں بھی بجا لاتے اور ماہ رمضان کے روزوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی روزے رکھتے تھے ، اور آپ نے کسی بھی سال حج کو ترک نہیں کیا مگر یہ کہ آپ اسے ترک کرنے پر مجبور ہوں» ۔ (۲۳)

آپ دن اور رات میں ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے اور آپ نے پچیس مرتبہ پا پیادہ حج انجام دیا ۔ (۲۴) یہ آپ کے کمال عبادت اور خدا کی بارگاہ میں آپ کے خضوع و خشوع کی دلیل ہے ۔ ایک روز آپ رکن کعبہ کو پکڑ کر خدائے عزیز و متعال کی بارگاہ میں اس انداز سے بندگی و عبودیت کا اظہار اور خدا کی مدح و ثناء اور ستائش کر رہے تھے :

«إِلَهِي نَعَّمْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي شَاکِراً ، وَابْتَلَیْتَنِي فَلَمْ تَجِدْنِي صَابِراً ، فَلَا أَنْتَ سَلَبْتَ النِّعْمَةَ بِتَرْکِ الشُّکْرِ ، وَلَا (أَنْتَ) أَدَمْتَ الشِّدَّةَ بِتَرْکِ الصَّبْرِ، إِلَهِي مَا يَکُونُ مِنَ الْکَرِيمِ إِلَّا الْکَرَمُ» ۔ (۲۵)

«خدایا ! تو نے مجھے نعمت بخشی اور مجھے شکر گذار نہ پایا ، تو نے مجھے بلاؤں میں مبتلا کیا اور مجھے صابر نہ پایا ، اور شکر نہ کرنے کی وجہ سے تو نے مجھ سے اپنی نعمت کو سلب نہ کیا ، اور صبر کا دامن چھوڑ دینے کی وجہ سے تو نے مجھ پر بلا و مصیبت کی شدت میں اضافہ نہ کیا ۔ پروردگارا ! کریم سے کرم کے علاوہ کچھ صادر نہیں ہوتا» ۔

اگر کوئی شخص خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا اور روز و نیاز کے وقت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کیفیت کے بارے میں جانا چاہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آنحضرت کی معروف دعا ’’دعائے عرفہ‘‘ کی طرف رجوع کرے ۔ (۲۶)

درس سخاوت

احاديث:

قَالَ رَسُولُ‌ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) : «اَلسَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْبُخْلُ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ أَغْصَانُهَا فِي الدُّنْيَا، مَنْ تَعَلَّقَ بِغُصْنٍ مِنْهَا قَادَهُ ذَلِكَ الْغُصْنُ إِلَى النَّارِ» ۔ (۲۷)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «سخاوت ؛ بہشت میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ، وہ اسے جنت میں لے جاتی ہے ، اور بخل ؛ جہنم میں ایک درخت ہے کہ جس کی شاخیں دنیا میں ہیں اور جو کوئی اس کی کسی شاخ سے وابستہ ہو جائے ؛ وہ اسے جہنم میں لے جاتی ہے» ۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمِ طَيٍّ: «دُفِعَ عَنْ أَبِيكَ الْعَذَابُ الشَّدِيدُ لِسَخَاوَةِ نَفْسِهِ» ۔(۲۸)

پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عدی بن حاتم طائی سے فرمایا : «تمہارے باپ کی سخاوت کی وجہ سے اس سے سخت عذاب اٹھا لیا گیا» ۔

قَالَ الرِّضَا (عليه‌ السلام) : «إِيَّاكَ وَالسَّخِيَّ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْخُذُ بِیَدِهِ» ۔ (۲۹)

‌حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : «کہیں کسی سخی کی سرزنش نہ کرنا کہ خداوند اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے » ۔

ضروتمندوں  کے مولا

امام ‌حسين علیه ‌السلام  نماز بجا لانے کے بعد باہر تشریف لائے تو آپ نے ایک تنگدست اعرابی (بادیہ نشین) کو دیکھا ، آپ واپس لوٹے اور قنبر کو آواز دی ۔

قنبر نے عرض کیا : لَبَّيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ.

آپ نے فرمایا : «اخراجات میں سے کتنے پیسے باقی بچے ہیں؟» ۔

عرض كیا : دو سو درہم ؛ کہ جن کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ انہیں اہلبیت کے درمیان تقسیم کروں گا ۔

آپ نے فرمایا : «وہ دو سو درہم لے آؤ ۔ کوئی آیا ہے کہ جسے میرے اہلبیت سے زیادہ ان پیسوں کی ضرورت ہے»۔ پھر آپ وہ پیسے لے کر باہر تشریف لائے اور اس اعرابی کو دے دیئے ۔ (۳۰)

میں تمہارا قرض ادا کروں گا

ایک دن سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام ، اسامہ بن زید کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے ۔

اسامه گریہ کر رہے تھے اور اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «بھائی ! تمہیں کیا مشکل ہے؟» ۔

انہوں نے عرض كیا : «میں ساٹھ ہزار درہم کا مقروض ہوں» ۔

امام‌ حسين علیه‌ السلام نے فرمایا : «اب وہ میرے ذمہ ہیں» ۔

اسامه نے کہا : «مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اپنا قرض ادا کئے بغیر نہ مر جاؤں» ۔

آپ نے فرمایا : «تم تب تک نہیں مرو کہ جب تک میں اسے ادا نہ کر دوں» ۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسامہ بن زید کی موت سے پہلے وہ قرض ادا کیا ۔(۳۱)

درس حسن معاشرت 

احاديث:

قَالَ الصَّادِقُ (عليه ‌السلام) : «يَا شِيعَةَ آلِ مُحَمَّدٍ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَمْلِكْ نَفْسَهُ عِنْدَ غَضَبِهِ، وَمَنْ لَمْ يُحْسِنْ صُحْبَةَ مَنْ صَحِبَهُ، وَمُخَالَقَةَ مَنْ خَالَقَهُ، وَمُرَافَقَةَ مَنْ رَافَقَهُ، وَمُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَهُ، وَمُمَالَحَةَ مَنْ مَالَحَهُ» ۔ (۳۲)

حضرت امام‌صادق علیه‌السلام نے فرمایا : « اے آل محمد کے شیعو اور پیروکارو ! جان لو کہ وہ شخص  ہم میں سے نہیں ہے کہ جو شخص غصہ کے عالم میں خود پر حاکم اور مسلط نہ ہو ، اور جو اپنے ہم نشینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے ، اور جو اپنے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں پر مہربانی نہ کرے ، اور جو اپنے رفقاء اور دوستوں کی دوستی کا جواب دوستی سے نہ دے اور جو اپنے پڑوسیوں کا احترام نہ کرے اور پڑوسیوں کے حقوق کی رعائت نہ کرے اور جو کسی کے نمک کے حق کی رعائت نہ کرے » ۔

قَالَ الصَّادِقُ‌ (علیه ‌السلام) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : ﴿إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾، «کَانَ يُوَسِّعُ الْمَجْلِسَ، وَ يَسْتَقْرِضُ لِلْمُحْتَاجِ، وَ يُعِينُ الضَّعِيفَ»۔(۳۳)

حضرت امام ‌صادق علیه ‌السلام نے خداوند متعال کے اس قول «ہم تمہیں احسان کرنے والوں میں دیکھتے ہیں» کے بارے میں فرمایا : «وہ مجلس میں جگہ دیتے اور ضرورت مندوں کو قرض دیتے اور مستضعف و ناتوان افراد کی مدد کرتے» ۔

قَالَ البَاقِرُ‌(عليه ‌السلام) : «عَظِّمُوا أَصْحَابَكُمْ وَ وَقِّرُوهُمْ، وَ لَا يَتَهَجَّمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَ لَا تُضَارُّوا ، وَ لَا تَحَاسَدُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَ الْبُخْلَ، كُونُوا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ» ۔ (۳۴)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا : «اپنے دوستوں اور ساتھیوں کا احترام کرو اور ان میں سے ایک دوسرے سے نزاع و اختلاف اور جارحیت کا مظاہرہ نہ کرے ، اور ایک دوسرے کو نقصان اور ضرر نہ پہنچاؤ ، اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، اور بخل سے دوری کرو تا کہ خدا کے مخلص بندوں میں سے قرار پاؤ » ۔

امام ‌حسين علیه السلام کی جانب سے عذر قبول کرنا

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اجتماعی و سماجی آداب اور دور و نزدیک سے حسن معاشرت کے لحاظ سے بلند پایہ اور بے نظیر تھے ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی خصلت یہ تھی کہ آپ عفو و درگذر کرنے سے سرشار تھے ۔

جمال‌الدّين محمد زرندی حنفی مدنی نے روايت كی ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے پدر گرامی امام حسین علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

 «اگر کوئی شخص میرے اس کان (آپ نے اپنے دائیں کان کی طرف اشارہ کیا) میں مجھے دشنام دے اور اور میرے دوسرے کان میں کوئی عذر پیش کرے تو میں اس کا عذر قبول کر لوں گا کیونکہ امير المؤمنين علی علیه ‌السلام نے میرے جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میرے لئے نقل فرمایا ہے :

«لَا يَرِدُ الْحَوْضَ مَنْ لَمْ يَقْبَلِ الْعُذْرَ مِنْ مُحِقٍّ أَوْ مُبْطِلٍ» ۔ (۳۵)

«عذر قبول نہ کرنے والا حوض (كوثر) میں وارد نہیں ہو گا ؛ چاہے عذر لانے والا حق ہو یا باطل» ۔

بھائی کا احترام

امام‌ حسين علیه ‌السلام اپنے اہل و عیال ، رشتہ داروں اور اہلبیت سے نہایت ادب و احترام ، محبت و رحمت ، لطف و کرم اور انس و محبت سے پیش آتے ۔ ابن ‌قتيبه نے روايت کی ہے کہ ایک شخص سید الشہداء حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت سے کسی چیز کی درخواست کی ۔

آنحضرت نے فرمایا : «سوال کرنا شائسته نہيں ہے مگر کسی سنگین قرض یا خوار کرنے والے فقر   یا  اس دیت و تاوان کی وجہ سے کہ جسے ادا نہ کرنا رسوائی کا باعث بنے» ۔

اس نے عرض کیا : میں آپ کی خدمت میں انہی میں سے ایک مورد کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔

امام حسن علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے سو دینار عطا کر دیئے جائیں ۔

پھر وہ شخص امام ‌حسين علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنضرت سے بھی سوال کیا ۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی اس شخص سے اپنے بھائی کا سخن ہی بیان کیا اور اس شخص نے پھر وہی جواب دیا ۔ پھر امام حسین علیہ السلام نے اس شخص سے پوچھا : «میرے بھائی نے تمہیں کتنے پیسے دیئے ہیں؟» ۔

اس نے عرض کیا : سو دینار ۔

امام‌ حسين علیه ‌السلام نے اسے ننانوے دینار عطا کئے ؛ کیونکہ آپ اپنے بھائی کی برابری نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ (۳۶)

احسان کا بدلہ احسان

ياقوت مستعصمی ؛  اَنَس سے روايت کرتے ہیں کہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی ۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا :

«أَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى».

«تم خدا کے لئے آزاد ہو» ۔

میں نے عرض کیا : وہ کنیز آپ کے لئے ایک گلدستہ لے کر آئی اور آپ نے اسے آزاد کر دیا ؟

آپ نے فرمایا : «خدا نے ہمیں ایسے ہی آداب سکھائے ہیں ؛ کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے :

﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ۔ (۳۷)

«اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ (سلام) پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو کہ بیشک اللہ ہر شے کا حساب رکھنے والا ہے»۔  (۳۸)

 

حوالہ جات :

۱ ۔ محرّم‌ الحرام کی آمد پر پیغام؛ سنہ 1423ہجری ۔

۲ ۔ سورۂ احزاب ، آیت : ۳۵ ۔

۳ ۔ نعماني، الغيبه، ص41؛  مجلسی، بحارالانوار، ج2، ص77.

۴ ۔ ماہ محرم الحرام کی آمد پر پیغام ؛ سنہ 1420 ہجری ۔

۵ ۔ صفار، بصائر الدرجات، ص22؛ کليني، الکافي، ج1، ص30؛  حر عاملي، الفصول ‌المهمه، ج1، ص462؛ مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص172 ۔

۶ ۔ ابن ‌شعبه حراني، تحف ‌العقول، ص199؛ مجلسي، بحار الانوار، ج1، ص175 ۔

۷ ۔ برقي، المحاسن، ج1، ص229؛ کلينی، الکافی، ج1، ص31 ۔

۸ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

۹ ۔ کليني، الکافي، ج1، ص31 ۔

 ۱۰ ۔ کوفي، مناقب الامام ‌اميرالمؤمنين علیه‌السلام ، ج2، ص98، 105، 112، 114؛  طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج5، ص167؛  طبرسي، الاحتجاج، ج1، ص216 ـ 217؛ ابن‌حجر هیتمی، الصواعق المحرقه، ص149 – 150 ۔

 ۱۱ ۔ ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق ، ج14، ص184؛  ایضاً ، ترجمة ریحانة ‌الرسول الامام‌ الحسين (علیه ‌السلام) ، ص225؛ علایلي، سموالمعني، ص148 ۔

 ۱۲ ۔ ابن‌کثير ،  البداية و النهايه، ج8 ، ص162 ؛  ر.ک :  علایلي ، سموالمعني، ص99 ـ 100 ۔

۱۳ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ۔

۱۴ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص100 ـ 102 ۔

۱۵ ۔ علایلی ، سمو المعني ، ص148 ۔

۱۶ ۔ کلینی، الکافی، ج 2 ، ص83 ۔

۱۷ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص83 ۔

۱۸ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۱۹ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۰ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۱ ۔ کلینی ، الکافی ، ج2 ، ص84 ۔

۲۲ ۔ ابن‌ عبدالبر ، الاستیعاب ، ج1 ، ص397 ؛ ابن ‌اثیر جزری ، اسد الغابه ، ج2 ، ص20 ۔

۲۳ ۔ عقّاد ، ابو الشهداء ، ص145 ۔

۲۴ ۔ یعقوبی ، تاریخ ، ج2، ص226 ؛ سبط ابن جوزی ، تذکرة ‌الخواص ، ص211 ؛ ابی ‌الفداء ، تاریخ ، ج1 ، ص191 ۔

۲۵ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج  69، ص197 ـ 198 ؛ مرعشی نجفی ، شرح احقاق ‌الحق ، ج 11، ص 595؛ ج19 ، ص420ـ421 ؛ ج27 ، ص203 ۔

۲۶ ۔ ابن ‌طاووس ، اقبال ‌الاعمال ، ج  2، ص 74ـ87 ؛ کفعمی ، المصباح ، ص 671 ـ 681 ؛ ایضاً ، البلد الامین ، ص 251ـ258 ؛ مجلسی ، زاد المعاد ، ص 173ـ182 ۔

۲۷  ۔حميری قمی ، قرب ‌الاسناد ، ص117؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج70 ، ص303 ۔ 

۲۸ ۔ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص345 ۔ 

۲۹ ۔ ابن ‌بابویه ، فقه ‌الرضا علیه ‌السلام ، ص363 ؛ مفید ، الاختصاص ، ص253 ؛ مجلسی ، بحار الانوار ، ج68 ، ص355 ۔

۳۰ ۔ ابن عساکر ، تاريخ مدينة دمشق ، ج14 ، ص185 ، علايلی ، سمو المعنی ، ص151 ۔

۳۱ ۔ ابن‌ شهر آشوب ، مناقب آل ابي ‌طالب ، ج4 ، ص65 ؛ محدّث نوري ، مستدرک‌ الوسائل ، ج13 ، ص436 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص 151 ـ 152 ۔

۳۲ ۔کليني ، الکافي، ج2 ، ص637 ۔

۳۳ ۔ کلينی ، الکافی ، ج2 ، ص637 ؛ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج12 ، ص14 ۔

۳۴ ۔ حرعاملی ، وسائل ‌الشيعه ، ج14 ، ص15 ؛ ایضاً ، الفصول ‌المهمۃ ، ج3 ، ص355 ۔

۳۵ ۔ زرندی ، نظم درر السمطين ، ص209 ۔

۳۶ ۔ علایلی ، سمو المعنی ، ص152۔

۳۷ ۔ سورۂ نساء ، آیت : ۸۶ ۔

۳۸ ۔ اربلی ، کشف ‌الغمه ، ج2 ، ص240 – 241 ؛ ابن ‌صباغ مالکی ، الفصول‌ المهمه ، ج2 ، ص786 ؛ علایلی ، سمو المعنی ، ص159 ؛ عقّاد ، ابو الشہداء ، ص145 ۔

عید سعید غدیر کی مناسبت سے دو کتابوں کا تعارف
عید سعید غدیر کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی کے آثار میں سے دو کتابوں کا تعارف

 

 

’’پرتوی از فضائل امیرالمومنین علی علیه السلام در حدیث‘‘ : یہ کتاب اہل سنت کی  کتابوں میں سے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی عظیم شخصیت اور آپ کے فضائل  کے بارے ۱۱۰ احادیث پر مشتمل ہے ۔( اس کتاب کا اردو زبان میں  ترجمہ مکمل ہو چکا ہے ، اور انشاء اللہ جلد ہی یہ کتاب اردو زبان میں بھی دستیاب ہو گی )

 ’’پیام غدیر‘‘ :  یہ کتاب غدیر اور امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے مقالات ، پیغامات اور بیانات کا مجموعہ ہے ۔

مندرجہ ذیل لنک کے ذریعے آپ فارسی زبان میں ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔

پیام غدیر

پرتوی از فضائل امیرمؤمنان علی علیه السلام

دانلود کتاب پیام غدیر(pdf)

دانلود کتاب پرتوی از فضائل امیرمؤمنان علی علیه السلام

 

عرفه ، محبوب سے عافیت طلب کرنے کا دن
روز عرفہ کی مناسبت سے آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مد ظله الوارف کے نوشتہ جات سے اقتباس

عرفہ کا دن عبادت اور خدا پرستی کا دن ہے۔ ایک ایسا دن کہ جس میں انسان خود کو دوسرے تمام ایّام کی بنسبت خدا کی رحمت سے زیادہ قریب پاتاہے۔

  دعائے عرفه، نور ہے :

 اس دن انسان جو بھی دعائیں پڑھتا ہے وہ سب اسے عروج تک پہنچاتی ہیں، نیز فکر اور روح کو کمال عطا کرتی ہیں ۔  بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ کہ جس کے معارف اور اعلٰی مطالب کو بیان نہیں کر سکتے ۔

اس دعا کا ہر جملہ نور ہے جس کی کرنیں انسان کے باطن کو منور کرتی ہیں اور اس سے کدورت اور برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ اس دعا کا ہر جملہ حیات و زندگی اور سعادت کی تفسیر کرتا ہے اور انسان کو عطا ہونے والی خدا کی نعمتوں کو شمار کرتا ہے اور ان نعمتوں کے مقابلہ میں خدا کے شکر میں تقصیر کی وضاحت کرتا ہے۔ انسان معرفت کے جس درجہ پر بھی ہو وہ اس دعا کو پڑھ کر لذت  محسوس کرتا ہے اور روحانی عوالم میں اپنا مشاہدہ کرتا ہے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں خود کو زیادہ حاضر پاتا ہے ۔

جس سماج اور معاشرے کے پاس ایسے ایسے عرفانی اور تربیتی ذخائر موجود ہوں اس کے حالات اور زندگی کے تمام امور سے نور و معنویت نظر آنی چاہئے اور مال و منال اور دنیا کے اعتبارات سے بے اعتنائی ظاہر ہونی چاہئے ۔

 

دنيا و آخرت کی سعادت عافیت کے مرہون منت :

سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام دعائے عرفہ میں خداوند کریم سے جو حاجتیں طلب کرتے ہیں ان میں سے ایک اہم ترین حاجت بدن اور دین میں عافیت ہے۔«اللّهم .... عَافِني في بَدني و ديني»۔ جس کے پاس خداوند کریم کی یہ دو نعمتیں موجود  ہوں اس کے پاس دنیا و آخرتے کی سعادت ہے۔

 

بدن میں عافیت  :

بدن میں عافیت سے تندرستی،  بیماریوں سے محفوظ ہونا،  اعضاء و جوارح کا سالم ہونا اور خلقت میں کمال مراد ہے کہ جو خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے  ۔ مختلف انواع و اقسام کی بیماریوں سے سالم ہونا ایک الگ الگ نعمت شمار ہوتی ہے اور اکثر لوگ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے غافل ہیں چونکہ وہ خود نعمت سے غافل ہیں یا بالکل نعمت کو نہیں پہچانتے کیونکہ ان نعمتوں سے جاننے کے لئے متعدد علوم سے بطور کامل واقف ہونے کی ضرورت ہے کہ جو انسان کے اعضاء و جوارح سے مربوط ہیں جیسے انسان کے گوشت، جلد، ہڈیوں،  رگوں،  خون،  جوڑوں،  مختلف قسم کے خلیہ،  اور ظاہری و باطنی اعضاء و جوارح سے متعلق علوم ۔  اگر فرض کریں کہ کسی انسان کو ان تمام علوم کی اطلاع ہے لیکن چونکہ یہ علوم بھی ابھی تک کامل نہیں ہوئے لہذا اس بارے میں انسان خدا کی نعمتوں کو پہچاننے اور ان کا شکر اداکرنے سے قاصر ہے ۔

 

دين اور اس کی انواع میں عافیت :

دین میں عافیت کی اہمیت زیادہ ہے اور اگر یہ نہ ہو تو بدن میں عافیت عبد پر احتجاج اور جزا و سزا کے مستحق ہونے کا زیادہ ذریعہ ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں ۔

 

*  فكري و اعتقادي عافیت :

فكري و اعتقادي عافيت سے یہ مراد ہے کہ انسان خدا کی شناخت، خدا کی صفات اور اسماء الحسنیٰ کی معرفت،  ملائکہ کی شناخت ،  نبوت ، پیغمبروں،  وحی ،  امامت اور بالخصوص خاتمالأنبياءحضرت محمد صلي الله عليه وآله وسلّم اور آپ کے خلفاء کی معرفت ،  معاد و قیامت  کی شناخت رکھتا ہو ،  المختصر یہ کہ تمام اعتقادی امور میں اس کا ایمان انحرافات سے سالم اور بدع و شبہ سے پاک ہونا چاہئے ۔  نیز انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت ختمي مرتبت صلي الله عليه وآله وسلّم نے جو خط کھینچا ہے اس سے خارج نہیں ہونا چاہئے نیز ان سب امور کو صحیح عقلی و نقلی(روائی)معیار سے حاصل کیا گیا ہو اور حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جو کچھ بھی نازل ہوا ہے ، اس پر ایمان رکھتا ہو چاہے وہ اصول ہوں یا فروع ۔ حتی کہ انسان اعتقادی امور میں کسی جزئی امر اور فروعات میں کسی چھوٹی سے چھوٹی فرع اور شرعی و عملی احکام پر مطمئن طور پر ایمان رکھتا ہو اور تمام امور میں اپنے نفس کو شریعت کے تابع قرار دے ۔  یہ واضح ہے کہ کبھی کبھار ایک انحراف اور دین اسلام کے کسی ایک مسلّم موضوع کا انکار اس کے کفر کا باعث بن جاتا ہے ۔

 

* اخلاقي عافيت :

اخلاقی عافیت سے مراد انسان کا اسلامی اخلاق سے آراستہ ہونا ہے کہ جو قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ائمہ اطہار صلوات اللہ علیہم سے مروی احادیث میں بیان ہوئے ہیں مثلا : صبر ،  زہد ،  توضع ،  صداقت ،  سخاوت ،  شجاعت ،  عدالت ،  رحم ،  حلم و بردباری ،  عفّت ،  مروّت ،  حرّيت ،  عفو و درگزر ،  ايثار، صله رحم، ہمسایوں اور ماں باپ کے حقوق کی رعايت کرنا ،  مواسات ، احسان ، انصاف ، نرم لحجہ ، وعدہ کو وفا کرنا ،  تفويض ،  توكّل ، رضا و تسليم اور وہ تمام صفات حميده اور مكارم اخلاق كه جن کی قرآن مجيد ، احاديث مبارکہ اور دعاؤں میں ترغیب دلائی گئی ہے اور جن کی تاکید کی گئی ہے ۔

اور اس معروف حدیث کی رو سے: «اِنّما بُعِثْتُ لاُتَمِّمَ مَكارِمَ الأخلاق» پيغمبر اكرم صلي الله عليه وآله وسلّم مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں.

اخلاق کے موضوع پر اسلام کی تعلیمات سب سے کامل تعلیمات ہیں۔ علم اخلاق کو حکمت عملی کا نام دینے والے بہت سے حکماء بھی حکمت عملی میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ اس موضوع پر اسلام کی تعلیمات کے بعد دوسروں کے لئے کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

اخلاق کی کتابیں، شعراء کے اشعار اور مکتب اسلام میں تربیت شدہ مسلمانوں سے نقل ہونے والی حکایات نے مسلمانوں کو اخلاق  کے موضوع پر اس قدر غنی اور صاحب افتخار بنا دیا ہے کہ جس سے بڑھ کر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ پيغمبر اكرم صليالله عليه وآله وسلّم جیسی شخصیت كه جن سے خدا نےخطاب فرمایا ہے: «اِنَّكَ لَعَلي خُلُق عَظيم» آنحضرت سب سے اعلٰی انسانی اخلاق کے حامل تھے اور اعراب جاہلیت(جن کی عادات کو بدلنا ایک ناممکن امر لگتا تھا) میں آپ کی دعوت کے اس قدر عام ہونے کی ایک وجہ آپ کا اخلاقہ کریمہ و حسنہ ہے ۔

اسی طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اہل بیت امر المؤمنین اور ائمہ طاہرین علیہم السلام  بھی اخلاق انسانی کے اعلٰی و اکمل نمونہ ہیں ۔  دوست اور دشمن سبہی اس کا اعتراف کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ان ہستیوں کی غیر معمولی محبوبیت کا سرّ و راز یہی اخلاق ہے ۔

 

* عملی عافيت :

علمی عافیت یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال و افعال میں(چاہے وہ فردی ہوں یا اجتماعی ،  سیاسی ہوں یا مالی) اور اسی طرح عبادات  اور واجبات و فرائض میں اسلامی شریعت کے احکام کی مکمل رعائت کرے اور ان احکامات کی پابندی کرے کہ جو فقہ کی کتابوں میں درج ہیں ۔معصیت اور مخالفت سے پرہیز کرے اور تقویٰ اختیار کرے حتی گناہان صغیرہ سے بھی پرہیز کرے اگرچہ گناہان کبیرہ سے اجتناب کرنے کی صورت میں گناہان صغیرہ سے درگذر کا وعدہ دیا گیا ہے ۔اور اس طرح سے عمل کرے جس طرح سے اس شعر میں بیان ہوا ہے:

خلّ الذنوب صغيرها و كبيرها فهو التقي *كُن مثل ماش في طريق الشوك تحذرماتري*لاتحقرن صغيرة ان الجبال من الحصي؛

گناہان صغیرہ و کبیرہ سے پرہیز کرو کہ یہ عمل تقویٰ ہے اور راستہ میں چلنے والے اس شخص کی طرح بنو کہ جو خاردار راستہ پر احتیاط سے قدم بڑھاتا ہے۔ اور کسی بھی چھوٹے (گناہ) کو حقیر شمار نہ سمجھو کیونکہ سنگریزوں سے مل کر ہی پہاڑ بنتا ہے۔

 

 

توحید کو قبول کرنے کی شرط
حضرت علی بن موسی الرضا علیہما السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله کے مکتوبات سے اقتباس

بسم الله الرحمن الرحیم

ایام اللہ اور ولایت و امامت کے ایّام کی تجلیل و تعظیم کرنا اور انسانیت کے وقار و عظمت اور عزت و کرامت کی تکریم کرنا ربوبیت و الوہیت کی مقدس بارگاہ سے انسانی تقرب کی معراج ہے ۔

یہ عظیم اور باعظمت ایّام ہر ایک شخص کے لئے قابل قدر ہیں اور یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی دینی معرفت  اور اولیائے دین کے ساتھ اپنے روحانی و معنوی رابطے کو اور زیادہ کامل اور مستحکم  کرے  اور ان بابرکت ایّام کی تجلیل و تکریم کرتے ہوئے خاندان وحی ونبوت علیہم السلام کے ساتھ اپنی عقیدت  کا اظہار کرے ۔

  • ہر کوئی ان کی توصیف بیان کرنے سے قاصر ہے !

ان نیک اور الٰہی ایّام میں سے ایک عالم آل محمد حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہم صلوات اللہ کی ولادت کا مسعود و مبارک دن ہے ۔

میں اس عظیم ذات کی مدح و ثنا اور توصیف و ستائش میں کیا کہہ سکتا ہوں ، جن کی فریقین میں سے بزرگان علم و دانش نے بہترین عبارات و الفاظ سے توصیف بیان کی ہے ۔ مجھ جیسے حقیر کا بیان اس ذات والا صفات کی عظمت کے بحر بیکراں میں ایک ناچیز قطرے سے بھی کم ہے ، لیکن میں اس علم و معرفت کے اس رہبر و پیشوا کی ولایت کے بارے شکر گذاری کے عنوان سے چند کلمات عرض کرنا چاہتا ہوں :

مرا بس است همين افتخار و عزّت و شأن

كه از ازل ز ولايش به گردنم رسن است‏
هزار سال سرايد مديحش ار «لطفى»

هنوز حرف نخستين و مطلع سخن است‏

 

  • ایک جاوداں ہجرت

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کی زندگی کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ آپ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے خراسان کی جانب سفر ہے ؛ جو بہت ہی مفید پیغامات کا حامل ہے ۔

امام رضا علیہ السلام کا یہ سفر سرکاری طور پر تھا ؛ یعنی اس طولانی سفر کے دوران  آپ بہت سے چھوٹے بڑے شہروں ، دیہاتوں اور قصبوں سے گزرے ، آپ جس سے اسلامی ملک سے بھی گزرتے وہاں عجیب جوش اور اضطراب  پیدا ہو جاتا تھا ، اورآپ کا  یہ سفر اس بات کا باعث بنا کہ جو لوگ اس وقت تک خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار نہیں کر سکے تھے ، وہ بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خاندان اور ذریت سے اپنی عقیدت ظاہر کریں ۔ لوگوں میں سے  عام و خاص سب  ہی اہل بیت علیہم السلام ، ان کے فضائل و مناقب اور ان پر ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

عوام کا جم غفیر امام رضا علیہ السلام کا دیدار کرنے کے لئے شوق و نشاط میں ڈوبا ہوا تھا  کیونکہ ان  لوگوں کی نظر میں  آپ کے حضور شرفیاب ہونا آپ کے جد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور شرفیاب ہونے کی طرح تھا ۔

راستوں ، گزر گاہوں ،مساجد   اورہر  اس جگہ لوگوں کا اجتماع تھا ، جہاں سے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کا گزر ہونا تھا ، اور ان لوگوں نے اپنے اس اجتماع سے تاریخ اسلام میں ایک نیا باب کھول دیا تھا ، اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عصر نبوت کے نظام و روش  اور امیر المؤمنین علی مرتضیٰ علیہ السلام کی خلافت کے زمانے کو احیاء کر دیا تھا ۔

وہ سب لوگ یک زباں ہو کر کہہ رہے تھے : کیاخوب ہے  کہ حق اس کے مرکز کی طرف واپس لوٹ گیا ۔ مأمون خود چاہتا ہے کہ امام کے لئے خلافت کی منتقلی کا زمینہ فراہم کرے ۔

امام رضا علیہ السلام جس جگہ بھی قدم رنجہ فرماتے تھے ؛ وہاں لوگوں  کی عقیدت و محبت آسمان کو چھو رہی ہوتی تھی  اور ایمان و اخلاص کے بدن میں روح تازہ ہو جاتی تھی ۔ لوگ امام علیہ السلام کی زیارت کرتے تھے  اور وہ  آپ  کے چہرے میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرے کی زیارت کر رہے تھے  ، عشق و محبت سے گریہ کر رہے تھے ، نالہ و ضجہ کر رہے تھے ، شعر خوانی کر رہے تھے ، خوشی منا رہے تھے  اور (محمد و آل  محمد علیہم السلام پر ) صلوات بھیج رہے تھے ۔

اور یہ سچ ہے کہ اس سے بڑھ کو کون سا واقعہ مذہب تشیع کو زندہ کر سکتا ہے  اور لوگوں کی حقیقت کی جانب رہنمائی کر سکتا ہے ؟امام کے ملکوتی و نورانی چہرے کی زیارت کرنے سے بڑھ کر اور کون سا منظر زیادہ خوبصورت ، پر کشش اور جذاب ہو سکتا ہے ؟

 نیشاپور کے ولائی عوام

اس سفر کے دوران حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کے راستے میں آنے والے شہروں میں سے ایک نیشاپور تھا ۔ امام علیہ السلام نے اپنے ملکوتی جلال ، شان و شوکت اور معنوی عظمت سے شہر نیشاپور کو مزین فرمایا ۔ 

جیسا کہ نقل ہوا ہے :امام رضا علیہ السلام  عماری میں تشریف فرما تھے  اور آپ کا نورانی و ملکوتی چہرہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ تھا  اور وہاں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمند آپ کے حسن و جمال اور منور  چہرے کی زیارت کی مشتاق تھی ، ہر طرف لوگوں کا ہجوم تھا اور وہ نعرہ  لگا رہے تھے ، تکبیر کہہ رہے تھے اور صلوات پڑھ رہے تھے ۔ 

ان لوگوں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث کے دو پیشوا و حافظ آگے بڑے اور انہوں نے امام رضا علیہ و السلام کو مخاطب کرتے ہوئے درخواست کی اور یوں عرض کیا : ’’أيُّهَا السُّلالَةُ الطَّاهِرَةُ الرَّضِيَّة، أَيُّها الخُلاصَةُ الزَّاكِيةُ النَّبَويَّة بِحَقِّ آبَائِكَ الأطهَرينَ وَأسلَافِكَ الأكرَمينَ إلّا أَرَيتَنا وَجهَكَ المُبَارَكَ الميمُونَ، وَرَوَيتَ لَنَا حَديثاً عَن آبائِكَ عَن جَدِّكَ نَذكُركَ بِهِ‘‘۔

ہماری تمام تلاش و جستجو کے باوجود ہمیں نیشاپور کے عوام کو میسر آنے والے اس سنہری موقع پر اس سے زیادہ جامع اور بامعنی سوال نہیں ملتا ۔ انہوں نے ایک ایسی حدیث کے بارے میں سوال پوچھا جسے نقل کرنے کا افتخار رہتی دنیا تک  ہر زمانے میں باقی رہےگا  ، اور لوگ  زبان بہ زبان ،قلم بہ قلم اور قرن بہ قرن اسے بیان کرتے رہیں گے ، سنتے رہیں گے  ، لکھتے رہیں گے  اور پڑھتے رہیں گے ۔

معرفت کی جستجو میں کئے جانے والے اس سوال کے بعد امام رضا علیہ السلام نے اس سوال کا جواب دینے کے اپنی سواری کو روکا  اور اپنے رخ انور سے پردہ ہٹایا اور مسلمانوں کی آنکھوں کو اپنے مبارک اور نورانی حسن و جمال  سے روشن فرمایا ، اور اس کے بارے میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے : «فَاستَوقَفَ البَغلَةَ وَ رَفَعَ المظَلَّةَ وَ أقَرَّ عُيُونَ المُسلِمينَ بِطَلعَتِهِ المُبَارَکةِ الميمُونَةِ»

جب لوگوں  کی نظر امام کے جہاں آرا حسن و جمال پر پڑی تو سبھی اپنے ہوش کھو بیٹھے ، اور ان کی وہی حالت تھی جو جناب یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کو دیکھ کر مصر  کی خواتین کی تھی اور اپنے وہ ان کے حسن کی تابانی میں خود کو بھی بھول گئی تھی ، اور ان کی زبان سے بے ساختہ نکل پڑا کہ : «مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ» ۔

اسی وجہ سے ان کا  جوش و خروش اور خوشی و مسرت اپنی اوج پر تھی اور ان پر وجد کی کیفیت طاری تھی ، اور فضا تکبیر و تہلیل کی صداؤں سے گھونج رہی تھی ، کچھ لوگ عشق  و شوق سے گریہ کر رہے تھے ،  کچھ لوک امام کی رکاب یا آپ کی سواری کو چوم رہے تھے ، کچھ لوگ امام کے جمال کو دیکھ رہے تھے ، وہاں لوگوں کے جذبات ، خوشی اور جوش و خروش  اور صدائے تکبیر و تہلیل کی وجہ سے امام لوگوں کو حدیث سے سرفراز نہیں کر سکتے ہیں ۔

اسی دوران علماء و دانشوروں اور حقیقت کی جستجو کرنے والوں کے پیشوا امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کلام کا  آغاز کیا  اور نیشاپور کے اس عظیم الشان اجتماع میں ایک ایسا کلام ارشاد فرمایا ، جس سے زیادہ  کوئی بلیغ ، واضح ، مفید اور جامع کلام نہیں تھا:

سمعت أبي موسى بن جعفر يقول: سمعت أبي جعفر بن محمد يقول : سمعت أبي محمد بن علي يقول: سمعت أبي علي بن الحسين يقول: سمعت أبي الحسين بن علي يقول : سمعت أبي أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليهم السلام يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله يقول: سمعت جبرئيل عليه السلام يقول : سمعت الله عز وجل يقول : لا إله إلا الله حصني، فمن دخل حصني أمن من عذابي، فلما مرت الراحلة نادانا : بشروطها و أنا من شروطها.

امام رؤوف عليه‌السّلام نے ایک ہی جملے میں لوگوں کو توحید اور يکتاپرستي کا بھی درس دیا اور انہیں ان کے لئے وہ چیز بھی بیان کی جو توحید کے لئے اکمال و اتمام اور مبیّن و تفسیر ہے ، یعنی آپ نے توحید کے ساتھ ساتھ توحید کی تفسیر و تبیین کرنے والے امر یعنی اپنی اور دوسرے ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت  کی طرف بھی لوگوں کی ہدایت کی  ۔

جی ہاں ! اہل بیت عصإت و طہارت علیہم السلام  اور امام رضا علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنا ہی توحید کو قبول کرنے اور خدا کی امان میں ہونے کی شرط ہے ۔

اگرچہ یہ حدیث شریف سند کے لحاظ سے سلسلۃ الذہب کے نام شے مشہور و معروف ہے ، لیکن اہل معرفت جانتے ہیں کہ  اگر دنیا کی گرانبہا چیزوں میں سے اگر کوئی چیز سونے اور جواہرات سے ہزار گنا قیمتی ہو تو بھی وہ اس کے برابر نہیں ہو سکتی  کہ ہم اس سند کو اس سے تشبیہ دے سکیں ۔

اگر ہم پوری دنیا کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیں  ، اور اس حدیث کی سند یا اس کے ایک لفظ کو ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھ دیں تو اس حدیث کا پلڑا بھاری ہو  گا  اور یہ تشبیہ ؛ صورت و حقیقت کو مجاز  اور معقول کو محسوس سے تشبیہ دینے کی مانند ہے ،  اور اگر کسی مورد میں یہ تشبیہ دی بھی جائے تو یہ تنگیِ قافیہ کی وجہ سے  ہے ؛ ورنہ مرحوم آية الله والد معظّم اعلی الله مقامه کے بقول:

لعل و مرجان را چه کس گفته است بهتر از خزف

 جـان علوي را چه کـس سنجید با نقش جدار

ہم سب کو ولایت جیسی عظیم اور بے مثال نعمت کا قدرداں ہونا چاہئے ،  اور معارف اہل بیت علیہم السلام اور معارف رضوی علیہ السلام کی تبلیغ و ترویج کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہئے تا کہ تشنگان علم اور حقیقت و بینش اس ناب و خالص اور پاک و پاکیزہ چشمے سے سیراب ہو سکیں ۔

علم اور سخاوت کے رہبر و پیشوا
حضرت امام تقی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر

حضرت امام تقی علیہ السلام اخلاق کریمہ ، صفات حسنہ ، معرفت ، علم و دانش اور زہد و تقویٰ میں اپنے اجداد اطہار علیہم السلام کے وارث تھے اور آپ کی عظمت و جلالت زبان زد خاص و عام تھی ۔ بزرگ علمی و دینی شخصیات آپ کے سامنے خاضع و متواضع ہوا کرتی تھیں  ۔

بزرگ محدثین اور عالیقدر علماء کو آپ سے علوم کسب کرنے کا افتخار حاصل تھا اور وہ حضرات سخت اور دشوار ترین علمی مسائل میں آپ  کو ہی اپنا حلّالِ مشکلات سمجھتے تھے ۔

آپ کے فضائل و کرامات اور آپ کی امامت پر دلالت کرنے والی روایات و نصوص بہت زیادہ ہیں ۔ اگرچہ امام جواد علیہ السلام کی  حیات طیبہ طولانی نہیں تھی اور آپ کا سن مبارک چھبیس سال تک بھی نہیں پہنچا تھا  ( لیکن اس کے باوجود )  اس بزرگ ہستی سے بہت سے علوم صادر ہوئے ہیں ۔ جب کہ امام تقی الجواد علیہ السلام اور اس زمانے کے بزرگ علماء کے درمیان ابحاث اور مناظرات بھی ہوئے ہیں ؛ جیسا کہ عباسی خلیفہ مأمون الرشید ، بنی عباس کے کچھ افراد اور کچھ دوسرے لوگوں کے سامنے قاضی القضاۃ «يحيي بن اكثم» کے ساتھ  ہونے والا مناظرہ اور علمی مباحثہ  ، کہ جس میں  آپ نے اس کے جواب میں ایسی ایسی شقیں بیان فرمائیں کہ قاضی القضاۃ حیران اور شرمندہ ہو گیا اور پھر آپ نے ان تمام شقوں کا جواب بیان فرمایا ۔ پھر مأمون کے کہنے پر آپ نے اس سے ایک مسألہ پوچھا کہ وہ جس کا جواب دینے سے  عاجز ہو گیا ۔ اس نے امام تقی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ  ہی اس مسألہ کا جواب دیں ۔ پھر آپ نے اس سوال کا جواب دیا اور یوں سب بنی عباس پر واضح ہو گیا کہ  مأمون کے مطابق بھی امام تقی علیہ السلام کمسن ہونے کے باوجود  تمام علماء سے افضل و اعلم ہیں ، اور خداوند متعال نے آپ کو اس  فضیلت و کمال سے مزین کیا ہے ۔

امام تقی الجواد علیہ السلام کے مناظرات و مباحثات میں ایک  ایسا مناظرہ ہے کہ  كتاب «الجلاء والشفاء» میں « ابن شهر آشوب » کی روایت کے مطابق آپ نے سات سال کی عمر میں علماء اور دانشوروں کے ایک گروہ کے ساتھ مناظرہ کیا اور آپ نے ان کے مشکل مسائل کا علمی جواب دیا ۔

 

کمسنی میں امامت

اگرچہ اس زمانے تک سن بلوغ سے پہلے امامت کے منصب پر فائز ہونے کا کوئی سابقہ نہیں تھا اور ائمہ میں سے کوئی بھی اس عمر میں مسند امامت پر جلوہ افروز نہیں ہوا تھا ؛ لیکن تمام انبیاء اور پیغمبروں میں یہ امر سابقہ رکھتا ہے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام بچپن میں ہی مقام نبوت پر فائز ہوئے  اور قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے : اِنّي عَبْدُ اللهِ آتانِي الْكِتابُ وَ جَعَلني نَبِيّاً؛  بیشک میں خدا کا بندہ ہوں ، مجھے کتاب دی گئی ہے اور مجھے پیغمبر قرار دیا گیا ہے ۔

اور حضرت يحييٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے : (وَ آتَيْناهُ الْحُكْم صَبِيّاً ) ؛ اور بچپن میں ہی انہیں نبوت دی گئی ۔ 

اس بات کو خاص و عام سبھی قبول کرتے ہیں کہ ائمہ اطہار علیہم السلام کے علوم ، دانش ، قوتِ فہم اور کثرتِ معارف جسمانی رشد و نما ، زمانے اور تعلیم کے حصول سے وابستہ نہیں ہیں ۔

ائمہ علیہم السلام کے بچپن کے زمانے کے متعلق ہی ایسے حیرت انگیز واقعات نقل ہوئے ہیں کہ جو آپ کے کمالات و فضائل  کی فعلیّت اور آپ کے غیر معمولی نبوغ کی عکاسی کرتے ہیں  ۔ یہاں تک کہ معاويه ، يزيد اور عبد الله بن عمر نے بھی آپ کے علم لدنّی کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اور جب حضرت امام موسی بن جعفر علیہما السلام سات سال کے تھے تو ابو حنیفہ آپ سے فقہی مسائل پوچھتا تھا اور ان کا جواب حاصل کرتا تھا ۔

جو کوئی بھی ان بزرگ ہستیوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کرے اور آپ کے بچپن کے زمانے اور سن بلوغت کے بعد صادر ہونے والے علوم کو ملاحظہ کرے تو وہ یہ بات سمجھ جائے گا کہ یہ تمام علوم اور معرفت حصولی طریقے سے حاصل نہیں کئے جا سکتے ۔

اسلام علوم کے تمام شعبوں ، حقوق ، معارف اور الٰہیات میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بے پایان علوم کو تعلیم کے ذریعے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس زمانے میں حضرت خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مکتب و مدرسہ کے علاوہ کس مکتب و مدرسہ سے ایسے شاگرد فارغ التحصیل ہو سکتے ہیں ، اور کون سا استاد ایسے بے نظیر شاگردوں کی تربیت کر سکتا ہے ، اور علی علیہ السلام کے علاوہ کون نبوت کے علوم کو حمل کرکے علوم نبوی کا باب مدینۃ العلم بن سکتا ہے ؟

علی علیہ السلام کے علوم کے مقابلے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مکتب کے تمام اصحاب اور شاگردوں کے تمام علوم بحر بیکراں کے سامنے ایک قطرہ کی طرح ہیں۔

یہ علوم خدا کا فضل اور آپ کو رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے حاصل ہونے والی میراث ہے ۔ اس باب میں سات سال کے بچے اور ستّر سال کے ضعیف العمر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ دونوں خاص استعداد اور کمال صلاحیت کے ساتھ ان علوم کو اخذ  کر سکتے ہیں اور اس کے مُلْهَمْ وَمُفَهَّمْ و محّدث بن سکتے ہیں ۔

جیسا کہ منصور (عباسی خلیفہ ) نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں گواہی دی ہے کہ آنحضرت ان لوگوں میں سے ہیں کہ جن کی شان و منزلت کے بارے میں خدا نے یہ گواہی دی ہے : (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا... )

ائمہ (علیہم السلام ) میں سے ہر امام خدا کا برگزیدہ بندہ ہے  کہ جنہیں خدا نے کتاب اور کتاب کا علم عطا فرمایا ہے اور کبھی بھی امت ایسے اہل بیت (علیہم السلام ) میں سے ایسی شخصیت سے محروم نہیں ہو گی ۔

احاديث «ثقلين»، «سفينة»، «امان» اور حديث «في كّل خلف من امتي» اور (ان کے علاوہ ) دیگر روايات اسی موضوع کو بیان کرتی ہیں اور اسی کی تائید کرتی ہیں ۔ نیز وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ان ذوات مقدسہ کے علاوہ کوئی بھی ان احادیث کا مصداق نہیں ہے اور صرف یہی وہ ہستیاں ہیں کہ جن کا علم ، خدا کے علم اور جن کی بصیرت خدا کی خاص عطا ہے ۔ مسلمان مشرق کی طرف جائیں یا مغرب کی طرف ؛ انہیں کہیں بھی ان کے علاوہ صحیح علم نہیں ملے گا ۔

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها