رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
شنبه: 1401/04/4

شیعوں کے لئے حضرت امام رضا علیه السلام کے کیا احکامات ہیں؟

شیعوں کے لئے حضرت امام رضا علیه السلام کے کیا احکامات ہیں؟
حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی قدس سره کے نوشتہ جات سے اقتباس ، اور عشرۂ کرامت کی مناسبت سے ان کی شعر خوانی کی ویڈیو

امام‏ رضا علیه السلام نے فرمایا : «جس میں ورع اور پرہیزگارى نہ ہو ، اس میں دین نہیں ہے ، اور جو تقیہ نہ کرے ، اس میں ایمان نہیں ہے ، اور خدا کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ دار ہو ؛ یعنی جو تقیہ پر زیادہ عمل کرے » ۔ عرض کیا گیا : «یابن رسول اللہ ! ہم کب تک یہ عمل انجام دیں ؟» آپ نے فرمایا: « ظہور کے دن اور قائم علیہ السلام کی آمد تک ، اور اگر کوئی قائم علیہ السلام کے ظہور سے پہلے تقیہ کو ترک کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے » ۔ حضرت سے دوبارہ سوال پوچھا گیا : «آپ اہل بیت (علیہم السلام) کا قائم (علیہ السلام) کون ہے ؟»

فرمایا: «میری آل میں سے میرا چوتھا فرزند ، اور وہ سیدۃ النساء کے فرزند ہیں ، خدا ان کے ذریعہ زمین کو ہر ظلم و ستم سے پاک کر دے گا ، ان کی ولایت کے بارے میں لوگوں کو شک ہو گا ، ظہور سے پہلے ان کی ایسی غیبت ہو گی ، جب وہ ظہور کریں گے تو زمین ان کے نور سے منور ہو جائے گی ، اور وہ لوگوں کے درمیان عدالت پر عمل پیرا ہوں گے ، اس طرح سے کہ کوئی کسی دوسرے پر ظلم نہیں کرے گا ، ان کے قدموں تلے زمین نورانی دکھائی دے گی اور ان کا سایہ نہیں ہو گا ، منادی آسمان سے ندا دے گا [ تمام اہل زمین اس کی آواز سنیں گے اوروہ  لوگوں کو ان کی طرف دعوت دے گا ]  اور کہے گا : امام زمانہ  کا خانۂ خدا (خانۂ کعبہ) کے ساتھ ظہور ہوا ہے ، پس ان کی پیروی کرو ، (کیونکہ) حق ان کے ساتھ ہے ، اور (حق) ان میں ہے ، خداوند کریم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

إِنْ نَشَأْ نُنَزّلْ عَلَیْهِمْ مِنَ السَّمآءِ آیَةً فَظَلَّتْ أَعْناقُهُمْ لَها خاضِعِینَ‏؛ «اور اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کر دیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جاتیں » ۔

دعبل خزائى نے کہا : میں نے اپنے آقا و مولا علی بن موسی الرضا علیه السلام کی خدمت میں اپنا قصیدہ  پڑھا اور ان سے عرض کیا : «میرا یہ قصیدہ کیسا تھا؟» امام رضا علیه السلام نے مجھ سے فرمایا :

«کیا تم اس میں دو بیت (اشعار) کا مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے ؟» میں نے عرض كیا : «جی ہاں ! (کیوں نہیں) ، یابن رسول اللہ !» فرمایا : « اور طوس میں ایک قبر ، اور اس صاحب قبر پر وارد ہونے والی مصیبت پر افسوس ہے ، یہ مصیبت ان پر بہت زیادہ دباؤ اور مشقت ڈالے گی ، یہاں تک کہ خدا قائم علیہ السلام کو مبعوث کر دے ، اور وہ ہمارے غم اور پریشان کو دور کر دے» ۔

دعبل کہتے ہیں : پھر میں نے امام رضا علیه السلام کے سامنے اپنا باقی قصیدہ پڑھا ، اور جب میں نے یہ اشعار پڑھے  تو امام علیہ السلام نے شدت سے گریہ کیا:

ظهور امامى كه حتماً اتفاق خواهد افتاد*** و با نام خدا، قیام مى‏كند و داراى بركات است‏

حق و باطل را در میان ما جدا خواهد كرد*** و بر حق، نعمت و بر باطل، لعنت جارى مى‏شود.

اور پھر فرمایا : «اے دعبل! روح القدس نے اشعار تمہاری زبان پر جاری کئے ہیں ۔ کیا تم اس امام کو جانتے ہو؟»

میں نے عرض كیا: « نہیں ! لیکن میں نے صرف یہ سنا ہے کہ آپ اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک امام ظہور کرے گا ، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا » ۔

امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام نے فرمایا : « میرے بعد میرا بیٹا محمد امام ہے ، ان کے بعد ان کے فرزند علی امام ہیں ، ان کے بعد ان کے فرزند حسن امام ہیں ، اور حسن کے بعد ان کے فرزند حجت قائم علیه السلام ہیں  .

لوگ ان کی غیبت کے زمانے میں ان کے منتظر ہوں گے اور ان کےظہور کے زمانے میں ان کے پیروکار ہوں گے ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے ، جس طرح وہ  ظلم و جور سے بھری ہو گی ۔ اور یہ کہ وہ کب آئیں گے ؟ یہ ظہور کے وقت کے بارے میں خبر دینا ہے [ اسے (یعنی ظہور کو) معین  کرنے والا جھوٹا ہے ] بیشک میرے والد گرامی نے اپنے آباءو اجداد سے  میرے لئےنقل کیا ہے  کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

« قائم علیه السلام کی مثال اس وقت اور زمان کی طرح  ہے جو ناگہانی طور پر تمہاری تلاش میں آتا ہے» ۔

 


منبع: سلسله مباحث امامت و مهدویت : ج‏4 ، ص234

 

 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

پیشوائے معرفت و فضیلت کے سوگ میں

پیشوائے معرفت و فضیلت کے سوگ میں
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی قدس سرہ کے نوشتہ جات سے اقتباس

بسم الله الرحمن الرحیم

قال الله الحکیم فی کتابه الکریم: «یَا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا الله وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ» ۔ «1»

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی بہت ہی باعظمت علمی اور جامع الأطراف شخصیت سے تمام عالم السلام پر حق رکھتے ہیں ۔ آپ نے ہر علمی اور اسلامی شعبے میں کافی و وافی ہدایت و معارف باقی چھوڑے ہیں ۔ الٰہیات، عقائد، توحید، اخلاق، فقه، احکام، تفسیر قرآن اور اسلام کے دوسرے تمام علوم میں حضرت امام صادق علیه السلام کے آثار غیر معمولی درخشندگی و تابندگی کے حامل ہیں کہ جو صرف ہم شیعوں میں ہی نہیں بلکہ تمام عالم اسلام میں جلوہ گر ہیں ۔

امت میں افقه اور  افضل

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے امت اسلام کے لئے جس مدرسے کا افتتاح کیا ؛ اگر وہ نہ ہوتا تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دین ناقص رہ جاتا ۔ آپ نے تمام ضروری اصول و فروع بیان فرمائے ۔ ابو حنیفہ کہتے ہیں : «مَا رَأیتُ أفقهَ مِن جَعفَرِ بنِ مُحَمَّد؛  میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا» ۔«2»

ابن عقده (متوفىٰ سنہ ۳۳۳ ہجرى ) -جو شیعہ اور ایل سنت مسلمانون کے نزدیک معتبر اور قابل قبول محدثین میں سے ہیں – نے «أسماء الرِّجال الّذین رووا عن الصادق علیه السلام» کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس كتاب میں ان چار ہزار افراد کے نام ذکر کئے ہیں جنہوں نے حضرت صادق علیه السلام سے حدیث نقل کی ہے اور آپ سے علم اخذ کیا ہے ، لیکن بدقسمتی سے دوسری بہت سے کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی معدوم ہو چکی ہے ، جس کا صرف بزرگوں نے تذکرہ کیا ہے ۔ «3»

نجاشى نے اپنی کتاب رجال میں احمد بن عیسى اشعرى سے نقل كیا ہے کہ وہ کہتے ہیں : «قَالَ: خَرَجتُ إلَى الكُوفَةِ فِی طَلَبِ الحَدیثِ فَلَقیتُ بِها الحَسنَ بنَ عَلی الوَشّاء فَسَألتُهُ أنَ یَخرُجَ إلی كِتابِ العَلاء بنِ رَزین القلاء وَ أبان بن عُثمان الأحمر فَأخرَجَهُما إلیّ فَقُلتُ لَهُ: أحَبُّ أن تُجیزَهُما لِی. فَقَال لِی: یَا رَحِمَك اللهُ وَ ما عَجَلتُك أذهَب فَاكتُبهُما وَ أسمع مِن بعد. فَقُلتُ: لا آمُنُ الحَدثان‏. فَقَال: لَو عَلِمتُ أنَّ هذا الحَدیثَ یَكُونُ لَه هذَا الطَّلب لاستَكثَرتُ مِنهُ فَإنّی أدرَكتُ فِی هذَا المَسجِد تِسع‌مِائة شیخٍ كُلٌّ یَقُولُ حَدَّثَنی جَعفَرُ بنُ مُحمَّد؛

نجاشى نے احمد بن عیسی اشعرى سے نقل کیا ہے کہ اس کا بیان ہے :«میں علم حدیث کے حصول کے لئے کوفہ گیا اور وہاں حسن بن على وشا کی خدمت میں پہنچا ۔ میں نے ان سے کہا : مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دے دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کر سکوں ۔ انہوں نے مجھے وہ کتابیں دے دیں۔ میں نے  کہا:مجھے  روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ! تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ ، لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں ۔میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا ، جوسب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے» ۔ «4»

دوسرے علمی اور سائنسی شعبوں (جیسے آج کے جدید علوم یا کیمیاء اور طبعیات وغیرہ) میں بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایسے شاگرد تھے جوغیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے ، مثلاً جابر بن حیان ؛ کہ  جب ان کی کتابوں کا یورپ میں ترجمہ کیا گیا تو آپ کو بابائے کیمیاء کا لقب دیا گیا ۔، علوم کے مختلف شعبوں میں ان کی ہزار یا پانچ سو کتب ہیں ۔ جب کہ آپ  ہمیشہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے تھے ۔ جابر بن حیان ایک ایسی شخصیت تھے کہ جو عجیب و غریب علوم اور علمی معلومات رکھتے تھے ۔ وہ امام صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد تھے ۔ دوسرے شعبوں میں بھی آنحضرت کے شاگرد تھے ، مثلاً شعبۂ تشریح  یا یہی توحید کہ جو رسالۂ توحید مفضل میں ذکر ہوئی ہے ۔

حج کے بہت سے فقہی فروع امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت سے استفادہ کئے جاتے ہیں ، آپ کی روایات کے وسیلہ سے ہی فقہ اور دین کے احکام  ہم تک پہنچے ہیں ۔

امام صادق علیہ السلام اور امام زمانہ ارواحنا فداہ کا تعارف 

مرحوم شیخ صدوق ؒ اور شیخ طوسى ؒ میں سے ہر ایک  نے اپنی سند سے «سدیر صیرفى» سے ایک مفصل حدیث روایت كی ہے کہ جس میں حضرت صاحب ‌الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر امام جعفر صادق علیہ السلام کا گریہ و ندبہ بیان ہوا ہے ۔ ہم اختصار کی رعایت کرتے ہوئے اس حدیث شریف کے کچھ جملوں اور اس کے کچھ مضمون کو ذکر کرتے ہیں :

سُدیر صیرفى کہتے ہیں : میں مُفضّل بن عمر ، ابو بصیر ، ابان بن تغلب کے ساتھ ہمارے آقا و مولا حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا ۔ میں نے دیکھاکہ امام صادق علیہ السلام خاک پر بیٹھے ہوئے تھے ، جب کہ آپ نے اون سے بنا ہوا طوق دار ایک لباس زیب تن کیا ہوا تھا کہ جس کا گریبان نہیں تھا اور آپ ایک ایسے جگر سوختہ شخص کی طرح گریہ کر رہے تھے کہ جس کا بیٹا مر گیا ہو ۔ آپ کے چہرے اور رخسار سے غم و اندوہ کے آثار نمایاں تھے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے :

«سَیِّدِی! غَیْبَتُكَ نَفَتْ رُقَادِی، وَضَیَّقَتْ عَلَیَّ مِهَادِی، وَابْتَزَّتْ مِنِّی رَاحَةَ فُؤَادِی. سَیِّدِی! غَیْبَتُكَ أَوْصَلَتْ مُصَابِی بِفَجَائِعِ الْأَبَدِ، وَفَقْدُ الْوَاحِدِ بَعْدَ الْوَاحِدِ یَفْنِی الْجَمْعَ وَالْعَدَدَ ...»؛

«اے میرے آقا ! آپ کی غیبت (دورى) نے میری نیندیں اڑا دی ہیں اور میری خوابگاہ کو تنگ کر دیا ہے اور میرے دل کا چین اور سکون چھین لیا ہے ۔ اے میرے آقا ! آپ کی غیبت نے میری مصیبت کو دردناک ابدی مصائب سے متصل کر دیا ہے ۔ ایک کے بعد ایک کاکھونا جمع و عدد کو فنا کر دیتا ہے ۔ پس مجھے نہیں لگتا کہ میری آنکھوں سے آنسو خشک ہوں گے  اور میرے سینہ میں آہ و نالہ کم ہو گا  مگر یہ کہ میری آنکھوں کے سامنے اس سے بڑے ، سخت اور دلخراش مصائب مجسم ہو جائیں » ۔

سدیر نے کہا : ہماری عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا اور اس ہولناک غم و اندوہ اور خطرناک حادثے سے ہمارا دل پارہ پارہ ہو گیا ہے ۔ اور ہمارا یہ گمان ہے کہ آپ کسی دردناک اور ناگوار اتفاق کی وجہ سے اس طرح گریان و سوگوار ہیں  یا آپ کو کسی (دردناک) مصیبت کا سامنا ہے ۔ 

ہم نے عرض کیا : خدا آپ کو نہ رلائے ، اے فرزند خیر الورى! آپ کس وجہ سے اس قدر گریہ کر رہے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں ؟ آپ کن حالات کی وجہ سے اس طرح سوگوار ہیں ؟

حضرت نے یوں لمبی آہ بھری کہ آپ کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا : «وای ہو تم پر ! آج صبح میں نے کتاب «جَفر» میں دیکھا اور یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس میں موت  ، بلاؤں ، مصیبتوں اور روز قیامت تک واقع ہونے والے واقعات کا علم درج ہے ۔ خدا نے اسے  محمّد (صلی الله علیه و آله) اور آپ کے بعد والے ائمہ سے مختص کیا ہے ۔ میں نے اپنے غائب کی ولادت ، ان کی غیبت ، ان کے طول عمر ، اس زمانے میں مؤمنین کی مشکلات اور ان کی غیبت  کے طولانی ہونے کی وجہ سے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات پر غور کیا اور یہ کہ ان میں سے اکثر اپنے دین سے پلٹ جائیں گے اور اسلام کو چھوڑ دیں گے ۔ (تا آخر حدیث)  ۔

 عظیم ترین مکتب اور یونیورسٹی

یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی ؟ اور ان کے لئے وہاں کیسے بلند پایہ علوم و معارف تھے  ؟ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو بارہا فرماتے تھے کہ : «أُذَكِّرُكُمُ‏ اللهَ‏ فِی أَهْلِ بَیْتِی»«5» یا «لَا تُعَلِّمُوهُمْ‏ فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ»«6» رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ سب صرف اپنے خاندان کی محبت میں بیان نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان بزرگ ہستیوں کے درجات و مقامات اور علوم کی وجہ سے تھا ۔

چوتھی صدی ہجری میں ہمارے بزرگ علماء میں سے  احمد بن عبد العزیز المعروف بہ ابن عیاش کی ایک کتاب ہے کہ جس کا نام «مُقتَضَب الأثَر فِی النَّصِّ عَلی الائمَّة الإثنی عَشَر» ہے ۔ میں نے پچاس سال سے بھی پہلے اس کا ایک نسخہ دیکھا تھا کہ جو اچھی کیفیت میں چاپ نہیں ہوا تھا ۔ میں نے اسے دوبارہ چاپ کرنے کا ارادہ کیا ۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ کتاب اس زمانے (چوتھی صدی ہجری) کی ہے ؛ میں نے اس کی تمام دستاویزات اور شواہد کو ملاحظہ کیا اور دوسری کتابوں کو بھی استخراج کیا کہ جنہوں نے اس کتاب کے بعد اس سے روایت کیا تھا ۔ پھر میں نے اس کا مقدمہ لکھا اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کی عظمت کے بارے میں جامعۃ الأزھر کے رئیس عبد اللہ شبراوی کا قول نقل کیا ۔ الشیخ عبد الله الشبراوی کی «الإتحاف بحبّ الأشراف» نامی کتاب ہے کہ جو فضائل سادات کے موضوع پر لکھی گئی گئی ہے ۔ وہ اس کتاب میں بعض اہل علم کے اقوال کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : »إنَّ آلَ البَیتِ حَازُوا الفَضَائلَ كُلَّها عِلماً وَحِلماً وَ فَصَاحَةً، وَ ذَكاءً وَ بَدیهَةً وَ جُوداً وَ شُجَاعَةً. فَعُلُومُهُم لا تَتَوَقَّفُ عَلى تَكرارِ دَرسٍ، وَلا یَزیدُ یَومَهُم فِیها عَلى مَا كَانَ بِالأمسِ. بَل هِیَ مَواهِب مِن مَولاهِم. مَن أنكَرَها وَ أرادَ سَترَها كَانَ كَمَن أرادَ سَترَ وَجهِ الشَّمسِ. فَمَا سَأَلَهُم فِی العُلومِ مُستَفید وَ وَقفوا وَلا جَرى مَعَهُم فی مِضمَار الفَضلِ قَومٌ إلّا عَجَزُوا وَ تَخَلَّفُوا وَ كَم عَایَنُوا فِی الجِلاد و الجِدالِ أمُوراً، فَتَلَقَّوها بِالصَّبرِ الجَمیلِ، وَمَا استَكَانُوا و ما ضعفوا تقرّ الشقائق إذا هدرت شقائقهم و تصغی الأسماع إذا قال قائلهم و نطق ناطقهم سجایا خصهم بها خالقهم«

اہلبیت علیہم السلام کے فضائل کے منکر کی مثال اس شخص کی مانند ہے کہ جو سورج کو ڈھکنا چاہتا ہو ۔ اب تک کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جس نے ان سے سوال کیا ہو اور انہیں   اس کا جواب معلوم نہ ہو ۔

یہاں تک کہ الشیخ عبد اللہ الشبراوی کہتے ہیں : «وَقَد أشرَقَ نُورُ هذِه السِّلسلةِ الهَاشِمیّة، وَالبیضَةُ الطَّاهرة النبویة،و العِصَابة العَلَویة،وَ هُم إثنا عشر اماماً مَناقِبُهم عَلیة،وَ صِفاتهم سَنِیة،وُ نُفُوسُهم شَریفَة أبیه، و أرومَتُهم كریمة محمّدیة. ثم ذكر اسمائهم الشریفة علیهم الصلوة والسلام... «

اہل بیت علیہم‌ السلام کی طرف رجوع کرنا لازم ہے

لیکن بدقسمتی سے عالم اسلام میں اہل بیت علیہم السلام کو ترک کرنے کی سیاست رائج ہو گئی ، یہاں تک کہ بخاری جیسے افراد نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بھی روایت نقل نہیں کی ہے ، بقول شاعر :

قضِیَّةٌ أشْبَهَ بِالمرْزِئَةِ * هذا البُخاریّ إمامُ الفِئَةِ
بِالصَّادِقِ الصِّدِّیقِ ما إحتجَ فی *صَحیحِهِ وَ احتجّ بِالمرجِئَة
وَمِثل عُمران بْن حطان أو * مَروان وَ ابْن المرأة المخْطِئة
مُشْكِلَة ذات عوار إلى * حیْرَة أرباب النّهْى مُلْجِئَة
وَحَقُّ بَیْت یمّمته الوَرى *مغذة فی السّیرِ أو مُبْطِئة
إنَّ الإمَامَ الصَّادِقَ المجْتَبى * بفَضْلِهِ الآی أتَت منبئة
أجَلّ مِنْ فی عَصْرِه رُتْبَة * لم یَقْتَرِفْ فی عُمْرِه سَیِّئَة
قَلامة مِنْ ظفر إبهَامِه * تَعْدِلُ مِنْ مِثْلِ البُخاری مِئَة«7«

ہمیں اہلبیت علیہم السلام اور ان بزرگ ہستیوں سے ہم تک پہنچنے والی ہدایات اور علوم و معارف کی قدر و اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور ہمیں یہ علوم و معارف دنیا والوں تک پہنچانیں چاہئیں  ؛ تا کہ  حقیقت  و معرفت کے تشنہ اس بے نظیر اقیانوس سے بہرہ مند ہو سکیں  ، اور سب اس عظیم دانشگاہ میں زانوی ادب تہہ کریں ۔

علم و فضیلت سے محبت کرنے والوں کو چاہئے کہ امام صادق علیہ السلام کی شہادت کے ایّام کی تجلیل و تکریم کریں اور اس عظیم شیعہ رہبر کے علمی و اخلاقی  فضائل کی نشر و اشاعت کرنے کا اہتمام کریں ۔

حوالہ جات:
۱۔  اے مؤمنو ! تقویٰ الٰہی اختیار کرو ، اورسچوں کے ساتھ ہو جاؤ . سورهٔ توبه ، آیت : 119.
۲۔ طبقات الحفاظ؛ الذهبی، الطبقة الخامسة، ص166.
۳۔ رجال علامه حلی؛ دوسری قسم ، چوتھا باب ، احمد بن محمد بن سعید المعروف به ابن عقدة کے حالات زندگی ، اور رجال طوسی ، المقدمة میں اس کتاب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے.
۴۔ رجال نجاشی؛ شرح حال حسن بن على بن زیاد الوشا.
۵ ۔ بحار الأنوار؛ج23،باب7،حدیث10.
۶ ۔ كافی؛ جلد1، بَابُ مَا نَصَّ اللهُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُولُهُ عَلَى الْأَئِمَّةِ.
۷ ۔ یہ مشہور شاعر ’’أبوبكر بن شهاب الدّین علویّ حضرمیّ‘‘ کے اشعار ہیں ۔

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا

امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی قدس سرہ کے نوشتہ جات سے اقتباس

بسم الله الرحمن ارحیم

حضرت امام صادق علیہ السلام نے دوسری صدی ہجری کے پہلے حصہ میں ایک ایسے مدرسہ کا افتتاح کیاکہ اسلام میں اس زمانے تک اس کا کوئی سابقہ نہیں تھا اور اس کے بعد بھی اس جیسے مدرسہ کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ وہ امام صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ہی تھا؛ جس نے دنیا کو علوم قرآن، فقہ، کلام، کیمیا وغیرہ کے عظیم علماء سے نوازا۔

شیعہ فقہ کہ جس کے ضمن میں ہزاروں قانونی و تعلیمی شقیں ہیں نیز اس میں علمی اسلامی اخلاق کے آئین ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر یا تقریباً تمام موارد میں امام صادق علیہ السلام کے بے پایان علوم کے مقروض ہیں۔

حج جیسے احکام میں (جو اسلام کے عظیم ترین فرائض میں سے ہے اور جس کے فلسفہ کے ضمن میں اعلٰی حکمتیں موجود ہیں)دنیائے اسلام امام صادق علیہ السلام کے بحر العلوم سے مسیفیض ہوئی اور ابو حنیفہ کے بقول یہ سب امام جعفر صادق علیہ السلام کے طفیل ہیں۔ اہلسنت کی کتابوں میں سے صحیح مسلم میں امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے کہ  جس سے احکام حج کی چارسوشقیں مأخوذ کی گئی ہیں  اور اہلسنت اس کی پیروی کرتے ہیں۔

جی ہاں!اس زمانے میں اسلامی ممالک کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام کو بہترین فرصت میسر آئی کہ آپ سب سے بڑی علمی نہضت کی قیادت فرمائیں اور ایک ایسے مدرسہ کا قیام عمل میں لائیں کہ جس میں اسلام کے سب سے مشہور و معروف علماء  آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے ہوئے احادیث اخذ کریں اورآپ سےتعلیم حاصل کریں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے علوم تمام ممالک اور اسلام کے تمام علمی حلقوں پر محیط تھے۔ عراق، حجاز، خراسان اور شام کے علماء نے آپ سے علم حاصل کیا۔ علمی مشکلات اور اسلامی مسائل کے حل کے لئے صرف امام صادق علیہ السلام ہی حلال مشکلات تھے۔

جو بات زیادہ قابل غور ہے، وہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام  کی رہبری و قیادت اسلامی علوم میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مختلف قسم کے علوم جیسے علم نجوم، علم ہیئت، ریاضی، طب، تشریح، معرفۃ النفس، کیمیا، علم نباتات اور دوسرے علوم میں بھی آپ نے شاگردوں کی تربیت کی کہ جو ان علوم میں مشہور و معروف اور اپنی مثال آپ  ہیں۔صفحۂ تاریخ میں باقی رہ جانے والی آپ کی کتابیں، مضامین و مقالات اور احادیث مسلمانوں کی کتابوں کو زینت بخشتی ہیں، جیسے کتاب ’’توحید مفضل‘‘، رسالۂ  اہلیلجہ، ملحدین کے ساتھ آپ کے مناظرہ۔یہ سب اس بات کے شاہد ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ایک یونیورسٹی کی مانند تھا کہ جس میں مختلف علوم کے شعبہ جات تأسیس ہوئے  اور ہر شعبہ نے اپنے مخصوص علوم کے متعلق درس،مباحثہ اور تحقیق پر کام کیا۔

 

مثال کے طور پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جو علوم مسلّم طور پر تدریس فرمائے ان میں سے ایک علیم کیمیا تھا اور آنحضرت کی عظیم الشأن یونیورسٹی سے جابر بن حیان جیسے غیر معمولی شاگرد فارغ التحصیل ہوئے ۔ اگر ہم جابر بن حیان کے زمانے سے اب تک صرف انہی نتائج کے بارے میں تحقیق و جستجو  اور علمی بحث کرتے اور ان سے استفادہ کرتے جو اس شخصیت نے امام صادق علیہ السلام حاصل کئے  اور اسی طرح اگر ہم نے ایسے دوسرے علوم حاصل کئے ہوتے کہ جن کی آج کے متمدن  اور ترقی یافتہ سماج کو ضرورت ہے تو ہم مادی دنیا میں بھی مغرب ،یورپ اور امریکہ کے محتاج نہ ہوتے کیونکہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اسلام اور اس کے عالی اصولوں اور علماء کی کوششوں کی برکات کا نتیجہ ہے۔

 

امام صادق علیہ السلام کے شاگرد اسلامی علوم، طب، تشریح، علم نجوم، علم ہیئت، علم فلکیات، ماحولیات، طبیعیات، ریاضیات، کیمیا، فلسفہ، منطق، اخلاق، تاریخ، ادب، شعر، معرفۃ الحیوان، علم نباتیات،اسلحہ سازی کی صنعت اور ان کے علاوہ دوسرے علوم کے ماہر تھے۔

جابر بن حیان وہی شخص ہے کہ جس نے سب سے پہلے علمی تجربات، اشیاء کی مقدار کو معین کرنے کے لئے میزان استعمال کئے اور انہوں نے ایسی چھوٹی چھوٹی مقداروں کو معین کیا کہ جنہیں ہمارے زمانے میں حساس اور دقیق میزان کے بغیر معین نہیں کر سکتے اور چھ سو سال بعد یورپ میں کیمیا کے علماء نے اپنے تجربات میں ان میزان سے استفادہ کیا۔

یہ وہی دانشور ہے جس نے  دو عناصر کے درمیان اتحاد کے متعلق برطانیہ کے مشہور ماہر طبیعیات، ماہر کیمیا اور طبیعت شناس جان ڈالٹن(Jon Dalton) کے نظریہ کو  اپنی کتاب (المعرفة بالصفة الالهیة و الحکمة الفلسفیة)دس صدیاں پہلے واضح طور پر بیان کیا ہے اور اس نظریہ کو وضع کرنے والے ’’جابر بن حیان‘‘ ہیں نہ کہ ’’جان ڈالٹن‘‘۔

 

جی ہاں! حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے وہی جابر بن حیان ہیں کہ جن کے کارناموں میں سے  ایک کارنامہ  ( جو ان کی علمی و فکری مہارت و استعداد اور صلاحیت کو ثابت کرتا ہے) (Optical pencil) کی ایجاد ہے جس کی تحریر کو تاریکی میں پڑھا جا سکتا ہے، اہمیت کی حامل کتابوں کو لکھنے کے لئے اسی سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

اس مکتب کا ہر شاگر انفرادی طور پر بھی اس عظیم مکتب کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ صرف شیعہ دانشور ہی اس مدرسہ اور یونیورسٹی کی عظمت کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ مکتب اہلبیت علیہم السلام کی مخالفت کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں نے بھی اس مدرسہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور سب نے امام صادق علیہ السلام کے اعلم و افقہ اور برحق ہونے کو بیان کیا ہے۔ حنفیوں کے امام ’’ابوحنیفہ‘‘ کہتے ہیں: «مَا رَأَیْتُ أفقَه مِنْ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّد؛ میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا »

نجاشی نے اپنی کتاب رجال میں احمد بن عیسای اشعری سے نقل کیا ہے  کہ وہ کہتے ہیں:میں علم حدیث کی طلب میں کوفہ گیا  اور وہاں حسن بن علی وشا کی خدمت میں پہنچا اور ان سے کہا: مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کروں۔ انہوں نے مجھے وہ دونوں کتابیں دیں۔

 میں نے  کہا: روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

 فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ، تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ اور لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں گا۔

میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔

حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا اور سب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے۔

واقعاً یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی کہ جس نے موافقین اور مخالفین سبھی کو حیرت و تعجب میں مبتلا کر دیا اور زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بارہا فرماتے تھے:میری عترت اور میری اہلبیت  انہی مقامات اور علوم و درجات کے لئے تھی  کہ جس کے یہ اہل ہیں۔ لیکن افسوس کہ سیاست کی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنے کو ترک کر دیا گیا یہاں تک کہ بخاری جیسے شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بھی روایت نقل نہیں کی اور شاعر کے بقول:

قَضِیَّةٌ أشْبَهَ بِالمرْزِئَةِ * هذا البُخاریّ إمامُ الفِئَةِ

بِالصَّادِقِ الصِّدِّیقِ ما إحتجَ فی * صَحیحِهِ وَ احتجّ بِالمرجِئَة

إنَّ الإمَامَ الصَّادِقَ المجْتَبی * بِفَضْلِهِ الآی أتَت منبئة

أجَلّ مِنْ فی عَصْرِه رُتْبَة * لم یَقْتَرِفْ فی عُمْرِه سَیِّئَة

قَلامة مِنْ ظفر إبهَامِه * تَعْدِلُ مِنْ مِثْلِ البُخاری مِئَة

اس مکتب، قیمتی خزانے اور ان معارف کی قدر کریں اور سب اس مدرسہ و مکتب اور یونیورسٹی میں زانوئے ادب تہہ کریں اور مثل سابق حضرت امام جعفر و صادق علیہ السلام کی شہادت ک ے موقع پر مجالس عزاء کا انعقاد کریں اور بہترین انداز سے ان ایّام کی تجلیل و تکریم کریں ۔

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

انہدام جنت البقيع كي برسي كے موقع پر مرجع عالیقدر حضرت آيت اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني قدس سرہ كے نوشتہ جات سے اقتباس

انہدام جنت البقيع كي برسي كے موقع پر مرجع عالیقدر حضرت آيت اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني قدس سرہ كے نوشتہ جات سے اقتباس

 

بسم  اللہ  الرحمن  الرحیم 
قال اللہ تعالیٰ : وَ ذَكِّرهُم بِأیّام اللهِ
 

بقیع مدینہ منورہ كی زمین كا ایك حصہ ہے جو اپنے دامن میں صدر اسلام كے بہت اہم وقائع كو سمیٹے ہوئے ہے ، ان چودہ صدیوں کے دوران  یہ سر زمین ہمیشہ سے ہمیں صدر اسلام كے وقائع كی یاد دلاتی رہتی ہے ۔ اس سرزمین پر موجود اسلامی آثار كی حفاظت اسلامی تبلیغ اور قرآن كریم كی حمایت كے مترادف ہے ۔ 
یہ آثار اور حرمین شریفین میں موجود دیگر آثار مسلمانوں كے درمیان ہمیشہ مقدس اور محترم رہے ہیں ۔ لوگ اس سرزمین پر سیرت نبوی ، جہاد پیغمبر ، غزوات ، اہلبیت اور اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو مشاہدہ كیا كرتے تھے اس لئے اس سرزمین كی عظمت بلند و برتر ہے ۔ 
حرمین شریفین كا چپہ چپہ بصیرت افروز اور ایمان پرور ہے ۔ پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كا وجود پر نور اور آپ سے متعلق دیگر تمام شخصیات ، آپ كا خاندان ،آپ كے دادا جناب عبدالمطلب ، آپ كے چچا جناب ابوطالب، جناب ابوطالب كی زوجہ فاطمہ بنت اسد جو آپ كی ماں كی جگہ تھیں ، مكہ میں مدفون ازواج مطہرات اور نبی كی زوجہ جناب خدیجہ ، سبط اكبر امام حسن علیہ السلام اور ان كی اولاد ، آپ كے ایك اور چچا جناب حمزہ  تاریخ اسلام كا اہم حصہ ہیں ۔ اسی طرح غزوۂ بدر و اُحُد ، مساجد اور بالخصوص  وہ مسجد جہاں پیغمبر(ص) كی ولادت ہوئی، كوہ حرا، غار حرا جہاں سے بعثت اور اسلامی تبلیغ كا آغاز ہوا ، جناب ام ہانی كا مكان جہاں سے معراج ہوئی اور دیگر دسیوں مقامات دین حنیف اسلام كی تاریخ كی نشاندہی كرتے ہیں ۔ حرمین شریفین كعبہ معظمہ اور مسجد النبی(ص) كے علاوہ دیگر تاریخی مقامات كے اعتبار سے اسلامی تاریخ كی عظیم پہچان ہے ۔

لیكن افسوس كہ ان میں سے اكثر مقامات كو منہدم كر كے تاریخ اسلام كو بہت بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے جس كی تلافی کرنا ناممكن ہے ۔
آج كی دنیا میں جہاں حكومتیں اور لوگ اپنی تاریخ اور تاریخی آثار پر فخر كیا كرتے ہیں ، ان لوگوں نے اپنی اس عظیم میراث كو برباد كر ڈالا یا ان كا نام بدل ڈالا ۔ كوئی بھی قوم اپنی تاریخ اور اپنی میراث كو اس طرح ضائع اور برباد نہیں كیا كرتی ہے ۔ 
قرآن مجید نے " بیت" كو آیات بینات اور مقام ابراھیم كے ذریعہ شرف و كرامت عطا كی ہے اور اسی نسبت سے مقام ابراھیم علیہ السلام كو مورد احترام قرار دیا ہے ۔ 
حرمین شریفین میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہیں ۔ وہ تمام مقامات جو حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے منسوب ہیں انھیں باقی ركھنا چاہئے اور زمانے كے ساتھ ساتھ وہ باقی رہیں اور جس طرح مقام ابراھیم مشہور ہے وہ بھی معروف و مشہور ہوں ۔ 
جس طرح توحید كے عظیم مبلغ جناب ابراھیم علیہ السلام كے نام سے وہ مقام زندہ و جاوید ہے اسی طرح نام محمد(ص) اور ان كی تبلیغ توحید اور ان سے منسوب دیگر مقامات كو بھی زندہ و جاوید ركھنا چاہئے اور رہے گا انشاء اللہ ۔ جس طرح مقام ابراھیم كو مسمار كرنا ، اس مقام پر نماز پڑھنے اور عبادت كرنے سے روكنا جائز نہیں ہے اسی طرح ان مقامات كی تعظیم و احترام سے روكنا بھی جائز نہیں ہے جو حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے منسوب ہیں ۔ 
مكہ و مدینہ كے دیگر مقامات جو دوسرے ناموں سے بھی منسوب ہیں وہ سب پیغمبر اسلام (ص) كے نام و یاد سے باقی ہیں اور یہ سارے مقامات مكمل دعوت توحید ہیں ، دین توحید كی تاریخ ان میں مضمر ہے اور ان كی بقا كلمہ توحید كی بلندی كا باعث ہے ۔ اگر جناب ابراھیم علیہ السلام كو اس ایك مقام كی بنیاد پر یاد كیا جاتا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو متعدد مقامات كی مناسبت سے یاد كیا جانا چاہئے چونكہ وہ سب ان كی زندہ نشانی ہیں ۔ 
تمام مسلمانوں پر فرض ہے كہ اسلامی مقامات كا احترام كریں اور انھیں اس طرح نہ چھوڑ دیں كہ یہ تاریخی میراث بھلا دی جائے یا انھیں ترك كر دیا جائے ۔ 
آٹھ شوال وہ دن ہے جس دن اس گروہ نے بقیع كو مسمار كرنا شروع كیا اور اہلبیت علیھم السلام كے نورانی مراقد كو برباد كیا اور اسلام كی اس نشانی كو اپنے ظلم و ستم كا نشانہ بنایا ، لہذا تمام مسلمان شیعہ اور سنی تمام مذاہب اس دن عالمی پیمانے پر سعودیہ كی اس جنایت كی مذمت كریں اور سب ایك ساتھ مل كر یہ مطالبہ كریں كہ ان قبور كی دوبارہ تعمیر ہو اور دین اسلام كی اس روشن نشانی كو پھر سے زندہ كریں ۔ 
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم 
 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

شب قدر؛ کمالِ انسانیت کی تاریخ کا آغاز

شب قدر؛ کمالِ انسانیت کی تاریخ کا آغاز
اه مبارک رمضان  کے متعلق آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی قدس سرہ  کے سلسلہ وار نوشتہ جات سے اقتباس

شب قد؛ شب نور ، شب رحمت ، شب نزول قرآن اور شب مَطلع خیرات و سعادات ہے ۔ شب قدر  برکتوں کے نزول کا وقت اور انسان کی نئی زندگی کا آغاز ہے  یہ انسانوں کے لئے تبدیلی کی شروعات اور حقیقی و واقع کمال کی تاریخ ہے ۔

* شب قدر؛ انسانی آزادی کی رات

یہ ایسی رات ہے  کہ اگر اس رات کا وجود نہ ہوتا تو انسانوں کی بدبختی کی  تاریک رات کبھی اختتام پذیر نہ ہوتی، نیک بختی کی صبح کا سورج طلوع نہ ہوتا اور انسان کبھی بھی طاقتوروں اور استعمار گروں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا تھا۔

شب قدر ایک مبارک رات  ہے ۔ یہ رات انسان کی آزادی ، انسانی حقوق اور عادلانہ حکومت کے اعلان کی رات ہے ۔ یہ رات غفلت  زدہ ، نادان ، فساد و تباہی اور گمراہی سے آلودہ اقوام وملل کے لئے صبح ہدایت و بیداری اور  آگاہی و فلاح ہے ۔ اس رات میں سب سے عظیم اور محترم آسمانی کتاب نازل ہوئی کہ جو تا ابد جاویداں ہے اور جو انسان کی رہنمائی اور سعادت کی ضامن ہے ۔ اس نے اپنی ملکوتی کرنوں سے دنیا سے شرک ، مجوس کی ثنویت ، عیسائیوں کی تثلیث ، یہودیوں کی خرافات اور بت پرستی کی ظلمت و تاریکی کا خاتمہ کر کے توحید اور خدائے یگانہ کی پرستش کو اجاگر کیا ۔ 

اگر یہ (مبارک) رات نہ ہوتی تو اپنی تمام تر اقدار ، علوم و معارف ، اخلاقیات ، عرفان اور فقہ کے باوجود بھی عظیم اسلامی تمدن کا وجود نہ ہوتا ۔ نیز اس کے دامن میں پرورش پانے والی اعلیٰ شخصیات بھی موجود نہ ہوتیں ۔

* انسانی سماج کی ترقی میں شب قدر کے اثرات

انسان نے نزول قرآن کے بعد جومنزلیں  طے کیں اور اس کے بعد بھی انسان جن منزلوں تک پہنچے گا ؛ وہ سب اس رات اور قرآن کی ہدایت کی برکات ہیں ۔

انسانی اہداف کی پیشرفت اور انسانی سماج کی ترقی میں اس مبارک رات کے اثرات کو آشکار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان عظیم تحریکوں اور انقلابات کو ملاحظہ کریں کہ جو قرآن کی آزادی بخش تعلیمات کے زیر سایہ انسان کو چودہ صدیوں میں علم و صنعت اور تمدن کے میدان میں حاصل ہوئی ہیں ۔ اور اس زندگی کا قرآن سے پہلے کی کم رنگ ، خاموش اور ساکن زندگی  سے موازنہ کریں تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ کس طرح اسلامی  جنبش و تحریک ، قیام مسلمین اور خدا کے عظیم پیغمبر حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت اصلاحات ، جنبش اور آزادی خواہانہ انقلابات کی ابتداء ہے کہ جس نے کاروانِ انسانیت کو سرعت اور تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ یہی انسان صدیوں سے سستی اور ناتوانی سے قدم اٹھا رہا تھا لیکن (اسلام نے ) اسے چودہ صدیوں میں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ اس کی فکر زمین ، چاند ،  ستاروں اور کہکشانوں کی حدوں سے بھی آگے بڑھ گئی ۔

* قرآن؛محور شب قدر

جی ہاں ! قرآن نے افکار کو بدل کر رکھ دیا ۔ اس نے انسان کی شخصیت کو محترم شمار کیا اور واضح طور پر انسانی حقوق کا اعلان کیا ، اس نے افراد کی پرستش اور انفرادی و شخصی طاقت کی مذمت کی ۔ اس نے بیت المال اور دوسرے امور میں امتیازات کی نفی کی اور سب کے لئے برابر شہری و مدنی حقوق قرار دیئے ۔ 

* شب قدر کے مخفی ہونے کا راز

قرآن نے شب قدر کو «لیلة المباركة» قرار دیا ہے اور اس کی شان میں ایک سورہ نازل فرمایا ہے اور اس رات کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ تعیینِ شب قدر میں اختلاف ہے لیکن معتبر روایات سے اخذ شدہ قابل اعتماد اور متحقق قول یہ ہے کہ شب قدر ؛ ماہ رمضان کی انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں رات سے خارج نہیں ہے ۔ اور قوی احتمال یہ ہے کہ شب قدر ؛ تئیسویں کی رات ہے ۔ بعض روایات جیسے «روایت جهنی» بھی اس قول کی تائید کرتی ہیں ۔ اور کچھ دوسری روایات سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ ان تین راتوں میں سے ہر ایک رات ؛ شب قدر ہے ۔

بہرحال اگر قطعی و یقینی طور پر شب قدر معلوم نہ ہو تو بھی اس کے محفی و نہاں ہونے میں حکمت اور مصلحت ہے ۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک مصلحت یہ ہو کہ مسلمان اس مہینے کی ہر رات اور کم سے کم ان تین راتوں میں خداوند متعال کی عبادت ، قرآن کریم کی تلاوت ، علوم و معارف کے حصول  اور حقائق کو جاننے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں ۔ اور اس پورے مہینے کو «ماه قرآن» قرار دیں ، جب کہ انیسویں ، اکیسویں اور تئیسویں کی راتوں کو صبح تک بیدار رہتے ہوئے توبہ و استغفار ، اصلاح و احوال ، تلاوت قرآن اور دعا و مناجات میں بسر کریں ۔

شب قدر کے مخفی ہونے میں ایک نکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر شب قدر اپنی تمام قدر و منزلت اور فضیلت کے ساتھ پہچانی جائے تو بہت سے لوگ صرف اسی رات میں عبادت کرنے پر اکتفاء کرتے اور یوں (ماہ مبارک رمضان کی ) دوسری راتوں میں دعا و مناجات کے فیوضات کی جانب توجہ نہ کرتے ۔ نیز ممکن ہے کہ یہ کبھی کسی کے لئے غرور اور تکبر کا باعث بنتی ؛ لہذا یہ رات اس لئے پنہاں اور مخفی ہے  کہ مؤمنین ہر وہ رات ذکر الٰہی ، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات میں بسر کریں کہ جس کے شب قدر ہونے کا احتمال ہو تا کہ وہ زیادہ برکات اور ثواب سے مستفیض ہو سکے ۔ اور زیادہ مشق کے ذریعے اس میں ملکات فاضلہ راسخ ہو سکیں ۔

 

* شب قدر سے معنویت کا حصول لازم ہے

پس شب قدر ایک سنہری اور قیمتی موقع ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس رات کو اسلامی حالات کے بارے میں تفکر اور قرآن مجید کی تعلیمات کے بارے میں توجہ کرتے ہوئے اسے غینمت شمار کریں اور اس رات میں قرآن اور اس کے احکام کے ساتھ اپنے رابطے کے بارے میں سوچیں ۔

ان مبارک اور با فضیلت راتوں میں شب بیداری کریں ؛ کیونکہ دعا اور حدیث کی کتابوں میں ان راتوں میں شب بیداری کی فضلت کے بارے میں بہت زیادہ روایات وارد ہوئی ہیں ۔ شب قدر ایسی رات ہے کہ جس میں خانۂ خدا کی طرف جانے والے ہر شخص کو معنوی سعادت اور تقرب کی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ 

* شب قدر ؛ امام زمانہ ارواحنا فداہ کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرنے کی رات

اس رات کے اہم ترین وظائف میں سے ایک یہ ہے کہ انسان ولیّ امر حضرت بقیة اللهعجّل الله تعالی فرجهالشریف کے ساتھ تجدید عہد کرے اور یہ معروف دعا «اَللهم كُن لِوَلِیكَ...» پڑھے ؛ کیونکہ شب قدر کا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے خاص تعلق ہے ۔ اس رات ملائکہ (اور روح الأمین) حضرت ولی الأمر صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر نازل ہوتے ہیں ۔قرآن و عترت اور کتاب مبین و امام مبین سے تمسک کا بھی یہی تقاضا ہے کہ مؤمنین شب قدر میں قرآن مجید اور روئے زمین پر خدا کی آخری حجت بقیۃ اللہ ، بقیۂ عترت ہادیہ اور اس آیۂ کریمہ «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِینَ اصْطَفَینا مِنْ عِبَادِنَا» کے حقیقی مصداق یعنی حضرت حجّة بن الحسن العسكریروحی و ارواح العالمین له الفدا سے متمسّك ہوں ۔ اور وہ یہ جان لیں کہ حدیث ثقلین جیسی متواتر روایات کی رو سے ضلالت و گمراہی سے امان اور نجات صرف قرآن و عترت سے متمسک ہونے کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ ان تمام انحرافات ، (خرافات)اور مختلف قسم کی سرگردانی سے نجات «قرآن و عترت» سے توسل و تمسک کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

ہم سب اس رات کو غنیمت جانیں ؛ معارف دین کے حصول ، توبہ ، تجدید عہد ، دعا ، اخلاقی خود سازی ، تذکیہ ٔنفس ، خدا پر ایمان کی تجدید ، حساب وکتاب اور معاد پر یقین ، دھوکہ دہی سے نیتوں کو پاک کرنے ، مسلمان بھائیوں کے بارے میں بغض و کینہ کو ختم کرنے ، (نیک مقدرات ) خیر و سعادت ، ہدایت اور تمام نوع انسانی کے لئے امن و امان کی دعا کریں اور سب سے بڑھ کر اس مبارک رات میں صاحب العصر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ؛ کیونکہ یہی ذات «بیمنه رزق الوری و بوجوده ثبتت الأرض و السماء» ہے ۔

امید ہے کہ ان مبارک راتوں میں خالصانہ دعاؤں کی برکت سے تمام اداروں اور شعبوں میں اسلامی جلوہ زیادہ سے زیادہ اجاگر ہو اور اس رات میں تمام اقتصادی ، سماجی و معاشرتی اور اخلاقی کمزوریاں برطرف ہو جائیں ۔

میں شب قدر کی مبارک راتوں میں شب بیداری کرنے والوں سے خاضعانہ طور پر استدعا کرتا ہوں کہ وہ رؤوف ، کریم ، عزیز ، مہربان ، محبوب قلب عرفاء ، ذخیرۂ انبیاء ، یوسف زہراء امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف متوجہ ہوں اور یہ راتیں صاحب العصر و الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی یاد ، دعائے فرج اور آپ کی عالمی ، عادلانہ (اور  آفاقی ) حکومت کے قیام کی دعا میں بسر کریں ۔ امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور اور فرج کے لئے دعا کریں تا کہ آپ سب کے لئے گشائش مہیا ہو ۔ ان مبارک راتوں میں سب مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ حضرت حجّة بن الحسن العسكری روحی و ارواح العالمین له الفدا کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ۔

آئیں اور بقیۃ اللہ الأعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے محکم و استوار عہد کریں کہ ہم سب اپنی زندگی امام کی رضا و خوشنودی  کی راہ میں بسر کریں گے اور مسلمانوں کی مشکلات کی وجہ سے امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے غم و حزن کو برطرف کریں گے ۔

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

انسانی حقوق کی سب سے معتبر قرارداد

انسانی حقوق کی سب سے معتبر قرارداد
رمضان المبارک کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی قدس سرہ کے سلسلہ وار نوشہ جات سے اقتباس

حضرت علی علیه السلام کی شخصیت کے متعلق لاکھوں کتابیں لکھی گئیں ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روز بروز اس بے نظیر وجود کی عظمت و وسعت مزید آشکار ہو رہی ہے ، اور یوں  آپ کی حیات طیبہ اور آپ کے فضائل کا مطالعہ کرنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے ک؛ جیسے یہ آپ کے  تازہ فضائل ہیں اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ  دوسرے افراد ان فضائل کو نہیں جانتے اور یہ ان پر آشکار نہیں ہیں ۔ان ایام کی مناسبت سے فضائل امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو کتاب نہج البلاغہ کا ایک حصہ ہے:

*انسانیت کے افتخار کی سند

اسلامی سماج اور بالخصوص شیعت کے افتخارات کے اسناد میں سے ایک سند امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا مالک اشتر علیہ الرحمہ کو لکھا گیا وہ عہد نامہ ہے جو تقریباً چودہ سو سال گذرنے کے باوجود بھی انسانی حقوق کا معتبر اعلامیہ ہے۔اس عہد نامے کے ہر جملے اور عبارت میں حکومت و مملکت کے مختلف پہلوؤں،سماج کے حقوق پر توجہ کے متعلق اعجاز آمیز اور بہترین مطالب کا بیان ہے۔

ماضی اور حال میں عظیم حکماءاور دانشوروں نے اس عہدنامہ کا تجزیہ کیا  اور اس کی متعدد شرح بیاں کیں منجملہ شرح «توفیق الفكیكی» کہ جو «الرّاعی والرّعیّه» کے نام سے ہے۔

 * کتاب ’’الإمام علی صوت العدالة الانسانیة‘‘

میں حسب معمول ایک دن استاد بزرگ آیت الله العظمی جناب آقا بروجردی قدّس سرّه کی خدمت میں مشرّف ہوا ، جب کہ میں علم کے اس سرچشمہ سے استفادہ کرتا تھا۔استاد بزرگوار نے مجھے ایک خط دیا کہ جو اسی دن آپ کو موصول ہوا تھا۔میں نے وہ خط لیا اور اس کا مطالعہ کیا۔مجھے اس خط کے جو نکات یاد ہیں ، بطور خلاصہ اس مضمون میں پیش خدمت ہیں:

 * جرج جرداق  کا استاد محترم کو کتاب ہدیہ کرنا

ایک عیسائی شخص،مصنف اور لبنانی استاد «جورج جرداق» نے آیت الله کی خدمت میں یوں  لکھا تھا:میں نے امام علی علیه السّلام کی تاریخ زندگی کا بہت مطالعہ کیا  اور یہ حقیقت دریافت کی کہ آج کی متمدن دنیا میں قبول کئے جانے والے تمام اصول ؛ جن پر ہر قوم و ملت کا اتفاق ہے اور جو انسانی زندگی کی ترقی کی بنیاد تصور کئے جاتے ہیں وہ سب اصول و قوانین امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زندگی،احکام اور آپ کی راہ و روش سے استفادہ کئے گئے ہیں۔لیکن علمائے اسلام نے ان اصول کی اس طرح سے تشریح نہیں کی جس طرح کرنی چاہئے تھی(البتہ یہ ان کا اپنانظریہ تھا)۔مغربی علماء نے بھی اس بات کو چھپایا ہے کیونکہ وہ یہ قبول نہیں کرنا چاہتے تھے کہ مشرق کی ایک شخصیت ان تمام اصول کی مظہر و مبیّن ہے ۔اور میں نے  یہ ضروری نہیں سمجھا کہ ایسی شخصیت مشرق میں ہو اور اس کی شأن و منزلت اور اس کا حق مجہول رہے ،لہذا میں نے یہ کتاب لکھی اور چونکہ میں عیسائی ہوں اس لئے کوئی مجھ پر تعصب کی تہمت نہیں لگا سکتا۔

نیز انہوں نے لکھا کہ میں نے آپ کو سب سے زیادہ شائستہ شخصیت پایا کہ میں آپ کو یہ کتاب ہدیہ کروں لہذا میں آپ کو یہ کتاب ہدیہ کرتا ہوں اور آپ مطالعہ کرنے کے بعد تصدیق کریں کہ: اِنّی اَنْصَفْتُ الْاِمامَ بَعْضَ الاِنْصافِ.

مرحوم استاد اس کتاب کے منتظر تھے جو اب تک موصول نہیں ہوئی تھی ۔عرض کیا کہ ان‌شاء الله تعالی کتاب موصول ہو جائے گی یہ مطالب کے لحاظ سے اس خط میں بھی کچھ اعترافات تھے جو اہم سند ہیں۔

کچھ مدت کے بعد وہ کتاب موصول ہو گئی جس کا نام تھا«اَلامام علیّ صَوتُ الْعدالَةِ الانسانِیَّه» ،جو ایک جلد میں چھپی تھی اور بعد میں وہ موجودہ صورت میں کئی جلدوں میں شائع ہوئی۔

حضرت آیت الله کو کچھ فرصت ملی تو آپ نے اس کتاب کا مطالعہ کیااور مجھے بھی یہ حکم فرمایا کہ میں شروع سے آخر تک اس کتاب کا مطالعہ کروں اور جہاں بھی کوئی اشتباہ دیکھوں اسے لکھ لوں۔

میں نے استاد کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور موارد لکھ کر استاد کی خدمت میں پیش کئے۔

* انسانی حقوق کے اعلانیہ کا مالک اشتر کے عہد نامہ سے موازنہ

میں نے اس کتاب میں جو بہترین مطالب پڑھے ان میں سے ایک مالک اشتر کا عہد نامہ اور اس کا انسانی حقوق کے اعلامیہ سے موازنہ تھا۔

اس عیسائی دانشور نے انسانی حقوق کے اعلامیہ کو لکھا  اور اس کی ہر شق کے مقابل میں عہد نامہ کا ایک جملہ لکھا اور کہا:یہ انسانی حقوق کا اعلامیہ ہے  اور یہ امیر المؤمنین کا مالک اشتر کے لئے عہد نامہ ہے۔ہم دونوں کو ملاحظہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تمام موارد میں عہد نامہ کے جملات کامل تر اور رسا تر ہیں؛اور دونوں میں یہ فرق ہے کہ:

۱ ۔ انسانی حقوق کا اعلامیّه اس زمانے میں لکھا گیا کہ جسے آج کی اصطلاح میں ترقی یافتہ زمانہ کہا جاتا ہے اور کئی مرتبہ تکمیل کرنے کے بعد وہ موجودہ صورت میں تشکیل دیا گیا لیکن علی علیہ السلام نے یہ عہد نامہ تیرہ صدیاں پہلے لکھا کہ جب یہ حقوق مطرح نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ان کی جانب کوئی توجہ کی جاتی تھی ۔

۲ ۔ انسانی حقوق کی اس قرارداد و اعلامیہ اور اس کے مضمون ،الفاظ اور اس کے متن کے متعلق مختلف ممالک کے علمائے حقوق اور دانشوروں نے اپنے اپنے نظریات پیش کئے  اور پھر ان کا تجزیہ و تحلیل کیا گیا  اور اخبارات کے ذریعہ عام لوگوں کے افکار تک پہنچایا  اور پھر مل کر ایک دوسرے کی مدد سے اسے لکھا گیا۔ لیکن امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کو مصر کی حکومت کے لئے معین فرمایا تو آپ نے ذاتی و انفرادی طور پر کسی سے مشورہ کئے بغیر یہ عہد نامہ لکھا۔

 ۳ ۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے جب یہ اعلامیہ لکھا تو گویا انہوں نے دنیا والوں پر اور بالخصوص ضعیف و کمزور، پسماندہ ،استعمار زدہ  اور محروم اقوام و ملل پر احسان کیا اور وہ اس بات پر فخر کرتے تھے لیکن جب امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے یہ عہد نامہ لکھا تو کسی پر احسان نہیں جتلایا بلکہ آپ اسے اپنی ذمہ داری کی ادائیگی سمجھتے تھے۔

۴ ۔ انسانی حقوق کا اعلامیہ پیش کرنے والے خود کو اس کے بانی سمجھتے ہیں لیکن وہ خود ہی اس کے احترام کے قائل نہیں ہیں۔اور جب کسی چیز سے ان کافائدہ و منافع وابستہ ہو تو وہ اس کی مختلف شقوں کو پامال کرتے ہوئے اس پر عمل نہیں کرتے۔

لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ امام علی علیہ السلام خود سب سے پہلے اس عہد نامہ پر عمل پیرا ہوئے اور آپ نے کبھی بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی ۔امیرالؤمنین علی علیہ السلام کے متعلق جس قدر بھی گفتگو کی جائے لیکن پھر بھی وہ انتہا تک نہیں پہنچ سکتا۔ سلام الله و صلواته علیه.

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

اسرار صلح امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام

hj
اسرار صلح امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام

اسرار صلح امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

امام حسن علیہ السلام كی صلح ایك الٰہی فریضہ اور شرعی وظیفہ تھی جس كو ان حالات میں امام حسن علیہ السلام نے قبول كیا بہ الفاظ دیگر اس زمانے كے حالات نے امام كو صلح كرنے پر مجبور كیا ،اہلسنت كے یہاں پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی ایك صحیح حدیث میں اس بات كی طرف اشارہ موجود ہے۱ كہ پیغمبر(ص) نے اس واقعہ كی خبر دی تھی اور اس میں امام حسن علیہ السلام كی سیادت اور اصلاح طلبی كی جانب بھی اشارہ كیا تھا ۔ 
ایسے حالات میں جب كہ صلح عام لوگوں كے حق میں ہو ،اگر طرفین ہٹ دھرمی سے كام لیں اور كینہ و حسد كا مظاہرہ كریں تو كبھی بھی صلح برقرار نہیں ہو سكتی ہے ، صرف اس صورت میں صلح واقع ہو سكتی ہے جبكہ طرفین حسن نیت ركھتے ہوں یا كسی ایك طرف كی نیت اچھی ہو اور وہ معاشرے كی مصلحت كو مد نظر ركھتا ہو اور اسے ذاتی مصلحت اور فائدے پر ترجیح دے، مد مقابل چاہے جتنا ہٹ دھرمی دكھائے وہ ایثار و فداكاری كا مظاہرہ كرے۔
امام حسن علیہ السلام اور معاویہ كے درمیان ہونے والی جنگ میں یقینا معاویہ ایسا نہ تھا جو مسلمانوں كی مصلحت كے پیش نظر حكومت ، خلافت اور اپنے ناپاك عزائم سے دستبردار ہو جاتا اور خلافت كو اس كے اہل كے سپرد كر دیتا ۔ وہ اپنے ناپاك اہداف تك پہنچنے كے لئے نہ خدا و رسول كو نظر میں لاتا نہ ہی مصلحت اسلام و مسلمین كو خاطر میں لاتا تھا بلكہ ہر چیز كو اپنی ریاست طلبی پر قربان كر دیا كرتا تھا ، اگر اسے اہل بیت علیہم السلام ، ان كے چاہنے والوں یا تمام مسلمانوں كا قتل بھی كرنا پڑتا تو وہ حكومت اور ریاست كی خاطر اس كام سے بھی دریغ نہ كرتا ۔ اگر چہ وہ كبھی كبھی چرب زبانی سے كام لیتا تھا لیكن اگر حكومت كو خطرہ لاحق ہو جاتا تو وہ اس چرب زبانی كو بھی پس پشت ڈال دیتا تھا ۔ 
ایسے حالات میں یقینا جو مسلمانوں كی مصلحت كی رعایت كرسكتا تھا وہ امام حسن علیہ السلام تھے ۔
امام حسن علیہ السلام كی یہ حكمت عملی ،امام كے منصب امامت اور آپ كے سوابق كو نظر میں ركھتے ہوئے ،قابل تعجب نہ تھی ،اگر امام مسلمانوں كی مصلحت كو مد نظر نہ ركھے تو اور كون اس كی رعایت كرے گا ؟ 
كسی بھی صورت معاویہ اور اس كے ماں باپ اور خاندان كے سوابق كو ذہن میں ركھتے ہوئے اس سے یہ توقع نہیں كی جا سكتی تھی كہ وہ مسلمین كے مصالح كی رعایت كرے گا ۔ 
اس كے برخلاف امام حسن علیہ السلام سے اس كے سوا اور كوئی توقع نہیں كی جا سكتی تھی كہ وہ مصلحت مسلمین سے ہٹ كر كسی اور چیز كو نظر میں ركھیں گے ۔ چونكہ آپ آغوش نبوت كے تربیت یافتہ اور بیت وحی كے پروردہ تھے جہاں ملائكہ كا نزول ہوتا ہے اور چار جانب سے آپ كے نانا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كا نور نبوت، آپ كے باپ علی علیہ السلام كا نور امامت اور آپ كی والدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا كا نور عصمت آپ كو اپنے حصار میں لئے ہوئے تھا۔ آپ كا سینہ علوم پیغمبر(ص) كا مخزن تھا ،وحی كے نازل ہونے پر آپ سب سے پہلے ندائے وحی سننے والوں میں سے تھے اور آپ نے الٰہی كلمات كی تعلیم اپنے جد رسول خدا(ص) سے حاصل كی تھی ۔ 
پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ كو سیادت ، سرداری اور امت كی رہبری سے نوازا تھا اور اسلام كی بقا كی خاطر آپ كو اس جانثاری اور فداكاری كے لئے آمادہ كیا تھا اور آپ كے صلح كی بركات ،اہمیت اور عظمت كی قدردانی كی تھی ۔ 
پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعدد مقامات پر امام حسن علیہ السلام كی روش كی تائید كی تھی جس طرح آپ كے باپ علی علیہ السلام كی مارقین و قاسطین و ناكثین كے ساتھ جہاد كرنے كی روش كو سراہا تھا اور امام حسین علیہ السلام كے تاریخی قیام اور كربلا میں آپ كی جانثاری او فداكاری كی تائید كی تھی ۔ اسی طرح آپ (ص) نے تمام ائمہ علیھم السلام كے زمانے میں واقع ہونے والے حوادث كی پیشین گوئی كرتے ہوئے ائمہ علیہم السلام كی روش كی تائید كی تھی ۔ 
لہذا یہ بات ثابت ہے كہ ان حالات میں امام حسن علیہ السلام كی صلح آپ كی شرعی تكلیف تھی اور یہ صلح آپ كے والد كے جہاد كی طرح اسلام و مسلمین كے حق میں تھی ۔
۱۔ اس حدیث كو بخاری نے چار جگہ ،ابوداؤد ،نسائی اور ترمذی نے سنن میں اس حدیث كو ذكر كیا ہے كہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ابْنِى هَذَا سَیِّدٌ یُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى یَدَیْهِ فِئَتَیْنِ عَظِیمَتَیْنِ، میرا یہ فرزند سید و سردار ہے ،خداوند اس كے ذریعہ مسلمانوں كے دو عظیم گروہوں میں صلح برقرار كرے گا۔ 
اقتباس از كتاب" رمضان در تاریخ" تالیف حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

سلطان صلح و ادب حضرت امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام كي ولادت باسعادت كے موقع پر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني قدس سرہ كي تحریر سے اقتباس

سلطان صلح و ادب حضرت امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام كي ولادت باسعادت كے موقع پر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني قدس سرہ كي تحریر سے اقتباس

 

اشارہ : نیمہ ماہ مبارك رمضان اسوہ حلم و صبر و صلح حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام كی ولادت كا دن ہے ۔ 
بہت سے لوگ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام كی كما حقہ معرفت نہیں ركھتے ہیں اور آج بھی آنحضرت علیہ السلام كی شان و منزلت مجہول ہے ۔ 
مرجع عالیقدر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی مد ظلہ العالی نے اس مختصر مضمون امام علیہ السلام كے فضائل كے كچھ گوشہ بعض اہلسنت كی كتابوں كے حوالے سے ذكر كیا ہے تاكہ یہ مختصر فضیلتوں كے اس سمندر میں غوطہ ور ہونے كے لئے اور امام كی كما حقہ معرفت حاصل كرنے كے لئے تمہید بن سكے انشاء اللہ تعالیٰ ۔۔۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام كی شخصیت اتنی باعظمت ہے كہ مجھ جیسے حقیر كے بس میں نہیں كہ میں ان كی توصیف میں كوئی مقالہ یا كتاب لكھ سكوں ۔ 
شیعہ علماء اور دانشوروں كے علاوہ بعض اہلسنت كے بزرگ علماء نے بھی امام حسن علیہ السلام كے بارے میں كتابیں لكھی ہیں اور مختلف مقامات پر آپ كے فضائل و مناقب كو اپنی تفسیر ، كتب احادیث، اخلاقی كتب اور تراجم و رجال میں آپ كے فضائل و مناقب كو ذكر كیا ہے ۔ "صحیح بخاری" ، "صحیح مسلم"، " سنن ترمذی" ، " سنن ابن ماجہ " ، " طبقات ابن سعد" ، " سنن ابی داؤد " ، " خصائص نسائی " ، " جامع الصغیر" ، " مصابیح السنۃ" ، "اسعاف الراغبین" ، "نورالابصار" ، " تذكرۃ الخواص" ، " الاتحاف" ، " كفایۃ الطالب" ، " شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید" ، "مرآۃ الجنان" ، " ملتقی الاصفیاء، " نظم درر السمطین" ، " فراید السمطین" ، " سیرہ حلبیہ" ، " اسد الغابہ" ، " الاستیعاب" " الاصابۃ" " تاریخ الخلفاء، " الفصول المہمہ" وغیرہ جیسی كتابوں میں آپ كا ذكر پایا جاتا ہے ۔ 
ہم یہاں پر اختصار كی رعایت كرتے ہوئے "توفیق ابوعلم"۱كی كتاب " اہل البیت"(صفحات ۲۶۳۔ ۴۱۵) كے كچھ حصہ كا ترجمہ بعض اضافات كے ساتھ پیش كر رہے ہیں ۔ یہ كتاب سن ۱۳۹۰ہجری میں مصر میں لكھی گئی ہے ۔

لا تعداد فضائل 
شیعہ اور اہلسنت دونوں كا یہ عقیدہ ہے كہ آنحضرت اصحاب كساء میں سے ہیں جن كی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی ہے اور متواتر حدیث " حدیث ثقلین" كے مطابق آپ قرآن كے ہم پلہ اور ان چار لوگوں میں سے ہیں جنہیں پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہمراہ نجران كے نصاریٰ سے مباہلہ كرنے كے لئے لے گئے تھے ۔ 
" اسامہ بن زید" نے پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت كی ہے كہ آپ نے فرمایا : یہ دونوں (حسن و حسین) میرے فرزند ، میری بیٹی كے بیٹے ہیں ، خدایا! میں انھیں دوست ركھتا ہوں تو بھی انھیں دوست ركھ، اور جو انھیں دوست ركھے انھیں بھی دوست ركھ ۔ 
"زید بن ارقم " سے روایت ہے كہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : 
مَنْ اَحبَّ هوُلاءِ فَقَدْ اَحَبَّنی، وَ مَنْ اَبْغَضَ هؤُلاءِ فَقَدْ اَبْغَضَنی ( كشف الغمہ ، ج/۲، ص/۱۴۹ )
جو بھی انھیں ( علی ، فاطمہ ، حسن و حسین) كو دوست ركھے وہ مجھے دوست ركھے گا اور جو ان سے دشمنی كرے گا وہ مجھ سے دشمنی كرے گا ۔ 
"عایشہ " سے منقول ہے : 
اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ كانَ یَأخُذُ حَسَناً فَیَضُمُْهُ اِلَیهِ ثُمَّ یَقُولُ: «اللّهُمَّ إنَّ هذا ابْنی وَ اَنَا اُحِبُّهُ فَاَحِبَّهُ وَ اَحِبَّ مَنْ یُحِبُّهُ ،۲
انس بن مالك كہتے ہیں : حسن علیہ السلام پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی خدمت میں آئے ، میں نے چاہا كہ انھیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور كر دوں لیكن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : افسوس ہے تم پر اے انس ، میرے بیٹے اور میوہ دل كو چھوڑ دو جو بھی اسے اذیت كرے گا وہ مجھے اذیت كرے گا اور جو مجھے اذیت دے گا وہ خدا كو اذیت دے گا ۔ 
مكارم اخلاق 
امام حسن علیہ السلام كی پرورش خانہ وحی میں ہوئی مكتب توحید اور پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی آغوش رحمت میں تربیت پائی ۔
آپ خوش رفتاری اور حسن اخلاق اور نیك كرداری میں نمونہ تھے ، آپ كی غیر معمولی محبوبیت كا ایك سبب آپ كا كریمانہ اخلاق تھا جس كی بنیاد پر سبھی آپ كے ثناخواں بن جاتے تھے ۔ 
ادب ، حلم ، فصاحت ، صداقت ، سخاوت ، شجاعت ، تقویٰ ، عبادت ، زہد ، تواضع، اور دیگر صفات حمیدہ آپ كے اندر یكجا تھیں اور اخلاق محمدی(ص) آپ كے كردار سے جھلكتا تھا ۔ 
آنحضرت كے صفات حمیدہ اور اخلاق كریمہ كے چند نمونہ ہم اس مضمون كی زینت كے لئے ذكر كر رہے ہیں ۔ 
 عذاب الٰہی كا خوف 
امام حسن علیہ السلام اپنے زمانے كے سب سے بڑے عبادتگذار ، زاہد اور فاضل انسان تھے ۔ حج كے لئے نكلتے تو پیادہ چلتے اور كبھی كبھی پابرہنہ حج كے لئے نكلتے تھے ۔ وضو كرتے وقت بدن كانپنے لگتا اور چہرے كا رنگ زرد ہو جاتا تھا ۔ كسی بھی وقت ذكر خدا ترك نہیں كرتے تھے ، متقی پرہیزگار ، حلیم و بردبار تھے اور خدا كا خوف دل میں ركھتے تھے ۔ 
روایت میں ہے كہ ایك شخص نے آنحضرت كے گریہ و مناجات كو سنا تو كہنے لگا : كیا آپ كو عذاب الٰہی سے ڈر لگتا ہے جبكہ وسیلہ نجات آپ كے پاس ہے ؟ آپ پیغمبر(ص) كے فرزند ہیں ، حق شفاعت آپ كے پاس ہے ، اور رحمت الٰہی عام ہے اور ہر شئی كو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ 
امام نے جواب دیا : تم نے كہا كہ میں رسول خدا كا فرزند ہوں تو خداوند عالم كا ارشاد ہے : 
فَاِذا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلا اَنْسابَ بَیْنَهُمْ (سورہ مومنون، آیت/۱۰۱)
پھر جب صور پھونكا جائے گا تو رشتہ داریاں نہ رہ جائیں گی ۔
شفاعت كے لئے خداوند عالم فرماتا ہے : 
مَنْ ذَاالَّذی یَشْفَعُ عِنْدَهُ اِلا بِاِذْنِهِ (سورہ بقرہ، آیت/۲۵۵)
كون ہے جو اس كی بارگاہ میں اس كی اجازت كے بغیر سفارش كرسكے
رحمت الٰہی ہر چیز كا احاطہ كئے ہوئے ہے ، خداوند عالم كا ارشاد ہے : 
فَسَاَكْتُبُها لِلَّذینَ یَتَّقُون (سورہ اعراف ،آیت/۱۵۶) 
جسے میں عنقریب ان لوگوں كے لئے لكھ دوں گا جو خوف خدا ركھنے والے ہیں ۔
اس كے بعد حضرت نے فرمایا: 
فَكَیْفَ الْاَمانُ یا أخَا الْعَرَبِ ،

اس طرح كس كے لئے امان ہے اے بھائی ۔ 
 زہد امام 
امام كے زہد كا یہ عالم تھا كہ دنیا اور اس میں پائی جانے والی تمام نعمتوں سے وابستگی كے تمام اسباب كو خیرباد كہہ دیا تھا اور صرف آخرت اور ابدی منزل كی جانب توجہ تھی جیسا كہ خود آپ نے فرمایا 

) مَنْ عَرَفَ اللهُ اَحَبَّهُ، وَ مَنْ عَرَفَ الدُّنْیا زَهَّدَ فیها، وَ الْمُؤْمِنُ لایَلْهُو حَتّی یَغْفُلَ، اِذا تَفَكَّرَ حَزَنَ " ( اہل البیت، توفیق ابوعلم، ص/۲۹۶ 
ترجمہ : جو خدا كو پہچان لے گا اس سے محبت كرے گا جو دنیا كو پہچان لے گا اس سے بے رغبت ہو جائے گا ، مومن لہو لعب میں مشغول ہو كر غافل نہیں ہوتا اور جب لہو و لعب كے بارے میں سوچتا ہو تو غمگین ہو جاتا ہے ۔ 
امام علیہ السلام نے اسلام و مسلمین كی مصلحت كی خاطر دنیا كی حكومت سے چشم پوشی كیا ۔ 
جب بھی امام موت كے وقت انسان كی حالت كو ذہن میں لاتے تو ناخواستہ طور پر رونے لگتے ، اور جب بھی حشر و نشر اور پل صراط سے گزرنے كا خیال آتا تو گریہ كرتے ، اور جب خداوند عالم كے سامنے حساب و كتاب كے لئے حاضری كا تصور كرتے تو نالہ و شیون كرتے كرتے بیہوش ہو جاتے تھے ۔ 
 رحمت الٰہی كی نمایش 
امام حسن علیہ السلام اپنے جد امجد پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی طرح رحمت الٰہی كا مظہر تھے جو ناامید اور غمناك دلوں كو امید و رحمت سے بھر دیتے تھے ، كمزور لوگوں كو دیكھنے كے لئے جاتے تھے ، بیمار كی عیادت كرتے تھے ، تشییع جنازہ میں شریك ہوتے تھے ، مسلمانوں كی دعوت قبول كرتے تھے اور ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا كہ كہیں كوئی آپ سے رنجیدہ خاطر نہ ہو جائے ، آنحضرت كی جانب سے كسی كو كوئی تكلیف نہیں ہوتی تھی ، فقیروں كے ساتھ بیٹھتے تھے اور برائی كا جواب اچھائی سے دیا كرتے تھے ۔ 
 حلم امام 
امام حسن علیہ السلام انسان كامل كا حقیقی مصداق اور اخلاق پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كا كامل نمونہ تھے ، غیض و غضب كے عالم میں كنٹرول نہیں كھوتے تھے اور زندگی كی مشكلات آپ كو پریشان نہیں كرتی تھی ، غصہ میں كوئی كام انجام نہیں دیتے تھے ، اور آپ كا ہر عمل ان آیات كا بارز مصداق تھا 
وَ الْكاظِمینَ الْغَیْظَ وَالْعافینَ عَنِ النّاسِ وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنینَ (سورہ آل عمران ، آیت/ ۱۳۴) 
ترجمہ: اورغصّہ كو پی جاتے ہیں اور لوگوں كو معاف كرنے والے ہیں اور خدا احسان كرنے والوں كو دوست ركھتا ہے
وَلا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلاَالسَیِّئَةُ، اِدْفَعْ بِالَّتی هِی اَحْسَنُ (سورہ فصلت، آیت/۳۴) 
ترجمہ: نیكی اور برائی برابر نہیں ہوسكتی لہٰذا تم برائی كا جواب بہترین طریقہ سے دو ۔ 
آنحضرت اپنے دشمنوں كی جانب سے ہونے والے ہر اقدام كا جواب صبر و عفو كے ذریعہ دیتے تھے ، یہاں تك كہ مروان بن حكم جو كہ اہلبیت علیھم السلام كا خبیث ترین دشمن ہے ، اس نے امام كو حلم اور بردباری كا پہاڑ كہا ہے ۔ 
وہ اپنے جد امجد كی طرح حلم و صبر و عفو میں نمونہ عمل تھے ، تاریخ كے دامن میں آپ كے اخلاق كے بہت ہی نادر نمونہ محفوظ ہیں جو اس بات پر دلالت كرتے ہیں كہ آپ صاحبان اخلاق كے سردار اور عالم اسلام میں ادب و اخلاق كی بنیاد ركھنے والے ہیں ۔ 
بے نظیر سخاوت 
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام كا كرم اور سخاوت بھی عجیب تھا ، حقیقی سخاوت كا مطلب نیك نیتی سے نیك كام كرنا اور احسان كے ارادے سے احسان كرنا ہے، یہ صفت امام حسن علیہ السلام كا امتیاز تھی اور خدا اس صفت كو دوست ركھتا ہے ۔ 
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام كے اندر یہ صفات بحد كمال موجود تھیں اس طرح كہ آپ كو " كریم اہل البیت" كا لقب دیا گیا ہے ۔ 
امام حسن علیہ السلام اپنے جود و سخاوت ، غریبوں كی مدد اور امت كی مدد اور راہ خدا میں انفاق كی وجہ سے عام شہرت كے حامل تھے ۔ 
امام كی نظر میں مال دنیا كی كوئی قیمت نہ تھی ، اور اسے كوئی اہمیت نہ دیتے تھے مگر یہ كہ اس كے ذریعہ كسی بھوكے كا پیٹ بھر جائے ، یا كسی بے لباس كو لباس مل جائے ، یا كسی مصیبت زدہ كے كام آ جائے یا اس مال كے ذریعہ كسی قرضدار كا قرض ادا ہو جائے ۔ 
سخاوت امام كی ذات كا حصہ تھی ، اگر چہ امام كے دروازے پر محتاج اور نادار افراد كا سیلاب امنڈ آتا تھا لیكن آپ كی باران سخاوت ان سب پر برستی اور كوئی سوالی آپ كے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا ۔ 
آنحضرت سے پوچھا گیا : كس طرح آپ كے در سے كوئی سائل خالی ہاتھ نہیں جاتا ہے ؟ 
جواب دیا : میں خود درگاہ الٰہی كا سائل ہوں ، مجھے شرم آتی ہے كہ خود سائل ہو كر كسی سائل كو خالی ہاتھ لوٹا دوں ۔ 
 لوگوں سے محبت 
امام علیہ السلام شیرین بیان ، خوش رفتار اور لوگوں كی نظر میں محبوب تھے ، بوڑھے ، جوان سبھی آپ كو آپ كے اخلاق حمیدہ اور پسندیدہ صفات كی وجہ سے دوست ركھتے تھے ، ہمیشہ لوگوں كو ہدایا اور بخشش سے نوازتے چاہے لوگ تقاضا كریں یا نہ كریں ۔ 
نماز صبح كے بعد طلوع آفتاب تك تعقیبات میں مشغول رہتے ، پھر جن كے پاس جانا ہوتا وہاں جاتے اور ان كے ساتھ مہر و محبت كا مظاہرہ كرتے ، اور نماز ظہر ادا كرنے كے بعد مسجد میں بیٹھتے اور لوگوں كو علم و ادب كی تعلیم دیتے تھے ۔ 
یہ ہے امام حسن علیہ السلام كے فضائل و مناقب كے بحر ذخار كا ایك قطرہ كہ جس سے زیادہ كچھ بیان كرنے كی طاقت ہم میں نہیں ہے ، كہ جتنا بھی بیان كیا جائے كم ہے اور الفاظ ان كی توصیف سے عاجز ہیں ۔ 
صَلَّی اللهُ عَلی جَدِّه وَ عَلی اَبیهِ وَ اُمِّهِ وَ عَلَیْهِ وَ عَلی اَخیهِ، وَ عَلَی الاَْئِمَّةِ التِّسْعَةِ مِنْ ذُرِّیَّةِ الْحُسَیْنِ عَلَیْهِمُ السَّلامِ ۔ 
 

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

وفات حضرت خدیجہ

وفات حضرت خدیجہ
آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب ’’رمضان در تاریخ ‘‘ سے اقتباس

 

قال رسول‌الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:

«اُمِرْتُ اَنْ اُبَشِّرَ خَدیجَةً بِبَیْتٍ مِنْ قَصَبٍ لا صَخَبٌ فیهِ وَلا نَصَبٌ»؛(۱)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: «مجھے حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی بشارت دوں کہ جو سونے سے بنا ہوا ہے اور اس میں کوئی غم و اندوہ نہیں ہے»۔

ہجرت سے تین سال قبل اور بعثت کے دسویں سال ماہ مبارک رمضان میں مؤمنہ اور فداکار خاتون امّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنی پینسٹھ سال کی بابرکت عمر کے بعد رحلت فرما گئیں۔ شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ دردناک واقعہ دس ماہ رمضان کو پیش آیا۔(۲)   رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے آپ کو حجون مکۂ مکرمہ میں دفن کیا ۔ آپ کی رحلت کی وجہ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس قدر محزون اور غمگین ہوئے کہ آپ نے اس سال کو «عامُ الْحُزْن» کا نام دیا ۔ (۳)

حضرت خدیجہ علیہا السلام کی شخصیت

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ گھر اور خاندان انسان کی تربیت کا محیط ہے ؛ جو انسان کی جسمانی و فکری پرورش اور شخصیت پر اثرانداز ہوتا ہے کہ جو انسان کو اصیل ، ثابت قدم اور پائیدار بناتا ہے ۔

ماں باپ اور دودھیال و ننیہالکی جانب سے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا خاندان «جزیرة العرب» کے اصیل اور صاحب شرافت و سیادت سے تھا ۔

خداوند متعال نے چاہا  کہ یہ بے مثل و بے مثال بی بی حرم نبوت اور ولایت و امامت کے گیارہ اختر تاباں کی ماں ہو ۔ آپ عقل و فہم ، ادب و حكمت اوربصیرت و معرفت کے لحاظ سے ممتاز اور نابغہ تھیں ۔ آپ کمال و نبوغ اور فہم و بیس کا  ایسا برجستہ نمونہ تھیں کہ عورتوں اور مردوں میں آپ جیسی ہستی بہت کم ملتی ہے ۔  عفّت، نجابت، طهارت، سخاوت، حسن معاشرت دلسوزی اور مهر و وفا آپ کی برجستہ صفات میں سے ہیں ۔

زمانۂ جاہلیت میں جناب خدیجہ کو طاہرہ  (۴)اور سیّدۂ نساء قریش کہا جاتا تھا (۵)اور اسلام میں آپ ان چارخواتین  میں سے قرار پائیں کہ جو جنت کی تمام عورتوں پر فضیلت اور برتری رکھتی ہیں اور آپ کی عزیز و ارجمند بیٹی کے سوا کسی کو یہ مقام و فضیلت حاصل نہیں ہے ۔(۶)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے حضرت خدیجہ علیہا السلام ایک عظیم نعمت اور خداوند متعال کی واسع رحمتوں میں سے ایک رحمت تھیں ۔

ایک شوہر کے لئے اور بالخصوص اگر وہ گھر سے باہر اہم سماجی امور میں مصروف ہو اور اس کے عظیم مقاصد ہوں، نیز وہ جنگ اور جہاد کے فرائض بھی انجام دے رہا ہو اور اسے دشمنوں اور مخالفین کی جانب سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو تو ایک دلسوز، مہربان، عقل مند، اور ہوشیار بیوی ہی اس کے دل کو آرام اور روح کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور اس کی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ختم کرنے اور اس کے لئے استقامت اور ثابت قدمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اگر شوہر گھر سے باہر دشمنوں سے برسر پیکار ہو اور اسے دشمن کی طرف سے وحشیانہ حملوں، تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہو اور گھر میں بھی نادان، بد اخلاق، ڈرپوک اور منہ پھٹ بیوی کا سامنا کرنا پڑے کہ جو اسے اس کے ہدف و مقصد سے دور کرے، اس کی سرزنش کرے، جنگ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے اور کہے کہ ہر دن جاہل لوگ اس کے شوہر پر سبّ و شتم کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ جس سے وہ تھک گئی ہے  لیکن ان مشکلات کے حل کے لئے اپنے شوہر کی مدد نہ کرے تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایسی صورت میں شوہر کی مشکلات اور دشواریوں میں مزید  اضافہ ہو جاتا ہے ؛کیونکہ نہ صرف اس کی بیوی مشکلات کو حل کرنے میں اس کی مدد نہیں کرتی بلکہ اپنے غیر منطقی اعمال و افعال (منجملہ بے جا سرزنش اور اعتراض) کے ذریعہ اس کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند متعال کی جانب سے سب سے اہم آسمانی رسالت پر مأمور تھے اور مشرکین اپنی تمام تر توانائیوں ( منجملہ انہوں نے اپنے بہادروں، بدزبانی کرنے والے شعراء، سبّ و شتم کرنے والے اوباش افراد، عورتوں، مردوں، اپنوں اور بیگانوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محاذ آرائی کے لئے جمع کیا ہوا تھا) کے ساتھ آنحضرت کے مقابلہ میں کھڑے تھے اور جہاں تک ممکن ہو وہ آپ اور آپ کے اصحاب کو تکالیف پہنچاتے اور برا بھلا کہتے، آپ کے راستے میں کانٹے بچھا دیتے، نماز کے دوران آنحضرت کی توہین کرتے اور  یہاں تک کہ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب سے تعلقات ختم کر دیئے۔

ان تمام دشمنوں،  مشکلات اور مصائب کے ہوتے ہوئے اگر  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر واپس جاتے اور دیکھتے کہ ان کی زوجہ ( جو قریش کی عورتوں کی سرادر ہیں اور جو صاحب شخصیت اور مال و دولت کے لحاظ سے ملیکۃ العرب  ہیں اور جس نے اپنا تمام مال و دولت اپنے شوہر کے اختیار میں قرار دے دیا ہے  تا کہ وہ اسے راہ خدا میں خرچ کریں اور  اسے فقراء پر خرچ کرتے ہوئے ان کی دستگیری کریں ) انہیں یہ مشورہ دے رہی ہوں کہ : جب آپ کی قوم اور قبیلہ آپ کو اپنا بادشاہ اور امیر بنانے کے لئے تیار ہے تو پھر مناسب ہے کہ آپ بھی ان کے ساتھ سمجھوتہ کریں  ؛ اور ان کے دین اور راہ روش سے کوئی سروکار نہ رکھیں ۔ اور (ان کی مخالفت کرکے ) ہماری پرسکون اور آرام دہ زندگی کو مضطرب اور مشکل نہ بنائیں ؛ اگر ایسی صورت حال ہوتی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کس طرح انہیں قانع کرتے ؟  اور اس صورت میں کون رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم اور روح کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا تھا ؟ بیشک اس صورت میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گھر اور گھر سے باہر سخت مشکلات و موانع کا سامنا کرنا پڑتا ۔

لیکن خدا کا لطف تھا کہ خدا نے دعوت اسلام کی حقانیت کو درک کرنے کے لئے قلب خدیجہ کو اس طرح سے کھول دیا تھا اور آپ کے دل کو اس طرح سے منور اور معرفت و حکمت سے سرشار کر دیا تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی گھر میں ایسا کوئی افسوسناک منظر نہیں دیکھا تھا۔

دکتر بنت‌الشّاطی کہتی ہیں: « کیا خدیجہ کے علاوہ کسی اور بیوی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ اس تاریخی دعوت کے بعد قوی ایمان، کھلی آغوش اور محبت و عطوفت سے اس کا استقبال کرتی کہ جب وہ غار حرا سے آئے تھے اور دل میں اس کی سچائی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ آنے دیتی اور اسے تسلی دیتی کہ خدا اسے تنہا نہیں چھوڑے گا؟

کیا خدیجہ کے علاوہ اس قدر ناز و نعمت سے پلی ہوئی اور اس قدر احترام اور آسائش میں زندگی بسر کرنے والی کوئی اور خاتون اپنی مکمل رضائیت سے اپنی عالی شان زندگی، بے حد مال و دولت اور توانگری سے منہ موڑ سکتی ہے اور کیا کوئی اور یہ سب چھوڑ کر زندگی کے سخت اور دشوار لمحات میں اپے شوہر کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہوئے راہ حق میں آنے والی مشکلات اور مصائب میں اس کی مدد کرے؟ نہیں! ہرگز نہیں! صرف خدیجہ ہی ایسی خاتون تھی اور کوئی دوسری خاتون آپ کی طرح نہیں ہو سکتی مگر یہ کہ وہ آپ کے ہم مرتبہ ہو» ۔ (۷)

شہر مکہ ، مکہ کے لوگوں ، ان کی محبت و شفقت اور ان کی جانب سے دعوت توحید کا استقبال کئے جانے کی بجائے خداوند کریم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدیجہ علیہا السلام عطا کی۔ اور جب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر میں آتے تو آپ آنحضرت کے استقبال کے لئے آگے بڑھتیں ، آپ کے حالت دریافت کرتیں ، آپ کی دلجوئی کرتیں ، آپ کو رحمت و نصرت اور لطف خدا کے بارے میں بتاتے ہوئے آپ کے منور چہرے سے گرد و غبار صاف کرتیں اور قوم کی سرزنش و ملامت کرتے ہوئے آپ کو تسلی دیتیں اور آپ کی دلجوئی کرتیں ۔

ابن‌اسحاق کہتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی قوم کی جانب سے اپنے ردّ یا تکذیب کے بارے میں جو بات بھی سنتے کہ جو آپ کے لئے پریشانی اور فکری بےچینی کا باعث بنی تو خداوند خدیجہ (علیہا السلام) کے ذریعے اسے برطرف کر دیتا ۔ خدیجہ (علیہا السلام) آنحضرت کے لئے سخت باتوں کی سنگینی کو کم کر دیتیں اور آپ کی تصدیق کرتیں ۔ لوگوں کے برتاؤ اور ان کی جانب سے توہین و جسارت کو بے اہمیت  شمار کرتیں ۔(۸)

جی ہاں ! خدیجہ علیہا السلام وہ پہلی خاتون تھیں کہ جنہوں نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کے سات نماز ادا کی ۔ اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے علی بن ابی طالب علیہما السلام (جو بعثت سے پہلے اور بعد میں ہمیشہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہوتے اور جو ایک لمحہ کے لئے بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ سے جدا نہیں ہوتے ) کے سواء بندگان خدا میں سے کوئی بھی آپ کی طرح کا سابقہ نہیں رکھتا ۔

خدیجه علیہا السلام نے اپنی دور اندیشی ، حکیمانہ افکار ، فہم و فراست اور عقل و بیشن سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کو قبول کیا۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نیک اور درخشاں ماضی ، آنحضرت کا اخلاق ، صداقت ، سچائی ، امانت داری ، کمزوروں کی مدد کرنا ، فقراء کی دستگیری کرنا ، تواضع ، قناعت ، ایثار ، بخشش ، مہمان نوازی اور آنحضرت کی تمام صفات حسنہ جناب خدیجہ علیہا السلام جیسی حکیمہ خاتوں کی نظر میں مجسم تھیں ؛ اور آپ یہ جانتی تھیں کہ اس قدر پر آشوب ، تباہی و فساد اور تاریک ماحول میں یہ اعلیٰ و ملکوتی صفات نبوت کی نشانیاں ہیں ۔

حضرت خدیجہ علیہا السلام ؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بخوبی جانتی تھیں کہ آپ باطل سے گریز کرتے ہیں اور جھوٹ سے بیزار ہیں ۔ دوسرے لوگ بھی آپ کو ان صفات سے پہچانتے تھے  اور آپ کو برے ، ناروا اور ناپسندیدہ کاموں سے پاک و منزہ سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو «امین» کا لقب دیا تھا ۔ (۹)  خدیجہ علیہا السلام جسے پہچانتیں تھیں ؛ وہ کبھی بھی زمین و آسمان کے خدا کی طرف جھوٹی نسبت نہیں دے سکتا ؛ اور ربّ العالمین بھی اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور وہ جو کچھ کہے وہ حق و حقیقت ہے ۔

اس بناء پر خدیجہ علیہا السلام نے اسلام قبول کرنے میں کسی طرح کا صبر اور شک و تردید نہیں کیا اور آپ اپنے پہلے قدم سے ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی یاور و مددگار بن گئیں اور آپ نے دین خدا کی نصرت اور مدد کے لئے اپنا تمام مال و دولت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اختیار میں دے دیا ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح حضرت خدیجہ علیہا السلام بھی مشرکوں اور بت پرستوں کی طرف سے اذیت اور تکالیف سے نہ بچ سکیں۔ عوتوں نے آپ ملنا جلنا چھوڑ دیا اور آپ سے قطع تعلق کر لیا ؛ آپ کو زبان سے زخم اور طرح طرح کے طعنے دیئے ؛ حتی بچے کی ولادت کے موقع پر بھی کوئی عورت آپ کی مدد کے لئے نہیں آئی اور انہوں نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا۔ (۱۰)

لیکن حضرت خدیجه علیہا السلام مستقبل کو دیکھ رہیں تھیں کہ جسے دوسرے لوگ نہیں دیکھ رہے تھے ۔ وہ جانتی تھیں کہ دین محمد حق ہے اور جلد ہی خدائے یگانہ کی عبادت و پرستش بتوں کی پرستش کی جگہ لے لے گی اور خداوند اپنے پیغمبر کی مدد کرتا ہے اور روز بروز ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

جی ہاں ! اسلام میں جناب خدیجہ علیہا السلام کو وہ مقام و افتخار ملا کہ جو آپ  کی بیٹی سیدۂ نساء العالمین  (۱۱)حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملا ۔ خدا نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسل کو اس بی بی کے ذریعے جاری رکھا ۔  پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جوانی کی اوج میں پچیس سال کی عمر میں جناب خدیجہ علیہا السلام سے ازدواج کیا کہ جن کی عمر مبارک چالیس سال تھی ۔ (۱۲)تقریباً چوبیس سال تک حضرت خدیجہ علیہا السلام خانۂ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا چراغ اور آنحضرت کی انیس و غمخوار تھیں ۔ یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی پچاس سال کی عمر مبارک اور جناب خدیجہ علیہا السلام کی پینسٹھ سالہ بابرکت عمر  تک کسی اور سے ازدواج نہیں کیا ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آؒلہ و سلم نے حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بعد اگرچہ مختلف حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت متعدد عورتوں سے ازدواج کیا لیکن ان میں سے کوئی بھی حضرت خدیجہ علیہا السلام کی جگہ نہ لے سکی اور وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر میں جناب خدیجہ علیہا السلام کے فراق اور جدائی سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں کر سکیں  اور پیغمر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان میں سے کسی سے بھی صاحب اولاد نہیں ہوئے اور آنحضرت کی نسل جناب خدیجہ علیہا السلام سے ہی باقی رہی ۔

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی بھی حضرت خدیجہ علیہا السلام کو نہیں بھولے اور آپ ہمیشہ ان کے اخلاق اور صفات کو یاد فرماتے اور آپ ان کے جاننے والوں اور ان کے دوستوں سے نیکی و احسان اور لطف و کرم فرماتے ۔

عائشه کہتی ہے : میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج میں سے کسی سے اس قدر حسد نہیں کیا کہ جتنا حسد خدیجہ سے کیا ؛ کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں بہت زیادہ یاد کرتے تھے اور اگر کوئی گوسفند ذبح کرتےتو  اس میں سے خدیجہ کے دوستوں کے لئے بھیجتے۔(۱۳)

اسی طرح عائشه سے روایت ہوئی ہے کہ: «رسول خدا صلّی الله علیه و آله و سلّم اس وقت تک گھر سے باہر نہ جاتے جب تک جناب خدیجه سلام اللہ علیہا کو یاد نہ کر لیتے اور نیکی و اچھائی سے آپ کی مدح و ثناء فرماتے۔

ایک دن مجھے اس بات پر حسد ہوا اور میں نے کہا: وہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھی اور خدا نے آپ کو ان کے بدلے بہتر عطا کیا ہے۔

پیغمبر صلّی الله علیه و آله و سلّم اس قددر غضبناك ہوئے کہ آپ کے سر کے سامنے کے بال غصہ سے ہل رہے تھے اور پھر آپ نے فرمایا: «نہیں! خدا کی قسم! خدا نے مجھے اس سے بہتر کوئی نہیں دیا، وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے، اور تب میری تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کر رہے تھے، اور تب میرے ساتھ اپنا مال (راہ خدا میں) خرچ کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا اور خدا نے ان سے مجھے اولاد عطا کی اور دوسری عورتوں سے محروم فرمایا » ۔ (۱۴)

انس بن مالك نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلّی الله علیه و آله و سلّم نے فرمایا: «کائنات کی بہترین عورتیں مریم بنتِ عمران ، آسیه بنت مزاحم ، خدیجه بنت خُوَیْلِد اور فاطمه بنت محمّد صلّی الله علیه و آله و سلّم ہیں» ۔ (۱۵)

ابن عبّاس سے روایت ہوا ہے کہ: پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟  عرض كیا: خدا اور رسول خدا بہتر جانتے ہیں ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجه بنت خویلد ، فاطمه بند ،  مریم بنت عمران اور آسیه بنت مزاحم ـ زوجۂ فرعون ـ ہیں» ۔ (۱۶)

«صحیحین» میں عائشه سے روایت ہوئی ہے کہ: «پیغمبر صلّی الله علیه و آله و سلّم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی کہ جہاں کوئی شور و شرابا اور رنج و زحمت نہیں ہے » ۔ (۱۷)

صحیح مسلم میں روایت ہوئی ہے کہ : پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : «جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا : «یا رسول الله! اب خدیجہ آئیں گی اور ان کے پاس کھانے اور پینے کا ایک برتن ہے ۔ جب وہ آئیں تو انہیں ان کے پروردگار  کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور  انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دیں » ۔(۱۸)

سیرهٔ ابن‌ ہشام میں روایت ہوئی ہے کہ : جبرئیل ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئے اور کہا: «خدا کی طرف سے خدیجه کو سلام کہیں » ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

«یا خَدیجَةٌ! هذا جِبْریلُ، یُقْرِئُكِ السَّلام مِنْ رَبِّكِ. فَقَالَتْ خَدیجَةُ : أَللهُ السَّلامُ وَمِنْهُ السَّلامُ، وعَلی جِبْریلَ السَّلامُ»؛(۱۹)

«اے خدیجه! یہ جبرئیل ہے کہ جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر سلام بھیج رہا ہے ۔ پس خدیجہ نے عرض کیا : خداوند سلام ہے ، اور اس کی جانب سے سلام ہے اور جبرئیل پر سلام ہو » ۔

نسائی اور حاكم نیشاپوری کی روایت کی رو سے حضرت خدیجه علیہا السلام نے کہا :

«إِنّ اللهَ هُوَ السَّلامُ وَعَلی جِبْریلَ السَّلامُ، وَعَلَیْکَ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللهِ»؛(۲۰)

«بیشک خداوند، سلام ہے ،  جبرئیل اور آپ پر خدا کا سلام ، رحمت اور برکات ہوں » ۔

حضرت خدیجه علیہا السلام کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد ہمیشہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کرتی تھیں اور آپ کی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں۔

حضرت خدیجہ علیہا السلام کے فضائل اور اخلاقی کرامات بہت زیادہ ہیں ۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کے لئے کتب تاریخ ، حدیث اور تراجم کی طرف رجوع فرمائیں ۔

سَلامُ الله عَلَیْها وَعَلى بَعْلِها رَسُولِ اللهِ‌  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلام وَ عَلَى ابْنَتِها سَیَّدَةِ  نِساءِ الْعالَمینَ  وَ عَلى صِهْرِها عَلِیٍّ  أَمیرِ  الْمُؤْمِنینَ  وَ سَیِّدِ  الْمُسْلِمینَ  وَ عَلى أَبْنائِهَا الْأَئِمَّةِ الطّاهِرینَ ‌ علیہم السلام . اَللّهمَّ اجْعَلْنا فی زُمْرَتِهِمْ وَأَرْزُقْنا مُرافَقَتَهُمْ وَشَفاعَتَهُم وَأَكْرِمْنا بِمُتابَعَتِهِمْ بِحَقِّهِمْ یا أَرْحَمَ الرّاحِمینَ.

 

 

حوالہ جات :

۱ ۔ ابن‌هشام، السیرة‌النبویه، ج1، ص241؛ احمد بن حنبل، مسند، ج1، ص205؛ طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج23، ص10؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ج3، ص184.

۲ ۔ مفید، مسارالشیعه، ص22 - 23.

۳ ۔ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج8، ص103 ؛ حسینی کجوری، الخصائص‌الفاطمیه، ج2، ص 147 ؛  محدث قمی، منتهی‌آلامال، ج1، ص136 ؛  سیلاوی، الانوارالساطعه، ص386 – 389.

۴ ۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817 ؛ ابن‌اثیرجزری، اسدالغابه، ج6، ص78.

۵ ۔ بیهقی، دلائل‌النبوه، ص22؛ ابن‌کثیر، البدایة و النهایه، ج‌3، ص15.

۶ ۔ طبرانی، المعجم‌الکبیر، ج‌22، ص402 ؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1821 ـ 1823 ؛ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج3، ص104.

۷ ۔ ر.ك: ابوعلم، اهل‌البیت ^، ص102، نقل به معنا.

 ۸ ۔ ابن‌هشام، السیرةالنبویه، ج1، ص240؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج6، ص82.

۹ ۔  ابن‌هشام، السیرة‌النبویه، ج1، ص183، 197، بلاذری، انساب‌الاشراف، ج1، ص99 – 100 ؛  یعقوبی، تاریخ، ج1،‌ ص19؛ ماوردی، اعلام‌النبوه، ص212 – 213؛ طبرسی،  اعلام‌الوری، ج1، ص 145؛ فخر رازی، اعلام‌النبوه، ص 74، 77؛ مقریزی، امتاع‌الاسماع، ج1، ص19، 91؛ ج2، ص146.

۱۰ ۔ کوفی، الاستغاثه، ج1، ص70؛ طبری امامی، دلائل الامامه، ص77 – 78؛ قطب راوندی، الخرائج و الجرائح، ج2، ص524 – 525؛ حلی، العدد‌القویه،‌ص223؛ مجلسی، بحارالانوار، ج16، ص80 – 81؛

۱۱ ۔ ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1821 ـ 1823؛ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج‌3، ص‌104.

۱۲ ۔ ابن‌سعد، الطبقات‌الکبری، ج‌8، ص17، 216 – 217؛ بلاذری، انساب‌الاشراف، ج1، ص98 – 99؛ طبری، تاریخ، ج2، ص34؛‌ابن‌عساکر، تاریخ مدینة دمشق، ج3، ص194؛ ابن‌اثیر جزری، اسد‌الغابه، ج1، ص23.

۱۳ ۔ احمد بن حنبل، مسند، ج‌6، ص202؛ بخاری، صحیح، ج‌4، ص230 ـ 231؛ ج7، ص‌76؛ مسلم نیشابوری، صحیح، ج‌7، ص133 ـ 134؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج 6، ص84.

۱۴ ۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1823 ـ 1824؛ ابن‌جوزی، المنتظم، ج3، ص18؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج‌6، ص84 ـ 85.

۱۵ ۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1822؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج6، ص83.

۱۶ ۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1822؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج‌6، ص83.

۱۷ ۔ بخاری، صحیح، ج2، ص203؛ ج4، ص230 – 231؛ مسلم نیشابوری، صحیح، ج7، ص133. اس حدیث کی مانند دوسری احادیث اہلسنت کی دیگر کتب میں ذکر ہوئی ہیں ۔ ر.ك: یعقوبی، تاریخ، ج2، ص35؛ ابن‌اثیر جزری، اسدالغابه، ج2، ص83 ـ 84؛ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابه، ج8، ص101.

۱۸ ۔ مسلم نیشابوری، صحیح، ج7، ص133.

۱۹ ۔ ابن‌هشام، السیرة‌النبویه، ج‌1، ص‌241؛ ر.ک: اربلی، كشف‌الغمه، ج2، ص136.

۲۰ ۔ نسائی، فضائل‌الصحابه، ص75؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ج2، ص138.

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

ماہ رمضان کے ہر دن کی دعا

ماہ رمضان کے ہر دن کی دعا
ماہ رمضان کے ہر دن کی دعا

ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّهُمَّ اجْعَلْ صِیامی فیہ صِیامَ الصّائِمینَ وَقِیامی فیِہ قِیامَ القائِمینَ وَنَبِّهْنی فیہ عَن نَوْمَةِ   الغافِلینَ وَهَبْ  لی جُرمی فیہ یا اِلهَ العالمینَ وَاعْفُ عَنّی یا عافِیاً عَنِ المُجرِمینَ.

اے معبود! اس مہینے میں میرا روزہ ، روزہ داروں کا روزہ قرار دے، اور اس میں میرے قیام کو قیام کرنے والوں کا قیام قرار دے اور مجھے اس میں غافلوں کی غفلت سے بیداری عطا کر، اور میرے گناہوں کو بخش دے ،اے جہانوں کے معبود اور مجھ سے درگذر فرما اے مجرمین سے درگذر کرنے والے۔

ماہ رمضان کےدوسرے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اللّهُمَّ قَرِّبْنی فیهِ اِلی مَرْضاتِکَ ، وَ جَنِّبْنی فیهِ مَنْ سَخَطِکَ و نَقْماتِکَ، وَ وَفِّقْنِی فِیهِ لِقِراءَةِ آیاتِکَ ، بِرحْمَتِکَ یا أَرْحَمَ الرَّاحِمین۔

خدایا ! مجھے اس ماہ رمضان میں اپنی رضا و خوشنودی سے قریب فرما۔اور مجھے اس مہینہ میں  اپنی  ناراضگی اور انتقام سے دور رکھ۔اور مجھےاس ماہ رمضان میں  اپنی آیات (یعنی قرآ­ن) کی تلاوت کی توفیق عطا فرما،تیری رحمت کے واسطے،  اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

ماہ رمضان کےتیسرے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِی فِیهِ الذِّهْنَ وَ التَّنْبِیهَ، وَ بَاعِدْنِی فِیهِ مِنَ السَّفَاهَةِ وَ التَّمْوِیهِ ، وَ اجْعَلْ لِی نَصِیباً مِنْ کُلِّ خَیْرٍ تُنْزِلُ فِیهِ , بِجُودِکَ یَا أَجْوَدَ الْأَجْوَدِین ۔
اے معبود! اس مہینے میں مجھے ہوش اور آگاہی عطا فرما،مجھے ہر طرح کی نا سمجھی اور بے راہ روی سے بچا کے رکھ ،اور مجھ کو ہر اس بھلائی میں سے حصہ دے جو آج تیری عطاؤں سے نازل ہو، اے سب سے زیادہ عطا کرنے والے۔

ماہ رمضان کے چوتھے دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰهُمَّ قَوِّنِی فِیهِ عَلَی إقامَةِ أَمْرِکَ وَأَذِقْنِی فِیهِ حَلاوَةَ ذِکْرِکَ وَأَوْزِعْنِی  فِیهِ لاََدائِ شُکْرِکَ بِکَرَمِکَ وَاحْفَظْنِی فِیهِ بِحِفْظِکَ وَسَتْرِکَ یَا أَبْصَرَ النَّاظِرِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں مجھے قوت دے کہ تیرے حکم کی تعمیل کروں اس میں مجھے اپنے ذکر کی مٹھاس کا مزہ عطا کر،اور  اپنے کرم سے مجھے اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دے ، اور مجھے اپنی نگہداری اور پردہ پوشی کی حفاظت میں رکھ ،اے دیکھنے والوں میں زیادہ دیکھنے والے۔

ماہ رمضان کے پانچویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِیهِ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِینَ، وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ عِبادِکَ الصَّالِحِینَ الْقانِتِینَ وَاجْعَلْنِی فِیهِ مِنْ أَوْلِیائِکَ الْمُقَرَّبِینَ بِرَأْفَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

اے معبود!اس مہینے میں مجھے بخشش مانگنے والوں میں سے قرار دے ،اس مہینے میں مجھے اپنے نیکوکار عبادت گزار  اور فرمانبردار بندوں میں سے قرار دے  اوراس مہینے میں مجھے اپنے نزدیکی دوستوں میں سے قرار دے ،اپنی محبت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

ماہ رمضان کے چھٹے دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰهُمَّ لاَ تَخْذُلْنِی فِیهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِیَتِکَ   وَلاَ تَضْرِبْنِی بِسِیاطِ نَقِمَتِکَ وَزَحْزِحْنِی فِیهِ مِنْ مُوجِباتِ سَخَطِکَ، بِمَنِّکَ وَأَیادِیکَ یَا مُنْتَهی رَغْبَةِ الرَّاغِبِینَ۔

اے معبود! اس مہینے میں مجھے چھوڑ نہ دے کہ تیری نا فرمانی میں لگ جاؤں اور نہ مجھے اپنے غضب کا تازیانہ مار  ، اس مہینے میں اپنے احسان و نعمت سے مجھے اپنی ناراضی کے کاموں سے بچائے رکھ ، اے رغبت کرنے والوں کی آخری امید گاہ ۔

ماہ رمضان کے ساتویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ٲَعِنِّی فِیہِ عَلَی صِیامِہِ وَقِیامِہِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مِنْ ھَفَواتِہِ وَآثامِہِ، وَارْزُقْنِی فِیہِ ذِکْرَکَ بِدَوامِہِ، بِتَوْفِیقِکَ یَا ھادِیَ الْمُضِلِّینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں اس کے روزے اور شب زندہ داری میں میری مدد فرما، اور اس مہینے ہونے والے گناہوں اور لغزشوں سے مجھے دور رکھ، اور مجھے  ہمیشہ تیرے ذکر کرنے کی توفیق عطا کر، تمہاری توفیق کا واسطہ ، اے گمراہوں کو ہدایت کرنے والے۔

ماہ رمضان کے آٹھویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ رَحْمَۃَ الْاَیْتامِ وَ إطْعامَ الطَّعامِ وَ إفْشاءِ  السَّلامِ وَصُحْبَۃَ الْکِرامِ، بِطَوْ لِکَ یَا مَلْجَٲَ الاَْمِلِینَ ۔
اے معبود! مجھے اس مہینے میں توفیق عطا کر کہ میں یتیموں پر مہربان رہوں، اور بلند آواز سے سلام کروں اور لوگوں کو کھانا کھلاتا رہوں، اور مجھے بزرگوں کی مصاحبت کی توفیق عطا کر، اپنی عطا کے واسطے اے آرزومندوں کی پناہ گاہ۔

ماہ رمضان کے نویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیہِ نَصِیباً مِنْ رَحْمَتِکَ الْواسِعَۃِ وَاھْدِنِی فِیہِ لِبَراھِینِکَ السّاطِعَۃِ، وَخُذْ بِناصِیَتِی إلی مَرْضاتِکَ الْجامِعَۃِ، بِمَحَبَّتِکَ یَا ٲَمَلَ الْمُشْتاقِینَ۔
اے معبود! آج کے دن مجھے اپنی وسیع رحمت میں سے بہت زیادہ حصہ دے ، اور آج کے دن میں اپنے روشن دلائل سے میری ہدایت فرما اور میری مہار پکڑ کے مجھے اپنی ہمہ جہتی رضاؤں کی طرف لے جا ،اپنی محبت سے اے شوق رکھنے والوں کی آرزو۔

ماہ رمضان کے دسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُتَوَکِّلِینَ عَلَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْفائِزِینَ لَدَیْکَ، وَاجْعَلْنِی فِیہِ مِنَ الْمُقَرَّبِینَ إلَیْکَ، بِ إحْسانِکَ یَا غایَۃَ الطَّالِبِینَ .

اے معبود! مجھے اس مہینے میں تجھ پر توکل اور بھروسہ کرنے والوں میں سے قرار دے، اور اس میں مجھے اپنے ہاں کامیاب ہونے والوں اور فلاح پانے والوں میں سے قرار دے اور اپنی بارگاہ کے مقربین میں سے قرار دے، تیرے احسان کے واسطے، اے متلاشیوں کی تلاش کے آخری مقصود۔

 ماہ رمضان کے گیارہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ إلَیَّ فِیہِ الْاِحْسانَ وَکَرِّہْ إلَیَّ فِیہِ الْفُسُوقَ وَالْعِصْیانَ وَحَرِّمْ عَلَیَّ فِیہِ السَّخَطَ وَالنِّیرانَ، بِعَوْ نِکَ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ ۔
اے معبود! آج کے دن نیکی کو میرے لئے پسندیدہ فرما دے ، اس میں گناہ و نا فرمانی کو میرے لئے نا پسندیدہ بنا دے اور اس میں غیظ و غضب کو مجھ پر حرام کر دے اپنی حمایت کے ساتھ ، اے فریادیوں کے فریاد رس۔

ماہ رمضان کے بارہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ زَیِّنِّی فِیہِ بِالسِّتْرِ وَالْعَفافِ، وَاسْتُرْنِی فِیہِ بِلِباسِ الْقُنُوعِ وَالْکَفافِ وَاحْمِلْنِی فِیہِ عَلَی الْعَدْلِ وَالْاِنْصافِ وَآمِنِّی فِیہِ مِنْ کُلِّ مَا ٲَخافُ بِعِصْمَتِکَ یَا عِصْمَۃَ الْخائِفِینَ ۔

اے معبود! مجھے اس مہینے میں پردے اور پاکدامنی سے مزیّن فرما، اور مجھے کفایت شعاری اور اکتفا کا جامہ پہنا دے، اور مجھے اس مہینے میں عدل و انصاف پر آمادہ کردے، اور اس مہینے کے دوران مجھے ہر اس شیئے سے امان دے ، جس سے میں خوفزدہ ہوتا ہوں، اے خوفزدہ بندوں کی امان۔

ماہ رمضان کے تیرہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی فِیہِ مِنَ الدَّنَسِ وَالْاَقْذارِ وَصَبِّرْنِی فِیہِ عَلَی کائِناتِ الْاَقْدارِ، وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِلتُّقی وَصُحْبَۃِ الْاَ بْرارِ، بِعَوْ نِکَ یَا قُرَّۃَ عَیْنِ الْمَساکِینِ ۔

اے معبود! اس مہینے مجھے آلودگیوں اور ناپاکیوں سے پاک کر دے ، اور مجھے صبر دے ان چیزوں پر جو میرے لئے مقدر ہوئی ہیں، اور مجھے پرہیزگاری اور نیک لوگوں کی ہم نشینی کی توفیق دے، تیری مدد کے واسطے، اے بےچاروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک۔

ماہ رمضان کے چودہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ لاَ تُؤاخِذْنِی فِیہِ بِالْعَثَراتِ وَٲَقِلْنِی فِیہِ مِنَ الْخَطایا وَالْھَفَواتِ وَلاَ تَجْعَلْنِی فِیہِ غَرَضاً لِلْبَلایا وَالاْفاتِ، بِعِزَّتِکَ یَا عِزَّ الْمُسْلِمِینَ ۔
اے معبود! اس مہینے میں میری لغزشوں پر میرا مؤاخذہ نہ فرما ، اور اس میں میری خطاؤں اور فضول باتوں سے درگزر کر اور اس میں مجھے مشکلوں ، مصیبتوں اور آفات کا نشانہ قرار نہ دے ، تیری عزت کے واسطے ، اے مسلمانوں کی عزت و عظمت ۔

ماہ رمضان کے پندرہوں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ طاعَۃَ الْخاشِعِینَ، وَاشْرَحْ فِیہِ صَدْرِی بِاِنابَۃِ  الْمُخْبِتِینَ، بِأَمانِکَ یَا أِمانَ الْخائِفِینَ ۔

اے معبود! اے معبود! اس مہینے میں مجھے خاشعین کی سی اطاعت نصیب فرما ،  اور خاکسار اطاعت شعاروں کی سی توبہ کرنے کے لئے میرا سینہ کشادہ فرما، تیری امان کے واسطے، اے ڈرے  اور سہمے ہؤوں کی امان ۔

ماہ رمضان کے سولہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنِی فِیہِ لِمُوافَقَۃِ الْاَ بْرارِ، وَجَنِّبْنِی فِیہِ مُرافَقَۃَ الْاَشْرارِ وَآوِنِی فِیہِ بِرَحْمَتِکَ إلی دارِ الْقَرارِ، بِ إلھِیَّتِکَ یَا إلہَ الْعالَمِینَ ۔
اے معبود! مجھے اس مہینے میں نیک انسانوں کا ساتھ دینے اور ہمراہ ہونے کی توفیق دے اور بروں کا ساتھ دینے سے دور کردے، اور اپنی رحمت سے سکون کے گھر میں مجھے پناہ دے، تیری معبودیت کے واسطے اے تمام جہانوں کے معبود۔

ماہ رمضان کے سترہویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اھْدِنِی فِیہِ لِصالِحِ الْاَعْمالِ، وَاقْضِ لِی فِیہِ الْحَوائِجَ وَالاَْمالَ، یَا مَنْ لا یَحْتاجُ إلَی التَّفْسِیرِ وَالسُّؤالِ، یَا عالِماً بِما فِی صُدُورِ الْعالَمِینَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں مجھے نیک کاموں کی طرف ہدایت دے، اور میری حاجتیں اور خواہشیں پوری فرما ، اے وہ ذات جو کسی سے پوچھنے اور وضاحت و تفسیر کا  محتاج نہیں ہے ، اے جہانوں کے سینوں میں چھپے ہوئے اسرار کے عالم، درود بھیج محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) اور آپ کے پاکیزہ خاندان پر۔

ماہ رمضان کے اٹھارویں دن کی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ نَبِّھْنِی فِیہِ لِبَرَکاتِ ٲَسْحارِہِ، وَنَوِّرْ فِیہِ قَلْبِی بِضِیاءِ ٲَنْوارِہِ، وَخُذْ بِکُلِّ ٲَعْضائِی إلَی اتِّباعِ آثارِہِ، بِنُورِکَ یَا مُنَوِّرَ قُلُوبِ الْعارِفِینَ ۔
اے معبود! مجھے اس مہینے میں اس کی سحریوں کی برکتوں سے آگاہ کر ، اور میرے قلب کو اس کے انوار سے نورانی فرما، اور میرے تمام اعضاء وجوارح کو اس مہینے کے احکام  پر عمل کرنے  پر مامور کر دے، تیرے نور کے واسطے اے عارفوں کے قلوب کو منور کرنے والے۔

ماہ رمضان کے انیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ وَفِّرْ فِیہِ حَظِّی مِنْ بَرَکاتِہِ، وَسَھِّلْ سَبِیلِی إلی خَیْراتِہِ، وَلاَ تَحْرِمْنِی قَبُولَ حَسَناتِہِ، یَا ہادِیاً إلَی الْحَقِّ الْمُبِینِ ۔
اے معبود! اس مہینے میں اس کی برکتوں سے میرے حصے میں اضافہ فرما ،اور اس کی نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف میرا راستہ ہموار اور آسان کر، اورمجھے  اس کے حسنات کی قبولیت سے  محروم نہ فرما، اے آشکار حقیقت کی طرف ہدایت دینے والے۔

ماہ رمضان کے بیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِی فِیہِ ٲَبْوابَ الْجِنانِ، وَٲَغْلِقْ عَنِّی فِیہِ ٲَبْوابَ النِّیرانِ وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِتِلاوَۃِ الْقُرْآنِ، یَا مُنْزِلَ السَّکِینَۃِ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں بہشت کے دروازے مجھ پر کھول دے ، اور دوزخ کی بھڑکتی آگ کے دروازے مجھ پر بند کردے، اور مجھے اس مہینے میں تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرما۔ اے مؤمنوں کے دلوں میں سکون نازل کرنے والے۔

ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِی فِیہِ إلی مَرْضاتِکَ دَلِیلاً، وَلاَ تَجْعَلْ لِلشَّیْطانِ فِیہِ عَلَیَّ سَبِیلاً، وَاجْعَلِ الْجَنَّۃَ لِی مَنْزِلاً وَمَقِیلاً، یَا قاضِیَ حَوائِجِ الطَّالِبِینَ ۔
اے معبود! اس مہینے میں اپنی رضاؤں کی طرف میری رہنمائی کا سامان فرما ، اور اس میں شیطان کو مجھ پر کسی طرح کی دسترس پانے کا راستہ قرار نہ دے ، اے طلبگاروں کی حاجتیں پوری کرنے والے ۔

ماہ رمضان کے بائیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِی فِیہِ ٲَبْوابَ فَضْلِکَ، وَٲَنْزِلْ عَلَیَّ فِیہِ بَرَکاتِکَ وَوَفِّقْنِی فِیہِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِکَ وَ ٲَسْکِنِّی فِیہِ بُحْبُوحاتِ جَنَّاتِکَ یَا مُجِیبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّینَ ۔

اے معبود! میرے لئے اس مہینے میں اپنے فضل و کرم کے دروازے کھول دے، اور اس میں مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما ، اور اس میں مجھے تیری خوشنودی کے اسباب فراہم کرنے کی توفیق عطا فرما، اور اس کے دوران مجھے اپنی بہشت کے مرکز میں سکونت عنایت فرما ، اے بےبسوں اور بے قراروں کی دعا قبول کرنے والے۔

ماہ رمضان کے تئیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اغْسِلْنِی فِیہِ مِنَ الذُّنُوبِ وَطَہِّرْنِی فِیہِ مِنَ الْعُیُوبِ وَامْتَحِنْ قَلْبِی فِیہِ بِتَقْوَی الْقُلُوبِ، یَا مُقِیلَ عَثَراتِ الْمُذْنِبِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں میرے گناہوں کو دھو ڈال ،  اور اس میں مجھے عیب اور نقائص سے پاک کردے، اور میرے دل کو  آزما کر اہل تقویٰ کا درجہ دے ، اے گنہگاروں کی لغزشوں کو نظر انداز کرنے والے!

ماہ رمضان کے چوبیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ فِیہِ مَا یُرْضِیکَ وَٲَعُوذُ بِکَ مِمَّا یُؤْذِیکَ وَٲسئَلُکَ التَّوْفِیقَ فِیہِ لاََِنْ ٲُطِیعَکَ وَلاَ ٲَعْصِیَکَ، یَا جَوادَ السَّائِلِینَ ۔
اے معبود! تیرے در پر ہر اس چیز کا سوالی ہوں جو تجھے خوشنود کرتی ہے اور ہر اس چیز سے تیری پناہ کا طلبگار ہوں جو تجھے ناراض کرتی ہے، اور تجھ سے توفیق کا طلبگار ہوں کہ میں تیرا اطاعت گزار رہوں اور تیری نافرمانی نہ کروں، اے سوالیوں کو بہت زیادہ عطا کرنے والے۔

ماہ رمضان کے پچیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِیہِ مُحِبّاً لاََِوْلِیائِکَ وَمُعادِیاً لاََِعْدائِکَ، مُسْتَنّاً بِسُنَّۃِ خاتَمِ ٲَنْبِیائِکَ، یَا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِیِّینَ ۔

اے معبود! مجھے اس مہینے میں اپنے اولیاء اور دوستوں کا دوست اور اپنے دشمنوں کا دشمن قرار دے، مجھے اپنے پیغمبروں کے آخری پیغمبر کی راہ و روش پر گامزن رہنے کی صفت سے آراستہ کردے، اے انبیاء کے دلوں کی حفاظت کرنے والے۔

ماہ رمضان کے چھبیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَعْیِی فِیہِ مَشْکُوراً، وَذَ نْبِی فِیہِ مَغْفُوراً، وَعَمَلِی فِیہِ مَقْبُولاً، وَعَیْبِی فِیہِ مَسْتُوراً، یَا ٲَسْمَعَ السَّامِعِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں میری کوششوں کو لائق قدردانی قرار دے، اور اس مہینے میں میرے گناہوں کو قابل بخشش قرار دے، اور اس میں میرے عمل کو مقبول اور میرے عیبوں کو پوشیدہ قرار دے، اے سننے والوں میں سب سے زیادہ سننے والے۔

ماہ رمضان کے ستائیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی فِیہِ فَضْلَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَصَیِّرْ ٲُمُورِی فِیہِ مِنَ الْعُسْرِ إلَی الْیُسْرِ وَاقْبَلْ مَعاذِیرِی، وَحُطَّ عَنِّی الذَّنْبَ وَالْوِزْرَ، یَا رَؤُوفاً بِعِبادِہِ الصَّالِحِینَ۔
اے معبود اس مہینے میں مجھے شب قدر کی فضیلت نصیب فرما، اور اس میں میرے امور اور  معاملات کو سختی سے آسانی کی طرف پلٹا دے، میرے عذر اور معذرت کو قبول فرما اور گناہوں کا بھاری بوجھ میری پشت سے اتار دے، اے نیک بندوں پر مہربانی کرنے والے۔

ماہ رمضان کے اٹھائیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

 اَللّٰھُمَّ وَفِّرْ حَظِّی فِیہِ مِنَ النَّوافِلِ وَٲَکْرِمْنِی فِیہِ بِإحْضارِ الْمَسائِلِ وَقَرِّبْ فِیہِ وَسِیلَتِی إلَیْکَ مِنْ بَیْنِ الْوَسائِلِ، یَا مَنْ لاَ یَشْغَلُہُ إلْحاحُ الْمُلِحِّینَ ۔
اے معبود! اس مہینے کے نوافل اور مستحبات سے میرا حصہ بڑھا دے، اور اس میں میری التجاؤں کی قبولیت سے مجھے عزت دے، اور اس میں تمام وسیلوں میں سے میرے وسیلے کو اپنے حضور قریب فرما، اے وہ جس کو اصرار کرنے والوں کا اصرار [دوسروں سے] غافل نہیں کرتا۔

ماہ رمضان کے انتیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ غَشِّنِی فِیہِ بِالرَّحْمَۃِ، وَارْزُقْنِی فِیہِ التَّوْفِیقَ وَالْعِصْمَۃَ، وَطَھِّرْ قَلْبِی مِنْ غَیاھِبِ التُّھَمَۃِ، یَا رَحِیماً بِعِبادِہِ الْمُؤْمِنِینَ ۔
اے معبود! اس مہینے میں مجھے اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ دے، مجھے اس میں توفیق اور تحفظ دے، اور میرے قلب کو تہمت کی تیرگیوں سے پاک کردے، اے با ایمان بندوں پر بہت مہربان ۔

ماہ رمضان کے تیسویں دن کی دعا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ صِیامِی فِیہِ بِالشُّکْرِ وَالْقَبُولِ عَلَی مَا تَرْضاہُ وَیَرْضاہُ الرَّسُولُ، مُحْکَمَۃً فُرُوعُہُ بِالاَُْصُولِ، بِحَقِّ سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ ۔

اے معبود! اس مہینے میں میرے روزوں کو قدردانی اور قبولیت کے قابل قرار دے،  اس طرح سے کہ جسے تو اور تیرے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم )  پسند کرتے ہیں؛  اور جو  اس کے فروع اس کے اصولوں سے محکم ہوئے ہوں، ہمارے سرور و سردار محمد  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) اور آپ کی آل پاک (علیہم السلام ) کے واسطے، اور تمام تر تعریف اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے۔

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

صفحات

Subscribe to RSS - مناسبت‌ها