وریز وجوهات
جشن بزرگ میلاد مسعود امام حسن عسکری علیه السّلام با حضور مراجع ، علماء، اساتید حوزه علمیه، هیئات مذهبی و مردم شیفته خاندان عصمت و طهارت علیهم االسّلام، جمعه 17 دی ‌ماه 1395 همزمان با شب میلاد آن امام هُمام بعد از نماز مغرب و عشاء در شبستان جدید مسجد...
سه شنبه: 5 / 11 / 1395 ( )

حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام سے یہ درس سیکھنا چاہیئے:
دین شناس حضرات کی خدمت میں اپنا عقیدہ بیان کرنے کی ضرورت
(حضرت عبد العظیم حسنی کی ولادت کی مناسبت سے مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی کا بیان)

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام؛ رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظیم ذریت اور علی و بتول صلوات اللہ علیہم اجمعین کے فرزندوں میں سے ایک ہیں۔ آپ علماء علوم اہلبیت علیہم السلام کی معروف شخصیات، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے بزرگ صحابہ اور اسرار ائمہ اطہار علیہم السلام کے محارم میں سے ہیں۔اور چونکہ ظاہری طور پر آپ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کے سلسلۂ نسب میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے ساتھ ایک ہی طبقہ میں ہیں لہذا آپ آنحضرت کے اصحاب میں سے بھی ہیں۔ اگرچہ ایک روایت کی بناء پر آپ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے زمانہ کو درک نہیں کیا ہے لیکن یہ قوی احتمال ہے کہ آپ نے آنحضرت کی خدمت کو درک کیا ہے.

اسلام کی اس عظیم شخصیت کے الٰہی اور ہمیشہ باقی رہنے والے کارناموں میں سے ایک اپنے وقت کے امام کی خدمت میں عرض دین کا مسئلہ ہے( یعنی آپ امام کے حضور اپنے دینی عقائد بیان کرتے تھے تا کہ امام عقائد کی تائید و تصحیح فرمائیں)۔ ایک ایسی شخصیت جب ’’عرض دین‘‘ کا اقدام کرے تو اس سے عقائد کی تصحیح کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، چاہے یہ واجب الاعتقاد ہوں یا اس سے بھی زیادہ۔

حضرت عبد العظیم حسنی علیہ السلام جیسی عظیم اور بزرگ شخصیت نے کتاب و سنت کے بارے میں اپنے تمام علم و آگاہی اور کتاب خطب امیر المؤمنین علیہ السلام کی تألیف کے باوجود یہ لازم جانا کہ اپنے وقت کے امام کی خدمت اقدس میں اپنے ان عقائد کو بیان کریں کہ جن کے آپ سو فیصد قطعی و حتمی اور یقینی طور پر معتقد تھے تا کہ امام علیہ السلام ان عقائد کی تصدیق کریں اور آپ اپنے امام علیہ السلام سے ان عقائد کے صحیح ہونے کی تائید دریافت کریں۔ اس رو سے دوسرے لوگوں کو بطریق اولٰی عرض دین جیسے اہم مسئلہ پر زور دینا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ اطمینان کے لئے قرآن و حدیث اور علوم اہبیت علیہم السلام کے علماء (جنہوں نے بزرگوں سے علم حاصل کیا ہے)میں سے کسی ایک عالم کے سامنے نہیں بلکہ متعدد علماء کے سامنے اپنے عقائد بیان کرنے چاہئیں۔

اس کے لئے مکمل تواضع اور عاجزی سے باخبر، مورد اطمینان، صحیح و غلط اور کامل و ناقص میں تشخیص دینے والے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں۔

ہمارے زمانے میں ہم سب اور بالخصوص نوجوان نسل، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے عزیز  اور دیندار طلباء کو عرض دین اور دین شناسی جیسے اہم مسئلہ کی جانب مکمل توجہ کرنی چاہئے یعنی قرآن کریم اور احادیث اہلبیت علیہم السلام کے علماء کی خدمت میں اپنے عقائد بیان کریں اور دین کی تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ تحریف و تأویل، تصرف اور اعمال میں  اپنے ذاتی سلیقوں اور متعدد وجوہات کی بناء پر لوگ دین  کی تعلیمات دے رہے ہیں منجملہ بعض مغرب زدہ افراد عقائد اور دینی تعلیمات دینے میں مشغول ہیں کہ جو خود کو روشن فکر شمار کرتے ہیں اور جن کی اپنی کوئی علمی صلاحیت نہیں ہے لیکن وہ دینی امور کے ماہر بنے بیٹھے ہیں۔ انٹرویو، کانفرنس، تقاریر اور مقالات و مضامین لکھ کر اسلامی اقدار، لوگوں کے عقائد اور شرعی احکام کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ایسا دکھاوا کرتے ہیں کہ روشن فکری کا مطلب ہے کہ کتاب و سنت کے دلائل، دینی اصطلاحات اور صرف قرآن و سنت تک ہی محدود نہ رہا جائے ۔ یہ نام نہاد روشن فکر حضرات متمدن دنیا میں علماء اور فقہاء کی علمی کاوشوں کو ردّ کرتے ہیں اور انہیں موجودہ زمانے کے مشرقی یا مغربی تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھتے نیز وہ بعض شرعی، سماجی اور عدالتی آئین پر اعتراض کرتے ہیں اور عقائد میں بھی اپنی خاص عارفانہ اصطلاحات سے کتاب و سنت کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ المختصر یہ کہ وہ ایسی راہ پر چل رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی یہ راہ و روش جاری رکھی تو وہ بہت سے دینی فرائض کو پامال کر دیں گے۔

انبیاء کا اہم اور عظیم کام یہ تھا کہ انہوں نے خدا کی طرف لوگوں کی تبلیغ کی، انہیں مؤمن بنایا اور انہیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کا پابند بنایا۔یہ ایک ایسا کام تھا جو کسی بھی طبقہ کے برجستہ اور فکری نوابغ انجام نہیں دے پائے اور نہ ہی انجام دے پائیں گے۔

ہر جگہ یہ روشن فکر افراد  ایسی ہی فکر اور ایسی ہی ذہنیت کے مالک ہوں گے اور وہ اس سے خارج نہیں ہیں ۔اور وہ اس بات پر افتخار کرتے ہیں کہ وہ ان تمام یا بعض عقائد پر اعتراض کرکے لوگوں کے اعتقادات کو کم کر رہے ہیں۔ یہ روشن فکر افراد بیگانوں کے حالات اور نظریات سے متأثر ہو کر اپنی فکر سے دین کی تفسیر کرتے ہیں اور اسلام کی بنیادوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں یا پھر ان کا انکار کرتے ہیں۔

افسوس ہے کہ ایسی راہ و روش پر چلنے والے افراد پر دین و مذہب کی طرف مائل ہونے یا  مذہبی ہونے کا لیبل لگا کر پیش کیا جاتا ہے کہ جو اکثر خواتین و حضرات پر اثرانداز  ہوتے ہیں اورجن کی وجہ سے بعض مسلم مذہبی مسائل اور اسلامی فرائض میں شکوک و شبہات اور وسوسہ ایجاد ہوتے ہیں ۔

یہاں یہ بات کہنا بھی ضروری ہے کہ ایسے مقبول، محترم اور مقدس مسائل کی توہین کرنا اور ان میں شکوک و شبہات ایجاد کرنا معاشرے میں شہرت بخش ہے ۔ چونکہ ایسے افراد صحیح طریقہ سے سماج میں اپنا نام نہیں بنا سکتے لہذا وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں اور اس راہ میں جس قدر زیادہ توہین و اہانت کریں، مسلّمات کا انکار کریں اور سماج کی اقدار پر حملہ کریں اتنا ہی ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا ہے اور جو لوگ ان اقدار کو اپنی خواہشات اورمنافع کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں؛ وہ ان کو زیادہ سراہتے ہیں۔

اکثر مغرب زدہ، جدید مسلک کے موجد، مؤلفین و مصنفین اور مقررین کو آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر سمجھتے ہیں کہ جو مقدسات پر حملہ کرتے ہیں، سماجی اعتقادات کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی کھلم کھلا توہین کرتے ہیں۔

مرتد سلمان رشدی کی کتاب ہر قسم کے استدلال اور منطقی و عقلائی اصولوں سے عاری تھی کہ جس میں کسی طرح کا کوئی عاقلانہ ردّ اور حکمت پر مبنی نکتہ نہیں تھا لیکن اس نے ایسے مقامات مقدسہ کی اہانت اور باعظمت شخصیات کی توہین کی کہ جن کا سب احترام کرتے ہیں اور انہیں محترم شمار کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرنے اور اس کی اسی گستاخی کی وجہ سے وہ آزاد خیال، لبرل اور روشن فکر کے عنوان سے مشہور ہو گیا۔ اسلام اور مقدسات اسلام کی توہین کرنے کی وجہ سے استعمار نے اس کی حمایت اور دفاع کیا ورنہ اس کی کتاب میں کسی طرح کی کوئی منطقی و استدلالی بات نہیں ہے۔

ان وجوہات کی بناء پر اگر ہماری جوان نسل ان نام نہاد روشن فکر افراد کے گمراہانہ شر سے محفوظ رہنا چاہتی ہے اور دین اسلام کو اسی پاکیزگی اور اصل و اصیل منابع سے سیکھنا چاہتی ہے کہ جس طرح وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تھا تو اسے چاہے کہ وہ خود ان منابع کی طرف رجوع کرے اور کسی طرح کی تأویل و توجیہ کے بغیر کتاب و سنت کی دلالت کو حجت سمجھے  اور اسلام شناس ( یعنی مکتب اہلبیت علیہم السلام اور ان دو منابع پر غور و فکر اور تجزیہ و تحلیل کے ذریعہ اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے ) افراد کی طرف رجوع کرے۔ ان ہستیوں کو سب لوگ جانتے اور پہنچانتے ہیں۔ اور وہ شخصیات ابوذر، مقداد، سلمان، سلیم، محمد بن مسلم، ابن ابی عمیر، فضل بن شاذان، ابن بابویہ، کلینی، شیخ طوسی، ان کے شاگرد، ان کے شاگردوں کے شاگرد اور عصر حاضر میں علماء و فقہاء اور مراجع کرام ہیں۔ یہ وہ علماء ہیں جنہوں نے مختلف زمانوں میں اصل اور اصیل منابع سے اسلام اخذ کیا اور آئندہ نسلوں کے سپرد کیا ہے۔ اگر یہ بااخلاص شخصیات نہ ہوتیں تو کوئی دوسرا طبقہ اس امانت کی حفاظت کے لئے کھڑا نہ ہوتا اور اصطلاح عارفانہ، مختلف افکار اور صوفیانی نظریات کے شور شرابے اور ہنگامے میں کوئی چیز ثابت اور خالص نہ رہتی اور نہ ہی اسلامی اعتقادات کے مبانی تحریف کے ضرر سے محفوظ  رہ پاتے۔

موضوع: 
سه شنبه / 14 دی / 1395
درسی که از حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام باید آموخت:
لزوم عرض کالای عقیدتی به دین شناسان
(گفتاری از مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی گلپایگانی بمناسبت میلاد حضرت عبدالعظیم حسنی علیه‌السلام)

 

ابوالقاسم عبدالعظيم بن عبدالله بن علي بن الحسن بن زيد بن السبط الاكبر الامام ابي محمد الحسن المجتبي عليه‌الصلوة و السلام یكي از اعاظم ذرّيه‌ی رسول و فرزندان مرتضي و بتول صلوات الله عليهم‌ اجمعين و از شخصيت‎ها و معاريف علماي اهل‎بيت و بزرگان صحابه‌ی حضرت جواد و حضرت هادي عليهماالسلام و محارم اسرار ائمه عليهم‌السلام است و علي‎الظاهر چون با حضرت رضا عليه‌السلام در سلسله‌ی نسب به حضرت اميرالمؤمنين و حضرت زهرا عليهماالسلام در يك طبقه بوده، از اصحاب آن حضرت نيز بوده است و اگر چه برحسب روايتي، عصر امامت امام عسكري عليه‌السلام را درك نكرده است، ولي احتمال اينكه درك خدمت آن حضرت را كرده باشد قوي است.

یکی از کارهای الهی و ماندگار این شخصیت عظیم اسلام، مسأله عرض دین او بر امام زمان خود است. از اينكه چنين شخصيتي در مقام عرض دين خود برآمده است، اهميت تصحيح عقايد، اعم از آنچه واجب‎الاعتقاد يا فراتر و بيشتر از آن است، معلوم مي‎شود.

در موقفي كه بزرگواري، مثل حضرت عبدالعظيم حسني عليه‌السلام با آن همه علم و آگاهي از كتاب، سنّت و تأليف كتاب خطب اميرالمؤمنين عليه‌السلام و با عقايدي كه صددرصد و به يقين جزمي و قطعي به آنها معتقد بوده است، باز لازم مي‎داند كه اين عقايد را حضور مبارك امام عرضه بدارد تا از امام عليه‌السلام تصديق و امضاي صحّت آنها را دريافت نمايد، ديگران به طريق اولي بايد به عرض دين خود مبادرت كنند و براي اطمينان بيشتر و نه فقط به يك نفر بلكه به اشخاص متعدد از رجال عالم به قرآن، حديث و معارف اهل‎بيت عليهم‌السلام و آنهايي كه علمشان را از آن بزرگواران گرفته‌اند‎، عرضه بدارند‎.

در اين ميدان بايد با كمال تواضع و فروتني كالاي عقيدتي خود را به عرض خبرگان مورد اعتقاد و عالم به صحيح و ناصحيح و كامل و ناقص آن برسانيم.

در عصر ما مسأله عرض دين به دين‌شناسانى كه دين را از قرآن كريم و احاديث اهل بيت‌عليهم السلام شناخته‌اند، مسأله‌اى است كه بايد همگان مخصوصاً نسل جوان و دانشجويان عزيز و دانشگاهيان متعهّد و متديّن به آن توجّه كامل داشته باشند؛ زيرا دست تحريف و تأويل و تصرّف و اعمال سليقه‌هاى شخصى به علل متعدد از جمله غرب‌زدگى از سوى معدودى كه به اصطلاح خود را روشنفكر مى‌شمارند به سوى عقايد و تعاليم دينى دراز شده و اشخاص فاقد صلاحيت‌هاى علمى به صورت كارشناس امور دينى و طالب فرم در قالب مصاحبه و ميزگرد و سخنرانى و نوشتن مقاله، ارزش‌هاى اسلام و التزامات مردم را به عقايد و احكام شرعى هدف قرار داده و چنان وانمود مى‌كنند كه روشنفكرى، عدم تعهّد به مداليل كتاب و سنت و اصطلاحات دينى و محدودنبودن در چهارچوب كتاب و سنّت است و به گمان خود، روشنفكرانه دريافت‌هاى علما و فقها را در امتداد قرن‌هاى متمادى تخطئه نموده و بسيارى از احكام الهى را با مزاج عصرى كه ساخته غرب يا شرق است مناسب نمى‌دانند و برخی برنامه‌هاى شرعى و نظامات جزائى و اجتماعى و غيرها را زير سؤال برده و در عقايد نيز با افكار به اصطلاح عارفانه اى كتاب و سنّت را تعريف و توصيف مى‌نمايند و خلاصه راهى مى‌روند كه اگر ادامه يابد التزامات دينى بسيارى را سست مى‌نمايد.

كار مهمّ و بزرگ انبيا اين بود كه مردم را به برنامه‌هائى كه از سوى خدا تبليغ كردند، مؤمن ساخته و آنها را به عمل به اين تعاليم وجداناً متعهّد نمودند؛ كارى كه از هيچ يك از قشرهاى به اصطلاح برجسته و نوابغ فكرى برنيامده و برنخواهد آمد.

اين افراد به اصطلاح روشنفكر هركجا پيدا شدند با اين ايمان برخورد دارند و خارج بر آن هستند و به اين افتخار مى‌كنند كه در تمام يا بعض از اين باورها خدشه نمايند و تعهّد مردم را كم كنند و دين را طبق انديشه خودشان، كه متأثر از اوضاع و احوال بيگانگان است، تفسير نموده و اصالت‌هاى اسلامى را مورد ترديد يا انكار قرار دهند.

متأسفانه اين روش‌ها كه به صورت گرايش به دين و مذهب و مذهبى‌بودن ابراز مى‌شود كم و بيش در زن و مرد اثر گذارده و يك وسوسه در بعض مسائل مسلم مذهبى و تعهدات اسلامى در بعضى ديده مى‌شود.

ناگفته نماند كه طبع اين‌گونه برخوردهاى ترديدانگيز يا توهين‌آميز با مسائل مقبوله و مورد احترام و تقديس جامعه شهرت‌بخش است و افرادى كه مى‌خواهند اسم و آوازه‌اى بدست بياورند و از راه‌هاى صحيح عاجزند، اين راه را پيش مى‌گيرند، و هر چه در اين راه هتّاكى بيشتر نشان داده شود و بى‌پرده و صريح‌تر انكار و اهانت شود و به ارزش‌هاى جامعه تندتر حمله كنند، بيشتر موجب شهرت مى‌شود و عده‌اى هم كه آن ارزش‌ها را معارض با هواها و منافع خود مى‌دانند، بيشتر از آن استقبال مى‌كنند.

بسيارى از غرب‌زده‌ها و متجدّد مسلك‌ها، نويسنده و گوينده‌اى را آزادانديش و روشنفكر مى‌دانند كه در حمله به مقدّسات و باورهاى جامعه و مسخره‌كردن آنها بى‌پروا و گستاخ باشد.

كتاب سلمان رشدى مرتد، كه عارى از هرگونه استدلال و برداشت منطقى و معقول بود و حاوى هيچ نكته و ردّ و ايراد خردپسند نبود، تنها به علّت گستاخى مفرط و اهانت به مقامات مقدسه و شخصيت‌هايى كه همه از آنها احترام مى‌كنند و حريم قداست آنها را محترم مى‌شمارند، در محافلى كه حدّ و حدودى براى آزادى اشخاص قائل نيستند، روشنفكرانه و آزاد انديشانه تلقّى شد، و از رهگذر هتك اين قداست‌ها و اهانت به مقدّسات مسلمانان مشهور گرديد، و استعمار هم براى همين اهانت او به اسلام از او حمايت و دفاع كرد و گرنه كتاب فاقد محتواى منطقى و استدلالى است.

به اين جهات، نسل جوان ما اگر بخواهد از شرّ اضلال اين روشنفكرهاى اسمى در امان بماند و دين راستين اسلام را پاك و همان طور كه نازل بر پيامبر اكرم‌صلى الله عليه وآله شده است از منابع اصيله و اصليه فرا بگيرد، بايد يا شخصاً مراجعه به اين منابع نمايد و بدون تأويل و توجيه، دلالت كتاب و سنّت را حجت بداند، و يا به اسلام‌شناسان ـ يعنى آنها كه در مكتب اهل بيت‌عليهم السلام و با غور و بررسى در اين دو منبع اسلام را آموخته‌اند ـ رجوع نمايد. اينان را همه مى‌شناسند. ابوذرها و مقدادها و سلمان و سليم‌ها و محمدبن‌مسلم‌ها و ابن ابى عمير و فضل بن شاذان و ابن بابويه‌ها و كلينى‌ها و شيخ طوسى‌ها و شاگردان آنها و شاگردان شاگردانشان تا زمان حاضر از علما و فقها و مراجع مى‌باشند؛ اين قشر از علماء هستند كه در اعصار و ادوار متمادى اسلام را از منابع اصيل و أصل اخذ كرده و يداً بيد به اخلاف سپرده‌اند؛ و اگر اين رجال با اخلاص نبودند از قشرهاى ديگر حفظ اين امانت بر نمى‌آمد و در غوغاهاى بحث‌هاى به اصطلاح عارفانه و افكار و سخنان صوفيانه اين و آن، نه چيزى ثابت و خالص باقى مانده بود و نه مبانى اعتقادى اسلامى از گزند تحريف و تأويل مصون مى‌ماند.

موضوع: 
امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا
امام صادق علیه السلام کی علمی تحریک سے مبہوت دنیا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کے نوشتہ جات

بسم الله الرحمن ارحیم

حضرت امام صادق علیہ السلام نے دوسری صدی ہجری کے پہلے حصہ میں ایک ایسے مدرسہ کا افتتاح کیاکہ جس کا اس زمانے تک اسلام میں اس کا کوئی سابقہ نہیں تھا اور اس کے بعد بھی اس جیسے مدرسہ کی کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ وہ امام صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ہی تھا؛ جس نے دنیا کو علوم قرآن، فقہ، کلام، کیمیا وغیرہ کے عظیم علماء سے نوازا۔

شیعہ فقہ کہ جس کے ضمن میں ہزاروں قانونی و تعلیمی شقیں ہیں نیز اس میں علمی اسلامی اخلاق کے آئین ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر یا تقریباً تمام موارد میں امام صادق علیہ السلام کے بے پایان علوم کے مقروض ہیں۔

حج جیسے احکام میں (جو اسلام کے عظیم ترین فرائض میں سے ہے اور جس کے فلسفہ کے ضمن میں اعلٰی حکمتیں موجود ہیں)دنیائے اسلام امام صادق علیہ السلام کے بحر العلوم سے مسیفیض ہوئی اور ابو حنیفہ کے بقول یہ سب امام جعفر صادق علیہ السلام کے طفیل ہیں۔ اہلسنت کی کتابوں میں سے صحیح مسلم میں امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث روایت ہوئی ہے کہ  جس سے احکام حج کی چارسوشقیں مأخوذ کی گئی ہیں  اور اہلسنت اس کی پیروی کرتے ہیں۔

جی ہاں!اس زمانے میں اسلامی ممالک کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام کو بہترین فرصت میسر آئی کہ آپ سب سے بڑی علمی نہضت کی قیادت فرمائیں اور ایک ایسے مدرسہ کا قیام عمل میں لائیں کہ جس میں اسلام کے سب سے مشہور و معروف علماء  آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے ہوئے احادیث اخذ کریں اورآپ سےتعلیم حاصل کریں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے علوم تمام ممالک اور اسلام کے تمام علمی حلقوں پر محیط تھے۔ عراق، حجاز، خراسان اور شام کے علماء نے آپ سے علم حاصل کیا۔ علمی مشکلات اور اسلامی مسائل کے حل کے لئے صرف امام صادق علیہ السلام ہی حلال مشکلات تھے۔

جو بات زیادہ قابل غور ہے، وہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام  کی رہبری و قیادت اسلامی علوم میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ مختلف قسم کے علوم جیسے علم نجوم، علم ہیئت، ریاضی، طب، تشریح، معرفۃ النفس، کیمیا، علم نباتات اور دوسرے علوم میں بھی آپ نے شاگردوں کی تربیت کی کہ جو ان علوم میں مشہور و معروف اور اپنی مثال آپ  ہیں۔صفحۂ تاریخ میں باقی رہ جانے والی آپ کی کتابیں، مضامین و مقالات اور احادیث مسلمانوں کی کتابوں کو زینت بخشتی ہیں، جیسے کتاب ’’توحید مفضل‘‘، رسالۂ  اہلیلجہ، ملحدین کے ساتھ آپ کے مناظرہ۔یہ سب اس بات کے شاہد ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا مدرسہ و مکتب ایک یونیورسٹی کی مانند تھا کہ جس میں مختلف علوم کے شعبہ جات تأسیس ہوئے  اور ہر شعبہ نے اپنے مخصوص علوم کے متعلق درس،مباحثہ اور تحقیق پر کام کیا۔

 

مثال کے طور پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جو علوم مسلّم طور پر تدریس فرمائے ان میں سے ایک علیم کیمیا تھا اور آنحضرت کی عظیم الشأن یونیورسٹی سے جابر بن حیان جیسے غیر معمولی شاگرد فارغ التحصیل ہوئے ۔ اگر ہم جابر بن حیان کے زمانے سے اب تک صرف انہی نتائج کے بارے میں تحقیق و جستجو  اور علمی بحث کرتے اور ان سے استفادہ کرتے جو اس شخصیت نے امام صادق علیہ السلام حاصل کئے  اور اسی طرح اگر ہم نے ایسے دوسرے علوم حاصل کئے ہوتے کہ جن کی آج کے متمدن  اور ترقی یافتہ سماج کو ضرورت ہے تو ہم مادی دنیا میں بھی مغرب ،یورپ اور امریکہ کے محتاج نہ ہوتے کیونکہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اسلام اور اس کے عالی اصولوں اور علماء کی کوششوں کی برکات کا نتیجہ ہے۔

 

امام صادق علیہ السلام کے شاگرد اسلامی علوم، طب، تشریح، علم نجوم، علم ہیئت، علم فلکیات، ماحولیات، طبیعیات، ریاضیات، کیمیا، فلسفہ، منطق، اخلاق، تاریخ، ادب، شعر، معرفۃ الحیوان، علم نباتیات،اسلحہ سازی کی صنعت اور ان کے علاوہ دوسرے علوم کے ماہر تھے۔

جابر بن حیان وہی شخص ہے کہ جس نے سب سے پہلے علمی تجربات، اشیاء کی مقدار کو معین کرنے کے لئے میزان استعمال کئے اور انہوں نے ایسی چھوٹی چھوٹی مقداروں کو معین کیا کہ جنہیں ہمارے زمانے میں حساس اور دقیق میزان کے بغیر معین نہیں کر سکتے اور چھ سو سال بعد یورپ میں کیمیا کے علماء نے اپنے تجربات میں ان میزان سے استفادہ کیا۔

یہ وہی دانشور ہے جس نے  دو عناصر کے درمیان اتحاد کے متعلق برطانیہ کے مشہور ماہر طبیعیات، ماہر کیمیا اور طبیعت شناس جان ڈالٹن(Jon Dalton) کے نظریہ کو  اپنی کتاب (المعرفة بالصفة الالهیة و الحکمة الفلسفیة)دس صدیاں پہلے واضح طور پر بیان کیا ہے اور اس نظریہ کو وضع کرنے والے ’’جابر بن حیان‘‘ ہیں نہ کہ ’’جان ڈالٹن‘‘۔

 

جی ہاں! حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے وہی جابر بن حیان ہیں کہ جن کے کارناموں میں سے  ایک کارنامہ  ( جو ان کی علمی و فکری مہارت و استعداد اور صلاحیت کو ثابت کرتا ہے) (Optical pencil) کی ایجاد ہے جس کی تحریر کو تاریکی میں پڑھا جا سکتا ہے، اہمیت کی حامل کتابوں کو لکھنے کے لئے اسی سے استفادہ کیا جاتا ہے۔

اس مکتب کا ہر شاگر انفرادی طور پر بھی اس عظیم مکتب کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ صرف شیعہ دانشور ہی اس مدرسہ اور یونیورسٹی کی عظمت کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ مکتب اہلبیت علیہم السلام کی مخالفت کرنے والے بڑے بڑے دانشوروں نے بھی اس مدرسہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور سب نے امام صادق علیہ السلام کے اعلم و افقہ اور برحق ہونے کو بیان کیا ہے۔ حنفیوں کے امام ’’ابوحنیفہ‘‘ کہتے ہیں: «مَا رَأَیْتُ أفقَه مِنْ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّد؛ میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا »

نجاشی نے اپنی کتاب رجال میں احمد بن عیسای اشعری سے نقل کیا ہے  کہ وہ کہتے ہیں:میں علم حدیث کی طلب میں کوفہ گیا  اور وہاں حسن بن علی وشا کی خدمت میں پہنچا اور ان سے کہا: مجھے علاء بن زرین اور ابان بن عثمان احمر کی کتاب دیں تا کہ میں اس سے نسخہ تحریر کروں۔ انہوں نے مجھے وہ دونوں کتابیں دیں۔

 میں نے  کہا: روایت کی اجازت بھی دے دیں۔

 فرمایا: خدا تم پر رحمت کرے ، تمہیں کس قدر جلدی ہے ، انہیں لے جاؤ اور لکھو اور پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ اور مجھے سناؤ تا کہ میں سنوں اور اس کے بعد تمہیں روایت کی اجازت دوں گا۔

میں نے کہا: میں  آئندہ زمانے کے واقعات سے مطمئن نہیں ہوں۔

حسن بن وشا نے کہا: حیرت ہے! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ حدیث کے ایسے چاہنے والے ہیں تو میں اس سے زیادہ جمع کرتا۔ میں نے مسجد کوفہ میں ۹۰۰ شیوخ کو درک کیا اور سب کے سب یہ کہتے تھے: مجھ سے جعفر بن محمد نے حدیث بیان کی ہے۔

واقعاً یہ کیسا عظیم مدرسہ اور یونیورسٹی تھی کہ جس نے موافقین اور مخالفین سبھی کو حیرت و تعجب میں مبتلا کر دیا اور زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بارہا فرماتے تھے:میری عترت اور میری اہلبیت  انہی مقامات اور علوم و درجات کے لئے تھی  کہ جس کے یہ اہل ہیں۔ لیکن افسوس کہ سیاست کی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام کی طرف رجوع کرنے کو ترک کر دیا گیا یہاں تک کہ بخاری جیسے شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بھی روایت نقل نہیں کی اور شاعر کے بقول:

قَضِیَّةٌ أشْبَهَ بِالمرْزِئَةِ * هذا البُخاریّ إمامُ الفِئَةِ

بِالصَّادِقِ الصِّدِّیقِ ما إحتجَ فی * صَحیحِهِ وَ احتجّ بِالمرجِئَة

إنَّ الإمَامَ الصَّادِقَ المجْتَبی * بِفَضْلِهِ الآی أتَت منبئة

أجَلّ مِنْ فی عَصْرِه رُتْبَة * لم یَقْتَرِفْ فی عُمْرِه سَیِّئَة

قَلامة مِنْ ظفر إبهَامِه * تَعْدِلُ مِنْ مِثْلِ البُخاری مِئَة

اس مکتب، قیمتی خزانے اور ان معارف کی قدر کریں اور سب اس مدرسہ و مکتب اور یونیورسٹی میں زانوئے ادب تہہ کریں اور امام جعفر و صادق علیہ السلام کی ولادت کے پرمسرت ایّام میں کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں منائیں اور اس امام برحق کی نورانی تعلیمات سیکھیں اور سکھائیں ۔

 

موضوع: 
... و راه او بشریت را نجات می دهد
(نوشتار مرجع عالیقدر آيت الله العظمي صافي گلپایگانی بمناسبت خجسته ميلاد پیامبر اعظم صلی الله علیه و آله و سلم)

ﺳﺨﻦ ﺑﻪ ذﮐﺮ ﺗﻮ آراﺳﺘﻦ ﻣﺮاد اين است * ﮐﻪ ﭘﯿﺶ اهل هنر ﻣﻨﺼﺒﻲ ﺑﻮد ﻣﺎ را

و ﮔﺮ ﻧﻪ ﻣﻨﻘﺒﺖ آﻓﺘﺎب ﻣﻌﻠﻮم است * ﭼﻪ ﺣﺎﺟﺘﺴﺖ ﺑﻪ ﻣﺸّﺎطه روي زﻳﺒﺎ را

سخن گفتن از شخصيت با عظمت و والايي که از سوي مسلمان و غيرمسلمان, صدها هزار کتاب و خطابه و مقاله و قصيده و رساله درباره او نگاشته شده و عالي‌ترين معارف و فرهنگ، و انساني‌ترين تعليمات اجتماعي و سياسي و اخلاقي و اقتصادي را به بشر عطا کرده، خلاف ادب است. ما چه مي‌توانيم بگوييم و بنويسيم که درخور کمالي از کمالات عظيم آن برگزيده خدا باشد؟ پس چاره‌اي نداريم جز آن که سر خجلت به‌زير اندازيم و از هرچه گفته‌ايم يا مي‌گوييم عذرخواهي نماييم.

البته اگر هم سخني مي‌گوييم، نه براي اين است که ذرّه‌وار، خورشيد جهانتاب را مدح کنيم يا قطره‌سان، عظمت اقيانوس‌ها را وصف نماييم که در برابر خورشيد وجود و اقيانوس فضايل و کمالاتش از ذرّه و قطره هم کمتريم، بلکه براي اين است که از اين رهگذر، هم کسب ثوابي مي‌کنيم و هم از ياد آن حضرت لذّت مي‌بريم و ضمير خود را روشن مي‌سازيم و قلوبمان را جلا مي‌دهيم. لذا براي موفّقيت خويش از نام بردن آن حضرت و صلواتْ فرستادن بر او و توصيف و تعظيم او در هر فرصت و هرمناسبت خودداري نمي‌کنيم.

دانشمندان، نویسندگان و شعرای هر دین و مذهبی نیز هم کلام با همه دنیا این قهرمان عظمت ها را ستوده و جبهه مسکنت از وصف آن حضرت، بر زمین ساییده اند که چند نمونه ای از آن را از باب قطره ای از اقیانوسی بیکران تقدیم خواهیم کرد:

از جمله شعراي عجم كه در مدح حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله شعر سروده‌اند، سروش اصفهاني ملقّب به شمس الشعرا است كه در ديوان شعر خود دارد:

امروز فسرد آزر برزين * كردند براق مَحْمِدَت را زين

امروز بهشتيان به استبرق * بستند بهشت عدل را آذين

امروز بُوَد فرشتگان را سور * و اهريمن، سوگوار و اندوهگين

امروز شكست صفه كسري * و آمد به جهان يكي درست آيين

امروز به گلْستان دين بشكفت * شمشاد و گل و بنفشه و نسرين

سالار پيامبران ابوالقاسم * آن كرده خطاب، ايزدش ياسين

چون شعله كشد جحيم آتش را * حب وي و آل وي دهد تسكين

بر جنّ و بشر پيمبر مرسل * نسرشته خداي، بوالبشر را طين

خورده است خدا به موي او سوگند * كرده است خدا به روي او تحسين

از چرخ گذشته با چه؟ با جامه‌ * بر عرش نشسته با چه؟ با نعلين

مخذول نفاق او بود پرويز‌ * مسمار سم براق او پروين

نفرين ‌كردند انبيا بر قوم * چون نوح و چو هود و صاحب يقطين

آزار ز انبيا فزون‌تر ديد * از قوم، و نكرد قوم را نفرين

از فرش به عرش رفت و باز آمد * جنبنده هنوز حلقه زلفين

اسرار دو كون در شب معراج * بي‌واسطه كرد حق بدو تلقين

طبع من و صد هزار همچون من * از منقبتش مقصر و مسكين

و شعراي عرب هم در مدح آن حضرت و مناقب و فضايل بیکران ایشان بسيار شعر و نثر سروده و نوشته‌اند، به طور مثال شاعر عرب احمد الشوقي در سروده‌ي خود مي‌گويد:

ولد الهدى فالكائنات ضياء * و فم الزمان تبسم و ثناء

الروح و الملأ الملائك حوله * للدّين والدّنيا به بشراء

والعرش يزهو والحظيرة تزدهي * و المنتهى والسدرة العصماء

تا آنجا كه مي‌گويد:

بك بشّر الله السماء فزينت * و تضوّعت مسكاً بك الغبراء

يوم يتيه على الزمان صباحه * ومساؤه بمحمد وضاء(1)

اين‌ها نمونه‌اي از اشعار در وصف و مدح حضرت ختمي مرتبت است، ولي هر چه كه ما بگوييم و ديگران اعتراف كنند قرآن از همه بالاتر است:

«لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ.»(2)

اصلاً راجع به شخصيت حضرت رسول صلي الله عليه و آله ما نمي‌توانيم حرف بزنيم. انسان مبهوت مي‌شود، آن‌هايي هم كه خيلي بالا هستند مبهوت مي‌شوند.

بايد مثل اميرالمؤمنين عليه الصلوة و السلام، پيغمبر را وصف كند. اگر مي‌خواهيد وصف آن حضرت را ببينيد، بايد آن خطبه شريفه اميرالمؤمنين عليه السلام در نهج البلاغة را ملاحظه كنيد كه مي‌فرمايد:

«إِنَّ اللهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّداً نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ وَ أَمِيناً عَلَى‏ التَّنْزِيلِ‏ وَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَ حَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ الْأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ الْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَة»(3)

يا در جاي ديگري از نهج البلاغه شريف مي‌فرمايد: «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ وَ أَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ وَ مَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ وَ نَصَحَ لِلْخَلْقِ‏ وَ هَدَى إِلَى‏ الرُّشْدِ وَ أَمَرَ بِالْقَصْدِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّم‏.»(4)

خلاصه اين‌كه در اطراف شخصيت پيغمبر صلوات الله عليه و آله اگر هر روز بگوييم باز هم تمام نمي‌شود. حتي بيگانگان و خاورشناسان هم در مقابل عظمت‌هاي وجود پيغمبر ناچار به اعتراف شده‌اند:

توماس كارلايل در كتاب الأبطال كه ترجمه آن به نام قهرمانان منتشر شده است، از هر صنفي، قهرمان و بطل آن صنف، يعني كسي كه در آن صنف موفق بوده است را نام مي‌برد، مثل البطل في صورة القائد، البطل في صوره الشاعر. در جايي مي‌گويد: البطل في صورة النبي، قهرمان پيغمبران. در آنجا نه حضرت موسي را مي‌گويد و نه حضرت عيسي، و نه حضرت ابراهيم را، بلكه مي‌گويد: بطل و قهرمان در نبوت و پيغمبري، محمد است.

و یا چه نيكو سروده است آن مرد مادّي، «شبلي شميّل»، در قصيده‎اي كه در مدح آن حضرت سروده است:

من دونه الأبطال في كلّ الوري * من حاضر أو غائب أو آت؛ تمام مردان بزرگ دنيا و قهرمانان گذشته و حال و آينده مقامشان و شأنشان و شخصيّتشان مادون مقام اعلاي محمّد صلي الله عليه و آله است.

آري، حقيقت همين است كه در ميان قهرمانان بزرگ تاريخ آن كه به حق در همه فضيلت ها و ارزش‌هاي اسلامي قهرمان است محمّد است، و آن كه در بين صاحبان رسالت‌هاي آسماني موفّق‎تر و ممتازتر و عاليقدرتر است و يا به قول «توماس كارلايل» قهرمان در صورتِ پيغمبر است، محمّد ‎است.

مسيحي منصف و دانشمند ديگري ضمن قصيده‎اي در مدح آن حضرت، گفته است:

انى مسيـــحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا؛ من مسيـحي هستم و محمّد را تجليل مي‌كنم و او را سرآغاز کتاب علوّ و بلندي مقام مي‌دانم.

جورج برنارد شاو مي‎گويد: «واجب است محمّد نجات‎دهنده انسانيّت خوانده شود. من عقيده دارم اگر مردي مانند او رهبري عالم جديد را عهده‎دار شود، در حلّ مشكلات و دشواري‌هاي كنوني به‎طوري كه تمام مردم عالم در سعادت و صلح و سازش زندگي كنند، پيروز و موفّق مي‎شود. محمّد كامل‎ترين افراد بشر است از گذشتگان و معاصران، و همانند او در آيندگان نيز تصوّر ‎نمي‎شود». (5)

و همو به نقل از روزنامه لايف چاپ انگلستان مي‎گويد: «بزرگ‎ترين و مهم‎ترين تعاليم يك مذهب، اصل كمك به بشر است كه او را به سوي زندگي بهتر سوق‎ دهد. هر مذهبي كه داراي اين اصل و افكار نباشد بايد متروك شود».

مشارٌ‎اليه دلايلي را كه اسلام و فقط اسلام مي‎تواند وسايل نيل بشر اين دوره را به مقصود اصلي فراهم‎ سازد شرح مي‎دهد و مي‎گويد: «اگر انسان همان انساني است كه حقّاً بايستي مظهر خدا باشد، بايد از لحاظ مزبور تعاليم اسلامي را پيش روي خود قرار‎دهد‎... ‎. اسلام هميشه به قدر كافي قوي بوده و اساس و شالوده خود را حفظ نموده و تا امروز نيز همين‎طور است و خواهد ‎بود».

برنارد شاو اضافه مي‎كند: «هر قدر كه دنيا در ترقّي پيشرفت كند و به هر اندازه كه بشر به ذروه حكمت و فلسفه ارتقا جويد، باز مذهب اسلام جلوتر است».

در پايان اين مقاله مفصّل آمده است: «برنارد شاو اذعان مي‎كند كه دنيا عموماً و انگلستان خصوصاً بايستي اسلام يا آيين و تعاليم شبيه به آن را براي نجات خود انتخاب كنند و خواهي ‎نخواهي به آن بگروند».

در ميان دانشمندان و علماي بيگانه امثال برنارد شاو بسيارند كه اين حقايق را تحقيق و تصديق كرده‎اند.

معلوم است كه با این همه اعتراف و سخن درباره بزرگ شخصیت جهان بشریت, مسلمانان بايد چقدر حق شناس زحمات و هدايت‌ها و راهنمايي‌هاي آن حضرت باشند.

امّيد است در اين عصر، مسلمانان آگاه و فداكار، خصوصاً نسل جوان، رسالت اسلام را به مردم دنيا برسانند و تمام نقاط را به انوار هدايت آن متصل سازند و اعصار طلايي ايمان و عمل را متعهّدانه تجديد نمايند.


پي نوشت ها:

1. اين شعر در الشوقيات احمد الشوقي چاپ دار الشروق مصر آمده است.

2. آل عمران؛ آيه164.

3. نهج البلاغة؛ خطبه26.

4. نهج البلاغة؛ خطبه195.

5. روزنامه الجمهوريه چاپ مصر شماره 14 مه 1970.

 

 

 

موضوع: 
جهانی مبهوت از نهضت علمی امام صادق علیه السلام
جهانی مبهوت از نهضت علمی امام صادق (ع)
(یادداشت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی به مناسبت میلاد امام جعفر صادق علیه‌السّلام)

امام جعفر صادق علیه السلام در نیمه اول قرن دوم هجری، مدرسه‌ای افتتاح فرمود كه در تا آن زمان در اسلام ‌سابقه نداشت، و پس از آن عصر نیز نظیر آن دیده نشد؛ این مكتب و مدرسه آن حضرت بود كه بزرگترین علمای علوم قرآن و فقه و كلام و شیمی و غیره را به دنیا تحویل داد.

فقه شیعه كه متضمّن هزارها ماده قانونی و تعلیمی، و برنامه‌ای عملی و اخلاقی اسلامی است در بیشتر و بلكه تقریباً در تمام موارد، مدیون علوم بی‌پایان امام صادق علیه السلام است.

در مثل احكام حج كه یكی از بزرگترین فرائض اسلام، و متضمّن فلسفه‌های عالی و با ارج است، دنیای اسلام از دریای علوم امام صادق علیه‌السلام مستفیض است و به قول ابوحنیفه، همه، عائله امام جعفر صادق اند، و حدیثی در صحیح مسلم از كتب اهل سنّت از آن حضرت روایت شده است كه مأخذ حدود چهارصد مادّه راجع به احكام حجّ ‌است كه اهل سنّت از آن پیروی می‌نمایند.

آری! در اوضاع و احوال سیاسی كشورهای اسلامی در آن زمان، حضرت صادق علیه السلام مجال و فرصتی مهم یافت تا بزرگ‌ترین نهضت‌ علمی را رهبری فرماید و مدرسه‌ای افتتاح كند كه معروف‌ترین علماء اسلام در آن تلمّذ و شاگردی كرده و اخذ حدیث و علم نمایند.

صیت علوم حضرت امام جعفر صادق علیه‌السلام، بلاد و مجامع علمی اسلامی را فرا گرفت و علماء عراق و حجاز و خراسان و شام از ایشان اخذ علم نموده و در مشكلات علمی و معضلات مسائل اسلامی تنها آن حضرت حلال مشكلات و دفاع معضلات بود.

آنچه كه بیشتر شایان توجه و تأمل است این است كه رهبری آن حضرت در علوم اسلامی منحصر نیست بلكه در سایر دانش‌های متنوعه مانند نجوم و هیئت و ریاضی و طب و تشریح و معرفة النفس و شیمی و نبات‌شناسی و علوم دیگر از این قبیل نیز شاگردانی تربیت كرد كه در این فنون معروف و مشهورند و همان مقالات و احادیث و كتاب‌هایی كه از ایشان در صفحه روزگار باقی مانده و زینت‌بخش كتب مسلمین است، مانند توحید مفضل و رساله اهلیلجه و مباحثات آن حضرت با ملاحده، همه و همه شاهد این گفتار است كه مكتب حضرت مانند یك دانشگاهی بود كه دانشكده‌های عمده در علوم مختلفه در آن تأسیس شده باشد و در هر مكتب و دانشكده مباحثه و درس و تحقیق راجع به علم خصوصی تعقیب و دنبال شود.

به طور مثال، یكی از علومی كه مسلماً حضرت صادق علیه‌السّلام تدریس نموده و عنایت به آن داشته‌اند علم شیمی بوده كه از آن دانشگاه بزرگ، مردی نابغه به نام جابر بن حیان فارغ التحصیل شد كه اگر از زمان جابرین حیان تا حال دنبال نتایج استفاده‌های این مرد را از امام ششم و فحص‌ها و تحقیقات و بحث‌های علمی او را گرفته بودیم و به علوم دیگر كه مورد نیاز جوامع متمدّن و پیشرفته است اهمیت داده بودیم، امروز در میدان مدنیت مادی، به غرب و اروپا و آمریكا كه هرچه دارند از دولت سر اسلام و اصول عالیه آن و از بركات مساعی علماء مسلمین دارند محتاج نمی‌شدیم.

همان شاگردی كه در اكثر علوم اسلامی و طب و تشریح و نجوم و هیئت و فلكیات و محیطی و طبیعی و ریاضیات و شیمی و فلسفه و منطق و اخلاق و تاریخ و ادب و شعر و معرفة الحیوان و نبات شناسی و مرآیا و صنعت اسلحه‌سازی و غیرها عالم و متبحر بوده است.

همو كه نخستین كسی است كه برای تجارب علمی و تعیین مقادیر اشیاء كه مورد تجربه او بود، میزان استعمال كرد، و مقادیر صغیره‌ای را كه در عصر ما جز با میزان‌های حساس و دقیق نمی‌توان سنجید، معین نمود، و بعد از ششصد سال در اروپا، علماء شیمی در تجارب خود از میزان استفاده كردند.

همان دانشمندی كه پیش از ده قرن نظریه مشهور جون دالتون فیزیك‌دان و شیمیست و طبیعت‌شناس انگلیسی را راجع به اتحاد بین دو عنصر در كتاب خود به نام (المعرفة بالصفة الالهیة و الحكمة الفلسفیة) صریحاً اعلام كرده است كه افتخار وضع این نظریه نصیب جابر است نه «جون دالتون»

آری! یكی از شاگردان امام صادق علیه السلام همان جابر بن حیان است كه یكی از كارهای بزرگ او كه نبوغ فكری و علمی او را ثابت می‌كند، اختراع مداد نوری برای امكان قرائت در تاریكی است كه در كتابت كتب مهم و با ارزش از آن استفاده می‌شد.

غرض آن كه هر كدام از شاگردان این مكتب خود به تنهایی، دلالت بر عظمت بی منتهای این مكتب می كنند و البته این مدرسه و دانشگاه بزرگ، نه تنها دانشمندان شیعه بلكه دانشمندان بزرگ از مخالفان مكتب اهل بیت علیهم السلام، را به اعتراف واداشته و همه به صراحت، اعلم‌ و افقه‌بودن آن امام به حق ناطق را بیان كردند: ابوحنیفه رئیس احناف می‌گوید: «مَا رَأَیتُ أفقَه مِنْ جَعْفَر بْنِ مُحَمَّد؛ من فقیه‌تر از جعفر بن محمد ندیده‌ام.»

یا این‌كه نجاشى در رجال خود از احمد بن عیساى اشعرى نقل كرده كه می‌گوید: «من در طلب علم حدیث به كوفه رفتم و در آنجا به خدمت حسن بن على وشا رسیدم، به او گفتم: كتاب علاء بن زرین و ابان بن عثمان احمر را به من بدهید تا از روى آن‌ها نسخه‌بردارى كنم؛ او آن دو كتاب را من داد، گفتم: اجازه روایت نیز بدهید. فرمود: خدا تو را رحمت كند، چقدر عجله دارى ببر بنویس؛ سپس بیا براى من بخوان تا بشنوم؛ آن‌گاه اجازه روایت بدهم.

گفتم: بر خودم از پیشامدهاى زمان خاطر جمع نیستم.

حسن بن وشا گفت: عجب! اگر من می‌دانستم كه حدیث این‌گونه مشترى و خواهان دارد، بیشتر از این جمع می‌كردم. من در مسجد كوفه ۹۰۰ شیخ را درك كرده‌ام كه همه می‌گفتند: حدیث كرد مرا جعفر بن محمّد.»

واقعاً این چه مدرسه و دانشگاه بزرگی بود كه موافقان و مخالفان را به تعجب و حیرت واداشت و به مرور زمان نشان داد این‌كه پیغمبر اكرم صلی الله علیه و آله بارها می‌فرمود: عترت من و اهل بیت من؛ برای همین مقامات و علوم و درجاتی بود كه این‌ها داشتند و اما متأسفانه سیاست به سمت ترك رجوع به اهل بیت علیهم‌السلام پیش رفت تا آنجا كه مثل بخاری از حضرت امام جعفر صادق علیه‌السلام یك روایت هم نقل نكرده است. به قول شاعر:

قَــــضِیــةٌ أشْـــبَهَ بِالمرْزِئَــةِ * هــذا البُخــاری إمــامُ الفِــئَـةِ

بِالصَّادِقِ الــصِّدِّیقِ مـــا إحـتجَ فی * صَــحیــحِهِ وَ احــتـجّ بِـالمرجِئَة

إنَّ الإمَــــامَ الصَّادِقَ المجْـــتَـبى * بِــفَــضْلِهِ الآی أتَــت منـــبئة

أجَـلّ مِنْ فی عَـــــصْرِه رُتْـــبَة * لم یقْـــتَرِفْ فی عُــــمْرِه سَــیئَة

قَــــلامة مِـــنْ ظــفـر إبهَـامِه * تَعْـــدِلُ مِنْ مِثْـــلِ البُخاری مِـئَة

باید قدر این مكتب و این گنج گران‌بها و تعالیم ناب را دانست و همگان در این دانشگاه بزرگ، زانوی تلمّذ و شاگردی بزنند و در ایام ولادت آن پیشوای به حقّ ناطق، به تعلیم و تعلّم معارف نورانی آن امام همام، اهتمام ورزند.

موضوع: 
لیله المبیت سرآغاز تاریخ سازترین هجرت با یک فداکاری بزرگ
گفتار مرجع عالیقدر جهان تشیع حضرت آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله الوارف

صدای دعوت پیغمبر در جزیرة العرب پیچید، و مردمان متفكر و اندیشمند به آن مایل شده و روز به روز علی رغم كارشكنی های سران بت‌پرستان و ابوجهل‌ها و ابوسفیان‌ها دعوت اسلام در قلوب وارد می‌شد، و مردمی كه از آن می گریختند به آن مایل می‌شدند، و روز به روز بر وسعت دائره اسلام افزون می‌گشت، و بالاخره با آمدن سران یثرب كه به نام مدینة الرسول و مدینه معروف شد خدا مقدّمات هجرت پیغمبر را به مدینه فراهم كرد، و آن حضرت در وقتی كه مشركین و دشمنان اسلام تصمیم قطعی گرفته بودند كه با یك هجوم عمومی آن حضرت را بكشند در شب اول ماه ربیع الاول، كه بنا بود این تصمیم عملی شود به امر خدا، علی علیه السلام را در بستر خود خواباند، و از مكّه به مدینه هجرت فرمود، و علی علیه السلام شجاعانه، و فداكارانه در جای پیغمبر خوابید، و در شأن او این آیه نازل شد:

« و مِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّهِ وَ اللّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ »

این آیه شریفه در شان فداکاری و ایثار آن حضرت نازل شد و البته در مقایسه با « لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا » کسی نمی تواند با ذکر اینکه فضیلت همراهی با پیامبر در هجرت و غار ثور، بیشتر از خواب در بستر پیامبر است، منکر فضیلت بزرگ امیرالمومنین علی علیه السلام در آن فداکاری بی نظیر شود. چرا که اولاً پیامبر گرامی اسلام صلی الله علیه و آله، ابوبكر را با خود نبرد بلکه ابوبكر با آن حضرت رفت، و اخلاق كريمه آن حضرت مانع از اين شد كه او را از همراهي با خود باز دارد، و ثانياً ابوبکر با اين‌که همراه پيغمبر صلی الله عليه و آله و سلم رفت اما نمي‌دانست که هجرت به امر خدا انجام مي‌شود و خدا او را حفظ مي‌كند و به همين خاطر، در غار ثور اظهار نگراني مي‌نمود  و سر و صدا به راه انداخته بود که بيم آن مي‌رفت دشمنان صدای او را بشنوند، و البته مانند برخی نمی خواهیم بگوییم که این سر و صدا، عمدی و برای آشکارساختن مکان پنهان شدن پیامبر بود!، و ثالثا باید سؤال کرد که اگر حضرت رسول اعظم صلی الله عليه و آله و سلم، پيشنهاد خوابيدن بر بسترش را به غیر علی علیه السلام مي‌نمود، آيا مي‌پذيرفتند؟

به هر حال، واقعه لیله المبیت و نزول آیه شریفه در شأن امیرالمؤمنین علیه السلام، واقعه‌اي بزرگ است که به هر صورت آن را شرح و تفسير بدهيم، افتخار و فضيلتي بزرگ براي علي عليه السلام است که براي احدي از امّت فراهم نشد.

او يگانه مرد اين ميدان‌ها بود، و اين سوابق، همه افضليت آن حضرت را بر همه، و اولويت او را بر ولايت منصوصه ثابت مي‌نمايد.

«‌ الحمدلله الذی جعلنا من المتمسکین بولایه مولانا امیرالمومنین و الائمه المعصومین علیهم صلوات الله اجمعین »

موضوع: 
در سوگ الگوی بزرگ انسانیت
در سوگ الگوی بزرگ انسانیت
گفتاری از آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی؛ بمناسبت رحلت جانسوز پیامبر گرامی اسلام (صلی‌الله علیه و آله)

در سوگ الگوی بزرگ انسانیت

گفتاری از آیت الله العظمی صافی گلپایگانی مدظله العالی

بمناسبت رحلت جانسوز پیامبر گرامی اسلام (صلی‌الله علیه و آله)

 

وجود مقدّس حضرت نبيّ اکرم صلی الله علیه و آله، جامع عظمت‌هاي انساني و بزرگواري‌هاي يک انسان بي‌مانند بود که شرح آن همه عظمت در يک پيام و يک کتاب امکان ندارد. اگر لقب قهرمان مناسب مقام رفيع وبلند انبياء باشد بايد آن حضرت را همان‌طور که مورّخ شهير «توماس کارلايل» گفته: در بين تمام پيامبران، يگانه قهرمان خواند، و ايشان را در همه عظمت‌ها، قهرمان يگانه و موفق و بي‌نظير بخوانيم که مهم‌تر از همه عظمت‌ها، عظمت در رسالت و دعوت مي‌باشد.

در ميان دعوت کساني که در تاريخ بشر براي اصلاحات اجتماعي يا انقلابات بنيادي قيام کرده‌اند دعوتي عالي‌تر و رسالتي انقلابي‌تر و جامع‌تر از رسالت پيامبر اسلام نبوده است. اساس عظمت دعوت پيامبر عاليقدر اسلام، دعوت به توحيد و يکتاپرستي است که در کلمه طيبه «لا اله الّا الله» خلاصه مي‌شود. کلمه‌اي که از آن ارزنده‌تر و آزادي بخش‌تر و روشن‌تر و نجات‌دهنده‌تر نيست. کلمه‌اي که در آن تمام برابري‌ها و برادري‌ها و الغاء امتيازات پوچ و موهوم نهفته است، کلمه‌اي که به گفته گوستاولوبون دانشمند مشهور فرانسوي در کتاب «تمدّن اسلام و عرب» در بين اديان، تاج افتخاري است که فقط بر سر اسلام قرار دارد، کلمه‌اي که استثمار و استضعاف را محکوم و ريشه‌کن مي‌سازد، کلمه‌اي که اعلان آزادي بشر و حقوق انسان‌هاست، کلمه‌اي که دانشمندان با انصاف در مقابل آن خاضع و خاشع هستند و امتيازات نژادي و قبيله‌اي را الغاء مي‌کند.

آري؛ حقيقت دعوت حضرت ختمي مرتبت صلّي الله عليه وآله دعوت به عدل و احسان ونيکي است که قرآن مي‌فرمايد: «إِنَّ اللهَ يأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» و حقيقت آن زنده‌نمودن مکارم اخلاق و محاسن آداب و احياء روش‌هاي نيک و پسنديده انساني مي‌باشد که فرمود: «بُعِثْتُ‏ لِأُتَمِّمَ‏ مَكَارِمَ‏ الْأَخْلَاق».‏

او پيامبر مهرباني‌ها و خوبي‌هاست، او الگوي بزرگ شرافت و انسانيت است و اوست که مردم را به صفا و صميميت و برادري و مساوات و عمل صالح دعوت مي‌کند و اوست که مردم را به توصيه به حق و سخن حق گفتن و راست‌گفتن و صداقت در رفتار و مشي زاهدانه و تواضع وفروتني با ديگران ومخالفت با تکبّر و بزرگ‌منشي و فخرفروشي دعوت مي‌نمايد؛ و بالاخره بايد گفت او پيامبر رحمت براي جهانيان است و افسوس و هزاران افسوس که اين چهره نوراني را امروز تعدادي جاهل و مغرض که فرسنگ‌ها با پيامبر رحمت فاصله دارند، چهره‌اي خشن و بداخلاق نشان داده و به اسلام و قرآن و پيامبر عاليقدر ظلم وجفا مي‌کنند.

در مقابل، وظيفه ما سنگين است، مسلمانان بايد دنيا را به آيين نجات‌بخش اسلام توجه دهند که قرآن مي‌فرمايد: «الصُّلْحُ خَيرٌ». اسلام دين صلح است، خيرخواه همه جهانيان و راهبر صحيح براي همه انسان‌هاي در جستجوي راه مطمئن و زلال و شفاف مي‌باشد. حقيقت اين دين مبين در کلمات وبيانات پيامبر عاليقدر وامامان معصوم عليهم‌السّلام تبيين شده است که پيامبر فرمودند: اگر مي‌خواهيد گمراه نشويد تا روز قيامت، از قرآن وعترت پيروي نماييد، که حيات واقعي انسان‌ها در پيروي از آنها مي‌باشد.

براي جامعه اسلامي و بلکه جوامع انساني، هيچ چيزي مانند آشنايي با سيره رسول اعظم صلي الله عليه و آله و مکتب و هدايت ايشان، آموزنده‌تر و سازنده‌تر نمي‌باشد که آن را بايد به عنوان يک علم جهاني، بلکه بالاتر معرفي نمود که مسلمانان و جامعه بشريت نيازمند شناخت بيشتر اين سيره جامع الجوانب و عميق المعاني و پژوهش و درس و بحث و کاوش در آن مي‌باشند، که مفيدتر از آن براي اين‌که سرمشق زندگي و راهنماي سير به سوي تعالي و آگاهي و منش‌هاي نيکو و رفتار و کردار پاک و انديشه‌هاي تابناک باشد وجود ندارد ‌و همه شئون حيات مادي و معنوي و روحي و جسماني بشر را فراگرفته است.

معرفت اين سيره، علم است و نه يک علم که علوم بسيار بلکه همه در داخل اين علم تدريس مي‌شود و عالم غيب و شهود را معني و تفسير مي‌نمايد. در اين نوشتار مختصر با چند رشته از عظمت‌هاي آن حضرت آشنا می‌شويم:

- عظمت در اصلاحات بنيادي اجتماعي

در تاريخ رهبران اصلاحات و انقلابات بزرگ، احدي نيست كه مانند پيغمبر اسلام در مدتي كوتاه اين همه انقلاب فكري و عملي و اجتماعي به وجود آورده باشد. منفلوطي مي‌گويد: «مردي خدمت رسول خدا عرض كرد: يا رسول الله! ما نمي‌دانيم با چه زباني از شما تقدير و تشكر نماييم. شما بر ما حقوق و منّت‌هاي بزرگ داريد ما را از زير بار سنگين عادات زشت و غل‌ها و زنجير‌هايي كه خود را به آن گرفتار كرده بوديم نجات دادي. سپس داستان دختر هفت ساله‌اش را كه زنده به گور كرده بود به عرض رسانيد و گفت: فراموش نمي‌كنم وقتي مي‌خواستم دختر زيبا و شيرين زبانم را زنده به گور كنم و خاك بر رويش بريزم، دامنم را گرفته بود و التماس مي‌كرد، و مي‌گفت: پدر چرا با من اين گونه رفتار مي‌كني؟

اما هرچه گفت و التماس نمود و گريه و زاري كرد نتوانست مرا از آن عمل و جنايت بزرگ و ننگين باز دارد و من با دست خود، دختر شيرين زبان هفت ساله‌ام را زنده به گور كردم. تو اي پيغمبر! بر ما منّت‌ها داري كه ما را از اين عادات پليد و غير انساني نجات دادي.»

تولستوي مي‌گويد: «شك نيست كه محمّد صلي الله عليه و آله از بزرگترين رجال و مرداني است كه به اجتماع خدمات بزرگ كردند. همين‌ قدر در فخر او بس است كه امتي را به نور حق هدايت كرد و از خونريزي و زنده به گور كردن دختران و قرباني كردن انسان‌ها بازداشت و مردي مانند او سزاوار احترام و اكرام است.»

پيغمبر از دنيا نرفته بود كه آيين بت‌پرستي در شبه جزيره‌ي عربستان از بين رفت و از بت‌ها اثري نماند و خداپرستي و نماز و روزه و زكات و ساير فرايض و برنامه‌هاي اسلام عملي شد و رباخواري موقوف گرديد. مي‌نوشي و مي‌گساري كه بسيار رواج داشت به محض نزول آيه‌ي تحريم خمر، متروك گرديد و يك نفر لب به شراب نگذارد و قطره‌اي از آن يافت نمي‌شد. در روز اعلام تحريم خَمر تمام خُمره‌هاي شراب را خود مردم روي زمين ريختند. قماربازي موقوف شد. زنان و دختران عزّت يافتند و به حقوق واقعي يك انسان نايل شدند. بردگان، احترام انساني پيدا كردند، از ظلم و تحميلات مصونيّت يافتند و برنامه‌هاي آزادي آنها با سرعت شروع شد. معاملات و بازرگاني‌ها بر اساس صحيح قرار گرفت. از بي‌عفتي‌ها و ناپاكي‌ها و زنا و رفيق گرفتن‌هاي زن‌ها و كارهاي نكوهيده ديگر اثري باقي نماند. تكبر و استبداد، ننگ و عار گشت و تواضع و فروتني افتخار شد. قوانين و مقررات ارث و ازدواج و طلاق و جهاد و صلح و وصيت و هبه و رهن و مزارعه و مساقات و احياء موات و قضاء و شهادات و غيره اجرا شد و ديگر حقوق مالي ايتام پايمال نمي‌شد. ديگر بانوان جزء متروكات مرد شمرده نشدند و با طلاق‌هاي مكرر و نامحدود و رجوع‌هاي پي در پي بلا تكليف و سرگردان نشدند. فقرا و زيردستان اجتماع در مجمتع انساني اسلام در صف اغنيا قرار گرفتند و بلكه بر اساس صلاحيّت و شايستگي بر اغنيا، امارت مي‌يافتند.

شرح عظمت پيغمبر در اصلاحات بنيادي اجتماعي و انقلاب بي‌توقف و هر زمان و هر مكاني اسلام، بسيار طولاني است و الحق كه تاريخ، احدي از رجال اصلاح و انقلاب را در اين همه رشته‌هاي گوناگون مادي و معنوي و روحي و جسمي و فردي و اجتماعي - در اين مدّت كوتاه - مانند آن حضرت موفق و پيروز، نشان نمي‌دهد.

- عظمت در بي‌اعتنايي به دنيا

در اين عظمت، پيامبر گرامي اسلام نمونه و يگانه و سرآمد تمام زهّاد بود. از نشانه‌هاي زهد آن حضرت اين بود كه در آن وقتي كه در اوج عظمت ظاهري و قدرت مادّي قرار گرفته بود با دست خود نعلين خود را مي‌دوخت و لباس خود را وصله مي‌كرد و از تجمّلات دنيا پرهيز داشت و اگر زيوري از زيورهاي دنيا را در خانه مي‌ديد مي‌فرمود: «آن را از نظر من پنهان كنيد؛ مبادا كه به ديدنش مشغول شوم و به ياد دنيا افتم.»

بسيار اتفاق مي‌افتاد كه روزها و بلكه ماه مي‌گذشت و در خانه‌ي آن حضرت غذايي طبخ نمي‌شد و فقرا و مستمندان را بر خودش‌ و فاطمه عزيزش و حسن و حسينش مقدّم مي‌داشت.

در آن عصر، محروم‌ترين طبقات كه از هر جهت حالشان تأسف‌انگيز بود و مورد استضعاف بودند و تحميلات طاقت‌فرسا به آنها مي‌شد، غلامان و بردگان بودند كه افتادگان اجتماع بودند. پيامبر عزيز اسلام كه رسالت و دعوتش در جهت كمك به آنها و آزاد كردن آنها و حفظ حقوقشان قرار داشت و در قرآن مجيد درباره‌ي آنها به طور مؤكّد سفارش شده و برنامه‌اي براي آزادي آنها مقرر شده است، در منظر خارجي و خوراك و پوشاك و نشست و برخاست مانند غلامان بود. غذايش از غذاي غلامان خوردني‌تر و لذيذ‌تر نبود و لباسش از لباس آنها بهتر نبود و مانند آنها مي‌نشست. پول و درهم ذخيره نمي‌فرمود آن قدر روي حصير نشسته بود كه بر بدنش اثر گذاشته بود.

پيغمبران ديگر مانند عيسي بن مريم علي نبيّنا و آله و عليه السلام هم زاهد بودند؛ اما تفاوت عيسي مسيح با پيغمبر اسلام اين است كه عيسي مال و مقامي در اختيار نداشت ولي پيغمبر اسلام قبل از اينكه به رسالت مبعوث شود و در آغاز بعثت ثروت سرشار خديجه را در اختيار داشت و در سال‌هاي پايان عمر تمام شبه جزيره‌ي عربستان را؛ اما همچنان زاهد و بي‌اعتنا به دنيا بود. به جوع و گرسنگي عادت داشت و روزه بسيار مي‌گرفت.

- عظمت در تشريع قوانين

در بين مشرعين بزرگ و قانونگذاران، توفيقي كه نصيب پيغمبراسلام شد نصيب احدي نشده است. علاوه بر آن كه قوانيني كه قانونگذاران و مجالس بزرگ مقننه با آن همه عرض و طول وضع مي‌نمايند جامع و كامل و خالي از عيوب و نواقص نيست و موسمي و موقّت است و پس از مدّت كوتاهي به تجديد نظر و اصلاح و بلكه الغاي آن محتاج مي‌شوند قانونگذاري كه بتواند در مدت بيست و سه سال با اشتغالات خطير گوناگون - كه هر يك براي اينكه تمام وقت شخص را بگيرد و او ضمن پرداختن به امور نماز، روزه، حج، دعا، معاملات، تجارت، اقتصاد، كشاورزي، دامداري، باغداري، همسرداري، فرزندداري، ارث، سياست، داوري، حل و فصل دعاوي و اختلافات، كيفر و مجازات و اخلاق و آداب حتي آداب غذا خوردن، لباس پوشيدن، خوابيدن، راه رفتن، نشستن، بيمارداري و بهداشت و احكام اموات و غيره با گفتار و عمل، هزاران هزار مواد جامع و كامل و قانون و برنامه‌ي زندگي به بشريت عرضه كند- غير از پيغمبر اسلام روي صفحه‌ي تاريخ و دنيا ظاهر نشده است. هر كس اين موضوع را باور نمي‌كند مي‌تواند شخصاً قوانين اسلام را بررسي نمايد و مي‌تواند به نتايج تحقيقات محققان منصف غير مسلمان رجوع نمايد.

اهميت اين موضوع وقتي بيشتر ظاهر مي‌شود كه به قانونگذاري‌ها و همكاري‌ها و همفكري‌ها و مطالعات و مباحثات دامنه‌داري كه پيرامون يك مادّه‌ي قانوني مي‌شود و بالاخره به مجالس مقننه ارجاع مي‌گردد و تحت شورها و بررسي واقع مي‌شود توجه نماييم. آيا اين عظمت نيست كه شخصي بدون مشاور و معاون و بدون سابقه‌ي مطالعات قانوني و ديدن دانشكده‌هاي حقوق و بدون سابقه‌ي بررسي‌هاي بهداشتي و اجتماعي و تجارب قضايي و مالي و غيره در تمام جهات و حقوق مردم، قوانيني عرضه بدارد که هنوز پس از چهارده قرن، زنده و انساني‌ترين قانون اجتماع و اصول و مواد آن مورد تصديق و حمايت حقوقدانان جهان و به عقيده‌ي اهل تحقيق و انصاف، يگانه راه حل مشكلات كنوني بشريت باشد؟ واقعاً اين عظمت حيرت‌ انگيز است و دليل بر روحي الهي و رسالتي آسماني است.

- عظمت و رعايت مساوات با مردم

در اين عظمت، پيغمبر عظيم الشأن اسلام، يگانه معلّم مساوات و برابري بود؛ علاوه بر آن كه به وسيله‌ي وحي الهي و آيات قرآن مجيد برابري و مساوات انسان‌ها را اعلام داشت عملاً نيز آن را به مردم تعليم داد.

مجالس او بالا و پايين نداشت و از چگونگي نشستن آن حضرت و اصحابش پيغمبر شناخته نمي‌شد تا كسي بگويد آنكه مقدّم بر همه و بالاي مجلس نشسته است پيغمبر است؛ يا اينكه اغنيا و اقويا به او نزديك‌تر بنشينند. اين حرف‌ها كه هنوز هم در دنياي به اصطلاح متمدّن هوادار دارد در مجلس پيغمبر و مكتب تربيتي او وجود نداشت. فقير و غني و شاه و گدا همه از چشم پيغمبر يكسان بودند.

در جنگ بدر كه مركب و اسب و شتر مسلمان‌ها كم بود و مطابق نفرات مركب نداشتند و مراكب را بين نفرات به طور متعادل تقسيم كردند به هر دو يا سه نفر يك مركب رسيد. كه به تناوب سوار و پياده شوند. از جمله به پيغمبر صلي الله عليه و آله و دو نفر ديگر كه يك نفر از آنها علي عليه‌السلام بود يک مركب رسيد هر وقت نوبت پياده رفتن پيغمبر و فرمانده‌ي كل قوا مي‌شد علي عليه السلام و نفر ديگر مي‌گفتند: «يا رسول الله! شما سوار باشيد؛ پياده نشويد، ما پياده مي‌آييم.» اما پيغمبر قبول نمي‌فرمود و پياده مي‌شد و قريب به اين مضمون مي‌گفت: «نه شما از من در پياده رفتن تواناتريد و نه احتياج من به اجر و ثواب و رحمت خدا از شما كمتر است.

در يكي از غزوات و جنگ‌ها مي‌خواستند گوسفندي را ذبح و طبخ نمايند هر كدام از اصحاب كاري را عهده‌دار شدند. پيغمبر فرمود: «من هم هيزم جمع مي‌كنم.» گفتند: «ما شما را از كار بي‌نياز مي‌سازيم.» فرمود: «نمي‌خواهم بر شما امتياز داشته باشم.»

آن حضرت همیشه مي‌فرمود: «ليس لعربي‏ على‏ عجمي‏ فضل إلا بالتقوى»، و «الناس سواء كاسنان المشط»

در اينجا براي اينكه مقاله طولاني نشود سخن را كوتاه مي‌كنيم و از بيان ساير نواحي عظمت رسول گرامي اسلام مانند عظمت استقامت و شجاعت و تقوا و عبادت و صداقت و امانت و عفو و گذشت و خلق عظيم و معجزات آن حضرت و عظمت‌هاي قرآن مجيد - كه معجزه‌ي جاودان و دليل صحّت نبوت تمام انبياء است- صرف نظر مي‌نماييم؛ در جايي كه بيگانگان زبان به تعظيم و اعتراف بگشايند و شاعر دانشمند مسيحي در قصيده‌اي كه در مدح پيغمبر اسلام مي‌سرايد مي‌گويد:

«انى مسيـــحى اجلّ محمّداً * و أراه فى سفر العلا عنوانا؛ من مسيـحي هستم و محمّد را تجليل مي‌كنم و او را سرآغاز کتاب علوّ و بلندي مقام مي‌دانم.» و دكتر شبلي شميل طبيعي در قصيده‌اي كه عظمت‌هاي آن حضرت را ستوده است بگويد: «من دونه الأبطال فى كل الورى * من حاضــــر او غائــب أو آتٍ؛ تمام مردان بزرگ دنيا و قهرمانان گذشته و حال و آينده مقامشان و شأنشان و شخصيّتشان مادون مقام اعلاي محمّد صلي الله عليه و آله است.»

معلوم است كه مسلمانان بايد چقدر حق شناس زحمات و هدايت‌ها و راهنمايي‌هاي آن حضرت باشند. امّيد است در اين عصر، مسلمانان آگاه و فداكار، خصوصاً نسل جوان، رسالت اسلام را به مردم دنيا برسانند و تمام نقاط را به انوار هدايت آن متصل سازند و اعصار طلايي ايمان و عمل را متعهدانه تجديد نمايند.

موضوع: 
شعری از مرجع عالیقدر شیعه آیت الله العظمی صافی گلپایگانی به مناسبت اربعین شهادت سید و سالار شهیدان حضرت اباعبدالله الحسین (ع) و یاران فداکارش.
شعری از مرجع عالیقدر پیرامون اربعین شهادت امام حسین (ع)

شعری از مرجع عالیقدر شیعه  آیت الله العظمی صافی گلپایگانی به مناسبت اربعین شهادت سید و سالار شهیدان حضرت اباعبدالله الحسین علیه السلام و یاران فداکارش.

 

متن کامل این شعر که بیست و شش سال پیش از سوی این مرجع تقلید سروده شده است، بدین شرح است :

 

اربعین است و دل از سوگ شهیدان خون است
هر که را می نگرم غمزده و محزون است
زینب از شام بلا آمده یا آنکه رباب
کز غم اصغر بی شیر، دلش پرخون است
یا که لیلی به سر قبر پسر آمده است
کاشکش از دیده روان همچو شط جیحون است
مادر قاسم ناکام که می‌نالد زار
بهر آن طلعت زیبا و قد موزون است
در ره کوفه و در شام و سرا ظلم یزید
کس نپرسید ز سجّاد که حالت چون است
دختر شیر خدا ناطقه ی آل رسول
کز نهیب سخنش کفر و ستم موهون است
کرد ایراد چنان خطبه و ثابت بنمود
که یزید شقی از دین خدا بیرون است
زنده دین مانده ز تصمیم و ز ایثار حسین
حق و حرّیت و اسلام به او مدیون است
هان بیایید و ببینید که در راه خدا
صحنه ی رزم ز خون شهدا گلگون است
آه و افسوس که کشتند لب تشنه امام
زخم بر پیکر پاکش ز عدد افزون است
قصّه ی کرب و بلا قصه ی صبر است و قیام
به فداکاری و جانبازی و دین مشحون است
تا ابد نام حسین بن علی در تاریخ
با ثبات قدم و نصرت حق، مقرون است
جاودان عزت حزب الله و انصار خدا است
خیمه ی باطل و احزاب دگر وارون است
هر که در حصن ولایت رود از روی خلوص
ز آتش دوزخ و آن هول و خطر، مأمون است
«لطفی» از عاقبت کار مکن قطع امید
که به الطاف حسین بن علی میمون است

 

لطف الله صافی
صفر المظفر 1411 هـ . ق.

موضوع: 
عاشورا؛ روزی به بلندای تاریخ
عاشورا؛ روزی به بلندای تاریخ - ویژه‌نامه ماه محرّم / 9
(سلسله نوشتار‌های مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی درباره قیام و نهضت حضرت سید الشهدا (ع) /9)

* کاش فردا نمی‌شد
خدايا! چه مي‌شد اگر تاسوعا را آن فردا نبود و تا صبح روز قيامت، بامدادش نبود.
خدايا! چه مي‌شد اگر فردا نمي آمد و آن جنايات هولناكي كه تا آن تاريخ سابقه نداشت و بعد از آن همانند و نظيرش اتفاق نخواهد افتاد، رخ نمي‌داد و تاريخ بشريت، سياه و آن چنان پر از ننگ و عار نمی‌گرديد و اوج بی‌رحمي، بی‌وجدانی و درنده‌خويی اين بشر، كه از هيچ مخلوق ديگری ظهور نمی‌كند نشان داده نمی‌شد، و آن ددمنشانی كه در صحرای كربلا براي ارتكاب بزرگ‌ترين جرايم تاريخ گرد آمده بودند فرصت اين همه گستاخي و اظهار خباثت نفس را نمي‌يافتند.
آنان بدترين جنايتكاراني بودند كه خود را به جيفه دنيا و به يزيد و ابن‌زياد ـ آن جرثومه ها و تجسم ستمكاري، بي‌شرافتي، پستي، پليدي و همه رذايل اخلاقي و آن دشمنان مردمان مستضعف ـ فروخته بودند.
خدايا! اگر تاسوعا به پايان نمي‌رسيد، شمر و سنان و ابن سعد و حرمله و ديگر شقاوت پيشگاني كه اولياي تو را محاصره كرده بودند نمي‌توانستند آن همه شقاوتي را كه از خود نشان دادند در دفتر سياه بني نوع انسان، ثبت نمايند و ميلياردها بشري را كه در طول تاريخ آمده و مي‌آيند سرافكنده و شرمنده سازند.

خدايا! چه مي‌شد اگر خورشيد و ماهَت از حركت باز مي‌ايستادند و زمين از گردش باز مانده بود تا در فرداي تاسوعا، عزيزترين و بهترين بندگان تو، حسين عليه‌السلام و يارانش به دست دشمنان تو به شهادت نمي‌رسيدند و آن همه مصائب جانكاه بر اهل بيت پيغمبر صلي الله عليه و آله تو وارد نمي‌شد؟
امّا خدايا! تو خود صاحب اين جهاني و دنيا را دار امتحان و آزمايش، قرار دادي و فرمودي: «ليبلوكم ايّكم احسن عملاً» به قضا و قدر تو ارزش انسان‌ها ظاهر مي‌شود. تا آنها كه بالاترين مراتب كمال انسانيت را دارند در اعلامِ «ان الله اشتري من المؤمنين انفسهم و اموالهم بان لهم الجنه» و تو را بهترين مشتري شناخته و خود را به تو فروخته شناخته شوند. و هم آنهايي كه در اسفل السافلين مكان مي‌گيرند و «اولئك كالانعام بل هم اضل» توصيفي از خباثتشان است خود را معرفي كرده و بشناسانند.
 

* عاشورا، صحنه‌ی مقابله  حق و باطل
مثل شب عاشورا سران دو گروه، كه همواره در تاريخ، مواجهه و صف‌آرايي آنها در برابر يكديگر را خوانده و مي‌خوانيم، در كربلا به صحنه مي‌آيند و تمام اين عالم را تا پايان اين جهان به تماشاي مقابله و نبرد دو جبهه حق و باطل و موقف آنها مشغول مي‌سازند.
موقف الهي و رحماني حسين عليه‌السلام، اهل بيت و اصحابش كه با آن عده به ظاهر اندك و معدود و به باطن امّت‌ها و جهان‌هايي از شخصيت‌هاي بي‌نظير و بي‌بديل، براي بذل جان در راه خدا، عزّت، كرامت، شرف انسانيت، اعلاي كلمة الله و احياي معالم دين تصميم مي‌گيرند و هيچ گونه فشار، تهديد و اوضاع ناگوار ـ از شهادت جوانان، تشنگي كودكان و اسارت فاضل‌ترين و با شخصيت‌ترين بانوان ـ به قدر ذره‌اي در تصميم آنها اثر نمي‌گذارد و موضع نحس، ناپاك، پليد، ضد انساني و بي‌شرمانه سپاه كوفه كه با خدا اعلان جنگ داده‌اند، مي‌خواهند با فرزند رسول خدا بجنگند و او و تمام يارانش را تشنه لب از دم شمشير بگذرانند و محترم‌ترين و معتبرترين بانوان درگاه خدا را اسير سازند.
گروه ابن سعد و شمر و سنان و خولي و يزيد و ابن زياد را طمع به جوايز و پست و مقام و يا بيم از يزيد و ابن زياد به كربلا كشانيده بود و گروه حسين عليه‌السلام و حزب خدا به شوق درك درجات عاليه، دفاع از نواميس دين و حرم نبوت و ولايت در آن ميدان آزمايش، حاضر شده بودند.
 

* سعادتمندان و شقاوتمندان
منظره شب عاشوراي كربلاي سال 61 هجري قمري منظره‌اي عبرت انگيز و آموزنده بود؛ سعادت، مناعت و بلندي همّت از سيماي ياران امام حسين عليه‌السلام، و شقاوت، دنائت و پستي از چهره پليد پيروان بني اميه هويدا بود.
سپاه حسين عليه‌السلام كه خود را چون رهبرشان، سعيد مي‌دانستند و به موقفي كه داشتند افتخار مي‌كردند و در حُسن عاقبت خود هيچ شبهه و شكي به دل راه نمي‌دادند و فاصله‌اي بين خود و رستگاري و رسيدن به لقاء‌الله جز شهادت در ركاب آقا و مولايشان نمي‌ديدند، آرام و مطمئن شب را به عبادت، به صبح رساندند.
و سپاه يزيد، ابن زياد و عمر سعد گرچه خود را به ظاهر پيروز مي‌ديدند، اما هيچ يك خود را با موضعي كه داشتند سعادتمند نمي‌دانستند و جز شمر و تني چند از هم قماشانش، كه شايد از كشتن اولياء الله و فرزندان پيغمبر و آن مظاهر ايمان، توحيد و كمال انسانيت لذت مي‌بردند و احساس شرم نمي‌كردند، ديگران همه با وجدان خويش در جنگ و جدال بودند.
به هر حال، اگر چه ما نمي‌توانيم هويت حق‌ستيزي فوق العاده و دشمني بي‌اندازه بني‌اميه با خاندان رسالت و ميزان عداوتشان با دين را ارزيابي كنيم، اما مي‌دانيم كه با اين وجود در ميان همين اشقيا كسي نبود كه براي كشته شدن و بذل جان آمده باشد؛ همه آمده بودند تا بازگردند و جايزه بگيرند يا اينكه مورد خشم ابن زياد قرار نگيرند. و در ميان آنها بسا كساني بودند كه مانند حرّ منتهي شدن اين جريان به شهادت امام عليه‌السلام را پيش‌بيني نمي‌كردند و كساني ديگر هم شايد استقامت و ايستادگي امام و يارانش را در موقفي كه داشتند باور ننموده و گمان مي‌كردند پيشنهاد تسليم يا جنگ و شهادت در آن شرايطي كه بزرگ‌ترين شجاعان دنيا را به تسليم وادار مي‌نمود، كارساز مي‌شود و امام و يارانش به ذلت تسليم ـ العياذ بالله ـ تن در مي‌دهند.
خلاصه، جز عده معدودي، احدي از آنها نبود كه بتواند خود را با حساب معنويات قانع سازد و از خسارت و صدمه معنوي‌اي كه در اين جنگ مي‌بيند استقبال داشته باشد و مرگ در آن مهلكه را براي خود هلاكت حقيقي نداند. آنها نمي‌توانستند مواقف امام و يارانش را داشته باشند؛ زيرا بر باطل بودند و نمي‌توانستند در وجدان خود جنگ با پسر پيغمبر را توجيه كنند.
اما اصحاب امام همان طور كه خود امام آنها را توصيف كرد و آنها نيز خودشان مكرر اعلام كردند، به چيزي جز شهادت در راه امام عليه‌السلام راضي نمي‌شدند و همه آمده بودند كه در آن مهلكه، جان خويش را فدا كرده و به فوز شهادت نايل شوند. هدفشان از اينكه قرآن، موضع مجاهدين در راه خدا و در ركاب پيغمبر را به آن توصيف كرده و مي‌فرمايد: «قل هل تربصون بنا الا احدي الحسنين»  بالاتر بود. موقف آنها بين تسليم و ترك حق و ترك امام يا شهادت در راه خدا خلاصه شده بود و آن راد مردان ايمان و شرف انسانيت، شهادت را اختيار كرده بودند و لحظه‌اي در آن ترديد نكردند و به اينكه بر حق‌اند و شهادتشان در راه خداست و در اين جنگ، زيان نمي‌كنند و كشته شدنشان در نزد خدا بي‌عوض نمي‌ماند، ايمان محكم داشتند؛ از اين جهت حتي يك تن از آنها در روز عاشورا ميدان جنگ را خالي نكرد در حالي كه دشمنانشان هركجا خطرمرگ را مي‌ديدند پا به فرار گذارده و مي‌گريختند.
 

* شب آخر
شب عاشورا، خيام طاهره حسين عليه‌السلام و لشكرگاه آن حضرت پر از صفا و معنويت و شوق لقاء الله بود؛ صداي دلنوازشان به مناجات، بلند بود و تهجد و عبادتشان به انسانيت بها و ارزش مي‌داد: «لهم دويّ كدويّ النحل ما بين راكع وساجد وقائم وقاعد»
هيچ يك از آنها از اينكه فردا شب، زنده نيست متأسف نبود؛ فقط آن غيرتمندان با شهامت از اين جهت نگران و متأسف بودند كه مي‌دانستند فردا شب، اين با عظمت‌ترين بانوان بيوت شرف و كرامت، اسير دشمن مي‌شوند و حمايت كننده‌اي ندارند.
منظره شب عاشوراي حسين و اصحاب آن حضرت، اتمام حجت ديگري با سپاه كوفه بود كه بدانند مي‌خواهند چه جنايت عظيمي را مرتكب شوند؛ تا بفهمند كه با شب‌زنده‌داران و قاريان قرآن و بهترين خلق خدا رو به رو هستند؛ اگرچه بيشتر چهره‌هايي كه براي ياري حسين عليه‌السلام آمده بودند براي آنها ناشناخته نبود.
حبيب بن مظاهرها و مسلم بن عوسجه‌ها، همه از كساني بودند كه سوابقشان در اسلام بر بيشتر سپاه كوفه به خصوص سران نامردشان پوشيده نبود و همه، آنها را به زهد، پارسايي، حفظ قرآن، عبادت و شخصيت مي‌شناختند.
ابو عمرو نهشلي به تهجد و كثرت نماز توصيف مي‌شد؛ همچنين سويد بن عمرو به شرافت و كثرت نماز، مشهور بود.
قارب، غلام امام، قاري قرآن بود، شؤذب، مجلس روايت داشت و از مشايخ حديث بود، همچنين برير بن خضير از قراء قرآن بود. قيس بن مسهر و عمرو بن خالد و ابوثمامه و سويد و عبدالله بن عمير و سعيد بن عبدالله و... همه از شخصيت‌هايي بودند كه حضورشان در ركاب امام عليه‌السلام و فداكاري‌هايشان حقانيت خود و گروهشان را ثابت مي‌كرد. علاوه بر اينكه جمعي از صحابه پيغمبر صلی الله عليه وآله مانند: انس بن حارث، حبيب بن مظهر، مسلم بن عوسجه، ابوسلامه و هاني، عبدالرحمن بن عبد رب انصاري و عبدالله بن يقطر نيز به شرف افتخار جان‌نثاري حسين عليه‌السلام مشرف بودند. اصحاب حسين عليه‌السلام شامل بزرگان، حاملان حديث، عباد، زهاد، قراء مشهور و صاحبان سوابق در مغازي بودند كه كشتن هر يك از آنها سندي معتبر براي محكوميت و بطلان طرف مقابل بود.
 

* نامي به بلنداي تاريخ
آن شب و آن روز در بستر زمان بسيار كوتاه بود و به سرعت گذشت، اما آن صبر، پايداري و استقامت بر تصميم در هر ثانيه‌اي از آن شب و روز تنها از كساني مانند آن نخبگان فضيلت و شخصيت، قابل ظهور و صدور است.
گوارا باد بر آنان رضاي خدا و رضاي رسول خدا صلی الله عليه وآله و رضاي امير المؤمنين عليه‌السلام و رضاي فاطمه زهرا سلام الله عليها و رضاي امام مجتبي عليه‌السلام و رضای آقا و مولايشان حسين عليه‌السلام.
همه جهات مادي آنها ـ كه عاقبت هم از ميان مي‌رود ـ در آن معركه از بين رفت، اما فضيلت، معنويت و نام بلند آنها باقي ماند و اگرچه دشمن بر آن ابدان طيبه چيره شد اما هرچه كرد نتوانست بر مكارم اخلاق، حريت، ايمان، اصطبار و موضع ضد‌ ظلم و استضعاف آنها مسلّط شود.

 

 

 

موضوع: 
خطّ بطلان حسین (ع) بر بیماری خطرناک فکری
خطّ بطلان حسین (ع) بر بیماری خطرناک فکری-ویژه‌نامه ماه محرّم / 8
(سلسله نوشتار‌های مرجع عالیقدر آیت الله العظمی صافی درباره قیام و نهضت حضرت سید الشهدا (ع) /8)

اثر جهاد حسين ‎عليه السّلام در صفحه تاريخ جاويدان ماند، و همواره نيرو بخش اصلاح طلبان، و مجاهدان راه حقّ و حاميان خير و عدالت است.

قيام آن حضرت، مبارزه با ظلم و ستم و كفر و باطل بود كه در آن زمان از گريبان يزيد سر برون كرده بود. مبارزه با افكار و نقشه‎ها و آراء، و مفاسدي بود كه از جانب او حيات ملّت  اسلام را تهديد مي‎كرد.

از جمله درس هاي عالي و سودمند كه هر شيعه و آزادي خواه حق پرست، و هر آرزومند تحقّق رسالت جهاني اسلام، از واقعه كربلا بايد بياموزد، اين است كه بداند حكومت اسلامی حکومتی باید باشد كه در تمام نواحي، نمايشگر عدالت اسلامي و مجري تعاليم و احكام قرآن باشد.

يكي از بيماري هاي خطرناك فكري كه پس از رحلت پيغمبر اكرم ‎صلّي‎الله عليه و آله اجتماع مسلمانان به آن گرفتار شد اين بود كه بسياري از مردم در برابر عمل انجام شده- هرچند موافق با خير و مصلحت و نظامات و تعاليم شرعيه نبود- تسليم مي‎شدند و هر حكومتي را كه روي كار مي‎آمد واجب الاطاعه، و بيعت با آن را لازم الوفا مي‎دانستند.

اين روش باعث مي‎شد كه هر كس مي‎توانست با يك جهش ناگهاني يا اغفال مردم وضعي را ايجاد و سياستي را اجرا كند و بر مركب مراد سوار شده و بي معارض و مزاحمي، مستبدانه بر جامعه حكومت كند، بنابراين در روي كار آمدن زمامداران جز زور و قدرت نظام و ترتيبي در كار نبود.

در عصر جاهليت و قبل از طلوع كوكب رخشنده اسلام و در بعضي از جوامع عقب مانده، بلكه در جوامع به اصطلاح مترقّي هم كم و بيش اين روش بوده و هست كه هر كس بر جامعه مسلّط شود براي اطاعت از او دليلي جز غلبه و قدرت او مطالبه نمي‎شود.

امّا در جامعه اسلامي كه بر اساس عالي ترين نظامات آسماني به وجود آمده، پيدايش اين فكر، بسيار عجيب است، زيرا علاوه بر اين كه حكومت ها نمي‎توانند جامعه را به سوي هدفي كه اسلام نشان مي‎دهد رهبري كنند، موجب اتهام و سوء تفاهم بيگانگان نسبت به تعاليم سياسي و اجتماعي اسلام مي‎گردند.

فشار حكومتي كه خودسرانه و خود خواهانه روي كار آمده باشد اگر چه نرمش و اعتدال هم داشته باشد، بر وجدان يك مسلمان حقيقي و انسان فهميده و متمدن واقعي، فوق العاده سنگين است، و تحقير و توهيني كه به شخصيت ملت ها از اين راه مي‎شود، براي كساني كه درك انساني دارند به سختي قابل تحمّل مي‎باشد.

طرفداران اين روش كه بيشتر مردماني مغرض و جيره‎خوار يا ضعيف امثال عبدالله بن عمر([1]) مي‎باشند عذرشان اين است كه مخالفت با حكومت موجب تفرقه و به هم خوردن نظم و چه بسا كه سبب فتنه و خون ريزي شود؛ گاهي هم به رواياتي كه راجع به اطاعت از امرا است تمسّك مي‎جويند؛ لذا در برابر جنايات و انحرافات سكوت ورزيده و خاموشي را اولي مي‎شمارند!

طرفداران زمامداران غاصب و دستگاه تبليغاتي آنها هم براي خاموش كردن مخالفان و اغفال جامعه و تحكيم قدرت خود، مصلحان و نصيحت كنندگان را به فتنه‎انگيزي، اخلال گري، به هم زدن نظم و ايجاد تفرقه، متهم مي‎نمايند.

معلوم است كه مردمان ضعيف و راحت طلب، و كساني كه به مال و جان خود بيش از مصالح عامّه و دين و شرف علاقه دارند، با اين عذرها زود تسليم شده و از خود رفع مسئوليت مي‎نمايند.

در اثر اين وضع، دست ستمكاران باز گذاشته مي‎شود و كسي از آنها مؤاخذه و بازخواستي نمي‎كند و وجوب اطاعت از يزيد و حجاج و وليد، مثل وجوب اطاعت يك زمامدار عادل و صالح مي‎شود، و قيام بر او را خروج از طاعت و جماعت مي‎شمارند.

اين حكمي كه به دروغ و ناداني به اسلام نسبت دادند، زمامداران ستمگر را مطمئن مي‎ساخت كه مستبدانه هر ظلمي خواستند مرتكب شوند و معترضين را به عنوان خروج از جماعت مسلمين تحت تعقيب قرار داده و به زندان يا قتل محكوم سازند.

بديهي است برحسب آيات و رواياتي، اطاعت زمامداران، واجب و مخالفت با آنها حرام است؛ ولي مقصود از اين آيات و روايات زمامداران و صاحب منصبان حكومت اسلامي است كه نظامي را كه اسلام به آن دعوت كرده اجرا سازند، و هدف هاي اسلام را تحقّق داده و مظهر عدالت اسلام باشند.

چگونه مي‎شود اطاعت از حكومت هائي مثل حكومت يزيد، و سائر ستم كيشان تاريخ واجب باشد؟

اگر تازيانه ظلم در كشوري به بدن مظلومي برسد، تمام اهل آن مملكت كه به نحوي از انحاء، آن حكومت را ياري مي‎كنند مسؤولند؛ «اَلظّالِمُ وَ المُعينُ لَهُ، وَ الرّاضي بِهِ شُرَكاءٌ ثَلاثٌ»([2])

در منطق اسلام و در مكتب انبياء قيام به حق و امر به معروف و اندرز به زمامداران و دعوت به خير و اصلاح، فتنه‎انگيزي و اخلال به نظم نيست، بلكه عين نظم است.

نظمي كه بر اساس باطل و ستم و تجاوز به حقوق ضعفاء و خفه كردن جامعه به وجود آمده، هرچه زودتر به هم بخورد بهتر است.

نظمي كه يك طبقه را حاكم و طبقه ديگر را محكوم و ذليل، يك طبقه را صاحب ثروت و تجملات فراوان و يك طبقه را گرسنه و برهنه و محروم ساخته باشد، عين بي نظمي است.

نظمي كه در اثر آن يزيد و ابن زياد و شمر وحجاج مصادر امور باشند، و نيكان و شايستگان تحت شكنجه و آزار باشند، فتنه و بي نظمي است و قيام براي به هم زدن آن قيام براي برقراري نظم واقعي است.

«وَ قاتِلُوهُمْ حَتّي لا تَكُونَ فِتْنهٌ وَ يَكُونَ الدّينُ للهِ؛ و با كافران جهاد كنيد تا فتنه و فساد از روي زمين برطرف شود و دين و اطاعت براي خدا باشد.» ([3])

به مقتضاي اين آيه، تمام نظام ها شرّ و فتنه است، مگر نظامات و مقررات خدائي. تمام حكومت ها بي‎نظمي و فتنه و گرفتاري براي بشر است مگر حكومت اسلامي.

اگر نظمي كه بني اميه با كشتار عام مدينه و ظلم و جور و هتك مقدّسات به وجود آوردند، نظم باشد، پس نظم نمرود و فرعون و چنگيز و ديگر زورگويان تاريخ، و امنيت و انتظامي كه آنها در سايه سركوبي جامعه برقرار كردند نيز نظم بوده است.

پس با اين حساب بسيار غلط، حضرت ابراهيم و حضرت موسي و بلكه تمام انبيا و مردان اصلاح طلب، اخلالگر بوده‎اند!

اين فكر كه اطاعت از هر زمامدار شرعاً واجب است به قدري سخيف و باطل است كه انسان تعجب مي‎كند چگونه بر افرادي كه طرفدار آن شده‎اند پنهان مانده است.

حسين ‎عليه السّلام با اين فكر غلط و خطرناك نيز مبارزه كرد و مردم را از اين اشتباه كه حكومت هايي، مانند حكومت بني‎اميه و يزيد، واجب الاطاعه‎اند، بيرون آورد، و فهماند كه نه فقط اطاعت از آنها واجب نيست، بلكه كوشش براي برانداختن آنها و تأسيس حكومت تمام اسلامي، لازم و واجب است.

پس از قيام سيد الشهداء ‎عليه السّلام معلوم شد: آن حكومتي كه واجب الاطاعه است و بايد مسلمانان آن را تقويت و پشتيباني نمايند، حكومتي است كه در تمام نواحي، نمايشگر عدالت اسلامي و مجري تعاليم و احكام قرآن باشد.

 
[1] ـ گويند وقتي حجاج مكه معظمه را گرفت، و ابن زبير را به دار زد، عبدالله بن عمر نزد او آمد، گفت: دستت را بده تا با تو براي عبدالملك بيعت كنم، پيغمبر ـصلّيالله عليه و آله وسلّمـ فرمود: «من مات و لم يعرف امام زمانه مات ميتة جاهلية» حجاج پايش را دراز كرد و گفت: «پايم را بگير! زيرا دستم مشغول است». ابن عمر گفت: آيا مرا مسخره مي‎كني؟ حجاج گفت: اي احمق بني عدي! تو با علي بيعت نكردي و امروز مي‎گوئي «من مات و لم يعرف امام زمانه مات ميتة جاهلية» مگر علي امام زمان تو نبود؟ به خدا سوگند تو براي فرموده پيغمبر نيامدي، بلكه از بيم اين درخت كه ابن زبير به آن به دار كشيده شده است آمدي (الكني و الالقاب، ج 1، ص 357).
[2] ـ ستمكار و كسي كه او را ياري مي‎كند و شخصي كه به ظلم راضي مي‎شود هر سه در گناه با يكديگر شريكند.
[3] ـ سوره بقره، آيه 193.
موضوع: 

صفحه‌ها

  • of 21
اشتراک در RSS - مناسبت‌ها