وریز وجوهات
صبح یکشنبه ۱۱ رجب المرجب ۱۴۳۸ (مطابق با ۲۰ فروردین ۱۳۹۶)، مسئول و اعضای ستاد امر به معروف و نهی از منکر استان قم با حضور در بیت مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف دیدار کردند. در ابتدای این دیدار، حجه الاسلام آقای معرفت...
جمعه: 8 / 02 / 1396 ( )

عظمتوں کے سید و سردار کی بعثت

(۲۷ رجب المرجب؛ روز بعثت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپايگانی مدظله الوارف کی خصوصی تحریر)

بسم الله الرحمن الرحیم

’’لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْ أَنْفُسِهِمْ يتْلُوا عَلَيهِمْ آياتِهِ وَ يزَكِّيهِمْ وَ يعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ‘‘

’’یقیناً خدا نے صاحبان ایمان پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ان پر آیات الٰہیہ کی تلاوت کرتا ہے ، انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ پہلے سے بڑی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘

مرسل اعظم، نبی مکرم اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ اور آپ کے مکتب کی شناخت و معرفت عظیم اسلامی سماج بلکہ انسانی سماج کے لئے بہترین اسوہ ہے کہ جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے سب سے زیادہ تعمیراتی کردار کی حامل ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کو عالمی پیمانہ پر  علم و معرفت کے عنوان سے پیش کرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس کا تعارف کروایا جانا چاہئے  اور اسے پہچنوانا چاہئےکیونکہ حیران و پریشان اور سرگردان انسانی سماج ہر لحاظ سے اس جامع اور عمیق سیرت کی شناخت کا محتاج ہے۔

ختمی المرتبت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مبارک و مقدس وجود تمام انسانی عظمتوں کے لحاظ سے جامع ہے اور آپ عظمت اور بزرگی میں بے نظیر اور بے مثل بشر ہیں ، ان میں سے کسی ایک کی تفصیلات اور شرح کو کسی بھی تقریر یا تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

حتی اغیار اور مستشرقین بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔

تھومس كارلايل نے كتاب ’’الأبطال‘‘ (کہ جس کا  فارسی زبان میں ترجمہ ’’قهرمانان‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے) میں ہر صنف کے ہیرو کا نام ذکر کیا ہے یعنی ہر اس انسان کا نام ذکر کیا ہے کہ جو کسی نہ کسی صنف میں ہیرو اور یگانہ ہو اور اسے قہرمان اور بطل کہا ہے مثلاً البطل في صورة القائد، البطل في صورۃ الشاعر.

ایک دوسرے مقام پر کہتے ہیں: البطل في صورة النّبي۔ پیغمبروں کا قہرمان اور ہیرو۔ اس مقام پر نہ تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ذکر کیا ہے، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور نہ ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام ذکر کیا ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں: نبوت اور رسالت کے ہیرو اور قہرمان ’’محمد‘‘ ہیں۔

اس مختصر مقالہ میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ اجمالی طور پر کائنات کی اس یگانہ اور عظیم المرتبت شخصیت کی عظمتوں کے کچھ پہلوؤں کو بیان کریں:
پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وجود کی عظمتوں میں سے ایک اہم ترین عظمت ’’تشریع احکام و قوانین کی عظمت‘‘ ہے اس باب میں آنحضرت کی کوئی نظیر و مثال نہیں ہے۔ شریعت اور قانون کا نٖفاذ کرنے والے بزرگان میں سے کسی کو وہ توفیق نصیب نہیں ہوئی جو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نصیب ہوئی۔

اس موضوع کی اہمیت اس وقت زیادہ ظاہر ہوتی ہے کہ جب قانون بنانے والے ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے، ہم فکری، مطالعات اور بحث و مباحثہ کے بعد کسی ایک قانونی شق کو مجلس مقننہ میں پیش کرتے ہیں تا کہ عدلیہ و مقننہ کی شوری اس کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے اس پر توجہ کرے۔

اب کیا یہ عظمت نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی مشاور و معاون کے بغیر، کسی مدرسہ یا حقوق و قانون کی کسی یونیورسٹی میں تعلیم اور مطالعہ کے بغیر اور صحت، سماج، قضاوت اور اقتصاد وغیرہ میں کسی سابقہ کے بغیر تمام جہات سے حقوق الناس کی ہر قانونی شق  کو پیش کرے کہ چودہ سو سال گذرنے کے باوجود بھی اس کے بیان کئے گئے قوانین دنیا میں زندہ اور باقی ہیں جو انسانی سماج کے لئے سب سے بہترین قوانین اور بہترین اصول ہیں جسے دور حاضر کے ماہر قانون دان، حقوق دان، اہل تحقیق اور منصف مزاج حضرات انسانیت  کی مشکلات کا واحد راہ حل قرار دیتے ہیں؟

بیشک یہ عظمت حیرت انگیز ہے اور اس کی دلیل روح الٰہی اور رسالت آسمانی ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری عظمتوں میں سے ایک بے نظیر قہرمان اور ہیرو ہونا ہے۔ عظمت سماج و معاشرہ کی بنیادی اصلاحات کے اعتبار سے ہے۔ تاریخ میں آنے والے تمام عظیم اور برجستہ انقلابوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا انقلاب نہیں ہے کہ جس میں رسول معظم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح مختصر سی مدت میں بے نظیر فکری و عملی انقلاب وجود میں آیا ہو۔

تولستوی کہتے ہیں: ’’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ محمّد صلي الله عليه و آله و سلم ان عظیم اور سب سے بزرگ شخصیات میں سے ہیں کہ جنہوں نے سماج کے لئے بہت بڑی خدمت سرانجام دی۔ ان کے فخر مباہات کے لئے یہی کافی ہے کہ انہوں نے ایک امت کی نور حق کی طرف ہدایت کی اور انہیں خونريزی، بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے اور انسانوں کی قربانی کرنے سے روکا۔ ان جیسی ذات اور شخصیت احترام و اکرام کی حق دار ہے‘‘

ہر دور، ہر زمانے اور ہر مکان میں اجتماعی و سماجی اور انقلابی اصلاحات کے لحاظ سے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمتوں کی شرح کرنا بہت طولانی ہے اور حق و انصاف یہ ہے کہ تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے کہ جسے اصلاح اور انقلاب کے لحاظ سے اتنی کم مدت میں مادی ومعنوی، روحانی و جسمانی، انفرادی و اجتماعی شعبوں میں اس قدر کامیابی میسر آئی ہو۔

کائنات کے اس یگانہ و تنہا قہرمان اور سید و سرادر کی دیگر عظمتوں میں سے ایک عظمت دنیا سے بے اعتنائی ہے۔ پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیاوی کشش اور ظاہری امور پر توجہ نہ دینے کے لئے لحاظ سے تمام عابدوں اور زاہدوں کے لئے نمونہ اور اسوہ ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زہد کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ جب آپ ظاہری عظمت اور مادی قدرت و طاقت کے اعتبار سے اوج پر تھے تو اس وقت بھی آپ اپنے ہاتھوں سے اپنے جوتے گانٹھتے تھے اور اپنے کپڑوں کو خود پیوند لگاتے تھے اور آپ دنیا تجملات سے گریز کرتے تھے اور اگر دنیا آسائش کی کوئی چیز گھر میں دیکھتے تو فرماتے:’’ اسے میری نظروں سے مخفی کر دوں کہ کہیں میں اسے دیکھ کر دنیا کی یاد میں مشغول نہ ہو جاؤں‘‘۔

جی ہاں! رسول اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عظمتوں کے یگانہ سید و سرادر اور قہرمان ہیں؛ عظمتِ استقامت و شجاعت، تقوا و عبادت، صداقت و امانت، عفو و درگذر، خلق عظيم، آپ کے معجزات اور قرآن مجيد میں آپ کی عظمتیں کہ جن میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ سے بھی لکھا جائے تو پھر بھی وہ ایک کتاب یا چند مقالات و مضامین کی صورت میں تمام نہیں ہوں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم آنحضرت کی عظمتوں کا اعتراف کریں اور اس عیسائی دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ:

جی ہاں! پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام عظمتوں کے واحد و یگانہ قہرمان ہیں۔

’’إنى مسيحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا‘‘

 میں عیسائی ہوں اور محمد کی تکریم و تجلیل اور احترام کرتا ہوں اور انہیں کتاب عظمت و بلندی کا عنوان سمجھتا ہوں۔

انسانیت کے ایسے قہرمان کے مکتب کی تبلیغ و ترویج کرنی چاہئے کیونکہ اگر دنیا کے سامنے اس شخصیت کی سیرت کا تعارف کرایا جائے( اور اسے دنیا تک پہنچایا جائے) تو اس سے بڑھ کر انسانیت کی کوئی اور خدمت اور اصلاح نہیں ہو سکتی۔

آخر میں ہم رسول کرم اور پیغمبر رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں (فارسی کے)چند اشعار پیش کرتے ہیں:

زهي در رفعت از كيهان گذشته * ز مهر و انجم تابان گذشته
ز ابراهيم و عيسي و ز آدم * ز نوح و موسي عمران گذشته
زهي پيغمبري كز غايت جود * يم احسانش از عمان گذشته
زهي پيغمبري كز شأن و رتبت * ز هر ذيشان و عاليشان گذشته
گرفته ز امر حق ملك بقا را * ز خضر و چشمه حيوان گذشته
چنان با واجب اندر اتصال است * كه آيد در گمان ز امكان گذشته
محمد فيض اول سرور كل * كه صيت فضلش از كيوان گذشته
ز يمن بعثت فرخنده او * جهان از دوره خسران گذشته
به‎ مدحش منطق(لطفي) كليل است * و گر از قيس و از سحبان گذشته

موضوع: 
سه شنبه / 5 اردیبهشت / 1396
بزرگترین رویداد تاریخ
بزرگترین رویداد تاریخ/نوشتار مرجع عالیقدر به مناسبت عید بزرگ مبعث
یادداشت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف به مناسبت عید بزرگ مبعث

بعثت حضرت ختمی مرتبت خاتم ‏الأنبياء محمّد مصطفى‏ صلّى الله عليه و آله از افعال پر بركت الهى است كه حتّی با نعمت هستى و وجود، همطرازی می‌کند، و نعمتی از آنها بالاتر نيست. رسالت خاتم ‏الأنبياء، بزرگ‏ترين رويداد تاريخ و واقعه‏اى است كه تمام حوادث و وقایع مهمّ تاريخى را تحت‏الشّعاع خود قرار داده، و بشريّت را به تمامی مفاهيم ارزنده و عالى انسانى راهبرى نمود:
روز بزرگ گر چه جهان كم نديده است
روزى چو روز حضرت خاتم نديده است
بسيار اتّفاق عظيم اوفتاده است
كامثالِ آن گذشتِ زمان كم نديده است
ليكن جهانِ حادثه امرى عظيم‏تر
از بعثت رسول معظّم نديده است
تكانى كه جهان از رسالت آن حضرت خورد، و نهضت و جنبش و حرکتی كه در روح و انديشه انسان‌ها پديد آورد، از هيچ حادثه ديگرى پديد نيامد.
راستى اگر پیامبر اعظم حضرت محمّد بن عبد الله صلى الله عليه و آله بر انگيخته نشده بود، و اگر رسالت اسلام به كمك انسان‌هاى محروم از علم، بيمار، ستمكش از ستم ظالمان، بشر مستضعف، استثمارزده، و خفته نيامده بود، و دنيای بشریت به همان سير قهقرايى دوران جاهليّت به عقب بر مى‏گشت، از بشريّت و انسانیّت چه باقى مى‏ماند؟ آیا غیر از دنيای محروميّت‌ها و ستم‌ها و بيماري‌ها و استبدادها و خوشگذرانی‌هاى زورمداران درنده‏خوى بى‏رحم چیزی باقی مانده بود؟! دنيا مى‏ماند، و طاغوت‌هاى جبّار. دنيا مى‏ماند و ناامنى‏ها و هرج و مرج‏ها و قتل و غارت‏ها و زنده به گور كردن دختران و معاملات غيرانسانى با زنان.
نه نور آزادى مى‏تابيد، و نه بانگ آزادى بلند مى‏شد. نه خورشيد دانش، دنيا را روشن مى‏ساخت، و نه ارزش‌ها و فضائل انسانى معلوم مى‏شد. نه انسان‌ها با هم در حقوق برابر مى‏گشتند، و نه بانوان از انواع بدبختى‏ها نجات مى‏يافتند.
كيست كه اطّلاع مختصرى از تاريخ دنيا داشته باشد، و در عين حال در اينكه تمام بركات موجود حاصل صداى آزادي‌بخش توحيد اسلام و اعلانات قرآن مجيد است شك نمايد؟
چهارده قرن از واقعه عظیم بعثت می‌گذرد، و هر چه گذشتِ زمان بيشتر می‌شود، و انديشه بشر تواناتر گشته، اهميّت اين واقعه بزرگ آشكارتر شده است.
قرن‌ها و قرن‌ها، و ادوار تاريخ و اعصار هرچه بيشتر مى‏گذرد، بشر بر ارزش و اهميّت رسالت پیامبر اسلام، و اهمیت آن روز بزرگ آگاه‏تر مى‏شود. چه نيكو سروده است آن مرد مادّى «شبلى شميّل»، در قصيده‏اى كه در مدح آن حضرت سروده است:
من دونه الأبطال في كلّ الورى
من حاضر أو غائب أو آت
آرى، حقيقت همين است كه در ميان قهرمانان بزرگ تاريخ، آن‌كسی که به حقّ، در همه فضيلت‌ها و ارزش‌هاى اسلامى قهرمان است حضرت محمّد صلی الله علیه و آله است، و آن‌كه در بين صاحبان رسالات آسمانى، ممتازتر و عاليقدرتر است، و يا به قول «توماس كارلايل» قهرمان در صورتِ پيغمبر است، حضرت محمّد صلی الله علیه و آله است. همچنین مسيحى منصف و دانشمند ديگرى ضمن قصيده‏اى در مدح آن حضرت، گفته است:
مرحى لأمّى يعلم سفره
بنغاء يثرب حكمة و بيانا
إنّي مسيحي أجلّ محمّداً
و أراه في سفر العلى عنوانا
جورج برنارد شاو بنابر آنچه روزنامه الجمهوريه چاپ مصر در شماره 14 خود از او نقل كرده است، مى‏گويد: «واجب است محمّد نجات‏دهنده انسانيّت خوانده شود. من عقيده دارم اگر مردى مانند او رهبرى عالم جديد را عهده‏دار شود، در حلّ مشكلات و دشواريهاى كنونى به طورى كه تمام مردم عالم در سعادت و صلح و سازش زندگى كنند، پيروز و موفّق مى‏شود. محمّد كامل‏ترين افراد بشر است از گذشتگان و معاصران، و همانند او در آيندگان نيز تصوّر نمى‏شود».
و همو مى‏گويد: «بزرگ‏ترين و مهمّ‏ترين تعاليم يك مذهب، اصل كمك به بشر است كه او را به سوى زندگى بهتر سوق دهد. هر مذهبى كه داراى اين اصل و افكار نباشد بايد متروك شود».
وی دلايلى را كه اسلام و فقط اسلام مى‏تواند وسايل نيل بشر اين دوره را به مقصود اصلى فراهم سازد شرح مى‏دهد، و مى‏گويد: «اگر انسان همان انسانى است كه حقّاً بايستى مظهر خدا باشد، بايد از لحاظ مزبور تعاليم اسلامى را پيش روى خود قرار دهد ... اسلام هميشه به قدر كافى قوى بوده، و اساس و شالوده خود را حفظ نموده، و تا امروز نيز همين‏طور است و خواهد بود».
برنارد شاو اضافه مى‏كند: «هر قدر كه دنيا در ترقّى پيشرفت كند، و به هر اندازه كه بشر به ذروه حكمت و فلسفه ارتقا جويد، باز مذهب اسلام جلوتر است».
در پايان اين مقاله مفصّل آمده است: «برنارد شاو اذعان مى‏كند كه دنيا عموماً و انگلستان خصوصاً بايستى اسلام يا آيين و تعاليم شبيه به آن را براى نجات خود انتخاب كنند و خواهى نخواهى به آن بگروند». در ميان دانشمندان و علماى بيگانه امثال برنارد شاو بسيارند كه اين حقايق را، تحقيق و تصديق كرده‏اند.

در اينجا براي اينكه مقاله طولانی نشود سخن را كوتاه می‌كنيم، و از بيان ساير نواحی عظمت رسول گرامی اسلام و بزرگی روز تاریخی و عظیم بعثت صرف نظر می‌نماييم. اميد است در اوضاع و شرایط دنیای امروز، مسلمانان آگاه خصوص نسل جوان، رسالت اسلام را به مردم دنيا برسانند، و تمام نقاط را به انوار هدايت آن متّصل سازند، و اعصار طلايی و ارزشمند ايمان و عمل را متعهّدانه تجديد نمايند.

موضوع: 
دوشنبه / 4 اردیبهشت / 1396
قهرمان صبر و شهامت
(یادداشتی از آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی در وصف حضرت زینب سلام الله علیها)

 

زينب، آري زينب، يك اسم از چهار حرف، اما همه فضايل انسانيت و همه ارزش‌هايي كه خدا در سوره احزاب آيه 35 براي مرد و زن شمرده است.

الگوي ايمان و علم و معرفت، اسوه صبر و صداقت و استقامت، نمونه شجاعت، و بانويي كه در بلاغت و فصاحت زبان پدر را در دهان داشت، و همه مكارم اخلاق مادر در وجودش جمع بود و نه فقط زنان مسلمان؛ بلكه امّت اسلام از زن و مرد به چنين بانويي افتخار دارد.
سيره او، حجاب و عصمت و عفّت او، عبادت او و عظمت و بزرگي و فخامت او همه افتخارانگيز است؛ معالي مقامات و مواضع او، و حمايت از دين و نفي حكومت مستكبران تاريخ كه سران استكبار زمان را چنان منكوب و محكوم نمود كه تا ابد، بني اميه در زباله‌دان‌هاي تاريخ منفور جهان شد.
الحق او از اسلام، از مجد و مفاخر بني هاشم، از شخصيت جدّ بزرگوارش رسول الله صلي الله عليه و آله و از قرآن مجيد پاسداري كرد، و اسلام و قرآن و دين توحيد همه مديون او هستند. تصور اينكه اگر او نبود تاريخ چگونه ورق مي‌خورد بسيار وحشت انگيز است.
در دنياي كنوني، مردان و بانوان، همه به فراگرفتن درس در مكتب بزرگ حضرت زینب کبری علیهاالسلام، این بانوي عظيم الشأن و مواضع هيبت‌انگيز و دفاع شجاعانه او از اسلام و قرآن، و ابطال باطل و ظلم و الحاد و استبداد و استضعاف، و احقاق حق و پيام‌هاي حيات و سيره آن حضرت نيازمندند.
اميد است كه امروز، زنان مسلمان، الگوي زندگي خود را آن حضرت قرار دهند، و در تمام وظايف ديني و شرعي خود از آن بانوي بزرگ اسلام درس گرفته، و به ‌چنين اسوه‌اي به جهانيان افتخار كنند، و نام و ياد و پيام‌هاي ولايي و معنوي حضرت زينب عليها السلام را هميشه زنده نگهدارند. ودر پایان چند بیتی را به محضر آن حضرت تقدیم می دارم:

آفتاب آسمان مجد و رحمت زينب است * حامي توحيد و قرآن و ولايت زينب است
درّ درياي فضيلت عنصر شرم و عفاف * قهرمان عرصه صبر و شهامت زينب است
در دمشق و كوفه با آن خطبه‌هاي آتشين * آن كه سوزانيد بنياد شقاوت زينب است
آن كه زد بر ريشه بيداد و طغيان يزيد * وآن كه احيا كرد آيين عدالت زينب است
معدن ايمان و تصميم و ثبات و اقتدار * مشعل انوار تابان هدايت زينب است

در قيام كربلا گرديد همكار حسين * در ره شام بلا، كوه جلالت زينب است
وآن كه در امواج درياي خروشان بلا * امتحان‌ها داد با عزم و شجاعت زينب است
همچو باب و مام و جدّ خويش در روز جزا *آن كه دارد از خدا اذن شفاعت زينب است
 

 

موضوع: 
چهارشنبه / 23 فروردین / 1396
نور امامت کی پانچویں کڑی حضرت امام محمد بن علی باقر العلوم عليه السلام کی شہادت کی مناسبت سے اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے تمام پیروکاروں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت

امام باقر عليه السلام سے مخصوص صلوات
«اللَّهُمَ‏ صَلِ‏ عَلَى‏ مُحَمَّدِ بْنِ‏ عَلِيٍ‏ بَاقِرِ الْعِلْمِ‏ وَ إِمَامِ الْهُدَى وَ قَائِدِ أَهْلِ التَّقْوَى وَ الْمُنْتَجَبِ مِنْ عِبَادِكَ اللَّهُمَّ وَ كَمَا جَعَلْتَهُ عَلَماً لِعِبَادِكَ وَ مَنَاراً لِبِلَادِكَ وَ مُسْتَوْدَعاً لِحِكْمَتِكَ وَ مُتَرْجِماً لِوَحْيِكَ وَ أَمَرْتَ بِطَاعَتِهِ وَ حَذَّرْتَ عَنْ مَعْصِيَتِهِ فَصَلِّ عَلَيْهِ يَا رَبِّ أَفْضَلَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ ذُرِّيَّةِ أَنْبِيَائِكَ وَ أَصْفِيَائِكَ وَ رُسُلِكَ وَ أُمَنَائِكَ يَا إِلَهَ الْعَالَمِين‏»

( بحار الأنوار؛ ج91، ص76)

 

* كلام نور
قِيلَ لِلْبَاقِرِ ‌عَلَيْهِ ‌السَّلَامُ: مَنْ أَعْظَمُ النَّاسِ قَدْراً؟ قَالَ ‌عَلَيْهِ ‌السَّلَامُ: مَنْ لَايُبَالِ فِي يَدِ مَنْ كَانَتْ الدُّنْيَا؛

حضرت امام باقر ‌عليه ‌السلام سے پوچھا گیا: قدر و قیمت کے لحاظ سے سب سے عظیم لوگ کون سے ہیں؟

فرمایا:جنہیں یہ پرواہ نہ ہو کہ دنیا کس کے ہاتھ میں ہے۔

 (آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی کتاب سے اقتباس،  نزهة الناظر سے منقول: صفحه37)

 

 

 

موضوع: 
مہمان الٰہی

حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کے تمام پیروکاروں کوماہ رجب المرجب کی آمد اور امام محمد باقر علیہ السلام کا میلاد مسعود مبارک ہو۔

نورانی کلمات

* قالَ الاْمامُ الباقر عليه السلام: إذا أرَدْتَ أنْ تَعْلَمَ أنَّ فيكَ خَيْراً، فَانْظُرْ إلي قَلْبِكَ فَإنْ كانَ يُحِبُّ أهْلَ طاعَةِ اللّهِ وَ يُبْغِضُ أهْلَ مَعْصِيَتِهِ فَفيكَ خَيْرٌ وَ اللهُ يُحِبُّك، وَ إذا كانَ يُبْغِضُ أهْلَ طاعَةِ اللهِ وَ يُحِبّ أهْلَ مَعْصِيَتِهِ فَلَيْسَ فيكَ خَيْرٌ وَ اللهُ يُبْغِضُكَ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أحَبَّ۔

امام محمد باقر عليه السلام نے فرمایا: اگر تم یہ جاننا چاہو کہ کیا تمہارے وجود میں خیر ہے یا نہیں تو اپنے باطن پر نظر ڈالو ۔ پس اگر تم خدا کی عبادت اور اطاعت کرنے والوں سے محبت کرتے ہو اور خدا کی معصیت کرنے والوں کو پسند نہ کرتے ہو تو تم میں خیر و سعادت موجود ہے اور خدا تم سے محبت کرتا ہے، اور اگر تم خدا کی اطاعت کرنے والوں کو پسند نہ کرتے ہو اور خدا کی معصیت کرنے والوں سے محبت کرتے ہو تو پس تم میں خیر و خوبی نہیں ہے اور خداوند تمہیں دشمن رکھتا ہے۔ اور انسان اسی کے ساتھ محشور ہوتا ہے جس سے وہ عشق اور محبت کرتا ہے۔

(وسائل الشّيعة، ج16، ص183، ح1)

* قالَ الامامُ الباقر عليه السلام: مَنْ ثَبَتَ عَلي وِلايَتِنا فِي غيْبَةِ قائِمِنا، أعْطاهُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ اَجْرَ ألْفِ شَهيد مِنْ شُهَداءِ بَدْر وَ حُنَيْن؛

امام محمد باقر عليه السلام نے فرمایا: جو شخص ہمارے قائم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے زمانۂ غیبت میں ایمان اور ہم اہلبیت عصمت و طہارت کی ولایت پر قائم اور ثابت قدم رہے؛ خداوند عزوجل اسے جنگ بدر و حنین کے ہزار شہداء کے برابر اجر عطا فرمائے گا۔

 (إثبات الهداة، ج3، ص467)

* قالَ الاْمامُ الباقر عليه السلام: مَنْ دَعَا اللهَ بِنا أفْلَحَ، وَ مَنْ دَعاهُ بِغَيْرِنا هَلَكَ وَ اسْتَهْلَكَ۔

 امام محمد باقر عليه السلام نے فرمایا:جو شخص خدا سے ہمارے وسیلہ سے دعا کرے اور ہمیں واسطہ قرار دے وہ کامیاب اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی ہم اہلبیت کے علاوہ کسی اور کو وسیلہ قرار دے وہ ناامید اور ہلاک ہو گا۔

(أمالي شيخ طوسي، ج1، ص175)

 

ماہ رجب کی پہلی رات اور پہلے دن کے ذریعہ زاد راہ کا حصول

ماہ رجب کی پہلی شب
ماہ رجب کی پہلی رات مبارک اور محترم رات ہے اور اس کے کچھ اعمال ہیں:

۱۔ جب ماہ رجب کا چاند دیکھو تو کہو:
اَللّهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنا بِالاْمْنِ وَالاْيمانِ وَالسَّلامَةِ وَ الاْسْلامِ رَبّى وَر َبُّكَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ؛

 پروردگارا! اس چاند کو ہمارے لئے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کا چاند قرار دے دینا.اے چاند میرا اور تیرا دونوں کا پروردگار وہی خدائے عزوجل ہے۔

نيز حضرت رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم سے منقول ہے کہ جب آپ ماہ رجب کا چاند دیکھتے تو فرماتے:

اَللّهُمَّ بارِكْ لَنا فى رَجَبٍ وَشَعْبانَ وَبَلِّغْنا شَهْرَ رَمَضانَ وَاَعِنّا عَلَى الصِّيامِ وَالْقِيامِ وَحِفْظِ اللِّسانِ وَغَضِّ الْبَصَرِ وَلا تَجْعَلْ حَظَّنا مِنْهُ الْجُوعَ وَالْعَطَشَ؛

خدايا! ہمیں ماہ رجب و شعبان کی برکت عنایت فرما اور ہمیں ماہ رمضان تک پہنچا دے اور اس کے صیام و قیام اور اس زمانے میں اپنی زبان کو محفوظ رکھنے اور نگاہوں کو نیچے رکھنے میں ہماری مدد فرما، اور ماہ رمضان میں ہمارا حصہ صرف بھوک اور پیاس ہی نہ ہونے پائے۔

۲۔ غسل

۳۔ زيارت حضرت امام حسين عليه السلام

۴۔ مغرب کے بعد بیس رکعت نماز بجا لانا کہ جس کی ہر رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ توحید پڑھی جائے اور ہر دو رکعت کے بعد سلام بجا لائیں تا کہ آپ اور آپ کے اہل و عیال، مال اور اولاد محفوظ رہے اور عذاب قبر سے امان میں رہیں اور صراط سے حساب و کتاب کے بغیر گذر جائیں۔

۵۔ نماز عشاء کے بعد دو ركعت نماز بجا لائیں کہ جس کی پہلی رکعت میں سورۂ ایک مرتبہ حمد اور سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ اور تین مرتبہ سورۂ توحيد پڑھیں اور دوسری رکعت میں سورۂ حَمد، سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ ،سورۂ توحيد اور مُعَوَّذَتَيْن (یعنی سورۂ فلق اور سورۂ الناس) پڑھیں اور نماز کے سلام کے بعد تیس مرتبہ لا اِلهَ اِلا اللهُ پڑھیں اور تیس مرتبہ صلوات بھیجیں تو خداوند متعال اس کے گناہوں کو اس طرح سے بخش دے گا جیسے وہ ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو۔

حضرت امام جعفرصادق عليه السلام نے فرمایا: حضرت اميرالمؤ منين عليه السلام پورے سال کی چار راتوں میں شب بیداری کرنا پسند کرتے تھے تا کہ ان راتوں میں عبادت کریں اور وہ چار راتیں یہ ہیں: ماہ رجب کی پہلی رات، نيمۂ شعبان کی رات، شب عيد فطر اور شب عيد قربان۔
حضرت امام محمَّد تقی عليه السلام نے فرمایا:مستحب ہے کہ ہر شخص ماہ رجب کی پہلی رات میں عشاء کے بعد یہ دعا پڑھے:

اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِاَنَّكَ مَلِكٌ وَاَنَّكَ عَلى كُلِّشَىْءٍ مُقْتَدِرٌ وَاَنَّكَ ما تَشاَّءُ مِنْ اءَمْرٍ يَكُونُ اَللّهُمَّ اِنّى اَتَوَجَّهُ اِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِىِّ الرَّحْمَةِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ يا مُحَمَّدُ يا رَسُولَ اللّهِ اِنّى اَتَوَجَّهُ بِكَ اِلَى اللّهِ رَبِّكَ وَرَبِّى لِيُنْجِحَ بِكَ طَلِبَتى اَللّهُمَّ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ وَالاْئِمَّةِ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ اَنْجِحْ طَلِبَتى؛

خدايا! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو بادشاہ و فرمانروا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے اور تو جو کام چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ خدایا! میں تیرے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوں۔ اے محمد! اے رسول خدا! میں آپ کے ذریعہ اس خدا کی طرف متوجہ ہوں جو میرا اور آپ کا دونوں کا پروردگار ہے تا کہ آپ کے وسیلہ سے میری حاجتوں کو پورا کر دے۔ خدایا! میں تمہارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کی اہلبیت کے ائمہ کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ان کے واسطہ سے میری حاجتوں کو پورا فرما۔

پھر اپنی حاجات طلب کریں۔

ماہ رجب کا پہلا دن

یہ ایک مبارک دن ہے کہ جس میں ان اعمال کو بجا لانے کی تاکید ہوئی ہے:

۱۔ روزه رکھنا

روايت ہوئی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اسی دن کشتی پر سوار ہوئے اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور جو شخص بھی اس دن روزہ رکھے گا خداوند عالم آتش جہنم کو اس سے ایک سال  کے فاصلہ تک دور کر دے گا۔

۲۔ غسل

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: جو شخص ماہ رجب کو درک کرے اور اس کے پہلے ،درمیانی اور آخری دن غسل کرے تو وہ گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے جیسے وہ شکم مادر سے پیدا ہوا ہو۔

۳۔ زيارت امام حسين عليه السلام

امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا:

بیشک خدا اس شخص کو بخش دے گا جو شخص یکم رجب کو امام حسين بن على عليہماالسَّلام کی زیارت کرے۔

۴۔ نماز حضرت سلمان رضي الله عنه: دس رکعت نماز پڑھیں اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھیں اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ حمد اور تین مرتبہ سورۂ توحید اور تین مرتبہ سورۂ قُلْ يا اَيُّهَا الْكافِرُونَ پڑھیں اور ہر سلام کے بعد ہاتھ اٹھائیں اور کہیں:لا اِلهَ اِلا اللّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيى وَيُميتُ وَهُوَ حَىُّ لا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَىْءٍ قَديرٌ اَللّهُمَّ لا مانِعَ لِما اَعْطَيْتَ وَلا مُعْطِىَ لِما مَنَعْتَ وَلا يَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ؛

خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ فرمانروائی اسی کے لئے ہے اور حمد و ستائش اسی سے مخصوص ہے۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ایسا زندہ ہے کہ جسے کبھی موت نہیں آ سکتی۔  ہر خیر اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ خدایا! جسے تو عطا کرے اس کے لئے کوئی مانع نہیں ہے اور جسے تو منع کرے اس کے لئے کوئی عطا نہیں ہے۔ اور کوشش کرنے والے شخص کی سعی و کوشش اسے تجھ سے بے نیاز نہیں کر سکتی۔

پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیریں اور اپنی حاجات طلب کریں۔ اس نماز کے کثیر فوائد ہیں لہذا اس سے غفلت نہیں ہونی چاہئے۔

ماہ رجب کی آمد کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحيم

سلام ہو ماه رجب پر، سلام ہو رجبيون پر، سلام و تحيّات روزہ داروں پر، اور اعتکاف کرنے والوں پر خدا کی رحمت و مغفرت ہو، سلام ہو«أين الرجبيون» کی آواز پر لبّيك کہنے والے عزیزوں  پر ؛ جو خداوند متعال کے دسترخوانِ رحمت پر بیٹھ کر اس کی بیکراں نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ اور  وہ خود پر فخر اور اس عظیم سعادت پر افتخار کرتے ہوئے خدائے منّان کا شکر بجا لائیں.

دنیا کی کس لذت کا ان عظیم معنوی حالات کی لذتوں سے موازنہ کر سکتے ہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو مادی عیش و عشرت، گناہ سے آلودہ تفریح اور دنیا کی جلد ہی گذر جانے والی لذتوں کی فکر میں گم ہیں؟ اين الملوك واين ابناء الملوك؟ کیا خداوند کریم کے قرب اور انسانیت کے اعلی مقام پر پہنچنے کے لئے کسی مادی ارزش و اہمیت کو معین کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں؛ پس اس مقام پر ہمیں قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی توجہ اور تدبر کے ساتھ تلاوت کرنی چاہئے:

يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله و للرسول اذا دعاكم لما يحييكم؛

 اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری حقیقی زندگی ہے۔

جی ہاں! یہ ہے حقیقی حیات، اور یہ معنویت، پاکیزہ روح، تزکیۂ نفس اور تقرب الٰہی سے سرشار زندگی۔

خود کو خدا کی طرف سے معین کردہ ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے آمادہ کریں اور ہم پیغمبر رحمت حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں:

دور حاضر میں آپ کے بارہویں فرزند ارجمند امام عصر عجل الله تعالي فرجه الشريف پردۂ غيب میں ہیں اور ہم سب ـ بالخصوص جوان اور روزه‌دارـ اپنے پورے وجود سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک فداکار اور ہمیشہ تیار رہنے والے سپاہی کی اسلام کے نورانی احکام اور اہلبیت علیہم السلام کے غنی معارف کی حمایت کرتے ہوئے اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں گے اور اپنے معاشرے میں امر بہ معروف اور نہی از منكر انجام دیں، بدعتوں اور دین سے منحرف کرنے والے امور کا مقابلہ کریں اور قطلب عالم امکان حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور مسرور تک اس افتخار کو محفوظ رکھیں۔

عزیزو! ان قیمتی لمحات کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے  اور دوسرے افراد کے لئے، اسلامی ممالک کی اسلام دشمن عناصر سے نجات اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی کامیابی اور سربلندی کے لئے دعا کریں اور خداوند متعال سے حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں۔

اللهم عجّل فرجه و قرّب زمانه واجعلنا من اعوانه و انصاره آمين رب العالمين

لطف الله صافي

سنہ1429  ہجری
 

ليلة الرغائب؛ آرزؤوں کی شب

ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ  کو ليلة الرَّغائب کہا جاتا ہے: یعنی آرزؤوں کی رات۔

اس عظیم اور بافضیلت رات میں اس کی مخصوص نماز ادا کرکے معبو کی بارگاہ میں توبہ و انابہ، عجز اور استغاثہ کریں اور اپنے محبوب کے در پر جانے میں جلدی کریں اور خدائے رحمان و رحیم سے دعا کریں اور حاجات طلب کریں۔

خدائے بزرگ و برتر سے دعا کریں کہ ہمارے مولا امام زمانہ ارواحنا فداه کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

خدائے بزرگ و برتر سے دعا کریں کہ غیبت و انتظار کے سخت زمانے میں ایک لمحہ کے لئے بھی ہمارے ایمان و یقین کو متزلزل نہ  ہونے دے۔

خدائے بزرگ و برتر سے دعا کریں کہ ہمیں اپنے دین اور اپنے ولیِ مطلق امام عصر عجل الله تعالي فرجه الشريف کی اطاعت پر ثابت قدم رکھے
خدائے بزرگ و برتر سے ولی خدا اور ان کے شیعوں کے امور کی اصلاح طلب کریں۔

خدائے بزرگ و برتر سے اپنی حاجات طلب کریں۔

لیکن کیا خدا نے خود دعا مستجاب کرنے  کا وعدہ نہیں کیا:

’’(اے پیغمبر)اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو  میں ان سے قریب ہوں۔ پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے‘‘

پس خدا کو اس کی رحمت، لطف و کرم، رحمانیت، علم اور اس کی قدرتِ واسعہ کے ذریعہ پکاریں اور جان لیں کہ وہ ہم سے نزدیک ہے؛ بہت نزدیک، سب سے نزدیک ہے۔

نمازِ ليلة الرغائب (ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ) کی فضیلت

حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم نے اس رات کی بہت اہم نماز کی تاکید فرمائی ہے کہ جس کی بڑی فضیلت ہے: اس نماز کی وجہ سے بہت سے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور حاجتیں روا ہوتی ہیں۔

پيغمبر اسلام صلي الله عليه و آلہ و سلم نے فرمایا:

مجھے قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! خدا کے بندوں اور کنیزوں میں سے کوئی ایسا بندہ یا کوئی ایسی کنیز نہیں ہے جو یہ نماز بجا لائے لیکن خدا اس کے گناہوں کو نہ بخشے۔ اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی وسعت، ریت کے ذرات، پہاڑوں کی سنگینی اور درخت کے پتوں کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز وہ روز قیامت اپنے رشتہ داروں میں سے ستر ایسے افراد کی شفاعت کرے گا کہ جو آتش جہنم کے مستحق ہوں۔

اور جو شخص اس نماز کو ادا کرے گا تو جب قبر کی پہلی رات ہو گی تو پروردگار اس کے ثواب کو حسین ترین شکل اور نورانی چہرہ کے ساتھ فصیح زبان دے کر بھیج دے گا اور وہ اس سے کہے گا کہ میرے محبوب تجھے بشارت ہو کہ تو نے ہر سختی اور غم سے نجات حاصل کر لی ہے اور وہ گبھرا کر پوچھے گا کہ میں نے تجھ جیسا کوئی حسین نہیں دیکھا اور نہ ہی ایسا شیرین کلام کبھی سنا ہے اور نہ ہی ایسی خوشبو کبھی محسوس کی ہے اور تو کون ہے؟ وہ کہے گا کہ میں اس نماز کا ثواب ہوں جو تو نے فلاں سال ماہ رجب کی فلاں رات میں انجام دی تھی۔ اب میں آیا ہوں کہ  تیرے حق کو ادا کر دو اور تیری تنہائی کا مونس بنوں اور تیری وحشت کو زائل کروں اور جب روز قیامت صور پھونکا جائے تو تیرے سر پر سایہ فگن رہوں۔ خوشحال ہو جاؤ کہ اب کوئی خیر تم سے زائل نہیں ہو گا۔

اس رات کی نماز کی کیفیت:

اس نماز کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ماہ رجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھیں اور جب شب جمعہ ہو جائے تو نماز مغرب و عشاء کے درمیان بارہ رکعت نماز بجا لائیں اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھیں ۔
ان بارہ رکعتوں میں ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ حمد  اور تین مرتبہ سورہ اِنّا اَنْزَلْناهُ اور بارہ مرتبہ سورهٔ قُلْ هُوَ اللّهُ اَحَدٌ پڑھیں۔

نماز سے فارغ ہونے  کے بعد70 مرتبہ کہیں: اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ النَّبِىِّ الاُمِّىِّ وَعَلى آلِهِ
پھر سجدہ میں جائیں اور 70 مرتبہ کہیں: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوحِ
پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور 70 مرتبہ کہیں: رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمّا تَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِىُّ الاَعْظَمُ
پھر دوبارہ سجدہ میں جائیں اور 70 مرتبہ کہیں: سُبُّوحٌ قُدّوُسٌ رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوحِ
پھر خدا سے اپنی حاجت طلب کریں انشاءالله حاجت روا ہو گی۔

 

موضوع: 
چهارشنبه / 9 فروردین / 1396
حضرت زہراء سلام الله علیہا کے میلاد سعید کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی کی خصوصی تحریر

اللّهم صلّ علي الصديقة فاطمة الزكية حبيبة حبيبك و نبيّك و ام أحبّائك و أصفيائك الّتي انتجبتها و فضّلتها و اخترتها علي نساء العالمين و صلّ علي ولدها الذي بشّرها به خاتم النبيين صلوات الله عليه و آله، بقية الله في ارضه ارواح العالمين له الفداء.

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی جامع الاطراف اور وسیع الأبعاد شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، لکھا گیا اور مستقبل میں بھی جو کچھ لکھا  جائے گا یا کہا جائے ،لیکن اس کے باوجود خاتون جنت بی بی دو عالم حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و درجات کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔
اگرچہ جانگداذ ظلم و ستم کی وجہ سے بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ظاہری زندگی بہت مختصر تھی لیکن اس کے باوجود آپ کی یہی مختصر حیات پوری تاریخ میں تمام لوگوں اور بالخصوص ہر حق پرست اور ہر رہبر کے لئے نمونہ ہے۔

اور اس شاعر کے بقول کہ جس نے کہا:ضلّ من جعل مقياس الحياة الطولا،

زندگی کا مقیاس و معیار ظاہری زندگی اور لمبی عمر کو قرار نہیں دینا چاہئے بلکہ انسان کی حیات کا حقیقی مقیاس ومعیار  اس کے وجود  کی برکات ہیں۔

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليہا کی حیات بھی آپ کے پدر بزرگوار حضرت خاتم الانبياء محمد بن عبد الله صلي الله عليه و آله و سلم کی حیات کی طرح برکات و آثار سے سرشار اور بہت وسیع و عریض تھی۔

عالم وجود اور کائنات ہستی میں کوئی انسان بھی حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کے علم و اخلاق، سیرت، انسانی کمالات و مقامات اور روحی و جسمی خصوصیات کے لحاظ سے حضرت زہراء علیہا آلاف التحیۃ والثناء سے زیادہ قریب نہیں ہے۔

اگرچہ  بنت پیغمبر حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی عمر کا طول ۱۸ سال سے زیادہ نہیں تھا لیکن اس کا عرض کئی ملین سال سے بھی زیادہ ہے۔ اہم یہ ہے کہ انسان اپنی مختصر حیات میں ایس عظیم کارنامہ انجام دے کہ  جنہیں دوسرے افراد کئی ہزار سالوں میں بھی انجام نہ دے سکیں۔

ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس موضوع اور اس ہستی کے درجات و فضائل کے بارے میں جس قدر بھی بحث کریں لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ حق مطلب ادا نہیں کر سکتے۔

ایک انسان کامل کے لئے فرض کئے جانے والے تمام مقامات میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پہلے درجہ پر فائز ہوں گی۔ ایمان، معرفت الٰہی، خدا کی بندگی و عبادت، دنیا سے بے اعتنائی، قناعت، دوسروں کے لئے ایثار، ہمسرداری، تربیت اولاد، عفت و حجات کی رعائت، اسلام میں خواتین کے لئے تاکید کی جانے والی کرامت و حشمت کی حفاظت اور سورۂ احزاب میں عورتوں کے لئے بیان ہونے والی دس صفات ( کہ جس طرح ان صفات کو مردوں کے لئے بھی  افتخار شمار کیا گیا ہے) میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا یگانہ  مقام رکھتی ہیں اور آپ سب کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔

انسان کے لئے حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مکمل تاریخ حیات اعجاز آفرین ہے کہ کس طرح ایک عورت ان اعلٰی و ارفع مقامات پر فائز ہو سکتی ہے اور کس طرح خداوند متعال کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے انوار وجود اس قدر درخشاں ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض ازواج آپ کی توصیف میں یوں بیان کرتی ہیں:

«مَا رَأَيْتُ أفْضَل مِنْ فَاطِمَة غَير أبِيهَا؛ میں نے فاطمہ سے برتر کسی کو نہیں دیکھامگر ان کے بابا کو »(1)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا نے جو موقف اختیار کیا ؛ وہ بہت اعلٰی اور حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی اہم ذمہ داری اپنے ذمہ لی اور مسجد نبوی میں عظیم الشأن خطبہ دیا۔

اس موقع پر ایسے حالات میں کسی انسان کے لئے ایسا خطبہ دینا اور حقائق کو آشکار کرنا ممکن نہیں تھا لیکن صدیقہ ٔطاہرہ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا وہ واحد اور یگانہ ذات ہے جس نے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ سامعین کے دلوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یاد تازہ ہو گئی۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس انداز میں مسجد نبوی میں داخل ہوئیں کہ آپ نے چادر اور عباء اوڑھی ہوئی تھی جو زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور بنی ہاشم کی عورتوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حکم پر عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ کیا گیا تا کہ آپ پردہ کے پیچھے سے خطبہ دے سکیں اور آپ نے بالبداہہ ایسا خطبہ دیا کہ جسے سن کر سامعین پر سکوت طاری ہو گیا اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليہا کا وجود ایک آسمانی وملکوتی وجود ہے، ہم جیسے افراد ان کے وجود کی عظمت کو درک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس عظیم ہستی کی توصیف بیان کر سکتے ہیں.

اہلبیت اطہار علیہم السلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔ آیت تظہیر «إنّما يُريدُ اللهُ لِيُذهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ البَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُم تَطْهِيراً»(2) میں حضرت فاطمهٔ زہراء سلام الله عليہا پنج تن میں واحد اور یگانہ خاتون ہیں کہ جن کی شان میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے اور آپ بھی اس آیت میں شامل ہیں۔

اور اس آیت «فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ»(3)، میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود واحد خاتون حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله عليہما ہیں۔

نیز اس آیت «قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏»(4) میں بھی جب حضرت رسول خدا صلی الله عليه و آله و سلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے قرابتدار کون ہیں کہ جن سے اس آیت میں خدا نے مودت کا حکم دیا ہے؟

آپ نے فرمایا: علی، فاطمه، حسن اور حسين صلوات الله عليهم اجمعين. (5)

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا معنوی مقام اور آپ کا وجود مبارک شیعوں کی حقانیت کے لئے حجت ہے۔ میں ایک موقع پر مدینہ میں تھا اور میں نے سنا کہ یہاں کوئی کتابخانہ ہے کہ جس میں شیعوں کے خلاف کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔ میں وہاں گیا اور وہاں موجود کتابوں کوجائزہ لینے لگا۔ میں نے دیکھا کہ صاحب مکتب کی میز پر ایک کتاب رکھی ہوئی ہے کہ جس کا نام «و جاء دور المجوس‏»تھا۔

میں كتابخانہ کے مالک کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گیا۔ انہوں نے کچھ ایسی کتابوں کے نام بتائے جنہیں میں جانتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ ان کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں میں ان کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ان کے تمام مطالب جھوٹ اور بہتان ہیں۔

اس شخص نے کہا: آپ بغیر پڑھے ان کتابوں کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟

میں نے جیسے ہی وہ کتاب کھولی تو پہلی نظر میں ہی میں نے اس شخص کے ئے یہ بات ثابت کر دی دی کہ اس کتاب میں لکھے ہوئے مطالب  جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔

کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے پوچھا کہ ان دو افراد کی خلافت کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

میں نے کہا: آپ یہ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں!  یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی ان دونوں پر عقیدہ نہ رکھتا ہو تو وہ دین سے خارج نہیں ہو گا اور اگر کوئی ان کی معرفت کے بغیر اور انہیں پہچانے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ بے دین نہیں ہے۔

وہ مسلسل خلافت کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو جاننے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ میں نے کہا: عقيدتنا عقيدة سيدة فاطمه سلام الله عليها، یعنی ہمارا عقیدہ وہی ہے جو سیدہ فاطمہ زہراء کا عقیدہ تھا.جب میں نے یہ بات کی تو وہ خاموش ہو گیا۔ کیوکہ یہ معلوم تھا کہ وہ خلفاء کے بارے میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے عقیدہ کو رد نہیں کر سکتا۔

پھر اس نے پوچھا:آپ کا اس (خود ساختہ) اجماع کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

میں نے کہا: ہم حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اسی عقیدہ پر باقی ہیں۔

جب میں نے دوبارہ اسی محکم بات کو دہرایا تو پھر وہ کوئی بات نہ کہہ سکا۔

الغرض یہ کہ حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله و سلامه عليہا کا موقف ایک ایسا موقف ہے کہ جو مذہب و مکتب تشیع کی اساس اور بنیاد کو تقویت دیتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے۔

اس بناء پر ہمیں چاہئے کہ سب لوگوں کے مطالعہ کے لئے سیدۃ نساء العالمین بضعۃ الرسول صلوات الله عليه و آله کی تعلیمات پیش کریں کیونکہ یہی عقائد اور تعلیمات تشیع کے لئے حجت ہیں۔

ان ایّام میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس معجزاتی خطبہ پر خاص توجہ کرنی چاہئے کہ جس کے ضمن میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے اور جس میں ہر لازم پیغام کا بیان ہے۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس خاص مقام و منزلت پر توجہ دیں کہ جس میں فرمایا گیا ہے:«خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ أَنْ لَا يَرَيْنَ‏ الرِّجَالَ‏ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَال‏؛ عورتوں کے لئے بہترین حالت یہ ہے کہ نہ تو کوئی اجنبی شخص انہیں دیکھے اور نہ ہی وہ کسی اجنبی شخص کو دیکھیں »(6)۔ زہرائی و فاطمی خواتین کو اس امر پر توجہ کرنی چاہئے۔

بی بی دو عالم سیدۂ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مجالس اور ذکر فضائل ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں کیونکہ یہ خدا کے تقرب، امر اہلبیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص  حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے امر کے احیاء کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان موقعوں  پر زیادہ سے زیادہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کی تکریم و تجلیل کریں اور آپ کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں کہ یہ اجر رسالت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے اور آنحضرت کی تجلیل و تکریم ہے۔

البتہ جو لوگ آپ کے مقام و منزلت کی تجلیل و تکریم کرتے ہیں وہ آپ کے احکام پر بھی حتمی طور ہر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا:

                 تَعْصِي الْإِلَهَ وَ أَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ                             هَـذَا مُحَالٌ فِي الْفِعَالِ بَدِيعٌ‏
                 لَـوْ كَــانَ حُبُّكَ صَادِقاً لَأَطَعْتَهُ                           إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيع(7)‏       

یعنی حضرت فاطمۂ زہراء عليها آلاف التحية و الثناء کی محبت میں ہمارے صدق و صداقت کی علامت یہ ہے کہ ہم اس بزرگ ہستی کی راہ پر ثابت قدم رہیں اور ہمیشہ ہر حال میں خدا، رسول اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے امر کی اطاعت کو اپنے زندگی کے تمام امور میں قرار دیں۔

حوالہ جات:
۱۔ مجمع الزوائد هيثمي، كتاب المناقب، باب مناقب فاطمة بنت رسول الله صلي الله عليه و آله، ح15193.
۲۔ سوره احزاب، آيه33.(بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہلبیت علیہم السلام تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح سے پاک و پاکیزہ رکھے کہ جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)
۳۔ سورهٔ آل عمران،آيه61.( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ  حجتی کریں تو ان سے کہہ  دیجئے کہ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے  اپنے نفسوں کو  بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں)
۴۔ سوره ٔشوري، آيه23.( اور (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو)
۵۔ بحار الأنوار؛ج23، ب13.
۶۔ وسائل الشيعة، ج20،ح25054.
۷۔  امالي شيخ صدوق ره، مجلس74.

موضوع: 
«بهار خزان» امّ ابيها حضرت زهرا سلام الله عليها کی شہادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر

«السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مُمْتَحَنَةُ امْتَحَنَكِ‏ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ فَوَجَدَكِ لِمَا امْتَحَنَكِ بِهِ صَابِرَةً»
اے بی بی خداوند عالم نے آپ کو اپنے سخت اور دشوار امتحان پر صابر پایا! اے دختر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ!
آپ کے صبر پر خدا کا درود و سلام ہو؛

آپ کے ایمان پر خدا کا درود و سلام ہو؛ آپ کے پدر گرامی نے فرمایا: «إِنَّ ابْنَتِي فَاطِمَةَ مَلَأَ اللهُ قَلْبَهَا وَ جَوَارِحَهَا إِيمَاناً وَ يَقِيناً؛ بیشک خداوند نے میرے بیٹی فاطمہ کے قلب اور اعضاء و جوارح کو ایمان اور یقین سے بھر دیا ہے. »

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے حضرت آيت الله العظمي صافي گلپایگانی مدظله العالی کے دفتر کی ویب سائٹ کی جانب سے «بهار خزان» کے عنوان سے محبان جناب سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا کے لئے کچھ مطالب پیش خدمت ہیں تا کہ سیدۂ دو عالم کی رضائیت حاصل کی جا سکے:

* شرح سيلي (طمانچوں کی شرح؛حضرت زہراءعليہاالسلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے اشعار)

* فاطميه، باطل پر حق کی فتح (ایّام فاطمیہ کی تکریم میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر)

* فاطمه کون ہیں؟ (حضرت فاطمه زہراء عليہاالسلام کی شخصیت کے بارے میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی تحریر)

 

شرح سيلي(طمانچوں کی شرح)
اي دخـــت گــرامـي پـيمبر * اي سرّ رســول در تو  مـضمر
در بـيت شريف وحي، خاتـون * بــر چــرخ رفــيع مَجد اختر
اي شبه نبي به خلق و اوصاف  * اي نــور مـجسّــم مــصــوّر
اي خـــادم خــانه‌ي تـو حوّا * و اي حاجــب درگه تو هاجـر
در طــورِ لــقا يــگانـه بانو * در مُـلك وجود زيــب و زيـور
بــا شــير خــدا عـليّ عالي * هـم‌ سـنگر و هم پيام و همســر
مانند تو زن جهان‌ ‌نديده‌‌است  * غــمـخوار و نـگاهبانِ شـوهــر
اي عــين كمال و جان بينش * اي ‌شخص‌ شخيـص عصمت ‌و فرّ
بـر رفـعت قدر تو گواه است * بــيت و حجــر و مقــام و مشعر
اي ســيّــده زنــان عــالـم *اي بــضــعه حــضــرت پيمــبر
تـو اصلي و ديگران همه فرع * تــو جـاني‌ وديــگران چـو پيكر
در مُـــلــك وَلا ولــيّـة الله* بـر نــخلِ وجـــود احمـــدي بَر
قــرآن بــه فـضيلت تو نازل* بـــرهان تــو مـــحكم و مقــرّر
روي تــو جــمال كــبريايي* كـــوي تـــو رواق قُـــرب داور
از جوي تو شبنمي است زمزم* و از بحــر تو شعبــه‌اي ‌است ‌كوثر
زآن خـطبه آتشين كه پيـچيد * در ارض و سـمــا بســـان ‌تـنـدر
مـحكوم شد آن نظام و گرديد* حــق روشن و غــالب و مظـــفّر
مـن عاجزم از بــيان وصفت * تـــو بحري و مـــن ز قطره كمتر
اي امّ مــحـامـد و مـعــالي * اي از تــو مــشام جـــان معـطّر
بــا اين ‌همه عزّ و رفعت شأن* بـا آن همـــه فخر بي حــد و مرّ
از ظــلـم مــنافـقين امّــت* شــد قــــلـب مـنــير تـو مكدّر
آن را كــه نـمـــود حــقّ مقدّم* كـــردند مــعانــدان مـؤخّر
بردند فــدك ‌به ‌غصب و بسـتند * بــر بــاب تو گفته ‌‌اي مـزوّر
افســوس شكست دشمــن ‌دين‌ * پـهلوي تو را بــه ضربـت در
بـــازوي تـو را به تــازيـــانه * زد قــنفذ مــــلحد سـتـمگر
از سيلــي و شـرح آن نگـــويم* كــافتد بـه دل از بيــانش آذر
در مــاتــم مـحســن شهيـدت * مايــيم به ســوگ و ناله اندر
بر لــطفي صافــي از ســر لطف* بنگـــر كه بُوَد پريش و مضطر
بس فخــر از آن كنـــد ‌كه دارد * بر سـر ز سـتــايش تـو افسر

 

 

فاطميه، باطل پر حق کی فتح (ایّام فاطمیہ کی تکریم میں آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر)

بسم الله الرحمن الرحيم

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها کے باعظمت مقام اور آپ کے وجودکی برکتوں کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں اور کہاں سے شروع کرنا چاہئے؟ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا تعلق اس اہلبیت عصمت و طہارت سے ہے کہ جن کے وجود کی وجہ سے خداوند متعال نے کائنات کو خلق کیا اور اس بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

«لَوْ لَا نَحْنُ مَا خَلَقَ‏ اللهُ‏ آدَمَ‏ وَ لَا حَوَّاءَ وَ لَا الْجَنَّةَ وَ لَا النَّارَ وَ لَا السَّمَاءَ وَ لَا الْأَرْض»(1)

یعنی اگر ہم نہ ہوتے تو خداوند متعال نہ تو آدم کو خلق  کرتا اور نہ حوا کو، نہ تو جنت کو خلق کرتا اور نہ جہنم کو، نہ تو آسمان کو خلق  کرتا اور نہ زمین کو۔
حضرت اميرالمؤمنين علی عليه السلام نے معاویہ کو لکھے گئے خط میں رقم فرمایا ہے:

«فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا وَ النَّاسُ‏ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا»(2)

یہ عبارت معنی کے لحاظ سے بہت اہم ہے ۔کچھ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس روایت کا معنی یہ ہے لوگ ہمارے مکتب کے پروردہ اور تربیت یافتہ ہیں لیکن حقیقت میں یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اس روایت کا معنی یہ ہے خلقت کا اصل ہدف محمد و آل محمد عليهم السلام کا وجود ہے ۔

یا حديث قدسی کا جملہ کہ جس میں خداوند عالم فرماتا ہے: «خَلَقْتُكَ لِأجْلِي»(3) (میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیاہے)

اور دوسری حدیث میں فرمایا:«لَوْلَاكَ مَا خَلَقْتُ‏ الْأَفْلَاكَ‏»(4). (اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا)

انسان بالکل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ خداوند متعال کے اس فرمان کے کیا معنی ہیں کہ میں نے تمہیں اپنے لئے خلق کیا اور پوری کائنات کو تمہارے لئے خلق کیا ؟

ان فرامین سے صرف یہی سمجھاجا سکتا ہے کہ ان کا خداوند متعال کے ساتھ رابطہ بہت گہرا اور بلندو بالا ہے کیونکہ خداوند خود ارفع و اعلیٰ  ہے۔البتہ خود پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«مَا عَرَفْنَاكَ‏ حَقَ‏ مَعْرِفَتِكَ»(5)

یعنی ہم نے تمہیں اس طرح نہیں پہچانا جس طرح تمہاری معرفت کا حق تھا۔

یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے طفیل ہے۔ اگر آپ ان ہستیوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کی کہی گئی باتوں کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ وہ کسی طرح سے بھی (اس ذات سے) متصل نہیں ہیں اور ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

مكتب اہلبيت عليہم السلام میں ہر چیز موجود ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:«إنّي تاركٌ فيكُمُ الثّقلين كتاب الله وَ عِتْرَتي» بیشک میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے کا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہلبیت۔ اس سے یہ مراد ہے کہ ہر چیز اہلبيت علیہم السلام سے اخذ کی جائے اور ان کے علاوہ کسی سے کچھ اخذ نہ کیا جائے۔

حضرت رسول خدا صلي الله عليه و آله و سلم نے فرمایا: نہ ان سے آگے بڑھو اور نہ پیچھے رہ جاؤن کیونکہ اگر آگے بڑھے تو گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر پیچھے رہ گئے تو ہلاک ہو جاؤ گے. نیز آپ نے فرمایا:«لاتُعَلِّمُوهُم» انہیں کوئی چیز تعلیم نہ دو ، «فإنَّهُم أعْلَمُ مِنْكُم» کیونکہ یہ تم سب لوگوں سے اعلم ہیں.

اب اہلبيت عصمت و طہارت عليہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله عليہا کے درمیان ایک خاص محوریت ہے؛ ملاحظہ فرمائیں کہ جب اہلبیت علیہم السلام کا تعارف کروایا تو سیدۂ دو عالم جناب زہراء سلام اللہ علیہا مرکزیت کی حامل ہیں «هُمْ ‏فَاطِمَةُ وَ أبُوهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوهَا»(6)

اہلبيت عليهم السلام میں سے حضرت زہرا سلام الله عليها ایک خاص مقام و عظمت کی مالک ہیں اور تمام ائمه اطہار عليهم السلام ان کے وجود پر افتخار کرتے ہیں۔در حقیقت اہلبيت عليهم السلام کے ہر فرد کے لئے حضرت زہرا سلام الله عليها حجت ہیں۔یعنی وہ اپنی حقانیت کو اور غاصبوں اور ستمگروں کے بطلان کو اسی ہستی کے ذریعہ ثابت کرتے ہیں۔تمام اهلبيت عليهم السلام حجت ہیں لیکن ان جہات سےحضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها کی حجیت سب سے زیادہ ہے.

حضرت فاطمه زہرا سلام الله عليها سيدة نساء العالمين، بضعة الرسول و قرينة وليّ الله، حکم قرآن سے مباہلہ میں شریک واحد خاتون ہیں نیز اہلبيت عليهم السلام سے بھی وہ واحد خاتون ہیں کہ جو اپنے بابا،شوہر اور بیٹوں کی طرح مقام عصمت و طہارت سے آراستہ ہیں۔ اور وہ اجتماع كه جس میں حتی امّ سلمه کو بھی حاضر ہونے کی اجازت نہ ملی اور انہیں بھی پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے «إنّكِ على الخير»کہہ کر رخصت کر دیالیکن وہاں بھی شریک  ہونے والی تنہا خاتون حضرت زہرا سلام الله عليها تھیں۔

مقام نبوت کے علاوہ حضرت زہرا سلام الله عليهااخلاق،علم اور كمالات کے اعتبار سے اپنے بابا کی طرح اصل نسخہ کے عین مطابق تھیں اور تمام ائمه عليهم السلام کی طرح آنحضرت کی سيرت اور کرداروگفتار بھی دين و شریعت میں احكام الهی کی دلیل ہیں۔

آپ علم و ہدایت کے لحاظ سے مقام امامت پر فائز  اور صدر اسلام میں بھی  عصمت و عفت اور کرامت کے لحاظ سے اسوہ ہیں۔

گھر سے باہر کے امور میں مصروفیت اور نامحرم مردوں کے ساتھ کام کرنا کسی بھی باوقار اور باعفت خاتون کی شان کے خلاف ہے تو پھر وہ خاتون کہ  جس کی شان میں یہ فرمایا گیا :«إنّ اللهَ تَعَالى يَغْضِبُ لِغَضَبِ فَاطِمة وَ يَرْضى لِرِضَاهَا»  اس سے یہ امر محال ہے۔

حضرت زہرا سلام الله عليها  کا عظیم معجزہ

حضرت زہرا سلام الله عليها کے معجزات میں سے ایک معجزہ آپ کا فی البدیہہ خطبہ ہے۔حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کی رحلت اور اس کے بعد کے  دیگر مصائب کے باوجود آپ نے ایسا خطبہ دیا کہ جو فصاحت و بلاغت کی معراج ہے۔ اميرالمؤمنين علی عليه الصلوة و السلام امام البلغاء اور امير الفصحاء ہیں لیکن آپ فرماتے ہیں:

 «إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ‏ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه‏»(7) گرچہ اس وقت کا ماحول یہ اجازت نہیں دیتا تھا ایسا جامع، ناطق،جاوداں اور منہ توڑ خطبہ دیا جائے۔

حضرت صديقه طاهره سلام الله عليها کی عظمت باعث بنی کہ اس تاریخی اجتماع میں بڑے بڑے حاکم بھی آپ کو خطبہ دینے سے نہ روک سکے۔ اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے خود رسول اكرم صلي الله عليه و آله حاضر ہو گئے ہوں اور جب یہ حقائق بیان ہو رہے تھے تو وہاں موجود بہت سے لوگ گریہ کر رہے تھے۔

به ہر حال!اس خطبہ میں بہت اعلیٰ مطالب موجود ہیں اور یہ اہلبيت عليهم الصلوة و السلام کے معجزات میں سے ہے۔لہذا  بلاغات النساء  جیسی کتاب میں اس خطبہ کو نقل کیا گیا کہ جو دوسری صدی ہجری میں لکھی گئی۔

حضرت زہرا سلام الله عليها بے شمار فضائل کی حامل ہیں ؛پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی مشہور حدیث کہ «إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْضَبُ‏ لِغَضَبِ‏ فَاطِمَةَ وَ يَرْضَى لِرِضَاهَا»(8) اختصار کے باوجود اس میں اہم اور بلند و بالا معنی پائے جاتے ہیں. حقائق اور اہم ولائی مطالب  میں حضرت مہدي عليه‌السلام تک اس روايت سے استفاده کیا جائے گا،یا وہ حديث كه جو پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله نے حضرت زہرا سلام الله عليها کو تسکین و اطمینان دلاتے ہوئے ارشاد  فرمائی:

«أبشري يا فَاطِمة إنّ المَهْدِيّ منك»(9)

اے فاطمه!میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مہدی تم میں سے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے کہ پيغمبر اكرم صلي الله عليه و آله وسلم عالم امكان کے پہلے شخص ہیں،اور آپ اپنی عزیزبیٹی کو آئندہ پیش آنے والے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ مہدی تم میں سے ہے۔یعنی سب کچھ تجھ سے ہے اور تیرے لئے ہے اور دنیا کی بازگشت تیری طرف ہے،باطل پر حق اور ظلمت پر نور کی فتح تیرے لئے ہی ہے۔بہ هر حال حضرت زهرا سلام الله عليها کی عظمت و شأن میں بے شمار فرامین ہیں۔

ايّام فاطميه منانا لازم ہے:

ایّام فاطميه،مواضع فاطمه،سيرت فاطمه، زهد فاطمه، عبادت فاطمه، علم و حكمت فاطمه ہمیشہ منشور کا لازمی جزء ہونے چاہئیں ۔تقاریر و تأليفات اور ہر مناسب موقع پر انہیں بیان کرنا چاہئے۔ حضرت زہرا سلام الله عليها پر ہونے والے مصائب اس قدر فاش و آشكار ہیں کہ حتی ابن اثیر  بھی کتاب’’النهاية ‘‘میں- کہ اس کا مؤلف سنّی ہے اور یہ لغت کی کتاب ہے –رحلت رسول الله صلي الله عليه و آله کے بعد کے ان مصائب کو ذکر کرنے سے گریز نہیں کر سکا اور اس نے یہ مصائب سب کے لئے بیان کئے ہیں۔

ابن اثير کتاب النهاية ، لغت (هنبث) میں حضرت زهرا عليها السلام سے استشهاد کرتے ہوئے دو اشعار ذکرکرتا ہے کہ جو اسلام کی اس یگانہ خاتون پر ہونے والے مظالم و مصائب اور ہتک حرمت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر کوئی اور ہر آگاہ شخص ان  اشعارسے سب کچھ سمجھ سکتا ہے۔یہ اشعارحضرت زہرا سلام الله عليها کی تکالیف کی شدت،رنج و غم اور واقع ہونے والے واقعات پر آپ کے اعتراض کو بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنے باباسے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

قَدْ كـانَ بَعْدَك أنباء وَ هَنْبَثة    لَو كُنتَ شاهدَها لم يكثر الخُطَب

إنّا فَقَدْناك فَقْد الأرضِ وابلَها    فَاختل قومُك فاشْهدهم وَ لاتَغب

پھر بیان کیا ہے:«الهَنْبَثَة واحدة الهنابث، و هِي الأمُور الشّداد المختلفة و اشار إلى عتبها على أبي‌بكر: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي‌بكر فعاتبته.»

لوگوں کے لئے تاریخ کو بیان کرنا چاہئے  اور حضرت زہرا سلام الله عليها  کے کلمات اور بالخصوص آپ کا وہ عظیم اور فصیح و بلیغ خطبہ لوگوں کے کانوں تک پہنچانا چاہئے۔

ان ایّام فاطميه‌ میں حضرت زہرا سلام الله عليها کی ملکوتی شخصیت کی تجليل و تعظيم کی جائے اور ان ایام میں سب لوگ اسلام کی اس عظیم خاتون دختر پيغمبر رحمت حضرت فاطمه زہرا عليها السلام سے اپنی مودت و عقیدت کو ثابت کریں۔آج ہمیں شدت سے آنحضرت کی ضرورت ہے۔

ہمارے سماج کو شوہر داری اور اولاد کی تربیت کی روش کی ضرورت ہے کہ آنحضرت بہترین طریقہ و روش کی حامل تھیں۔

آج جناب فاطمہ زہرا علیہا السلام کے کلمات تمام خواتین بلکہ مردوں کی زندگی کے لئے بھی نمونۂ عمل  ہیں اور آنحضرت نے دنیا تک عورت کی کرامت اور حقیقی مقام پہنچایا اور فرمایا: بهترين عورت وہ ہے کہ نہ وہ نامحرم مرد کو دیکھے اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھیں۔

اسی وجہ سے حضرت زہرا عليها السلام آج تک اور تا قیامت آگاہ و خداپرست اور حق کی جستجو کرنے والے افراد کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فاطمیہ ایک تاریخ ہے ،فاطمیہ یعنی ظالموں کے خلاف فریاد،ٖفاطمیہ یعنی باطل پر حق کی فتح کے لئے جہاد، اور بالآخر فاطمیہ یعنی حضرت مهدي عجل الله تعالي فرجه الشريف کی الٰہی و عالمی حکومت کا قیام.

جی ہاں! فاطميه عاشورا ہے، ‌فاطميه شب قدر ہے، فاطميه غدير اور نيمه شعبان ہے اور فاطميه يعني  ظلمت پر نور کی فتح کا دن۔

جناب فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے فضائل کی ایک جھلک میں دین اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت،اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی دعوت اور بطور کل رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ ہونی چاہئے۔بدعتوں،اجنبیت،گناہ و فساد،جہالت و گمراہی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔

اهلبيت عليهم السلام کا مکتب معرفت، علم و بيداري، آگاهي و عدالت ، مساوات، عقلی رشد اور نوراني افکار کا مکتب ہےاور ہم سب کو چاہئے کہ ہم اس فرصت سے مستفید ہوتے ہوئے انہیں بیان کریں اور ہم سب کو ایّام فاطمیہ کی نورانی مجالس کا احسان مند ہونا چاہئے اور ان کی برکتوں سے بطور کامل استفادہ کرنا چاہئے اور خداوند متعال کی بارگاہ میں موفور السرور ،یوسف زہرا، عزيز فاطمه حضرت امام مهدي عجل الله تعالي فرجه الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرکے اپنی اہم ذمہ داری ادا کریں۔

 اللّهم عجل فرجه الشريف و اجعلنا من أعوانه و أنصاره و المستشهدين بين يديه.

 

حوالہ جات:
۱۔ عيون اخبار الرضا عليه السلام؛ ج1، ب26، ح22.
۲۔ نهج البلاغة، نامه28.
۳۔ الجواهر السنية؛ شيخ حر عاملي، ص710.
۴۔ بحار الانوار؛ ج15،ب1، ح48.

۵۔ بحار الانوار؛ج68،ب61، ح1.
۶۔ عوالم العلوم، ص933.
۷۔ نهج البلاغة، خ233.
۸۔ صحيفه امام رضا عليه السلام، ص45،ح22.
۹۔ البرهان متقي هندی، ص94.

 

 

فاطمه کون ہیں؟

اللّهم صلّ علي الصديقة فاطمة الزكية حبيبة حبيبك و نبيّك و ام أحبّائك و أصفيائك الّتي انتجبتها و فضّلتها و اخترتها علي نساء العالمين و صلّ علي ولدها الذي بشّرها به خاتم النبيين صلوات الله عليه و آله، بقية الله في ارضه ارواح العالمين له الفداء.

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی جامع الاطراف اور وسیع الأبعاد شخصیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، لکھا گیا اور مستقبل میں بھی جو کچھ لکھا  جائے گا یا کہا جائے ،لیکن اس کے باوجود خاتون جنت بی بی دو عالم حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و درجات کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔
اگرچہ جانگداذ ظلم و ستم کی وجہ سے بنت پیغمبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ظاہری زندگی بہت مختصر تھی لیکن اس کے باوجود آپ کی یہی مختصر حیات پوری تاریخ میں تمام لوگوں اور بالخصوص ہر حق پرست اور ہر رہبر کے لئے نمونہ ہے۔

اور اس شاعر کے بقول کہ جس نے کہا:ضلّ من جعل مقياس الحياة الطولا،

زندگی کا مقیاس و معیار ظاہری زندگی اور لمبی عمر کو قرار نہیں دینا چاہئے بلکہ انسان کی حیات کا حقیقی مقیاس ومعیار  اس کے وجود  کی برکات ہیں۔

حضرت فاطمۂ زہرا سلام الله عليہا کی حیات بھی آپ کے پدر بزرگوار حضرت خاتم الانبياء محمد بن عبد الله صلي الله عليه و آله و سلم کی حیات کی طرح برکات و آثار سے سرشار اور بہت وسیع و عریض تھی۔

عالم وجود اور کائنات ہستی میں کوئی انسان بھی حضرت رسول صلي الله عليه و آله و سلم کے علم و اخلاق، سیرت، انسانی کمالات و مقامات اور روحی و جسمی خصوصیات کے لحاظ سے حضرت زہراء علیہا آلاف التحیۃ والثناء سے زیادہ قریب نہیں ہے۔

اگرچہ  بنت پیغمبر حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی عمر کا طول ۱۸ سال سے زیادہ نہیں تھا لیکن اس کا عرض کئی ملین سال سے بھی زیادہ ہے۔ اہم یہ ہے کہ انسان اپنی مختصر حیات میں ایس عظیم کارنامہ انجام دے کہ  جنہیں دوسرے افراد کئی ہزار سالوں میں بھی انجام نہ دے سکیں۔

ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس موضوع اور اس ہستی کے درجات و فضائل کے بارے میں جس قدر بھی بحث کریں لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ حق مطلب ادا نہیں کر سکتے۔

ایک انسان کامل کے لئے فرض کئے جانے والے تمام مقامات میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پہلے درجہ پر فائز ہوں گی۔ ایمان، معرفت الٰہی، خدا کی بندگی و عبادت، دنیا سے بے اعتنائی، قناعت، دوسروں کے لئے ایثار، ہمسرداری، تربیت اولاد، عفت و حجات کی رعائت، اسلام میں خواتین کے لئے تاکید کی جانے والی کرامت و حشمت کی حفاظت اور سورۂ احزاب میں عورتوں کے لئے بیان ہونے والی دس صفات ( کہ جس طرح ان صفات کو مردوں کے لئے بھی  افتخار شمار کیا گیا ہے) میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا یگانہ  مقام رکھتی ہیں اور آپ سب کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔

انسان کے لئے حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مکمل تاریخ حیات اعجاز آفرین ہے کہ کس طرح ایک عورت ان اعلٰی و ارفع مقامات پر فائز ہو سکتی ہے اور کس طرح خداوند متعال کی طرف اپنا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے انوار وجود اس قدر درخشاں ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعض ازواج آپ کی توصیف میں یوں بیان کرتی ہیں:

«مَا رَأَيْتُ أفْضَل مِنْ فَاطِمَة غَير أبِيهَا؛ میں نے فاطمہ سے برتر کسی کو نہیں دیکھامگر ان کے بابا کو »(1)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد حضرت صدیقۂ طاہرہ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا نے جو موقف اختیار کیا ؛ وہ بہت اعلٰی اور حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے لوگوں تک حقائق پہنچانے کی اہم ذمہ داری اپنے ذمہ لی اور مسجد نبوی میں عظیم الشأن خطبہ دیا۔

اس موقع پر ایسے حالات میں کسی انسان کے لئے ایسا خطبہ دینا اور حقائق کو آشکار کرنا ممکن نہیں تھا لیکن صدیقہ ٔطاہرہ حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا وہ واحد اور یگانہ ذات ہے جس نے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ سامعین کے دلوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یاد تازہ ہو گئی۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس انداز میں مسجد نبوی میں داخل ہوئیں کہ آپ نے چادر اور عباء اوڑھی ہوئی تھی جو زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور بنی ہاشم کی عورتوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حکم پر عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ کیا گیا تا کہ آپ پردہ کے پیچھے سے خطبہ دے سکیں اور آپ نے بالبداہہ ایسا خطبہ دیا کہ جسے سن کر سامعین پر سکوت طاری ہو گیا اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے۔

حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليہا کا وجود ایک آسمانی وملکوتی وجود ہے، ہم جیسے افراد ان کے وجود کی عظمت کو درک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس عظیم ہستی کی توصیف بیان کر سکتے ہیں.

اہلبیت اطہار علیہم السلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔ آیت تظہیر «إنّما يُريدُ اللهُ لِيُذهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ البَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُم تَطْهِيراً»(2) میں حضرت فاطمهٔ زہراء سلام الله عليہا پنج تن میں واحد اور یگانہ خاتون ہیں کہ جن کی شان میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے اور آپ بھی اس آیت میں شامل ہیں۔

اور اس آیت «فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ»(3)، میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود واحد خاتون حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله عليہما ہیں۔

نیز اس آیت «قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى‏»(4) میں بھی جب حضرت رسول خدا صلی الله عليه و آله و سلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے قرابتدار کون ہیں کہ جن سے اس آیت میں خدا نے مودت کا حکم دیا ہے؟

آپ نے فرمایا: علی، فاطمه، حسن اور حسين صلوات الله عليهم اجمعين. (5)

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا معنوی مقام اور آپ کا وجود مبارک شیعوں کی حقانیت کے لئے حجت ہے۔ میں ایک موقع پر مدینہ میں تھا اور میں نے سنا کہ یہاں کوئی کتابخانہ ہے کہ جس میں شیعوں کے خلاف کتابیں فروخت کی جاتی ہیں۔ میں وہاں گیا اور وہاں موجود کتابوں کوجائزہ لینے لگا۔ میں نے دیکھا کہ صاحب مکتب کی میز پر ایک کتاب رکھی ہوئی ہے کہ جس کا نام «و جاء دور المجوس‏»تھا۔

میں كتابخانہ کے مالک کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گیا۔ انہوں نے کچھ ایسی کتابوں کے نام بتائے جنہیں میں جانتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ ان کتابوں کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں میں ان کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ان کے تمام مطالب جھوٹ اور بہتان ہیں۔

اس شخص نے کہا: آپ بغیر پڑھے ان کتابوں کے بارے میں یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟

میں نے جیسے ہی وہ کتاب کھولی تو پہلی نظر میں ہی میں نے اس شخص کے ئے یہ بات ثابت کر دی دی کہ اس کتاب میں لکھے ہوئے مطالب  جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔

کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے پوچھا کہ ان دو افراد کی خلافت کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

میں نے کہا: آپ یہ کیسا سوال پوچھ رہے ہیں!  یہ معلوم ہے کہ اگر کوئی ان دونوں پر عقیدہ نہ رکھتا ہو تو وہ دین سے خارج نہیں ہو گا اور اگر کوئی ان کی معرفت کے بغیر اور انہیں پہچانے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ بے دین نہیں ہے۔

وہ مسلسل خلافت کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو جاننے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔ میں نے کہا: عقيدتنا عقيدة سيدة فاطمه سلام الله عليها، یعنی ہمارا عقیدہ وہی ہے جو سیدہ فاطمہ زہراء کا عقیدہ تھا.جب میں نے یہ بات کی تو وہ خاموش ہو گیا۔ کیوکہ یہ معلوم تھا کہ وہ خلفاء کے بارے میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے عقیدہ کو رد نہیں کر سکتا۔

پھر اس نے پوچھا:آپ کا اس (خود ساختہ) اجماع کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

میں نے کہا: ہم حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اسی عقیدہ پر باقی ہیں۔

جب میں نے دوبارہ اسی محکم بات کو دہرایا تو پھر وہ کوئی بات نہ کہہ سکا۔

الغرض یہ کہ حضرت فاطمۂ زہراء صلوات الله و سلامه عليہا کا موقف ایک ایسا موقف ہے کہ جو مذہب و مکتب تشیع کی اساس اور بنیاد کو تقویت دیتا ہے اور اس کی تائید کرتا ہے۔

اس بناء پر ہمیں چاہئے کہ سب لوگوں کے مطالعہ کے لئے سیدۃ نساء العالمین بضعۃ الرسول صلوات الله عليه و آله کی تعلیمات پیش کریں کیونکہ یہی عقائد اور تعلیمات تشیع کے لئے حجت ہیں۔

ان ایّام میں حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس معجزاتی خطبہ پر خاص توجہ کرنی چاہئے کہ جس کے ضمن میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے اور جس میں ہر لازم پیغام کا بیان ہے۔

حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے اس خاص مقام و منزلت پر توجہ دیں کہ جس میں فرمایا گیا ہے:«خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ أَنْ لَا يَرَيْنَ‏ الرِّجَالَ‏ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَال‏؛ عورتوں کے لئے بہترین حالت یہ ہے کہ نہ تو کوئی اجنبی شخص انہیں دیکھے اور نہ ہی وہ کسی اجنبی شخص کو دیکھیں »(6)۔ زہرائی و فاطمی خواتین کو اس امر پر توجہ کرنی چاہئے۔

بی بی دو عالم سیدۂ فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی مجالس اور ذکر فضائل ہمیشہ زندہ رہنے چاہئیں کیونکہ یہ خدا کے تقرب، امر اہلبیت اطہار علیہم السلام اور بالخصوص  حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کے امر کے احیاء کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان موقعوں  پر زیادہ سے زیادہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کی تکریم و تجلیل کریں اور آپ کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں کہ یہ اجر رسالت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے اور آنحضرت کی تجلیل و تکریم ہے۔

البتہ جو لوگ آپ کے مقام و منزلت کی تجلیل و تکریم کرتے ہیں وہ آپ کے احکام پر بھی حتمی طور ہر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا:

        تَعْصِي الْإِلَهَ وَ أَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ                             هَـذَا مُحَالٌ فِي الْفِعَالِ بَدِيعٌ‏
                 لَـوْ كَــانَ حُبُّكَ صَادِقاً لَأَطَعْتَهُ                           إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيع(7)‏       

یعنی حضرت فاطمۂ زہراء عليها آلاف التحية و الثناء کی محبت میں ہمارے صدق و صداقت کی علامت یہ ہے کہ ہم اس بزرگ ہستی کی راہ پر ثابت قدم رہیں اور ہمیشہ ہر حال میں خدا، رسول اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے امر کی اطاعت کو اپنے زندگی کے تمام امور میں قرار دیں۔

حوالہ جات:
۱۔ مجمع الزوائد هيثمي، كتاب المناقب، باب مناقب فاطمة بنت رسول الله صلي الله عليه و آله، ح15193.
۲۔ سوره احزاب، آيه33.(بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہلبیت علیہم السلام تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح سے پاک و پاکیزہ رکھے کہ جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)
۳۔ سورهٔ آل عمران،آيه61.( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آ جانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ  حجتی کریں تو ان سے کہہ  دیجئے کہ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے  اپنے نفسوں کو  بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں)
۴۔ سوره ٔشوري، آيه23.( اور (اے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو)
۵۔ بحار الأنوار؛ج23، ب13.
۶۔ وسائل الشيعة، ج20،ح25054.
۷۔  امالي شيخ صدوق ره، مجلس74.

 

موضوع: 
ملکۂ صبر و شجاعت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کی مناسبت سے آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله‌الوارف کی ایک تحریر

 

زینب؛ جی ہاں زینب، چار حروف پر مشتمل ایک اسم،لیکن یہ انسانیت کے ان تمام فضائل اور اقدار کا مجموعہ ہے جو خداوند کریم نے سورۂ احزاب کی پینتیسویں آیت میں عورتوں اور مردوں کے لئے شمار کئے ہیں۔

یہ ذات ایمان، علم و معرفت،صبر و صداقت اور استقامت و شجاعت کا اسوہ و نمونہ ہے، اور یہ وہ خاتون ہے جو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اپنے پدر بزرگوار امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی زبان اور مکارم اخلاق کے لحاظ سے اپنی ماں جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی اوصاف کی حامل ہے۔ اس ہستی پر صرف مسلمان خواتین ہی نہیں بلکہ پوری امت اسلام(چاہے خواتین ہوں یا مرد) نازاں ہے۔

اس ہستی کی سیرت،حجاب، عصمت و عفّت، عبادت اور عظمت و بزرگی سب افتخارانگیز ہیں۔ آپ بلند مرتبہ اور اعلیٰ منزلت پر فائز ہیں اور آپ نے ہمیشہ اسلام کی حمایت اور دینی اقدار کا دفاع کیا۔ نیز آپ نے تاریخ کے مستکبرین کی حکومت پاش پاش کر دیا اور اس طرح سے زمانے کے مستکبرین کا سر کچل دیا کہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا کوڑا دان بنی امیہ کا مقدر بن گیا ، اور انہیں دنیا کی نظروں میں نفرت انگیز اور تمام حریت پسندوں کی نظر میں لعنت و نفرت کا مستحق قرار دے دیا۔

حق یہ ہے کہ اس ذات اقدس نے اسلام کی عظمت، بنی ہاشم کی شان و شوکت اور افتخارات، اپنے جد بزرگوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصیت اور قرآن مجید کی پاسداری کی، اسلام و قرآن اور دین و توحید سب اس ہستی کے شکرگذار ہیں۔ اگر یہ ذات نہ ہوتی تو تاریخ کس طرح اوراق میں ثبت ہوتی، اس چیز کا تصوریقیناً بہت وحشت انگیز اور خوفناک ہے۔

دور حاضر میں مرد اور خواتین سب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کے مکتب سے کسب فیض کر رہے ہیں۔ اس عظیم الشأن خاتون نے اپنے جاہ و جلال سے شجاعانہ طور پر اسلام اور قرآن کا دفاع کیا اور باطل، ظلم، الحاد، استبداد اور جبر و ستم کو سرنگوں کیا اور حق کے پرچم کو سربلند کیا۔ آج دنیا آپ کی حیات اور سیرت سے درس لینے کی محتاج ہے۔

امید ہے کہ آج کی مسلمان خواتین حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو اپنی زندگی کے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں اور اپنے تمام دینی ع شرعی امور میں اسلام کی اس عظیم خاتون سے درس لیں اور  دنیا کے سامنے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اور اسوہ پر افتخار کرتے ہوئے اس ہستی  کے ولائی اور معنوی پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ اور ہم آخر میں ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شان میں عقیدت کے کچھ اشعار پیش کرتے ہیں:

آفتاب آسمان مجد و رحمت زينب است * حامي توحيد و قرآن و ولايت زينب است
درّ درياي فضيلت عنصر شرم و عفاف * قهرمان عرصه صبر و شهامت زينب است
در دمشق و كوفه با آن خطبه‌هاي آتشين * آن كه سوزانيد بنياد شقاوت زينب است
آن كه زد بر ريشه بيداد و طغيان يزيد * وآن كه احيا كرد آيين عدالت زينب است
معدن ايمان و تصميم و ثبات و اقتدار * مشعل انوار تابان هدايت زينب است

در قيام كربلا گرديد همكار حسين * در ره شام بلا، كوه جلالت زينب است
وآن كه در امواج درياي خروشان بلا * امتحان‌ها داد با عزم و شجاعت زينب است
همچو باب و مام و جدّ خويش در روز جزا *آن كه دارد از خدا اذن شفاعت زينب است
 

 

موضوع: 
یکشنبه / 17 بهمن / 1395
حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام سے یہ درس سیکھنا چاہیئے:
دین شناس حضرات کی خدمت میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی ضرورت
(حضرت عبد العظیم حسنی کی ولادت کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کا بیان)

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام؛ رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظیم ذریت اور علی و بتول صلوات اللہ علیہم اجمعین کے فرزندوں میں سے ایک ہیں۔ آپ علماء علوم اہلبیت علیہم السلام کی معروف شخصیات، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے بزرگ صحابہ اور اسرار ائمہ اطہار علیہم السلام کے محارم میں سے ہیں۔اور چونکہ ظاہری طور پر آپ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے سلسلۂ نسب میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی طبقہ میں ہیں لہذا آپ آنحضرت کے اصحاب میں سے بھی ہیں۔ اگرچہ ایک روایت کی بناء پر آپ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانہ کو درک نہیں کیا ہے لیکن یہ قوی احتمال ہے کہ آپ نے آنحضرت کی خدمت کو درک کیا ہے.

اسلام کی اس عظیم شخصیت کے الٰہی اور ہمیشہ باقی رہنے والے کارناموں میں سے ایک اپنے وقت کے امام کی خدمت میں عرض دین کا مسئلہ ہے( یعنی آپ امام کے حضور اپنے دینی عقائد بیان کرتے تھے تا کہ امام عقائد کی تائید و تصحیح فرمائیں)۔ ایک ایسی شخصیت جب ’’عرض دین‘‘ کا اقدام کرے تو اس سے عقائد کی تصحیح کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، چاہے یہ واجب الاعتقاد ہوں یا اس سے بھی زیادہ۔

حضرت عبد العظیم حسنی علیہ السلام جیسی عظیم اور بزرگ شخصیت نے کتاب و سنت کے بارے میں اپنے تمام علم و آگاہی اور کتاب خطب امیر المؤمنین علیہ السلام کی تألیف کے باوجود یہ لازم جانا کہ اپنے وقت کے امام کی خدمت اقدس میں اپنے ان عقائد کو بیان کریں کہ جن کے آپ سو فیصد قطعی و حتمی اور یقینی طور پر معتقد تھے تا کہ امام علیہ السلام ان عقائد کی تصدیق کریں اور آپ اپنے امام علیہ السلام سے ان عقائد کے صحیح ہونے کی تائید دریافت کریں۔ اس رو سے دوسرے لوگوں کو بطریق اولٰی عرض دین جیسے اہم مسئلہ پر زور دینا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ اطمینان کے لئے قرآن و حدیث اور علوم اہبیت علیہم السلام کے علماء (جنہوں نے بزرگوں سے علم حاصل کیا ہے)میں سے کسی ایک عالم کے سامنے نہیں بلکہ متعدد علماء کے سامنے اپنے عقائد بیان کرنے چاہئیں۔

اس کے لئے مکمل تواضع اور عاجزی سے باخبر، مورد اطمینان، صحیح و غلط اور کامل و ناقص میں تشخیص دینے والے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں۔

ہمارے زمانے میں ہم سب اور بالخصوص نوجوان نسل، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے عزیز  اور دیندار طلباء کو عرض دین اور دین شناسی جیسے اہم مسئلہ کی جانب مکمل توجہ کرنی چاہئے یعنی قرآن کریم اور احادیث اہلبیت علیہم السلام کے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں اور دین کی تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ تحریف و تأویل، تصرف اور اعمال میں  اپنے ذاتی سلیقوں اور متعدد وجوہات کی بناء پر لوگ دین  کی تعلیمات دے رہے ہیں منجملہ بعض مغرب زدہ افراد عقائد اور دینی تعلیمات دینے میں مشغول ہیں کہ جو خود کو روشن فکر شمار کرتے ہیں اور جن کی اپنی کوئی علمی صلاحیت نہیں ہے لیکن وہ دینی امور کے ماہر بنے بیٹھے ہیں۔ انٹرویو، کانفرنس، تقاریر اور مقالات و مضامین لکھ کر اسلامی اقدار، لوگوں کے عقائد اور شرعی احکام کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسا دکھاوا کرتے ہیں کہ روشن فکری کا مطلب ہے کہ کتاب و سنت کے دلائل، دینی اصطلاحات اور صرف قرآن و سنت تک ہی محدود نہ رہا جائے ۔ یہ نام نہاد روشن فکر حضرات متمدن دنیا میں علماء اور فقہاء کی علمی کاوشوں کو ردّ کرتے ہیں اور انہیں موجودہ زمانے کے مشرقی یا مغربی تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھتے نیز وہ بعض شرعی، سماجی اور عدالتی آئین پر اعتراض کرتے ہیں اور عقائد میں بھی اپنی خاص عارفانہ اصطلاحات سے کتاب و سنت کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ المختصر یہ کہ وہ ایسی راہ پر چل رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی یہ راہ و روش جاری رکھی تو وہ بہت سے دینی فرائض کو پامال کر دیں گے۔

انبیاء کا اہم اور عظیم کام یہ تھا کہ انہوں نے خدا کی طرف لوگوں کی تبلیغ کی، انہیں مؤمن بنایا اور انہیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کا پابند بنایا۔یہ ایک ایسا کام تھا جو کسی بھی طبقہ کے برجستہ اور فکری نوابغ انجام نہیں دے پائے اور نہ ہی انجام دے پائیں گے۔

ہر جگہ یہ روشن فکر افراد  ایسی ہی فکر اور ایسی ہی ذہنیت کے مالک ہوں گے اور وہ اس سے خارج نہیں ہیں ۔اور وہ اس بات پر افتخار کرتے ہیں کہ وہ ان تمام یا بعض عقائد پر اعتراض کرکے لوگوں کے اعتقادات کو کم کر رہے ہیں۔ یہ روشن فکر افراد بیگانوں کے حالات اور نظریات سے متأثر ہو کر اپنی فکر سے دین کی تفسیر کرتے ہیں اور اسلام کی بنیادوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں یا پھر ان کا انکار کرتے ہیں۔

افسوس ہے کہ ایسی راہ و روش پر چلنے والے افراد پر دین و مذہب کی طرف مائل ہونے یا  مذہبی ہونے کا لیبل لگا کر پیش کیا جاتا ہے کہ جو اکثر خواتین و حضرات پر اثرانداز  ہوتے ہیں اورجن کی وجہ سے بعض مسلم مذہبی مسائل اور اسلامی فرائض میں شکوک و شبہات اور وسوسہ ایجاد ہوتے ہیں ۔

یہاں یہ بات کہنا بھی ضروری ہے کہ ایسے مقبول، محترم اور مقدس مسائل کی توہین کرنا اور ان میں شکوک و شبہات ایجاد کرنا معاشرے میں شہرت بخش ہے ۔ چونکہ ایسے افراد صحیح طریقہ سے سماج میں اپنا نام نہیں بنا سکتے لہذا وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اس راہ میں جس قدر زیادہ توہین و اہانت کریں، مسلّمات کا انکار کریں اور سماج کی اقدار پر حملہ کریں اتنا ہی ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے اور جو لوگ ان اقدار کو اپنی خواہشات اورمنافع کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں؛ وہ ان کو زیادہ سراہتے ہیں۔

اکثر مغرب زدہ، جدید مسلک کے موجد، مؤلفین و مصنفین اور مقررین کو آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر سمجھتے ہیں کہ جو مقدسات پر حملہ کرتے ہیں، سماجی اعتقادات کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی کھلم کھلا توہین کرتے ہیں۔

مرتد سلمان رشدی کی کتاب ہر قسم کے استدلال اور منطقی و عقلائی اصولوں سے عاری تھی کہ جس میں کسی طرح کا کوئی عاقلانہ ردّ اور حکمت پر مبنی نکتہ نہیں تھا لیکن اس نے ایسے مقامات مقدسہ کی اہانت اور باعظمت شخصیات کی توہین کی کہ جن کا سب احترام کرتے ہیں اور انہیں محترم شمار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرنے اور اس کی اسی گستاخی کی وجہ سے وہ آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر کے عنوان سے مشہور ہو گیا۔ اسلام اور مقدسات اسلام کی توہین کرنے کی وجہ سے استعمار نے اس کی حمایت اور دفاع کیا ورنہ اس کی کتاب میں کسی طرح کی کوئی منطقی و استدلالی بات نہیں ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر اگر ہماری جوان نسل ان نام نہاد روشن فکر افراد کے گمراہانہ شر سے محفوظ رہنا چاہتی ہے اور دین اسلام کو اسی پاکیزگی اور اصل و اصیل منابع سے سیکھنا چاہتی ہے کہ جس طرح وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا تو اسے چاہے کہ وہ خود ان منابع کی طرف رجوع کرے اور کسی طرح کی تأویل و توجیہ کے بغیر کتاب و سنت کی دلالت کو حجت سمجھے  اور اسلام شناس ( یعنی مکتب اہلبیت علیہم السلام اور ان دو منابع پر غور و فکر اور تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے ) افراد کی طرف رجوع کرے۔ ان ہستیوں کو سب لوگ جانتے اور پہنچانتے ہیں۔ اور وہ شخصیات ابوذر، مقداد، سلمان، سلیم، محمد بن مسلم، ابن ابی عمیر، فضل بن شاذان، ابن بابویہ، کلینی، شیخ طوسی، ان کے شاگرد، ان کے شاگردوں کے شاگرد اور عصر حاضر میں علماء و فقہاء اور مراجع کرام ہیں۔ یہ وہ علماء ہیں جنہوں نے مختلف زمانوں میں اصل اور اصیل منابع سے اسلام اخذ کیا اور آئندہ نسلوں کے سپرد کیا ہے۔ اگر یہ بااخلاص شخصیات نہ ہوتیں تو کوئی دوسرا طبقہ اس امانت کی حفاظت کے لئے کھڑا نہ ہوتا اور اصطلاح عارفانہ، مختلف افکار اور صوفیانی نظریات کے شور شرابے اور ہنگامے میں کوئی چیز ثابت اور خالص نہ رہتی اور نہ ہی اسلامی اعتقادات کے مبانی تحریف کے ضرر سے محفوظ  رہ پاتے۔

موضوع: 
درسی که از حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام باید آموخت:
لزوم عرض کالای عقیدتی به دین شناسان
(گفتاری از مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی بمناسبت میلاد حضرت عبدالعظیم حسنی علیه‌السلام)

 

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام یكي از اعاظم ذرّيه‌ی رسول و فرزندان مرتضي و بتول صلوات الله عليهم‌ اجمعين و از شخصيت‎ها و معاريف علماي اهل‎بيت و بزرگان صحابه‌ی حضرت جواد و حضرت هادي عليهماالسلام و محارم اسرار ائمه عليهم‌السلام است و علي‎الظاهر چون با حضرت رضا عليه‌السلام در سلسله‌ی نسب به حضرت اميرالمؤمنين و حضرت زهرا عليهماالسلام در يك طبقه بوده، از اصحاب آن حضرت نيز بوده است و اگر چه برحسب روايتي، عصر امامت امام عسكري عليه‌السلام را درك نكرده است، ولي احتمال اينكه درك خدمت آن حضرت را كرده باشد قوي است.

یکی از کارهای الهی و ماندگار این شخصیت عظیم اسلام، مسأله عرض دین او بر امام زمان خود است. از اينكه چنين شخصيتي در مقام عرض دين خود برآمده است، اهميت تصحيح عقايد، اعم از آنچه واجب‎الاعتقاد يا فراتر و بيشتر از آن است، معلوم مي‎شود.

در موقفي كه بزرگواري، مثل حضرت عبدالعظيم حسني عليه‌السلام با آن همه علم و آگاهي از كتاب، سنّت و تأليف كتاب خطب اميرالمؤمنين عليه‌السلام و با عقايدي كه صددرصد و به يقين جزمي و قطعي به آنها معتقد بوده است، باز لازم مي‎داند كه اين عقايد را حضور مبارك امام عرضه بدارد تا از امام عليه‌السلام تصديق و امضاي صحّت آنها را دريافت نمايد، ديگران به طريق اولي بايد به عرض دين خود مبادرت كنند و براي اطمينان بيشتر و نه فقط به يك نفر بلكه به اشخاص متعدد از رجال عالم به قرآن، حديث و معارف اهل‎بيت عليهم‌السلام و آنهايي كه علمشان را از آن بزرگواران گرفته‌اند‎، عرضه بدارند‎.

در اين ميدان بايد با كمال تواضع و فروتني كالاي عقيدتي خود را به عرض خبرگان مورد اعتقاد و عالم به صحيح و ناصحيح و كامل و ناقص آن برسانيم.

در عصر ما مسأله عرض دين به دين‌شناسانى كه دين را از قرآن كريم و احاديث اهل بيت‌عليهم السلام شناخته‌اند، مسأله‌اى است كه بايد همگان مخصوصاً نسل جوان و دانشجويان عزيز و دانشگاهيان متعهّد و متديّن به آن توجّه كامل داشته باشند؛ زيرا دست تحريف و تأويل و تصرّف و اعمال سليقه‌هاى شخصى به علل متعدد از جمله غرب‌زدگى از سوى معدودى كه به اصطلاح خود را روشنفكر مى‌شمارند به سوى عقايد و تعاليم دينى دراز شده و اشخاص فاقد صلاحيت‌هاى علمى به صورت كارشناس امور دينى و طالب فرم در قالب مصاحبه و ميزگرد و سخنرانى و نوشتن مقاله، ارزش‌هاى اسلام و التزامات مردم را به عقايد و احكام شرعى هدف قرار داده و چنان وانمود مى‌كنند كه روشنفكرى، عدم تعهّد به مداليل كتاب و سنت و اصطلاحات دينى و محدودنبودن در چهارچوب كتاب و سنّت است و به گمان خود، روشنفكرانه دريافت‌هاى علما و فقها را در امتداد قرن‌هاى متمادى تخطئه نموده و بسيارى از احكام الهى را با مزاج عصرى كه ساخته غرب يا شرق است مناسب نمى‌دانند و برخی برنامه‌هاى شرعى و نظامات جزائى و اجتماعى و غيرها را زير سؤال برده و در عقايد نيز با افكار به اصطلاح عارفانه اى كتاب و سنّت را تعريف و توصيف مى‌نمايند و خلاصه راهى مى‌روند كه اگر ادامه يابد التزامات دينى بسيارى را سست مى‌نمايد.

كار مهمّ و بزرگ انبيا اين بود كه مردم را به برنامه‌هائى كه از سوى خدا تبليغ كردند، مؤمن ساخته و آنها را به عمل به اين تعاليم وجداناً متعهّد نمودند؛ كارى كه از هيچ يك از قشرهاى به اصطلاح برجسته و نوابغ فكرى برنيامده و برنخواهد آمد.

اين افراد به اصطلاح روشنفكر هركجا پيدا شدند با اين ايمان برخورد دارند و خارج بر آن هستند و به اين افتخار مى‌كنند كه در تمام يا بعض از اين باورها خدشه نمايند و تعهّد مردم را كم كنند و دين را طبق انديشه خودشان، كه متأثر از اوضاع و احوال بيگانگان است، تفسير نموده و اصالت‌هاى اسلامى را مورد ترديد يا انكار قرار دهند.

متأسفانه اين روش‌ها كه به صورت گرايش به دين و مذهب و مذهبى‌بودن ابراز مى‌شود كم و بيش در زن و مرد اثر گذارده و يك وسوسه در بعض مسائل مسلم مذهبى و تعهدات اسلامى در بعضى ديده مى‌شود.

ناگفته نماند كه طبع اين‌گونه برخوردهاى ترديدانگيز يا توهين‌آميز با مسائل مقبوله و مورد احترام و تقديس جامعه شهرت‌بخش است و افرادى كه مى‌خواهند اسم و آوازه‌اى بدست بياورند و از راه‌هاى صحيح عاجزند، اين راه را پيش مى‌گيرند، و هر چه در اين راه هتّاكى بيشتر نشان داده شود و بى‌پرده و صريح‌تر انكار و اهانت شود و به ارزش‌هاى جامعه تندتر حمله كنند، بيشتر موجب شهرت مى‌شود و عده‌اى هم كه آن ارزش‌ها را معارض با هواها و منافع خود مى‌دانند، بيشتر از آن استقبال مى‌كنند.

بسيارى از غرب‌زده‌ها و متجدّد مسلك‌ها، نويسنده و گوينده‌اى را آزادانديش و روشنفكر مى‌دانند كه در حمله به مقدّسات و باورهاى جامعه و مسخره‌كردن آنها بى‌پروا و گستاخ باشد.

كتاب سلمان رشدى مرتد، كه عارى از هرگونه استدلال و برداشت منطقى و معقول بود و حاوى هيچ نكته و ردّ و ايراد خردپسند نبود، تنها به علّت گستاخى مفرط و اهانت به مقامات مقدسه و شخصيت‌هايى كه همه از آنها احترام مى‌كنند و حريم قداست آنها را محترم مى‌شمارند، در محافلى كه حدّ و حدودى براى آزادى اشخاص قائل نيستند، روشنفكرانه و آزاد انديشانه تلقّى شد، و از رهگذر هتك اين قداست‌ها و اهانت به مقدّسات مسلمانان مشهور گرديد، و استعمار هم براى همين اهانت او به اسلام از او حمايت و دفاع كرد و گرنه كتاب فاقد محتواى منطقى و استدلالى است.

به اين جهات، نسل جوان ما اگر بخواهد از شرّ اضلال اين روشنفكرهاى اسمى در امان بماند و دين راستين اسلام را پاك و همان طور كه نازل بر پيامبر اكرم‌صلى الله عليه وآله شده است از منابع اصيله و اصليه فرا بگيرد، بايد يا شخصاً مراجعه به اين منابع نمايد و بدون تأويل و توجيه، دلالت كتاب و سنّت را حجت بداند، و يا به اسلام‌شناسان ـ يعنى آنها كه در مكتب اهل بيت‌عليهم السلام و با غور و بررسى در اين دو منبع اسلام را آموخته‌اند ـ رجوع نمايد. اينان را همه مى‌شناسند. ابوذرها و مقدادها و سلمان و سليم‌ها و محمدبن‌مسلم‌ها و ابن ابى عمير و فضل بن شاذان و ابن بابويه‌ها و كلينى‌ها و شيخ طوسى‌ها و شاگردان آنها و شاگردان شاگردانشان تا زمان حاضر از علما و فقها و مراجع مى‌باشند؛ اين قشر از علماء هستند كه در اعصار و ادوار متمادى اسلام را از منابع اصيل و أصل اخذ كرده و يداً بيد به اخلاف سپرده‌اند؛ و اگر اين رجال با اخلاص نبودند از قشرهاى ديگر حفظ اين امانت بر نمى‌آمد و در غوغاهاى بحث‌هاى به اصطلاح عارفانه و افكار و سخنان صوفيانه اين و آن، نه چيزى ثابت و خالص باقى مانده بود و نه مبانى اعتقادى اسلامى از گزند تحريف و تأويل مصون مى‌ماند.

موضوع: 

صفحه‌ها

  • of 22
اشتراک در RSS - مناسبت‌ها