وریز وجوهات
بي‎ترديد كساني كه مي‎خواهند اسلام را در آينه اعمال و رفتار اجتماع مسلمانان اين عصر ببينند و آن جمال نوراني و خورشيد جهان تاب را در چنين منظر و آيينه تيره و تار زيارت كنند، سخت در اشتباه‌اند. اگر تصوير چهره اسلام ممكن بود و يك نفر آگاه به تمام...
دوشنبه: 5 / 04 / 1396 ( )

مناجات امیرالمومنین علی علیه السلام سروده آیت الله العظمی صافی گلپایگانی
مناجات امیرالمومنین علی (ع) سروده آیت الله العظمی صافی گلپایگانی

مناجات امیرالمومنین علی علیه السلام
سروده آیت الله العظمی صافی گلپایگانی

 

 

شب به گوش آمدم از سوى  حجاز
ناله و صوت مناجات و نياز
ناله‌اى كز دل پاكي خيزد
حالت شوق و نشاط انگيزد
نغمه‌اى روح نشين جان پرور
اندر آن سرّ حقيقت مضمر
ناله پرشور، و صدا پرسوز است
شب ز انوار تجلّي روز است
رهروى حاكم مُلك و ملكوت
بنده‌اى واقف سرّ لاهوت
عاشقي مست ز صهباى وصال
گشته با خالق خود گرم مقال
حمد مي‌گفت و ستايش مي‌كرد
بر در دوست نيايش مي‌كرد
ناله‌ي نافذ سوزاني داشت
حالت زار پريشاني داشت
تنش از بيم خدا لرزان بود
نازنين ديده‌ي او گريان بود
يار، بي پرده تماشا مي‌كرد
خلوت خاص تمنّا مي‌كرد
اين چنين دُرّ حقايق مي‌سفت
راز در حضرت جانان مي‌گفت
اى كه ذكر تو بود اصل شفا
نيست سرمايه‌ي من غير رجا
از درت كس نشود خائب باز
پاكي از بخل و نياز و انباز
نعمتت هست فزون از احصا
حق شكرت نتوان كرد ادا
ياد تو ورد زبانم باشد
حُبّ تو مونس جانم باشد
فخرم اين بس كه تو مولاى مني
خالق و رازق و ملجاى مني
بر درت خوار و حقير آمده‌ام
زار و محتاج و فقير آمده‌ام
تو‌يى آن خالق قهّار جليل
منم آن بنده‌ي مسكين و ذليل
چه خوش است آن كه به درگاه خدا
بنده‌اى روى نهد بهر دعا
آن قدر عرض ادب كرد و نياز
كه جهان گشت پر از سوز و گداز
زان مناجات، ملايك مبهوت
دشت و صحرا همه جا بود سكوت
ناگهان گشت صدايش خاموش
جلوه‌ي دوست نمودش مدهوش
مرغ حق ماند ز تسبيح و نوا
من در انديشه‌ي آن نغمه سرا
يارب اين صوت مناجاتِ كه بود؟
كه ز من طاقت و آرام ربود؟
يارب اين‌صوت‌ روان‌بخش ز كيست؟
هاتفي گفت كه اين صوت علي است
اين مناجات علي شير خداست
كه از آن ولوله در ارض و سَماست
يكّه تاز غزوات اسلام
فاتح خيبر و احزاب لئام
اين علي بود كه در بزم حضور
هست چون موسي عمران در طور
شب رود چونكه به خلوتگه راز
به سوى دوست نمايد پرواز
همه شب سوز و گدازى دارد
با خدا راز و نيازى دارد
از رُخش نور خدا تابان است
محو در معرفت جانان است
صاحب مكرمت و لطف عميم
مظهر رحمت يزدان رحيم
خود به سر وقت يتيمان مي‌رفت
كلبه‌ي تنگ فقيران مي‌رفت
پرسش از حال ضعيفان مي‌كرد
با همه رأفت و احسان مي‌كرد
نشد از معدلتش كس محروم
خصم ظالم بُد و يار مظلوم
داشت مُلك دو جهان زير نگين
بُد غذايش نمك و نان جوين
آه كز ضربت بِن ملجم دون
حق نما صورت او شد پُر خون
چهره‌ي عدل شد از ظلم نهان
گشت اركان هدايت ويران
كُشته شد شير خدا حبل متين
كُشته شد رهبر ارباب يقين
يا علي! اى تو مُراد دل من
حُبّ تو مايه‌ي آب و گِل من
الكن از مدح تو نطق مَلك است
كمترين پايه‌ي قَدرت فلك است
نامه‌ام پر شده از جرم و گناه
روسياهم به تو آورده پناه
به درت  آمده محتاج عطا
"لطفي صافيت " اى بحر سخا
به ولايت، دل محكم دارم
پس چه باكي‌ ز جهنم دارم
بسته‌ي سنبل گيسوى توام
فخرم اين بس كه سگ كوى توام
من نجف را به جهان نفروشم
سر كويت به جنان نفروشم
حَرَمت روضه‌ي رضوان من است
دين و دنياى من ايمان من است

موضوع: 
جمعه / 26 خرداد / 1396
دنیائے اسلام کی ممتاز خاتون کے سوگ میں
دنیائے اسلام کی ممتاز خاتون کے سوگ میں (ماه رمضان کی مناسبت سے مخصوص تحریر /5)
(ماہ مبارک رمضان کے بارے میں آیت ‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات /5)

ہجرت سے تین سال قبل اور بعثت کے دوسوں سال ماہ مبارک رمضان میں مؤمنہ اور فداکار خاتون امّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اپنی پینسٹھ سال کی بابرکت عمر کے بعد رحلت فرما گئیں۔ شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے قول کے مطابق یہ دردناک واقعہ دس ماہ رمضان کو پیش آیا۔ (1) اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو خود اپنے ہاتھوں سے حجون مکہ مکرمہ میں دفن کیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے آپ کی رحلت اس قدر غم و اندوہ کا باعث بنی کہ آپ نے اس سال کو «عامُ الْحُزْن»  کا نام دے دیا۔

جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کا خاندان

حضرت خديجه سلام الله عليہا اپنے ماں باپ اور دودھیال و ننیہال کی طرف سے جزیرۃ العرب کے اصیل خاندان سے تھیں کہ جو صاحب شرافت و سيادت تھے۔

برجستہ صفات کی حامل

خدا نے یہ چاہا کہ یہ بے نظیر اور یگانہ خاتوں حرم نبوت اور امامت و ولایت کے گیارہ تابناک ستاروں کی ماں اور عقل، ادب، حکمت، بصیرت اور معرفت میں ممتاز اور بے مثال ہو۔

آپ کمالات، نبوغ فکری، فہم و فراست اور عقل و بینش کے لحاظ سے برجستہ نمونہ تھیں۔ مردوں اور عورتوں میں ان کی مثال نہیں ملتی۔  عفّت، نجابت، طہارت، سخاوت، حسن معاشرت، محبت اور وفا آپ کی کچھ برجستہ صفات تھیں۔

شوہر داری میں نمونه

ایک شوہر کے لئے اور بالخصوص اگر وہ گھر سے باہر اہم سماجی امور میں مصروف ہو اور اس کے عظیم مقاصد ہوں، نیز وہ جنگ اور جہاد کے فرائض بھی انجام دے رہا ہو اور اسے دشمنوں اور مخالفین کی جانب سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہو تو ایک دلسوز، مہربان، عقل مند، اور ہوشیار بیوی ہی اس کے دل کو آرام، روح کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور اس کی تھکاوٹ اور پریشانیوں کو ختم کرنے اور اس کے لئے استقامت اور ثابت قدمی کا باعث بن سکتی ہے۔

اگر شوہر گھر سے باہر دشمنوں سے برسر پیکار ہو اور اسے دشمن کی طرف سے وحشیانہ حملوں، تکالیف اور اذیتوں کا سامنا ہو اور گھر میں بھی نادان، بد اخلاق، ڈرپوک اور منہ پھٹ بیوی کا سامنا کرنا پڑے کہ جو تو یہ اسے اس کے ہدف و مقصد سے دور کرے، اس کی سرزنش کرے، جنگ چھوڑ کر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرے اور کہے کہ ہر دن جاہل لوگ اس کے شوہر پر سبّ و شتم کرتے ہیں، اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ جس سے وہ تھک گئی ہے  لیکن ان مشکلات کے حل کے لئے اپنے شوہر کی مدد نہ کرے تو اس صورت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ شوہر کی مشکلات کئی گناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ایسے شخص کی مشکلات اور دشواریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ نہ صرف اس کی بیوی مشکلات کو حل کرنے میں اس کی مدد کرتی ہے بلکہ اپنے غیر منطقی اعمال و افعال (منجملہ بے جا سرزنش اور اعتراض) کے ذریعہ اس کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خداوند متعال کی جانب سے سب سے اہم آسمانی رسالت پر مؤمور تھے اور مشرکین اپنی تمام تر توانائیوں ( منجملہ انہوں نے اپنے بہادروں، بدزبانی کرنے والے شعراء، سبّ و شتم کرنے والے اوباش افراد، عورتوں، مردوں، اپنوں اور بیگانوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محاذ آرائی کے لئے جمع کیا ہوا تھا) کے ساتھ آنحضرت کے مقابلہ میں کھڑے تھے اور جہاں تک ممکن ہو وہ آپ اور آپ کے اصحاب کو تکالیف پہنچاتے اور برا بھلا کہتے، آپ کی راستہ میں کانٹے بچھا دیتے، نماز کے دوران آنحضرت کی توہین کرتے اور انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب سے تعلقات ختم کر دیئے۔

ان تمام دشمنوں،  مشکلات اور مصائب کے ہوتے ہوئے اگر  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر واپس جاتے اور دیکھتے کہ ان کی زوجہ ( کہ جو قریش کی عورتوں کی سرادر ہیں اور جو صاحب شخصیت اور مال و دولت کے لحاظ سے ملیکہ ہیں)ان سے دلسوزی اور ترحم کر رہیں ہیں یا ان پر اعتراض کرتے ہوئے یہ تقاضا کر رہی ہیں کہ وہ اپنی اس دعوت سے دستبردار ہو جائیں تا کہ آپ کے دشمن آپ کی توہین نہ کریں اور آپ کا مذاق نہ اڑائیں؛ اگر ایسی صورت حال ہوتی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کوکیسی عجیب مشکل کا سامنا ہوتا؟ !

لیکن خدا کا لطف تھا کہ خدا نے دعوت اسلام کی حقانیت کو درک کرنے کے لئے قلب خدیجہ کو اس طرح سے کھول دیا تھا اور آپ کے دل کو اس طرح سے منور اور معرفت و حکمت سے سرشار کر دیا تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کبھی بھی گھر میں ایسا کوئی افسوسناک منظر نہیں دیکھا تھا۔

دعوت الٰہی کا استقبال

ڈاکٹر «بنت الشّاطي» کہتی ہیں: « کیا خدیجہ کے علاوہ کسی اور بیوی میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ اس تاریخی دعوت کے بعد قوی ایمان، کھلی آغوش اور محبت و عطوفت سے اس کا استقبال کرتی کہ جب وہ غار حرا سے آئے تھے اور دل میں اس کی سچائی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ آنے دیتی اور اسے تسلی دیتی کہ خدا اسے تنہا نہیں چھوڑے گا؟

کیا خدیجہ کے علاوہ اس قدر ناز و نعمت سے پلی ہوئی اور اس قدر احترام و آسائش میں زندگی بسر کرنے والی کوئی اور خاتون اپنی مکمل رضائیت سے اپنی عالی شان زندگی، بے حد مال و دولت اور توانگری سے منہ موڑ سکتی ہے اور کیا کوئی اور یہ سب چھوڑ کر زندگی کے سخت اور دشوار لمحات میں اپے شوہر کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے تا کہ وہ اپنے اپنے شوہر کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہوئے راہ حق میں آنے والی مشکلات اور مصائب میں اس کی مدد کرے؟ نہیں! ہرگز نہیں! صرف خدیجہ ہی ایسی خاتون تھی اور کوئی دوسری خاتون آپ کی طرح نہیں ہو سکتی مگر یہ وہ آپ کے ہم مرتبہ ہو» (2)

کائنات کی بہترین خواتین

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے کبھی بھی آپ کو فراموش نہیں کیا اور آنحضرت آپ کے اخلاق اور صفات کو یاد فرماتے تھے اور جو لوگ ان سے آشنا اور ان کے دوست تھے؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان پع لطف و احسان فرماتے تھے۔

«عائشه» سے روایت ہوئی ہے کہ: «رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم اس وقت تک گھر سے باہر نہ جاتے جب تک جناب خديجه سلام اللہ علیہا کو یاد نہ کر لیتے اور نیکی و اچھائی سے آپ کی مدح و ثناء فرماتے۔

ایک دن مجھے اس بات پر حسد ہوا اور میں نے کہا: وہ ایک بوڑھی عورت سے زیادہ کچھ نہ تھی اور خدا نے آپ کو ان کے بدلے بہتر عطا کیا ہے۔

پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم اس قددر غضبناك ہوئے کہ آپ کے سر کے سامنے کے بال غصہ سے ہل رہے تھے اور پھر آپ نے فرمایا: «نہیں! خدا کی قسم! خدا نے مجھے اس سے بہتر کوئی نہیں دیا، وہ مجھ پر تب ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے، اور تب میری تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کر رہے تھے، اور تب میرے ساتھ اپنا مال (راہ خدا میں) خرچ کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر دیا اور خدا نے ان سے مجھے اولاد عطا کی اور دوسری عورتوں سے محروم فرمایا ».(3)

«انس بن مالك» نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلّی الله عليه و آله و سلّم نے فرمایا: «کائنات کی بہترین عورتیں مريم بنتِ عمران ، آسيه بنت مزاحم ، خديجه بنت خُوَيْلِد اور فاطمه بنت محمّد صلّی الله عليه و آله و سلّم ہیں».(4)

«صحيحين» میں عائشه سے روايت ہوئی ہے کہ: «پيغمبر صلّی الله عليه و آله و سلّم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دی کہ جہان کوئی شور و شرابا اور رنج و زحمت نہیں ہے ».(5)

آج ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کے کمالات اور آپ کی بلند صفات کے گوشوں کو دنیا اور بالخصوص خواتین کے لئے بیان کریں۔ نیز اسلام، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور شوہر داری کے لحاظ سے لوگوں کے سامنے آپ کا تعارف نمونۂ عمل کے طور پر کرایا جائے اور ان کے راہ و روش کی پیروی کی جائے۔

 

حوالہ جات:

1. مسار الشیعة شیخ مفید رحمۃ اللہ ۔

2. اهل البيت، توفيق ابو علم، ص 102، ترجمه نقل بہ معنی۔

3. ایضاً۔

4. اسدالغابة، ج 5، ص 437 ـ الاستيعاب، بهامش الاصابة، ج 4، ص 284 و 285۔

5. الاصابة، ج 4، ص 282 ـ اسدالغابة ، ج 5، ص 438 اس کی مانند ایک اور حدیث تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 26، میں ذكر ہوئی ہے ۔

موضوع: 
شب قدر؛ مبدأ تاریخ كمال بشریّت
شب قدر؛ مبدأ تاریخ كمال بشریّت (ویژه‌نامه ماه رمضان/8)
(سلسله نوشتار‌های آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف درباره ماه مبارک رمضان/8)

 

شب قدر، شب نور، رحمت و شب نزول قرآن و مَطلع خیرات و سعادات، و هنگام نزول بركات و سرآغاز زندگی نوین بشر و مبدأ تحوّل و تاریخ كمال واقعی انسان‎هاست.

* شب قدر، شب آزادی بشر

شبی كه اگر نبود و نیامده بود، شب تیره بدبختی انسان به پایان نمی‎رسید و بامداد نیك‎بختی او طلوع نمی‎كرد و از بند اسارت اقویا و استعمارگران آزاد نمی‎گشت.

شب قدر، لیله مباركه، شب آزادی بشر و اعلان حقوق انسان و حكومت عدالت و دادگستری است. شبی كه برای ملّت‎های غفلت‌زده، ناآگاه و آلوده به فساد و تباهی و گمراهی، صبح هدایت و بیداری و آگاهی و رستگاری گشت و بزرگ‎ترین و گرامی‎ترین كتب آسمانی ـ ‎كه إلی الأبد و جاودان، راهنمای بشر و ضامن سعادت است ـ نازل شد و با اشراق ملكوتی، جهان را از ظلمت شرك و ثنویتِ مجوس، تثلیث ترسا، خرافات یهود و بت‎پرستی و... به روشنایی توحید و پرستش خدای یگانه راهبر شد.
اگر این شب نبود، تمدّن عظیم اسلامی با آن همه ارزش‎ها و علوم معارف، اخلاقیات، عرفان، فقه و... شخصیت‎های والای پرورش یافته در دامن آن نیز وجود نداشت.

* تأثیر شب قدر در ترقّی جامعه بشری

مدارجی كه بشر پس از نزول قرآن طی كرده و به منازل و معارجی كه پس از این می‎رسد، همه از بركات این شب و هدایت قرآن است.

برای این كه تأثیر این شب عزیز در پیشرفت اهداف انسانی و ترقّی جامعه بشری آشكار شود، موفقیت‎های بزرگ و حركت‎ها و جهش‎هایی را كه تحت تأثیر تعالیم آزادی بخش قرآن در علم و صنعت و تمدّن در طول چهارده قرن، نصیب انسان شده است‎ در نظر بگیریم، و با زندگی كم تحرّك و خاموش و كم نور پیش از آن مقایسه كنیم تا معلوم شود چگونه جنبش و نهضت اسلام و قیام مسلمین و رسالت پیامبر بزرگ خدا محمّد بن عبدالله ‎صلّی‎الله علیه وآله، ‎مبدأ اصلاحات، جنبش‎ها و انقلابات آزادی‌خواهانه و مترقّی گردید و كاروان بشریت را با سرعت و شتاب روزافزون، هر چه بیشتر به پیش برد و این آدمی‎زاد را كه صدها قرن بود با كندی و سستی و ناتوانی گام بر می‎داشت، در ظرف چهارده قرن به كجا رسانید و دامنه فكر و اندیشه او را از حدود زمین و ماه و كرات در گذرانید.

* قرآن، محور شب قدر

آری، قرآن افكار را دگرگون كرده و شخصیّت انسان را محترم شمرد و حقوق بشر را با صراحت اعلام كرد و پرستش افراد را محكوم كرده و قدرت‎های شخصی را در هم شكست و هیأت حاكمه را محدود و از آن تجمّلات، تبذیرها، امتیازات و حیف و میل بیت المال و غارت دست‎رنج مردم باز داشت و برای همه، حقوق مدنی متساوی قرار داد.

* راز پنهانی شب قدر

قرآن، شب قدر را «لیلة مباركة» خوانده و در شأن آن یك سوره نازل شده و شرافت آن شب، از هزار ماه بیشتر است. هر چند در تعیین شب قدر اختلاف است، ولی قول معتمد و محقّق ـ ‎كه از روایات معتبره گرفته شده ـ این است كه از شب «نوزدهم» و «بیست و یكم» و «بیست و سوّم» ماه رمضان بیرون نیست و به احتمال قوی ـ ‎كه برخی از احادیث هم مثل «روایت جهنی» مؤید آن است ـ شب قدر، شب بیست و سوم است و از برخی اخبار دیگر استفاده می‎شود كه هر یك از این سه شب «شب قدر» است.

به هر حال اگر به طور یقین، شب قدر معلوم نشود، نهان بودن آن متضمّن حكمت و مصلحتی بوده و ممكن است آن مصلحت این باشد كه مسلمانان تمام شب‎های این ماه، یا لااقل این سه شب را در عبادت و پرستش خدای تعالی و تلاوت قرآن و آموختن معارف، حقایق و تعالیم آن، بیشتر اهتمام نمایند و سراسر ماه را «ماه قرآن» قرار دهند و در شب‎های «نوزدهم» و «بیست و یكم» و «بیست و سوّم»، در توبه و استغفار و اصلاح احوال و خواندن قرآن و دعا، جدّ و جحد بلیغ نمایند و تا صبح بیدار باشند.

نكته دیگری كه در پنهان‌ماندن شب قدر به نظر می‎رسد، این است كه اگر این شب با این همه قدر و منزلت، مشخّص و شناخته شود، بسیاری از مردم به عبادت در آن اكتفا كرده و از فیض توجّه و دعا در سایر شب‎ها باز می‎مانند و بسا كه سبب غرور یا عجز بعضی شود؛ در حالی كه چون پنهان و نامشخّص است، مؤمنان در تمام شب‌هایی كه طرفِ احتمال است به ذكر الهی و توبه اشتغال می‌ورزند و از بركات و ثواب‎های بیشتری مستفیض شده و به واسطه تمرین زیادتر، ملكات فاضله در آن‎ها راسخ‎تر می‎شود.

* لزوم بهره‌برداری معنوی از شب‌های قدر

پس، شب قدر از فرصت‎های بسیار ارزنده و مغتنم است و ما باید این شب را برای تفكّر در اوضاع اسلامی و توجّه بیشتر به تعالیم قرآن مجید غنیمت بدانیم و به مقدار ارتباط خود با قرآن و احكام آن، كاملاً رسیدگی كنیم.

باید از لیالی متبرّكه «احیاء» ـ ‎كه در فضیلت آن و شب زنده‎داری و عبادت در آن در كتب دعا و حدیث، اخبار بسیار وارد شده‎ ـ استفاده كنیم. شب‌های قدر شب‌هایی است كه هر شخصی در آن به در خانه خدا برود، به سعادت حضور معنوی و لذّت تقرّب نایل می‎شود.

* شب دعا برای تعجیل در فرج امام زمان علیه السلام

از جمله وظایف مهمّ در این شب‎ها، تجدید عهد با ولیّ امر حضرت بقیة‎الله ‎عجّل الله تعالی فرجه‎ و خواندن دعای معروف: «اَللهم كُن لِوَلِیكَ...» می‎باشد؛ زیرا شب قدر به آن حضرت تعلّق خاص دارد و در آن شب ملائكه بر آن بزرگوار نازل می‎شوند و تمسّك به قرآن و عترت و كتاب مبین و امام مبین هم اقتضا دارد كه در شب قدر، مؤمنان به ثقلین قرآن مجید و آخرین امامِ عدالت‎گستر و بقیّه عترت هادیه و مصداق حقیقی «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِینَ اصْطَفَینا مِنْ عِبَادِنَا»؛ یعنی به حضرت حجّة بن الحسن العسكری ‎روحی و ارواح العالمین له الفدا تمسّك نموده و بدانند كه به تصریح اخبار متواتره ثقلین، امن و نجات از ضلالت و گمراهی، فقط در سایه تمسّك به قرآن و عترت حاصل می‎شود و برای نجات از این همه انحرافات و سرگردانی‎های گوناگون، راهی جز توسّل و تمسّك به هدایت «قرآن و عترت» نیست.

بايد همگان اين شب را غنيمت بدانيم؛ برای كسب معارف دين، توبه، تجديد عهد، اعاده حيثيت، دعا، خودسازی اخلاقي و نو كردن ايمان به خدا، يقين به حساب و معاد، پاك ساختن نيّات از غل و غش و كينه‌ی برادران اسلامی و درخواست خير، سعادت، هدايت و امنيت براي همه بنی نوع بشر و مخصوصاً دعا برای تعجيل در امر فرج صاحب اين شب‌ها حضرت صاحب‌الزّمان عليه السلام؛ آقايی كه «بيمنه رزق الوری و بوجوده ثبتت الأرض و السماء» است.

امّيد است جلوه‌های اسلامی در همه نهادها و برنامه‌ها از بركت دعاهای خالصانه در اين شب‌ها بيش از پيش شود و نقاط ضعف اقتصادی، اجتماعی و مناهی و ملاهی و معاصی كه هويّت جامعه را تهديد می‌كند در اين شب برطرف شود.

اينجانب از همه شب‌زنده داران در اين شب‌های مبارك قدر، خاضعانه استدعا دارم كه همه دل‌ها را متوجّه آن امام عزيز و مهربان، محبوب دل‌های عارفان و ذخيره بزرگ پيامبران نمايند و شب قدر را با ياد آن حضرت و دعا برای فرج موفور السّرورش و اجرای عدالت واقعی در سراسر گيتی تمام كنند؛ برای فرج آن حضرت دعا كنيد تا برای همه گشايش و فرج حاصل شود. وظيفه همه مسلمانان در اين شب‌های مبارك، دعای همگانی برای فرج است.

بياييد پيمانی محكم و استوار با آن حضرت داشته باشيم كه همه زندگی خود را در راه رضا و خوشنودی ايشان سپری نموده و غم و غصّه‌هايی كه آن بزرگوار برای مشكلات مسلمانان دارند را برطرف نماييم.

موضوع: 
«عزّت‌ در سایه‌ی وحدت»؛ درسی از دانشگاه «بدر»
«عزّت‌ در سایه‌ی وحدت» (ویژه‌نامه ماه رمضان/7)
(سلسله نوشتار‌های آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف درباره ماه مبارک رمضان/7)

یکی از وقایع مهمّی که در ماه مبارک رمضان اتّفاق افتاد، غزوه‌ی بدر بود که بنا به نقلی در هفدهم این ماه در سال دوّم هجرت، به وقوع پیوست.(1)
يكي از پيروزي‌هاي بسيار چشمگير و با عظمت و اهميّت تاريخ اسلام، پيروزي مسلمانان در زير پرچم توحيد و فرماندهي وجود شريف پيغمبر خدا صلّي الله عليه وآله وسلّم در جنگ بدر است.

* بدر، نخستین مقابله سپاه اسلام و کفر

اين جنگ، نخستين مقابله‌ی سپاه اسلام با كفر، و نبرد اهل توحيد با اهل شرك بود. مشركان در اين جنگ، از جنبه‌ی ساز و برگ و اسلحه و مهمّات بر مسلمانان برتري داشتند و نفرات و افراد آنها تقريباً، سه برابر سپاه اسلام بود.
پيروزي سپاه اسلام در اين جنگ، براي آينده‌ی اسلام، از ارزش و اهميّت ويژه‌اي برخوردار بود و در تعيين مسير تاريخ اسلام، به حسب ظاهر تأثير فراوان داشت.
اين جنگ، براي دين توحيد و آيين جهاني اسلام، ارزش حياتي داشت و فتحي كه در آن نصيب مسلمانان شد، پايه و مادر تمام فتوحاتِ آينده گرديد.
مسلمانان با صبر و استقامت، در اين غزوه جهاد كردند و صدق نيّات و راستي ايمان و اسلام خود را آشكار ساختند و خدا آنان را ياري نمود و در جنگ پيروز شده، دين را ياري كردند و پافشاري آنها در اين جهاد، سبب گسترش دعوت اسلام و ثبات اركان آن شد.
در اين غزوه، مسلمانان از بوته امتحان سربلند بيرون آمدند و نشان دادند كه توانايي رساندن دعوت اسلام به جهانيان را دارا هستند و در هنگام فداكاري و جانبازي، اسلام را از اموال و اولاد و جان‌هاي خود گرامي‌تر مي‌دارند.

* درس‌های «بدر»

اين غزوه، درس‌هاي زيادي به مسلمانان آموخت كه فراگيري و عمل به آن مي‌تواند آنها را به عزّت و عظمت صدر اسلام برساند كه ما در اين نوشتار به دو درس آن اشاره مي‌كنيم:

- درس اوّل: لزوم همراهی عمل با عقیده

تنها، قوّت دليل و برهان، وضوح علمي و استيلاي سلطان حقّ در ضماير و قلوب، بدون استيلاي آن بر عالم خارج و ظواهر اجتماع، سبب حكومت مطلق حقّ و محو باطل نخواهد شد و تنها عقيده به اينكه امري حق و امر ديگر باطل است، حقّ را در دنياي مردم و زندگي جامعه، ميزان و مرجع نساخته و باطل را از دنياي انسان‌ها بيرون نمي‌راند.
مادامي كه سلطنت باطل باقي باشد و مانند عصر فرعون، اهل حق، استضعاف شوند، جامعه از بركات حكومت حق محروم خواهد بود. بايد باطل، رانده و كوبيده شود و حقّ جانشين آن گردد؛ بايد حقّ و حقّ‌پرستان غالب و سپاه باطل مغلوب شود، و معناي (لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْباطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ)  ظاهر شود.
اسلام، دينِ حركت و انقلاب عليه چهره‌هاي ظلماني و باطل‌پرستان است و يك نظريّه و عقيده ساده ايجابي و علمي نيست.
اين درس، از دروس بسيار مهمِّ اين واقعه است كه مسلمانانِ عصر ما ضرورت آن را بايد درك كنند و علّت انحطاط مسلمانان را در عدم توجّه به آن جستجو نمايند.
اسلام در عصر حاضر، براي صدها ميليون از پيروانش به صورت يك عقيده ساده و نظريّه صحيح و استوار، كه منطق و علم و برهان آن را تأييد كرده، در آمده است و مفاهيم ديگر و لزوم ارتباطش با عالم خارج منظور نمي‌شود.
مسلمانان، با كثرت جمعيّت، نفوذ كشورها و ممالكي كه در اختيار دارند، حركت و نهضت، تشكيل حكومت و ترقّي صنعتي وعلمي و تطبيق اسلام را با واقعيّت اوضاع واجتماع خود، عملاً جزء مفاهيم اسلام نمي‌گيرند؛ بنابر اين جامعه جاهلي، در سراسر عالم اسلام، جايگزين جامعه اسلام شده و زشت‌ترين قيافه‌هاي مهيب ارتجاع، در اجتماعات آنها خودنمايي دارد.
پري نهفته رُخ و ديو، در كرشمه و ناز * بسوخت عقل ز حيرت كه اين چه بوالعجبي است

- درس دوم: لزوم اتّکا به خداوند

مؤمنان بايد متّكي به تدبير خدا و ياري او باشند و با توكّل، در برابر كثرت اهل باطل، خود را نبازند و شكسته نگردند و بدانند كه نيرومندترين عاملي كه در جهاد حق‌پرستان با اهل باطل، سبب غلبه و پيروزي است، ايمان به مبدأ و حقيقت، ثبات، استقامت، شرافت هدف و مقصد است.
مجاهدان غزوه بدر، با روحيّه قوي، عزم و شوق به ياري حقّ، ميل به شهادت و لقاء الله و اينكه جهاد، منتهي به اِحدي الحُسَنَينْ: يا نصر و پيروزي و يا شهادت و بهشت است، نبرد مي‌كردند و از غرور به اسلحه و زيادي مهمّات و تكبّر و خودخواهي پرهيز داشتند.
با اين پشتوانه‌ها، اهل حقّ هميشه پيروزند، اگر چه به ظاهر هم مغلوب شوند. اهل باطل مغلوبند، اگر چه به ظاهر غالب شوند.

* اسباب نصرت و پیروزی مسلمانان

به طور خلاصه، اسباب نصر و پيروزي چنانچه از آيات مربوط به غزوه بدر استفاده مي‌شود، عبارت است از:
- ثبات در هنگام جهاد و ديدار دشمن و در هر گونه مبارزه با اهل باطل.
- اتّصال به ذكر خدا و اتّكا به كمك و تدبير او.
- اطاعت خدا و رسول.
- پرهيز از نزاع و اختلاف.
- صبر و شكيبايي بر خطرات و مصايب جهاد.
- پرهيز از ريا كاري، ستم و خودبيني.
اينها صفاتي است كه تقريباً مسلمانان امروز كمتر دارا هستند و عامل شكست و ضعف آنها در برابر كفّار، فقدان اين صفات است.
مسلمانان صدر اسلام اگر در جنگي شكست مي‌خوردند يا از نظر ضعف اقتصادي، يا اسلحه و مهمّات جنگي دشمن را قوي‌تر مي‌ديدند، از نظر روحي عقب‌نشيني نكرده و تسليم نمي‌شدند و دارايي‌هاي خود را با ارزش‌تر از دارايي دشمن مي‌دانستند و نعمت ايمان را برتر از هر چيز مي‌شمردند و نيروي معنوي و فكري خود را بر قدرت مادّي و ظاهري دشمن غالب و برتر از آن مي‌ديدند.

* نقایص جوامع اسلامی عصر ما

بيشتر جوامع اسلامی عصر ما، به جاي اتّكا به ياري خدا و سرمايه‌هاي فكري و معنوي و شجاعت روحي، بيشتر به نيرو و قدرت مادّي بيگانگان اعتماد می‌كنند و در تقليد از عادات زشت آنها با يكديگر به رقابت پرداخته، با پشت پا زدن به عادات ديني و بي‌اعتنايي به التزامات اسلامي، خود را به بيگانگان نزديك مي‌سازند.
عدّه‌اي به گونه‌اي غربزده و خود باخته شده‌اند كه نمي‌توانند به طور فرض در يكي از مجامع بين المللي با لباس ملّي و اسلامي شركت كنند و حتّي از بستن كراوات كه بندي از بندهاي رقيّت است، غافل نمي‌شوند و در مجالس رسمي خويش هم به كسي كه اين بند را نبسته باشد، حقّ شركت نمي‌دهند، در حالي كه مي‌بينيم ملل ديگر، با همان لباس ملّي خود در هر مجلس رسمي و بين المللي شركت مي‌كنند و هيچ‌كس اين التزام را علامت عقب‌ماندگي آنها نمي‌شمارد.

* اتحّاد اسلامی، بزرگترین وسیله پیروزی

اتّحاد و اتّفاق اسلامي كه بزرگترين وسيله قوّت و شوكت و پيروزي مسلمانان بود، امروز به نفاق و تجزيه و تقسيم ممالك مبدّل شده و در هر نقطه واقليمي، اجتماعي مجزّا، منفرد و مستقل تشكيل گرديده و حكومت‌هاي كوچك و ضعيف، تشتّت و تفرّق را در عالم اسلام رهبري كرده و براي مصالح و منافع شخصي خود هرگز حاضر نيستند واقعاً عليه منافع استثمارگران شرق و غرب قدمي بردارند و به سوي وحدت اسلامي و برداشتن اين فاصله‌هاي دروغين و جعلي پيش بروند و بدين‌سان، عالم اسلام را از قوّه مركزي و مركز ثقل و يك مجمع يا هيأت يا حكومت واحدي كه جهان اسلام را رهبري مي‌كند، محروم مي‌سازند.
اجتماع واحد صدر اسلام، قبايل متشتّت و حكومت‌هاي ملوك الطوايفي، قبيله‌اي واصطكاك منافع و پراكندگي‌هاي آنها را تحت لواي اسلام و پرچم توحيد ويكتاپرستي، به اتّصال، هماهنگي، هم فكري و وحدت تبديل كرد.
در آن روز، مسلمان‌ها تحت رهبري پيامبر اكرم صلی الله علیه و آله و سلم، حكومتي واحد و ملّتي يكپارچه داشتند و در سرتاسر عالم اسلام، چيزي به نام «قوميّت گروهي»، «تجزيه‌طلبي» و ... وجود نداشت.
هيچ‌كس در فكر تصاحب منطقه يا ناحيه اي براي خويش نبود. آنان كه عليه حكومت‌ها قيام مي‌كردند، هر كدام مسلمان و پيرو افكار اسلامي بودند، هدفشان تجزيه نبود، بلكه تعديل، اصلاح و برقرار كردن حكومت اسلامي بود.
نظاير اين نقايص و عيوب است كه جامعه مسلمانان را بيمار ساخته و مسلمانان صدر اسلام از آن مصون بودند و تا اين بيماري‌ها درمان نشود، امّتِ اسلام توانايي تجديد مجد و عظمت گذشته را نخواهد داشت.

پی‌نوشت‌ها:
1. سيره‌ی ابن هشام، جلد 2، صفحه 260 و 261.

 

موضوع: 
احیاگر مصلح (کریم اہلبیت امام حسن مجتبی علیہ السلام)
(ماہ مبارک رمضان کے بارے میں آیت ‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات /6)

حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام جیسے عظیم الشأن اور عالیقدر رہبر و پیشواء کی شخصیت اس سے کہیں عظیم ہیں کہ مجھ جیسا حقیر ان کے بارے میں کوئی مقالہ یا کوئی کتاب لکھے۔

 اہلسنت دانشوروں کی نظر میں

بزرگ شیعہ مؤلفین و مصنفین اور دانشوروں کے علاوہ اہلسنت کے بھی بزرگ علماء نے حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی حیات طیبہ اور آپ کی تاریخ زندگی کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں۔ اور تاریخ، روایات، تفسیر، اخلاق، تراجم اور دیگر علوم کی دسیوں کتب میں انہوں نے  امام حسن مجتبی علیہ السلام کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں؛ منجملہ یہ کتابیں ملاحظہ فرمائیں: «صحيح بخاري»، «صحيح مسلم»، «سنن ترمذي»، «سنن ابن ماجه»، «طبقات ابن سعد»، «سنن ابي داود»، «خصايص نسايي»، «جامع الصّغير»، «مصابيح السنّة»، «اسعاف الرّاغبين»، «نورالأبصار»، «تذكرة الخواص»، «الاتحاف»، «كفاية الطّالب»، «شرح نهج البلاغه ابن ابي الحديد»، «مرآة الجنان»، «ملتقي الأصفياء»، «نظم درالسمطين»، «فرايد السّمطين»، «سيرة حلبيه»، «اسد الغابة»، «الاستيعاب»، «الاصابة»، «تاريخ الخلفاء»، «الفصول المهمّة» و ....

اب ہم اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے «توفيق ابو علم»  کی كتاب «اہل البيت» کے کچھ حصوں کا ترجمہ پیش کرتے ہیں۔  اہلسنت کی یہ کتاب سنہ 1390 ہجري میں مصر میں شائع ہوئی۔ اور ہم یہاں اسے کچھ اضافات کے ساتھ ذکر نقل کرتے ہیں:

 بے شمار فضائل

شیعہ اور اہلسنت دونوں کا اس عقیدے پر اتفاق ہے کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام اصحاب «كساء» میں سے ایک ہیں کہ جن کی شأن میں  آيۂ «تطہير»نازل ہوئی۔ نیز متواتر حدیث «ثقلين» میں بھی شامل ہیں اور قرآن کی رو سے آپ کا شمار ان چار افراد میں بھی ہوتا ہے جو پيغمبر صلّی ‌الله عليه و آله و سلم کے ہمراہ «نجران» کے نصاریٰ کے ساتھ مباہلہ کے لئے حاضر ہوئے۔

«اسامة بن زيد» نے روايت كی ہے کہ پيغمبر صلّي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: یہ دونوں (حسن اور حسين)، میرے بیٹے ہیں اور میرے نواسے ہیں. خدايا! میں انہیں دوست رکھتا ہوں؛ پس تو انہیں دوست رکھ اور جو انہیں دوست رکھتا ہے تو انہیں دوست رکھ ۔

«عائشه» نے نقل كیا ہے کہ: «اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ كانَ يَأخُذُ حَسَناً فَيَضُمْهُ اِلَيهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللّهُمَّ إنَّ هذا ابْني وَ اَنَا اُحِبُّهُ فَاَحِبَّهُ وَ اَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ»

«انس بن مالك» کہتے ہیں: حسن عليه السّلام؛ پيغمبر صلّي الله عليه و آله و سلم کی پاس آئے اور میں نے چاہا کہ انہیں پيغمبر صلّي الله عليه و آله و سلم سے دور کروں تو پيغمبر صلّي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: « وای ہو تم ہر اے انس! تم میرے بیٹے اور میرے ثمرِ حیات کو مجھ سے دور کر رہے ہو. جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے خدا کو اذیت دی .»

 مكارم اخلاق

امام حسن عليه السّلام نے خانهٔ وحي میں پرورش پائی اور آپ مدرسۂ توحيد اور اپنے جد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آگوش لطف و رحمت کے پروردہ ہیں۔

امام حسن علیہ السلام مکارم اخلاق، صفات حسنہ اور نیک سیرت کے لحاظ سے نمونہ تھے اور آپ کی غیر معمولی محبوبیت کی ایک وجہ آپ کا وہی اخلاق کریمہ ہے اور آپ کے انہی اوصاف حمیدہ کی وجہ سے ہر کوئی آپ کی سراہتا ہے اور آپ کی مدح و ثناء کرتا ہے۔

ادب، حِلم، فصاحت، صداقت، سخاوت، شجاعت، تقوا، عبادت، زہد، تواضع اور تمام اوصاف حمیدہ آپ میں جمع تھے اور آپ سے خُلق و خلق محمّدی سے آشکار ہوتا تھا۔

 عذاب الٰہی کا خوف

حضرت امام حسن علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے زیادہ عابد، زاہد اور فاضل شخص تھے۔ آپ جب بھی حج کا ارادہ کرتے تو پیدل سفر کرتے اور کبھی حج کے سفر کے لئے پا برہنہ جاتے۔ اور جب آپ وضو کرتے تو آپ  کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا اور رنگ زرد پڑ جاتا اور آپ کسی حال میں بھی خدا کے ذکر کو ترک نہ کرتے۔ آپ پارسا ، بردبار اور صاحب فضل تھے اور آپ خوف خدا رکھتے تھے۔

 بے نظیر زہد

امام حسن مجتبی علیہ السلام کے زہد کا یہ عالم تھا کہ ان تمام اسباب و وسائل کو ترک کر دیا تھا کہ جو دنیا کی طرف راغب کریں اور خانۂ آخرت اور پرہیزگاروں کی منزل کی جانب متوجہ تھے اور آپ نے خود بیان فرمایا ہے کہ: «مَنْ عَرَفَ اللهُ اَحَبَّهُ، وَ مَنْ عَرَفَ الدُّنْيا زَهَّدَ فيها، وَ الْمُؤْمِنُ لايَلْهُو حَتّي يَغْفُلَ، اِذا تَفَكَّرَ حَزَنَ»

امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے حکومت و خلافت سے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے لئے قطع نظر کیا۔ امام علیہ السلام جب بھی انسان کی موت اور اس کی منزل کو ذہن میں تصور کرتے تو بے ساختہ رونا شروع کر دیتے اور جب بھی حشر و نشر اور پل صراط سے گذرنے کو تصور کرتے تو گریہ کرتے اور جب خدا کی بارگاہ میں حساب و کتاب کو یاد کرتے تو اس قدر گریہ کرتے کہ بے ہوش ہو جاتے۔

 رحمت الٰہی کا نمونہ

حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مانند رحمت الٰہی کا نمونہ اور پیکر تھے ؛  جو ناامید اور غمگین دلوں میں امید کی شمع روش کر دیا کرتے تھے۔ آپ نادار اور لاچار لوگوں سے ملنے جاتے، بیماروں کی عیادت کرتے ، جنازوں میں شرکت فرماتے، مسلمانوں کی دعوت کو قبول کرتے اور آپ کی یہ کوشش ہوئی کہ کہیں کوئی آپ سے رنجیدہ کاطر نہ ہو جائے، آپ کی طرف سے کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی، آپ فقراء سے ساتھ بیٹھتے اور برائی و بدی کا نیکی سے جواب دیتے۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا حلم

حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام حقیقی معنوں میں ایک انسان کامل اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اخلاق حسنہ کا کامل نمونہ تھے۔ غصہ سے کبھی آپ پر ہیجانی کیفیت طاری نہ ہوتے اور آپ غصہ کے عالم کوئی کام انجام نہ دیتے اور آپ کا عمل ان آیات مبارکہ کا نمونہ تھے کہ:  «وَ الْكاظِمينَ الْغَيْظَ وَالْعافينَ عَنِ النّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنينَ»؛ «وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلاَالسَيِّئَةُ، اِدْفَعْ بِالَّتي هِي اَحْسَنُ»

امام حسن مجتبی علیہ السلام اپنے دشمنوں کی ہر حرکت کا صبر و استقامت اور بردباری سے جواب دیتے یہاں تک کہ اہلبیت علیہم السلام کے ایک خبیت ترین دشمن «مروان حكم» نے آپ کے حلم اور بردباری پہاڑ سے تشبیہ دی ہے۔

امام حسن مجتبی علیہ السلام حلم و بردباری اور عفو و بخشش میں اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح دنیا والوں کے لئے نمونہ تھے۔ تاریخ نے آپ کے اخلاق کے کچھ نوادرات کو محفوظ کیا ہے اور جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام دنیائے اسلام میں اخلاقیین کے لئے اسوہ و نمونہ اور ادب و اخلاق کے بانی ہیں۔

 لوگوں سے محبت

کریم اہلبیت امام حسن علیہ السلام شیریں بیاں، کوش اخلاق، صاحب حسن معاشرت و الفت تھے اور لوگوں کے محبوب تھے۔ بوڑھے، جوان، اور عام لوگ سب آپ کو آپ کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے دوست رکھتے تھے۔ آپ ہمیشہ لوگوں پر عطا و بخشش کرتے چاہے وہ آپ سے درخواست کرتے یا چاہے وہ آپ سے کسی چیز کا تقاضا نہ کرتے۔

آپ نماز صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک تعقیبات انجام دیتے اور پھر لوگوں سے ملاقات کے لئے جاتے اور ان سے الفت و محبت سے پیش آتے اور جب ظہر کی نماز کا وقت ہوتا تو مسجد میں بیٹھ جاتے اور لوگوں کو علم و ادب کی تعلیم دیتے۔

یہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فضائل و مناقب کے (بحر بیکراں میں سے ) کچھ ناچیز قطرے تھے اور آپ کے فضائل و مناقب اس کہیں زیادہ ہیں کہ جنہیں بیان کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں ہم کریم اہلبیت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں۔

آن که حریمش حَرَم کبریا است / خاک درش کعبه اهل وفا است

آن که سراپا همه لطف است و مهر / و آن که دلش منبع فیض خدا است

شخص شرف گوهر بحر کَرَم / و آن‌که رُخش آینه حق‌نما است

اُسوه حلم است و مُدارا و صبر / مظهر بخشایش و صلح و صفا است

عین کمالات و خصال نکو/  معدن ایثار و گذشت و حیا است

آن‌ که پس از شاه ولایت على / مقصد و مقصود ز دو انّما است

آیه تطهیر و فمن حاجّک / سوره‌اى از منقبتش هل اتى است

عالم تفسیر و بطون کتاب / گواه آن کریمه قل کفى است

در کف امرش همه کون و مکان / تابع فرمان جنابش قضا است

ز ابر عطایش همگان بهره‌مند / غم‌زدگان را کرمش غم‌زدا است

همچو نبى صاحب صفح جمیل / مُلتزم عهد الست و بلى است

صاحب این وصف و علامات کیست؟ / کاین همه‌اش قدر و مقام و بها است

سبط مهین حافظ شرع مبین / سیّد خوبان حسن مجتبى است

موضوع: 
ولی عہدی کو قبول کرنے کے فوائد اور حکمتیں
(ماہ مبارک رمضان کے بارے میں آیت ‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف کے سلسلہ وار نوشتہ جات /۲ )

ماہ مبارک رمضان میں وقوع پذیر ہونے والے تاریخی حوادث اور واقعات  میں سے ایک حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی ولی عہدی اور بیعت تھی۔ شیخ مفید (۱) اور دوسرے مؤرخین کے مطابق یہ واقعہ یکم ماہ مبارک رمضان سنہ ۲۰۱ ہجری کو پیش آیا۔

مأمون الرشید کی جانب سے امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کو ولی عہدی سونپنا ایک سیاسی چال تھی اور امام رضا علیہ السلام بھی اس پیش کش کے جواب میں خراسان کی طرف روانہ ہو گئے اور اس مختصر مقالہ میں ہم امام رضا علیہ السلام کی خراسان کی طرف روانگی کے مقبول ہونے کے بارے میں کوئی بحث نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ ہماری بحث سے خارج ہے ، نیز ہم ان ظریف نکات اور مو شکافیوں میں وارد نہیں ہونا چاہتے اور ہم امام علیہ السلام کے اس عمل پر لب کشائی نہیں کر سکتے چونکہ امام علیہ السلام کا کردار و فرمان اور رفتار و گفتار متواتر روایات اور حکم عقل کی رو سے ہمارے لئے حجت ہے اور امام علیہ السلام جو حکم بھی دیں اسے کسی چون و چرا کے بغیر انجام دینا چاہئے چونکہ امام علیہ السلام کا فرمان درحقیقت  خدا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے۔

کوتاہ فکر ، چھوٹی سوچ اور تنگ ذہن کبھی بھی ان حقائق کی انتہا تک نہیں پہنچ سکتے۔ ان بزرگ اولیائے الٰہی یعنی محمد و آل محمد ( جو سردار اولیاء ہیں) کے اقدامات کے بارے میں یہی کہہ سکتے ہیں: «عِبادٌ مكرَمُونَ لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهِ يَعْمَلُونَ»(۲)

لہذا ہم اس مختصر تحریر میں اپنی سوچ و فکر کی محدودیت اور اس وسیع و عریض میدان اور بحر بیکراں میں اپنی توانائی کے مطابق اس بیعت کی حکمتوں اور اس کے فوائد کو بیان کریں گے:

* معارف کی نشر و اشاعت کا سنہری موقع

ہارون الرشید کے زمانے میں شدید اختلاف اور حضرت امام موسی بن جعفر علیہم السلام کی طولانی قید کے بعد شیعہ اور اہلبیت علیہم السلام کے طرفدار علنی اور رسمی طور پر اہلبیت علیہم السلام تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے  اور حکومت کی سختیوں  کی وجہ سے اس المی مدرسہ میں تعطیل ہو چکی تھی کہ جس کا افتتاح حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا تھا اور جو عالم اسلام پر خورشید تاباں کی طرح نور افشانی کر رہا تھا۔ پس اگر اس اختلاف میں اور شدت آ جاتی تو علوم آل محمد علیہم الصلوۃ و السلام بتدریج لوگوں کی دسترس سے دور ہو جاتے۔ کتابوں کی تألیفات، ان کی نشر و اشاعت، روایات کی جمع آواری اور نقل روایت پر حکومت نے سخت نظر رکھی ہوئی تھی نیز ان سب امور پر حکومتی جاسوسوں کی بھی دقیق نظر تھی۔ پس اگر امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام یہ اقدام نہ فرماتے تو علوم اہلبیت علیہم السلام میں سے علماء و محدثین کے ہاں اس قدر علم کی بھی اشاعت نہ ہوتی  اور اس قدر علم بھی باقی نہ رہتا۔

آزادی خواہ، شیعوں اور کتاب و سنت کے مکمل نفاذ کے طالب حضرات کے لئے ظاہری آزادی کا وجود بھی ایک گرانقدر اور سنہری موقع شمار ہوتا ہے کیونکہ اس موقع کے دوران اپنے افکار  کی نئے سرے سے نشر و اشاعت کی جا سکتی ہے۔ نیز اس دور میں نوجوانوں اور اس طبقہ کو صحیح توحیدی اور اسلام کے آزادی بخش افکار سے آشنا کیا جا سکتا تھا کہ جنہوں نے ہارون الرشید کے زمانے میں حضرت امام موسی بن جعفر علیہم السلام کی قید کے دوران  بنی عباس کے مکاتب و مدارس میں تربیت حاصل کی تھی۔ اور اس کے ضمن میں ان کے سامنے شیعہ مذہب کو متعارف کروایا جا سکتا ہے اور تمام اسلامی اقوام و ملل تک رسالت اسلام کو پہنچانے کے لئے ایک تحریک اور نہضت برپا کی جا سکتی ہے۔

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہم السلام کی ولی عہدی اور ظاہری طور پر مأمون کا اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف مائل ہونے سے دانشوروں، محدثوں اور شیعہ شعراء کے لئے ایک بہترین موقع تھا کہ اس دوران انہوں نے اسلامی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور علوم و فضائل آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین  کی تبلیغ و ترویج کے لئے جو اقدامات کئے  ان کی ماضی میں نظیر و مثال نہیں ملتی۔

لیکن اگر امام رضا علیہ السلام کوئی دوسری روش اختیار کرتے اور انقلاب و جنگ کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے اور مأمون کے مقابلہ میں آ جاتے تو بیشک آپ کو بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرتا پڑتا۔ نیز امام علیہ السلام کی خلافت کے لئے سیاسی اور اجتماعی و سماجی فضا سازگار نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے حق پرستوں کو شکست ہو سکتی تھی اور ہارون الرشید کے زمانے کی بنسبت اختلافات میں اور زیادہ شدت آ سکتی تھی۔ اور اگر امام علیہ السلام یہ راستہ اختیار کرتے تو فکری انقلاب کے لئے یہ سنہری اور بے نظیر موقع بھی ضائع ہو جاتا۔

* بنی ‌عبّاس کا اہلبيت عليہم‌السلام کی حقانیت کا اعتراف کرنا

بنی عباس کے اکثر و بیشتر خلفاء نے اہلبیت اطہار علیہم السلام سے اپنے تمام تر بغض و عباد اور حسد  کے باوجود کہیں نہ کہیں اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے فضائل کو نقل کیا ہے اور وہ ان ہستیوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی وارث  اور صرف انہیں ہستیوں کو ہی مسلمانوں کی رہبری و قیادت اور خلافت کے لائق سمجھتے تھے اور وہ ان کے فضائل و علوم اور صلاحیت کا انکار نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی وہ ان ہستیوں کو نازیبا حرکات و سکنات سے متہم کر سکتے تھے۔ اس بناء پر انہوں نے جاہ و ریاست اور سلطنت کی محبت اور لالچ میں خلافت کو غصب کیا اور اسی وجہ سے وہ ظلم و ستم، خونریزی اور بڑے بڑے مظالم کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے بزرگ سادات کو قید کیا، انہیں قتل کیا، نیز شیعوں کو طرح طرح کی تکالیف دیں۔

ان سب کے باوجود مأمون کے زمانے تک اس بارے میں کوئی عام ، رسمی اور حکومتی اعلان صادر نہیں ہوا۔ بنی عباس کے خلفاء ظاہری طور پر خود کو خلافت کے لئے شائستہ سمجھتے تھے اور خلافت کو اپنا حق شمار کرتے تھے۔

امام رضا علیہ السلام کی ولی عہدی کا موضوع ایک رسمی اور حکومتی اعتراف تھا؛ جو کہ ایک سند ہےکہ جس نے بنی امیہ و بنی عباس کی تمام تر تبلیغات اور دعووں پر خطِ بطلان کھینچ دیا تھا۔ اگرچہ مأمون نے اس کے باوجود خلافت سے کنارہ کشی اختیار نہ کی اور خلافت ؛ امام علیہ السلام کے سپرد نہ کی لیکن اس کا یہ اقدام خود اس کے خلاف اس کا اپنا اقرار تھا کہ جس کی وجہ سے اسے مسند خلافت کا غاصب شمار کیا گیا۔

میرے عقیدہ کے مطابق تاریخ میں یہ واقعہ ایک بے مثال اور بے  نظیر فتخ اور کامیابی ہے۔  اور یہ ہماری سوچ سے بڑھ کر امام رضا علیہ السلام کی حقانیت کا اعتراف ہے۔

* مکتب اہلبیت علیہم السلام کے سامنے مختلف ادیان و مذاہب کا خضوع

امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام کا خراسان کی جانب سفر کرنا ایک مناسب موقع تھا کہ ائمہ اطہار علیہم السلام کے پاس موجود میراثِ نبوت شمار ہونے والے علوم اور معارف اسلام کی نشر و اشاعت ہو اور وہ علماء اور دانشوروں کی دسترس میں قرار پائیں۔

مأمون کا زمانہ مسلمانوں کے لئے فلسفی مکاتب و اصطلاحات سے آشنائی کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں فلسفی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا اور مأمون نے بھی اس سے استفادہ کیا اور وہ خود ذاتی طور پر اس کی ترویج و تشویق کرتا۔  اور اس کے نتیجہ میں اسلامی عقائد اور مسائل میں فکری اشکلات و شبہات کی تعداد میں اضافہ ہوا  اور دوسری طرف سے دیگر ادیان کے علماء اور مسلمانوں میں بحث اور مناظروں میں بھی  وسعت آ گئی اور یوں مذہبی ابحاث رائج ہو گئیں۔

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام نے مسلمانوں کے عقائد کی حفاظت اور ہر قسم کے شک و شبہ اور اعتراض و اشکال کو ردّ کرنے کے لئے مختلف ادیان کے علماء سے مناظرے کئے اور انہیں شکست دیتے ہوئے لاجواب کیا۔ ان بحث مباحثوں اور مناظروں کی تفصیلات تاریخ و حدیث کی کتابوں میں درج ہیں کہ جو آج کے زمانے میں فنّ احتجاج و استدلال اور عقائد کے اثبات کے لئے بہترین سرمایہ شمار ہوتے ہیں اور جن سے تمام علماء و دانشور استفادہ کرتے ہیں۔ اس زمانے میں جب بھی امام علیہ السلام کی خدمت میں فلسفی مسائل کے متعلق کوئی بھی اعتراض و اشکال پیش کیا جاتا تو وہ آنحضرت سے اس کا کافی و شافی جواب سنتے۔

امام رضا علیہ السلام کے علم و فضل نے دنیائے اسلام کو بھر دیا اور آپ کے اس سفر نے علمی ابحاث، دینی معارف،اسلامی  علوم ، عقائد اور فقہ کی تجدید کی اور اسی وجہ سے امام رضا علیہ السلام کو «مجدّد رأس مأة ثانيه» کہا جاتا ہے۔

امام رضا علیہ السلام کی رحلت کے نصف صدی سے بھی کم مدت کے بعد تألیف ہونے والی کتاب «عيون اخبار الرّضا» میں اعلی اور معتبر اسناد سے استفادہ کیا گیا ہے اور اس کتاب نے آنحضرت کے مقام علم و جلالت اور آپ کی بے نظیر عظمت کے چند گوشوں کو کسی حد تک بیان کیا ہے۔ اہلسنت کے بزرگ علماء و مشائخ بھی امام رضا علیہ السلام سے خاص عقیدت رکھتے تھے اور آپ کو بزرگ اولیاء میں شمار کرتے تھے اور انہوں نے بھی آپ کی مدح و ثناء میں کثرت سے اشعار و قصائد لکھے ہیں۔

میری نظر میں حضرت امام رضا علیہ السلام کی اس روش کے بہترین اور اہم ترین آثار میں سے ایک یہی ہے کہ مکتب اہلبیت علیہم السلام کے دامن سے وابستہ ہو کر دوسرے ادیان و مذاہب نے اس مکتب کی معرفت حاصل کی اور آنحضرت کے علم کے سامنے خضوعانہ طور پر پیشانی رکھی۔

 

حوالہ جات:

۱. مسار الشيعة، ص ۲۷.

۲ . وہ سب اس کے محترم بندے ہیں ، جو اکسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں.»/سوره انبياء، آيه ۲۶ اور ۲۷۔

موضوع: 
احیاگر مصلح
احیاگر مصلح( ویژه نامه رمضان /6)
(سلسله نوشتار‌های آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف درباره ماه مبارک رمضان /6)

شخصيّت والاي حضرت امام حسن مجتبي عليه السلام آن پيشواي عاليقدر، بسيار عظيم‌تر از آن است كه امثال حقير بتوانيم با نگارش مقاله‌‌ای آن را شرح دهيم يا درباره آن كتابی بنگاريم.

 از نگاه دانشمندان اهل سنّت

علاوه بر دانشمندان و نويسندگان بزرگ شيعه، علماء و بزرگان اهل سنت كتب بسياري در شرح احوال و تاريخ زندگي آن حضرت نوشته شده، و در ده ها كتاب تاريخي، روايي، تفسير، اخلاقي، تراجم و ...، فضايل و مناقب آن بزرگوار را بيان كرده اند؛ كتبي نظير: «صحيح بخاري»، «صحيح مسلم»، «سنن ترمذي»، «سنن ابن ماجه»، «طبقات ابن سعد»، «سنن ابي داود»، «خصايص نسايي»، «جامع الصّغير»، «مصابيح السنّة»، «اسعاف الرّاغبين»، «نورالأبصار»، «تذكرة الخواص»، «الاتحاف»، «كفاية الطّالب»، «شرح نهج البلاغه ابن ابي الحديد»، «مرآة الجنان»، «ملتقي الأصفياء»، «نظم درالسمطين»، «فرايد السّمطين»، «سيرة حلبيه»، «اسد الغابة»، «الاستيعاب»، «الاصابة»، «تاريخ الخلفاء»، «الفصول المهمّة» و ....

اينك براي رعايت اختصار، ترجمه قسمت‌هايي از كتاب «اهل البيت»، تأليف «توفيق ابوعلم» كه يكي از تازه‌ترين تأليفات اهل تسنّن در سال 1390 هجري قمري است و در مصر نگاشته شده است را با اندك اضافاتي نقل مي‌كنيم:

 فضايل بي‌شمار

اهل تشّيع و تسنّن، به اتّفاق بر اين عقيده‌اند كه آن حضرت، يكي از اصحاب «كساء» است كه آيه «تطهير» در شأن آنان نازل شد؛ و طبق حديث متواتر «ثقلين»، عدل قرآن، و نيز يكی از چهار نفری است كه پيغمبر صلّی‌الله عليه وآله او را برای مباهله با نصارای «نجران»، حاضر فرمود.

«اسامة بن زيد» روايت كرده كه پيغمبر صلّي الله عليه وآله فرمود: اين دو (حسن و حسين)، پسران من، و پسران دخترم هستند. خدايا! من آنها را دوست دارم؛ پس، آنها را دوست بدار و هر كه آنها را دوست مي‌دارد، دوست بدار.

«عايشه» نقل كرده كه: «اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ كانَ يَأخُذُ حَسَناً فَيَضُمْهُ اِلَيهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللّهُمَّ إنَّ هذا ابْني وَ اَنَا اُحِبُّهُ فَاَحِبَّهُ وَ اَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ»

«انس بن مالك» مي‌گويد: حسن عليه السّلام بر پيغمبر صلّي الله عليه وآله وارد شد. خواستم او را از پيغمبر صلّي الله عليه وآله دور سازم كه پيامبر صلّي الله عليه وآله فرمود: «واي بر تو‌اي انس! پسرم و ثمره زندگي ام را واگذار. هر كه او را اذيّت كند، مرا اذيّت كرده؛ و هر كه مرا اذيّت كند، خدا را اذيّت كرده است.»

 مكارم اخلاق

امام حسن عليه السّلام در خانه وحي، پرورش يافت و در مدرسه توحيد، و در آغوش لطف و مرحمت جدّش پيغمبر صلّی الله عليه وآله وسلّم مورد تربيت قرار گرفت.

ايشان در مكارم اخلاق و خوی پسنديده و روش نيكو، نمونه بود و يكي از علل محبوبيّت فوق‌العاده آن حضرت، همان اخلاق كريمه‌اش بود كه همگان او را به خاطر داشتن صفات حميده مي‌ستودند.

ادب، حِلم، فصاحت، صداقت، سخاوت، شجاعت، تقوا، عبادت، زهد، تواضع و ساير خصايص ستوده، همه در او جمع، و خُلق و خوی محمّدی در او ظاهر و هويدا بود.

 خوف از عذاب الهی

امام حسن عليه السّلام عابدترين مردم عصر خود، و زاهدترين و فاضل ترين ايشان بود. هنگامي كه قصد حج مي‌كرد با پاي پياده و چه بسا با پاي برهنه عزيمت می‌فرمود. وقتی وضو می‌گرفت بدنش به لرزه می‌افتاد، و رنگش زرد می‌شد، و درهيچ حال، ذكر خدا را ترك نمي‌كرد. پارسا و بردبار و با فضل بود و از خدا خوف داشت.

 زهد بی‌نظیر

زهد امام به حدّی بود كه تمام اسباب حب و دلگرمي به امور دنيوي و نعم آن را ترك فرمود و به خانه آخرت و منزل‌گاه پرهيزكاران اقبال و توجّه داشت و چنان بود كه خود فرمود: «مَنْ عَرَفَ اللهُ اَحَبَّهُ، وَ مَنْ عَرَفَ الدُّنْيا زَهَّدَ فيها، وَ الْمُؤْمِنُ لايَلْهُو حَتّي يَغْفُلَ، اِذا تَفَكَّرَ حَزَنَ»

امام عليه السّلام از حكومت و زمامداری، به خاطر حفظ مصلحت اسلام و مسلمانان چشم‌پوشی كرد. هر گاه امام، مرگ و جايگاه انسان را در ذهن خويش تداعی می‌كرد، ناخودآگاه می‌گريست و نيز وقتي كه ثعب و نشور و گذشتن از صراط را به خاطر مي‌آورد، گريه مي‌كرد. و زماني كه عَرْضِ بر خدا را در موقف حساب متذكّر مي‌شد، در ميان ناله و صيحه‌اي كه داشت، بي هوش مي‌شد.

 نمايش رحمت الهي

امام حسن مجتبي عليه السّلام مانند جدّش پيغمبر صلّي الله عليه وآله نمونه بارز رحمت الهي بود كه دل‌هاي نااميد و اندوهناك را پر از اميد و رحمت مي‌كرد. او به ديدار ضعيفان مي‌رفت؛ بيماران را عيادت مي‌كرد؛ در تشييع جنازه‌ها شركت مي‌فرمود؛ دعوت مسلمانان را اجابت مي‌كرد و اهتمام او بر اين بود كه مبادا كسي از ايشان رنجيده خاطر شود. از سوي آن حضرت، به احدي بدي و آزاري نمي‌رسيد. با فقيران همنشين مي‌شد و بدي را با نيكي پاسخ مي‌داد.

* حلم امام

امام حسن عليه السّلام به تمام معنا، انساني واقعي، و نمونه كامل خلق نيكوی پيغمبر صلّی‌الله عليه وآله بود. غضب، او را به هيجان نمي‌آورد و امور شخصی ناخوشايند، او را تكان نمی‌داد. تحت تأثير خشم، كاری انجام نمی‌داد و عمل آن حضرت همواره تداعی‌‌گر اين آيات شريف بود كه: «وَ الْكاظِمينَ الْغَيْظَ وَالْعافينَ عَنِ النّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنينَ»؛ «وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلاَالسَيِّئَةُ، اِدْفَعْ بِالَّتي هِي اَحْسَنُ»

آن حضرت، هر چه از دشمنانش مي‌ديد، با صبر و گذشت و عفو، پاسخ می‌داد؛ تا آنجا كه «مروان حكم» يكی از خبيث‌ترين دشمنان اهل‌بيت عليهم السّلام، حلم و بردباري آن حضرت را به كوه تشبيه كرده بود.

او مانند جدّش، در حلم و گذشت و عفو، نمونه جهانيان بود. تاريخ، از اخلاق او نوادري را حفظ كرده است و بر اين دلالت دارد كه او در طليعه اخلاقيّين و بنيان‌گذاران ادب و اخلاق، در جهان اسلام قرار دارد.

 محّبت به مردم

آن حضرت، شيرين‌بيان، خوش‌معاشرت و با الفت و محبوب بود. پير و جوان، و عموم مردم او را برای خصايص حميده‌ای كه داشت، دوست مي‌داشتند. همواره به مردم، عطا و بخشش می‌كرد؛ چه از او درخواست می‌كردند و چه تقاضايی نمي‌كردند.

پس از نماز صبح تا طلوع آفتاب، در تعقيب می‌نشست، سپس به ديدار كسانی كه مي‌بايست مي‌رفت، و به آنان مهر و محبّت مي‌نمود. وقتي نماز ظهر را مي‌خواند، در مسجد مي‌نشست و به مردم علم و ادب مي‌آموخت.

اين بود قطره اي از فضايل و مناقب امام حسن مجتبي عليه السّلام كه بيش از آن است كه بتوان بيان كرد. در پایان چند بیتی را به محضر آن امام بزرگوار تقدیم می‌دارم:

آن که حریمش حَرَم کبریا است / خاک درش کعبه اهل وفا است

آن که سراپا همه لطف است و مهر / و آن که دلش منبع فیض خدا است

شخص شرف گوهر بحر کَرَم / و آن‌که رُخش آینه حق‌نما است

اُسوه حلم است و مُدارا و صبر / مظهر بخشایش و صلح و صفا است

عین کمالات و خصال نکو/  معدن ایثار و گذشت و حیا است

آن‌ که پس از شاه ولایت على / مقصد و مقصود ز دو انّما است

آیه تطهیر و فمن حاجّک / سوره‌اى از منقبتش هل اتى است

عالم تفسیر و بطون کتاب / گواه آن کریمه قل کفى است

در کف امرش همه کون و مکان / تابع فرمان جنابش قضا است

ز ابر عطایش همگان بهره‌مند / غم‌زدگان را کرمش غم‌زدا است

همچو نبى صاحب صفح جمیل / مُلتزم عهد الست و بلى است

صاحب این وصف و علامات کیست؟ / کاین همه‌اش قدر و مقام و بها است

سبط مهین حافظ شرع مبین / سیّد خوبان حسن مجتبى است

موضوع: 
شنبه / 20 خرداد / 1396
در سوگ بانوی ممتاز جهان اسلام
در سوگ بانوی ممتاز جهان اسلام (ویژه‌نامه ماه رمضان/5)
(سلسله نوشتار‌های آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف درباره ماه مبارک رمضان /5)

در سال دهم بعثت سه سال قبل از هجرت، در ماه مبارك رمضان، اُمُّ المؤمنين خديجه، بانوي مؤمنه و فداكار ـ پس از سپري شدن شصت و پنج سال از عمر پر بركتش درگذشت و بنا به قول «شيخ مفيد»، اين واقعه دردناك، در روز دهم ماه رمضان اتّفاق افتاد (1) و رسول خدا او را به دست خويش، در حجون مكّه مكرّمه دفن كرد، و حزن و اندوه آن حضرت، در مصيبت او به حدّي زياد شد كه آن سال را «عامُ الْحُزْن» نام نهاد.

خانواده خدیجه، اصیل‌ترین خانواده‌‌ها

خديجه سلام الله عليها از جانب پدر و مادر و اجداد پدري و مادري از اصيل‌ترين خانواده‌هاي جزيرة العرب و صاحب شرافت و سيادت بودند.

صاحب صفات برجسته

خدا خواست كه اين بانوي بي‌همتاي حرم نبوّت و مادرِ يازده اخترِ برج امامت و ولايت، در عقل، ادب، حكمت، بصيرت و معرفت، نابغه و ممتاز باشد.

او نمونه‌ برجسته كمال و نبوغ و فهم و بينش بود كه همانند آن را در ميان مردان و زنان، كمتر مي‌توان يافت و عفّت، نجابت، طهارت، سخاوت، حسن معاشرت و صميميّت و مهر و وفا از جمله صفات برجسته او بود.

شوهرداری نمونه

براي مرد، به ويژه مردي كه بيرون خانه و در اجتماع فعاليّت‌هاي بزرگ مشغول بوده و مقاصد عظيم داشته باشد و عهده‌دار پيكار و جهاد بوده و مورد يورش مخالفان و هجوم دشمنان باشد، بهترين آرامش‌دهنده قلب و روح و نگهبان پايداري و استقامت و رفع‌كننده خستگي و ناراحتي، همسر هوشيار و خردمند و مهربان و دلسوز است.

اگر مردي در خارج از خانه با دشمنان گرم پيكار گشته و به حمله‌هاي وحشيانه، استهزاء، سرزنش و اذيّت و آزار مردم گرفتار گردد و در منزل نيز با همسري نادان و بدخو و ترسو، ضعيف و شماتتگر، روبرو شود كه او را از كار و هدف وي و پيمودن راهي كه مدّ نظر اوست باز دارد و او را سرزنش كند و به ترك دعوا و تسليم‌شدن به دشمنان وادار نمايد، از اينكه هر روز شوهرش مورد شتم و استهزاي جاهلان قرار مي‌گيرد، خسته و ناخوشايند باشد و در پي حلّ مشكلات همسر خويش برنيايد، بي شك مشكلات و دشواري هاي آن مرد، دو چندان خواهد شد.

بدون ترديد چنين مردي همواره بر مشكلات و دشواري‌هايش افزوده خواهد شد؛ چرا كه نه تنها همسر وي او را در حلّ مشكلات ياري ننموده است، بلكه با اعمال و رفتار غير منطقي خود از قبيل: سرزنش و اعتراض، آن مشكلات را صد چندان كرده است.

پيامبر اسلام صلّي الله عليه وآله آورنده بزرگ‌ترين رسالت آسماني، از طرف خدا مأمور بود كه مشركان، همه توان و قدرت خويش از جمله شجاعان پيلتن و مردافكن، شعراي دشنام‌ده و ناسزاگو، ارازل و اوباش، زن و مرد، خويش و بيگانه، را براي مبارزه با اهداف آن حضرت بسيج كردند و تا آنجا كه مي‌توانستند او و چند تن از يارانش را اذيّت كردند مي زدند؛ رنج داده، ناسزا مي‌گفتند؛ سر راهش را با خار و خاشاك مي‌بستند؛ در حال نماز و پرستش به او توهين كرده و روابط خود را با او و يارانش قطع نمودند.

با وجود اين همه دشمن و موانع و مشكلات، اگر در ميان همه اين دشمنان، پيامبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  هر روز وقتي به خانه مي‌آمد، با چهره گرفته و معترض همسرش، آن هم همسري كه سيّده زنان قريش و داراي آن شخصيّت و صاحب آن همه ثروت و مكنت بود، روبرو مي‌شد كه از راه دلسوزي و ترحّم و يا اعتراض، از او مي‌خواست تا از دعوت خويش دست بردارد و خود را مورد اين همه اهانت و استهزاء قرار ندهد، در چه وضع عجيب و دشواري قرار مي‌گرفت؟!

امّا لطف خدا دريچه‌هاي قلب خديجه را چنان به سوي درك حقّانيّت دعوت اسلام باز كرد و آن چنان دلش را نوراني و سرشار از معرفت و حكمت گردانيده بود كه هرگز پيامبر صلّي الله عليه وآله وسلّم با چنان منظره اسفناك، در داخل خانه روبرو نشد.

استقبال از دعوت الهی

دكتوره «بنت الشّاطي» مي‌گويد: «آيا همسري غير از خديجه اين استعداد را دارا بود كه دعوت تاريخي شوهرش را وقتي از غار حرا آمد، با ايمان قوي و آغوش باز و مهر و عطوفت استقبال كند، بي آن كه در راستي او و اين‌كه خداوند او را تنها نخواهد گذاشت، شكّي در دل راه بدهد؟

آيا جز خديجه، هيچ بانوي ثروتمندي كه در ناز و نعمت و آسايش و احترام زيسته، مي‌توانست با كمال رضايت و خرسندي از زندگي اشرافي، اموال بسيار و عزّت و توانگري چشم بپوشد تا در دشوارترين لحظات زندگي كنار همسرش بايستد، و او را در بلايا و مشكلات موجود در راه تحقّق هدفي كه به حقّانيّت آن ايمان داشت، ياري كند؛ حاشا و كلاّ! فقط خديجه چنين بود و زنان ديگر چون او نيستند، مگر در طبقه و رتبه او باشند.»(2)

بهترین زنان عالم

پيامبر صلّي الله عليه وآله وسلّم هم هيچ‌گاه خديجه را بعد از وفاتش فراموش نكرده و از اخلاق و صفات او ياد مي‌فرمود؛ به كساني كه با او آشنا و دوست بودند، احسان و لطف مي‌كرد.

از «عايشه» روايت شده است كه: «رسول خدا صلّي الله عليه وآله وسلّم از خانه بيرون نمي‌رفت، مگر آن كه خديجه را ياد مي كرد و بر او به خوبي و نيكي مدح و ثنا مي‌فرمود.

روزي از روزها غيرت مرا گرفت، گفتم: او پير زني بيش نبود و خدا بهتر از او را به شما عوض داده است.

پيامبر صلّي الله عليه وآله و سلّم غضبناك شد، به طوري كه موي جلوي سرش از خشم تكان مي‌خورد؛ سپس فرمود: «نه، به خدا، بهتر از او را خدا به من عوض نداده، ايمان آورد به من، وقتي مردم، كافر گرديدند و تصديق كرد مرا، هنگامي كه مردم مرا تكذيب مي كردند و در اموال خود با من مواسات كرد، وقتي مردم مرا محروم ساختند و خدا از او فرزنداني روزي من كرد و از زنان ديگر محروم فرمود».(3)

«انس بن مالك» روايت كرده كه رسول خدا صلّي الله عليه وآله وسلّم فرمود: «بهترين زنان عالم مريم بنتِ عمران و آسيه بنت مزاحم و خديجه بنت خُوَيْلِد و فاطمه بنت محمّد صلّي الله عليه وآله وسلّم هستند».(4)

در «صحيحين» از عايشه روايت شده كه: «پيامبر صلّي الله عليه وآله وسلّم  خديجه را به خانه‌اي در بهشت بشارت داد كه در آن سر و صداي بلند و رنج و زحمت نيست».(5)

امروز ما وظیفه داریم که گوشه‌ای از کمالات و صفات بلند آن حضرت را برای جهانیان بخصوص زنان بازگو کنیم و ایشان را به عنوان الگوی بزرگ خدمت به اسلام و پیامبر و شوهرداری به مردم معرّفی نماییم، و راه و روش ایشان را دنبال کنیم.

 

پی‌نوشت‌ها:

1. مسار الشیعة شیخ مفید ره.

2. اهل البيت، توفيق ابو علم، ص 102، ترجمه نقل به معني.

3. همان.

4. اسدالغابة، ج 5، ص 437 ـ الاستيعاب، بهامش الاصابة، ج 4، ص 284 و 285.

5. الاصابة، ج 4، ص 282 ـ اسدالغابة ، ج 5، ص 438 و نظر اين حديث در تاريخ يعقوبي، ج 2، ص 26، ذكر شده است.

 

موضوع: 
ماه رمضان، از ديدگاه «اسلام» و «ما»
ماه رمضان، از ديدگاه «اسلام» و «ما» (ویژه‌نامه ماه رمضان/4)
(سلسله نوشتار‌های آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی درباره ماه مبارک رمضان /4)

بي‎ترديد كساني كه مي‎خواهند اسلام را در آينه اعمال و رفتار اجتماع مسلمانان اين عصر ببينند و آن جمال نوراني و خورشيد جهان تاب را در چنين منظر و آيينه تيره و تار زيارت كنند، سخت در اشتباه‌اند.

اگر تصوير چهره اسلام ممكن بود و يك نفر آگاه به تمام تعاليم و امتيازات و هدايت‎هاي اسلام و برنامه‎هاي تربيتي و جامع آن، چهره زيباي آن را تصوير مي‎كرد، از هر اثر هنري ديگر زيباتر و جالب‎تر مي‎شد.

اگر خداي جهان و آفريننده زمين و آسمان ـ كه نعمت اسلام را به وسيله حضرت خاتم الانبيا انعام و اعطا فرمود‎ ـ آن را به صورتي تمثيلي مي‎ساخت، يقيناً زيبايي و جمال آن صورت، خلق اوّلين و آخرين را از خود بي‎خود مي‎كرد.

اسلام را بايد در آينه نصوص قرآن و سنّت، و در سيره رفتار و گفتار و كردار پيشوايان دين و كساني كه اسلام در وجودشان به تمام معنا منعكس شده و در سلوك مجاهدين و مسلمانان صدر اسلام تماشا كرد.

اجتماعي را مي‎توان يك جامعه كاملاً اسلامي دانست كه همه احكام و دستورات اسلامي بر تمام مسائل زندگي فردي و اجتماعي آن جامعه منطبق بوده و به عبارت ديگر، اسلام از برنامه‎هاي كسب و كار، معاشرت، حكومت، سياست و... آن‎ها تفكيك نشده باشد.

با اين وصف، اجتماعات ما معرّف يك اجتماع كامل و تمام عيار اسلامي نيست؛ زيرا بسياري از احكام اسلام در بين مسلمانان معاصر متروك گرديده، و جز «عبادات» (مثل: نماز و روزه، حج و...) ـ كه اجتماع اسلام به آنها نيز قائم است‎ ـ بقيّه احكام و دستورات اسلامي كم‎تر مورد عنايت قرار گرفته و بعضاً مهجور مانده است. چه بسا كه عبادات ما نيز آن طور كه شايسته است نشان دهنده مقاصد اسلام نيست و كساني كه از آثار و بركات آن هم محروم مي‎باشند، بسيارند.

در «عبادات»، معاني بزرگ و درس‎هاي عميق به ما آموخته مي‎شود كه اگر به آنها توجّه كنيم، افق افكار ما روشن و طرز تصوّر ما دگرگون مي‎شود.

در عبادات هم جنبه عادت نهفته است و هم اظهار شوكت اسلام، اتّحاد و هماهنگي مسلمين، ارشادات اخلاقي، آموزشي و تربيتي، تعاليم اجتماعي، رشد فكري، عقلي و علمي و بلكه فوايد بهداشتي و اقتصادي نيز منظور شده است.

همين روزه ماه رمضان كه از اركان اسلام و نيز شعاير بزرگ و وسيله‎اي جهت تقرّب به خدا است، آيا با همان برنامه مقرّر انجام مي‎شود؟ و آيا ماه رمضان ما همان ماه رمضان اسلام است؟ اين موضوع و مسأله‎اي است كه به بررسي و تحقيق نياز دارد.

ماه رمضان اسلام: چنان‌چه از خطبه حضرت رسول‎اكرم ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم ‎استفاده مي‎شود، فرصتي براي افزودن به اعمال خير و كارهاي نيك، دستگيري از فقيران و بي‎نوايان، پيوند با خويشاوندان، ياري ضعيفان، تكميل و تهذيب اخلاق، فرو خوردن خشم و غضب و كنترل قواي شهواني است.

امّا برنامه ماه رمضان ما: پرخوري در افطار و سحر، تندخويي و بدزباني با نزديك و بيگانه، شب‌نشيني‎هاي زيان بخش است.

ماه رمضان اسلام: بهترين فرصت و گران‌بهاترين وقتي است كه حتّي يك دقيقه و ثانيه‎اش نبايد هدر برود و بيهوده مصرف شود؛ بلكه بايد تمام دقايق و ساعات آن در انجام كارهاي نيك و اعمال حسنه، تفكّر و تأمّل، توبه و اصلاح حال سپري شود.

ماه رمضان ما: بيشتر اوقاتش تلف مي‎شود و اوقاتي به اين عزيزي، آسان از دست مي‎رود.

ماه رمضان اسلام: مسلمانان بايد در آن به مناسبت نزول قرآن در سيره رسول اكرم ‎صلي الله عليه وآله وسلّم شخصيّتي كه قرآن به او نازل شد به طور عميق مطالعه نمايند و ارشادات و راهنمايي‎هاي آن رهبر عالي‎قدر آسماني را ـ ‎كه دافع هر ضرر و خسارت، و علاج كننده تمام مشكلات اجتماعي و حياتي است‎ ـ سرمشق خود قرار دهند و به حكم: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ اُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كانَ يَرجُوا اللهَ وَالْيوْمَ الأَخرَ (1) به روش و سلوك آن رسول اعظم خدا ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم ‎تأسّي نمايند.

ماه رمضان ما: اكثريّت مسلمانان از سيره رهبر عظيم خود بي‎اطّلاع بوده و در اين موضوع كه درس و بحث، تفكّر و مطالعه در آن بر هر مسلماني لازم است، نه در ماه رمضان و نه در ماه‎هاي ديگر اهتمام شايان ندارند و به دانستن تاريخ حيات رسول خدا ‎صلّي‎الله عليه وآله وسلّم ‎كه آموزنده‎ترين صفحات تاريخ است، اعتنايي لازم و كافي نمي‎كنند. تاريخ كدام شخصيّت‎ها، و رجال تاريخ، زعما و رهبران اصلاحات و انقلاب‎ها و پيامبران بزرگ، مانند تاريخ پيامبر بزرگ اسلام، آموزنده و سودمند است.

ماه رمضان اسلام: ماه نشاط، و اقبال و شتاب به سوي عبادت و تقرّب به خدا است.

ماه رمضان ما: بعضي آن را در كسالت و سستي و تن پروري و خواب و بي‎خبري به پايان مي‎رسانند.

ماه رمضان اسلام: آغاز فصل جديد و مرحله نوين عمر و زندگي است كه در آن بايد قواي فكري و اخلاقي خود را از نو به رشد و نموّ وا داريم و با گذشته خود وداع كرده، و دل خود را جلا دهيم و زنگار معصيّت و گناه را از آن بزداييم.

ماه رمضان ما: تغيير مختصر در وقت خوردن غذا و امساك از مفطرات است كه هر چند امتثال و اطاعت فرمان خدا و دليل بيدار بودن وجدان ديني و شعور مذهبي است و نسبت به آن بدبخت‎ها و گمراهاني كه روزه را افطار مي‎كنند شرافت و فضيلت آن بسيار است؛ امّا با اين وجود، روزه‎دار نبايد فقط به امساك از مفطرات قناعت كند؛ بلكه بايد ساير برنامه‎هايي را كه براي روزه‌داران معيّن شده نيز انجام دهد تا از فوايد بسيار و رَحَمات واسعه الهي در اين ماه حدّاكثر استفاده را بنمايد.

ماه رمضان اسلام: سبب تهذيب نفوس، تطهير قلوب و تخلّق به اخلاق حميده، اعتياد به عادات حسنه، تمرين خلوص نيّت، احياي معالم و مباني اسلاميّت و انسانيّت، انتشار محبّت و نوع‌پروري و صداقت است.

ماه رمضان ما: بسا شب‌نشيني‎ها و مجالسي كه پس از افطار برپا مي‎شود و با متحمّل شدن مصارف زياد به پرخوري، غيبت، لهو و مزاح‎هاي باطل و گفت و شنودهاي بي‎ثمر مشغول شده و با پرخوری‌هایی كه مي‎كنند از حكمت نبويّه «صُومُوا تَصِحُّوا» (2) محروم مي‎شوند، و چون از روح همكاري و همدردي اسلامي و ارتباط معنوي و اتّصال ناگسستني قلبي و ايماني، نشانه و علامتي نيست، آن ديد و بازديدها و معاشرت‎ها، سبب كينه و عداوت و دشمني و سوء تفاهم مي‎گردد.

 

پی‌نوشت‌ها:

[1]. سوره احزاب، آيه 21: قطعاً براي شما در اقتدا به رسول خدا سرمشقي نيكوست؛ براي آن كس كه به خدا و روز بازپسين اميد دارد.

2. «روزه بگیرید تا سلامت باشید». بحار ‌الأنوار؛ ج 96، ص 255.

موضوع: 
روزه داری، برنامه آزادی بخش اسلام
روزه داری، برنامه آزادی بخش اسلام (ویژه‌نامه ماه رمضان/3)
(سلسله نوشتار‌های آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی درباره ماه مبارک رمضان /3)

حضرت‌ مولاي متّقيان‎ امیرالمؤمنین عليه‎السّلام رهبرآزاد مردان و آزادي‌خواهان مي‎فرمايد:

«ألا حُرٌّ يَدَعُ هذِهِ اللُّماظَةَ لأَهلِها إنَّهُ لَيسَ لأنفسكِم ثَمَنٌ اِلّا الجَنَّة فَلا تَبِيعوها الّا بِها»؛ آيا آزاده‌اي نيست كه اين بازمانده غذاي دهان ديگران (دنيا) را براي اهلش بگذارد؟ به درستي كه براي جان‎هاي شما بهايي غير از بهشت نيست؛ پس آن را به غير بهشت نفروشيد. (1)

بسا افرادي كه داد آزادي‎خواهي دارند و ديگران را به آزادي مي‎خوانند و بي‎آن‎كه توجّه داشته باشند، اسير و بنده هستند و از خود اختياري ندارند.

بسياري از اشخاص كه آزادي و حقوق ديگران را پايمال كرده و آن را دستخوش اميال و اراده خود ساخته و خود را بر ملل و جوامع، فرمانرواي مطلق مي‎شمارند، نيز از نعمت آزادي محروم هستند.

اين هر دو دسته بنده‎اند و مقيّد و مملوك؛ امّا نه بنده و مملوك يك تن؛ نه بنده‎اي كه جسمش در اختيار غير باشد، و فكر و انديشه‎اش در اختيار خودش.

اينان بنده هوا، بنده پول، مال، مرکب و بنده مقام هستند. غلام حلقه‌به‎گوش شهوت، غلام اربابان قدرت، حاكمان و اميران، بنده مقاصد رذيله و اشياي خسيسه و بنده عادات و خرافات هستند. بندگاني كه علاوه بر جسمشان، روح و فكرشان نيز بنده است و همه چيزشان در بند افتاده و از آزادي واقعي و استقلال روحي و فكري بويي نبرده‎اند.

عادت به خوردن و نوشيدن، عادت به شهوت‌راني، قمار، شراب، مي‎گساري، شب‎نشيني‎هاي زيان‎بخش، ظلم و ستم، و بي‎اعتنايي به ضعيفان و زيردستان و... آن‎ها را چنان اسير و مقيّد كرده كه، نجات از اين طلسم عادات را غيرممكن مي‎دانند.

چنين كساني، خود و انسانيّت خود را در اسارت عادات انداخته و نتوانسته‎اند از وادي تنگ و تاريك بندگي و بردگي مخلوقاتي مانند خود، با بال همّت پرواز كرده و در باغستان آزادي واقعي، وارد شوند، و خلاصه، برنامه كار روز و شب و حاصل زندگي آن‎ها انجام يك سلسله عادات و تكرار مكرّرات است.

آيا كسي كه تمام عمرش را در لهو و لعب و بازي به سر مي‎برد، و نمي‎تواند دمي از آن، خود را كنار بكشد، آزاد است يا بنده؟!

آيا كسي كه دست از قمار بر نمي‎دارد و شب‎ها را تا نزديك سحر بر سر سفره قمار، مال و وقت عزيز خود را به باد فنا مي‎دهد، بنده است يا آزاد؟!

آيا آن كه نمي‎تواند از زندگي تجمّلي و از طعام‎هاي رنگارنگ سفره‎اش و از لباس‎هاي گران‎بها و متنوّعش، چيزي كم بگذارد و از هم‎نوعان خود ‎كه درمانده و گرفتار، مستمند، بيمار، زلزله‎زده و مبتلا هستند‎ دستگيري و به آنها كمك نمي‎كند، بنده است يا آزاد؟!

آيا كسي كه براي مقام و منصب، حفظ رياست و براي تجمّلات بيش از حد، و شكم‌پرستي، حقوق ضعفا را پايمال مي‎كند آزاد است يا بنده؟! آيا اين است زندگي آزاد و شرافتمندانه انسان؟!

يقيناً اين‎گونه افراد، بنده‎اند و آزاد ساختن آنان، از آزاد كردن رفيق و عبيد دشوارتر است، چنان چه دين اسلام براي آزادي غلامان و كنيزان كوشش‎هاي ثمربخشي نموده و برنامه‎هاي سودمندي تنظيم كرده و آن را از عبادات بزرگ قرار داده است و حتّي در بعضي موارد، حكم به وجوب آن نموده و در موارد ديگر، به طور استحباب آن را از مسلمانان خواسته است، براي آزاد كردن اين ممالك فكري و بندگان و غلامان واقعي نيز برنامه‎هاي وسيعي را پيشنهاد كرده تا بشر را از بند استعباد، عادات رذيله و هواي نفس آزاد سازد.

يكي از این برنامه‎هاي آزادي‌بخش اسلام، «روزه» است. روزه، آدمي را از بند عادات حيواني آزاد مي‎سازد و او را به سوي ملكوت اعلي پرواز مي‎دهد:

طَيَران مرغ ديدي تو زپاي بند شهوت * به در آي تا ببيني طيران آدميّت

خور و خواب و خشم و شهوت، شَغَب است و جهل و ظلمت * حَيَوان خبر ندارد زِ جهان آدميّت

فرد مسلمان به قصد روزه، سحر از ميان بستر آرام خواب، براي خوردن سحري و انجام عبادت و خواندن دعا و نماز بر مي‎خيزد و از قيد خواب و عادت به استراحت، آزاد مي‎شود و در تمام مدّت روز از تحت سيطره و تسلّط جسم و غرايز حيواني و عادت به خوردن و نوشيدن، خود را بيرون مي‎كشد و طلسم هوا و هوس را مي‎شكند و از خوردن غذاهاي لذيذ و ميوه‎هاي شيرين و خوش طعم و نوشيدني‎هاي خنك و گوارا خودداري مي‎كند و به عادات روزهايي كه روزه نبود، نمي‎انديشد و برنامه‎هاي غذايي روزانه را ترك كرده و فكر و عقل و وجدانش را آزاد مي‎سازد و خود را در افقي عالي‎تر و نورانيّت و روشنايي ديگر مي‎بيند.

ادعيّه‎اي را كه جهت ماه رمضان و براي مواقع سحر و روز و شب، وارد شده، مي‎خواند؛ ادعيّه‎اي كه اغلب داراي جملات آموزنده، حقيقت و روح آزادي است؛ ادعيّه‎اي كه عقيده توحيد را با جان و روان و وجدان آميخته مي‎سازد و خواننده را از بندهاي گران اخلاق زشت و صفات ناپسند نجات داده و به صفات پسنديده و اخلاق كريمه دعوت مي‎نمايد.

آری! ماه رمضان، ماه آموزش آزادی است. باید از پیام‌های سعادت‌بخش قرآن کریم در این ماه مبارک رمضان درس آزادی آموخت. بيشتر شقاوت‎ها، و بدبختي‎هاي بزرگ، ناشي از عدم درك حقيقت آزادي و حريّت اسلامي و يا عدم استقامت در راه آن است.

از اين رو، كساني كه به اين درك و استقامت، موفّق نمي‎شوند، تكبّر و گردن‎كشي و استعباد ديگران را مي‎پذيرند و با اظهار تملّق در برابر متكبّران و گردن‎كشان، بر كبر و طغيان آنان مي‎افزايند؛ در حالي كه اسلام از تمام افراد بشر دعوت مي‎كند تا در برابر خدا و حكومت خدا خاضع باشند.

آن چه باعث تأسّف است اين است كه مسلمانان به آيات توحيد قرآن كمتر توجّه دارند و از ميوه‎هاي درخت طيّبه توحيد، كمتر تناول مي‎كنند.

روزه‎دار عزيز! با دقّت در آيه شريفه: «يا اَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ، الَّذِي جَعَلَ لَكُم الأَرْضَ فِراشاً، وَالسَّمَآءَ بِنَآءً وَاَنزِلَ مِنَ السَّمَاءِ ماءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلاتَجْعَلوُا للهِ أَندَاداً وَ أَنتُمْ تَعْلَمُونَ»(2) درمي‎يابيم كه چه حقايق بزرگ و معاني بلندي در آن درج شده است.

اين آيه، عموم بشر و انسان‎ها را مخاطب قرار داده و به پرستش آفريدگار يگانه و ترك شرك دعوت مي‎كند، و عالي‎ترين مفهوم آزادي را به بشر عرضه مي‎دارد.

 

پی‌نوشت‌ها:

[1]. نهج البلاغه، ص261، ج3، كلمه 456.

2. سوره بقره، آيات 21و22؛‌ اي مردم، پروردگارتان را كه شما، و كساني را كه پيش از شما بوده‎اند آفريده است، پرستش كنيد؛ باشد كه به تقوا گراييد. همان [خدايي] كه زمين را براي شما فرشي [گسترده]، و آسمان را بنايي [افراشته] قرار داد؛ و از آسمان آبي فرود آورد؛ و بدان از ميوه‎ها رزقي براي شما بيرون آورد؛ پس براي خدا همتاياني قرار ندهيد، در حالي كه خود مي‎دانيد.

موضوع: 

صفحه‌ها

  • of 23
اشتراک در RSS - مناسبت‌ها