رسول الله صلى الله عليه و آله :شَعبانُ شَهري و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهري كُنتُ لَهُ شَفيعا يَومَ القِيامَةِ پيامبر صلى الله عليه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قيامت شفيع او خواهم... بیشتر
جمعه: 1401/03/6
وزیر خارجہ کی آیت اللہ صافی گلپائیگانی سے ملاقات

وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد اللہیان نے آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی دام ظلہ سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے دوران ڈاکٹر عبد اللہیان نے وزارت خارجہ کی موجودہ کارکردگی اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات پر مبنی رپورٹ پیش کی ۔

حضرت آیت الله العظمی صافی نے حضرت زینب سلام الله علیہا کی ولادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے خطے کے ممالک اور عالم اسلام کے حوالے سے وزارت خارجہ کے اقدامات پر شکریہ ادا کیا ۔

معظم لہ  نے اپنے بیانات کے ایک اور حصے میں فرمایا: مجھے امید ہے کہ آپ ہمارے ملک کے عزیز عوام کے مسائل حل کر کے لوگوں کی رضائیت  اور خوشی و مسرت حاصل کر سکیں  اور دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے خدشات کو دور کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی نے مزید  کہا  :  ہمارا ملک ؛ امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کا ملک ہے، اور ہم سب کو کوشش کرنی چاہئے  کہ ہمارے افعال ، رفتار اور طرز عمل سے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ ا لشریف کی تائید اور رضائیت حاصل کر سکیں ۔

انہوں  نے اس ملاقات کے آخر میں فرمایا : حقیر ہمیشہ ملک کی عزت و وقار اور سربلندی کے لئے دعاگو ہے ۔

موضوع:

امیر المؤمنین علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ کا پرچم ہدیہ کرنا ​​​​​​​
امیر المؤمنین علیہ السلام کی ملکوتی بارگاہ کا پرچم ہدیہ کرنا ​​​​​​​

آج جمعرات ۱۳ ذی القعدہ سنہ ۱۴۴۲ ہجری کے دن مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی دامت برکاتہ ، امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب سلام اللہ علیہما کی ملکوتی بارگاہ کے مطہر پرچم کی زیارت سے شرفیاب ہوئے ۔

اس معنوی پروگرام میں جناب ڈاکٹر ہادی انصاری کے توسط سے معظم لہ کی خدمت میں آستان ملائک پاسبان علوی علیه آلاف التحیة و الثناء کے متولی کا سلام پہنچایا گیا ۔

مرجع عالیقدر  نے اس مقدس و متبرک پرچم کے احترام و تکریم کے ضمن میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کو خداوند متعال کی سب سے بزرگ اور عظیم  نعمت قرار دیا اور خداوند متعال سے امیر المؤمنین سلام اللہ علیہ کی ولایت کی پناہ میں شیعوں کی عزت و عظمت کے لئے دعا کی اور بارگاہ علوی صلوات اللہ علیہ کے تمام خدام کی توفیقات میں اضافے کے لئے بھی دعا کی ۔  

 

موضوع:

عراقی سفیر کی ملاقات کا احوال: ایران و عراق ، امّتِ واحده ہیں، اور یہ وحدت اربعین جیسے موقع پر ظاہر ہوتی ہے / ایران کی شریف ملت عراق کی معزز عوام کی مہمان نوازی کی قدر کرتی ہے ۔

۱۹  محرم الحرام سنہ ۱۴۴۱ ہجری بروز جمعرات کو  ایران میں تعینات عراقی سفیر نے مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ الوارف سے ان کے بیت الشرف میں ملاقات کی اور مملکت عراق کی جانب سے اربعین کے زائرین کی خدمت کے متعلق رپورٹ پیش کی ۔ آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایّام عزاء کی مناسبت سے تسلیت و تعزیت پیش کرتے ہوئے ایران اور عراق کو امتِ واحدہ قرار دیا اور فرمایا : جیسا کہ بیان کی گیا ہے  کہ ہم اور آپ امتِ واحدہ اور مملکت واحدہ ہیں اور  ہم نہ تو کبھی ایک دوسرے سے جدا تھے اور نہ ہی ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ اور بحمد اللہ یہ اتحاد اربعین جیسے موقع پر عملی طور پر ظاہر و آشکار ہوتا ہے ۔

آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے اپنے بیانات میں اربعین کی پیادہ روی کو معجزات الٰہی قرار دیتے ہوئے فرمایا : الحمد للہ اربعین کی پیادہ روی دنیا میں شیعوں کے لئے افتخار کا باعث بن چکی ہے ۔ عراق اور ایران کی عوام اور ذمہ داران اور بالخصوص عراق کی مہمان نواز ملت کی خدمات اور اقدامات لائق تحسین اور باعث افتخار ہیں ۔

آیة الله العظمی صافی گلپایگانی نے اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت اور پیروی جیسی نعمت کو عراق اور ایران جیسی ملتوں کے اتحاد و یگانگت کا باعث قرار دیا اور فرمایا : یہ تمام اتحاد و یگانگت نعمت ولایت اہل بیت علیہم السلام اور بالخصوص حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی مدیون ہے اور ہم اس نعمتِ عظمیٰ پر خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ اور خدا سے آپ حضرات کی توفیقات میں مزید اضافہ کے لئے دعا گو ہیں اور میں امید کرتا ہوں ہے کہ اہل بیت اطہار اور بالخصوص حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات آپ سب کے شامل حال ہوں ۔

موضوع:

وقف ؛ اسلام کی سنت حسنہ
وقف اسلام کی سنت حسنہ ہے اور الحمد للہ ہماری عوام اس پر بخوبی عمل پیرا ہے ۔ واقف کی نیت کا مکمل نفاذ وقف کی ثقافت کی حفاظت اور اس عمل کی جانب لوگوں کی رغبت کا باعث ہے ۔ فراموش شدہ موقوفات کو احیاءکریں ۔

۷ جمادی الثانی سنہ ۱۴۴۰ ہجری بروز منگل (۱۴ اسفند ۱۳۹۷) سازمان اوقاف و خیریہ ایران کے سربراہ نے اپنے کچھ معاونین اور صوبہ قم میں سازمان اوقاف کے سربراہ کے ہمراہ مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ الوارد کے بیت الشرف میں  آپ سے ملاقات کی اور آپ کے بیاناتِ عالیہ سے مستفید ہوئے ۔

اس ملاقات کے آغاز میں حجۃ السالام و المسلمین جناب خاموشی نے سازمان اوقاف و خیریہ   کے آئندہ کے منشور اور پروگراموں کے متعلق رپورٹ پیش کی ۔

جناب آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی حفظہ اللہ نے اپنے اہم بیانات میں اسلامی معارف کی ترویج میں وقف کی اہمیت اور بعض اقتصادی مشکلات کو رفع کرنے میں وقف کے کردار کو اجاگر کیا ۔ نیز آپ نے فراموش شدہ موقوفات کو احیاء کرنے اور واقف کی نیتوں کے اجراء کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کچھ وعظ و نصیحت بیان فرمائے ۔

جناب آیت اللہ العظیٰ صافی گلپایگانی کے بیانات میں سے کچھ کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں :

بسم الله الرحمن الرحیم

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيهِ وَ آلِهِ:

’’ إذَا مَاتَ ابنُ آدَمِ انقَطَعَ عَمَلُهُ إلَّا مِن ثَلاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أو عِلمٍ يُنتَفَعُ بِهِ، أو وَلَدٍ صَالِحٍ يَدعُو لَهُ’’

سب سے پہلے تو میں آپ کا شکر گذار ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ حضرات کی یہ خدمات حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منظورِ نظر قرار پائیں اور ہم سب ان کی رضا کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے پائیں ۔

* اسلام میں وقف کا سابقہ

وقف کا مسئلہ قرآنی و حدیثی بنیاد کا حامل ہے اور یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے زمانے میں بھی موجود تھا ۔

یہ مسئلہ ایک سنتِ حسنہ ہے اور ہمیشہ سے مسلمان اس مسئلہ کی جانب توجہ کرتے آئے ہیں تا کہ ان کا کوئی ایک ایسا اچھا عمل باقی رہے کہ جس سے ان کے نامۂ اعمال کی فائل بند نہ ہو جائے ؛ یعنی ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کا یہ عمل باقی رہے اور اس کا ثواب ان کے نامۂ اعمال میں درج ہوتا رہے ۔

الحمد للہ ؛ لوگ کارِ خیر اور ان امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ جو شعائر کی تعظیم ، اسلام اور ولایتِ ائمہ علیہم السلام کے احیاء کا سبب بنتے ہیں اور اب بھی ایسے بہت سے افراد ہیں کہ جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی کارِ خیر باقی رہے ۔

*  واقفین کے نیتوں کا نفاذ لازم ہے

ایک اہم کام کہ جسے اب انجام دینا چاہئے ، وہ وقف کرنے والوں کی نیت کے مطابق موقوف کو احیاء کرنا ہے ۔ یعنی یہ عمل اس طرح سے انجام دیا جائے کہ لوگ یہ دیکھیں کہ ان کے اختیار میں پائے جانے والے موقوفات سے نسل در نسل استفادہ کیا جا رہا ہے اور واقف کے مقاصد اور نیت کی بطور کامل رعائت کی جا رہی ہے ۔  وقف کے باقی رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہی ہے کہ واقفین کی نیت کا بطور کامل خیال رکھا جاتا ہے ، ورنہ یہ مکمل طور پر ختم ہو جاتی ۔ لہذا اسے محفوظ رکھنے کے لئے اور اس بارے میں لوگوں کے ذوق و شوق میں اضافہ کرنے اور اسے تجدید کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی نیت کے عین مطابق عمل کیا جائے ۔

* موقوفات کو احیاء کرنے کی ضرورت

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ تمام شہروں میں کچھ موقوفات موجود ہیں کہ جن کی شناسائی کی جانی چاہئے اور ان کے ماضی کو جاننا چاہئے ۔

جب انسان بعض وقف ناموں کو پڑھتا ہے تو تعجب کرتا ہے کہ انہوں نے کن الفاظ سے اپنے اعتقاد کا اظہار کیا ہے ۔

ان کے ماضی اور سوابق کو احیاء کریں اور ان کا تعارف کروائیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کچھ ایسے موقوفات بھی تھے کہ جو تباہ ہو چکے ہیں اور انہیں فراموش کر دیا گیا ہے ، اور جہاں تک ممکن ہو سکے ، انہیں بھی احیاء کیا جائے تو یہ بہت اچھا عمل ہے ۔ گلپایگان میں ہمارا ایک مدرسہ تھا کہ بہت ہی بڑا تھا کہ افسوس کہ اسے گذشتہ حکومت نے تباہ و برباد کر دیا اور اب ہمیں اس کا بہت افسوس ہوتا ہے ۔ بہ ہر حال ان موقوفات کو احیاء کرنا چاہئے اور جو ابھی باقی ہیں ، ان کی حفاظت کرنی چاہئے ۔

ہر حال میں یہ مختلف مسائل ہیں کہ جن کی زیادہ سے زیادہ رعائت کرنی چاہئے تا کہ  لوگ یہ دیکھیں کہ موقوفات پر اچھی طرح سے عمل ہو رہا  اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ اس پر عمل کریں  اور اس کے آثار و برکات میں مزید اضافہ ہو ۔

آپ حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کا یہ عمل حضرت ولی عصر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت کرنے کی طرح ہے اور یہ سب حضرت حجت ارواحنا فداہ  کے وجود مبارک سے وابستہ ہے ۔ یہ عمل جتنا منظم اور مرتب ہوگا ، اتنا ہی آپ مسرور اور خوشحال ہوں گے ۔ ان شاء اللہ کامیاب و کامران رہیں ۔

والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته

موضوع:

شیخ عیسی قاسم کی مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی سے ملاقات

۲۳ فروری بروز شنبہ (بمطابق ۴ اسفند سنہ ۱۳۹۷ ) کو بحرین میں شیعوں کے رہبر جناب سیخ عیسیٰ قاسم کی مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی سے آپ  کے گھر پر ملاقات ہوئی کہ جس میں مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا ۔

موضوع:

حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد : گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری زیادہ شاندار انداز میں منعقد ہو گی ۔/ لوگوں میں مکارم اخلاق کی ترویج کے لئے حوزۂ علمیہ کے مبلغین پر بہت اہم اور سنگین ذمہ داری عائد ہوت
حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد سے مبلغین کی ملاقات

 

-  گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری زیادہ شاندار انداز میں منعقد ہو گی ۔

-  لوگوں میں مکارم اخلاق کی ترویج کے لئے حوزۂ علمیہ کے مبلغین پر بہت اہم اور سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔

-  امر بالمعروف اور نہی از منکر کو احیاء کرنا معاشرے کے نواقص اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

 ماہ محرم الحرام اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے ایّام عزاء کی آمد کی مناسبت سے ملک کے پسماندہ علاقوں میں تبلیغ کی غرض سے جانے والے مبلغین نے حجۃ الاسلام و المسلمین صافی گلپایگانی سے ملاقات کی ۔

حجۃ الاسلام و المسلمین صافی نے جلسہ کے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس  کے ضمن میں عزداریِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی تعظیم کی اہمیت کے بارے میں ایک روایت کی طرف اشارہ کیا اور تبلیغ کو بہت اہم امر قرار دیتے ہوئے  کہا کہ اسلامی اہداف و مقاصد کے حصول اور معاشرے کو فضائل ، اچھائیوں اور نیکیوں سے آراستہ کرنے کے لئے تبلیغ بنیادی اور بے بدیل کردار کی حامل ہے ۔

حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے امر بالمعروف اور نہی از منکر کے فریضے کو مبلغین کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے قرار دیا اور کہا کہ اس فریضہ کو احیاء کرنا سماج میں موجود نواقص اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

حجۃ الاسلام و المسلمین کے بیانات کا مکمل متن کچھ یوں ہے :

بسم الله الرحمن الرحيم. الحمدلله رب العالمين و الصّلاة و السلام علي سيّدنا و نبيّنا حبيب إله العالمين أبي القاسم محمد و علي اهل بيته المعصومين سيّما مولانا بقية الله في الأرضين و اللّعن علي اعدائهم اجمعين الي يوم الدين. قال رسول الله صلّي الله عليه و آله: «إن للحسين عليه السلام حرارة في قلوب المؤمنين لن تبرد ابداً» السلام عليک يا مولاي يا ابا عبدالله و علي الأرواح الّتي حلّت بفنائک.

* ماہ محرم میں اہل البیت علیہم‌السلام کی سیرت :

محرم الحرام اور آل محمد علیہم الصلاۃ و السلام کے غم و حزن کے ایّام نزدیک ہیں ۔ یہ وہ ایّام ہیں کہ جن میں ہم سب کے آقا و مولا اور سید و سالار حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف محزون ہوتے ہیں ۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : ماہ محرم کی آمد کے پہلے دن سے ہی کوئی میرے بابا کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھتا تھا ۔

یہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت ہے کہ وہ خود محرم الحرام میں مجالس عزاء کا انعقاد کرتے تھے اور ہمیں بھی ان معصوم ہستیوں کی پیروی کرتے ہوئے انشاء اللہ اس عظیم ذمہ داری کو بہترین ممکن صورت میں انجام دینا چاہئے ۔  اور خداوند متعال کے فضل و کرم اور عنایات سے یہ گذشتہ سالوں سے بھی زیادہ بہتر اور شاندار انداز میں انجام پائے گی ۔

روایات میں ہے کہ کچھ لوگ حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : جب ہمارے رشتہ داروں اور اقوام میں سے کوئی شخص اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو ہم کچھ عرصے تک اس کے  لئے عزاداری کرتے ہیں اور پھر یہ عزاء ختم ہو جاتی ہے ۔ لیکن سالہا سال سے جب بھی محرم آتا ہے تو آپ کس طرح سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے مجلس عزاء برپا کرتے ہیں ؟

امام صادق عليه ‌السلام نے فرمایا : جب محرم کا مہینہ آتا ہے تو عالم بالا میں ایک شور اور خاص ہیجان برپا ہو جاتا ہے ۔ خدا کے مقرب ملائکہ انبیائے الٰہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی ارواح کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔ خدا کے ملائکہ امام حسین علیہ السلام کا پارہ پارہ پیراہن عالم بالا میں لے جاتے ہیں اور گریہ و عزاداری کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ لہذا ہم اس مصیبت عظمیٰ کی وجہ سے گریہ و عزاداری کرتے ہیں ۔ اور شیعوں پر بھی لازم ہے کہ وہ بہترین انداز میں اس ذمہ داری کو انجام دیں ۔

محرم الحرام کی آمد پر ایک باطنی قوت سب لوگوں کو دوسری طرف کھینچتی ہے ۔ ماہ محرم کے پہلے دن کائنات میں ایک ہیجان برپا ہوتا ہے ، یہ صرف ہماری مملکت میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر اور عالم غیب میں ہیجان برپا ہوتا ہے ۔

یہ اسی طرح ہے کہ  پيغمبر اکرم صلی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا : «إن للحسين حرارة في قلوب المؤمنين لن تبرد ابداً» ۔ اور بعض روایات میں ہے کہ «إلي يوم القيامة» یعنی روز قيامت تک سب کے دل غمگین و محزون ہیں ۔ لہذا جتنا وقت بھی گذر جائے لیکن پھر بھی واقعۂ عاشورا کبھی پرانا نہیں ہو سکتا ۔

*  تبلیغ کا اجر و ثواب

اس راہ میں تبلیغ کرنے والوں کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : «من بکي أو تباکي أو أبکي فله الجنة» ۔ آپ کتاب کامل الزیارات کو ملاحظہ فرمائیں کہ عزائے امام حسین علیہ السلام کے ثواب کے بارے میں کس قدر روایات ہیں ۔

لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر رلانے والوں کے لئے کس قدر ثواب بیان ہوا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام کے لئے نذر و نیاز اور اطعام دینے والوں کے لئے کس قدر ثواب ذکر ہوا ہے ۔ آپ اربعین کو ہی دیکھیں  کہ جہاں  دوکروڑ لوگ حسینی سبیلوں سے کھانا کھاتے ہیں ۔ ایسے بھی لوگ تھے کہ جو امام حسین علیہ السلام کے نام کو مٹانا چاہتے تھے لیکن وہ خود نیست و نابود ہو گئے ، مگر امام حسین علیہ السلام کا نام درخشاں اور بلند و بالا تھا اور روز قیامت تک درخشاں اور بلند و بالا رہے گا ۔

مراجع بزرگوار کے دفاتر ، حوزہ علمیہ قم اور ہمیں یہ توفیق نصیب ہوئی ہے کہ محترم علماء و طلاب اپنی اصل ذمہ داری یعنی تبلیغ کو الحمد للہ بطور احسن اور بہترین ممکن صورت میں انجام دے رہے ہیں ۔ حوزۂ علمیہ کے متولیین کو ان مبلغین کی زیادہ سے زیادہ قدر دانی کرنی چاہئے ۔

*  تبلیغ کے ضروری نکات

ہماری اور آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان ایّام اور اس ماہ عزاء میں دین خدا کی تبلیغ اور لوگوں کو احکام الٰہی سے روشناس کرانے کے لئے اس بہترین موقع سے استفادہ کریں ۔

-  منبر سے احکام بیان کرنا ضروری ہے

ہماری ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم احکام بیان کریں ۔ شرعی مسائل بیان کریں ۔ ہم مجالس پڑھتے وقت مجلس کے آغاز میں ایک یا دو ایسے مسائل ضرور بیان کریں کہ جن کا جاننا لوگوں کے لئے ضروری ہے ۔

-  مجالس میں اہلبیت علیہم السلام کی روایات سے استفادہ کرنا لازم ہے

لوگوں کے لئے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرامین بیان کریں ۔ مدینۂ منورہ سے مکہ کی طرف آتے ہوئے اور پھر مکہ سے کربلا کی جانب آتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے کس قدر زیادہ فرمودات ہیں کہ جو سب کے سب ہمارے لئے درس ہیں ۔ اگر دنیا انسانیت کی حقیقت اور دنیا و آخرت کی سعادت کو سمجھنا چاہئے تو اسے ائمہ معصومین علیہم السلام اور امام حسین علیہ السلام کے فرمودات کو پڑھنا چاہئے ۔ حضرت امام رضا علیہ علیه ‌آلاف التّحیة و الثناء فرماتے ہیں : «ان الناس لو علموا محاسن کلامنا لاتّبعونا؛ اگر لوگ ائمہ اطہار علیہم السلام کے کلام کے محاسن  اور خوبیوں کو جان لیں تو حتمی طور پر ہماری پیروی کریں» ۔ آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں تک ائمہ اطہار علیہم السلام کے ارشادات و فرمودات پہنچائیں ۔

-  فریضه امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ترویج

خطابت کے اہم نکات میں سے ایک امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ترویج ہے ۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : «أريد أن آمر بالمعروف و أنهي عن المنکر» ہمارا اہم ترین ذمہ داری امر بالمعروف اور نہي از منکر ہے ۔ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : تمام نیک اعمال اور راہ خدا میں جہاد ایک طرف ، اور امر بالمعروف و نہی از منکر ایک طرف ۔ یہ تمام نیک اعمال اور راہ خدا میں جہاد ، امر بالمعروف اور نہی از منکر کے مقابلے میں بحر بیکراں کے مقابلے میں ایک ناچیز قطرے سے بھی کم ہے ۔ اس فریضے کو احیاء کرنا معاشرے کے نواقص اور خامیوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

-  سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے فضائل و اخلاق کو بیان کرنا

حضرت زينب سلام‌ الله علیہا فرماتی ہیں : «ما رأيت إلّا جميلاً» اس قیام اور تحریک میں جو کچھ بھی دیکھا سب جمیل اور خوبصورت تھا ۔ عاشورا مکمل طور پر زیبائی اور حسن ہے ۔ لوگوں کے لئے یہ حسن بیان کریں ۔ لوگوں کے ساتھ امام حسین علیہ کی کیا روش اور اسلوب تھا ۔ عاشورا کے دن دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ آپ کا کیسا برتاؤ تھا ۔ نقل ہوا ہے کہ : امام حسین علیہ السلام جب عاشورا کے دن میدان میں گئے تو آپ نے اپنی ایک انگوٹھی دشمن کے ایک سپاہی کی طرف پھینک دی اور فرمایا کہ یہ لے لو ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جب وہ شخص سپاہ عمر سعد کے ساتھ کوفہ سے باہر آ رہا تھا تو اس کی بیٹی نے اس سے کہا تھا کہ میرے لئے انگوٹھی لانا ۔ یا جناب حر کا وہ مشہور واقعہ کہ جب امام حسین علیہ السلام نے دشمن کے لشکر کو سیراب کیا ۔ امام حسین علیہ السلام کس قدر مہربان ہیں ۔ آج لوگوں کو دوسری چیزوں کی بنسبت ان کی زیادہ ضرورت ہے ۔ اگر لوگوں کے لئے اخلاقیات بیان کریں یا امام حسین علیہ السلام کے قیام کا حقیقی فلسفہ بیان کریں تو لوگ دین اور روحانیت حتی کہ اسلامی نطام کو اچھی نظر سے دیکھیں گے ۔

-  اخلاق الٰہی سے آراستہ کرنے کی ضرورت

ہم اچھے اخلاق سے لوگوں کو دین خدا کی طرف راغب کر سکتے ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : «کونوا دعاة الناس بغير ألسنتکم» ۔ خداوند متعال کی طرف سے حضرت پيغمبر اکرم صلي الله عليه و آله و سلم کے لئے سب سے بالا ترین مرحمت اخلاق حسنہ تھا کہ آنحضرت نے اپنے اخلاق حسنہ سے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں ۔

- مجالس میں حضرت ولیّ عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو لازمی یاد کریں

اپنی تمام مجالس میں امام زمانہ عجل الله تعالي فرجه الشريف کو ضرور یاد کریں ۔ میرے والد معظم حضرت آية الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله الوارف فرماتے ہیں : آية الله العظمي بروجردي رحمہ اللہ ہمیشہ مبلغین کو یہ تذکر دیتے تھے کہ  امام زمانہ ارواح العالمین له الفداء کی یاد اور ذکر کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیں کہ کبھی بھی یہ نام فراموش نہ ہو سکے ۔

*  پسماندہ علاقوں میں تبلیغ کی ضرورت

ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم تبلیغ  کے لئے پسماندہ علاقوں میں جائیں ۔ ان بعض علاقوں میں واقعاً انسان کو رونا آتا ہے ۔ یہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے شیعہ ہیں کہ جو مادی لحاظ سے بہت محروم اور پسماندہ ہیں لیکن پھر بھی کس طرح ذوق و شوق سے عزاداری میں شریک ہوتے ہیں ۔ انہی پسماندہ علاقوں اور پورے ملک میں امام حسین علیہ السلام کی عزاداری نے ہی ہماری مملکت کو بیمہ کیا ہوا ہے ۔

میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ آپ سب کامیاب ہوں ، آپ کے ہر عمل پر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی نظر کاص ہو ۔ اور میں آپ سب سے ملتمس دعا ہوں ۔ یا لیتنی کنت معکم فأفوز فوزاً عظیماً.

موضوع:

آیة الله العظمی صافی گلپایگانی:دوسرے ممالک میں تبلیغ کے مواقع کی قدر جانیں اور اہلبیت علیہم السلام کی نورانی تعلیمات کی ترویج کے لئے کوشاں رہیں

ہیوسٹن (امریکہ) میں اسلام مرکز کے مسئول حجة ‌الإسلام والمسلمین جناب ڈاکٹر بدیعی نے بیت مرجع عالیقدر حضرت آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف میں آپ سے ملاقات کی۔

اس اسلامی مرکز کے مسئول اور امریکہ میں مسلم کانگریس کے ترجمان نے اس ادارہ کی کارکردگی کے متعلق رپورٹ پیش کی۔ نیز انہوں نے امریکہ میں مسلمانوں کی سالانہ کانفرس کے بارے میں بتایا کہ جس میں امریکہ بھر سے تقریباً ۳۰۰۰ مذہبی شخصیات شرکت کرتی ہیں اور جس کا اس سال کا موضوع ’’امام مہدی(عج) انسانیت کے نجات دہندہ‘‘تھا۔

آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی نے اس ادارہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے فرمایا: آپ کو بہترین موقع میسر آیا ہے لہذا آپ اس کی قدر جانیں کہ یہ لطف خدا اور توفیق الٰہی ہے۔تبلیغ و ترویج اسلام اور اس کی نورانی ہدایات کے لئے یہ مواقع غنیمت ہیں اور بندۂ حقیر دعاگو ہے کہ آپ نے جن اہداف کے بارے میں بتایا ہے ، ان شاء اللہ آپ  ان کے حصول میں کامیاب ہو ں۔اور میں آپ کی کارکردگی پر بہت مسرور ہوں اور خدا وند متعال کا شکر کرنا چاہئے کہ پوری دنیا اور امریکہ میں  اسلامی مراکز  اور مساجد میں اضافہ خدائے سبحان کا  لطف ہے۔

عظیم الشأن مرجع نے اپنے بیانات میں بیرون ملک  تبلیغ کے سلسلہ میں آیة الله العظمی بروجردی کے پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا الأستاد حضرت آیت الله العظمی بروجردی رحمة الله علیه کی ایک آرزو یہ بھی تھی کہ باہر کے  ممالک میں طلاب کے ذریعہ دین اسلام اور معارف اہلبیت علیہم السلام کی تبلیغ و ترویج ہو۔ان کے زمانے میں بھی یہ امر متاثر کن تھا مگر الحمد للہ اب اس میں کافی ترقی ہوئی ہے۔مرحوم حضرت آیت الله العظمی بروجردی رحمة الله علیه بارہا اس نکتہ کی تاکید فرماتے تھے کہ دوسرے ادیان الٰہی کے ساتھ رابطہ و تعلق برقرار رکھنا چاہئے  اور اس کے ضمن میں ان کے لئے دلیل و برہان  کے ساتھ قرآن اور اہلبیت علیہم السلام کی تعلیمات بیان کرنی چاہئیں۔

محترم مرجع نے اپنے بیانات کا ایک حصہ مہدویت سے متعلق  قرار دیا اور امریکہ میں اس سال کی سالانہ کانفرنس کے موضوع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی اہلبیت علیہم السلام اور بالخصوص حضرت بقیة الله الأعظم ارواح العالمین له الفداء، کی تعلیمات کی ترویج سے لوگوں تک خالص اسلام پہنچائیں۔

آیت الله العظمی صافی نے آخر میں خداوند  متعال کی بارگاہ میں جناب ڈاکٹر بدیعی اور ہیوسٹن کے اسلامی مرکز میں ان کے معاونین کے لئے دعا کی۔

موضوع:

انڈونیشیا اور ہندوستان کے اہلسنت علماء کی آیت اللہ صافی سے ملاقات

انڈونیشیا اور ہندوستان کے اہلسنت علماء کی آیت اللہ صافی سے ملاقات :

دشمنوں کے مقابلہ میں سب مسلمان متحد ہو کر ایک دوسرے سے تعاون کریں: آیت اللہ العظمیٰ صافی کی تاکید

 

۱۱ خرداد ۱۳۹۵ بمطابق ۳۱ مئی ۲۰۱۶ء کوانڈونیشیا اور ہندوستان کے بعض علماء و دانشوروں نے بیت مرجع عالیقدر حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی مدظلّه‌الوارف میں آپ سے ملاقات کی۔

 خوشگوار ماحول میں ہونے والی اس ملاقات میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی نے مسرّت کا اظہار کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کا ہدف اسلام کی عظمت کو قرار دیا اور فرمایا: میرے لئے یہ ملاقات خوشی و سرور کا باعث ہے کیونکہ جب انسان ایک ایسے گروہ کو دیکھے کہ جس کے افراد کا تعلق مختلف مقامات سے ہو لیکن س کے سب مسلمان،دین دار، قرآن اور رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر ایمان رکھتے ہوں تو یقیناً انسان لذت محسوس کرتا ہے۔مسلمانوں کا اتحاد اور ان کے درمیان ہم دلی اس چیز کو بیان کرتی ہے کہ چاہے شیعہ ہوں یا اہلسنت؛اسلام کی ترقی و سربلندی اور دین کی عظمت کے لئے سب کا ایک ہی ہدف ہے۔

آیت اللہ صافی گلپایگانی نے اپنے بیانات کے دوسرے حصہ میں پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی توصیف میں کچھ اشعار پڑھنے کے بعد فرمایا:آپ بزرگ مسلم اور غیر مسلم دانشوروں کے اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ سب یک زباں ہو کر پیغمبر اکرمؐ کی توصیف کرتے ہیں اور رسول خداؐ  کو سب کا آقا شمار کرتے ہیں،لہذا سب کو آنحضرت سے متمسک ہونا چاہئے۔

مثلاً ایک شاعر نے پیغمبر اعظم صلّی‌الله علیه و آله وسّلم کی توصیف میں کہا:

محمّد سيّد الکونين و الثّقلين * و الفريقين من عرب و من عجم
نبیّنا الآمر النّاهی فلا أحد * أبرّ فی قول (لا) منه و لا (نعم)
هو الحبیب الّذی ترجی شفاعته * لکلّ هول من الأهوال مقتحم

مرجع عالیقدر نے اس ملاقات میں قرآن مجید کی عظمت، کتاب الٰہی کی جانب دعوت، وحدت اور واعتصموا بحبل اللہ کے متعلق بیان فرمایا کہ قرآن مجید کی عظمت کے بارے میں اس شخص نے کیا خوب اشعار کہے ہیں کہ جو عیسائی بھی نہیں بلکہ کافر تھا:

إنّي و إن أك قد كفرت بدينه * هل أكفرن بمحكم الآيات
ببلاغة القرآن قد خلب النهى * و بسيفه أنحى على الهامات‏
نعم المدبّر و الحكيم و انّه * ربّ الفصاحة مصطفى الكلمات‏
من دونه الأبطال في كلّ الورى * من سابق أو غائب أو آت

یہ آیۂ شریفہ «وَ إعتَصِمُوا بِحَبلِ اللهِ جَمیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا» سب مسلمانوں کو ہمدلی، ایک دوسرے سے تعاون اور اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے کی طرف دعوت دیتی ہے۔ یہ آیت آج سب مسلمانوں کے لئے پیغام ہے کہ خدا،قرآن اور رسول گرامی اسلام  صلّی اللہ علیہ و آلہ و وسلّم پر ایمان کے ذریعہ سب مسلمان دشمنوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور اسلام کی دیرینہ عظمت  واپس حاصل کریں۔

آیت اللہ صافی نے اس ملاقات میں داعشی فتنہ کو، اسلام کو بدنام کرنے والا فتنہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:ہم اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے جس قدر زیادہ تعاون اور اتفاق کریں گے اسی قدر سربلند اور با عظمت ہوں گے۔

اب داعشی فتنہ ،اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا باعث ہے اور حقیقت میں یہ زحمت کا سبب ہے ۔اس گروہ کی وجہ سے امن،صلح،دوستی،محبت اور مستضعفین کی حمایت کرنے والے دین کو دنیا کی نظروں میں اذیت اور لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث قرار دیا گیا تا کہ لوگ اس سے متنفر ہو جائیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے اتحاد اور تعاون سے ان شاء اللہ یہ دشمن بھی ذلیل و خوار ہو گا۔       

آیت اللہ العظمی صافی نے آخر میں خداوند متعال سے اس ملاقات میں شریک ہونے والے دانشوروں اور اسلام و مسلمین کی عزت و عظمت کے لئے دعا کی۔

موضوع:

آیت الله العظمی صافی گلپایگانی: بايد پيام صلح و دوستي قرآن را به مردم دنيا رساند./اسلام اهل بيت عليهم السلام، اسلام عاري از خشونت و ظلم و بيدادگري است.

امروز يك شنبه 17/12/93 حجج اسلام آقايان رمضاني و خادمي امامان جماعت مركز اسلامي هامبورگ و مركز اسلامي دانمارك با حضور در بيت مرجع عاليقدر حضرت آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله العالي با ايشان ديدار كردند.

در ابتداي اين ديدار، گزارشي از وضعيت مسلمانان  و فعاليت هاي مراكز اسلامي ارائه شد.

آيت الله العظمي صافي گلپايگاني مدظله با تشكر از خدمات و زحمات آقايان فرمودند: با توجه به شرايط حساسي كه امروز در دنيا بخصوص جهان اسلام وجود دارد لازم است آقايان مبلغين احساس وظيفه بيشتري نمايند و پيام قرآن و اسلام را به دنيا برسانند.

پيام قرآن، پيام صلح و دوستي و رحمت مي باشد. مردم دنيا بايد بدانند اسلام واقعي كه عاري از خشونت و ظلم و بيدادگري است، همان اسلام ناب و اسلام اهل بيت عليهم السلام و اسلام تشيع است.

اگر امروز دشمنان با اسلام دشمني مي كنند، به خاطر اين است كه دين مقدّس اسلام با افكار و رفتار ضد انساني و استعماري آنها مخالف است و مي خواهد مسلمانان، آزاد و مستقل باشند.

ايشان در قسمت ديگري از بيانات خود با اشاره به تأسيس مركز اسلامي هامبورگ به امر حضرت آيت الله العظمي بروجردي رضوان الله تعالي عليه افزودند: استاد بزرگ ما مي فرمودند ما وظيفه داريم معارف نوراني و نجات بخش اسلام را به تمام دنيا برسانيم تا آنها با واقعيت اسلام آشنا شوند.

خوشبختانه امروز اين مركز و ساير مراكز مذهبي در اروپا موجب شده است كه مردم به آنها اقبال داشته و با اين مراكز همكاري نمايند.

معظم له در بخشي از سخنان خود بيان داشتند: اتحاد بين صفوف مسلمين، راه را براي اجراي نقشه هاي عوامل بيگانه مي بندد و خصوصاً نبايد بين خود شيعيان اختلافي وجود داشته باشد كه اختلاف، سبب تضعيف روحيه مردم با ايمان مي گردد.

مرجع عاليقدر با اشاره به اينكه حوزه علميه قم بحمدالله مي تواند مبلغين آگاه و عالم را براي نشر معارف اسلام به دنيا اعزام نمايد، فرمودند: در اين راستا، وظيفه حوزه بسيار سنگين است و همه بايد نسبت به تبليغ دين مبين اسلام به هر وسيله اي كه مي توانند اقدام نمايد.

در پايان، آيت الله العظمي صافي گلپايگاني ضمن مسألت مزيد توفيقات مبلغين و عزيزاني كه در مراكز فرهنگي انجام وظيفه مي نمايند توصيه فرمودند:هميشه در نظر داشته باشيد كه سرباز اسلام و سرباز امام زمان عجل الله تعالي فرجه الشريف هستيد و انشاء الله توجهات آن وجود مبارك شامل حال همه باشد.
 

موضوع:

دوعظیم مراجع کرام کی اہم ملاقات

آیت اللہ العظمٰی نوری ہمدانی مدظلہ العالی نے حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی مد ظلہ العالی سے ملاقات اورگفتگوکی ۔

یہ خصوصی ملاقات جو کہ صحافیوں کے بغیر انجام پائی جس میں ان دو عظیم شخصیتوں نے حوزہ ٴعلمیہ کے اہم مسائل اورمنحرف گروہوں کی فعالیتوں کے سلسلہ میں گفتگو کی ۔

اس اہم ملاقات میں، آیت اللہ نوری ہمدانی مدظلہ العالی اورآیت اللہ صافی گلپائیگانی مدظلہ العالی  نے شبہات کا جواب اورانحراف فکری کی صحیح تشخیص کوحوزہٴ علمیہ کی اہم ترین ذمہ  داریوں میں سے قراردیتے ہوئے فرمایا: فقہاء اورعلماء شیعہ کہ جو دین کے تمام پہلووٴں میں جہاد واقعی کا درجہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ مذہب کے اعتقادی مسائل کا دفاع کرتے ہیں اس کو مسلسل جاری رکھیں اور حوزہٴ علمیہ  کے  علماء  و  طلاب کو چاہئے کہ احکام دین کی حفاظت اوراہل بیت علیہم السلام کے نوارنی معارف کی تبلیغ کے لئے ہمیشہ آمادہ رہیں۔

 ان دو عظیم مرجع کرام نے اس بات کی طرف نشاندہی کی ہے کہ آج علماء کی ذمہ داری گذشتہ علماء سے کہیں بڑھ کر ہے لہذا آج کے الیکٹرونک میڈیاسے استفادہ کریں اورتشیع کے عظیم اوراہم منابع کی تبلیغ کریں۔

اس ملاقات میں ان عظیم مراجع کرام نےایسے ہی دیگر اہم مسائل پرگفتگو کی ۔

موضوع:

صفحات

Subscribe to RSS - دیدارها