رسول الله صلى الله علیه و آله :شَعبانُ شَهری و رَمَضانُ شَهرُ اللّهِ فَمَن صامَ شَهری كُنتُ لَهُ شَفیعا یَومَ القِیامَةِ پیامبر صلى الله علیه و آله :شعبان ، ماه من و رمضان ماه خداوند است . هر كه ماه مرا روزه بدارد ، در روز قیامت شفیع او خواهم... بیشتر
سه شنبه: 1401/04/14

جناب ڈاکٹر مہدوی دامغانی کی رحلت کی مناسبت سے تعزیتی پیغام

جناب ڈاکٹر مہدوی دامغانی کی رحلت کی مناسبت سے تعزیتی پیغام
گرانقدر دانشور جناب ڈاکٹر مہدوی دامغانی کی رحلت کی مناسبت سے حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی قدس سرہ کے دفتر کی جانب سے تعزیتی پیغام

بسمه تعالی

انا لله و انا الیه راجعون

ولائی دانشور جناب ڈاکٹر مہدوی دامغانی کی رحلت کی خبر انتہائی افسوس اور غم کا باعث بنی ۔

خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے اس محترم ادیب ، مصنف اور عاشق نے اپنی بابرکت زندگی قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی نورانی تعلیمات نشر و اشاعت اور ترویج میں گزاری اور بہت سے شاگردوں کی تربیت کی۔ حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام اور بالخصوص حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام سے آپ کی خاص عقیدت زبان زدخاص و عام ہے ۔

والد مکرم جناب آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی رضوان الله تعالی علیه ان کے اس جذبے کی بہت تعریف کیا کرتے تھے اور مرحوم کو ولایتمدار ہونے کے لحاظ سے ایک نمونہ سمجھتے تھے ۔

ہم اس مصیبت کے موقع پر علماء کرام ، حوزات علمیہ اور مرحوم مہودی دامغانی کے محترم و مکرم خاندان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ خداوند متعال مرحوم کو محمد و آل محمد علیہم السلام کے ساتھ محشور فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے ۔

۱۷ ذی القعده ، سنہ ۱۴۴۳

محمدحسن صافی

موضوع:

ویژه نامه ارتحال: 
برداشتن از قسمت ویژه نامه ارتحال

عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله کا افغانستان میں وحشیانہ بربریت کی مذمت میں مستقل اور آزادی طلب حکومتوں کے لئے پیغام

عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی دام ظله کا افغانستان میں وحشیانہ بربریت کی مذمت میں مستقل اور آزادی طلب حکومتوں کے لئے پیغام
افغانسان میں وحشیانہ بربریت کی مذمت میں عالیقدر شیعہ مرجع کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

و َما نَقَموا مِنهُم إِلّا أَن یُؤمِنوا بِاللَّهِ العَزیزِ الحَمیدِ

ہم جمعہ کے دن افغانستان کی مسجد قندوز میں ہونے والے وحشیانہ جرائم پر (جس میں بڑی تعداد میں نمازی اور بے گناہ افراد شہید ہوئے ) حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت اقدس اور سوگوار و مصیبت زدہ خاندانوں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔ کیا حکومتیں مظلوم اور بے گھر افغان بھائیوں اور بہنوں کی پکار نہیں سن رہیں جو اس سرد موسم میں صحراؤں اور پہاڑوں میں بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں !؟ کیا خود کو محروموں اور مظلوموں کے حامی سمجھنے والے بین الاقوامی ادارے دہشت گردوں کی لوٹ مار اور نہتے لوگوں کے گھروں کو نذر آتش کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہے !؟ کیا انہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ہر دن اور ہر رات لوگوں کی ایک بڑی تعداد خدا سے بے خبر اور انسانیت سے عاری ایک گروہ کے ہاتھوں شہید ہو رہی ہے ، اور وہ خاندانوں کو غمزدہ کر رہے ہیں ؟! چرا سازمان ملل متحد و مجامع بین المللی به وظیفه خطیر خود عمل نمی‌کنند!!؟ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے اپنے اس اہم فریضہ پر عمل کیوں نہیں کر رہے !!؟ اگر وہ ان کے شرمناک اور غیر انسانی کاموں کی مذمت نہیں کر سکتے یا نہیں چاہتے اور انسانوں کے قاتلوں کے حق میں خاموشی کا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں تو کم از کم ان کی حمایت نہ کریں ! میں مستقل حکومتوں اور دنیا کے حریت طلب افراد سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ اس غیر انسانی گروہ کو اس سے زیادہ جرائم جاری رکھنے کی اجازت نہ دیں ، اور ان تمام لوگوں سے درخواست کرتا ہوں ، جن کا ضمیر بیدار ہے اور بالخصوص با ایمان بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ زمانے کے اس حصہ میں اپنی پوری صلاحیت اور توانائی کے مطابق افغانستان کے مظلوم اور لٹے ہوئے لوگوں کی مدد کریں ، اور بے گھر اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لئے آگے بڑھیں اور اپنی انسانی اور دینی ذمہ داری ادا کریں ۔ و السلام علی جمیع عباد الله الاحرار الصالحین ۔

۲ ربیع الاول ، سنہ ۱۴۴۳ ہجری

لطف‌الله صافی

موضوع:

افغانستان میں المناک واقعات کے خلاف عالیقدر شیعہ مرجع آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی دام ظله العالی کا پیغام

افغانستان میں المناک واقعات کے خلاف عالیقدر شیعہ مرجع آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی دام ظله العالی کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

انّ ربّک لبالمرصاد 

آج کل دنیا بہت ہی خوفناک اور افسوسناک واقعات کا مشاہدہ کر رہی ہے ، اور اس ظلم و بربریت  اور جرائم سے انسانیت کا ضمیر اور انسانوں کی پاکیزہ فطرت شرمندہ ہے ۔

کیاکسی گروہ کے لئے یہ  ممکن ہے کہ وہ خود کو انسان کہلوائے ، لیکن وہ (گروہ) انسانوں کے خلاف ہی ان تمام جرائم کا مرتکب بھی ہو ؟!

ان دہشت گردوں کی خشونت ، بربریت اور درندگی ایک طرف ؛ لیکن دوسری طرف دنیا والوں ، ، حکومتوں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کی خاموشی حیران کن اور شرمناک ہے!

کسی ایسے گروہ پر اعتماد کرنا ایک بہت بڑی اور ناقابل تلافی غلطی ہے کہ ماضی میں جس کا شرّ اور قتل و غارت پوری دنیا پر واضح ہے!

میں اپنی دینی اور انسانی ذمہ داری  کی بناء پر تمام حکومتوں ، بین الاقوامی اداروں  ، بالخصوص اقوام متحدہ ، اسلامی کانفرنس کی تنظیم (OIC)اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ اس ظلم و ستم ، درندگی ، افغانستان میں مظلوم لوگوں کی بڑی تعداد میں شہادت اور ہزاروں  کی تعداد میں عورتوں ، مردوں ، بچوں ، جوانوں اور  بوڑھوں  کے بے گھر ہونے  کے خلاف سنجیدگی سے رد عمل دکھائیں  ۔

یقیناً ان کی آج کی خاموشی مستقبل میں پچھتاوے اور ندامت کا سبب ہے ۔

و السلام علی من اتّبع الهدی

قم المقدسہ،  ۳  ذی الحجه سنہ ۱۴۴۲ ہجری

لطف الله صافی

موضوع:

تیونس کی الزیتونه یونیورسٹی کے سابق چانسلر کی جانب سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے اقدام کی ستائش

تیونس کی الزیتونه یونیورسٹی کے سابق چانسلر کی جانب سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے اقدام کی ستائش
تیونس کی الزیتونه یونیورسٹی کے سابق چانسلر کی جانب سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کے اقدام کی ستائش

بسم الله الرحمن الرحیم

السلام علیكم ورحمة الله وبركاته أیّها الشیخ الجلیل آیة الله الصافی 

لقد وصلتنی رسالتك القیّمة، التی فحواها إكبارك لما قام به رئیس المحكمة الدستوریة النمساویّة السید كریستوف غرابنفاتر من إبطال حكم المحكمة الجائر الذی كان قد منع المسلمات من حقّهن فی ارتداء الحجاب، وشكرك لرئیس المحكمة على هذا العدل والنصرة للحق، وإنّنی بدوری أشكرك على هذه الهمة وعلى هذا الاهتمام بشؤون المسلمین فی العالم الغربی، فأرجو من الله ان یتقبّل عملك وسعیك فی الصالحین وأن ینعم علیكم بالخیر والعافیة، وأن یمدّكم الله بصحة البدن ووفرة العقل، وكمال الحكمة، فإن الأمة الإسلامیة محتاجة فی هذا الزمان، المضطرب أوضاعه، المتلاطم أمواجه، إلى مزید من الحكمة، والتبصر فی سعیها إلى الله سبحانه وتعالى، والاجتماع على الكلمة، ونبذ الفرقة وترك الأوهام، وصدق النوایا، والسعی إلى الخیر، فإنّه بضاعتنا ومدّخرنا وموردنا و مصرفنا فی هذه الدنیا-لو كنّا نعلم-وسبیلنا للنجاة فی الآخرة، وإنّ الأمة الإسلامیة عاقدة آمالها على علمائها، الذین الواجب فی حقّهم أن یكونوا فی مستوى ما ترجوه الأمة منهم، ان یطبّبوا أدواءها، ویبرئوا جراحها، ویجمعوا النّاس برشدهم على العمل الصالح المفید، وعلى حسن الظنّ بالخلق، مسلمین وغیرهم، فإنّه لیس شیء أعظم فی التراحم والتودّد، وأدعى إلى الإلف والتحابب من حسن الظنّ، وإنّ الأمة قد عانت كثیرا من التخوّن والتشكیك، والاتهام بالتضلیل والفسوق والنفاق وإنّه لم یكن فی أمّة فی سالف أزمانها، أو حاضرها، من التشتت والهوان والضعف وانحدار الهمة، وغیاب الإرادة، والتخلّی عن المسؤولیة، كما هو حال الأمة الیوم فلنسخّر-جمیعاً-ما بقی لنا من عمر وجهد وحكمة، فی سبیل هذا المبدا العظیم، ان نجتمع على التّقى وأن نكفّ عن نبش الماضی، وأن نحسن الظن بالناس، غائبهم وشاهدهم، كما هو حسن ظنّنا بالله، وأن نوكل أمر حسابهم إلى ربّهم فهو أعلم بسرائرهم وعلانیّتهم وما أخفت صدورهم وهو ألطف بخلقه، وأعذر لهم، من بعضهم لبعض، وإنه لیس شیء أجلب لرحمة الله وعفوه، من ان یرانا، متصافین، متآخین، متراحمین، ولعل الله سبحانه وتعالى ینفع الأمة بعلمائها، فلنترك ألقابنا، وانتساباتنا، إن كان ذلك عائقاً فی جمع شملنا، و فی تكافلنا ووحدتنا، ولیكن شعارنا الإسلام، ودستورنا القرآن، وأسوتنا نبیّنا صلى الله علیه وسلم، و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین.

دمتم فی حفظ الله وعونه

مخاطبكم الساعی إلى إرضاء ربّه

هشام قریسة

جامعة الزیتونة بتونس

 

 

خط کا ترجمہ :

بسم الله الرحمن الرحیم

محترم شیخ آیت اللہ صافی ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !

مجھے آپ کا قابل تعریف پیغام موصول ہوا ، جس میں آپ نے آسٹریا کی آئینی عدالت کے سربراہ جناب کرسٹوف گریبنواٹر (Christoph Grabenwarter) کی جانب سے عدالت کے اس غیر منصفانہ فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی وجہ سے ان کے اس اقدام کو سراہا تھا کہ جس میں مسلمان خواتین کے حجاب پہننے کے حق سے انکار کیا گیا ہے ، اور آپ نے ان کے انصاف اور حق کی مدد کرنے کی وجہ سے ان کا شکریہ ادا کیا تھا ۔

میں بذات خود اس معاملے پر آپ کی توجہ  اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے مسائل پر آپ جناب کی توجہ کے لئے آپ کا شکرگزار ہوں   ۔ اور مجھے امید ہے خداوند آپ کے عمل و سعی کو صالحین کے عمل و سعی کے زمرے میں قبول فرمائے ، اور آپ کو خیر و عافیت عنایت فرمائے ، اور آپ  کی جسمانی صحت ، عقل کی فراوانی اور کمال حکمت عطا فرمائے ۔  کیونکہ ان پروآشوب حالات  اور ان تلاطم خیز موجوں کے درمیان خداوند متعال تک پہنچنے کی راہ میں امت مسلمہ کو سب سے بڑھ کر حکمت و بصیرت کی ضرورت ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ وحدت کلمہ ، تفرقہ بازی و  اوہام سے دوری ، سچی نیت  اور خیر و خوبی تک رسائی کے لئے سعی و کوشش کی بھی ضرورت ہے ، چونکہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ دنیا میں ہمارا سامان ، سرمایہ اور ہماری حالت کے لئے مفید ہے ، اور آخرت میں ہمارے لئے نجات کا راستہ ہے ۔

امت مسلمہ نے اپنی آرزوؤں کو اپنے علماء و دانشوروں سے منسلک کر رکھا ہے ، ایسے علماء و دانشور جو امت کو ان سے وابستہ توقعات اور امیدوں پر  پورا اتریں ،  جو ان کے درد کا مداوا کریں ، ان کے زخموں پر مرحم رکھیں ،  اچھے اور مفید کام انجام دینے کے لے لوگوں کی رہنمائی کریں ،  اور خدا کی مخلوق (چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم)کے بارے میں  نیک خیال رکھتے ہوئے انہیں متحد کریں ۔  کیونکہ لوگوں کے بارےمیں نیک خیالات سے بڑھ کر کوئی بھی چیز  شفت ، دوستی ، الفت اور محبت کو فروغ نہیں دیتی ۔نیز  امت مسلمہ کو خیانت ،بدگمانی  ،اور  ایک دوسرے پر گمراہی ، بدکاری اور منافقت کی تہمت لگانے سے بہت نقصان ہوا ہے ۔  

آج امت اسلامی کو انتشار ، ذلت و حقارت ،سستی ، کاہلی، ہمت و  ارادہ کے فقدان اور ذمہ داریوں سے فرار جیسی مشکلات کا سامنا ہے ، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہے  ۔ پس ہم سب اپنی باقی زندگی ، کوشش اور دانشمندی کو اس اصل ، عظیم اور اہم راہ پر صرف کریں  ، جو یہ ہیں :

تقویٰ پر اکٹھا ہونا،ماضی کو کریدنے سے گریز کرنا،لوگوں کے بارے میں نیک خیالات (چاہے وہ موجود ہیں اور  چاہے وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں)، ان کا حساب و کتاب ان کے خدا پر چھوڑ دینا ، کیونکہ وہ ان کے مخفی و آشکار رازوں اور ان کے سینوں میں پوشیدہ  امور  کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ، وہ اپنی مخلوق پر سب سے  زیادہ مہربان ہے ، اور وہ  ان کے عذر کو سب سے زیادہ قبول کرنے والا ہے۔  ایک دوسرے کے لئے ہماری محبت  و الفت اور بھائی چارے سے بڑھ کر کوئی بھی  چیز ہمارے لئے خدا کی رحمت و بخشش کا باعث نہیں بنتی ، اور امید ہے کہ کہ خداوند سبحان اس امت  کو اس کے علماء سے مستفید فرمائے ۔

پس ہمیں اپنے القاب، عناوین اور اپنی وابستگیوں کو ترک کرنا چاہئے؛ جو ہمارے ایک ساتھ ملحق ہونے ،تعاون اور  ہمارے اتحاد میں رکاوٹ ہیں ،  اور ہمارا واحد نعرہ اسلام، ہمارا واحد قانون قرآن ، اور ہمارا واحد نمونہ ہمارے نبی اکرم  (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہونے چاہئیں ۔ و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمین ۔

ہمیشہ خدا کی پناہ میں رہیں اور اس کی مدد سے مستفید ہوں ۔

آپ کا مخلص، جو اپنے پروردگار کی رضا و خوشنودی کا طالب ہے ۔

ہشام قریسہ

الزیتونة یونیورسٹی ، تیونس

 

 

موضوع:

ہندوستان کے برجستہ عالم جناب ڈاکٹر کلب صادق نقوی کی رحلت کی مناسبت سے مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ صافی گلپائیگانی مدّ ظلّہ الشریف کا تعزیتی پیغام

ہندوستان کے برجستہ عالم جناب ڈاکٹر کلب صادق نقوی کی رحلت کی مناسبت سے مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ صافی گلپائیگانی مدّ ظلّہ الشریف کا تعزیتی پیغام

بسمه تعالی

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیهِ رَاجِعُونَ

فاضل دانشور ، ناشر و مروّج تعلیمات و معارف نوارنی قرآن و اہل بیت علیہم السلام ، سلالۃ السادات جناب ڈاکٹر کلب صادق نقوی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت غم اور افسوس کا باعث بنی ۔ ایک ایسی شخصیت جو اپنی انتہک  کوششوں کی وجہ سے شیعوں پر بہت بڑا حق رکھتی ہے ۔ ہمارا ان سے بہت قریبی رابطہ تھا اور ہم انہیں متعہد ، متواضع ، پارسا اور مجاہد سمجھتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اخلاق حسنہ سے صراط مستقیم کی طرف لوگوں کی ہدایت کی ۔ ہم اس بزرگ اور برجستہ عالم کی رحلت اور جدائی کے موقع پر ہندوستان کے علمی و دینی حلقوں ، محترم و مکرّم نقوی خاندان اور مرحوم کے عقیدت مندوں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال کی بارگاہ میں مرحرم کی بلندی درجات کے دعاگو ہیں ۔

 

9   ربیع الثانی   سنہ 1442 ہجری

لطف اللّه صافی

 

 

 

موضوع:

حضرت صاحب الزّمان عجل الله تعالی فرجه الشریف کے میلاد مسعود کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی (مدظله العالی) کا پیغام

حضرت صاحب الزّمان عجل الله تعالی فرجه الشریف کے میلاد مسعود کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی (مدظله العالی) کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

یَا بَنِیَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَأَخِیهِ وَلَا تَیْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ
و أَكْثِرُوا  الدُّعَاءَ بِتَعْجِیلِ الْفَرَجِ فَإِنَّ ذَلِكَ فَرَجُكُم‏

۱۵ شعبان کی مبارک رات ؛ وہ رات ہے کہ جس میں عالم ہستی کے سرمایہ ، تمام پیغمبروں اور اماموں کی امید ، انسانیت کو ظالموں کے شر سے نجات دلانے والے، عادلانہ عالمی حکومت قائم کرنے والے حضرت بقیۃ اللہ الأعظم مہدی موعود ارواح العالمین لہ الفداء نے دنیا کو اپنے نور سے منور کر دیا اور پوری دنیا میں عدل کا انتظار کرنے والوں کے دلوں کو خوشیوں سے بھر دیا ۔

اس مبارک میلاد کے شکرانے ، پریشانیوں اور مشکلوں کے خاتمے اور بلاؤں کے برطرف ہونے کے لئے اس مقدس رات (جو احیاء اور بیداری کی رات ہے) امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے تمام منتظرین اور عالمی مصلح کے محبین سے میری استدعا ہے کہ اس پرمسرت رات کی برکات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے خداوند سبحان کی بارگاہ میں دعا و مناجات کریں اور اس مبارک رات میں وارد ہونے والی دعاؤں میں سے  دعائے کمیل پڑھ کر تضرع و استغفار کریں ، اور سید الشہداء حضرت امام حسین کی زیارت سے اس کشتی نجات امت کو شفیع قرار دیں اور حضرت معصومین علیہم السلام سے توسل کرتے ہوئے عالمی سطح پر خداوند متعال سے امام عصر حضرت مہدی صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی دعا کریں ، اور زیارت آل یاسین پڑھ  کر ولی دوراں ، قطب عالم امکاں کی بارگاہ میں پوری توجہ کے ساتھ عرض ادب کریں اور سب ہم آواز ہو کر آپ کو پکاریں :

« المستغاث بک یا صاحب الزمان »

«اللهم عجل فرجه و قرب زمانه و کثر انصاره و اکشف بحضوره‌ هذه الغمة عن هذه الامة»

دههٔ‌ مبارکه مهدویت
١٤٤١هجری
لطف الله صافی

موضوع:

شہید اسلام لیفٹینٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی کا پیغام

شہید اسلام لیفٹینٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی مناسبت سے حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی کا پیغام

باسمہ تعالیٰ

نہایت  ہی دکھ اور افسوس کے ساتھ اسلام کے عظیم سالار ، سرفراز مجاہد لیفٹینٹ جنرل جناب حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر موصول ہوئی ۔ اس شہید نے اپنی پوری زندگی اسلام ، عوام کی خدمت اور اسلامی اقدار کی حفاظت کے لئے وقف کر دی ۔ یہ عظیم شہید حضرات معصومین علیہم السلام اور بالخصوص سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا محب اور عاشق تھے ؛ جو اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کی پیروی کرتے ہوئے اسلام کے دشمنوں ، کج فہم اور خیانت کار دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ مردانِ خدا کا یہ ہنر ہے کہ وہ اس فانی اور جلد تمام ہو جانے والی زندگی کو ابدی و جاودانی راہ کے لئے استفادہ کرتے ہیں اور ذاتِ ربوبی کی خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔

طُوبی لَهُمْ وَ حُسْنُ مَآبٍ 

ہم اس عظیم مجاہد کی اور دیگر مجاہدی بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت کی مناسبت سے دنیا کے حریت پسندوں ، ایران کی غیور اور شریف ملت اور ان شہداء کے محترم خاندان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں ۔

اور خداوند متعال کی بارگاہ میں حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے زیر سایہ اسلام کی نصرت ، ملت عزیز کی عزت اور کامیابی و سرفرازی کے لئے دعاگو ہیں ۔

 

۷ جمادی الاولی، سنہ ۱۴۴۱
لطف الله صافی

 

موضوع:

مرحوم علامہ سید جعفر مرتضی عاملی (رحمۃ اللہ علیہ) کی رحلت کی مناسبت سے شیعہ مرجع عالی قدر جناب آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی مدظلہ العالی کا تعزیتی پیغام

مرحوم علامہ سید جعفر مرتضی عاملی (رحمۃ اللہ علیہ) کی رحلت کی مناسبت سے شیعہ مرجع عالی قدر جناب آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی مدظلہ العالی کا تعزیتی پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

نہایت ہی افسوس سے بزرگوار عالم اور اسلام و ولایت کے حقیقی مدافع جناب علامہ محقق حاج سید جعفر مرتضی عاملی رضوان اللہ علیہ کی رحلت کی غمناک خبر دریافت کی ؛ انا لله و انا الیه راجعون ۔

ایک ایسی شخصیت کہ جس نے اپنی بابرکت عمر صحیح تاریخ اسلام ، مذہب حقۂ جعفری ، شبہات کے جوابات اور اہل بیت علیہم السلام کے نورانی معارف کے دفاع میں بسر کی اور عالم اسلام ، حوزات علمیہ اور محققین کے لئے دسیوں نفیس ، گرانقدر اور معتبر کتابیں پیش کیں ۔ اس عالم دین کا فقدان علمی و دینی مراکز کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے ۔  ہم اس عظیم نقصان کی مناسبت سے علمائے اعلام ، حوزات علمیہ ، یونیورسٹی کے محترم طالب علم اور بالخصوص لبنان کی شریف عوام اور ان فقید سعید کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال سے مرحوم کی روح مطہر کی بلندی درجات اور پسماندگانِ محترم کے لئے صبر جمیل و اجر جزیل کی دعا کرتے ہیں ۔

۲۸ صفر المظفّر ۱۴۴۱
لطف الله صافی

 

 

موضوع:

نویں بین الاقوامی حضرت امام سجاد علیہ السلام کانفرنس میں عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کا پیغام ۔ (ہرمزگان ، محرم الحرام سنہ ۱۴۴۱ ہجری)

نویں بین الاقوامی حضرت امام سجاد علیہ السلام کانفرنس میں عالیقدر شیعہ مرجع حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی مدظلہ العالی کا پیغام ۔ (ہرمزگان ، محرم الحرام سنہ ۱۴۴۱ ہجری)

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدلله ربّ العالمین و الصّلوة و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین حبیب إله العالمین أبی‌القاسم محمد و آله الطاهرین سیّما بقیة الله فی الأرضین عجّل الله تعالی فرجه الشریف

ہم آستان ملائک پاسبان حضرت امام زین العابدین علیہ الصلاۃ و السلام سے توسل اور تعظیم و تکریم کے عنوان سے منقعد ہونے والی اس ملکوتی و ولائی کانفرنس میں شرکت کرنے والے اہل بیت نبوت علیہم السلام کے شیعوں  اور محبوں کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں ۔ اور خداوند متعال کی  بارگاہ میں سب کے لئے برکات اور فیوضاتِ الٰہیہ کے نزول  کی دعا کرتے ہیں ۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام مکام اخلاق ، فضائل حمیدہ ، ملکوتی صفات اور مقامات کی عظمت کے لحاظ سے تمام امت کے لئے موردِ ستائش ہیں ۔ سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام  علم ، معرفت ، ایمان ، عبادت اور تمام کمالات میں مشہور و معروف تھے ۔

عرب کا مشہور ادیب اور سخنور ’’جاحظ ‘‘ نے  کچھ اس طرح سے امام زین العابدین علیہ السلام کی توصیف کی ہے کہ : ’’ امَّا علىُّ بن الحسین بن علىّ فلم أرَ الخارجىَّ فى أمره إلّا كالشیعىِّ و لم أرَ الشّیعىَّ إلّا كالمعتزلىِّ و لم أرَ المعتزلىَّ إلّا كالعامىِّ و لم أر العامىَّ إلّا كالخاصىِّ و لم أجد أحداً یَتمارى فى تَفضیلِه و یَشُكّ فى تقدیمه ‘‘

جی ہاں ! سب لوگ حضرت امام علی بن الحسین علیہما السلام کے مقامِ والا و ارفع کے معترف ہیں  اور ایسا کوئی شخص نہیں ہے کہ جسے آپ کی فضیلت یا آپ کے مقدم  ہونے میں کوئی شک و شبہ یا تردید ہو ۔ حضرت امام سجاد علیہ آلاف التحیۃ و الثناء کے معجزات میں سے ایک گرانقدر اور بے نظیر و بے مثال کتاب ’’ صحیفۂ سجادیہ ‘‘ ہے ؛ ایک ایسی کتاب کہ جو توحیدی مطالب ، معرفتی حقائق ، اخلاقی موضوعات اور اعلٰی انسانی مکارم سے لبریز ہے  کہ جس میں انسانوں کو خالق کائنات سے گفتگو کرنے ، بندگی کے اظہار  اور بارگاہ ربوبیت میں خضوع و خشوع کا طریقہ و سلیقہ سکھایا گیا ہے ۔ خالق کائنات اور اس لامتنائی دنیا کے خالق کے سامنے انسان کو انتہائی حقیر دکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کی فکر کے افق کو رشد و کمال کے اعلیٰ ترین مراتب  تک پہنچایا گیا ہے  ۔

حضرت زین العابدین و سیّد الساجدین علی ابن الحسین علیه أفضل صلوات المصلین اس میدان میں یگانہ ہیں اور عالم اسلام ایسی کتاب کی وجہ سے سب دنیا والوں پر افتخار کرتا ہے ۔

آج انسانیت نے مادی علوم کے لحاظ سے بہت ترقی کی ہے اور انسان روز بروز علم و دانش کے بلند قلعوں کو فتح کر رہا ہے ، لیکن اس دوران ایک حقیقت گم ہو چکی ہے اور اس سے غفلت برتی جا رہی ہے اور وہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کے بغیر زندگی فضول (اور بے مقصد)  ہو جاتی ہے اور جس کے بغیر  انسان  حیرت و سرگرادنی کی دلدل میں پھنس جاتا  ہے ۔

اور وہ حقیقت دنیا کی حقیقی شناخت ، مافوق طبیعت دنیا اور غیب کی معرفت ہے ،  انسانوں کو پاکیزہ فطرت اسی کی جستجو کر رہی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ اپنی جان و مال اور جاہ و قدرت کو بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔

کون یہ گمشدہ حقیت دکھا سکتا ہے ؟ کیا ان کے علاوہ کوئی اور زندگی کا جاودانی کمال دکھا سکتا ہے کہ جو عالمِ غیب سے ارتباط رکھتے ہوں اور جو دنیا کی حقیقت کو پہچانتے ہوں ؟!

اور جب انسان اس عظیم شناخت و معرفت سے لبریز کتاب کے روبرو ہوتا ہے تو اسے اپنے پورے وجود سے خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ جس نے اس عزیز امام کے وسیلے سے ایسے اعلیٰ معارف دنیا والوں کی دسترس میں قرار دیئے ہیں ۔

اور آخر میں ہم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہم سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی عظیم شخصیت اور کتاب شریف صحیفۂ سجادیہ کے بارے میں بیان کرنا چاہئیں تو ہم بہت حقیقر ہیں اور ہم خداوند متعال کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں امام سجاد علیہ السلام کے نورانی معارف اور اس عظیم آسمانی گنج و خزانے سے آشنا فرمائے ، تا کہ ہم ان کی کچھ تعلیمات کو اپنی زندگی اور اپنے آج کے سماج میں اسوہ و نمونہ قرار دے سکیں ۔

میں اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام حاضرین کرام اور اس کا انعقاد کرنے والے محترم حضرات کا شکر گذار ہوں اور خداوند متعال سے دعاگو ہوں کہ حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خاص عنایات و توجہات ان کے شامل حال ہوں ۔ و السلام علیکم و رحمة الله و برکاتہ ۔

لطف الله صافی

23 محرّم الحرام ، سنہ 1441

 

موضوع:

روز مباہلہ کی عظمت و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کا پیغام – تهران، ذی الحجة‌ سنہ 1440

روز مباہلہ کی عظمت و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع حضرت آیة الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کا پیغام – تهران، ذی الحجة‌ سنہ 1440
روز مباہلہ کی تجلیل و تکریم کی مناسبت سے عالیقدر شیعه مرجع کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمدلله الذی جعلنا من المتمسکین بولایة امیرالمؤمنین و الائمة المعصومین علیهم السلام لاسیما مولانا بقیة الله المهدی عجل الله تعالى فرجه الشریف و رزقنا الفوز بلقائه ۔

السلام علیکم و رحمة الله 

ہم ماہ شریف ذی الحجہ کے مبارک ایّام اور بالخصوص مباہلہ کے بزرگ ، عظیم اور جاودانی دن کے احترام اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو نو نفس نفیس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرار دیئے جانے کی عید کی مناسبت سے آپ عزیزوں کی خدمت میں چند کلمات بیان کرتا ہوں :امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت اور بلا فصل خلافت پر قرآن کریم میں صریح نصوص دو طرح کی ہیں : نصوص جلیّه اور نصوص خفیّه ۔

قرآن کی نصوص جلیّه ؛ مثلاً آیهٔ شریفه «إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ» اور دیگر آیات کہ جن میں کچھ آٰات کو بزرگ دانشور نے کتاب شریف "خصائص الوحی المبین فی مناقب امیرالمؤمنین علیه السلام" میں اہل سنت کے محدثین ، ارباب جوامع ، صاحبان صحاح و مسانید سے معتبر اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

قرآن کی نصوص خفیّه ؛ قرآن کی نصوص جلیہ کے ساتھ ساتھ امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام اور تمام ائمہ طاہرین علیہم السلام کی بلا فصل خلافت و ولایت کو ثابت کرنے والی ایسی محکم نصوص اور قرآنی آیات بھی ہیں کہ جن میں استفہام کے ذریعہ سب کو مخاطب قرار دیا گیا ، مثلاً «أَ فَمَنْ یَهْدِی إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ یُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَ یَهِدِّی إِلا أَنْ یُهْدَى فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ» ان آیات سے واضح طور پر خلافت و امامت اور ہدایت کے امر میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے اظہر مصداق اور برحق ہونے کو استفادہ کیا جاتا ہے ۔

قرآن کی نصوص جلیّه میں سے ایک آیهٔ شریفه مباهله ہے ۔ قال الله تعالی: «فَمَنْ حاجَّكَ فِیهِ مِنْ بَعْد مَا جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوا نَدْعُ ابْناءَنَا وَ ابْناءَكُم وَ نِسَاءَنا وَ نِسَاءَكُمْ وَ انْفُسَنا وَ انْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّه عَلَی الْكاذِبینَ‏»۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے کہ جو اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے بلند مقام و مرتبہ اور فضیلت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔

على و حسن و حسین و فاطمه زهرا سلام الله علیهم اجمعین کو خداوند متعال کے حکم اور دستور کی بناء پر مباہلہ میں شریک کیا گیا ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مباہلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حاضر ہونے والے یہ چار مقدس اور عظیم نور خدا کے نزدیک سب سے زیادہ شائستہ اور سب سے زیادہ محترم تھے اور یہ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک سب سے زیادہ محترم تھے ۔

ان چار انوار مطہر کے لئے یہ فضیلت بڑی با عظمت ہے کہ ایسے اہم اور تاریخی واقعہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ ہوں اور خداوند متعال پوری امت ، چھوٹے بڑوں ، عورتوں اور مردوں میں سے صرف انہی کا انتخاب کرے ۔

جی ہاں !تاریخ اسلام میں چوبیس ذی الحجہ مباہلہ کے عظیم اور بزرگ دن کے عنوان سے درج ہے اور یہ اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کی اہم سند ہے ۔ عید سعید غدیر کی طرح اس دن کی بھی تجلیل و تکریم کی جانی چاہئے ۔ اس عظیم دن کی مناسبت سے شیعوں اور خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کے محبوں کو عالی شان مجالس و محال منعقد کرنی چاہئیں اور اس اہم موضوع پر مؤلفین و مصنفین ، خطباء اور مدحت کرنے والوں کو لکھنا اور بیان کرنا چاہئے ۔

آخر میں ؛ میں اظہار وجود کرنے کی وجہ سے انتہائی عاجزی و انکساری اور ناتوانی عذر خواہی کرتا ہوں ، کیونکہ اس بارے میں اظہار عرض وجود اولیاء ، عظیم ہستیوں اور بزرگوں کی شان  ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ ان تھوڑی سی گذارشات کو اہل بیت صلوات اللہ علیہم اجمعین کی ملکوتی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا ہو ۔

و السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

لطف الله صافی

23  ذی الحجة الحرام سنہ 1440

 

موضوع:

صفحات

Subscribe to RSS - پیام‌‌ها