در ميان تكاليف و فرايض اخلاقى، كم تكليفى مانند امر به معروف و نهى از منكر مؤثر در اصلاح امم و تكامل طوايف است. زنده ترين ملّت ها آن ملّتى است كه موقعيت امر به معروف و نهى از منكر در ميان آنها محفوظ‌تر و محترم تر باشد. ميزان رشد و بلوغ هر طايفه از...
جمعه: 1400/02/24

عيد الفطر كے سلسلہ ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي دامت بركاتہ كے بيانات

اَسْئَلُكَ بِحَقِّ هذَا الْيَومِ الَّذِي جَعَلتَهُ لِلْمُسْلِمِينَ عِيداً
عيد سعيد فطر كے دن ساري دنيا كے مسلمان خوشي و مسرت ميں غرق رہتے ہيں اور اس بات پر فخر محسوس كرتے ہيں كہ انھوں نے ماہ مبارك رمضان كو خدا كي طاعت و عبادت ميں بسر كيا اور اس كي رحمتوں اور بركتوں سے فيض حاصل كيا ۔ 
خدا كا شكر ادا كرتے ہيں كہ اسلام كے ايك عظيم تربيتي درس كو ايك مہينہ ميں تمام كيا ہے ۔ اور اس ميں جو سبق انھيں ديا گيا ہے اسے اپني صلاحيت اور استعداد كے مطابق سمجھا ہے اور اسے اپنے دل ميں اتارا ہے ۔ 
اس دن مسلمان ايك ايسے ميدان جہاد سے كامياب و سرفراز ہو كر نكلے ہيں جس ميں بڑے بڑے پہلوان اور قدآور لوگ خاك چاٹ چكے ہيں ۔ 
اس جہاد كا نام جہاد بالنفس ہے ،جس ميں انسان اپنے دل كي خواہشات ، حيواني غرائز اور نفساني لذات سے جہاد كرتا ہے ۔ 
نفس كو اس كے شہواني امور سے روكنا ، لذيذ غذاؤں اور گوارا مشروبات سے پرہيز كرنا ، نگاہوں كو شيطاني ہوا و ہوس اور حرام چيزوں سے بچانا ، جھوٹ ، غيبت ، غصہ ، بد اخلاقي ، تكبر ، جاہ و مقام طلبي اور ہر طرح كے گناہوں سے پرہيز كرنا ہي اس ميدان جہاد ميں فتح و كاميابي كي علامت ہے ۔ 
يہ سب جہاد ہيں بلكہ جہاد اكبرہيں جيسا كہ پيغمبر اسلام (ص) نے ميدان جہاد ميں جانے والے اور دشمن كے ساتھ اسلحہ اور تلوار سے جنگ كرنے والے گروہ سے فرمايا:
مَرحَبا بِقَوم قَضُوا الجِهادَ الاَصغَر وَبَقِىَ عَلَيهِمُ الجِهادُ الاَكبرَ

" جہاد اكبر" وہ مرحلہ ہے جس ميں با ايمان افراد ، وہ خواتين و حضرات جن كي تربيت اسلام كے دامن ميں ہوئي ہے ، ان كے علاوہ كوئي ثابت قدم نہيں رہ سكتا ، نہ ہي وہاں سے كامياب ہو كر نكل سكتا ہے ۔ 
يہ وہ ميدان ہے جہان قوي الجثہ افراد ، مال و مقام كے عاشق ، شہوت پرست ، خونخوار جلاد ، دنيا طلب فاتح ، مغرور جوان ، كينہ توز افراد ، بے رحم ظالم ، نسل كشي كرنے والے جلاد صفت ، بے پروا خواتين ، ناپاك دوشيزائيں اور مادي دنيا ميں غرق رہنے والے افراد ہلاكت كي ذلت سے دوچار ہوتے ہيں اور اس ميدان ميں شركت كرنے سے عاجز و ناتوان ہيں ، انھيں كوئي فخر نصيب نہيں ہوتا ۔ 
اس ميدان ميں باايمان خواتين اور مرد ، خداپرست افراد ، خاكسار لوگ ، متقي و پرہيزگار ، صبر و زہد ركھنے والے ،دنيا اور مال دنيا سے بے رغبت افراد لباس جنگ پہن كر بلند ہمت او رمستحكم ارادے كے ساتھ ميدان ميں اترتے ہيں اور اپنے حريف كو شكست دے كر كاميابي كے ساتھ اس ميدان سے باہر نكلتے ہيں ۔ 
يقيناً نفساني خواہشات سے جنگ آسان ہونے كے باوجود دشوار ہے ، آسان ہے چونكہ انسان كي پاك فطرت اور عقل و خرد مصلحتوں كو درك كرتي ہے اور اگر اس ميدان ميں انسان قدم ركھے تو جتنا آگے بڑھتا جائے گا، كاميابي ملتي جائے گي يہاں تك كہ اپنے سركش نفس كو مغلوب كر كے اپنا فرمانبردار بنا لے گا اور اپنے بدن كي مملكت ميں اپني ملكوتي اور عقلاني طاقت كو حاكم بنا دے گا ۔ 
دوسري طرف يہ كام دشوار بھي ہے چونكہ نفس سے جہاد ، اپني طرح طرح كي خواہشات كے مقابلے ميں قيام كرنا ، انھيں كنٹرول كرنے كي كوشش كرنا ، شيطاني مكر و فريب اور مخفي خواہشات كو پہچاننا ہر انسان كے بس كي بات نہيں ہے ۔ نفس امارہ كر لگام لگانا اور دنيا كي مادي لذتوں سے چشم پوشي ، اپنے سركش نفس كي ہزار قسم كي مختلف خواہشات كو قابو ميں كرنا اتني جلدي ممكن نہيں ہے ۔ بلكہ يہ اندروني دشمن ان بيروني طاقتوں سے مدد ليتا ہے جو انسان كے غريزے اور خواہشات كي مددگار ہيں ۔ 
اسي لئے نفس سے جہاد كرنا دشوار كام ہے ، ليكن كامياب وہي ہے جو اپنے نفس كو اپنے قابو ميں ركھے اور اسے صحيح طريقہ سے كام ميں لائے ۔ 
ماہ مبارك رمضان جہاد بالنفس كا مہينہ ہے ، اس ميں انسان اپني خواہشات كو كنٹرول كرتا ہے اور اپنے ارادہ كي قوت سے ان پر قابو پاتا ہے ، اور اب يہ موقع ختم ہو گيا اور جشن عيد و سرور برپا كرنے كا موقع آگيا ، يہ عيد اسلامي عيد الفطر ہے ، يہ ايك عمومي عيد ہے جو تمام لوگوں كے لئے ہے ۔ 
اَسئَلُكَ بِحَقِّ هذَا اليَومِ الَّذِي جَعَلتَهُ لِلْمُسلِمينَ عيِداً
يہ وہ عيد ہے جسے خداوند عالم نے تمام مسلمانوں كے لئے عيد اور خوشي كا دن قرار ديا ہے ۔ 
يہ وہ عيد ہے جس ميں عالمي پيمانے پر مساجد اور اسلامي مقامات پر خدا كي بندگي اورعبادت كا جلوہ نظر آتا ہے ۔ 
اس عيد كے رسوم صرف اہل دولت ، حكام ، سرشناختہ شخصيات اور اہل مملكت سے مخصوص نہيں ہيں ۔ 
مادي ڈيكوريشن ، گرانقيمت تحفہ و تحائف كا لين دين ، جيسا كہ اسلام سے پہلے عيدوں ميں رواج تھا ، اس عيد ميں رائج نہيں ہے ۔ 
اس ميں رعايا پر حكام كي زيارت كے لئے جانا ضروري نہيں ہے بلكہ مزدور اور ثروت مند ، افسر اور سپاہي ، فقير اور غني ، شاہ و گدا سبھي ايك ہي صف ميں كھڑے ہو كر خدا كي بندگي ، عبادت اور دعا كيا كرتے ہيں ۔ 
جيسا كہ ہميں معلوم ہے كہ اس عيد كا سب سے اہم ركن " نماز" اور " زكات فطرہ" ہے ۔ 
نماز اور زكات
جيسا كہ بتايا گيا كہ نماز ميں ہر طرح كے لوگ شريك ہوتے ہيں جس سے اسلامي برادري اور برابري كا جذبہ آشكار ہوتا ہے ۔ اس عيد ميں نماز ادا كي جاتي ہے اور قنوت ميں دعا پڑھي جاتي ہے اور پھر نماز كے بعد دو خطبہ ہيں جن ميں اسلام كا سب سے عظيم درس انسان كو پڑھايا جاتا ہے اور بہت سي ضروري چيزيں انسان كو بتائي جاتي ہيں، اور تمام لوگوں كو يہ دعوت دي جاتي ہے كہ اسلامي مقاصد كي تكميل ، ديني شعائر كي تعظيم ، علم و حكمت كي ترويج اور امر بالمعروف اور نہي عن المنكر كے لئے مكمل طريقہ سے كوشش كريں ۔ 
جن لوگوں كے پاس سال بھر كا خرچ موجود ہے يا ايسا ذريعہ آمدني پايا جاتا ہے جس سے سال بھر كا خرچ پورا ہو سكتا ہے ان پر يہ فريضہ عائد كيا گيا ہے كہ وہ زكات ادا كر كے مسلمانوں كي مدد كريں ۔ 
اس عيد ميں مہنگے اور كمر شكن خرچ و بيہودہ اسراف كي كوئي جگہ نہيں ہے اس لئے بدكردار افراد كي عياشي اور فضول خرجي اور شہوت راني اور ميگساري كي بھي اس عيد ميں كوئي گنجائش نہيں ہے ۔ 
يہ عيد " كريسمس ڈے" كي طرح نہيں ہے جس ميں عيسائي برے كاموں اور فساد و فحشا ميں غرق رہتے ہيں اور بيہودہ كاموں ، ناچ گانے ، شباب و شراب اور فسق و فجور ميں ملوث رہتے ہيں اور دين اور حضرت عيسيٰ عليہ السلام كے نام پر لہو لعب ، جوا ، مستي ، شراب ، گانے اور ميوزيك كے پروگرام برپا كئے جاتے ہيں جب كہ يقيناً خدا كے پاك پيغمبر حضرت عيسيٰ عليہ السلام ان چيزوں سے بيزار ہيں ، نہ ہي يہ عيد " سيزدہ بدر" اور نوروز كي طرح ہے كہ جس ميں كچھ ہي سالوں پہلے تك شراب فروشي ، مجالس لہو و لعب ، شہوت انگيز فيلم اور سينيما كا رواج تھا اور ان ايام ميں بدترين جرم و جنايت كي تاريخ رقم كي جاتي ہے يہاں تك كہ اعداد و شمار كے مطابق وہ بچے جن كا نطفہ ان ايام ميں منعقد ہوتا تھا وہ ذہني اور فكري حوالہ سے پسماندگي كا شكار ہوتے تھے ، اسي طرح بہت سے دن ہيں جن كو مقدس نام ديا گيا ہے ، جيسے " مدر ڈے " ، "ٹيچر ڈے" وغيرہ ليكن يہ سب صرف اور صرف دكھاوا ہے اس كا حقيقت سے كوئي تعلق نہيں ہے ، جن كو ايك رسم كے طور پر ادا كيا جاتا ہے جس سے بچكانہ اور نادان جذبات وقتي طور پر ان سے متاثر ہوتے ہيں ۔ 
اس طرح كے ايام كو عيد نہيں كہنا چاہئے ، يہ رسومات اغيار كي تقليد اور مغرب كي جھوٹي اور حقيقت سے خالي سوغات پر مشتمل ہيں ، ورنہ اسلام ميں ہر دن " مدر ڈے " ہے ۔ ہر دن ماں باپ اور استاد كا احترام واجب اور ضروري ہے ۔ 
اسلامي ماحول جو كہ انساني مہر و محبت كا سب سے عمدہ نمونہ ہے ، اس ميں ماں ، استاد اور بچوں كا احترام ہميشہ اور ہر روز مورد تاكيد قرار ديا گيا ہے ۔ 
جن جگہوں پر سال كے ديگر ايام ميں يہ ديكھنے كو ملتا ہے كہ ماں باپ اور استاد كا احترام ختم ہو چكا ہے ان لوگوں نے اس مردہ جذبہ كو زندہ كرنے كے لئے سال ميں ايك دن معين كر ديا ہے جس ميں ماں باپ يا استاد كو تصنع اور بناوٹي انداز ميں ياد كيا جائے ۔ اس لئے ان دنوں كو صرف سالانہ ياد اور نابود شدہ انساني اقدار كي برسي كے طور پر منايا جاتا ہے ۔ 
وہ قوم جس خود كو اپنے ماں باپ اور استاد كا مرہون منت سمجھتي ہے اور ان كا دين انھيں ان كے حقوق كي ادائگي كا حكم ديتا ہے انھيں اس طرح كي نمايشوں كي ضرورت نہيں ہے ۔ 
ہم مسلمان اسي ماہ رمضان كے ايام ميں ماں باپ وغيرہ كے حقوق كے حوالے سے كتنے سبق سيكھتے ہيں ، دعاؤں ميں بارہا ماں كي زحمتوں كو ياد كيا جاتا ہے اور اس كي خدمات كو ذہن نشين كرايا جاتا ہے ۔ 
زندہ باد اسلام! جس نے تربيت اور معاشرے كي روحاني صلاح و فلاح كو سرمشق عمل قرار ديا ہے اور ہر موقع پر انسان كے قوت فكر اور قوت ارادہ كو مضبوط بنانے كے لئے انتظام كيا ہے ۔ 
يہ عيد فطر بھي ان تمام باارزش اور عالي مفاہيم كي يادآوري ہے جو انسان كو ہر نيك عمل كي ہدايت كرتے ہيں ۔ 
 اَن تُدخِلَنِي فِي كُلِّ خَير اَدخَلتَ فِيهِ مُحَمَّداً وآلَ مُحَمَّد،
وَاَن تُخرِجَنِي مِن كُلِّ سُوء اَخرَجتَ مِنهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّد
يہ عيد خدايي عيد ہے ، يہ دعا و نماز ، بندگان خدا كے ساتھ اچھا برتاؤ اور برادران اسلامي سے ملاقات كا بہترين موقع ہے ۔ 
چودہ صديوں سے يہ عيد منائي جا رہي ہے ، ليكن آج تك يہ سننے كو نہيں ملا كہ كسي نے اس عيد كے وسائل مہيا نہ ہونے كي وجہ سے خودكشي كر لي ہے ، يا زن و شوہر نے اس بات كو لے كر عدالت ميں مقدمہ دائر كيا ہے ۔ 
يہ وہ عيد ہے جس ميں بيجا تفريح كے بجائے لوگ مسجد اور بيت الصلاۃ كي طرف جاتے ہيں ۔ خداوند عالم نے اس عيد كو پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے خير كا ذخيرہ ، شرف اور كرامت كي نشاني اور اسلامي اقدار كي عظمت و بلندي كا ذريعہ قرار ديا ہے ۔ 
________________________________________
منبع : ماہ مبارك رمضان ؛ مكتب عالي تربيت و اخلاق ، تاليف حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

چهارشنبه / 22 ارديبهشت / 1400
انسانی حقوق کی سب سے معتبر قرارداد
رمضان المبارک کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کے سلسلہ وار نوشہ جات (۱۹)

حضرت علی علیه السلام کی شخصیت کے متعلق لاکھوں کتابیں لکھی گئیں ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روز بروز اس بے نظیر وجود کی عظمت و وسعت مزید آشکار ہو رہی ہے ، اور یوں  آپ کی حیات طیبہ اور آپ کے فضائل کا مطالعہ کرنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے ک؛ جیسے یہ آپ کے  تازہ فضائل ہیں اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ  دوسرے افراد ان فضائل کو نہیں جانتے اور یہ ان پر آشکار نہیں ہیں ۔ان ایام کی مناسبت سے فضائل امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو کتاب نہج البلاغہ کا ایک حصہ ہے:

*انسانیت کے افتخار کی سند

اسلامی سماج اور بالخصوص شیعت کے افتخارات کے اسناد میں سے ایک سند امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا مالک اشتر علیہ الرحمہ کو لکھا گیا وہ عہد نامہ ہے جو تقریباً چودہ سو سال گذرنے کے باوجود بھی انسانی حقوق کا معتبر اعلامیہ ہے۔اس عہد نامے کے ہر جملے اور عبارت میں حکومت و مملکت کے مختلف پہلوؤں،سماج کے حقوق پر توجہ کے متعلق اعجاز آمیز اور بہترین مطالب کا بیان ہے۔

ماضی اور حال میں عظیم حکماءاور دانشوروں نے اس عہدنامہ کا تجزیہ کیا  اور اس کی متعدد شرح بیاں کیں منجملہ شرح «توفيق الفكيكي» کہ جو «الرّاعي والرّعيّه» کے نام سے ہے۔

 * کتاب ’’الإمام علی صوت العدالة الانسانیة‘‘

میں حسب معمول ایک دن استاد بزرگ آيت الله العظمي جناب آقا بروجردي قدّس سرّه کی خدمت میں مشرّف ہوا ، جب کہ میں علم کے اس سرچشمہ سے استفادہ کرتا تھا۔استاد بزرگوار نے مجھے ایک خط دیا کہ جو اسی دن آپ کو موصول ہوا تھا۔میں نے وہ خط لیا اور اس کا مطالعہ کیا۔مجھے اس خط کے جو نکات یاد ہیں ، بطور خلاصہ اس مضمون میں پیش خدمت ہیں:

 * جرج جرداق  کا استاد محترم کو کتاب ہدیہ کرنا

ایک عیسائی شخص،مصنف اور لبنانی استاد «جورج جرداق» نے آيت الله کی خدمت میں یوں  لکھا تھا:میں نے امام علی عليه السّلام کی تاریخ زندگی کا بہت مطالعہ کیا  اور یہ حقیقت دریافت کی کہ آج کی متمدن دنیا میں قبول کئے جانے والے تمام اصول ؛ جن پر ہر قوم و ملت کا اتفاق ہے اور جو انسانی زندگی کی ترقی کی بنیاد تصور کئے جاتے ہیں وہ سب اصول و قوانین امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زندگی،احکام اور آپ کی راہ و روش سے استفادہ کئے گئے ہیں۔لیکن علمائے اسلام نے ان اصول کی اس طرح سے تشریح نہیں کی جس طرح کرنی چاہئے تھی(البتہ یہ ان کا اپنانظریہ تھا)۔مغربی علماء نے بھی اس بات کو چھپایا ہے کیونکہ وہ یہ قبول نہیں کرنا چاہتے تھے کہ مشرق کی ایک شخصیت ان تمام اصول کی مظہر و مبیّن ہے ۔اور میں نے  یہ ضروری نہیں سمجھا کہ ایسی شخصیت مشرق میں ہو اور اس کی شأن و منزلت اور اس کا حق مجہول رہے ،لہذا میں نے یہ کتاب لکھی اور چونکہ میں عیسائی ہوں اس لئے کوئی مجھ پر تعصب کی تہمت نہیں لگا سکتا۔

نیز انہوں نے لکھا کہ میں نے آپ کو سب سے زیادہ شائستہ شخصیت پایا کہ میں آپ کو یہ کتاب ہدیہ کروں لہذا میں آپ کو یہ کتاب ہدیہ کرتا ہوں اور آپ مطالعہ کرنے کے بعد تصدیق کریں کہ: اِنّي اَنْصَفْتُ الْاِمامَ بَعْضَ الاِنْصافِ.

مرحوم استاد اس کتاب کے منتظر تھے جو اب تک موصول نہیں ہوئی تھی ۔عرض کیا کہ ان‌شاء الله تعالی کتاب موصول ہو جائے گی یہ مطالب کے لحاظ سے اس خط میں بھی کچھ اعترافات تھے جو اہم سند ہیں۔

کچھ مدت کے بعد وہ کتاب موصول ہو گئی جس کا نام تھا«اَلامام عليّ صَوتُ الْعدالَةِ الانسانِيَّه» ،جو ایک جلد میں چھپی تھی اور بعد میں وہ موجودہ صورت میں کئی جلدوں میں شائع ہوئی۔

حضرت آيت الله کو کچھ فرصت ملی تو آپ نے اس کتاب کا مطالعہ کیااور مجھے بھی یہ حکم فرمایا کہ میں شروع سے آخر تک اس کتاب کا مطالعہ کروں اور جہاں بھی کوئی اشتباہ دیکھوں اسے لکھ لوں۔

میں نے استاد کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور موارد لکھ کر استاد کی خدمت میں پیش کئے۔

* انسانی حقوق کے اعلانیہ کا مالک اشتر کے عہد نامہ سے موازنہ

میں نے اس کتاب میں جو بہترین مطالب پڑھے ان میں سے ایک مالک اشتر کا عہد نامہ اور اس کا انسانی حقوق کے اعلامیہ سے موازنہ تھا۔

اس عیسائی دانشور نے انسانی حقوق کے اعلامیہ کو لکھا  اور اس کی ہر شق کے مقابل میں عہد نامہ کا ایک جملہ لکھا اور کہا:یہ انسانی حقوق کا اعلامیہ ہے  اور یہ امیر المؤمنین کا مالک اشتر کے لئے عہد نامہ ہے۔ہم دونوں کو ملاحظہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تمام موارد میں عہد نامہ کے جملات کامل تر اور رسا تر ہیں؛اور دونوں میں یہ فرق ہے کہ:

۱ ۔ انسانی حقوق کا اعلاميّه اس زمانے میں لکھا گیا کہ جسے آج کی اصطلاح میں ترقی یافتہ زمانہ کہا جاتا ہے اور کئی مرتبہ تکمیل کرنے کے بعد وہ موجودہ صورت میں تشکیل دیا گیا لیکن علی علیہ السلام نے یہ عہد نامہ تیرہ صدیاں پہلے لکھا کہ جب یہ حقوق مطرح نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ان کی جانب کوئی توجہ کی جاتی تھی ۔

۲ ۔ انسانی حقوق کی اس قرارداد و اعلامیہ اور اس کے مضمون ،الفاظ اور اس کے متن کے متعلق مختلف ممالک کے علمائے حقوق اور دانشوروں نے اپنے اپنے نظریات پیش کئے  اور پھر ان کا تجزیہ و تحلیل کیا گیا  اور اخبارات کے ذریعہ عام لوگوں کے افکار تک پہنچایا  اور پھر مل کر ایک دوسرے کی مدد سے اسے لکھا گیا۔ لیکن امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو مصر کی حکومت کے لئے معین فرمایا تو آپ نے ذاتی و انفرادی طور پر کسی سے مشورہ کئے بغیر یہ عہد نامہ لکھا۔

 ۳ ۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے جب یہ اعلامیہ لکھا تو گویا انہوں نے دنیا والوں پر اور بالخصوص ضعیف و کمزور، پسماندہ ،استعمار زدہ  اور محروم اقوام و ملل پر احسان کیا اور وہ اس بات پر فخر کرتے تھے لیکن جب امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے یہ عہد نامہ لکھا تو کسی پر احسان نہیں جتلایا بلکہ آپ اسے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی سمجھتے تھے۔

۴ ۔ انسانی حقوق کا اعلامیہ پیش کرنے والے خود کو اس کے بانی سمجھتے ہیں لیکن وہ خود ہی اس کے احترام کے قائل نہیں ہیں۔اور جب کسی چیز سے ان کافائدہ و منافع وابستہ ہو تو وہ اس کی مختلف شقوں کو پامال کرتے ہوئے اس پر عمل نہیں کرتے۔

لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ امام علی علیہ السلام خود سب سے پہلے اس عہد نامہ پر عمل پیرا ہوئے اور آپ نے کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی ۔امیرالؤمنین علی علیہ السلام کے متعلق جس قدر بھی گفتگو کی جائے لیکن پھر بھی وہ انتہا تک نہیں پہنچ سکتا۔ سلام الله و صلواته علیه.

شب قدر؛ کمالِ انسانیت کی تاریخ کا آغاز
اه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات / 8

شب قد؛ شب نور ، شب رحمت ، شب نزول قرآن اور شب مَطلع خیرات و سعادات ہے ۔ شب قدر  برکتوں کے نزول کا وقت اور انسان کی نئی زندگی کا آغاز ہے  یہ انسانوں کے لئے تبدیلی کی شروعات اور حقیقی و واقع کمال کی تاریخ ہے ۔

* شب قدر؛ انسانی آزادی کی رات

یہ ایسی رات ہے  کہ اگر اس رات کا وجود نہ ہوتا تو انسانوں کی بدبختی کی  تاریک رات کبھی اختتام پذیر نہ ہوتی، نیک بختی کی صبح کا سورج طلوع نہ ہوتا اور انسان کبھی بھی طاقتوروں اور استعمار گروں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا۔

شب قدر ایک مبارک رات  ہے ۔ یہ رات انسان کی آزادی ، انسانی حقوق اور عادلانہ حکومت کے اعلان کی رات ہے ۔ یہ رات غفلت  زدہ ، نادان ، فساد و تباہی اور گمراہی سے آلودہ اقوام وملل کے لئے صبح ہدایت و بیداری اور  آگاہی و فلاح ہے ۔ اس رات میں سب سے عظیم اور محترم آسمانی کتاب نازل ہوئی کہ جو تا ابد جاویداں ہے اور جو انسان کی رہنمائی اور سعادت کی ضامن ہے ۔ اس نے اپنی ملکوتی کرنوں سے دنیا سے شرک ، مجوس کی ثنویت ، عیسائیوں کی تثلیث ، یہودیوں کی خرافات اور بت پرستی کی ظلمت و تاریکی کا خاتمہ کر کے توحید اور خدائے یگانہ کی پرستش کو اجاگر کیا ۔ 

اگر یہ (مبارک) رات نہ ہوتی تو اپنی تمام تر اقدار ، علوم و معارف ، اخلاقیات ، عرفان اور فقہ کے باوجود بھی عظیم اسلامی تمدن کا وجود نہ ہوتا ۔ نیز اس کے دامن میں پرورش پانے والی اعلیٰ شخصیات بھی موجود نہ ہوتیں ۔

* انسانی سماج کی ترقی میں شب قدر کے اثرات

انسان نے نزول قرآن کے بعد جومنزلیں  طے کیں اور اس کے بعد بھی انسان جن منزلوں تک پہنچے گا ؛ وہ سب اس رات اور قرآن کی ہدایت کی برکات ہیں ۔

انسانی اہداف کی پیشرفت اور انسانی سماج کی ترقی میں اس مبارک رات کے اثرات کو آشکار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان عظیم تحریکوں اور انقلابات کو ملاحظہ کریں کہ جو قرآن کی آزادی بخش تعلیمات کے زیر سایہ انسان کو چودہ صدیوں میں علم و صنعت اور تمدن کے میدان میں حاصل ہوئی ہیں ۔ اور اس زندگی کا قرآن سے پہلے کی کم رنگ ، خاموش اور ساکن زندگی  سے موازنہ کریں تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ کس طرح اسلامی  جنبش و تحریک ، قیام مسلمین اور خدا کے عظیم پیغمبر حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت اصلاحات ، جنبش اور آزادی خواہانہ انقلابات کی ابتداء ہے کہ جس نے کاروانِ انسانیت کو سرعت اور تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ یہی انسان صدیوں سے سستی اور ناتوانی سے قدم اٹھا رہا تھا لیکن (اسلام نے ) اسے چودہ صدیوں میں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ اس کی فکر زمین ، چاند ،  ستاروں اور کہکشانوں کی حدوں سے بھی آگے بڑھ گئی ۔

* قرآن؛محور شب قدر

جی ہاں ! قرآن نے افکار کو بدل کر رکھ دیا ۔ اس نے انسان کی شخصیت کو محترم شمار کیا اور واضح طور پر انسانی حقوق کا اعلان کیا ، اس نے افراد کی پرستش اور انفرادی و شخصی طاقت کی مذمت کی ۔ اس نے بیت المال اور دوسرے امور میں امتیازات کی نفی کی اور سب کے لئے برابر شہری و مدنی حقوق قرار دیئے ۔ 

* شب قدر کے مخفی ہونے کا راز

قرآن نے شب قدر کو «لیلة المباركة» قرار دیا ہے اور اس کی شان میں ایک سورہ نازل فرمایا ہے اور اس رات کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ تعیینِ شب قدر میں اختلاف ہے لیکن معتبر روایات سے اخذ شدہ قابل اعتماد اور متحقق قول یہ ہے کہ شب قدر ؛ ماہ رمضان کی انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں رات سے خارج نہیں ہے ۔ اور قوی احتمال یہ ہے کہ شب قدر ؛ تئیسویں کی رات ہے ۔ بعض روایات جیسے «روایت جهنی» بھی اس قول کی تائید کرتی ہیں ۔ اور کچھ دوسری روایات سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ ان تین راتوں میں سے ہر ایک رات ؛ شب قدر ہے ۔

بہرحال اگر قطعی و یقینی طور پر شب قدر معلوم نہ ہو تو بھی اس کے محفی و نہاں ہونے میں حکمت اور مصلحت ہے ۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک مصلحت یہ ہو کہ مسلمان اس مہینے کی ہر رات اور کم سے کم ان تین راتوں میں خداوند متعال کی عبادت ، قرآن کریم کی تلاوت ، علوم و معارف کے حصول  اور حقائق کو جاننے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں ۔ اور اس پورے مہینے کو «ماه قرآن» قرار دیں ، جب کہ انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں کی راتوں کو صبح تک بیدار رہتے ہوئے توبہ و استغفار ، اصلاح و احوال ، تلاوت قرآن اور دعا و مناجات میں بسر کریں ۔

شب قدر کے مخفی ہونے میں ایک نکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر شب قدر اپنی تمام قدر و منزلت اور فضیلت کے ساتھ پہچانی جائے تو بہت سے لوگ صرف اسی رات میں عبادت کرنے پر اکتفاء کرتے اور یوں (ماہ مبارک رمضان کی ) دوسری راتوں میں دعا و مناجات کے فیوضات کی جانب توجہ نہ کرتے ۔ نیز ممکن ہے کہ یہ کبھی کسی کے لئے غرور اور تکبر کا باعث بنتی ؛ لہذا یہ رات اس لئے پنہاں اور مخفی ہے  کہ مؤمنین ہر وہ رات ذکر الٰہی ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات میں بسر کریں کہ جس کے شب قدر ہونے کا احتمال ہو تا کہ وہ زیادہ برکات اور ثواب سے مستفیض ہو سکے ۔ اور زیادہ مشق کے ذریعے اس میں ملکات فاضلہ راسخ ہو سکیں ۔

 

* شب قدر سے معنویت کا حصول لازم ہے

پس شب قدر ایک سنہری اور قیمتی موقع ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس رات کو اسلامی حالات کے بارے میں تفکر اور قرآن مجید کی تعلیمات کے بارے میں توجہ کرتے ہوئے اسے غینمت شمار کریں اور اس رات میں قرآن اور اس کے احکام کے ساتھ اپنے رابطے کے بارے میں سوچیں ۔

ان مبارک اور با فضیلت راتوں میں شب بیداری کریں ؛ کیونکہ دعا اور حدیث کی کتابوں میں ان راتوں میں شب بیداری کی فضلت کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں ۔ شب قدر ایسی رات ہے کہ جس میں خانۂ خدا کی طرف جانے والے ہر شخص کو معنوی سعادت اور تقرب کی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ 

* شب قدر ؛ امام زمانہ ارواحنا فداہ کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرنے کی رات

اس رات کے اہم ترین وظائف میں سے ایک یہ ہے کہ انسان ولیّ امر حضرت بقیة اللهعجّل الله تعالی فرجهالشریف کے ساتھ تجدید عہد کرے اور یہ معروف دعا «اَللهم كُن لِوَلِیكَ...» پڑھے ؛ کیونکہ شب قدر کا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے خاص تعلق ہے ۔ اس رات ملائکہ (اور روح الأمین) حضرت ولی الأمر صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر نازل ہوتے ہیں ۔قرآن و عترت اور کتاب مبین و امام مبین سے تمسک کا بھی یہی تقاضا ہے کہ مؤمنین شب قدر میں قرآن مجید اور روئے زمین پر خدا کی آخری حجت بقیۃ اللہ ، بقیۂ عترت ہادیہ اور اس آیۂ کریمہ «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِینَ اصْطَفَینا مِنْ عِبَادِنَا» کے حقیقی مصداق یعنی حضرت حجّة بن الحسن العسكریروحی و ارواح العالمین له الفدا سے متمسّك ہوں ۔ اور وہ یہ جان لیں کہ حدیث ثقلین جیسی متواتر روایات کی رو سے ضلالت و گمراہی سے امان اور نجات صرف قرآن و عترت سے متمسک ہونے کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ ان تمام انحرافات ، (خرافات)اور مختلف قسم کی سرگردانی سے نجات «قرآن و عترت» سے توسل و تمسک کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

ہم سب اس رات کو غنیمت جانیں ؛ معارف دین کے حصول ، توبہ ، تجدید عہد ، دعا ، اخلاقی خود سازی ، تذکیہ ٔنفس ، خدا پر ایمان کی تجدید ، حساب وکتاب اور معاد پر یقین ، دھوکہ دہی سے نیتوں کو پاک کرنے ، مسلمان بھائیوں کے بارے میں بغض و کینہ کو ختم کرنے ، (نیک مقدرات ) خیر و سعادت ، ہدایت اور تمام نوع انسانی کے لئے امن و امان کی دعا کریں اور سب سے بڑھ کر اس مبارک رات میں صاحب العصر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ؛ کیونکہ یہی ذات «بيمنه رزق الوری و بوجوده ثبتت الأرض و السماء» ہے ۔

امید ہے کہ ان مبارک راتوں میں خالصانہ دعاؤں کی برکت سے تمام اداروں اور شعبوں میں اسلامی جلوہ زیادہ سے زیادہ اجاگر ہو اور اس رات میں تمام اقتصادی ، سماجی و معاشرتی اور اخلاقی کمزوریاں برطرف ہو جائیں ۔

میں شب قدر کی مبارک راتوں میں شب بیداری کرنے والوں سے خاضعانہ طور پر استدعا کرتا ہوں کہ وہ رؤوف ، کریم ، عزیز ، مہربان ، محبوب قلب عرفاء ، ذخیرۂ انبیاء ، یوسف زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف متوجہ ہوں اور یہ راتیں صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی یاد ، دعائے فرج اور آپ کی عالمی ، عادلانہ (اور  آفاقی ) حکومت کے قیام کی دعا میں بسر کریں ۔ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور اور فرج کے لئے دعا کریں تا کہ آپ سب کے لئے گشائش مہیا ہو ۔ ان مبارک راتوں میں سب مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ حضرت حجّة بن الحسن العسكری روحی و ارواح العالمین له الفدا کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ۔

آئیں اور بقیۃ اللہ الأعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے محکم و استوار عہد کریں کہ ہم سب اپنی زندگی امام کی رضا و خوشنودی  کی راہ میں بسر کریں گے اور مسلمانوں کی مشکلات کی وجہ سے امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے غم و حزن کو برطرف کریں گے ۔

ابو طالب؛ مدافع رسالت
ماہ رمضان کی مناسبت سے آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات

ماہ رمضان کے تاریخی اتفاقات و واقعات میں سے ایک حضرت ابو طالب علیہ السلام کی وفات ہے ۔ شیخ مفید قدّس سرّه کے قول کی بناء پر بعثت کے دسویں سال اور ہجرت سے تین سال پہلے سات ماہ رمضان کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے واحد حامی و کفیل جناب ابوطالب علیہ السلام نے وفات پائی ۔

انسانوں میں سے اکثر افراد کی زندگی کے زیادہ تر ایّام ان کی اپنی ذات یا انفرادی امور سے وابستہ ہوتے ہیں ، لیکن عالم انسانیت کی خدمت کرنے والے ، مردان خدا ، انبیاء ، اولیاء اور اصلاح کرنے والے بزرگوں کی زندگی کے ایّام پورے سماج ، تاریخ اور خدا سے مرتبط ہوتے ہیں اور یہ سب کی نظر میں فخر و مباہات ، عزّت و خير، صلاح و ترقي اور عظیم تاریخی تحریک کا موجب  ہوتے ہیں ۔  یہ ایّام جس قدر الٰہی رنگ رکھتے ہوں اور  سماج  کے لئے خیر خواہی، لوگوں کو جہالت سے نجات دینے ، فلاح کی دعوت دینے ،حق و عدالت اور ہدایت کا باعث ہوں  ، یہ اسی قدر پائیدار اور جاودانہ ہوتے ہیں ۔ 

ان اّیّام کا احترام  ، حق اور نصرتِ ایمان کا احترام ہے ۔ تاریخ اسلام میں یہ درخشاں اور تاریخی ایّام خاص جلوہ رکھتے ہیں اور تاریخ اسلام ایسے دنوں سے مزین ہے ۔ 

اسلام میں اپنے خاص کردار ، مقام اور بہت ہی حساس عہدے کی حفاظت اور ذمہ داری کی وجہ سے جن شخصیات کی زندگی کے ایّام کو یاد رکھنا چاہئے بلکہ ان کی پوری حیات زندہ و جاوید ہونی چاہئے ، ان میں سے ایک سيّد بطحا، رئيس مكّه اور قبلهٔ قبيله ہیں ؛ جو تمام اخلاقی فضائل کے حامل تھے اور سب لوگ آپ کا احترام کرتے تھے اور آپ کی شخصیت اور مکارم اخلاق کو سراہتے تھے : «عَلَيْهِ بَهَاءُ الْمُلُوكِ وَ وَقَارُ الْحُكَمَاءِ؛ ان کے رخسار پر بادشاہوں کی ظرافت اور حکماء کا وقار نظر آتا تھا » ۔ جی ہاں ! اميرالمؤمنين علی عليه السلام کے پدر گرامی جناب ابو طالب علیہ السلام ان عظیم شخصیات میں سے ہیں ؛ جو انسانیت اور مسلمان معاشرے پر بہت بڑا حق رکھتے ہیں ۔جب عرب کے مشہور حکیم «اكتم بن صيفي» سے پوچھا گیا کہ آپ  نے حكمت و رياست اور حُكم و سيادت کس سے سیکھی ؟ انہوں نے کہا : «میں نے یہ (علوم) حليفِ علم و ادب، سيّد عجم و عرب ابوطالب بن عبد المطلب سے سیکھے ہیں » ۔ انہوں نے ہی تاریخ اسلام کے حساس ترین موقعوں پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت کی  ؛ یعنی ابلاغ وحی کے آغاز سے اور اس کے آشکار ہونے کی ابتداء سے ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت میں اہم ، بنیادی اور نجات بخش کردار ادا کیا کہ جو دین مبین اسلام کے مستقر ہونے کا باعث بنا ۔

آپ تمام امت مسلمہ پر حق رکھتے ہیں ، سب ان کے احسان مند ہیں ، جنہوں نے بیالیس سال تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حمایت ، نصرت ، مدد اور خدمت کی ، جو چودہ ہزار دنوں سے زیادہ بنتے ہیں کہ جن میں ہر ایک دن تاریخ ساز اور الٰہی تھا ۔ اس مرد الٰہی کی زندگی کا ہر دن اسلام ، دین توحید اور اس عظیم تحریک  کا پشت پناہ شمار ہوتا ہے کہ جس نے انسانی سماج کو ترقی ، تکامل ، خود شناسی  اور خدا شناسی کی طرف ہدایت دی اور ان کی زندگی کا  ہر دن خدا اور اسلام کی راہ میں گزرا ۔کسی کی بھی زندگی کے اتنے ایّام پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت ، دعوت اور حق کی مدد میں نہیں گزرے ۔

جناب ابو طالب علیہ السلام نے اپنی غیر معمولی فداکاری سے دین خدا کے دشمنوں کا محکم مقابلہ کیا اور انہیں نورِ الٰہی کو بجھانے سے روکے رکھا ۔

ان کی زندگی کا ہر دن اور ہر عمل لائق احترام و تحسین اور قابل اسوہ ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت میں گزارے گئے آپ کے چودہ ہزار دن ؛ سب کے سب ایّام اللہ ہیں ۔ استقامت کے چودہ ہزار دنوں، مشکلات ،محرویت ،پابندیوں  ، سختیوں اور مشرکوں کی سازشوں کو برداشت کرنے کے  چودہ ہزار دنوں نے اسلام کو بیمہ کر دیا ۔

یہ ابو طالب (علیہ السلام ) تھے ، ابو طالب (علیہ السلام ) تھے اور پھر ابو طالب (علیہ السلام ) ہی تھے کہ جنہوں نے  اسلام کے ابتدائی دنوں اور دعوت کے ابتدائی سالوں میں معاشرے میں  اپنے خاص مقام و مرتبہ اور احترام سے استفادہ کرتے ہوئے خدا کے دین کی پاسداری کی اور دعوت (اسلام) کے ابلاغ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کی ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح میں جناب ابو طالب علیہ السلام کا قصیدۂ لامیہ ، جناب ابوطالب علیہ السلام کے ایمان کی اوج ، خلوص نیت  ، وفاداری  اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کامل نصرت کا ایک نمونہ ہے ۔

اہل سنت کے بعض سخن شناس علماء اور ادب و بلاغت کے بزرگوں نے  یہ اعتراف کیا ہے کہ یہ قصیدہ  فصاحت و بلاغت کا کا اعلیٰ مرتبہ کا حامل ہے اور یہ  قصائد سبعهٔ معلّقه سے زیادہ قوی اور برتر ہے اور ابو طالب (علیہ السلام )  کے سوا یہ کسی اور کا قصیدہ نہیں ہو سکتا ۔ اس قصیدہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ابو طالب (علیہ السلام ) پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت الٰہی کی پشت پناہی کے لحاظ سے کہاں اور کس حد تک مصمم ، جازم ،قاطع اور محکم عزم و ارادے کے مالک تھے اور دشمنوں کے مقابلے میں قوی ، خطرناک اور خونخوار تھے کہ جنہوں نے یک و تنہا دفاع  کیا اور اسلام کو ایسے راستے پر گامزن کر دیا کہ جہاں سے وہ واپس نہیں پلٹ سکتا تھا ۔

جس طرح تاریخ میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ساتھ دینے کے ایّام درخشاں ہیں ، اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثناء میں لکھے گئے عرب و عجم کے ہزاروں قصیدوں میں سے یہ قصیدہ بھی بے مثال ، ممتاز اور یگانہ ہے ۔

سب حضرات اور بالخصوص فضلا اور عزیز طلاب کو سو بیت پر مشتمل اس قصیدے کا حافظ ہونا چاہئے ۔

نوجوان نسل اور موجودہ اسلامی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کی تاریخ حیات و زندگی کو اسوہ و نمونہ قرار دیں اور اس تاریخ سے عظیم اور سبق آموز درس حاصل کریں ۔

سب لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس دن کی تجلیل و تکریم کریں اور اس مناسبت سے مجالس کا انعقاد کریں ، جب کہ  خطابات و تقاریر  اور مقالات میں تاریخ اسلام اور مسلمانوں پر اس  عظیم اور بزرگوار شخصیت کے حقوق کی ستائش کریں ۔  

يكشنبه / 12 ارديبهشت / 1400
غیر مسلم دانشوروں کی نگاہ میں ماہ رمضان کا عظیم معجزہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (2۰)

غیر مسلم دانشوروں کی نگاہ میں ماہ رمضان کا عظیم معجزہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (21)

 

بسم الله الرحمن الرحیم

قال الله تعالی: شَهْرُ رَمَضَانَ اَلَّذِي اُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ

* کتاب خدا سے تجدید عہد کا مہینہ

آیۂ شریفہ کی بناء پر ماہ رمضان کی کرمات و شرافت قرآن مجید کے نزول کی وجہ سے ہے بلکہ اس آیت سے یہ بھی استفادہ کیا جاتا ہے کہ اسی شرافت و فضیلت(یعنی اس مہینہ میں قرآن نازل ہونا) کی وجہ سے ہی دوسرے مہینوں میں سے اس مہینہ کو اختیار کیا گیا اور شاید اس مہینہ میں روزہ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت  نعمت کے شکر کےلئے قیام کرنا، نزول قرآن کی سالگرہ منانا، خدا کی کتاب  اور اس کی تعلیمات کے ساتھ تعلق کی تجدید کرنا اور قرآنی محافل کا انعقاد کرنا ہے تا کہ مسلمان پورے سال کے دوران ایک مہینہ میں خدا کی مقدس کتاب کی سالگرہ منائیں  اور اس مہینہ میں ’’روزہ‘‘نامی عبادت کو انجام دے کر اس کا حترام و اکرام کریں اور خدا کا شکر بجا لائیں ،قرآن کی تلاوت اور اس کی آیات کے معانی میں غور و فکر اور تدبّر و تفکّر کرتے ہوئے قرآنی علوم و معارف سے مسفید ہونے کے لئے کوشاں رہیں کہ جو دنیا و اورآخرت میں سعادت کی ضامن ہیں۔

’’قرآن‘‘كتاب حكمت، شريعت و قانون، اخلاق، توحيد و معرفت خدا اور تاريخ و عبرت ہے جس میں علوم حیاتیات، صحت، اقتصاد و معاشیات، زراعت، نجوم ، عمرانیات، معاشرت، اور نفسیات کے اصول درج ہیں.

«الْفَضْلُ ما شَهِدت بِه الأَعداءُ»(یعنی فضیلت وہی ہے کہ جس کی دشمن بھی گواہی دے) کی رو سے قرآن کی عظمت کے بارے میں چند عیسائی دانشوروں اور مادّي حضرات کے اقوال ذکر کرتے ہیں:

* قرآن کی عظمت کے بارے میں بیگانوں کی گواہی

1. كتاب «الحقيقة» کے مؤلف لبنان کے ڈاکٹر شبلی شميل (متوفّی 1917ء) رسول اعظم ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم‎ کی مدح و ثناء میں اپنے مشہور قصیدہ میں کہتے ہیں:

دَع مِن مُحمد فِي صدي قُرآنِه * ما قَد نَحاه لِلحمةِ الغاياتِ
اِنّي وَاِن اكُ قَد كَفَرتُ بِدِينِه  * هَل اَكفُرَنَّ بِمُحْكَمِ الآياتِ
وَمَواعِظ لَو انَّهم عِملُوا بِها  * ما قَيَّدُوا العُمرانَ بِالعادات

2. ’’ناصف يازجی‘‘(متوفي 1871ء) ایک مشہور عیسائی مصنف اور اديب ہیں ،جو«طوق الحمامة» اور «مجمع البحرين» جیسی کتابوں کے مؤلف ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے ابراهيم يازجی(جن کا شمار عرب کی علمی و ادبی اور ‎لغوی نہضت کے رہبروں میں ہوتا ہے اور جو حافظ قرآن اور مجلّه «الضياء» کے بانی ہیں) کو یہ وصيّت كی ہے: «اذا شِئتَ اَن تَفُوقَ اَقرانَكَ فِي العِلْمِ وَالاَدَبِ وَصَنَاعَةِ الاِنشاءِ فَعَلَيْكَ بِحِفْظِ الْقُرآنِ وَنَهجِ البَلاغَةِ»(1)

3. استاد سنايس کہتے ہیں: قرآن ایک ایسا عالم قانون ہے کہ جس میں کسی طرح سے بھی باطل کا شائبہ نہیں پایا جاتا اور جو ہر زمان و مکان کے لئے شائستہ ہے اور اگر مسلمان اس سے متمسک ہو جاتے اور اس کی تعلیمات و احکام کے مطابق عمل کرتے تو ماضی کی طرح تمام امتوں پر برتری رکھتے۔(2)

4. برطانوی بوسور سميتھ کہتے ہیں:تاريخ میں یہ موضوع يگانه اور بے نظیر ہے كه محمّد ‎صلّي‎الله عليه وآله ‌و سلّم ایسی ‎كتاب لائے جو آيتِ بلاغت، شریعت کا دستور اور نماز و دين ہے۔(3)

5.فرانس  کے ڈاكٹر گوسٹاولوبون کہتے ہیں: قرآن کی اخلاقی تعلیمات،عالی آداب اور  اخلاقی بنیادوں کا خلاصہ ہیں اور یہ انجیل کے آداب سے کئی درجہ بلند ہے.(4)

6. ایڈور لوهارٹ کہتے ہیں:حكمت قرآن کا نور ایسا نور ہے جو اس پیغمبر کے سینہ پر نازل ہوا کہ جو ہدایت بشریت کے لئے مبعوث ہوئے اور  انہوں نے ایسا آئین و دستور باقی چھوڑا کہ جس کے ہتے ہوئے ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتے۔ایسا قرآن کہ جو دنیا کی مصلحتوں اور آخرت کی خیر کا مجموعہ ہے۔(5)

7. اگر قرآن میں معانی کے نور اور مبنٰی کی خوبصورتی کے علاوہ اور کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ افکار پر غالب آنے اور قلوب کو مسخر کرنے کے لئے کافی تھا.(6)

8. ريتورت کہتے ہیں: واجب ہے کہ ہم یہ اعتراف كریں كه یورپ میں دسویں میں رواج پانے والے طبیعی علوم،فلکیات،فلسفہ اور ریاضیات قرآن سے اقتباس ہیں اور یورپ اسلام کا مقروض ہے.(7)

9. جويث کا کہنا ہے: قرآن اپنی فصاحت و بلاغت کی کثرت کی وجہ سے اپنے پڑھنے والوں کو اپنی خوبیوں کی طرف جذب کرتا ہے اور قرائت کی طرف اس کے شوق اور رغبت میں اضافہ کرتا ہے.(8)

10. دكتر موريس فرانسوي کہتے ہیں: قرآن سب سے افضل اور فاضل‎ كتاب ہے كه جو صناعت ازلی سے انسان و بشر کے لئے بھیجی گئی اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں کوئی شكّ و شبه نہیں ہے.(9)

11. بولاتيتلر کہتے ہیں: انسان کے لئے یہ گمان کرنا دشوار اور مشکل ہے کہ قوّه فصاحت بشری قرآنی تأثير کا مالک ہے. قرآن معجزه ہے؛ کیونکہ زمین کے انسان اور آسمان کے فرشتہ اس کی مثل لانے سے عاجز و قاصر ہیں.(10)

12. اٹلی کے پروفیسر ڈاکٹر سيلقيوفرديو کہتے ہیں: قرآن کے متعلق زیادہ بحث اور اس کا تجزیہ و تحلیل کرنے والوں میں سے اکثر مشرقی تاریخ کے ماہرین ہیں اور تعصب سے دور ہیں، اور ان کا اس پر اجماع ہے کہ:اب تک کے زمانے میں انسانی خدمت کے لئے سب سے بڑا ممکن عمل قرآن ہے.(11)

13.برطانیہ کے مسٹركرنيكو (جو«اليكره» یونیورسٹی میں آداب عربی کے استاد ہیں) سے ایک مجمع میں اساتید اور ادباء نے اعجاز قرآن کے بارے میں سوال پوچھا تو انہوں نے ان کے جواب میں کہا:نہج البلاغہ کے نام سے قرآن کا ایک چھوٹا بھائی ہے۔ کیا کسی کے بس میں ہے کہ وہ قرآن کے اس چھوٹے بھائی کی مثل لے آئے تا کہ ہمارے لئے یہ جائز ہو سکے کہ ہم اس کے بڑے بھائی(قرآن) کی مثل لانے کے بارے میں بات کر سکیں.(12)

14. ليون کہتے ہیں: قرآن کی جلالت اور تمجید کے لئے یہی کافی ہے کہ چودہ صدیاں گذرنے کے باوجود اس میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوئی اور یہ اسی طرح تازہ اور زندہ ہے۔(13)

15. جيبوس کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہےجو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ عالم اسلامی کے لئے قرآن بنیادی آئین و دستور اور عام قانون ہے، دین و دنیا، سیاست و اجتماع، جنگ و تجارت، عدل و عدالت اور ہر وہ چیز کہ جس پر انسانی زندگی گردش کرتی ہے ،وہ سب قرآن کے قوانین میں فراہم کیا گیا ہے.(14)

16. ادموند يورك کہتے ہیں: قانون محمّدي ایسا قانون ہے جو سلطان سے لے کر ایک کم ترین انسان کے لئے بھی مقرر ہوا ہے، جو سب سے استوار نظام حقوق، قضاوت کے لحاظ سے سب سے وزین علمی سرمایہ اور سب سے عظیم منور و روشن تشریع ہے کہ جس کی مثل کائنات میں کہیں بھی پیدا نہیں ہو سکتی.(15)

17. الكس لوازون کہتے ہیں: محمّد ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم‎ نے ایسی كتاب باقی چھوڑی کہ جو جدید علمی مسائل، آیت بلاغت، سجل اخلاقی اور کتابِ مقدس ہے؛ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو اسلامی کی اساس و بنیاد سے ٹکرائے، قرآن کی تعلیمات اور فطرت و طبیعت کے قوانین کے درمیان مناسبت، سازگاری اور مکمل مطابقت برقرار ہے۔(16)

18. جيمز مٹشز  کہتے ہیں:شاید دنیا میں کسی بھی کتاب سے زیادہ قرآن کے قاری ہیں(یعنی سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے ہیں) اور حتمی طور پر حفظ کے لئے یہ ہر کتاب کی بنسبت آسان ہے اور دلوں پر اس کی تأثیر سب سے زیادہ ہے۔ اس کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے سننے سے دل خاشع ہوتا ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔(۱۷)

 مذکورہ شخصیات کے علاوہ دوسرے دانشور،شعراء اور ادباء بھی ہیں جیسے: «وديع بستاني»، «خليل مطران»، «شبلي ملاط»، «سابازاريق» (شاعر فيحاء)، «حليم دموس»، «تولستوي» (روسی)، «ميس كوك»( امریکی) ، «كارلايل»(برطانوی)، «ولز» ، «مونتيه» (فرانسو)۔نیز یورپ، ایشیا اور امریکہ کے کئی دوسرے بڑے دانشور کہ  یہاں ہم ان کے اسماء کی فہرست کو ذکر کرنے سے بھی قاصر ہیں اور جنہوں نے قرآن کی عظمت اور اس کے اعجاز کا اعتراف کیا ہے۔ اہل علم میں سے ایک شخص نے اس موضوع کے متعلق ضخیم کتاب تألیف کی ہے جس میں انہوں نے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہر قوم و ملت، ہر ملک ، ہر زبان کے دانشوروں کے اقوال انہی کی زبان اور خط میں جمع کئے ہیں اور انہوں نے انہی دانشوروں کی زبان و قلم سے اسلام کی کرامت، جامعیت اور اس دین حنیف کے امتیازات و افتخارات کی وضاحت اور تشریح کی ہے۔

حوالہ جات:

[1]. المعجزة الخالده، علاّمه شهرستاني، ص 12، مؤلّف نے یہ كتاب مرحوم آيت الله العظمي بروجردي ‎قدس‎سرّه کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی ہے. اختصار کے طور پر بھی اس کتاب کا مطالعہ قارئین کے لئے مفید ہے؛ اگر تم اپنی طرح کے سب لوگوں پر علم و ادب اور فن سخن(مثلاً نامہ نگاری اور ہر قسم کا خلق سخن)کے لحاظ سے برتری حاصل کرنا  چاہتے ہو تو قرآن اور نہج البلاغہ حفظ کرو۔

2. ایضاً، ص26.     

3. ایضاً ، ص26.

4. ایضاً ، ص26.                 

5. ایضاً ، ص27.         

6. ایضاً ، ص27.       

7. ایضاً ، ص27.       

۸. ایضاً ، ص27.                 

9. الاسلام والعلم الحديث ، ص 69.                

10. المعجزة الخالده، ص28.            

11. ایضاً ، ص 29.    

12. ایضاً ، ص 30.           

13. الاسلام و العلم الحديث، ص 69.            

14. محمّد رسولا نبيّاً، ص 89.          

۱۵. القرآن والمجتمع الحديث، ص 29.          

16. الاسلام والعلم الحديث، ص 69.                      

۱۷. ایضاً ، ص 70.

غزوه بدر کے درس اور عبرت
رمضان المبارک کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کے سلسلہ وار نوشہ جات (۱۷)

 

سترہ یا انیس ماه رمضان المبارک سنہ دو ہجری کو غزوه بدر ہوا ۔ (۱)

  • بدر اور مسلمانوں کی کامیابی

توحید کے پرچم کے زیر سایہ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سربراہی میں  اسلام اور مسلمانوں کو جنگ بدر میں نصیب ہونے والی کامیابی تاریخ اسلام کی بہت ہی اہم ، باعظمت اور قابل ذکر فتوحات میں سے ہے ۔ یہ غزوہ سپاہ اسلام کی سپاہ کفر اور اہل توحید کو اہل شرک کے مقابلے میں  پہلی جنگ تھی ۔

اس جنگ میں مشرکوں کو سازوسامان ، اسلحہ اور آلات حرب کے معاملے میں مسلمانوں پر برتری حاصل تھی اور ان کی تعداد بھی سپاہ اسلام سے تقریباً تین گنا زیادہ تھی ۔

اس جنگ میں اسلامی فوج کی فتح اسلام کے مستقبل کے لئے خاص اہمیت کی حامل تھی اور ظاہری طور پر یہ تاریخ اسلام کی راہ کے تعین کے لئے  بہت زیادہ مؤثر تھی ۔

یہ جنگ دین توحید اور اسلام کے عالمی آئین کے لئے بنیادی و حیاتی اہمیت کی حامل تھی ، اور اس جنگ میں مسلمان کو نصیب ہونے والی فتح مستقبل کی تمام فتوحات کی اساس اور بنیاد بنی ، اور اس کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے  اور خداوند متعال کی بارگاہ میں عرض کی :

«اللّهُمَّ هذِهِ قُرَیشُ قَدْ أَقْبَلَتْ بِخُیلائِها وَ فَخْرِها تُحادُكَ وَ تُکَذِّبُ رَسُولَكَ اللّهُمَّ فَنَصْرَكَ الَّذی وَعَدْتَنی اللّهُمَّ أَحْسِنْهُمُ الْغَداةَ؛ خدایا ! یہ قریش کا  قبیلہ ہے ؛ جو اپنے تمام تر تکبر اور غرور کے ساتھ تیرے خلاف  جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ، اور وہ تیرے نبی کو جھٹلاتے ہیں ۔ خدایا ! مجھے وہ نصرت اور فتح عطا فرما جس کا  تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے ، صبح کے خدا ، اور انہیں اپنی نیکی عطا فرما » ۔ (۲)

ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مشرکوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کو دیکھا تو آپ نے قبلہ رخ ہو کر خدا کی بارگاہ میں عرض کی :

«أَللّهُمَّ أَنْجِزْلی ما وَعَدْتَنی أَللّهُمَّ إِنْ تُهْلَكُ هذِهِ الْعِصابَةُ لاتُعْبَدُ فِی الْاَرْضِ؛ خدایا ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا ؛ اسے انجام دے ، کیونکہ اگر یہ گروہ ختم ہو جائے تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت و بندگی نہیں ہو گی ۔» (۳)

اور دعا کے لئے ہاتھ اس قدر بلند کئے  کہ آپ کے دوش مبارک سے آپ کی ردا گر گئی ۔ 

  • جنگ بدر کا علمدار اور مثالی قہرمان

جنگ بدر میں رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم کے علمدار حضرت علی علیہ السلام تھے ۔ (۴)

ابن سعد نے کتاب ’’الطبقات الکبرى‘‘ میں قتاده سے روایت نقل کی ہے کہ : جنگ بدر کے دن اور دوسری ہر جنگ میں رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم کے صاحب لِواء اور علمدار حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے ۔ (۵)

طبری نے اپنی ’’تاریخِ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا  صلی الله علیه و آله و سلم کے صاحبِ لواء  اور علمدار علی بن ابی طالب  علیہ السلام تھے ، جب کہ انصار کا صاحب رایتِ (صاحب پرچم) سَعْدِ بْنِ عُباده تھا ۔ (۶)

اس غزہ اور دوسرے غزوات میں واحد قہرمان ، یگانہ مجاہد اور فداکار  امیر المؤمنین علی علیه السلام تھے ۔ اگرچہ اب تک آپ کا سن مبارک بیس سال تک بھی نہیں پہنچا تھا  اور  آپ نے اس غزوہ سے پہلے کسی جنگ میں شرکت نہیں کی تھی ، لیکن آپ نے شجاعت و بہادری کے وہ جوہر دکھائے جو تجربہ کار جنگجوؤں اور میدان جنگ میں بوڑھے ہو جانے والوں نے بھی کبھی نہیں دکھائے تھے ۔ اس میدان جہاد میں مجاہدین اسلام کے ہاتھوں جو مشرکین قتل ہوئے ، ان میں سے دوگنی تعداد میں مشرکین امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے ہاتھوں مارے گئے ۔ ’’ الإرشاد‘‘ کی روایت کے مطابق متفقہ اقوال کی رو سے مشرکوں کے چھتیس  مشہور افراد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ہاتھوں مارے گئے  ، یہ تعداد ان افراد  کے علاوہ ہے جن کے بارے میں یہ اختلاف ہے کہ ان کا قاتل کون ہے ، نیز اس تعداد میں وہ افراد بھی شامل نہیں ہیں جن کے قتل میں آپ دوسروں کے ساتھ شریک ہوئے تھے ۔  (۷)

اس غزوہ میں یہ آیت «هذانِ خَصْمانِ اخْتَصَمُوا فی رَبِّهِمْ؛ یہ دونوں [گروه]  (یعنی مؤمن و کافر)ایک دوسرے کے باہمی دشمن ہیں جنہوں نے پروردگار کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا ہے»۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیه السلام کی وَلید بن عُتْبه اور حضرت حمزه علیہ السلام کی عُتْبه اور عبیدة بن حارث بن عبدالمطلب کے ساتھ جنگ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ (۸)

معاویہ کہتا ہے : « میں نے اس جنگ میں علی کو شیر کی طرح دیکھا ، کوئی بھی شخص لڑائی میں ان کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ، مگر یہ کہ  وہ اسے قتل کر دیتے تھے ۔ اور وہ  اسے کسی چیز پر نہیں مارتے تھے لیکن اسے پھاڑ دیتے تھے ۔ (۹)

اسی غزوه میں آسمانی آواز سنی گئی تھی : «لا سَیفَ إِلّا ذو الْفَقارِ وَلافَتی إِلّا عَلِی»(۱۰)

غزوۂ بدر میں ہی جبرئیل، میكائیل اور اسرافیل میں سے ہر ایک نے فرشتوں کے ایک گروہ کے ساتھ علی علیہ السلام کا احترام کیا اور آپ کی خدمت میں سلام پیش کیا کہ جب آپ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب کے لئے پانی لینے کے لئے گئے تھے ۔ (۱۱)

سید حمیری نے ان اشعار میں اس فضیلت کی طرف اشارہ کیا ہے :

اُقْسِمُ بِاللهِ وَآلائِهِ
وَالْمَرءُ عَمّا قالَ مسْؤُولٌ
إِنَّ عَلِی بْنَ أَبی طالِبٍ
عَلَی التُّقی والبِرُّ مَجْبُولٌ

«میں خدا اور اس کی نعمتوں کی قسم کھاتا ہوں کہ ہر کوئی اپنے قول کا جوابدہ ہے ، بیشک علی بن ابی طالب (علیہما السلام) کی طینت تقویٰ ، اور نیکی پر رکھی گئی ہے » ۔

وہ خدا اور اس کی نعمتوں کی قسم کھاتے ہیں کہ ہر کوئی اپنے قول کا جوابدہ ہے ، اور بیشک علی بن ابی طالب کی طینت تقویٰ ، اور نیکی پر رکھی گئی ہے  ۔ یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں :

ذاكَ الَّذی سَلَّمَ فی لَیلَةٍ
عَلَیهِ میكالُ وَجبْریلُ
میكالُ فی أَلْفٍ وَجَبْریلُ فی
أَلْفٍ وَیتْلُوهُمُ سرافیلُ

« اور یہ وہ ہیں ؛ جن پر ایک ہی رات میں میكائیل و جبرئیل نے درود بھیجا ؛میكائیل ہزار فرشتوں اور جبرئیل بھی ہزار فرشتوں کے ساتھ آئے اور اسرافیل بھی ان کے پیچھے پیچھے آئے » ۔ (۱۲)

  • غزوهٔ بدر کے درس

۱- صرف دلیل و برہان کی طاقت ، علمی وضاحت اور ضمیر و قلب میں بادشاہ حق کا غلبہ ؛ حق کی مطلق حکمرانی اور باطل کے مٹ جانے کے بغیر  ممکن نہیں ہے کہ جب تک عالم  خارج اور معاشرے کے ظواہر پر اس کا تسلط نہ ہو جائے ۔  اور محض یہ ماننا کہ ایک چیز حق ہے اور دوسری باطل ہے ؛  یہ لوگوں کی دنیا اور سماج کی زندگی میں حق کو معیار قرار نہیں دیتا  اور انسانوں کی دنیا سے باطل کو دور نہیں کرتاہے ۔جب تک باطل کی سلطنت باقی ہو  اور فرعون کے زمانے کی طرح اہل حق کمزور ہوں تو تب تک سماج   حق کی حکومت کی برکات سے محروم رہتا ہے۔ باطل کا قلع قمع کرنا اور اس کی سرکوبی کرنی چاہے ،  اور پھر حق کو اس  کی جگہ قرار دینا  چاہئے ، جب کہ حق اور حق پرستوں کو غالب اور باطل سپاہ کو مغلوب ہونا چاہئے  تا کہ «لِیحِقَّ الْحَقَّ وَیبْطِلَ الْباطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ» کا معنی ظاہر ہو جائے ۔

اسلام تاریک اور باطل پرستوں کے خلاف تحریک اور انقلاب کا دین ہے ؛ اور یہ کوئی نظریہ اور سادہ ایجابی اور علمی عقیدہ نہیں ہے ۔

یہ درس اس واقعے کا ایک اہم درس ہے اور ہمارے زمانے کے مسلمانوں کو اس کی ضرورت کو سمجھنا چاہئے اور اس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے مسلمانوں کے زوال کی وجہ تلاش کرنی چاہئے ۔

موجودہ دور میں اسلام اپنے لاکھوں کروڑوں پیروکاروں کے لئے ایک سادہ عقیدہ اور ایک صحیح و استوار نظریہ بن گیا ہے ۔ منطق ، علم اور برہان بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں  ، دوسرے مفاہیم اور عالم خارج کے ساتھ اس کے ارتباط کو مدنظر نہیں رکھا جاتا ۔مسلمان اپنی آبادی کی کثرت ، اثر و رسوخ اور اپنے پاس موجود ممالک ، تحریک و نہضت ، حکومت کی تشکیل ، صنعتی و علمی ترقی اور اسلام کو تطبیق کو  اپنی صورتحال اور اپنے اجتماع کو عملی طور پر اسلام کے مفاہیم کا جزء نہیں سمجھتے ۔

 ۲- مؤمنوں کو خدا کی تدبیر اور اس کی مدد پر بھروسہ کرنا چاہئے ، اور توکل کے ذریعے اہل باطل کے مقابلے میں خود کو  ہارا اور بھکرا ہوا تصور نہ کریں ، اور یہ جان لیں کہ  جو چیز اہل باطل کے مقابلے میں حق پرستوں  کے جہاد میں کامیابی اور غلبہ پانے کا سبب بنتی ہے وہ مبدأ و حقیقت پر ایمان ، ثابت قدمی ، استقامت ، شرافت  اور ہدف و مقصد ہے ۔

غزوۂ بدر کے مجاہدین مضبوط جذبے ، حق کی مدد کے عزم و شوق ، شہادت کی خواہش ، لقاء اللہ (یعنی خدا سے ملاقات) کے لئے جہاد کر رہے تھے  کیونکہ جہاد «اِحدى الحُسْنَیینْ» ، کامیابی و کامرانی اور شہادت و بہشت کا باعث ہے ۔ انہوں نے ہتھیاروں اور بہت زیادہ جنگی آلات ، تکبر اور خود خواہی پر فخر کرنے سے گریز کیا ۔

ان چیزوں کی مدد سے اہل حق ہمیشہ کامیاب ہیں ، چاہے وہ ظاہری طور پر مغلوب ہو جائیں ، اور اہل باطل ہمیشہ مغلوب ہیں چاہے وہ ظاہری طور پر غالب آ جائیں ۔

خلاصہ کے طور پر (جیسا کہ غزوۂ بدر کے بارے میں آیات سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے)کامیابی کے اسباب  یہ ہیں :

۱- جہاد ، دشمن سے جنگ اور اہل باطل سے ہر قسم کے مقابلے کے دوران ثابت قدمی ۔

۲- ذكر خدا سے اتصال ، اور اس کی مدد اور تدبیر پر بھروسہ ۔

۳- خدا و رسول کی اطاعت۔

۴- نزاع و اختلاف سے پرہیز ۔

۵- خطرات اور جہاد کی مشکلات اور مصائب پر صبر  ۔

۶- ریاكاری ، ظلم و ستم اور خود پسندی سے پرہیز ۔

یہ ایسی صفات ہیں جو تقریباً آج کے مسلمانوں میں کم ہیں ۔ کفّار کے مقابلہ میں ان کی کمزوری اور شکست کی وجہ انہی صفات کا فقدان ہے ۔

اگر صدر اسلام کے مسلمانوں کو کسی جنگ میں شکست کا  سامنا کرنا پڑتا ، یا  وہ  اپنی معاشی کمزوری کی وجہ سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان میں دشمن کو طاقتور سمجھتے تھے تو پھر بھی وہ کبھی روحانی طور پر پیچھے نہیں ہٹے اور ان کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے ، بلکہ وہ اپنے اثاثوں کو دشمن کے اثاثوں سے زیادہ قیمتی اور اہم سمجھتے تھے  ، اور ایمان کی نعمت کو ہر چیز سے برتر شمار کرتے تھے  اور ا پنی معنوی و فکری طاقت کو دشمن کی مادی و ظاہری طاقت پر غالب اور اس سے برتر سمجھتے تھے ۔

ہمارے زمانے کے مسلمانوں نے خدا کی نصرت ، فکری و معنوی سرمائے اور روحانی شجاعت پر بھروسہ کرنے کی بجائے بیگانوں کی مادی طاقت پر زیادہ بھروسہ کیا ہے ،  اور  ان کے کھوکھلے وعدوں  اور سیاسی حربوں سے دھوکہ کھایا ہے ،  اور  انہوں نے ان کی بری عادتوں کی تقلید کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ہی رقابت کی ہے  ، مذہبی  عادات و رسومات کو پامال کرتے ہوئے اسلامی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرکے انہوں نے خود کو بیگانوں سے قریب کیا ہے ۔ کچھ لوگ اتنے مغرب زدہ اور مغربی تہذٰب کے دلدادہ ہیں کہ وہ کسی یبین الاقوامی  اجلاس میں فرضی طور پر بھی قومی اور اسلامی لباس میں شرکت نہیں کر سکتے ، حتی وہ ٹائی باندھنے میں بھی کوتاہی نہیں کرتے  جو رقیب کا ایک بند ہے اور وہ اپنی رسمی محافل میں کسی بھی ایسے شخص کو شریک ہونے کی اجازت نہیں دیتے جس نے یہ بند (ٹائی) نہ باندھا ہو ، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری اقوام بین الاقوامی اجلاس میں بھی اپنا قومی لباس پہن کر شریک ہوتی ہیں  اور کوئی شخص بھی ان کے اس عمل کو ان کی پسماندگی کی علامت نہیں سمجھتا ۔

۳- اسلامی اتحاد مسلمانوں کی طاقت ، شان و شوکت اور فتح کا سب سے بڑا ذریعہ تھا ؛ جو  آج منافقت اور ملکوں کی تقسیم میں بدل گیا ہے۔ ہر مقام اور آب و ہوا کے لحاظ سے ہر  علاقہ الگ ، منفرد اور مستقل معاشرہ بن گیا ہے ، جب کہ  چھوٹی اور کمزور حکومتوں نے بھی عالم اسلام میں تفرقہ اور تقسیم کی قیادت کی ہے ۔ اپنے ذاتی مفادات کے لئے وہ کبھی بھی مشرق و مغرب کا استحصال کرنے والوں کے مفادات کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ نیز وہ اسلامی وحدت و اتحاد کی طرف بڑھنے ، ان غلط اور جعلی فاصلوں کو دور کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ، یوں وہ عالم اسلام کو اس کی مرکزی قوت و طاقت ، مرکز ثقل اور ایک انجمن ،  ادارہ یا ایک حکومت سے محروم کر رہے ہیں کہ جو اسلامی دنیا کی قیادت کرے ۔

ہر جگہ کوئی نہ کوئی آواز بلند ہے لیکن مغربی نیشنلزم (Western Nationalism) اور دوسرے قوم پرست عناصر کی آواز نے کانوں کو بہرہ کر دیا ہے اور مسلم اقوام و ملل کو دوسروں کے فائدہ کے لئے ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیا ہے ۔

عالم اسلام کے قلب میں یہودی ریاست کی بقاء کا سب سے بڑا عنصر مسلمانوں میں یہی اختلاف اور پراکندگی ہے اور یہ حکومتی سربراہان ہی مسلمانوں کی کامیابی اور فتح کی راہ میں حائل ہیں ۔

اس دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قیادت میں مسلمانوں کی ایک حکومت تھی اور مسلمان متحد قوم تھی ، اور پورے عالم اسلام میں کہیں بھی  کوئی ’’قومی گروہ‘‘ یا کوئی ’’علیحدگی پسند گروہ ‘‘ نہیں تھا ۔

کوئی بھی شخص اپنے لئے کوئی علاقہ ہتھیانے یا اس پر قبضہ کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا تھا ۔ حکومتوں کے خلاف قیام کرنے والوں میں سے ہر ایک مسلمان اور اسلامی افکار کا پیروکار تھا اور ان کا ہدف و مقصد علیحدگی نہیں تھا ، بلکہ اصلاح  اور اسلامی حکومت کی تشکیل ہی ان کا مقصد تھا ۔

پھر مسلمانوں کے لئے وہ دن بھی آیا کہ ہر علاقے میں کوئی طاقتور  یا دشمن  اور استعمار  کی کٹھ پتلیوں نے خود کو ایک مقامی رہنما کے طور پر متعارف کرایا اور مسلمانوں نے دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈوں  اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کے مقابلے  میں کھڑا کر دیا  اور غریب عوام کو  اپنی حکومت کے لئے قربان کر دیا ۔

پس وہ امت واحدہ اور یگانہ سماج کہاں ہے کہ جس کی طرف قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے ؟ اور ان اقوام میں سے وہ کون سی قوم ہے؟ اور قرآن کی یہ آیت «أَشِدّاءُ عَلَى الْكُفّارِ رُحَماءُ بَینَهُمْ» ، اور یہ   آیت «اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنینَ اَعِزَّةٍ علَى الْكافِرینَ» جس قوم کی توصیف بیان کر رہی ہے ، اس قوم کو کہاں تلاش کرنا چاہئے ؟

ایسے ہی نقائص اور برائیوں نے مسلم معاشرے کو بیمار کردیا ہے ، جب کہ صدر اسلام کے مسلمان ان سے محفوظ تھے ، اور جب تک ان بیماریوں کا علاج نہ ہو جائے ؛ امت مسلمہ ماضی کی شان و شوکت اور عظمت حاصل نہیں کر سکتی ۔

 حوالہ جات :

۱- السیرة النبویه (ابن‌ ہشام)، ج ۱ ، ص ۶۲۶ ؛ مسار ‌الشیعه (شیخ مفید) ، ص ۲۹ ؛ توضیح‌ المقاصد (شیخ بہائی) ، ص ۱۶ .

۲- السیرة النبویه (ابن‌ ہشام)، ج 1، ص 621؛ المغازی (واقدی)، ج 1، ص 59؛ تاریخ (طبری) ، ج 2، ص 441.

۳- المنصف (ابن ابی ‌شیبه کوفی) ، ج 7، ص 95؛ ج 8، ص 474؛ مجمع‌ البیان (طبرسی)، ج 4، ص 437 ; بحار الأنوار (علامہ مجلسی)، ج 19، ص 221.

۴- السیرة‌ النبویه (ابن‌ ہشام)، ج 1، ص 612 ـ 613؛ مجمع‌ الزوائد (ہیثمی) ، ج 6، ص 92 ـ93.

۵- الطبقات‌ الکبری (ابن‌ سعد)، ج ‌3، ص 16.

۶- تاریخ (طبری)، ج 2، ص 138.

۷- الارشاد شیخ مفید، ج 1، ص 70 ـ 72.

۸- صحیح بخاری، ج 5، ص 6 ـ 7 ؛ صحیح مسلم (مسلم نیشابوری) ج 8، ص 246؛ تفسیر فرات کوفی ، ص 271 ـ 272؛ جامع‌ البیان (طبری) ، ج 17، ص 172ـ 173؛ اسباب‌ النزول (واحدی) ، ص 231؛ مجمع‌ البیان (طبرسی)  ج 7، ص 139.

۹- حلیة‌ الأولیاء (ابو نعیم اصفہانی)، ج 9، ص 145؛ فضائل‌ الخمسه (فیروز آبادی)، ج 2، ص 316 – 317.

۱۰- تاریخ (طبری) ، ج 2، ص 197.

۱۱- تاریخ مدینة دمشق (ابن‌ عساکر)، ج 42، ص 337؛ ذخائر العقبی (طبری)، ص 68؛ جواہر المطالب (ابن‌ دمشقی ) ، ج 1، ص 91؛ ، کنز العمال (متقی ہندی)، ج 10، ص 421.

۱۲- الامالی (طوسی) ، ص 197 ـ 198؛ بشارة المصطفی (طبری) ، ص 94 ـ 95 ؛ کشف‌ الغمه (اربلی)، ج 2، ص ‌18 ـ 19.

 

جمعه / 10 ارديبهشت / 1400
ماہ رمضان میں دعاؤں کا خزانہ
ماه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف  کے سلسلہ وار نوشتہ جات /10)

بسم الله الرحمن الرحیم

ماہ رمضان میں روزہ داروں کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک دعا و مناجات اور خدائے قاضی الحاجات سے حاجات طلب کرنا ہے۔

دعا، نا امیدی سے نجات

خدا سے ہر وقت دعا کرنا،اسے پکارنا اور اس سے خیر طلب کرنا مستحب ہے اور یہ نفسیاتی لحاظ سے توان بخش، دل کے لئے باعث فرحت و نشاط اور فکری و روحانی قوت کی تجدید کا باعث ہے۔

«دعا»، روح کی مقوی غذا ہے جو غم و اندوہ کو برطرف کرنے، پریشانیوں کو ختم کرنے، مستقبل کے سلسلہ میں امید بخش  اور ناامیدی سے نجات کا سبب ہے۔

دعا؛یعنی پروردگار کو پکارنا،اس سے مدد طلب کرنا اور خدا سے حاجتیں طلب کرنا ہے۔انسان فطری طور پر اس عظیم نعمت اور خدا کی وسیع رحمت سے بہرہ مند ہے۔

انسان کا لایزال قدرت کی پناہ میں آنا

انسان جس قدر بھی قوی اور طاقتور بن جائے لیکن اس کے باوجود مشکلات اور سختیوں میں خدا کے وجود کی طرف رجوع کرتا ہے، اسی سے پناہ طلب کرتا ہے، اور مشکلات،پریشانیوں اور سختیوں سے نجات کے لئے اسی کو پکارتا ہے کیونکہ وہ سب سے برتر، سب سے بے نیاز اور سب کا کارساز ہے۔ انسانی فطرت ہی خدا کی طرف انسان کی ہدایت کرتی ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور کار ساز اور چارہ گر نہیں ہے: «قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتاكُمْ عَذابُ اللهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السّاعَةُ اَغَيْرَاللهِ تَدْعُونَ اِن كُنْتُمْ صادِقِينَ بَلْ اِيَّاهُ تَدْعُونَ»(1)

اگر افتي به دام ابتلايي                 به جز او از كه ميجويي رهايي(2)

انسان زندگی کے اتار چڑھاؤ، حیات کے مختلف حادثات  اور دشوار و ناگوار حالات میں کبھی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں اسے اپنے لئے دعا کے علاوہ کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا اورجہاں صرف دعا ہی اس  کے ضعف اور روحانی ناتوانی کی تلافی کر سکتی ہے۔

عقدہ کشائی ؛ انسان کی ایک اہم ضرورت

ہر بیمار اور پریشان حال شخص کو جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،ان میں سے ایک «دعا» ہے۔ ہر بیمار اور پریشان شخص کو کسی دوست کی بھی ضرورت ہوتی کہ جس سے وہ اپنا درد دل بیان کر سکے اور اسے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرے ،اسے اپنی مشکلات بتائے  اور  اس وقت اس کے دل میں جو بات آئے وہ اس کے سامنے بیان کرے۔ دوسرے لفظوں میں یہی ’’عقدہ کشائی‘‘ ہے یعنی کسی سے اپنا درد دل بیان کرنا ۔

دعا کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ مؤمن خدائے مہربان و سمیع سے اپنے راز، درد دل، رنج و مصائب اور اپنی افسردگی بیان کرتا ہے اور بغیر کچھ چھپائے اپنی سب پریشانیاں خدا سے کہہ دیتا ہے، اور اس سے چارہ جوئی کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا کسی کی دوسرے شخص کی بنسبت اس سے زیادہ نزدیک ہے اور وہ اس کے آہ و نالہ کو سنتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے۔

دعا کرنے کے بعد بندۂ مؤمن یہ محسوس کرتا ہے کہ  اس کے اندرونی درد کم ہو گئے ہیں، اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے ۔

حقیقت میں اگر دعا نہ ہوتی ، یا  اگر دعا تک بندوں کی رسائی نہ ہوتی تو وہ کسی سے اپنا درد دل، اپنی مشکلات اور پریشانیاں بیان نہیں کر سکتے تھے۔ ان حالات میں زندگی کتنی تلخ اور ناگوار ہو جاتی اور انسان کی یہی کیفیت اسے اذیت دیتی۔

نعمت دعا کا شکر کرنا لازم ہے

ہمیں «دعا» جیسی نعمت کی وجہ سے خدا کا شکر کرنا چاہئے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے۔

دعائے «ابو حمزه» میں ذکر ہوا ہے: «اَلْحَمْدُ للهِ الَّذِي اَدعُوهُ فَيُجِيبُنِي وَاِن كُنتُ بَطِيئاً حِينَ يَدعُونِي؛ حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں اسے پکارتا ہوں ؛ پس وہ مجھے جواب دیتا ہے ، اگرچہ میں اس کے جواب کے وقت (جب وہ مجھے پکارتا ہے) سستی کرتا ہوں۔»

اور ہم اسی دعا میں پڑھتے ہیں : «اَلْحَمدُ للهِ الَّذِي اَسْئَلُهُ فَيُعْطِيَنِي وَاِنْ كُنتُ بَخِيلا حِينُ يَسَتَقْرِضُنِي؛ حمد وثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں اس سے مانگتا ہوں ، پس وہ عطا کرتا ہے ؛ اگرچہ جب وہ مجھے سے قرض مانگتا ہے تو میں بخل اور کنجوسی سے کام لیتا ہوں۔»(3)

اس خوبصورت دعا کے دوسرے جملوں میں پڑھتے ہیں : «اَلْحَمدُ للهِ الَّذِي اُنادِيهِ كُلَّما شِئتُ لِحاجَتِي وَاَخلُو بِه حَيثُ شِئتُ لِسِرِّي بِغَيرِ شَفِيع فَيَقضِي لِي حاجَتي؛ حمد و ثناء اس خدا کے لئے ہے کہ میں جب بھی چاہوں اسے اپنی حاجت کے لئے پکارتا ہوں اور کسی شفیع کے بغیر  اس سے راز و نیاز کے لئے خلوت کرتا ہوں ۔ پس وہ میری حاجت کو پورا کر دیتا ہے.»

جی ہاں! دعا ہمت کو بلند اور ارادہ کو محکم و استوار کرنے کا باعث ہے اور یہ بڑے حادثات اور مصائب و مشکلات میں انسان کو پائیدار بنا دیتی ہے۔

دعا؛ تذکیہ و تہذیب نفس، خدا کے سامنے دعا کرنے والے کے فقر اورضرورت کو بیان کرنے، تواضع و فروتنی جیسی صفات کے راسخ ہونے اور غرور و تکبر سے نجات کا ذریعہ ہے۔

دعا اور اس کے آثار و برکات اور اس کی شرائط و آداب کے بارے میں ہم یہاں حق سخن ادا نہیں کر سکتے اور اس کے علاوہ یہ میرے جیسے ناتوان اور ضعیف انسان کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔

«دعا کی فضیلت» کے بارے میں روایات میں سے ایک یہ روايت ہے: «الدُّعاءُ مخُّ العِبادة؛دعا حقیقت بندگی و عبادت ہے.»(4)

نيز دیگر حديث میں وارد ہوا ہے: «اَلدُّعاءُ سلاحُ المُؤمِنِ وَعَمُودُ الدِّينِ وَنُورُ السَّماواتِ وَالاَرْضِ؛ دعا مؤمن کا اسلحہ،دین کا ستون اور آسمان و زمین کو نور ہے.»(5)

ماه رمضان،دعا کی بہار

یہ واضح ہے کہ ماہ رمضان دعاؤں کی بہار اور دعاؤں کا موسم ہے۔اس مہینہ میں ناامید، شکست خوردہ،پریشان حال،مضطر، بے حال، بے صبر اور تکلیف میں مبتلا افراد دعا کی برکت اور خدا کی وسیع رحمت کی جانب توجہ کرتے ہوئے امیدوار، بردبار، خوشحال  اور بانشاط ہو جاتے ہیں اور ایک نئے عزم  و ارادہ کے ساتھ زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں اور حیات کے امور انجام دینے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان یہ نوید سناتا ہے کہ اس دنیا کی کش مکش، مشکلات اور پریشانیوں کے مقابلہ میں شکست نہ کھائیں اور دنیا کے حادثات سے گھبرا کر مغلوب نہ ہو جائیں۔

دعائے ابو حمزہ، دعائے افتتاح اور دوسری دعاؤں کی قرائت انسان کو اس قدر پرجوش اور معنویت سے سرشار کر دیتی ہیں کہ انسان دنیا کے تمام مصائب بھول جاتا ہے اور اس کا وجود روشن مستقل کی امید میں غرق ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ایسی دعائیں (جو ماہ رمضان میں وارد ہوئی ہیں ،دوسری مناسبات اور دوسرے مہینوں میں بھی ان کے  بہت زیادہ نمونے ہیں) مؤمن کی سلاح اور مؤمن کی ڈھال ہیں جو اس کے وجود کو حادثات سے بچاتیں ہیں اور اس کی روح کو غیر قابل نفوذ قرار دیتی ہیں۔

پوری دعائے ابو حمزہ حقیقی اخلاق کے لئے اسلحہ ہے جو رضا و تسلیم، قناعت ، توکّل، خدا و پیغمبر اور اولیاء دین کی محبت سے سرشار ہے۔ وہی  دعا ایسا اسلحہ اور  ڈھال ہے کہ جس کے ذریعے مجاہدین اسلام خدا کے دشمنوں کے خلاف جہاد کے لئے جاتے اور مختلف قسم کے اسلحوں سے لیس دشمن کو شکست  دیتے ہیں اور جس کے ذریعے اسلام کو کفر پر غلبہ دیتے ہیں۔

محترم قارئین اور عزیز روزہ دارو! اس مہینہ کی دعاؤں سے مستفید ہوں ۔  وقت کو غنيمت شمار کریں ۔ فرصت کو ضائع نہ کریں کیونکہ: «الفرصة تمرّ مرّ السّحاب»(6) خدا سے گفتگو کریں، راز و نیاز کریں ، اس کی مدح و ثناء کریں کیونکہ وہی مدح و ثناء کے لائق ہے۔ دعا سے رو گردانی نہ کریں اور تکبر کا اظہار نہ کریں که خداوند تبارک و تعالي قرآن کريم میں فرماتا ہے: «اِنَّ الَّذِينَ يَستَكبِرُونَ عَن عِبادَتِي سَيَدخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين»(7)

 

حوالہ جات:

[1]. سوره انعام، آيه 40 اور 41؛ «آپ ان سے کہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آ جائے تو کیا تم اپنے دعوی کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے؟نہیں تم خدا کو ہی پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کر سکتا ہے اور تم اپنے مشرکانہ خداو۷ں کو بھول جاؤ گے.

2. مرحوم آيتالله والد قدّس سرّه مؤلف ’’گنج دانش‘‘ کے کلام سے مأخوذ.

3. اس آیۂ کریمہ کی طرف اشارہ: (مَن ذَاالَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرضاً حَسَناً).

4. حديث نبوي; بحارالانوار، ج 93، ص 300.

5. كافي، ج 2، ص 468.

6.فرصت بادلوں کی طرح گذر جاتی ہے۔

7. سوره غافر، آيه 60؛ اور یقیناً جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.

پنجشنبه / 9 ارديبهشت / 1400
ماه رمضان، عہد الٰہی کی تجدید کا مہینہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے سلسلہ وار نوشتہ جات(ا)

 

ماه رمضان، عہد الٰہی کی تجدید کا مہینہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کے سلسلہ وار نوشتہ جات(ا)

بسم‌الله الرّحمن الرّحیم
قال‌الله تعالی: «یَا اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ»(1)

سب سےہم  پہلے تمام مسلم امّہ اور امت اسلام کی خدمت میں ماہ مبارک رمضان کی مناسب سے تبریک پیش کرتے ہیں جو اولیاء اللہ اور اصفیاء اللہ کی عید، قرائت قرآن کریم کی بہار، مساجد میں حاضر ہونے کا موسم، ضیافت الٰہی اور اسلامی تعلیم و تربیت کے لئے پھر سے کھل جانے والا سب سے بڑا اور عام مدرسہ ہے کہ جس میں بوڑھے و جوان، مرد و زن، خاص و عام، استاد و شاگرد، افسر و مزدور،شہری و دیہاتی، سیاست دان اور فوجی سب ہی شامل ہوتے ہی۔

یہ ایسا مدرسہ ہے کہ جس کی بڑی کلاسیں مساجد، نماز با جماعت، وعظ و نصیحت کی مجالس، معارف و احکام کی تبلیغ اور سب کی ہدایت  پرمشتمل ہیں اور جو کوئی بھی علم و معرفت کے جس درجہ پر فائز ہو وہ اس میں شرکت کا شرف پاتا ہے اور سب سے بڑھ کر قطب عالم امکان، عدل یگانۂ قرآن حضرت صاحب الزمان مولانا المہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ان میں حاضر ہوتے ہیں  اور اس مہینہ میں متواتر نازل ہونے والی رحمتوں اور الٰہی عنایات سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔

اور اس مدرسہ کی چھوٹی کلاسیں گھر اور انفرادی کمرے ہیں اور ان کی درسی کتابیں قرآن مجید، نہج البلاغہ، احادیث شریفہ، صحیفۂ کاملہ، دعائے افتتاح اور دعائے ابوحمزہ ثمالی جیسی جامع و معرفت بخش دعا ہے۔

بیشک یہ بزرگ مہینہ کس قدر جامع ہے۔ خدا نے امت اسلام کو اس مہینہ کی صورت میں خودسازی کا سنہری موقع  دیا ہے اور   بہترین فرصت عطا کی ہے جس کے لئے ہمیں خدا کا  بے حدشکرگذار ہونا چاہئے۔

ہمیں اس ہدایت کی قدر و اہمیت کو پہچاننا چاہئے اور اس کے حقائق کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئے اور دعاؤں کے معانی میں تفکر کرنا چاہئے۔ اس مہینہ کے روزوں اور دعاؤں نے ہمارے معاشرے ، مختلف امور کے عہدیداروں، ، امیروں ، غریبوں، علماء و دانشوروں،مصنفین  اور سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو جو پیغام دیئے ہیں ،ہمیں انہیں دل و جان سے سننا چاہئے۔

میرے عزیز بھائیو اور بہنو!خدا جانتا ہے کہ اب جب کہ میں آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے یہ تحریر لکھ رہا ہوں،میں ماہ رمضان کے جمال کو اس قدر خوبصورتی سے مشاہدہ کر رہا ہوں اوراس قدر ایمان و  لذت محسوس کر رہا ہوں کہ میں جس کی توصیف بیان کرنے سے عاجز ہوں۔مجھے یہ کہنا چاہئے کہ اگر مجھ جیسا ناچیز و حقیر بندہ ماہ مبارک و شریف کے جمال کا یوں مشاہدہ کر رہا ہے  تو پھر اہل اللہ اور اس مہینہ کے معانی اور اس کے آداب سے زیادہ سے زیادہ  آگاہی رکھنے والے اس مہینہ کے جمال کا کس طرح سے مشاہدہ کرتے ہوں گے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ائمهٔ اطہار علیهم السلام اس عزیز ماہ کا کس حد تک مشاہدہ کرتے ہوں گے جب کہ یہ ہستیاں بذات خود جمال اسلام کا ایک جلوہ ہیں۔

بھائیو اور بہنو!اس دین، اسلام،قرآن، اسلامی تشخص، اپنی اسلامی عزت، ماہ مبارک رمضان اور ولایت اہلبیت علیہم السلام پر فخر و مباہات کریں۔ اس ماہ مبارک میں اسلام، قرآن اور احکام خدا سے تجدید عہد کریں اور اسلامی عزت،دین خدا،اخلاق اور اسلامی سنتوں کو عزیز رکھیں اور ان کا احترام کریں۔ اس مہینہ کی مختلف تقریبات اور مساجد میں شرکت کریں اور اس دین اور سلامی شعائر کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کریں؛جہاں کہیں بھی ،جس شہر اور دیہات میں بھی اہل علاقہ مسجد کو خالی چھوڑ دیں تو وہ مسجد خدا سے وہاں کے لوگوں کی شکایت کرے گی۔

اس مہینہ  میں اور دوسرے تمام مہینوں میں بھی اعمال میں سب سے افضل عمل گناہ و معصیت اور حرام چیزوں کو ترک کرنا ہے۔اپنا خیال رکھیں اور احتیاط کریں کیونکہ اسلام کے دشمن اسلامی تشخص و وقارکو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور ہمیشہ سازشیں کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔آزادی  کے نام پر، انسانی حقوق کے نام  پر ، عورت اور مرد  کے درمیان برابری کے نام پر اور دوسرے طریقوں سے ہمیں اسلام سے دور کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔وہ لوگ اپنے ایجنٹوں ، زہر آلود قلم ،مختلف پروپیگنڈوں ،عورتوں اور مردوں کے تعلقات  اور احکام خدا پر اعتراضات کے ذریعہ معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنا پر پیش کر رہے ہیں۔ ہوشیار رہیں،اپنے مقامات پر کھڑے ہوں اور اسلامی سنتوں کی جانب محکم نگاہ کریں۔

دوسرے لوگ اگرچہ انجینئرنگ،ٹیکنالوجی اور استکبار کے لحاظ سے طاقتور ہو گئے ہیں اور وہ اپنی طاقت اور مال و دولت کے ذریعہ اپنی فاسد ثقافت کو دنیا پر حاکم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اخلاق، انسانیت، حیاء، شرافت ،ضمیر و وجدان اور انسانی کرامت کے لحاظ سے بہت پست ہیں، جس کی کوئی بنیاد نہیں اور جو «یَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَیَاهِ الدُّنْیَا وَهُمْ عَنِ الآخِرَهِ هُمْ غَافِلُونَ»(2) اور «... اُولَئِکَ کَالانْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ...»(3) کے مصداق ہیں۔ ان کی اقدار ،حقیقی اقدار کے برخلاف ہیں،ان کا ہنر عیب ہے، وہ ایسے ایسے ظلم و ستم کے مرتکب ہوئے ہیں کہ جن کی انسانی تاریخ میں کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی، انہیں کسی سے کوئی شرم و حیاء نہیں ہے اور وہ خود کو متمدن سمجھتے ہیں۔ ایسی دنیا میں اسلام اور اسلامی احکام پر ایمان رکھنے والوں کو غور و فکر کرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے  اور انہیں اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔

آپ کو ہوشیار رہنا چاہئے، اور اپنے لئے یہ واجب سمجھیں کہ اس دھونس اور زور زبردستی کے مقابلہ میں دفاع کے لئے تیار رہیں اور ضروری اسلحہ سے مسلح و لیس رہیں  اوراسلام،اخلاق اور آداب و سنن اسلام کے خلاف  ان کی ثقافتی یلغار  کو  ہلکا نہ سمجھیں ۔دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے اسلامی استقلال حتی کہ ظاہری لباس اور رائج عادات و رسومات کی بھی حفاظت کریں اور صرف اسلام اور اسلامی احکام کے بارے میں غور و فکر کریں اور اسلامی اقدار کی حفاظت میں سستی نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ وعدۂ الٰہی ہے: «وَلا تَهِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَاَنْتُمُ الاعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِینَ»(4)

 

حوالہ جات:
۱۔ اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھ دیئے گئے تھے شاید تم اسی طرح متقی بن جاؤ۔(سوره البقره،آیه 183)
۲۔یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخر کی طرف سے بالکل غافل ہیں!(سوره الروم،آیه 7)
۳۔اور یقیناً ہم نے انسان اور جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں۔یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں.(سوره الاعراف،آیه 179)
۴۔ سستی نہ کرنا، مصائب پر محزون نہ ہونااگر تم صاحب ایمان ہو تو سربلندی تمہارے لئے ہی ہے!(سوره آل عمران،آیه 139)

ماه رمضان، سب کے لئے اخوت و بھائی چارہ کا مہینہ
ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (11)

ماه رمضان، سب کے لئے اخوت و بھائی چارہ کا مہینہ

ماہ مبارک رمضان کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات (11)

 

ماہ مبارک رمضان میں واقع ہونے والے تاریخی واقعات اور مناسبتوں میں سے ایک عقد اخوت و برادری ہے۔

شیخ مفید (1)کے قول کے مطابق ماہ مبارک رمضان کے بارہویں دن پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اصحاب کے درمیان عقد اخوت قائم کیا، نیزآپ نے اپنے اور علی علیہما السلام کے درمیان بھی عقد اخوت  قائم کیا۔

اسلام اخوّت و بھائی چارہ، برادری ، ہم فکری اور مساوات کا دین ہے جو دنیا والوں کو ایک خاندان کے اعضاء شمار کرتا ہے۔اسلام  رنگ و نسل، فقر و ثروت،حکومت اور دنیاوی امور کو ایک دوسرے پر برتری کا سبب قرار نہیں دیتا۔ اسلام نے لوگوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کیا   اور  برتری کا معیار صرف «تقویٰ» کو قرار دیا۔ ایک ایسا معیار  جو ہرگز  غرور و تکبر ، بدسلوکی اور دوسروں سے دوری کا سبب نہیں ہو سکتا۔

عقیدۂ توحید اس دین کا  مرکزی پہلو اور مخلوق خدا کے ساتھ بھائی چارہ اور برادری کا منبع و مأخذ ہے ۔توحید کے عقیدہ سے برھ کر کوئی مادّہ و غذا، کوئی عقیدہ اور کوئی عادت و خصلت بھی انسان کی سعادت اور نیک بختی کے لئے مفید نہیں ہو سکتی۔ قرآن كريم میں ارشاد ہے: «إِنَّ هذِهِ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً واحِدَةً وَاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ»(2)

قرآن نے لوگوں کے درمیان مال و دولت، مقام و منصب، حکومت، تعداد، رنگ و نسل، موازنہ اور مقابلہ کو معیار قرار نہیں دیا۔

عرب اور عجم، کالے اور گورے سب برابر ہیں؛  کیونکہ یہ لوگ قرآن اور انسانی و اسلامی حقوق کے لحاظ سے برابر ہیں۔ انسان کی انسانیت اور آدمیت کا کام ان امور سے وابستہ نہیں ہے۔

قرآن نے لوگوں کے درمیان موازنہ کرتے وقت تقویٰ و عبادت اور ایمان کو فضیلت کا میزان و معیار قرار دیا ہے۔ اسلام اور خدا پر ایمان کا رنگ ایک ایسا رنگ ہے جو ہر کسی کے لئے شائستہ ہے چاہے وہ عورت ہو یا مرد، غنی ہو یا فقیر، ایشیائی ہو یا یورپی، عرب ہو یا عجم۔ اسلام کا رنگ انسانی فطرت کا رنگ ہے جو ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے  اور دوسرے رنگوں کو اس میں حائل نہیں کرنا چاہئے۔  یہ رنگ؛ وطن، قوم و ملت اور زبان کی طرح تفرقہ اور جدائی کا سبب نہیں ہے کیونکہ یہ کسی خاصّ قوم اور کسی خاص ملک کے لوگوں سے مخصوص نہیں ہے۔

اسلام نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا نے حقوق کے لحاظ سے کسی قوم و ملت کو دوسروں پر برتری نہیں دی  گئی اور فلاح و کامیابی کسی ایک ملک یا قوم سے مخصوص قرار نہیں دی گئی، نیز اسلام نے یہ بھی اعلان کیا ہے انسانی کرامت و شرافت کے اعتبار سے سب برابر کے شریک ہیں اور یہ انسانی کرامت کسی رنگ و نسل یا قوم و ملت سے مختص نہیں ہے۔

حلق سے قومیت اور میلت کی آوازیں نکلنا اصل انسانی شرافت و کرامت کے برخلاف ہے۔ نیز یہ صحیح منطق، سچے ادیان اور اسلام کی مقدس تعلیمات کے منافی ہے۔

ایسی آوازوں  نے انسانوں میں صرف نفاق و منافقت، بغض و کینہ اور تفرقہ و جدائی کے بیج بوئے ہیں اور ایسی صدائیں بلند کرنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ نفاق و اختلاف کے منادی ہیں۔

اسلام کی تعلیمات دلوں میں محبت و اخوت کے بیج بوتی ہیں اور تعاون و ہمدردی کی طرف انسانیت کی ہدایت کرتی ہیں۔

قرآن مجید نے اس اخوت کا ذکر کیا ہے کہ جو مسلمانوں کو اسلام کے سایہ میں نصیب ہوئی، جس نے اختلافات کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کے دلوں میں الفت کا بیج بویا اور مسلمانوں کو اِعْتِصامِ بِحَبْلِ الله کا حکم دیااور ایک مختصر اور معنی سے بھرپور جملہ«اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَةٌ»(3) کے ذریعہ مسلمانوں میں اخوّت و بھائی چارہ ایجاد کیا یا انہیں اخوت و برادری کا پیغام دیا۔ پس اگر لوگوں کے درمیان آپس میں اخوّت و بھائی چارہ نہ ہو تو وہ مؤمن نہیں ہیں۔

اصحاب پيغمبر کے درمیان عقد اخوت

پيغمبر اكرم صلّي الله عليه وآله وسلّم نے اپنی دعوت کے آغاز سے ہی دینی اخوّت پر بہت زور دیا اور بے حد توجہ کی اور آپ اسے مسلمانوں کے زندہ سماج اور معاشرے کا ایک اہم رکن اور اہم ستون قرار دیتے تھے اور اس کے ذریعہ آپ نے بغض و کینہ اور مختلف اقوام اور قبائل میں دیرینہ دشمنی کا خاتمہ کیا۔

پيغمبر اكرم صلّي الله عليه وآله وسلّم نے مکمل ہمبستگی ،اسلامی شعور کے بیدار ہونے اور دوسری حکمتوں کے لئے جو کام انجام دیئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے مہاجرین کے ہر دو افراد کے درمیان عقد اخوت قائم کیا  اور اسی طرح آپ نے مہاجرین و انصار میں سے بھی ہر دو افراد کے درمیان عقد اخوت قائم کیا۔

مہاجرین و انصار میں جن کے درمیان مماثلت پائی جاتی تھی اور جن کے افکار اور نظریات ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے ؛ انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا گیا۔ اور حقیقت میں اس کام سے قبائل اور خاندان ایک دوسرے سے متصل ہو گئے۔

پيغمبر اكرم صلّي الله عليه وآله وسلّم کا یہ اقدام سیاسی و معاشرتی  لحاظ سے اور نومولود اسلامی سماج کے درمیان اتحاد اور ایک دوسرے سے پیوستہ ہونے کے لئے بہت مفید تھا جو عالمی  انسانی سماج  اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے  اخوت و بھائی چارہ  کا باعث بنا۔

بارہا عقد اخوّت

تاریخ اور حدیث کی کتابوں سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ عقد اخوت و مؤاخاۃ مکرر طور پر واقع ہوا۔

1. ایک مرتبہ مہاجرین کے درمیان عقد اخوت قاتم کیا گیا جیسا کہ بحارالأنوار(جدید طبع) ج ۳۸، ب۶۸، ص۳۳۳ میں یہ «ابن عمر» سے روایت کیا گیا ہے۔

2. مدینہ میں داخل ہونے کے موقع پر مدینہ منورہ میں ہی مہاجرین و انصار کے درمیان عقد اخوت قائم کیا گیا۔جیسا بحارالأنوار، سیرۂ ابن ہشام اور دوسری کتابوں میں نقل ہوا ہے۔

3. اس آیت «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَة» کے نزول کے وقت ۔جیسا کہ بحار  الأنوارمیں امالي شيخ سے روایت کیا گیا ہے۔

4. «يَوْمُ الْمُباهَلَة» کے موقع پر. جیسا کہ سفينة البحار، ج1، ص12 میں روایت ہوا ہے.

اہم اور دلچسپ موضوع

اس مودّت ساز اور محبت آفرین موقع پر دلچسپ اور اہم بات یہ تھی کہ پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم نے حضرت علی بن ابیطالب علیہما السلام کو اپنا بھائی بنانے کے لئے منتخب کیا۔

پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  نے سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور بہت سے مؤرخین اور محدّثین کے بقول پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم نے ہم رتبہ لوگوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔

اس بناء پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم اپنے لئے بھی کسی بھائی کا انتخاب فرماتے۔ اور ہاں! جو اس مقام کے لائق ہو،وہ کون ہے؟ اور جو پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم کے قریب اور(مقام نبوت کے علاوہ) ہم رتبہ  ہو،وہ کون سی شخصیت ہے؟

جی ہاں! علی علیہ السلام کے سوا کوئی اور اس مقام کے لائق نہیں تھا کہ جن کے بارے میں پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  نے فرمایا: «اَنْتَ مِنّي بِمَنْزِلَةِ هارُونَ مِنْ مُوسي اِلاّ اَنَّهُ لا نَبِيّ بَعْدي»(4)

یہ انتخاب، وحی اور خدا کے انتخاب کی بنیاد پر تھا۔ خدا نے پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  اور علی علیہ السلام کے کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا جیسا کہ «لَيْلَةُ المبيت»،(جس رات مشرکین پيغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم کو قتل کرنا چاہتے تھے تو علی علیہ السلام نے اپنی جان ،پیغمبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  کی جان پر قربان کی اور آنحضرت کے بستر پر سو گئے) کے موقع پر (اہلسنت کی معتبر کتابوں میں موجود شرح کی روشنی میں)خدا نے جبرئیل اور میکائیل پر کی گئی وحی کے ضمن میں فرمایا:«اَفَلا كُنْتُما مِثْلَ عَليّ بْنِ اَبي‌طالِب اخَيْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُحَمَّد»(5)

 

حوالہ جات:

۱۔ مسار الشيعة شیخ مفید ره، ص 28.

2. سوره انبيا، آيه 92؛ بیشک تمہارا دین ایک ہی دین اسلام ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہو لہذا میری عبادت کرو۔

3. سوره حجرات، آيه 10 : حقیقت میں مؤمنین آپس میں بھائی ہیں.

4. اے علی !آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی و پیغمبر نہیں ہو گا۔

5. المسترشد، ص 261؛‌ الغدير، ج2، ص48؛ عمده ابن بطريق، فصل 30، ص123 و 125؛ خصائص الوحي المبين ابن بطريق، فصل6، ص6؛ کيا تم علی بن ابي‌طالب کی مانند نہیں  ہو (اور ان کی قربانی و فداکاری سے درس نہیں لیتے) اور اسی وجہ سے میں نے انہیں اور محمد صلي الله عليه و آله وسلّم کو بھائی قرار دیا.

وفات حضرت خدیجہ
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب ’’رمضان در تاریخ ‘‘ سے اقتباس

 

قال رسول‌الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:

«اُمِرْتُ اَنْ اُبَشِّرَ خَديجَةً بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لا صَخَبٌ فيهِ وَلا نَصَبٌ»؛(۱)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: «مجھے حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی بشارت دوں کہ جو سونے سے بنا ہوا ہے اور اس میں کوئی غم و اندوہ نہیں ہے»۔

ہجرت سے تین سال قبل اور بعثت کے دسویں سال ماہ مبارک رمضان میں مؤمنہ اور فداکار خاتون امّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنی پینسٹھ سال کی بابرکت عمر کے بعد رحلت فرما گئیں۔ شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ دردناک واقعہ دس ماہ رمضان کو پیش آیا۔(۲)   رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے آپ کو حجون مکۂ مکرمہ میں دفن کیا ۔ آپ کی رحلت کی وجہ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس قدر محزون اور غمگین ہوئے کہ آپ نے اس سال کو «عامُ الْحُزْن» کا نام دیا ۔ (۳)

حضرت خدیجہ علیہا السلام کی شخصیت

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ گھر اور خاندان انسان کی تربیت کا محیط ہے ؛ جو انسان کی جسمانی و فکری پرورش اور شخصیت پر اثرانداز ہوتا ہے کہ جو انسان کو اصیل ، ثابت قدم اور پائیدار بناتا ہے ۔

ماں باپ اور دودھیال و ننیہالکی جانب سے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا خاندان «جزيرة العرب» کے اصیل اور صاحب شرافت و سيادت سے تھا ۔

خداوند متعال نے چاہا  کہ یہ بے مثل و بے مثال بی بی حرم نبوت اور ولایت و امامت کے گیارہ اختر تاباں کی ماں ہو ۔ آپ عقل و فہم ، ادب و حكمت اوربصيرت و معرفت کے لحاظ سے ممتاز اور نابغہ تھیں ۔ آپ کمال و نبوغ اور فہم و بیس کا  ایسا برجستہ نمونہ تھیں کہ عورتوں اور مردوں میں آپ جیسی ہستی بہت کم ملتی ہے ۔  عفّت، نجابت، طهارت، سخاوت، حسن معاشرت دلسوزی اور مهر و وفا آپ کی برجستہ صفات میں سے ہیں ۔

زمانۂ جاہلیت میں جناب خدیجہ کو طاہرہ  (۴)اور سيّدۂ نساء قريش کہا جاتا تھا (۵)اور اسلام میں آپ ان چارخواتین  میں سے قرار پائیں کہ جو جنت کی تمام عورتوں پر فضیلت اور برتری رکھتی ہیں اور آپ کی عزیز و ارجمند بیٹی کے سوا کسی کو یہ مقام و فضیلت حاصل نہیں ہے ۔(۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے حضرت خدیجہ علیہا السلام ایک عظیم نعمت اور خداوند متعال کی واسع رحمتوں میں سے ایک رحمت تھیں ۔

ایک شوہر کے لئے اور بالخصوص اگر وہ گھر سے باہر اہم سماجی امور میں مصروف ہو اور اس کے عظیم مقاصد ہوں، نیز وہ جنگ اور جہاد کے فرائض بھی انجام دے رہا ہو اور اسے دشمنوں اور مخالفین کی جانب سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو تو ایک دلسوز، مہربان، عقل مند، اور ہوشیار بیوی ہی اس کے دل کو آرام اور روح کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور اس کی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ختم کرنے اور اس کے لئے استقامت اور ثابت قدمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اگر شوہر گھر سے باہر دشمنوں سے برسر پیکار ہو اور اسے دشمن کی طرف سے وحشیانہ حملوں، تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہو اور گھر میں بھی نادان، بد اخلاق، ڈرپوک اور منہ پھٹ بیوی کا سامنا کرنا پڑے کہ جو اسے اس کے ہدف و مقصد سے دور کرے، اس کی سرزنش کرے، جنگ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے اور کہے کہ ہر دن جاہل لوگ اس کے شوہر پر سبّ و شتم کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ جس سے وہ تھک گئی ہے  لیکن ان مشکلات کے حل کے لئے اپنے شوہر کی مدد نہ کرے تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایسی صورت میں شوہر کی مشکلات اور دشواریوں میں مزید  اضافہ ہو جاتا ہے ؛کیونکہ نہ صرف اس کی بیوی مشکلات کو حل کرنے میں اس کی مدد نہیں کرتی بلکہ اپنے غیر منطقی اعمال و افعال (منجملہ بے جا سرزنش اور اعتراض) کے ذریعہ اس کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند متعال کی جانب سے سب سے اہم آسمانی رسالت پر مأمور تھے اور مشرکین اپنی تمام تر توانائیوں ( منجملہ انہوں نے اپنے بہادروں، بدزبانی کرنے والے شعراء، سبّ و شتم کرنے والے اوباش افراد، عورتوں، مردوں، اپنوں اور بیگانوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محاذ آرائی کے لئے جمع کیا ہوا تھا) کے ساتھ آنحضرت کے مقابلہ میں کھڑے تھے اور جہاں تک ممکن ہو وہ آپ اور آپ کے اصحاب کو تکالیف پہنچاتے اور برا بھلا کہتے، آپ کے راستے میں کانٹے بچھا دیتے، نماز کے دوران آنحضرت کی توہین کرتے اور  یہاں تک کہ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب سے تعلقات ختم کر دیئے۔

ان تمام دشمنوں،  مشکلات اور مصائب کے ہوتے ہوئے اگر  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر واپس جاتے اور دیکھتے کہ ان کی زوجہ ( جو قریش کی عورتوں کی سرادر ہیں اور جو صاحب شخصیت اور مال و دولت کے لحاظ سے ملیکۃ العرب  ہیں اور جس نے اپنا تمام مال و دولت اپنے شوہر کے اختیار میں قرار دے دیا ہے  تا کہ وہ اسے راہ خدا میں خرچ کریں اور  اسے فقراء پر خرچ کرتے ہوئے ان کی دستگیری کریں ) انہیں یہ مشورہ دے رہی ہوں کہ : جب آپ کی قوم اور قبیلہ آپ کو اپنا بادشاہ اور امیر بنانے کے لئے تیار ہے تو پھر مناسب ہے کہ آپ بھی ان کے ساتھ سمجھوتہ کریں  ؛ اور ان کے دین اور راہ روش سے کوئی سروکار نہ رکھیں ۔ اور (ان کی مخالفت کرکے ) ہماری پرسکون اور آرام دہ زندگی کو مضطرب اور مشکل نہ بنائیں ؛ اگر ایسی صورت حال ہوتی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کس طرح انہیں قانع کرتے ؟  اور اس صورت میں کون رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم اور روح کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا تھا ؟ بیشک اس صورت میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گھر اور گھر سے باہر سخت مشکلات و موانع کا سامنا کرنا پڑتا ۔

لیکن خدا کا لطف تھا کہ خدا نے دعوت اسلام کی حقانیت کو درک کرنے کے لئے قلب خدیجہ کو اس طرح سے کھول دیا تھا اور آپ کے دل کو اس طرح سے منور اور معرفت و حکمت سے سرشار کر دیا تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی گھر میں ایسا کوئی افسوسناک منظر نہیں دیکھا تھا۔

دکتر بنت‌الشّاطي کہتی ہیں: « کیا خدیجہ کے علاوہ کسی اور بیوی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ اس تاریخی دعوت کے بعد قوی ایمان، کھلی آغوش اور محبت و عطوفت سے اس کا استقبال کرتی کہ جب وہ غار حرا سے آئے تھے اور دل میں اس کی سچائی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ آنے دیتی اور اسے تسلی دیتی کہ خدا اسے تنہا نہیں چھوڑے گا؟

کیا خدیجہ کے علاوہ اس قدر ناز و نعمت سے پلی ہوئی اور اس قدر احترام اور آسائش میں زندگی بسر کرنے والی کوئی اور خاتون اپنی مکمل رضائیت سے اپنی عالی شان زندگی، بے حد مال و دولت اور توانگری سے منہ موڑ سکتی ہے اور کیا کوئی اور یہ سب چھوڑ کر زندگی کے سخت اور دشوار لمحات میں اپے شوہر کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہوئے راہ حق میں آنے والی مشکلات اور مصائب میں اس کی مدد کرے؟ نہیں! ہرگز نہیں! صرف خدیجہ ہی ایسی خاتون تھی اور کوئی دوسری خاتون آپ کی طرح نہیں ہو سکتی مگر یہ کہ وہ آپ کے ہم مرتبہ ہو» ۔ (۷)

شہر مکہ ، مکہ کے لوگوں ، ان کی محبت و شفقت اور ان کی جانب سے دعوت توحید کا استقبال کئے جانے کی بجائے خداوند کریم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدیجہ علیہا السلام عطا کی۔ اور جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر میں آتے تو آپ آنحضرت کے استقبال کے لئے آگے بڑھتیں ، آپ کے حالت دریافت کرتیں ، آپ کی دلجوئی کرتیں ، آپ کو رحمت و نصرت اور لطف خدا کے بارے میں بتاتے ہوئے آپ کے منور چہرے سے گرد و غبار صاف کرتیں اور قوم کی سرزنش و ملامت کرتے ہوئے آپ کو تسلی دیتیں اور آپ کی دلجوئی کرتیں ۔

ابن‌اسحاق کہتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی قوم کی جانب سے اپنے ردّ یا تکذیب کے بارے میں جو بات بھی سنتے کہ جو آپ کے لئے پریشانی اور فکری بےچینی کا باعث بنی تو خداوند خدیجہ (علیہا السلام) کے ذریعے اسے برطرف کر دیتا ۔ خدیجہ (علیہا السلام) آنحضرت کے لئے سخت باتوں کی سنگینی کو کم کر دیتیں اور آپ کی تصدیق کرتیں ۔ لوگوں کے برتاؤ اور ان کی جانب سے توہین و جسارت کو بے اہمیت  شمار کرتیں ۔(۸)

جی ہاں ! خدیجہ علیہا السلام وہ پہلی خاتون تھیں کہ جنہوں نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کے سات نماز ادا کی ۔ اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے علی بن ابی طالب علیہما السلام (جو بعثت سے پہلے اور بعد میں ہمیشہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہوتے اور جو ایک لمحہ کے لئے بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ سے جدا نہیں ہوتے ) کے سواء بندگان خدا میں سے کوئی بھی آپ کی طرح کا سابقہ نہیں رکھتا ۔

خديجه علیہا السلام نے اپنی دور اندیشی ، حکیمانہ افکار ، فہم و فراست اور عقل و بیشن سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کو قبول کیا۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نیک اور درخشاں ماضی ، آنحضرت کا اخلاق ، صداقت ، سچائی ، امانت داری ، کمزوروں کی مدد کرنا ، فقراء کی دستگیری کرنا ، تواضع ، قناعت ، ایثار ، بخشش ، مہمان نوازی اور آنحضرت کی تمام صفات حسنہ جناب خدیجہ علیہا السلام جیسی حکیمہ خاتوں کی نظر میں مجسم تھیں ؛ اور آپ یہ جانتی تھیں کہ اس قدر پر آشوب ، تباہی و فساد اور تاریک ماحول میں یہ اعلیٰ و ملکوتی صفات نبوت کی نشانیاں ہیں ۔

حضرت خدیجہ علیہا السلام ؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بخوبی جانتی تھیں کہ آپ باطل سے گریز کرتے ہیں اور جھوٹ سے بیزار ہیں ۔ دوسرے لوگ بھی آپ کو ان صفات سے پہچانتے تھے  اور آپ کو برے ، ناروا اور ناپسندیدہ کاموں سے پاک و منزہ سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو «امين» کا لقب دیا تھا ۔ (۹)  خدیجہ علیہا السلام جسے پہچانتیں تھیں ؛ وہ کبھی بھی زمین و آسمان کے خدا کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دے سکتا ؛ اور ربّ العالمین بھی اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور وہ جو کچھ کہے وہ حق و حقیقت ہے ۔

اس بناء پر خدیجہ علیہا السلام نے اسلام قبول کرنے میں کسی طرح کا صبر اور شک و تردید نہیں کیا اور آپ اپنے پہلے قدم سے ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی یاور و مددگار بن گئیں اور آپ نے دین خدا کی نصرت اور مدد کے لئے اپنا تمام مال و دولت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اختیار میں دے دیا ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح حضرت خدیجہ علیہا السلام بھی مشرکوں اور بت پرستوں کی طرف سے اذیت اور تکالیف سے نہ بچ سکیں۔ عوتوں نے آپ ملنا جلنا چھوڑ دیا اور آپ سے قطع تعلق کر لیا ؛ آپ کو زبان سے زخم اور طرح طرح کے طعنے دیئے ؛ حتی بچے کی ولادت کے موقع پر بھی کوئی عورت آپ کی مدد کے لئے نہیں آئی اور انہوں نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا۔ (۱۰)

لیکن حضرت خديجه علیہا السلام مستقبل کو دیکھ رہیں تھیں کہ جسے دوسرے لوگ نہیں دیکھ رہے تھے ۔ وہ جانتی تھیں کہ دین محمد حق ہے اور جلد ہی خدائے یگانہ کی عبادت و پرستش بتوں کی پرستش کی جگہ لے لے گی اور خداوند اپنے پیغمبر کی مدد کرتا ہے اور روز بروز ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

جی ہاں ! اسلام میں جناب خدیجہ علیہا السلام کو وہ مقام و افتخار ملا کہ جو آپ  کی بیٹی سیدۂ نساء العالمین  (۱۱)حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملا ۔ خدا نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسل کو اس بی بی کے ذریعے جاری رکھا ۔  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جوانی کی اوج میں پچیس سال کی عمر میں جناب خدیجہ علیہا السلام سے ازدواج کیا کہ جن کی عمر مبارک چالیس سال تھی ۔ (۱۲)تقریباً چوبیس سال تک حضرت خدیجہ علیہا السلام خانۂ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چراغ اور آنحضرت کی انیس و غمخوار تھیں ۔ یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی پچاس سال کی عمر مبارک اور جناب خدیجہ علیہا السلام کی پینسٹھ سالہ بابرکت عمر  تک کسی اور سے ازدواج نہیں کیا ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آؒلہ و سلم نے حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بعد اگرچہ مختلف حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت متعدد عورتوں سے ازدواج کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی حضرت خدیجہ علیہا السلام کی جگہ نہ لے سکی اور وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر میں جناب خدیجہ علیہا السلام کے فراق اور جدائی سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں کر سکیں  اور پیغمر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان میں سے کسی سے بھی صاحب اولاد نہیں ہوئے اور آنحضرت کی نسل جناب خدیجہ علیہا السلام سے ہی باقی رہی ۔

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی بھی حضرت خدیجہ علیہا السلام کو نہیں بھولے اور آپ ہمیشہ ان کے اخلاق اور صفات کو یاد فرماتے اور آپ ان کے جاننے والوں اور ان کے دوستوں سے نیکی و احسان اور لطف و کرم فرماتے ۔

عائشه کہتی ہے : میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں سے کسی سے اس قدر حسد نہیں کیا کہ جتنا حسد خدیجہ سے کیا ؛ کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں بہت زیادہ یاد کرتے تھے اور اگر کوئی گوسفند ذبح کرتےتو  اس میں سے خدیجہ کے دوستوں کے لئے بھیجتے۔(۱۳)

اسی طرح عائشه سے روایت ہوئی ہے کہ: «رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم اس وقت تک گھر سے باہر نہ جاتے جب تک جناب خديجه سلام اللہ علیہا کو یاد نہ کر لیتے اور نیکی و اچھائی سے آپ کی مدح و ثناء فرماتے۔

ایک دن مجھے اس بات پر حسد ہوا اور میں نے کہا: وہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھی اور خدا نے آپ کو ان کے بدلے بہتر عطا کیا ہے۔

پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم اس قددر غضبناك ہوئے کہ آپ کے سر کے سامنے کے بال غصہ سے ہل رہے تھے اور پھر آپ نے فرمایا: «نہیں! خدا کی قسم! خدا نے مجھے اس سے بہتر کوئی نہیں دیا، وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے، اور تب میری تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کر رہے تھے، اور تب میرے ساتھ اپنا مال (راہ خدا میں) خرچ کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا اور خدا نے ان سے مجھے اولاد عطا کی اور دوسری عورتوں سے محروم فرمایا » ۔ (۱۴)

انس بن مالك نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا: «کائنات کی بہترین عورتیں مريم بنتِ عمران ، آسيه بنت مزاحم ، خديجه بنت خُوَيْلِد اور فاطمه بنت محمّد صلّی الله عليه و آله و سلّم ہیں» ۔ (۱۵)

ابن عبّاس سے روايت ہوا ہے کہ: پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟  عرض كیا: خدا اور رسول خدا بہتر جانتے ہیں ۔ پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خديجه بنت خويلد ، فاطمه بند ،  مريم بنت عمران اور آسيه بنت مزاحم ـ زوجۂ فرعون ـ ہیں» ۔ (۱۶)

«صحيحين» میں عائشه سے روايت ہوئی ہے کہ: «پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی کہ جہاں کوئی شور و شرابا اور رنج و زحمت نہیں ہے » ۔ (۱۷)

صحيح مسلم میں روايت ہوئی ہے کہ : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «جبرئيل میرے پاس آئے اور کہا : «يا رسول الله! اب خدیجہ آئیں گی اور ان کے پاس کھانے اور پینے کا ایک برتن ہے ۔ جب وہ آئیں تو انہیں ان کے پروردگار  کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور  انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دیں » ۔(۱۸)

سيرهٔ ابن‌ ہشام میں روايت ہوئی ہے کہ : جبرئيل ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئے اور کہا: «خدا کی طرف سے خديجه کو سلام کہیں » ۔ پيغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

«يا خَديجَةٌ! هذا جِبْريلُ، يُقْرِئُكِ السَّلام مِنْ رَبِّكِ. فَقَالَتْ خَديجَةُ : أَللهُ السَّلامُ وَمِنْهُ السَّلامُ، وعَلي جِبْريلَ السَّلامُ»؛(۱۹)

«اے خديجه! یہ جبرئیل ہے کہ جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر سلام بھیج رہا ہے ۔ پس خدیجہ نے عرض کیا : خداوند سلام ہے ، اور اس کی جانب سے سلام ہے اور جبرئیل پر سلام ہو » ۔

نسائی اور حاكم نيشاپوری کی روایت کی رو سے حضرت خديجه علیہا السلام نے کہا :

«إِنّ اللهَ هُوَ السَّلامُ وَعَلي جِبْريلَ السَّلامُ، وَعَلَيْکَ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللهِ»؛(۲۰)

«بیشک خداوند، سلام ہے ،  جبرئیل اور آپ پر خدا کا سلام ، رحمت اور برکات ہوں » ۔

حضرت خديجه علیہا السلام کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد ہمیشہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کرتی تھیں اور آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں۔

حضرت خدیجہ علیہا السلام کے فضائل اور اخلاقی کرامات بہت زیادہ ہیں ۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کتب تاریخ ، حدیث اور تراجم کی طرف رجوع فرمائیں ۔

سَلامُ الله عَلَيْها وَعَلى بَعْلِها رَسُولِ اللهِ‌  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلام وَ عَلَى ابْنَتِها سَيَّدَةِ  نِساءِ الْعالَمينَ  وَ عَلى صِهْرِها عَلِيٍّ  أَميرِ  الْمُؤْمِنينَ  وَ سَيِّدِ  الْمُسْلِمينَ  وَ عَلى أَبْنائِهَا الْأَئِمَّةِ الطّاهِرينَ ‌ علیہم السلام . اَللّهمَّ اجْعَلْنا في زُمْرَتِهِمْ وَأَرْزُقْنا مُرافَقَتَهُمْ وَشَفاعَتَهُم وَأَكْرِمْنا بِمُتابَعَتِهِمْ بِحَقِّهِمْ يا أَرْحَمَ الرّاحِمينَ.

 

 

حوالہ جات :

۱ ۔ ابن‌هشام، السيرة‌النبويه، ج1، ص241؛ احمد بن حنبل، مسند، ج1، ص205؛ طبرانی، المعجم‌الکبير، ج23، ص10؛ حاکم نيشابوری، المستدرک، ج3، ص184.

۲ ۔ مفید، مسارالشیعه، ص22 - 23.

۳ ۔ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج8، ص103 ؛ حسینی کجوری، الخصائص‌الفاطمیه، ج2، ص 147 ؛  محدث قمی، منتهی‌آلامال، ج1، ص136 ؛  سیلاوی، الانوارالساطعه، ص386 – 389.

۴ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1817 ؛ ابن‌اثيرجزری، اسدالغابه، ج6، ص78.

۵ ۔ بيهقی، دلائل‌النبوه، ص22؛ ابن‌کثير، البداية و النهايه، ج‌3، ص15.

۶ ۔ طبرانی، المعجم‌الکبير، ج‌22، ص402 ؛ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1821 ـ 1823 ؛ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج3، ص104.

۷ ۔ ر.ك: ابوعلم، اهل‌البيت ^، ص102، نقل به معنا.

 ۸ ۔ ابن‌هشام، السيرةالنبويه، ج1، ص240؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج6، ص82.

۹ ۔  ابن‌هشام، السيرة‌النبويه، ج1، ص183، 197، بلاذری، انساب‌الاشراف، ج1، ص99 – 100 ؛  يعقوبی، تاريخ، ج1،‌ ص19؛ ماوردی، اعلام‌النبوه، ص212 – 213؛ طبرسی،  اعلام‌الوری، ج1، ص 145؛ فخر رازی، اعلام‌النبوه، ص 74، 77؛ مقريزی، امتاع‌الاسماع، ج1، ص19، 91؛ ج2، ص146.

۱۰ ۔ کوفی، الاستغاثه، ج1، ص70؛ طبری امامی، دلائل الامامه، ص77 – 78؛ قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ج2، ص524 – 525؛ حلي، العدد‌القويه،‌ص223؛ مجلسی، بحارالانوار، ج16، ص80 – 81؛

۱۱ ۔ ابن‌عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1821 ـ 1823؛ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج‌3، ص‌104.

۱۲ ۔ ابن‌سعد، الطبقات‌الکبري، ج‌8، ص17، 216 – 217؛ بلاذري، انساب‌الاشراف، ج1، ص98 – 99؛ طبري، تاريخ، ج2، ص34؛‌ابن‌عساکر، تاريخ مدينة دمشق، ج3، ص194؛ ابن‌اثير جزري، اسد‌الغابه، ج1، ص23.

۱۳ ۔ احمد بن حنبل، مسند، ج‌6، ص202؛ بخاری، صحيح، ج‌4، ص230 ـ 231؛ ج7، ص‌76؛ مسلم نيشابوری، صحيح، ج‌7، ص133 ـ 134؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج 6، ص84.

۱۴ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1823 ـ 1824؛ ابن‌جوزی، المنتظم، ج3، ص18؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج‌6، ص84 ـ 85.

۱۵ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1822؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج6، ص83.

۱۶ ۔ ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج4، ص1822؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج‌6، ص83.

۱۷ ۔ بخاري، صحيح، ج2، ص203؛ ج4، ص230 – 231؛ مسلم نيشابوري، صحيح، ج7، ص133. اس حدیث کی مانند دوسری احادیث اہلسنت کی دیگر کتب میں ذکر ہوئی ہیں ۔ ر.ك: يعقوبی، تاريخ، ج2، ص35؛ ابن‌اثير جزری، اسدالغابه، ج2، ص83 ـ 84؛ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج8، ص101.

۱۸ ۔ مسلم نیشابوری، صحیح، ج7، ص133.

۱۹ ۔ ابن‌هشام، السيرة‌النبويه، ج‌1، ص‌241؛ ر.ک: اربلی، كشف‌الغمه، ج2، ص136.

۲۰ ۔ نسائی، فضائل‌الصحابه، ص75؛ حاکم نيشابوری، المستدرک، ج2، ص138.

پنجشنبه / 2 ارديبهشت / 1400

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها