وریز وجوهات
بسم الله الرحمن الرحيم اللّهم صلّ علي الصديقة الطاهرة سيدة نساء العالمين و علي أبيها و بعلها و بنيها و الائمة المعصومين من ذرّيّتها سيّما بقيّة الله في الأرضين. ميلاد مسعود يگانه بانوي جهان، سيّده زنان عالم را به پيشگاه مقدّس کهف امان و صاحب دوران...
سه شنبه: 8 / 01 / 1396 ( )

حضرت زہراء سلام الله علیہا کے میلاد سعید کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی کی خصوصی تحریر

اللّهم صلّ علي الصديقة فاطمة الزكية حبيبة حبيبك و نبيّك و ام أحبّائك و أصفيائك الّتي انتجبتها و فضّلتها و اخترتها علي نساء العالمين و صلّ علي ولدها الذي بشّرها به خاتم النبيين صلوات الله عليه و آله، بقية الله في ارضه ارواح العالمين له الفداء.

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی جامع الاطراف اور وسیع الأبعاد شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، لکھا گیا اور مستقبل میں بھی جو کچھ لکھا  جائے گا یا کہا جائے ،لیکن اس کے باوجود خاتون جنت بی بی دو عالم حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و درجات کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔
اگرچہ جانگداذ ظلم و ستم کی وجہ سے بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ظاہری زندگی بہت مختصر تھی لیکن اس کے باوجود آپ کی یہی مختصر حیات پوری تاریخ میں تمام لوگوں اور بالخصوص ہر حق پرست اور ہر رہبر کے لئے نمونہ ہے۔

اور اس شاعر کے بقول کہ جس نے کہا:ضلّ من جعل مقياس الحياة الطولا،

زندگی کا مقیاس و معیار ظاہری زندگی اور لمبی عمر کو قرار نہیں دینا چاہئے بلکہ انسان کی حیات کا حقیقی مقیاس ومعیار  اس کے وجود  کی برکات ہیں۔

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليہا کی حیات بھی آپ کے پدر بزرگوار حضرت خاتم الانبياء محمد بن عبد الله صلي الله عليه و آله و سلم کی حیات کی طرح برکات و آثار سے سرشار اور بہت وسیع و عریض تھی۔

عالم وجود اور کائنات ہستی میں کوئی انسان بھی حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کے علم و اخلاق، سیرت، انسانی کمالات و مقامات اور روحی و جسمی خصوصیات کے لحاظ سے حضرت زہراء علیہا آلاف التحیۃ والثناء سے زیادہ قریب نہیں ہے۔

اگرچہ  بنت پیغمبر حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی عمر کا طول ۱۸ سال سے زیادہ نہیں تھا لیکن اس کا عرض کئی ملین سال سے بھی زیادہ ہے۔ اہم یہ ہے کہ انسان اپنی مختصر حیات میں ایس عظیم کارنامہ انجام دے کہ  جنہیں دوسرے افراد کئی ہزار سالوں میں بھی انجام نہ دے سکیں۔

ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس موضوع اور اس ہستی کے درجات و فضائل کے بارے میں جس قدر بھی بحث کریں لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ حق مطلب ادا نہیں کر سکتے۔

ایک انسان کامل کے لئے فرض کئے جانے والے تمام مقامات میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پہلے درجہ پر فائز ہوں گی۔ ایمان، معرفت الٰہی، خدا کی بندگی و عبادت، دنیا سے بے اعتنائی، قناعت، دوسروں کے لئے ایثار، ہمسرداری، تربیت اولاد، عفت و حجات کی رعائت، اسلام میں خواتین کے لئے تاکید کی جانے والی کرامت و حشمت کی حفاظت اور سورۂ احزاب میں عورتوں کے لئے بیان ہونے والی دس صفات ( کہ جس طرح ان صفات کو مردوں کے لئے بھی  افتخار شمار کیا گیا ہے) میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا یگانہ  مقام رکھتی ہیں اور آپ سب کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔

انسان کے لئے حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مکمل تاریخ حیات اعجاز آفرین ہے کہ کس طرح ایک عورت ان اعلٰی و ارفع مقامات پر فائز ہو سکتی ہے اور کس طرح خداوند متعال کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے انوار وجود اس قدر درخشاں ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض ازواج آپ کی توصیف میں یوں بیان کرتی ہیں:

«مَا رَأَيْتُ أفْضَل مِنْ فَاطِمَة غَير أبِيهَا؛ میں نے فاطمہ سے برتر کسی کو نہیں دیکھامگر ان کے بابا کو »(1)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا نے جو موقف اختیار کیا ؛ وہ بہت اعلٰی اور حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی اہم ذمہ داری اپنے ذمہ لی اور مسجد نبوی میں عظیم الشأن خطبہ دیا۔

اس موقع پر ایسے حالات میں کسی انسان کے لئے ایسا خطبہ دینا اور حقائق کو آشکار کرنا ممکن نہیں تھا لیکن صدیقہ ٔطاہرہ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا وہ واحد اور یگانہ ذات ہے جس نے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ سامعین کے دلوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یاد تازہ ہو گئی۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس انداز میں مسجد نبوی میں داخل ہوئیں کہ آپ نے چادر اور عباء اوڑھی ہوئی تھی جو زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور بنی ہاشم کی عورتوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حکم پر عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ کیا گیا تا کہ آپ پردہ کے پیچھے سے خطبہ دے سکیں اور آپ نے بالبداہہ ایسا خطبہ دیا کہ جسے سن کر سامعین پر سکوت طاری ہو گیا اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليہا کا وجود ایک آسمانی وملکوتی وجود ہے، ہم جیسے افراد ان کے وجود کی عظمت کو درک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس عظیم ہستی کی توصیف بیان کر سکتے ہیں.

اہلبیت اطہار علیہم السلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔ آیت تظہیر «إنّما يُريدُ اللهُ لِيُذهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ البَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُم تَطْهِيراً»(2) میں حضرت فاطمهٔ زہراء سلام الله عليہا پنج تن میں واحد اور یگانہ خاتون ہیں کہ جن کی شان میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے اور آپ بھی اس آیت میں شامل ہیں۔

اور اس آیت «فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ»(3)، میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود واحد خاتون حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله عليہما ہیں۔

نیز اس آیت «قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏»(4) میں بھی جب حضرت رسول خدا صلی الله عليه و آله و سلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے قرابتدار کون ہیں کہ جن سے اس آیت میں خدا نے مودت کا حکم دیا ہے؟

آپ نے فرمایا: علی، فاطمه، حسن اور حسين صلوات الله عليهم اجمعين. (5)

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا معنوی مقام اور آپ کا وجود مبارک شیعوں کی حقانیت کے لئے حجت ہے۔ میں ایک موقع پر مدینہ میں تھا اور میں نے سنا کہ یہاں کوئی کتابخانہ ہے کہ جس میں شیعوں کے خلاف کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔ میں وہاں گیا اور وہاں موجود کتابوں کوجائزہ لینے لگا۔ میں نے دیکھا کہ صاحب مکتب کی میز پر ایک کتاب رکھی ہوئی ہے کہ جس کا نام «و جاء دور المجوس‏»تھا۔

میں كتابخانہ کے مالک کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گیا۔ انہوں نے کچھ ایسی کتابوں کے نام بتائے جنہیں میں جانتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ ان کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں میں ان کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ان کے تمام مطالب جھوٹ اور بہتان ہیں۔

اس شخص نے کہا: آپ بغیر پڑھے ان کتابوں کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟

میں نے جیسے ہی وہ کتاب کھولی تو پہلی نظر میں ہی میں نے اس شخص کے ئے یہ بات ثابت کر دی دی کہ اس کتاب میں لکھے ہوئے مطالب  جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔

کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے پوچھا کہ ان دو افراد کی خلافت کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

میں نے کہا: آپ یہ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں!  یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی ان دونوں پر عقیدہ نہ رکھتا ہو تو وہ دین سے خارج نہیں ہو گا اور اگر کوئی ان کی معرفت کے بغیر اور انہیں پہچانے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ بے دین نہیں ہے۔

وہ مسلسل خلافت کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو جاننے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ میں نے کہا: عقيدتنا عقيدة سيدة فاطمه سلام الله عليها، یعنی ہمارا عقیدہ وہی ہے جو سیدہ فاطمہ زہراء کا عقیدہ تھا.جب میں نے یہ بات کی تو وہ خاموش ہو گیا۔ کیوکہ یہ معلوم تھا کہ وہ خلفاء کے بارے میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے عقیدہ کو رد نہیں کر سکتا۔

پھر اس نے پوچھا:آپ کا اس (خود ساختہ) اجماع کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

میں نے کہا: ہم حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اسی عقیدہ پر باقی ہیں۔

جب میں نے دوبارہ اسی محکم بات کو دہرایا تو پھر وہ کوئی بات نہ کہہ سکا۔

الغرض یہ کہ حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله و سلامه عليہا کا موقف ایک ایسا موقف ہے کہ جو مذہب و مکتب تشیع کی اساس اور بنیاد کو تقویت دیتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے۔

اس بناء پر ہمیں چاہئے کہ سب لوگوں کے مطالعہ کے لئے سیدۃ نساء العالمین بضعۃ الرسول صلوات الله عليه و آله کی تعلیمات پیش کریں کیونکہ یہی عقائد اور تعلیمات تشیع کے لئے حجت ہیں۔

ان ایّام میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس معجزاتی خطبہ پر خاص توجہ کرنی چاہئے کہ جس کے ضمن میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے اور جس میں ہر لازم پیغام کا بیان ہے۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس خاص مقام و منزلت پر توجہ دیں کہ جس میں فرمایا گیا ہے:«خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ أَنْ لَا يَرَيْنَ‏ الرِّجَالَ‏ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَال‏؛ عورتوں کے لئے بہترین حالت یہ ہے کہ نہ تو کوئی اجنبی شخص انہیں دیکھے اور نہ ہی وہ کسی اجنبی شخص کو دیکھیں »(6)۔ زہرائی و فاطمی خواتین کو اس امر پر توجہ کرنی چاہئے۔

بی بی دو عالم سیدۂ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مجالس اور ذکر فضائل ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں کیونکہ یہ خدا کے تقرب، امر اہلبیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص  حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے امر کے احیاء کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان موقعوں  پر زیادہ سے زیادہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کی تکریم و تجلیل کریں اور آپ کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں کہ یہ اجر رسالت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے اور آنحضرت کی تجلیل و تکریم ہے۔

البتہ جو لوگ آپ کے مقام و منزلت کی تجلیل و تکریم کرتے ہیں وہ آپ کے احکام پر بھی حتمی طور ہر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا:

                 تَعْصِي الْإِلَهَ وَ أَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ                             هَـذَا مُحَالٌ فِي الْفِعَالِ بَدِيعٌ‏
                 لَـوْ كَــانَ حُبُّكَ صَادِقاً لَأَطَعْتَهُ                           إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيع(7)‏       

یعنی حضرت فاطمۂ زہراء عليها آلاف التحية و الثناء کی محبت میں ہمارے صدق و صداقت کی علامت یہ ہے کہ ہم اس بزرگ ہستی کی راہ پر ثابت قدم رہیں اور ہمیشہ ہر حال میں خدا، رسول اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے امر کی اطاعت کو اپنے زندگی کے تمام امور میں قرار دیں۔

حوالہ جات:
۱۔ مجمع الزوائد هيثمي، كتاب المناقب، باب مناقب فاطمة بنت رسول الله صلي الله عليه و آله، ح15193.
۲۔ سوره احزاب، آيه33.(بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہلبیت علیہم السلام تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح سے پاک و پاکیزہ رکھے کہ جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)
۳۔ سورهٔ آل عمران،آيه61.( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ  حجتی کریں تو ان سے کہہ  دیجئے کہ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے  اپنے نفسوں کو  بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں)
۴۔ سوره ٔشوري، آيه23.( اور (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو)
۵۔ بحار الأنوار؛ج23، ب13.
۶۔ وسائل الشيعة، ج20،ح25054.
۷۔  امالي شيخ صدوق ره، مجلس74.

موضوع: 
«بهار خزان» امّ ابيها حضرت زهرا سلام الله عليها کی شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر

«السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَكِ‏ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ فَوَجَدَكِ لِمَا امْتَحَنَكِ بِهِ صَابِرَةً»
اے بی بی خداوند عالم نے آپ کو اپنے سخت اور دشوار امتحان پر صابر پایا! اے دختر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ!
آپ کے صبر پر خدا کا درود و سلام ہو؛

آپ کے ایمان پر خدا کا درود و سلام ہو؛ آپ کے پدر گرامی نے فرمایا: «إِنَّ ابْنَتِي فَاطِمَةَ مَلَأَ اللهُ قَلْبَهَا وَ جَوَارِحَهَا إِيمَاناً وَ يَقِيناً؛ بیشک خداوند نے میرے بیٹی فاطمہ کے قلب اور اعضاء و جوارح کو ایمان اور یقین سے بھر دیا ہے. »

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی مدظله العالی کے دفتر کی ویب سائٹ کی جانب سے «بهار خزان» کے عنوان سے محبان جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے لئے کچھ مطالب پیش خدمت ہیں تا کہ سیدۂ دو عالم کی رضائیت حاصل کی جا سکے:

* شرح سيلي (طمانچوں کی شرح؛حضرت زہراءعليہاالسلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے اشعار)

* فاطميه، باطل پر حق کی فتح (ایّام فاطمیہ کی تکریم میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر)

* فاطمه کون ہیں؟ (حضرت فاطمه زہراء عليہاالسلام کی شخصیت کے بارے میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی تحریر)

 

شرح سيلي(طمانچوں کی شرح)
اي دخـــت گــرامـي پـيمبر * اي سرّ رســول در تو  مـضمر
در بـيت شريف وحي، خاتـون * بــر چــرخ رفــيع مَجد اختر
اي شبه نبي به خلق و اوصاف  * اي نــور مـجسّــم مــصــوّر
اي خـــادم خــانه‌ي تـو حوّا * و اي حاجــب درگه تو هاجـر
در طــورِ لــقا يــگانـه بانو * در مُـلك وجود زيــب و زيـور
بــا شــير خــدا عـليّ عالي * هـم‌ سـنگر و هم پيام و همســر
مانند تو زن جهان‌ ‌نديده‌‌است  * غــمـخوار و نـگاهبانِ شـوهــر
اي عــين كمال و جان بينش * اي ‌شخص‌ شخيـص عصمت ‌و فرّ
بـر رفـعت قدر تو گواه است * بــيت و حجــر و مقــام و مشعر
اي ســيّــده زنــان عــالـم *اي بــضــعه حــضــرت پيمــبر
تـو اصلي و ديگران همه فرع * تــو جـاني‌ وديــگران چـو پيكر
در مُـــلــك وَلا ولــيّـة الله* بـر نــخلِ وجـــود احمـــدي بَر
قــرآن بــه فـضيلت تو نازل* بـــرهان تــو مـــحكم و مقــرّر
روي تــو جــمال كــبريايي* كـــوي تـــو رواق قُـــرب داور
از جوي تو شبنمي است زمزم* و از بحــر تو شعبــه‌اي ‌است ‌كوثر
زآن خـطبه آتشين كه پيـچيد * در ارض و سـمــا بســـان ‌تـنـدر
مـحكوم شد آن نظام و گرديد* حــق روشن و غــالب و مظـــفّر
مـن عاجزم از بــيان وصفت * تـــو بحري و مـــن ز قطره كمتر
اي امّ مــحـامـد و مـعــالي * اي از تــو مــشام جـــان معـطّر
بــا اين ‌همه عزّ و رفعت شأن* بـا آن همـــه فخر بي حــد و مرّ
از ظــلـم مــنافـقين امّــت* شــد قــــلـب مـنــير تـو مكدّر
آن را كــه نـمـــود حــقّ مقدّم* كـــردند مــعانــدان مـؤخّر
بردند فــدك ‌به ‌غصب و بسـتند * بــر بــاب تو گفته ‌‌اي مـزوّر
افســوس شكست دشمــن ‌دين‌ * پـهلوي تو را بــه ضربـت در
بـــازوي تـو را به تــازيـــانه * زد قــنفذ مــــلحد سـتـمگر
از سيلــي و شـرح آن نگـــويم* كــافتد بـه دل از بيــانش آذر
در مــاتــم مـحســن شهيـدت * مايــيم به ســوگ و ناله اندر
بر لــطفي صافــي از ســر لطف* بنگـــر كه بُوَد پريش و مضطر
بس فخــر از آن كنـــد ‌كه دارد * بر سـر ز سـتــايش تـو افسر

 

 

فاطميه، باطل پر حق کی فتح (ایّام فاطمیہ کی تکریم میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر)

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا تعلق اس اہلبیت عصمت و طہارت سے ہے کہ جن کے وجود کی وجہ سے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا اور اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

«لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(1)

یعنی اگر ہم نہ ہوتے تو خداوند متعال نہ تو آدم کو خلق  کرتا اور نہ حوا کو، نہ تو جنت کو خلق کرتا اور نہ جہنم کو، نہ تو آسمان کو خلق  کرتا اور نہ زمین کو۔
حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے:

«فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(2)

یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(3) (میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیاہے)

اور دوسری حدیث میں فرمایا:«لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(4). (اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا)

انسان بالکل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خداوند متعال کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں کہ میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور پوری کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا ؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(5)

یعنی ہم نے تمہیں اس طرح نہیں پہچانا جس طرح تمہاری معرفت کا حق تھا۔

یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہ جاؤن کیونکہ اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے. نیز آپ نے فرمایا:«لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں کوئی چیز تعلیم نہ دو ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ یہ تم سب لوگوں سے اعلم ہیں.

اب اہلبيت عصمت و طہارت عليہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله عليہا کے درمیان ایک خاص محوریت ہے؛ ملاحظہ فرمائیں کہ جب اہلبیت علیہم السلام کا تعارف کروایا تو سیدۂ دو عالم جناب زہراء سلام اللہ علیہا مرکزیت کی حامل ہیں «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(6)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے لحاظ سے مقام امامت پر فائز  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا :«إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا»  اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں:

 «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(7) گرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضَبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(8) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:

«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(9)

اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے:

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ اس کا مؤلف سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته.»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے کلمات اور بالخصوص آپ کا وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ لوگوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہیں اور آنحضرت نے دنیا تک عورت کی کرامت اور حقیقی مقام پہنچایا اور فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد،جہالت و گمراہی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہےاور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔

 اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

حوالہ جات:
۱۔ عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج1، ب26، ح22.
۲۔ نهج البلاغة، نامه28.
۳۔ الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص710.
۴۔ بحار الانوار؛ ج15،ب1، ح48.

۵۔ بحار الانوار؛ج68،ب61، ح1.
۶۔ عوالم العلوم، ص933.
۷۔ نهج البلاغة، خ233.
۸۔ صحيفه امام رضا عليه السلام، ص45،ح22.
۹۔ البرهان متقي هندی، ص94.

 

 

فاطمه کون ہیں؟

اللّهم صلّ علي الصديقة فاطمة الزكية حبيبة حبيبك و نبيّك و ام أحبّائك و أصفيائك الّتي انتجبتها و فضّلتها و اخترتها علي نساء العالمين و صلّ علي ولدها الذي بشّرها به خاتم النبيين صلوات الله عليه و آله، بقية الله في ارضه ارواح العالمين له الفداء.

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی جامع الاطراف اور وسیع الأبعاد شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، لکھا گیا اور مستقبل میں بھی جو کچھ لکھا  جائے گا یا کہا جائے ،لیکن اس کے باوجود خاتون جنت بی بی دو عالم حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و درجات کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔
اگرچہ جانگداذ ظلم و ستم کی وجہ سے بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ظاہری زندگی بہت مختصر تھی لیکن اس کے باوجود آپ کی یہی مختصر حیات پوری تاریخ میں تمام لوگوں اور بالخصوص ہر حق پرست اور ہر رہبر کے لئے نمونہ ہے۔

اور اس شاعر کے بقول کہ جس نے کہا:ضلّ من جعل مقياس الحياة الطولا،

زندگی کا مقیاس و معیار ظاہری زندگی اور لمبی عمر کو قرار نہیں دینا چاہئے بلکہ انسان کی حیات کا حقیقی مقیاس ومعیار  اس کے وجود  کی برکات ہیں۔

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليہا کی حیات بھی آپ کے پدر بزرگوار حضرت خاتم الانبياء محمد بن عبد الله صلي الله عليه و آله و سلم کی حیات کی طرح برکات و آثار سے سرشار اور بہت وسیع و عریض تھی۔

عالم وجود اور کائنات ہستی میں کوئی انسان بھی حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کے علم و اخلاق، سیرت، انسانی کمالات و مقامات اور روحی و جسمی خصوصیات کے لحاظ سے حضرت زہراء علیہا آلاف التحیۃ والثناء سے زیادہ قریب نہیں ہے۔

اگرچہ  بنت پیغمبر حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی عمر کا طول ۱۸ سال سے زیادہ نہیں تھا لیکن اس کا عرض کئی ملین سال سے بھی زیادہ ہے۔ اہم یہ ہے کہ انسان اپنی مختصر حیات میں ایس عظیم کارنامہ انجام دے کہ  جنہیں دوسرے افراد کئی ہزار سالوں میں بھی انجام نہ دے سکیں۔

ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس موضوع اور اس ہستی کے درجات و فضائل کے بارے میں جس قدر بھی بحث کریں لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ حق مطلب ادا نہیں کر سکتے۔

ایک انسان کامل کے لئے فرض کئے جانے والے تمام مقامات میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پہلے درجہ پر فائز ہوں گی۔ ایمان، معرفت الٰہی، خدا کی بندگی و عبادت، دنیا سے بے اعتنائی، قناعت، دوسروں کے لئے ایثار، ہمسرداری، تربیت اولاد، عفت و حجات کی رعائت، اسلام میں خواتین کے لئے تاکید کی جانے والی کرامت و حشمت کی حفاظت اور سورۂ احزاب میں عورتوں کے لئے بیان ہونے والی دس صفات ( کہ جس طرح ان صفات کو مردوں کے لئے بھی  افتخار شمار کیا گیا ہے) میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا یگانہ  مقام رکھتی ہیں اور آپ سب کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔

انسان کے لئے حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مکمل تاریخ حیات اعجاز آفرین ہے کہ کس طرح ایک عورت ان اعلٰی و ارفع مقامات پر فائز ہو سکتی ہے اور کس طرح خداوند متعال کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے انوار وجود اس قدر درخشاں ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض ازواج آپ کی توصیف میں یوں بیان کرتی ہیں:

«مَا رَأَيْتُ أفْضَل مِنْ فَاطِمَة غَير أبِيهَا؛ میں نے فاطمہ سے برتر کسی کو نہیں دیکھامگر ان کے بابا کو »(1)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا نے جو موقف اختیار کیا ؛ وہ بہت اعلٰی اور حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی اہم ذمہ داری اپنے ذمہ لی اور مسجد نبوی میں عظیم الشأن خطبہ دیا۔

اس موقع پر ایسے حالات میں کسی انسان کے لئے ایسا خطبہ دینا اور حقائق کو آشکار کرنا ممکن نہیں تھا لیکن صدیقہ ٔطاہرہ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا وہ واحد اور یگانہ ذات ہے جس نے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ سامعین کے دلوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یاد تازہ ہو گئی۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس انداز میں مسجد نبوی میں داخل ہوئیں کہ آپ نے چادر اور عباء اوڑھی ہوئی تھی جو زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور بنی ہاشم کی عورتوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حکم پر عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ کیا گیا تا کہ آپ پردہ کے پیچھے سے خطبہ دے سکیں اور آپ نے بالبداہہ ایسا خطبہ دیا کہ جسے سن کر سامعین پر سکوت طاری ہو گیا اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليہا کا وجود ایک آسمانی وملکوتی وجود ہے، ہم جیسے افراد ان کے وجود کی عظمت کو درک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس عظیم ہستی کی توصیف بیان کر سکتے ہیں.

اہلبیت اطہار علیہم السلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔ آیت تظہیر «إنّما يُريدُ اللهُ لِيُذهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ البَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُم تَطْهِيراً»(2) میں حضرت فاطمهٔ زہراء سلام الله عليہا پنج تن میں واحد اور یگانہ خاتون ہیں کہ جن کی شان میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے اور آپ بھی اس آیت میں شامل ہیں۔

اور اس آیت «فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ»(3)، میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود واحد خاتون حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله عليہما ہیں۔

نیز اس آیت «قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏»(4) میں بھی جب حضرت رسول خدا صلی الله عليه و آله و سلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے قرابتدار کون ہیں کہ جن سے اس آیت میں خدا نے مودت کا حکم دیا ہے؟

آپ نے فرمایا: علی، فاطمه، حسن اور حسين صلوات الله عليهم اجمعين. (5)

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا معنوی مقام اور آپ کا وجود مبارک شیعوں کی حقانیت کے لئے حجت ہے۔ میں ایک موقع پر مدینہ میں تھا اور میں نے سنا کہ یہاں کوئی کتابخانہ ہے کہ جس میں شیعوں کے خلاف کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔ میں وہاں گیا اور وہاں موجود کتابوں کوجائزہ لینے لگا۔ میں نے دیکھا کہ صاحب مکتب کی میز پر ایک کتاب رکھی ہوئی ہے کہ جس کا نام «و جاء دور المجوس‏»تھا۔

میں كتابخانہ کے مالک کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گیا۔ انہوں نے کچھ ایسی کتابوں کے نام بتائے جنہیں میں جانتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ ان کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں میں ان کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ان کے تمام مطالب جھوٹ اور بہتان ہیں۔

اس شخص نے کہا: آپ بغیر پڑھے ان کتابوں کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟

میں نے جیسے ہی وہ کتاب کھولی تو پہلی نظر میں ہی میں نے اس شخص کے ئے یہ بات ثابت کر دی دی کہ اس کتاب میں لکھے ہوئے مطالب  جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔

کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے پوچھا کہ ان دو افراد کی خلافت کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

میں نے کہا: آپ یہ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں!  یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی ان دونوں پر عقیدہ نہ رکھتا ہو تو وہ دین سے خارج نہیں ہو گا اور اگر کوئی ان کی معرفت کے بغیر اور انہیں پہچانے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ بے دین نہیں ہے۔

وہ مسلسل خلافت کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو جاننے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ میں نے کہا: عقيدتنا عقيدة سيدة فاطمه سلام الله عليها، یعنی ہمارا عقیدہ وہی ہے جو سیدہ فاطمہ زہراء کا عقیدہ تھا.جب میں نے یہ بات کی تو وہ خاموش ہو گیا۔ کیوکہ یہ معلوم تھا کہ وہ خلفاء کے بارے میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے عقیدہ کو رد نہیں کر سکتا۔

پھر اس نے پوچھا:آپ کا اس (خود ساختہ) اجماع کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

میں نے کہا: ہم حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اسی عقیدہ پر باقی ہیں۔

جب میں نے دوبارہ اسی محکم بات کو دہرایا تو پھر وہ کوئی بات نہ کہہ سکا۔

الغرض یہ کہ حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله و سلامه عليہا کا موقف ایک ایسا موقف ہے کہ جو مذہب و مکتب تشیع کی اساس اور بنیاد کو تقویت دیتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے۔

اس بناء پر ہمیں چاہئے کہ سب لوگوں کے مطالعہ کے لئے سیدۃ نساء العالمین بضعۃ الرسول صلوات الله عليه و آله کی تعلیمات پیش کریں کیونکہ یہی عقائد اور تعلیمات تشیع کے لئے حجت ہیں۔

ان ایّام میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس معجزاتی خطبہ پر خاص توجہ کرنی چاہئے کہ جس کے ضمن میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے اور جس میں ہر لازم پیغام کا بیان ہے۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس خاص مقام و منزلت پر توجہ دیں کہ جس میں فرمایا گیا ہے:«خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ أَنْ لَا يَرَيْنَ‏ الرِّجَالَ‏ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَال‏؛ عورتوں کے لئے بہترین حالت یہ ہے کہ نہ تو کوئی اجنبی شخص انہیں دیکھے اور نہ ہی وہ کسی اجنبی شخص کو دیکھیں »(6)۔ زہرائی و فاطمی خواتین کو اس امر پر توجہ کرنی چاہئے۔

بی بی دو عالم سیدۂ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مجالس اور ذکر فضائل ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں کیونکہ یہ خدا کے تقرب، امر اہلبیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص  حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے امر کے احیاء کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان موقعوں  پر زیادہ سے زیادہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کی تکریم و تجلیل کریں اور آپ کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں کہ یہ اجر رسالت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے اور آنحضرت کی تجلیل و تکریم ہے۔

البتہ جو لوگ آپ کے مقام و منزلت کی تجلیل و تکریم کرتے ہیں وہ آپ کے احکام پر بھی حتمی طور ہر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا:

        تَعْصِي الْإِلَهَ وَ أَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ                             هَـذَا مُحَالٌ فِي الْفِعَالِ بَدِيعٌ‏
                 لَـوْ كَــانَ حُبُّكَ صَادِقاً لَأَطَعْتَهُ                           إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيع(7)‏       

یعنی حضرت فاطمۂ زہراء عليها آلاف التحية و الثناء کی محبت میں ہمارے صدق و صداقت کی علامت یہ ہے کہ ہم اس بزرگ ہستی کی راہ پر ثابت قدم رہیں اور ہمیشہ ہر حال میں خدا، رسول اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے امر کی اطاعت کو اپنے زندگی کے تمام امور میں قرار دیں۔

حوالہ جات:
۱۔ مجمع الزوائد هيثمي، كتاب المناقب، باب مناقب فاطمة بنت رسول الله صلي الله عليه و آله، ح15193.
۲۔ سوره احزاب، آيه33.(بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہلبیت علیہم السلام تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح سے پاک و پاکیزہ رکھے کہ جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)
۳۔ سورهٔ آل عمران،آيه61.( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ  حجتی کریں تو ان سے کہہ  دیجئے کہ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے  اپنے نفسوں کو  بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں)
۴۔ سوره ٔشوري، آيه23.( اور (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو)
۵۔ بحار الأنوار؛ج23، ب13.
۶۔ وسائل الشيعة، ج20،ح25054.
۷۔  امالي شيخ صدوق ره، مجلس74.

 

موضوع: 
ملکۂ صبر و شجاعت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کی ایک تحریر

 

زینب؛ جی ہاں زینب، چار حروف پر مشتمل ایک اسم،لیکن یہ انسانیت کے ان تمام فضائل اور اقدار کا مجموعہ ہے جو خداوند کریم نے سورۂ احزاب کی پینتیسویں آیت میں عورتوں اور مردوں کے لئے شمار کئے ہیں۔

یہ ذات ایمان، علم و معرفت،صبر و صداقت اور استقامت و شجاعت کا اسوہ و نمونہ ہے، اور یہ وہ خاتون ہے جو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زبان اور مکارم اخلاق کے لحاظ سے اپنی ماں جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی اوصاف کی حامل ہے۔ اس ہستی پر صرف مسلمان خواتین ہی نہیں بلکہ پوری امت اسلام(چاہے خواتین ہوں یا مرد) نازاں ہے۔

اس ہستی کی سیرت،حجاب، عصمت و عفّت، عبادت اور عظمت و بزرگی سب افتخارانگیز ہیں۔ آپ بلند مرتبہ اور اعلیٰ منزلت پر فائز ہیں اور آپ نے ہمیشہ اسلام کی حمایت اور دینی اقدار کا دفاع کیا۔ نیز آپ نے تاریخ کے مستکبرین کی حکومت پاش پاش کر دیا اور اس طرح سے زمانے کے مستکبرین کا سر کچل دیا کہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا کوڑا دان بنی امیہ کا مقدر بن گیا ، اور انہیں دنیا کی نظروں میں نفرت انگیز اور تمام حریت پسندوں کی نظر میں لعنت و نفرت کا مستحق قرار دے دیا۔

حق یہ ہے کہ اس ذات اقدس نے اسلام کی عظمت، بنی ہاشم کی شان و شوکت اور افتخارات، اپنے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور قرآن مجید کی پاسداری کی، اسلام و قرآن اور دین و توحید سب اس ہستی کے شکرگذار ہیں۔ اگر یہ ذات نہ ہوتی تو تاریخ کس طرح اوراق میں ثبت ہوتی، اس چیز کا تصوریقیناً بہت وحشت انگیز اور خوفناک ہے۔

دور حاضر میں مرد اور خواتین سب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے مکتب سے کسب فیض کر رہے ہیں۔ اس عظیم الشأن خاتون نے اپنے جاہ و جلال سے شجاعانہ طور پر اسلام اور قرآن کا دفاع کیا اور باطل، ظلم، الحاد، استبداد اور جبر و ستم کو سرنگوں کیا اور حق کے پرچم کو سربلند کیا۔ آج دنیا آپ کی حیات اور سیرت سے درس لینے کی محتاج ہے۔

امید ہے کہ آج کی مسلمان خواتین حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں اور اپنے تمام دینی ع شرعی امور میں اسلام کی اس عظیم خاتون سے درس لیں اور  دنیا کے سامنے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اور اسوہ پر افتخار کرتے ہوئے اس ہستی  کے ولائی اور معنوی پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ اور ہم آخر میں ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شان میں عقیدت کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں:

آفتاب آسمان مجد و رحمت زينب است * حامي توحيد و قرآن و ولايت زينب است
درّ درياي فضيلت عنصر شرم و عفاف * قهرمان عرصه صبر و شهامت زينب است
در دمشق و كوفه با آن خطبه‌هاي آتشين * آن كه سوزانيد بنياد شقاوت زينب است
آن كه زد بر ريشه بيداد و طغيان يزيد * وآن كه احيا كرد آيين عدالت زينب است
معدن ايمان و تصميم و ثبات و اقتدار * مشعل انوار تابان هدايت زينب است

در قيام كربلا گرديد همكار حسين * در ره شام بلا، كوه جلالت زينب است
وآن كه در امواج درياي خروشان بلا * امتحان‌ها داد با عزم و شجاعت زينب است
همچو باب و مام و جدّ خويش در روز جزا *آن كه دارد از خدا اذن شفاعت زينب است
 

 

موضوع: 
یکشنبه / 17 بهمن / 1395
حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام سے یہ درس سیکھنا چاہیئے:
دین شناس حضرات کی خدمت میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی ضرورت
(حضرت عبد العظیم حسنی کی ولادت کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کا بیان)

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام؛ رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظیم ذریت اور علی و بتول صلوات اللہ علیہم اجمعین کے فرزندوں میں سے ایک ہیں۔ آپ علماء علوم اہلبیت علیہم السلام کی معروف شخصیات، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے بزرگ صحابہ اور اسرار ائمہ اطہار علیہم السلام کے محارم میں سے ہیں۔اور چونکہ ظاہری طور پر آپ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے سلسلۂ نسب میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی طبقہ میں ہیں لہذا آپ آنحضرت کے اصحاب میں سے بھی ہیں۔ اگرچہ ایک روایت کی بناء پر آپ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانہ کو درک نہیں کیا ہے لیکن یہ قوی احتمال ہے کہ آپ نے آنحضرت کی خدمت کو درک کیا ہے.

اسلام کی اس عظیم شخصیت کے الٰہی اور ہمیشہ باقی رہنے والے کارناموں میں سے ایک اپنے وقت کے امام کی خدمت میں عرض دین کا مسئلہ ہے( یعنی آپ امام کے حضور اپنے دینی عقائد بیان کرتے تھے تا کہ امام عقائد کی تائید و تصحیح فرمائیں)۔ ایک ایسی شخصیت جب ’’عرض دین‘‘ کا اقدام کرے تو اس سے عقائد کی تصحیح کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، چاہے یہ واجب الاعتقاد ہوں یا اس سے بھی زیادہ۔

حضرت عبد العظیم حسنی علیہ السلام جیسی عظیم اور بزرگ شخصیت نے کتاب و سنت کے بارے میں اپنے تمام علم و آگاہی اور کتاب خطب امیر المؤمنین علیہ السلام کی تألیف کے باوجود یہ لازم جانا کہ اپنے وقت کے امام کی خدمت اقدس میں اپنے ان عقائد کو بیان کریں کہ جن کے آپ سو فیصد قطعی و حتمی اور یقینی طور پر معتقد تھے تا کہ امام علیہ السلام ان عقائد کی تصدیق کریں اور آپ اپنے امام علیہ السلام سے ان عقائد کے صحیح ہونے کی تائید دریافت کریں۔ اس رو سے دوسرے لوگوں کو بطریق اولٰی عرض دین جیسے اہم مسئلہ پر زور دینا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ اطمینان کے لئے قرآن و حدیث اور علوم اہبیت علیہم السلام کے علماء (جنہوں نے بزرگوں سے علم حاصل کیا ہے)میں سے کسی ایک عالم کے سامنے نہیں بلکہ متعدد علماء کے سامنے اپنے عقائد بیان کرنے چاہئیں۔

اس کے لئے مکمل تواضع اور عاجزی سے باخبر، مورد اطمینان، صحیح و غلط اور کامل و ناقص میں تشخیص دینے والے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں۔

ہمارے زمانے میں ہم سب اور بالخصوص نوجوان نسل، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے عزیز  اور دیندار طلباء کو عرض دین اور دین شناسی جیسے اہم مسئلہ کی جانب مکمل توجہ کرنی چاہئے یعنی قرآن کریم اور احادیث اہلبیت علیہم السلام کے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں اور دین کی تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ تحریف و تأویل، تصرف اور اعمال میں  اپنے ذاتی سلیقوں اور متعدد وجوہات کی بناء پر لوگ دین  کی تعلیمات دے رہے ہیں منجملہ بعض مغرب زدہ افراد عقائد اور دینی تعلیمات دینے میں مشغول ہیں کہ جو خود کو روشن فکر شمار کرتے ہیں اور جن کی اپنی کوئی علمی صلاحیت نہیں ہے لیکن وہ دینی امور کے ماہر بنے بیٹھے ہیں۔ انٹرویو، کانفرنس، تقاریر اور مقالات و مضامین لکھ کر اسلامی اقدار، لوگوں کے عقائد اور شرعی احکام کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسا دکھاوا کرتے ہیں کہ روشن فکری کا مطلب ہے کہ کتاب و سنت کے دلائل، دینی اصطلاحات اور صرف قرآن و سنت تک ہی محدود نہ رہا جائے ۔ یہ نام نہاد روشن فکر حضرات متمدن دنیا میں علماء اور فقہاء کی علمی کاوشوں کو ردّ کرتے ہیں اور انہیں موجودہ زمانے کے مشرقی یا مغربی تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھتے نیز وہ بعض شرعی، سماجی اور عدالتی آئین پر اعتراض کرتے ہیں اور عقائد میں بھی اپنی خاص عارفانہ اصطلاحات سے کتاب و سنت کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ المختصر یہ کہ وہ ایسی راہ پر چل رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی یہ راہ و روش جاری رکھی تو وہ بہت سے دینی فرائض کو پامال کر دیں گے۔

انبیاء کا اہم اور عظیم کام یہ تھا کہ انہوں نے خدا کی طرف لوگوں کی تبلیغ کی، انہیں مؤمن بنایا اور انہیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کا پابند بنایا۔یہ ایک ایسا کام تھا جو کسی بھی طبقہ کے برجستہ اور فکری نوابغ انجام نہیں دے پائے اور نہ ہی انجام دے پائیں گے۔

ہر جگہ یہ روشن فکر افراد  ایسی ہی فکر اور ایسی ہی ذہنیت کے مالک ہوں گے اور وہ اس سے خارج نہیں ہیں ۔اور وہ اس بات پر افتخار کرتے ہیں کہ وہ ان تمام یا بعض عقائد پر اعتراض کرکے لوگوں کے اعتقادات کو کم کر رہے ہیں۔ یہ روشن فکر افراد بیگانوں کے حالات اور نظریات سے متأثر ہو کر اپنی فکر سے دین کی تفسیر کرتے ہیں اور اسلام کی بنیادوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں یا پھر ان کا انکار کرتے ہیں۔

افسوس ہے کہ ایسی راہ و روش پر چلنے والے افراد پر دین و مذہب کی طرف مائل ہونے یا  مذہبی ہونے کا لیبل لگا کر پیش کیا جاتا ہے کہ جو اکثر خواتین و حضرات پر اثرانداز  ہوتے ہیں اورجن کی وجہ سے بعض مسلم مذہبی مسائل اور اسلامی فرائض میں شکوک و شبہات اور وسوسہ ایجاد ہوتے ہیں ۔

یہاں یہ بات کہنا بھی ضروری ہے کہ ایسے مقبول، محترم اور مقدس مسائل کی توہین کرنا اور ان میں شکوک و شبہات ایجاد کرنا معاشرے میں شہرت بخش ہے ۔ چونکہ ایسے افراد صحیح طریقہ سے سماج میں اپنا نام نہیں بنا سکتے لہذا وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اس راہ میں جس قدر زیادہ توہین و اہانت کریں، مسلّمات کا انکار کریں اور سماج کی اقدار پر حملہ کریں اتنا ہی ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے اور جو لوگ ان اقدار کو اپنی خواہشات اورمنافع کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں؛ وہ ان کو زیادہ سراہتے ہیں۔

اکثر مغرب زدہ، جدید مسلک کے موجد، مؤلفین و مصنفین اور مقررین کو آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر سمجھتے ہیں کہ جو مقدسات پر حملہ کرتے ہیں، سماجی اعتقادات کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی کھلم کھلا توہین کرتے ہیں۔

مرتد سلمان رشدی کی کتاب ہر قسم کے استدلال اور منطقی و عقلائی اصولوں سے عاری تھی کہ جس میں کسی طرح کا کوئی عاقلانہ ردّ اور حکمت پر مبنی نکتہ نہیں تھا لیکن اس نے ایسے مقامات مقدسہ کی اہانت اور باعظمت شخصیات کی توہین کی کہ جن کا سب احترام کرتے ہیں اور انہیں محترم شمار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرنے اور اس کی اسی گستاخی کی وجہ سے وہ آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر کے عنوان سے مشہور ہو گیا۔ اسلام اور مقدسات اسلام کی توہین کرنے کی وجہ سے استعمار نے اس کی حمایت اور دفاع کیا ورنہ اس کی کتاب میں کسی طرح کی کوئی منطقی و استدلالی بات نہیں ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر اگر ہماری جوان نسل ان نام نہاد روشن فکر افراد کے گمراہانہ شر سے محفوظ رہنا چاہتی ہے اور دین اسلام کو اسی پاکیزگی اور اصل و اصیل منابع سے سیکھنا چاہتی ہے کہ جس طرح وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا تو اسے چاہے کہ وہ خود ان منابع کی طرف رجوع کرے اور کسی طرح کی تأویل و توجیہ کے بغیر کتاب و سنت کی دلالت کو حجت سمجھے  اور اسلام شناس ( یعنی مکتب اہلبیت علیہم السلام اور ان دو منابع پر غور و فکر اور تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے ) افراد کی طرف رجوع کرے۔ ان ہستیوں کو سب لوگ جانتے اور پہنچانتے ہیں۔ اور وہ شخصیات ابوذر، مقداد، سلمان، سلیم، محمد بن مسلم، ابن ابی عمیر، فضل بن شاذان، ابن بابویہ، کلینی، شیخ طوسی، ان کے شاگرد، ان کے شاگردوں کے شاگرد اور عصر حاضر میں علماء و فقہاء اور مراجع کرام ہیں۔ یہ وہ علماء ہیں جنہوں نے مختلف زمانوں میں اصل اور اصیل منابع سے اسلام اخذ کیا اور آئندہ نسلوں کے سپرد کیا ہے۔ اگر یہ بااخلاص شخصیات نہ ہوتیں تو کوئی دوسرا طبقہ اس امانت کی حفاظت کے لئے کھڑا نہ ہوتا اور اصطلاح عارفانہ، مختلف افکار اور صوفیانی نظریات کے شور شرابے اور ہنگامے میں کوئی چیز ثابت اور خالص نہ رہتی اور نہ ہی اسلامی اعتقادات کے مبانی تحریف کے ضرر سے محفوظ  رہ پاتے۔

موضوع: 
درسی که از حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام باید آموخت:
لزوم عرض کالای عقیدتی به دین شناسان
(گفتاری از مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی بمناسبت میلاد حضرت عبدالعظیم حسنی علیه‌السلام)

 

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام یكي از اعاظم ذرّيه‌ی رسول و فرزندان مرتضي و بتول صلوات الله عليهم‌ اجمعين و از شخصيت‎ها و معاريف علماي اهل‎بيت و بزرگان صحابه‌ی حضرت جواد و حضرت هادي عليهماالسلام و محارم اسرار ائمه عليهم‌السلام است و علي‎الظاهر چون با حضرت رضا عليه‌السلام در سلسله‌ی نسب به حضرت اميرالمؤمنين و حضرت زهرا عليهماالسلام در يك طبقه بوده، از اصحاب آن حضرت نيز بوده است و اگر چه برحسب روايتي، عصر امامت امام عسكري عليه‌السلام را درك نكرده است، ولي احتمال اينكه درك خدمت آن حضرت را كرده باشد قوي است.

یکی از کارهای الهی و ماندگار این شخصیت عظیم اسلام، مسأله عرض دین او بر امام زمان خود است. از اينكه چنين شخصيتي در مقام عرض دين خود برآمده است، اهميت تصحيح عقايد، اعم از آنچه واجب‎الاعتقاد يا فراتر و بيشتر از آن است، معلوم مي‎شود.

در موقفي كه بزرگواري، مثل حضرت عبدالعظيم حسني عليه‌السلام با آن همه علم و آگاهي از كتاب، سنّت و تأليف كتاب خطب اميرالمؤمنين عليه‌السلام و با عقايدي كه صددرصد و به يقين جزمي و قطعي به آنها معتقد بوده است، باز لازم مي‎داند كه اين عقايد را حضور مبارك امام عرضه بدارد تا از امام عليه‌السلام تصديق و امضاي صحّت آنها را دريافت نمايد، ديگران به طريق اولي بايد به عرض دين خود مبادرت كنند و براي اطمينان بيشتر و نه فقط به يك نفر بلكه به اشخاص متعدد از رجال عالم به قرآن، حديث و معارف اهل‎بيت عليهم‌السلام و آنهايي كه علمشان را از آن بزرگواران گرفته‌اند‎، عرضه بدارند‎.

در اين ميدان بايد با كمال تواضع و فروتني كالاي عقيدتي خود را به عرض خبرگان مورد اعتقاد و عالم به صحيح و ناصحيح و كامل و ناقص آن برسانيم.

در عصر ما مسأله عرض دين به دين‌شناسانى كه دين را از قرآن كريم و احاديث اهل بيت‌عليهم السلام شناخته‌اند، مسأله‌اى است كه بايد همگان مخصوصاً نسل جوان و دانشجويان عزيز و دانشگاهيان متعهّد و متديّن به آن توجّه كامل داشته باشند؛ زيرا دست تحريف و تأويل و تصرّف و اعمال سليقه‌هاى شخصى به علل متعدد از جمله غرب‌زدگى از سوى معدودى كه به اصطلاح خود را روشنفكر مى‌شمارند به سوى عقايد و تعاليم دينى دراز شده و اشخاص فاقد صلاحيت‌هاى علمى به صورت كارشناس امور دينى و طالب فرم در قالب مصاحبه و ميزگرد و سخنرانى و نوشتن مقاله، ارزش‌هاى اسلام و التزامات مردم را به عقايد و احكام شرعى هدف قرار داده و چنان وانمود مى‌كنند كه روشنفكرى، عدم تعهّد به مداليل كتاب و سنت و اصطلاحات دينى و محدودنبودن در چهارچوب كتاب و سنّت است و به گمان خود، روشنفكرانه دريافت‌هاى علما و فقها را در امتداد قرن‌هاى متمادى تخطئه نموده و بسيارى از احكام الهى را با مزاج عصرى كه ساخته غرب يا شرق است مناسب نمى‌دانند و برخی برنامه‌هاى شرعى و نظامات جزائى و اجتماعى و غيرها را زير سؤال برده و در عقايد نيز با افكار به اصطلاح عارفانه اى كتاب و سنّت را تعريف و توصيف مى‌نمايند و خلاصه راهى مى‌روند كه اگر ادامه يابد التزامات دينى بسيارى را سست مى‌نمايد.

كار مهمّ و بزرگ انبيا اين بود كه مردم را به برنامه‌هائى كه از سوى خدا تبليغ كردند، مؤمن ساخته و آنها را به عمل به اين تعاليم وجداناً متعهّد نمودند؛ كارى كه از هيچ يك از قشرهاى به اصطلاح برجسته و نوابغ فكرى برنيامده و برنخواهد آمد.

اين افراد به اصطلاح روشنفكر هركجا پيدا شدند با اين ايمان برخورد دارند و خارج بر آن هستند و به اين افتخار مى‌كنند كه در تمام يا بعض از اين باورها خدشه نمايند و تعهّد مردم را كم كنند و دين را طبق انديشه خودشان، كه متأثر از اوضاع و احوال بيگانگان است، تفسير نموده و اصالت‌هاى اسلامى را مورد ترديد يا انكار قرار دهند.

متأسفانه اين روش‌ها كه به صورت گرايش به دين و مذهب و مذهبى‌بودن ابراز مى‌شود كم و بيش در زن و مرد اثر گذارده و يك وسوسه در بعض مسائل مسلم مذهبى و تعهدات اسلامى در بعضى ديده مى‌شود.

ناگفته نماند كه طبع اين‌گونه برخوردهاى ترديدانگيز يا توهين‌آميز با مسائل مقبوله و مورد احترام و تقديس جامعه شهرت‌بخش است و افرادى كه مى‌خواهند اسم و آوازه‌اى بدست بياورند و از راه‌هاى صحيح عاجزند، اين راه را پيش مى‌گيرند، و هر چه در اين راه هتّاكى بيشتر نشان داده شود و بى‌پرده و صريح‌تر انكار و اهانت شود و به ارزش‌هاى جامعه تندتر حمله كنند، بيشتر موجب شهرت مى‌شود و عده‌اى هم كه آن ارزش‌ها را معارض با هواها و منافع خود مى‌دانند، بيشتر از آن استقبال مى‌كنند.

بسيارى از غرب‌زده‌ها و متجدّد مسلك‌ها، نويسنده و گوينده‌اى را آزادانديش و روشنفكر مى‌دانند كه در حمله به مقدّسات و باورهاى جامعه و مسخره‌كردن آنها بى‌پروا و گستاخ باشد.

كتاب سلمان رشدى مرتد، كه عارى از هرگونه استدلال و برداشت منطقى و معقول بود و حاوى هيچ نكته و ردّ و ايراد خردپسند نبود، تنها به علّت گستاخى مفرط و اهانت به مقامات مقدسه و شخصيت‌هايى كه همه از آنها احترام مى‌كنند و حريم قداست آنها را محترم مى‌شمارند، در محافلى كه حدّ و حدودى براى آزادى اشخاص قائل نيستند، روشنفكرانه و آزاد انديشانه تلقّى شد، و از رهگذر هتك اين قداست‌ها و اهانت به مقدّسات مسلمانان مشهور گرديد، و استعمار هم براى همين اهانت او به اسلام از او حمايت و دفاع كرد و گرنه كتاب فاقد محتواى منطقى و استدلالى است.

به اين جهات، نسل جوان ما اگر بخواهد از شرّ اضلال اين روشنفكرهاى اسمى در امان بماند و دين راستين اسلام را پاك و همان طور كه نازل بر پيامبر اكرم‌صلى الله عليه وآله شده است از منابع اصيله و اصليه فرا بگيرد، بايد يا شخصاً مراجعه به اين منابع نمايد و بدون تأويل و توجيه، دلالت كتاب و سنّت را حجت بداند، و يا به اسلام‌شناسان ـ يعنى آنها كه در مكتب اهل بيت‌عليهم السلام و با غور و بررسى در اين دو منبع اسلام را آموخته‌اند ـ رجوع نمايد. اينان را همه مى‌شناسند. ابوذرها و مقدادها و سلمان و سليم‌ها و محمدبن‌مسلم‌ها و ابن ابى عمير و فضل بن شاذان و ابن بابويه‌ها و كلينى‌ها و شيخ طوسى‌ها و شاگردان آنها و شاگردان شاگردانشان تا زمان حاضر از علما و فقها و مراجع مى‌باشند؛ اين قشر از علماء هستند كه در اعصار و ادوار متمادى اسلام را از منابع اصيل و أصل اخذ كرده و يداً بيد به اخلاف سپرده‌اند؛ و اگر اين رجال با اخلاص نبودند از قشرهاى ديگر حفظ اين امانت بر نمى‌آمد و در غوغاهاى بحث‌هاى به اصطلاح عارفانه و افكار و سخنان صوفيانه اين و آن، نه چيزى ثابت و خالص باقى مانده بود و نه مبانى اعتقادى اسلامى از گزند تحريف و تأويل مصون مى‌ماند.

موضوع: 
امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا
امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے نوشتہ جات

بسم الله الرحمن ارحیم

حضرت امام صادق علیہ السلام نے دوسری صدی ہجری کے پہلے حصہ میں ایک ایسے مدرسہ کا افتتاح کیاکہ جس کا اس زمانے تک اسلام میں اس کا کوئی سابقہ نہیں تھا اور اس کے بعد بھی اس جیسے مدرسہ کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ وہ امام صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ہی تھا؛ جس نے دنیا کو علوم قرآن، فقہ، کلام، کیمیا وغیرہ کے عظیم علماء سے نوازا۔

شیعہ فقہ کہ جس کے ضمن میں ہزاروں قانونی و تعلیمی شقیں ہیں نیز اس میں علمی اسلامی اخلاق کے آئین ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر یا تقریباً تمام موارد میں امام صادق علیہ السلام کے بے پایان علوم کے مقروض ہیں۔

حج جیسے احکام میں (جو اسلام کے عظیم ترین فرائض میں سے ہے اور جس کے فلسفہ کے ضمن میں اعلٰی حکمتیں موجود ہیں)دنیائے اسلام امام صادق علیہ السلام کے بحر العلوم سے مسیفیض ہوئی اور ابو حنیفہ کے بقول یہ سب امام جعفر صادق علیہ السلام کے طفیل ہیں۔ اہلسنت کی کتابوں میں سے صحیح مسلم میں امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے کہ  جس سے احکام حج کی چارسوشقیں مأخوذ کی گئی ہیں  اور اہلسنت اس کی پیروی کرتے ہیں۔

جی ہاں!اس زمانے میں اسلامی ممالک کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام کو بہترین فرصت میسر آئی کہ آپ سب سے بڑی علمی نہضت کی قیادت فرمائیں اور ایک ایسے مدرسہ کا قیام عمل میں لائیں کہ جس میں اسلام کے سب سے مشہور و معروف علماء  آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے ہوئے احادیث اخذ کریں اورآپ سےتعلیم حاصل کریں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے علوم تمام ممالک اور اسلام کے تمام علمی حلقوں پر محیط تھے۔ عراق، حجاز، خراسان اور شام کے علماء نے آپ سے علم حاصل کیا۔ علمی مشکلات اور اسلامی مسائل کے حل کے لئے صرف امام صادق علیہ السلام ہی حلال مشکلات تھے۔

جو بات زیادہ قابل غور ہے، وہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام  کی رہبری و قیادت اسلامی علوم میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مختلف قسم کے علوم جیسے علم نجوم، علم ہیئت، ریاضی، طب، تشریح، معرفۃ النفس، کیمیا، علم نباتات اور دوسرے علوم میں بھی آپ نے شاگردوں کی تربیت کی کہ جو ان علوم میں مشہور و معروف اور اپنی مثال آپ  ہیں۔صفحۂ تاریخ میں باقی رہ جانے والی آپ کی کتابیں، مضامین و مقالات اور احادیث مسلمانوں کی کتابوں کو زینت بخشتی ہیں، جیسے کتاب ’’توحید مفضل‘‘، رسالۂ  اہلیلجہ، ملحدین کے ساتھ آپ کے مناظرہ۔یہ سب اس بات کے شاہد ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ایک یونیورسٹی کی مانند تھا کہ جس میں مختلف علوم کے شعبہ جات تأسیس ہوئے  اور ہر شعبہ نے اپنے مخصوص علوم کے متعلق درس،مباحثہ اور تحقیق پر کام کیا۔

 

مثال کے طور پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جو علوم مسلّم طور پر تدریس فرمائے ان میں سے ایک علیم کیمیا تھا اور آنحضرت کی عظیم الشأن یونیورسٹی سے جابر بن حیان جیسے غیر معمولی شاگرد فارغ التحصیل ہوئے ۔ اگر ہم جابر بن حیان کے زمانے سے اب تک صرف انہی نتائج کے بارے میں تحقیق و جستجو  اور علمی بحث کرتے اور ان سے استفادہ کرتے جو اس شخصیت نے امام صادق علیہ السلام حاصل کئے  اور اسی طرح اگر ہم نے ایسے دوسرے علوم حاصل کئے ہوتے کہ جن کی آج کے متمدن  اور ترقی یافتہ سماج کو ضرورت ہے تو ہم مادی دنیا میں بھی مغرب ،یورپ اور امریکہ کے محتاج نہ ہوتے کیونکہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اسلام اور اس کے عالی اصولوں اور علماء کی کوششوں کی برکات کا نتیجہ ہے۔

 

امام صادق علیہ السلام کے شاگرد اسلامی علوم، طب، تشریح، علم نجوم، علم ہیئت، علم فلکیات، ماحولیات، طبیعیات، ریاضیات، کیمیا، فلسفہ، منطق، اخلاق، تاریخ، ادب، شعر، معرفۃ الحیوان، علم نباتیات،اسلحہ سازی کی صنعت اور ان کے علاوہ دوسرے علوم کے ماہر تھے۔

جابر بن حیان وہی شخص ہے کہ جس نے سب سے پہلے علمی تجربات، اشیاء کی مقدار کو معین کرنے کے لئے میزان استعمال کئے اور انہوں نے ایسی چھوٹی چھوٹی مقداروں کو معین کیا کہ جنہیں ہمارے زمانے میں حساس اور دقیق میزان کے بغیر معین نہیں کر سکتے اور چھ سو سال بعد یورپ میں کیمیا کے علماء نے اپنے تجربات میں ان میزان سے استفادہ کیا۔

یہ وہی دانشور ہے جس نے  دو عناصر کے درمیان اتحاد کے متعلق برطانیہ کے مشہور ماہر طبیعیات، ماہر کیمیا اور طبیعت شناس جان ڈالٹن(Jon Dalton) کے نظریہ کو  اپنی کتاب (المعرفة بالصفة الالهیة و الحکمة الفلسفیة)دس صدیاں پہلے واضح طور پر بیان کیا ہے اور اس نظریہ کو وضع کرنے والے ’’جابر بن حیان‘‘ ہیں نہ کہ ’’جان ڈالٹن‘‘۔

 

جی ہاں! حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے وہی جابر بن حیان ہیں کہ جن کے کارناموں میں سے  ایک کارنامہ  ( جو ان کی علمی و فکری مہارت و استعداد اور صلاحیت کو ثابت کرتا ہے) (Optical pencil) کی ایجاد ہے جس کی تحریر کو تاریکی میں پڑھا جا سکتا ہے، اہمیت کی حامل کتابوں کو لکھنے کے لئے اسی سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

اس مکتب کا ہر شاگر انفرادی طور پر بھی اس عظیم مکتب کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ صرف شیعہ دانشور ہی اس مدرسہ اور یونیورسٹی کی عظمت کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ مکتب اہلبیت علیہم السلام کی مخالفت کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں نے بھی اس مدرسہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور سب نے امام صادق علیہ السلام کے اعلم و افقہ اور برحق ہونے کو بیان کیا ہے۔ حنفیوں کے امام ’’ابوحنیفہ‘‘ کہتے ہیں: «مَا رَأَیْتُ أفقَه مِنْ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّد؛ میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا »

نجاشی نے اپنی کتاب رجال میں احمد بن عیسای اشعری سے نقل کیا ہے  کہ وہ کہتے ہیں:میں علم حدیث کی طلب میں کوفہ گیا  اور وہاں حسن بن علی وشا کی خدمت میں پہنچا اور ان سے کہا: مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کروں۔ انہوں نے مجھے وہ دونوں کتابیں دیں۔

 میں نے  کہا: روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

 فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ، تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ اور لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں گا۔

میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔

حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا اور سب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے۔

واقعاً یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی کہ جس نے موافقین اور مخالفین سبھی کو حیرت و تعجب میں مبتلا کر دیا اور زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بارہا فرماتے تھے:میری عترت اور میری اہلبیت  انہی مقامات اور علوم و درجات کے لئے تھی  کہ جس کے یہ اہل ہیں۔ لیکن افسوس کہ سیاست کی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنے کو ترک کر دیا گیا یہاں تک کہ بخاری جیسے شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بھی روایت نقل نہیں کی اور شاعر کے بقول:

قَضِیَّةٌ أشْبَهَ بِالمرْزِئَةِ * هذا البُخاریّ إمامُ الفِئَةِ

بِالصَّادِقِ الصِّدِّیقِ ما إحتجَ فی * صَحیحِهِ وَ احتجّ بِالمرجِئَة

إنَّ الإمَامَ الصَّادِقَ المجْتَبی * بِفَضْلِهِ الآی أتَت منبئة

أجَلّ مِنْ فی عَصْرِه رُتْبَة * لم یَقْتَرِفْ فی عُمْرِه سَیِّئَة

قَلامة مِنْ ظفر إبهَامِه * تَعْدِلُ مِنْ مِثْلِ البُخاری مِئَة

اس مکتب، قیمتی خزانے اور ان معارف کی قدر کریں اور سب اس مدرسہ و مکتب اور یونیورسٹی میں زانوئے ادب تہہ کریں اور امام جعفر و صادق علیہ السلام کی ولادت کے پرمسرت ایّام میں کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں منائیں اور اس امام برحق کی نورانی تعلیمات سیکھیں اور سکھائیں ۔

 

موضوع: 
... و راه او بشریت را نجات می دهد
(نوشتار مرجع عالیقدر آيت الله العظمي صافي گلپایگانی بمناسبت خجسته ميلاد پیامبر اعظم صلی الله علیه و آله و سلم)

ﺳﺨﻦ ﺑﻪ ذﮐﺮ ﺗﻮ آراﺳﺘﻦ ﻣﺮاد اين است * ﮐﻪ ﭘﯿﺶ اهل هنر ﻣﻨﺼﺒﻲ ﺑﻮد ﻣﺎ را

و ﮔﺮ ﻧﻪ ﻣﻨﻘﺒﺖ آﻓﺘﺎب ﻣﻌﻠﻮم است * ﭼﻪ ﺣﺎﺟﺘﺴﺖ ﺑﻪ ﻣﺸّﺎطه روي زﻳﺒﺎ را

سخن گفتن از شخصيت با عظمت و والايي که از سوي مسلمان و غيرمسلمان, صدها هزار کتاب و خطابه و مقاله و قصيده و رساله درباره او نگاشته شده و عالي‌ترين معارف و فرهنگ، و انساني‌ترين تعليمات اجتماعي و سياسي و اخلاقي و اقتصادي را به بشر عطا کرده، خلاف ادب است. ما چه مي‌توانيم بگوييم و بنويسيم که درخور کمالي از کمالات عظيم آن برگزيده خدا باشد؟ پس چاره‌اي نداريم جز آن که سر خجلت به‌زير اندازيم و از هرچه گفته‌ايم يا مي‌گوييم عذرخواهي نماييم.

البته اگر هم سخني مي‌گوييم، نه براي اين است که ذرّه‌وار، خورشيد جهانتاب را مدح کنيم يا قطره‌سان، عظمت اقيانوس‌ها را وصف نماييم که در برابر خورشيد وجود و اقيانوس فضايل و کمالاتش از ذرّه و قطره هم کمتريم، بلکه براي اين است که از اين رهگذر، هم کسب ثوابي مي‌کنيم و هم از ياد آن حضرت لذّت مي‌بريم و ضمير خود را روشن مي‌سازيم و قلوبمان را جلا مي‌دهيم. لذا براي موفّقيت خويش از نام بردن آن حضرت و صلواتْ فرستادن بر او و توصيف و تعظيم او در هر فرصت و هرمناسبت خودداري نمي‌کنيم.

دانشمندان، نویسندگان و شعرای هر دین و مذهبی نیز هم کلام با همه دنیا این قهرمان عظمت ها را ستوده و جبهه مسکنت از وصف آن حضرت، بر زمین ساییده اند که چند نمونه ای از آن را از باب قطره ای از اقیانوسی بیکران تقدیم خواهیم کرد:

از جمله شعراي عجم كه در مدح حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله شعر سروده‌اند، سروش اصفهاني ملقّب به شمس الشعرا است كه در ديوان شعر خود دارد:

امروز فسرد آزر برزين * كردند براق مَحْمِدَت را زين

امروز بهشتيان به استبرق * بستند بهشت عدل را آذين

امروز بُوَد فرشتگان را سور * و اهريمن، سوگوار و اندوهگين

امروز شكست صفه كسري * و آمد به جهان يكي درست آيين

امروز به گلْستان دين بشكفت * شمشاد و گل و بنفشه و نسرين

سالار پيامبران ابوالقاسم * آن كرده خطاب، ايزدش ياسين

چون شعله كشد جحيم آتش را * حب وي و آل وي دهد تسكين

بر جنّ و بشر پيمبر مرسل * نسرشته خداي، بوالبشر را طين

خورده است خدا به موي او سوگند * كرده است خدا به روي او تحسين

از چرخ گذشته با چه؟ با جامه‌ * بر عرش نشسته با چه؟ با نعلين

مخذول نفاق او بود پرويز‌ * مسمار سم براق او پروين

نفرين ‌كردند انبيا بر قوم * چون نوح و چو هود و صاحب يقطين

آزار ز انبيا فزون‌تر ديد * از قوم، و نكرد قوم را نفرين

از فرش به عرش رفت و باز آمد * جنبنده هنوز حلقه زلفين

اسرار دو كون در شب معراج * بي‌واسطه كرد حق بدو تلقين

طبع من و صد هزار همچون من * از منقبتش مقصر و مسكين

و شعراي عرب هم در مدح آن حضرت و مناقب و فضايل بیکران ایشان بسيار شعر و نثر سروده و نوشته‌اند، به طور مثال شاعر عرب احمد الشوقي در سروده‌ي خود مي‌گويد:

ولد الهدى فالكائنات ضياء * و فم الزمان تبسم و ثناء

الروح و الملأ الملائك حوله * للدّين والدّنيا به بشراء

والعرش يزهو والحظيرة تزدهي * و المنتهى والسدرة العصماء

تا آنجا كه مي‌گويد:

بك بشّر الله السماء فزينت * و تضوّعت مسكاً بك الغبراء

يوم يتيه على الزمان صباحه * ومساؤه بمحمد وضاء(1)

اين‌ها نمونه‌اي از اشعار در وصف و مدح حضرت ختمي مرتبت است، ولي هر چه كه ما بگوييم و ديگران اعتراف كنند قرآن از همه بالاتر است:

«لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ.»(2)

اصلاً راجع به شخصيت حضرت رسول صلي الله عليه و آله ما نمي‌توانيم حرف بزنيم. انسان مبهوت مي‌شود، آن‌هايي هم كه خيلي بالا هستند مبهوت مي‌شوند.

بايد مثل اميرالمؤمنين عليه الصلوة و السلام، پيغمبر را وصف كند. اگر مي‌خواهيد وصف آن حضرت را ببينيد، بايد آن خطبه شريفه اميرالمؤمنين عليه السلام در نهج البلاغة را ملاحظه كنيد كه مي‌فرمايد:

«إِنَّ اللهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّداً نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ وَ أَمِيناً عَلَى‏ التَّنْزِيلِ‏ وَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَ حَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ الْأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ الْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَة»(3)

يا در جاي ديگري از نهج البلاغه شريف مي‌فرمايد: «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ وَ أَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ وَ مَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ وَ نَصَحَ لِلْخَلْقِ‏ وَ هَدَى إِلَى‏ الرُّشْدِ وَ أَمَرَ بِالْقَصْدِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّم‏.»(4)

خلاصه اين‌كه در اطراف شخصيت پيغمبر صلوات الله عليه و آله اگر هر روز بگوييم باز هم تمام نمي‌شود. حتي بيگانگان و خاورشناسان هم در مقابل عظمت‌هاي وجود پيغمبر ناچار به اعتراف شده‌اند:

توماس كارلايل در كتاب الأبطال كه ترجمه آن به نام قهرمانان منتشر شده است، از هر صنفي، قهرمان و بطل آن صنف، يعني كسي كه در آن صنف موفق بوده است را نام مي‌برد، مثل البطل في صورة القائد، البطل في صوره الشاعر. در جايي مي‌گويد: البطل في صورة النبي، قهرمان پيغمبران. در آنجا نه حضرت موسي را مي‌گويد و نه حضرت عيسي، و نه حضرت ابراهيم را، بلكه مي‌گويد: بطل و قهرمان در نبوت و پيغمبري، محمد است.

و یا چه نيكو سروده است آن مرد مادّي، «شبلي شميّل»، در قصيده‎اي كه در مدح آن حضرت سروده است:

من دونه الأبطال في كلّ الوري * من حاضر أو غائب أو آت؛ تمام مردان بزرگ دنيا و قهرمانان گذشته و حال و آينده مقامشان و شأنشان و شخصيّتشان مادون مقام اعلاي محمّد صلي الله عليه و آله است.

آري، حقيقت همين است كه در ميان قهرمانان بزرگ تاريخ آن كه به حق در همه فضيلت ها و ارزش‌هاي اسلامي قهرمان است محمّد است، و آن كه در بين صاحبان رسالت‌هاي آسماني موفّق‎تر و ممتازتر و عاليقدرتر است و يا به قول «توماس كارلايل» قهرمان در صورتِ پيغمبر است، محمّد ‎است.

مسيحي منصف و دانشمند ديگري ضمن قصيده‎اي در مدح آن حضرت، گفته است:

انى مسيـــحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا؛ من مسيـحي هستم و محمّد را تجليل مي‌كنم و او را سرآغاز کتاب علوّ و بلندي مقام مي‌دانم.

جورج برنارد شاو مي‎گويد: «واجب است محمّد نجات‎دهنده انسانيّت خوانده شود. من عقيده دارم اگر مردي مانند او رهبري عالم جديد را عهده‎دار شود، در حلّ مشكلات و دشواري‌هاي كنوني به‎طوري كه تمام مردم عالم در سعادت و صلح و سازش زندگي كنند، پيروز و موفّق مي‎شود. محمّد كامل‎ترين افراد بشر است از گذشتگان و معاصران، و همانند او در آيندگان نيز تصوّر ‎نمي‎شود». (5)

و همو به نقل از روزنامه لايف چاپ انگلستان مي‎گويد: «بزرگ‎ترين و مهم‎ترين تعاليم يك مذهب، اصل كمك به بشر است كه او را به سوي زندگي بهتر سوق‎ دهد. هر مذهبي كه داراي اين اصل و افكار نباشد بايد متروك شود».

مشارٌ‎اليه دلايلي را كه اسلام و فقط اسلام مي‎تواند وسايل نيل بشر اين دوره را به مقصود اصلي فراهم‎ سازد شرح مي‎دهد و مي‎گويد: «اگر انسان همان انساني است كه حقّاً بايستي مظهر خدا باشد، بايد از لحاظ مزبور تعاليم اسلامي را پيش روي خود قرار‎دهد‎... ‎. اسلام هميشه به قدر كافي قوي بوده و اساس و شالوده خود را حفظ نموده و تا امروز نيز همين‎طور است و خواهد ‎بود».

برنارد شاو اضافه مي‎كند: «هر قدر كه دنيا در ترقّي پيشرفت كند و به هر اندازه كه بشر به ذروه حكمت و فلسفه ارتقا جويد، باز مذهب اسلام جلوتر است».

در پايان اين مقاله مفصّل آمده است: «برنارد شاو اذعان مي‎كند كه دنيا عموماً و انگلستان خصوصاً بايستي اسلام يا آيين و تعاليم شبيه به آن را براي نجات خود انتخاب كنند و خواهي ‎نخواهي به آن بگروند».

در ميان دانشمندان و علماي بيگانه امثال برنارد شاو بسيارند كه اين حقايق را تحقيق و تصديق كرده‎اند.

معلوم است كه با این همه اعتراف و سخن درباره بزرگ شخصیت جهان بشریت, مسلمانان بايد چقدر حق شناس زحمات و هدايت‌ها و راهنمايي‌هاي آن حضرت باشند.

امّيد است در اين عصر، مسلمانان آگاه و فداكار، خصوصاً نسل جوان، رسالت اسلام را به مردم دنيا برسانند و تمام نقاط را به انوار هدايت آن متصل سازند و اعصار طلايي ايمان و عمل را متعهّدانه تجديد نمايند.


پي نوشت ها:

1. اين شعر در الشوقيات احمد الشوقي چاپ دار الشروق مصر آمده است.

2. آل عمران؛ آيه164.

3. نهج البلاغة؛ خطبه26.

4. نهج البلاغة؛ خطبه195.

5. روزنامه الجمهوريه چاپ مصر شماره 14 مه 1970.

 

 

 

موضوع: 
جهانی مبهوت از نهضت علمی امام صادق علیه السلام
جهانی مبهوت از نهضت علمی امام صادق (ع)
(یادداشت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی به مناسبت میلاد امام جعفر صادق علیه‌السّلام)

امام جعفر صادق علیه السلام در نیمه اول قرن دوم هجری، مدرسه‌ای افتتاح فرمود كه در تا آن زمان در اسلام ‌سابقه نداشت، و پس از آن عصر نیز نظیر آن دیده نشد؛ این مكتب و مدرسه آن حضرت بود كه بزرگترین علمای علوم قرآن و فقه و كلام و شیمی و غیره را به دنیا تحویل داد.

فقه شیعه كه متضمّن هزارها ماده قانونی و تعلیمی، و برنامه‌ای عملی و اخلاقی اسلامی است در بیشتر و بلكه تقریباً در تمام موارد، مدیون علوم بی‌پایان امام صادق علیه السلام است.

در مثل احكام حج كه یكی از بزرگترین فرائض اسلام، و متضمّن فلسفه‌های عالی و با ارج است، دنیای اسلام از دریای علوم امام صادق علیه‌السلام مستفیض است و به قول ابوحنیفه، همه، عائله امام جعفر صادق اند، و حدیثی در صحیح مسلم از كتب اهل سنّت از آن حضرت روایت شده است كه مأخذ حدود چهارصد مادّه راجع به احكام حجّ ‌است كه اهل سنّت از آن پیروی می‌نمایند.

آری! در اوضاع و احوال سیاسی كشورهای اسلامی در آن زمان، حضرت صادق علیه السلام مجال و فرصتی مهم یافت تا بزرگ‌ترین نهضت‌ علمی را رهبری فرماید و مدرسه‌ای افتتاح كند كه معروف‌ترین علماء اسلام در آن تلمّذ و شاگردی كرده و اخذ حدیث و علم نمایند.

صیت علوم حضرت امام جعفر صادق علیه‌السلام، بلاد و مجامع علمی اسلامی را فرا گرفت و علماء عراق و حجاز و خراسان و شام از ایشان اخذ علم نموده و در مشكلات علمی و معضلات مسائل اسلامی تنها آن حضرت حلال مشكلات و دفاع معضلات بود.

آنچه كه بیشتر شایان توجه و تأمل است این است كه رهبری آن حضرت در علوم اسلامی منحصر نیست بلكه در سایر دانش‌های متنوعه مانند نجوم و هیئت و ریاضی و طب و تشریح و معرفة النفس و شیمی و نبات‌شناسی و علوم دیگر از این قبیل نیز شاگردانی تربیت كرد كه در این فنون معروف و مشهورند و همان مقالات و احادیث و كتاب‌هایی كه از ایشان در صفحه روزگار باقی مانده و زینت‌بخش كتب مسلمین است، مانند توحید مفضل و رساله اهلیلجه و مباحثات آن حضرت با ملاحده، همه و همه شاهد این گفتار است كه مكتب حضرت مانند یك دانشگاهی بود كه دانشكده‌های عمده در علوم مختلفه در آن تأسیس شده باشد و در هر مكتب و دانشكده مباحثه و درس و تحقیق راجع به علم خصوصی تعقیب و دنبال شود.

به طور مثال، یكی از علومی كه مسلماً حضرت صادق علیه‌السّلام تدریس نموده و عنایت به آن داشته‌اند علم شیمی بوده كه از آن دانشگاه بزرگ، مردی نابغه به نام جابر بن حیان فارغ التحصیل شد كه اگر از زمان جابرین حیان تا حال دنبال نتایج استفاده‌های این مرد را از امام ششم و فحص‌ها و تحقیقات و بحث‌های علمی او را گرفته بودیم و به علوم دیگر كه مورد نیاز جوامع متمدّن و پیشرفته است اهمیت داده بودیم، امروز در میدان مدنیت مادی، به غرب و اروپا و آمریكا كه هرچه دارند از دولت سر اسلام و اصول عالیه آن و از بركات مساعی علماء مسلمین دارند محتاج نمی‌شدیم.

همان شاگردی كه در اكثر علوم اسلامی و طب و تشریح و نجوم و هیئت و فلكیات و محیطی و طبیعی و ریاضیات و شیمی و فلسفه و منطق و اخلاق و تاریخ و ادب و شعر و معرفة الحیوان و نبات شناسی و مرآیا و صنعت اسلحه‌سازی و غیرها عالم و متبحر بوده است.

همو كه نخستین كسی است كه برای تجارب علمی و تعیین مقادیر اشیاء كه مورد تجربه او بود، میزان استعمال كرد، و مقادیر صغیره‌ای را كه در عصر ما جز با میزان‌های حساس و دقیق نمی‌توان سنجید، معین نمود، و بعد از ششصد سال در اروپا، علماء شیمی در تجارب خود از میزان استفاده كردند.

همان دانشمندی كه پیش از ده قرن نظریه مشهور جون دالتون فیزیك‌دان و شیمیست و طبیعت‌شناس انگلیسی را راجع به اتحاد بین دو عنصر در كتاب خود به نام (المعرفة بالصفة الالهیة و الحكمة الفلسفیة) صریحاً اعلام كرده است كه افتخار وضع این نظریه نصیب جابر است نه «جون دالتون»

آری! یكی از شاگردان امام صادق علیه السلام همان جابر بن حیان است كه یكی از كارهای بزرگ او كه نبوغ فكری و علمی او را ثابت می‌كند، اختراع مداد نوری برای امكان قرائت در تاریكی است كه در كتابت كتب مهم و با ارزش از آن استفاده می‌شد.

غرض آن كه هر كدام از شاگردان این مكتب خود به تنهایی، دلالت بر عظمت بی منتهای این مكتب می كنند و البته این مدرسه و دانشگاه بزرگ، نه تنها دانشمندان شیعه بلكه دانشمندان بزرگ از مخالفان مكتب اهل بیت علیهم السلام، را به اعتراف واداشته و همه به صراحت، اعلم‌ و افقه‌بودن آن امام به حق ناطق را بیان كردند: ابوحنیفه رئیس احناف می‌گوید: «مَا رَأَیتُ أفقَه مِنْ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّد؛ من فقیه‌تر از جعفر بن محمد ندیده‌ام.»

یا این‌كه نجاشى در رجال خود از احمد بن عیساى اشعرى نقل كرده كه می‌گوید: «من در طلب علم حدیث به كوفه رفتم و در آنجا به خدمت حسن بن على وشا رسیدم، به او گفتم: كتاب علاء بن زرین و ابان بن عثمان احمر را به من بدهید تا از روى آن‌ها نسخه‌بردارى كنم؛ او آن دو كتاب را من داد، گفتم: اجازه روایت نیز بدهید. فرمود: خدا تو را رحمت كند، چقدر عجله دارى ببر بنویس؛ سپس بیا براى من بخوان تا بشنوم؛ آن‌گاه اجازه روایت بدهم.

گفتم: بر خودم از پیشامدهاى زمان خاطر جمع نیستم.

حسن بن وشا گفت: عجب! اگر من می‌دانستم كه حدیث این‌گونه مشترى و خواهان دارد، بیشتر از این جمع می‌كردم. من در مسجد كوفه ۹۰۰ شیخ را درك كرده‌ام كه همه می‌گفتند: حدیث كرد مرا جعفر بن محمّد.»

واقعاً این چه مدرسه و دانشگاه بزرگی بود كه موافقان و مخالفان را به تعجب و حیرت واداشت و به مرور زمان نشان داد این‌كه پیغمبر اكرم صلی الله علیه و آله بارها می‌فرمود: عترت من و اهل بیت من؛ برای همین مقامات و علوم و درجاتی بود كه این‌ها داشتند و اما متأسفانه سیاست به سمت ترك رجوع به اهل بیت علیهم‌السلام پیش رفت تا آنجا كه مثل بخاری از حضرت امام جعفر صادق علیه‌السلام یك روایت هم نقل نكرده است. به قول شاعر:

قَــــضِیــةٌ أشْـــبَهَ بِالمرْزِئَــةِ * هــذا البُخــاری إمــامُ الفِــئَـةِ

بِالصَّادِقِ الــصِّدِّیقِ مـــا إحـتجَ فی * صَــحیــحِهِ وَ احــتـجّ بِـالمرجِئَة

إنَّ الإمَــــامَ الصَّادِقَ المجْـــتَـبى * بِــفَــضْلِهِ الآی أتَــت منـــبئة

أجَـلّ مِنْ فی عَـــــصْرِه رُتْـــبَة * لم یقْـــتَرِفْ فی عُــــمْرِه سَــیئَة

قَــــلامة مِـــنْ ظــفـر إبهَـامِه * تَعْـــدِلُ مِنْ مِثْـــلِ البُخاری مِـئَة

باید قدر این مكتب و این گنج گران‌بها و تعالیم ناب را دانست و همگان در این دانشگاه بزرگ، زانوی تلمّذ و شاگردی بزنند و در ایام ولادت آن پیشوای به حقّ ناطق، به تعلیم و تعلّم معارف نورانی آن امام همام، اهتمام ورزند.

موضوع: 
لیله المبیت سرآغاز تاریخ سازترین هجرت با یک فداکاری بزرگ
گفتار مرجع عالیقدر جهان تشیع حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف

صدای دعوت پیغمبر در جزیرة العرب پیچید، و مردمان متفكر و اندیشمند به آن مایل شده و روز به روز علی رغم كارشكنی های سران بت‌پرستان و ابوجهل‌ها و ابوسفیان‌ها دعوت اسلام در قلوب وارد می‌شد، و مردمی كه از آن می گریختند به آن مایل می‌شدند، و روز به روز بر وسعت دائره اسلام افزون می‌گشت، و بالاخره با آمدن سران یثرب كه به نام مدینة الرسول و مدینه معروف شد خدا مقدّمات هجرت پیغمبر را به مدینه فراهم كرد، و آن حضرت در وقتی كه مشركین و دشمنان اسلام تصمیم قطعی گرفته بودند كه با یك هجوم عمومی آن حضرت را بكشند در شب اول ماه ربیع الاول، كه بنا بود این تصمیم عملی شود به امر خدا، علی علیه السلام را در بستر خود خواباند، و از مكّه به مدینه هجرت فرمود، و علی علیه السلام شجاعانه، و فداكارانه در جای پیغمبر خوابید، و در شأن او این آیه نازل شد:

« و مِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ وَ اللّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ »

این آیه شریفه در شان فداکاری و ایثار آن حضرت نازل شد و البته در مقایسه با « لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا » کسی نمی تواند با ذکر اینکه فضیلت همراهی با پیامبر در هجرت و غار ثور، بیشتر از خواب در بستر پیامبر است، منکر فضیلت بزرگ امیرالمومنین علی علیه السلام در آن فداکاری بی نظیر شود. چرا که اولاً پیامبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله، ابوبكر را با خود نبرد بلکه ابوبكر با آن حضرت رفت، و اخلاق كريمه آن حضرت مانع از اين شد كه او را از همراهي با خود باز دارد، و ثانياً ابوبکر با اين‌که همراه پيغمبر صلی الله عليه و آله و سلم رفت اما نمي‌دانست که هجرت به امر خدا انجام مي‌شود و خدا او را حفظ مي‌كند و به همين خاطر، در غار ثور اظهار نگراني مي‌نمود  و سر و صدا به راه انداخته بود که بيم آن مي‌رفت دشمنان صدای او را بشنوند، و البته مانند برخی نمی خواهیم بگوییم که این سر و صدا، عمدی و برای آشکارساختن مکان پنهان شدن پیامبر بود!، و ثالثا باید سؤال کرد که اگر حضرت رسول اعظم صلی الله عليه و آله و سلم، پيشنهاد خوابيدن بر بسترش را به غیر علی علیه السلام مي‌نمود، آيا مي‌پذيرفتند؟

به هر حال، واقعه لیله المبیت و نزول آیه شریفه در شأن امیرالمؤمنین علیه السلام، واقعه‌اي بزرگ است که به هر صورت آن را شرح و تفسير بدهيم، افتخار و فضيلتي بزرگ براي علي عليه السلام است که براي احدي از امّت فراهم نشد.

او يگانه مرد اين ميدان‌ها بود، و اين سوابق، همه افضليت آن حضرت را بر همه، و اولويت او را بر ولايت منصوصه ثابت مي‌نمايد.

«‌ الحمدلله الذی جعلنا من المتمسکین بولایه مولانا امیرالمومنین و الائمه المعصومین علیهم صلوات الله اجمعین »

موضوع: 
در سوگ الگوی بزرگ انسانیت
در سوگ الگوی بزرگ انسانیت
گفتاری از آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی؛ بمناسبت رحلت جانسوز پیامبر گرامی اسلام (صلی‌الله علیه و آله)

در سوگ الگوی بزرگ انسانیت

گفتاری از آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی

بمناسبت رحلت جانسوز پیامبر گرامی اسلام (صلی‌الله علیه و آله)

 

وجود مقدّس حضرت نبيّ اکرم صلی الله علیه و آله، جامع عظمت‌هاي انساني و بزرگواري‌هاي يک انسان بي‌مانند بود که شرح آن همه عظمت در يک پيام و يک کتاب امکان ندارد. اگر لقب قهرمان مناسب مقام رفيع وبلند انبياء باشد بايد آن حضرت را همان‌طور که مورّخ شهير «توماس کارلايل» گفته: در بين تمام پيامبران، يگانه قهرمان خواند، و ايشان را در همه عظمت‌ها، قهرمان يگانه و موفق و بي‌نظير بخوانيم که مهم‌تر از همه عظمت‌ها، عظمت در رسالت و دعوت مي‌باشد.

در ميان دعوت کساني که در تاريخ بشر براي اصلاحات اجتماعي يا انقلابات بنيادي قيام کرده‌اند دعوتي عالي‌تر و رسالتي انقلابي‌تر و جامع‌تر از رسالت پيامبر اسلام نبوده است. اساس عظمت دعوت پيامبر عاليقدر اسلام، دعوت به توحيد و يکتاپرستي است که در کلمه طيبه «لا اله الّا الله» خلاصه مي‌شود. کلمه‌اي که از آن ارزنده‌تر و آزادي بخش‌تر و روشن‌تر و نجات‌دهنده‌تر نيست. کلمه‌اي که در آن تمام برابري‌ها و برادري‌ها و الغاء امتيازات پوچ و موهوم نهفته است، کلمه‌اي که به گفته گوستاولوبون دانشمند مشهور فرانسوي در کتاب «تمدّن اسلام و عرب» در بين اديان، تاج افتخاري است که فقط بر سر اسلام قرار دارد، کلمه‌اي که استثمار و استضعاف را محکوم و ريشه‌کن مي‌سازد، کلمه‌اي که اعلان آزادي بشر و حقوق انسان‌هاست، کلمه‌اي که دانشمندان با انصاف در مقابل آن خاضع و خاشع هستند و امتيازات نژادي و قبيله‌اي را الغاء مي‌کند.

آري؛ حقيقت دعوت حضرت ختمي مرتبت صلّي الله عليه وآله دعوت به عدل و احسان ونيکي است که قرآن مي‌فرمايد: «إِنَّ اللهَ يأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» و حقيقت آن زنده‌نمودن مکارم اخلاق و محاسن آداب و احياء روش‌هاي نيک و پسنديده انساني مي‌باشد که فرمود: «بُعِثْتُ‏ لِأُتَمِّمَ‏ مَكَارِمَ‏ الْأَخْلَاق».‏

او پيامبر مهرباني‌ها و خوبي‌هاست، او الگوي بزرگ شرافت و انسانيت است و اوست که مردم را به صفا و صميميت و برادري و مساوات و عمل صالح دعوت مي‌کند و اوست که مردم را به توصيه به حق و سخن حق گفتن و راست‌گفتن و صداقت در رفتار و مشي زاهدانه و تواضع وفروتني با ديگران ومخالفت با تکبّر و بزرگ‌منشي و فخرفروشي دعوت مي‌نمايد؛ و بالاخره بايد گفت او پيامبر رحمت براي جهانيان است و افسوس و هزاران افسوس که اين چهره نوراني را امروز تعدادي جاهل و مغرض که فرسنگ‌ها با پيامبر رحمت فاصله دارند، چهره‌اي خشن و بداخلاق نشان داده و به اسلام و قرآن و پيامبر عاليقدر ظلم وجفا مي‌کنند.

در مقابل، وظيفه ما سنگين است، مسلمانان بايد دنيا را به آيين نجات‌بخش اسلام توجه دهند که قرآن مي‌فرمايد: «الصُّلْحُ خَيرٌ». اسلام دين صلح است، خيرخواه همه جهانيان و راهبر صحيح براي همه انسان‌هاي در جستجوي راه مطمئن و زلال و شفاف مي‌باشد. حقيقت اين دين مبين در کلمات وبيانات پيامبر عاليقدر وامامان معصوم عليهم‌السّلام تبيين شده است که پيامبر فرمودند: اگر مي‌خواهيد گمراه نشويد تا روز قيامت، از قرآن وعترت پيروي نماييد، که حيات واقعي انسان‌ها در پيروي از آنها مي‌باشد.

براي جامعه اسلامي و بلکه جوامع انساني، هيچ چيزي مانند آشنايي با سيره رسول اعظم صلي الله عليه و آله و مکتب و هدايت ايشان، آموزنده‌تر و سازنده‌تر نمي‌باشد که آن را بايد به عنوان يک علم جهاني، بلکه بالاتر معرفي نمود که مسلمانان و جامعه بشريت نيازمند شناخت بيشتر اين سيره جامع الجوانب و عميق المعاني و پژوهش و درس و بحث و کاوش در آن مي‌باشند، که مفيدتر از آن براي اين‌که سرمشق زندگي و راهنماي سير به سوي تعالي و آگاهي و منش‌هاي نيکو و رفتار و کردار پاک و انديشه‌هاي تابناک باشد وجود ندارد ‌و همه شئون حيات مادي و معنوي و روحي و جسماني بشر را فراگرفته است.

معرفت اين سيره، علم است و نه يک علم که علوم بسيار بلکه همه در داخل اين علم تدريس مي‌شود و عالم غيب و شهود را معني و تفسير مي‌نمايد. در اين نوشتار مختصر با چند رشته از عظمت‌هاي آن حضرت آشنا می‌شويم:

- عظمت در اصلاحات بنيادي اجتماعي

در تاريخ رهبران اصلاحات و انقلابات بزرگ، احدي نيست كه مانند پيغمبر اسلام در مدتي كوتاه اين همه انقلاب فكري و عملي و اجتماعي به وجود آورده باشد. منفلوطي مي‌گويد: «مردي خدمت رسول خدا عرض كرد: يا رسول الله! ما نمي‌دانيم با چه زباني از شما تقدير و تشكر نماييم. شما بر ما حقوق و منّت‌هاي بزرگ داريد ما را از زير بار سنگين عادات زشت و غل‌ها و زنجير‌هايي كه خود را به آن گرفتار كرده بوديم نجات دادي. سپس داستان دختر هفت ساله‌اش را كه زنده به گور كرده بود به عرض رسانيد و گفت: فراموش نمي‌كنم وقتي مي‌خواستم دختر زيبا و شيرين زبانم را زنده به گور كنم و خاك بر رويش بريزم، دامنم را گرفته بود و التماس مي‌كرد، و مي‌گفت: پدر چرا با من اين گونه رفتار مي‌كني؟

اما هرچه گفت و التماس نمود و گريه و زاري كرد نتوانست مرا از آن عمل و جنايت بزرگ و ننگين باز دارد و من با دست خود، دختر شيرين زبان هفت ساله‌ام را زنده به گور كردم. تو اي پيغمبر! بر ما منّت‌ها داري كه ما را از اين عادات پليد و غير انساني نجات دادي.»

تولستوي مي‌گويد: «شك نيست كه محمّد صلي الله عليه و آله از بزرگترين رجال و مرداني است كه به اجتماع خدمات بزرگ كردند. همين‌ قدر در فخر او بس است كه امتي را به نور حق هدايت كرد و از خونريزي و زنده به گور كردن دختران و قرباني كردن انسان‌ها بازداشت و مردي مانند او سزاوار احترام و اكرام است.»

پيغمبر از دنيا نرفته بود كه آيين بت‌پرستي در شبه جزيره‌ي عربستان از بين رفت و از بت‌ها اثري نماند و خداپرستي و نماز و روزه و زكات و ساير فرايض و برنامه‌هاي اسلام عملي شد و رباخواري موقوف گرديد. مي‌نوشي و مي‌گساري كه بسيار رواج داشت به محض نزول آيه‌ي تحريم خمر، متروك گرديد و يك نفر لب به شراب نگذارد و قطره‌اي از آن يافت نمي‌شد. در روز اعلام تحريم خَمر تمام خُمره‌هاي شراب را خود مردم روي زمين ريختند. قماربازي موقوف شد. زنان و دختران عزّت يافتند و به حقوق واقعي يك انسان نايل شدند. بردگان، احترام انساني پيدا كردند، از ظلم و تحميلات مصونيّت يافتند و برنامه‌هاي آزادي آنها با سرعت شروع شد. معاملات و بازرگاني‌ها بر اساس صحيح قرار گرفت. از بي‌عفتي‌ها و ناپاكي‌ها و زنا و رفيق گرفتن‌هاي زن‌ها و كارهاي نكوهيده ديگر اثري باقي نماند. تكبر و استبداد، ننگ و عار گشت و تواضع و فروتني افتخار شد. قوانين و مقررات ارث و ازدواج و طلاق و جهاد و صلح و وصيت و هبه و رهن و مزارعه و مساقات و احياء موات و قضاء و شهادات و غيره اجرا شد و ديگر حقوق مالي ايتام پايمال نمي‌شد. ديگر بانوان جزء متروكات مرد شمرده نشدند و با طلاق‌هاي مكرر و نامحدود و رجوع‌هاي پي در پي بلا تكليف و سرگردان نشدند. فقرا و زيردستان اجتماع در مجمتع انساني اسلام در صف اغنيا قرار گرفتند و بلكه بر اساس صلاحيّت و شايستگي بر اغنيا، امارت مي‌يافتند.

شرح عظمت پيغمبر در اصلاحات بنيادي اجتماعي و انقلاب بي‌توقف و هر زمان و هر مكاني اسلام، بسيار طولاني است و الحق كه تاريخ، احدي از رجال اصلاح و انقلاب را در اين همه رشته‌هاي گوناگون مادي و معنوي و روحي و جسمي و فردي و اجتماعي - در اين مدّت كوتاه - مانند آن حضرت موفق و پيروز، نشان نمي‌دهد.

- عظمت در بي‌اعتنايي به دنيا

در اين عظمت، پيامبر گرامي اسلام نمونه و يگانه و سرآمد تمام زهّاد بود. از نشانه‌هاي زهد آن حضرت اين بود كه در آن وقتي كه در اوج عظمت ظاهري و قدرت مادّي قرار گرفته بود با دست خود نعلين خود را مي‌دوخت و لباس خود را وصله مي‌كرد و از تجمّلات دنيا پرهيز داشت و اگر زيوري از زيورهاي دنيا را در خانه مي‌ديد مي‌فرمود: «آن را از نظر من پنهان كنيد؛ مبادا كه به ديدنش مشغول شوم و به ياد دنيا افتم.»

بسيار اتفاق مي‌افتاد كه روزها و بلكه ماه مي‌گذشت و در خانه‌ي آن حضرت غذايي طبخ نمي‌شد و فقرا و مستمندان را بر خودش‌ و فاطمه عزيزش و حسن و حسينش مقدّم مي‌داشت.

در آن عصر، محروم‌ترين طبقات كه از هر جهت حالشان تأسف‌انگيز بود و مورد استضعاف بودند و تحميلات طاقت‌فرسا به آنها مي‌شد، غلامان و بردگان بودند كه افتادگان اجتماع بودند. پيامبر عزيز اسلام كه رسالت و دعوتش در جهت كمك به آنها و آزاد كردن آنها و حفظ حقوقشان قرار داشت و در قرآن مجيد درباره‌ي آنها به طور مؤكّد سفارش شده و برنامه‌اي براي آزادي آنها مقرر شده است، در منظر خارجي و خوراك و پوشاك و نشست و برخاست مانند غلامان بود. غذايش از غذاي غلامان خوردني‌تر و لذيذ‌تر نبود و لباسش از لباس آنها بهتر نبود و مانند آنها مي‌نشست. پول و درهم ذخيره نمي‌فرمود آن قدر روي حصير نشسته بود كه بر بدنش اثر گذاشته بود.

پيغمبران ديگر مانند عيسي بن مريم علي نبيّنا و آله و عليه السلام هم زاهد بودند؛ اما تفاوت عيسي مسيح با پيغمبر اسلام اين است كه عيسي مال و مقامي در اختيار نداشت ولي پيغمبر اسلام قبل از اينكه به رسالت مبعوث شود و در آغاز بعثت ثروت سرشار خديجه را در اختيار داشت و در سال‌هاي پايان عمر تمام شبه جزيره‌ي عربستان را؛ اما همچنان زاهد و بي‌اعتنا به دنيا بود. به جوع و گرسنگي عادت داشت و روزه بسيار مي‌گرفت.

- عظمت در تشريع قوانين

در بين مشرعين بزرگ و قانونگذاران، توفيقي كه نصيب پيغمبراسلام شد نصيب احدي نشده است. علاوه بر آن كه قوانيني كه قانونگذاران و مجالس بزرگ مقننه با آن همه عرض و طول وضع مي‌نمايند جامع و كامل و خالي از عيوب و نواقص نيست و موسمي و موقّت است و پس از مدّت كوتاهي به تجديد نظر و اصلاح و بلكه الغاي آن محتاج مي‌شوند قانونگذاري كه بتواند در مدت بيست و سه سال با اشتغالات خطير گوناگون - كه هر يك براي اينكه تمام وقت شخص را بگيرد و او ضمن پرداختن به امور نماز، روزه، حج، دعا، معاملات، تجارت، اقتصاد، كشاورزي، دامداري، باغداري، همسرداري، فرزندداري، ارث، سياست، داوري، حل و فصل دعاوي و اختلافات، كيفر و مجازات و اخلاق و آداب حتي آداب غذا خوردن، لباس پوشيدن، خوابيدن، راه رفتن، نشستن، بيمارداري و بهداشت و احكام اموات و غيره با گفتار و عمل، هزاران هزار مواد جامع و كامل و قانون و برنامه‌ي زندگي به بشريت عرضه كند- غير از پيغمبر اسلام روي صفحه‌ي تاريخ و دنيا ظاهر نشده است. هر كس اين موضوع را باور نمي‌كند مي‌تواند شخصاً قوانين اسلام را بررسي نمايد و مي‌تواند به نتايج تحقيقات محققان منصف غير مسلمان رجوع نمايد.

اهميت اين موضوع وقتي بيشتر ظاهر مي‌شود كه به قانونگذاري‌ها و همكاري‌ها و همفكري‌ها و مطالعات و مباحثات دامنه‌داري كه پيرامون يك مادّه‌ي قانوني مي‌شود و بالاخره به مجالس مقننه ارجاع مي‌گردد و تحت شورها و بررسي واقع مي‌شود توجه نماييم. آيا اين عظمت نيست كه شخصي بدون مشاور و معاون و بدون سابقه‌ي مطالعات قانوني و ديدن دانشكده‌هاي حقوق و بدون سابقه‌ي بررسي‌هاي بهداشتي و اجتماعي و تجارب قضايي و مالي و غيره در تمام جهات و حقوق مردم، قوانيني عرضه بدارد که هنوز پس از چهارده قرن، زنده و انساني‌ترين قانون اجتماع و اصول و مواد آن مورد تصديق و حمايت حقوقدانان جهان و به عقيده‌ي اهل تحقيق و انصاف، يگانه راه حل مشكلات كنوني بشريت باشد؟ واقعاً اين عظمت حيرت‌ انگيز است و دليل بر روحي الهي و رسالتي آسماني است.

- عظمت و رعايت مساوات با مردم

در اين عظمت، پيغمبر عظيم الشأن اسلام، يگانه معلّم مساوات و برابري بود؛ علاوه بر آن كه به وسيله‌ي وحي الهي و آيات قرآن مجيد برابري و مساوات انسان‌ها را اعلام داشت عملاً نيز آن را به مردم تعليم داد.

مجالس او بالا و پايين نداشت و از چگونگي نشستن آن حضرت و اصحابش پيغمبر شناخته نمي‌شد تا كسي بگويد آنكه مقدّم بر همه و بالاي مجلس نشسته است پيغمبر است؛ يا اينكه اغنيا و اقويا به او نزديك‌تر بنشينند. اين حرف‌ها كه هنوز هم در دنياي به اصطلاح متمدّن هوادار دارد در مجلس پيغمبر و مكتب تربيتي او وجود نداشت. فقير و غني و شاه و گدا همه از چشم پيغمبر يكسان بودند.

در جنگ بدر كه مركب و اسب و شتر مسلمان‌ها كم بود و مطابق نفرات مركب نداشتند و مراكب را بين نفرات به طور متعادل تقسيم كردند به هر دو يا سه نفر يك مركب رسيد. كه به تناوب سوار و پياده شوند. از جمله به پيغمبر صلي الله عليه و آله و دو نفر ديگر كه يك نفر از آنها علي عليه‌السلام بود يک مركب رسيد هر وقت نوبت پياده رفتن پيغمبر و فرمانده‌ي كل قوا مي‌شد علي عليه السلام و نفر ديگر مي‌گفتند: «يا رسول الله! شما سوار باشيد؛ پياده نشويد، ما پياده مي‌آييم.» اما پيغمبر قبول نمي‌فرمود و پياده مي‌شد و قريب به اين مضمون مي‌گفت: «نه شما از من در پياده رفتن تواناتريد و نه احتياج من به اجر و ثواب و رحمت خدا از شما كمتر است.

در يكي از غزوات و جنگ‌ها مي‌خواستند گوسفندي را ذبح و طبخ نمايند هر كدام از اصحاب كاري را عهده‌دار شدند. پيغمبر فرمود: «من هم هيزم جمع مي‌كنم.» گفتند: «ما شما را از كار بي‌نياز مي‌سازيم.» فرمود: «نمي‌خواهم بر شما امتياز داشته باشم.»

آن حضرت همیشه مي‌فرمود: «ليس لعربي‏ على‏ عجمي‏ فضل إلا بالتقوى»، و «الناس سواء كاسنان المشط»

در اينجا براي اينكه مقاله طولاني نشود سخن را كوتاه مي‌كنيم و از بيان ساير نواحي عظمت رسول گرامي اسلام مانند عظمت استقامت و شجاعت و تقوا و عبادت و صداقت و امانت و عفو و گذشت و خلق عظيم و معجزات آن حضرت و عظمت‌هاي قرآن مجيد - كه معجزه‌ي جاودان و دليل صحّت نبوت تمام انبياء است- صرف نظر مي‌نماييم؛ در جايي كه بيگانگان زبان به تعظيم و اعتراف بگشايند و شاعر دانشمند مسيحي در قصيده‌اي كه در مدح پيغمبر اسلام مي‌سرايد مي‌گويد:

«انى مسيـــحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا؛ من مسيـحي هستم و محمّد را تجليل مي‌كنم و او را سرآغاز کتاب علوّ و بلندي مقام مي‌دانم.» و دكتر شبلي شميل طبيعي در قصيده‌اي كه عظمت‌هاي آن حضرت را ستوده است بگويد: «من دونه الأبطال فى كل الورى * من حاضــــر او غائــب أو آتٍ؛ تمام مردان بزرگ دنيا و قهرمانان گذشته و حال و آينده مقامشان و شأنشان و شخصيّتشان مادون مقام اعلاي محمّد صلي الله عليه و آله است.»

معلوم است كه مسلمانان بايد چقدر حق شناس زحمات و هدايت‌ها و راهنمايي‌هاي آن حضرت باشند. امّيد است در اين عصر، مسلمانان آگاه و فداكار، خصوصاً نسل جوان، رسالت اسلام را به مردم دنيا برسانند و تمام نقاط را به انوار هدايت آن متصل سازند و اعصار طلايي ايمان و عمل را متعهدانه تجديد نمايند.

موضوع: 

صفحه‌ها

  • of 21
اشتراک در RSS - مناسبت‌ها