بسم الله الرحمن الرحیم  حضرت مستطاب آیت الله آقای سیستانی دامت برکاته  السلام علیکم و رحمة الله خداوند متعال را شاکر هستیم که عمل جراحی با موفقیت انجام گردید و با دعای خیر مومنین صحت و سلامتی را به حضرتعالی عنایت فرمود. طول عمر ، عافیت...
دوشنبه: 1398/10/30 - (الاثنين:24/جمادى الأول/1441)
فقه عاشورائی ( عزاداری کے احکام )

 

عزاداری کی کیفیت

س) امام حسين عليه‌السلام کی مصیبت میں گربیان چاک کرنے، سر اور چہرے پر مارنے کا کیا حکم ہے؟

ج)امام حسین علیہ السلام کی مصیبت میں سر اور چہرے پر مارنے اور گریبان چاک کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

س)بعض لوگ معصومین علیہم السلام کی عزاداری اور ماتم داری کے دوران اپنے چپرے کو نوچتے ہیں کہ جس سے ان کے چہرے سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ اس انداز سے عزاداری کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)معلوم نہیں کہ یہ عمل اہلبیت اطاہر علیہم السلام کے مصائب کی شدت اور ان کی عزاداری کے لئے توہین ہو۔ لیکن اگر یہ حد سے زیادہ ضرر کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے۔

س)کچھ عزادار خود کو مٹی ملتے ہیں اور ننگے پاؤں چلتے ہیں ۔ایسی عزاداری کا کیا حکم ہے؟

ج) ایسے امور کہ جن کے ذریعہ کسی خاص علاقہ کے لوگ سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام  سےحزن و عزا کا اظہار کریں اور اس سے ان کے جسم و جان کو نقصان نہ پہنچے تو کوئی مانع نہیں ہے۔

س)دائرہ کی صورت میں گھومتے ہوئے اور اٹھک بیٹھک کرتے ہوئے ماتم کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج) اس میں کوئی اشكال نہیں ہے لیکن یہ خیال رہے کہ عزاداری کا وقار پامال نہ ہو۔

س) کیا سید الشہداء حضرت  امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں قمیض اتار کر سینہ زنی کرنا جائز ہے ؟

ج) اگر کسی نامحرم کی نگاہ نہ پڑے توکوئی اشکال نہیں ہے۔

س)عزاداری کے دوران سينه‌زنی، زنجيرزنی و يا سر اور چہرے کا ماتم کہ جو ضرر جیسے زخمی ہونے یا جسم کے سرخ ہونے کا باعث بنے تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج) اگر حد سے زیادہ ضرر نہ ہوتو اشكال نہیں ہے.

س)اگر سینہ زنی کے دوران قمیض اتار کر ماتم کرناتحریک(گناہ کی طرف مائل ہونے)کا باعث ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج) اگر گناہ کی طرف مائل کرنے کا باعث بنے تو اس میں اشکال ہے اور بہتر ہے کہ لباس  کے ساتھ عزداری کی جائے۔

س)ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزاداری میں ماتم کرنے اور اس طرح سے چہرے کو نوچنے کا کیا حکم ہے کہ جس سے خون جاری ہو جائے؟

ج)ان بزرگ ہستیوں کے لئے کسی بھی انداز میں عزاداری کرنا کہ جو حد سے زیادہ ضرر کا باعث نہ ہو جائز و مطلوب ہے البتہ یہ کہ وہ کسی بھی طرح سے شریعت کے برخلاف نہ ہو۔

س)مجالس عزا میں«هروله» کی کیا حکم ہے جب کہ یہ عزاداری کی بے حرمتی، توہین اور عزادروں میں حزن اور عزاداری کے آثار میں کمی کا باعث ہے ۔مہربانی فرما کر جواب بیان کرنے کے علاوہ عزاداری کے متعلق کوئی نصیحت بھی فرمائیں۔

ج) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مصیبت زدہ لوگ غم کی شدت کے باعث کھڑے ہو کر بھاگنے لگتے ہیں،خود کو مارتے ہیں اور نالہ و فریاد کرتے ہیں ؛اگر کسی میں سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے غم (جو سب سے بڑے مصائب ہیں) کے باعث ایسی حالت ایجاد ہو جائے یا رونے کی وجہ سے ایسی حالت پیدا ہو جائے تو اسے اہانت یا توہین نہیں کہہ سکتے ۔البتہ یہ لازم ہے کہ سب ان مجالس کی عظمت ،حقیقت  اور ملکوتی وقار کی حفاظت کریں اور انتہائے غم و حزن کا اہتمام کریں ۔خداوند تائید فرمائے۔

س)عزاداری اور سینہ زنی کے وقت بعض حج کے ایّام میں ہونے یا حضرت زینب علیہا السلام کی یاد میں کہ جو حالت ہرولہ میں تھیں ،ہرولہ کرتے ہیں اور ماتم کرتے ہیں۔اس کے متعلق اپنا نطریہ بیان فرمائیں؟

ج) حج کے ایّام میں ہونے کی نیت سے ہرولہ کرنا صحیح نہیں ہے لیکن ان مصائب کی وجہ سے غم اور حزن کی شدت سے ایسا کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض لوگ مذہبی جلسوں اور مجالس عزا  میں اہلبیت اطہار علیہم السلام کے سامنے انتہائے تذلّل اور حقیر ہونے کااظہار کرنے کے لئے کچھ حیوانات جیسے کتے کی آوازیں نکالتے ہیں ۔اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔

ج)چونکہ بعض کی نظر میں یہ توہین کا باعث ہے لہذا ضروری ہے کہ اہلبیت اطہار علیہم السلام سے اپنی عقیدت و ولایت کا اظہار قابل تحسین صورت اور پرکشش انداز میں کیا جائے۔

س)ایسی گلی کوچوں میں انجمنوں کا ماتم داری منعقد کرنے کا کیا حکم ہے کہ جہاں کے لوگ دینی شعائر کےپابند نہیں  ہیں بلکہ ان کی نظر میں سینہ زنی وغیرہ عجیب و غریب عمل ہے  اور کبھی یہ مجالس عزا کی اہانت اور تمسخر کا بھی باعث بنتے ہیں؟

ج) مذکورہ مقامات میں واقع مسجد اور امام بارگاہوں میں انجمنیں مذہبی مجالس کا شائستہ انداز میں انعقاد کریں اور بافضیلت علما ءاور واعظین کو ان مجالس میں مدعو کیا جائے کہ وہ دین مبین اسلام کو اس کی حقیقی صورت میں سامعین کے سامنے بیان کریں،اس صورت میں گمان نہیں کیا جا سکتا کہ یہ تمسخر کا باعث بنیں۔نیز تبلیغ دین میں کچھ جاہل اور نادان لوگوں کے تمسخر پر توجہ نہیں کرنی چاہئے ۔

 

عزاداری  کے آئین اور نشانیاں

س) عاشورا کے مراسم کے دوران علم‌برداری، چہل چراغ كشی ،نخل گردانی کا کیا حکم ہے؟

ج) کوئی مانع نہیں ہے.

س) عَلَم سے کس طرح استفادہ کیا جانا چاہئے ؟

ج) سالار شهيداں حضرت ابا عبد الله الحسين عليه‌السلام کی عزاداری میں علم(جو تعظیم شعائر میں سے شمار ہوتا ہے) سے استفاہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے بلکہ یہ مطلوب ہے بشرطیکہ وہ ذی روح مجسمہ پر مشتمل نہ ہو۔

س)کیا آپ کی نظر میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے شام غریباں میں شمعیں روشن کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؟ کیا یہ بدعت کے مصادیق میں سے نہیں ہے؟

ج)اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

س)بعض مجالس و مراسم میں شبیہ بنائی جاتی ہے جیسے حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی قبر مطہر کی شبیہ بنانا یا حضرت رقيه سلام الله عليہا کا تابوت بنانا، ان کا حكم کیا ہے؟

ج) ان میں کوئی اشكال نہیں ہے.

 

س)تعزیہ  و مرثیہ خوانی کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟

ج)اگر تعزیہ و شبیہ خوانی آلات لہو منجملہ ڈھول ،نقارہ  اور صنج وغیرہ پر مشتمل نہ ہو اور اس میں جھوٹے اشعار اور غنا بھی نہ ہو اور مرد خواتین کا لباس نہ پہنے ہوں تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض لوگ منظر کشی کے دوران امام معصوم علیہ السلام یا جلیل القدر شخصیات جیسے حضرت عباس علیہ السلام کی شبیہ کی صورت میں کردار ادا کرتے ہیں ،جبکہ یہ کردار ادا کرنے والے افراد کا ماضی درخشاں نہیں ہوتا اور صرف اچھے انداز میں کردار نبھانے کی وجہ سے انہیں شبیہ سازی میں رکھا جاتا ہے۔اس کے متعلق اپنا نظریہ ٔ مبارک بیان فرمائیں؟

 ج)شبیہ سازی میں کردار ادا کرنے والے افراد کا ماضی درخشاں ہونا شرط نہیں ہے لیکن اگر برے ماضی یا برے حال کی وجہ سے عرف میں توہین ہو تو ایسے افراد کو یہ کردار  ادانہیں کرنا چاہئے ۔ اصولاًمناسب یہ ہے کہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی عزاداری مجالس عزا کی صورت میں منعقد کی جائے کہ جس میں علماء ،واعظین،خطباء اور  ذاکرین ان ہستیوں کے مصائب کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ فضائل و مناقب، تاریخ ،احادیث اور احکام بیان کریں نیزمعارف اسلام کی تبلیغ کریں،شبہات کا جواب دیں اور لوگوں کو آگاہ کریں اور مکتب اہلبییت اطہار علیہم السلام کی جانب ان کی ہدایت کریں۔

 

س)آج کل یہ بیان کیا جارہا ہے کہ مجالس عزا اور بالخصوص سید الشہداءحضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا اور مصائب خوانی اصل صورت کی بجائے نمائش اور تھیٹر کی صورت میں ہونی چاہئیں اور اس بات پر بہت اصرار کیا جارہا ہے ۔آپ اپنا نظریۂ مبارک بیان فرمائیں؟

ج) ان عظیم ہستیوں کے لئے منعقدکی جانے والی مجالس عزا میں علماء و ذاکرین کے ذریعہ صحیح و معتبر کتابوں سے مصائب بیان کئے جائیں اور اس میں اہلبیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کا خیال رکھا جائے۔انہیں تھیٹر کی صورت میں پیش کرنا عام طور پر فاسد اور غیر شرعی امور سے خالی نہیں ہوتاہے.

س۔ایسی تصاویر اور پوسٹر وغیرہ کہ جن میں ائمہ معصومین علیہم السلام کے چہرے کو دکھایا گیا ہو،ان کی خرید و فروخت ،تولید اور ان سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

 ج۔ مذکورہ تصاویر اور پوسٹر وغیرہ کے بارے میں کوئی صحیح سند موجودنہیں ہے،لہذا بہتر ہے کہ اس عمل سے پرہیز کیا جائے۔

 

عزاداری کے آداب و اخلاق

س)اگو کرئی شخص عزاداری کے دوران دکھاوے کے لئے بلند آواز سے گریہ کرے یا بہت زور سے زنجیر مارے یا ماتم کرے تو کیا اس نے ریاکاری کی ہے اور اس کی عزاداری باطل ہے؟ اور اگر یہ عمل دوسروں کو رلانے کی نیت سے ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج)ریا کسی عمل میں بھی صحیح نہیں ہے لیکن عزاداری اور شعائر کی تعظیم کے طور پر رلانا ریاکاری نہیں ہے۔  

س۔بعض اوقات سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس میں(کہ جن میں لوگوں کا بہت ہجوم بھی  ہوتا ہے)یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ  خادمين ابا عبدالله الحسین عليه‌السلام عزاداروں کے ساتھ ناشائستہ طریقے سے پیش آتے ہیں(مثلاً ان پر چیخنا اور دھکے دینا وغیرہ)شریعت کے لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟

ج۔عزاداروں اور سامعین کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آیا جائے۔

س) کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں شرکت کے لئے ماں باپ کی رضائیت واجب ہے ؟اور کیا ان کے رضائیت کے بغیر ان مجالس میں شرکت کر سکتے ہیں؟

ج)موارد مختلف ہیں۔

س)محرم کے مہینے اور بالخصوص عاشورا کے دن ہنسی مذاق کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)صحیح نہیں ہے۔

س)گلی کوچوں اور بازاروں میں عزاداری کے ایسے جلوس برآمد کرنے کا کیا حکم ہے کہ جو ٹریفک میں خلل کا باعث ہوں؟

ج۔عزاداری سے مخصوص و متعارف ایّام کے دوران اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض اوقات گلی کوچوں میں خیمہ وغیرہ لگا کر عزاداری کا انعقاد کیا  جاتا ہے کہ جس سے کچھ پڑوسی راضی نہیں ہوتے ۔ایسی صورت میں مجالس کا انعقاد کرنے اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)ان مجالس کا اس طرح سے انعقاد کیا جائے کہ جو وہاں سے گذرنے والوں اور پڑوسیوں کے لئے زحمت کا باعث نہ بنے۔

س)عزاداری میں کم یا زیادہ شور کرنے کا کیا حکم ہے کہ جب پڑوسیوں کی رضائیت کے متعلق علم نہ ہو؟کیا پڑوسیوں میں سے ہر ایک کی رضائیت  ضروری ہے یا ان میں سے اکثر کی رضائیت کافی ہے؟

ج)ان مجالس کی عزت و شان کا تقاضا یہ ہے کہ زحمت ایجاد نہ ہو۔

س)آدھی رات کے وقت عزاداری کا شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے کہ جو لوگوں کے آرام اور نیند میں خلل کا باعث ہو؟

ج)کلی طور پر لوگوں کو اذیت و زحمت دینا جائز نہیں ہے چاہے وہ نیند کی حالت میں ہو یا بیداری کی حالت میں۔یہ مجالس و مراسم معمول اور متعارف صورت میں انجام دی جائیں اور بعض موارد جیسے شب عاشورا میں اذیت صدق نہیں کرتی۔

س)کی ا یہ بات صحیح ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا کے  بانی یہ چاہیں  کہ اس مجلس میں زیادہ لوگ شریک ہوں ؟

ج)مجالس عزا میں لوگوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو اور جس قدر زیادہ باعظمت ہوں تو ان کا دلوں میں اثر بھی زیادہ ہو گا نیز اس کے آثار و اثرات بھی زیادہ ہوں گے۔اگر اس مسئلہ کو اہمیت نہ دی جائے تو دین کے دشمن ،فریب کھائے ہوئے مسلمان اور مغرب زدہ ظاہر بین واقعۂ کربلا کا انکار کر دیتے۔البتہ سب کو متوجہ رہنا چاہئے امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا کے انعقاد اور ان میں شرکت کرنے سے حاصل ہونے والا بے شمار اجر و ثواب ان میں محرمات داخل کرنے سے ضائع نہ ہو جائے۔لہذا مذہب اور مجالس عزا کی توہین کا باعث بننے والی ہر چیز سے اجتناب کیا جائے۔

 س) بعض اوقات حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزا کے ایّام کچھ دوسری مناسبات جیسے نوروز سے ہم زمان ہوتے  ہیں۔عزائے حسینی کے ایّام میں دوسری مناسبات کو انجام دینے کے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟

ج)یہ واضح  ہے کہ مؤمنین و محبین اہلبیت علیہم السلام محرم و صفر کے ایّام میں ایسے مراسم اور ایسے اعمال انجام دینے سے گریز کرتے ہیں کہ جو محبّ اہلبیت علیہم السلام کی شان کے مناسب نہیں ہیں اور وہ مجالس اور سیرت عزا کی حفاظت کرتے ہیں۔

 

نماز اور عزاداری

س)اگر کوئی شخص رات دیر تک عزاداری کرنے یا صبح کی نماز قضا نہ ہونے کا خیال رکھنے کے درمیان مردد ہو تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)نماز قضا نہ ہونے کا خیال رکھنا واجب ہے۔

س)اگر کوئی شخص نماز نہ پڑھے،روزہ نہ رکھے اور امام حسین علیہ السلام سے نیکی کرے اور ماتم کرے ،زنجیر زنی کرے اور گریہ و عزاداری کرے  اور نیز جو شخص اپنے مال سے خمس اور زکات ادا نہ کرے تو کیا اس مال کو امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ کر سکتا ہے ؟اور کیا ایسے شخص کو اجر و ثواب ملے گا؟

ج)نماز ار روزہ واجب ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام پر عزاداری و گریہ مستحب ہے ،انسان کو چاہئے کہ وہ نماز پڑھے،روزہ رکھے اور عزاداری بھی کرے ۔نیز جس پیسوں پر خمس ہو،پہلے واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کیا جائے اور پھر اسے امام حسین علیہ السلام کی راہ اور دوسرے کار خیر میں خرچ کیا جائے۔جس مال پر خمس واجب ہو چکا ہو اس کا خمس نکالنے سے پہلے اسے کسی بھی کام میں خرچ کرنا حرام ہے اگرچہ وہ کار خیر ہی کیوں نہ ہو۔

 س)روز عاشور ظہر کے وقت عزادار اظہار حزن کے لئے تیار ہوتے ہیں اور دوسری طرف نماز ظہر کا وقت ہو جاتا ہے ایسے میں مؤمنین کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)ایسے موارد میں اغراض اور فضائل کے حصول میں جمع کیا جائے یعنی سرور شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کے لئے عزاداری بھی کی جائے اور نماز ظہر بھی اوّل وقت بجا لائی جائے۔

 

خواتین کی عزاداری

س) کیا ائمہ اطہار علیہم السلام اور بالخصوص سيد الشهداء حضرت امام حسین عليه‌السلام کی مجالس عزا میں خواتین کا بلند آواز سے گریہ کرنا جائز ہے؟

ج)اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

 

س)عورتوں کا گلی کوچوں میں کھڑے ہو کر عزداری کرتے ہوئے مردوں کو دیکھنے کا کیا حکم ہے؟اور اس سلسلہ میں ہیئت و انجمن کی ذمہ داری کس حد تک ہے؟

ج)عورتوں کا نامحرم مردوں کے جسم کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔

س) خواتین کا عزاداری کے دستوں کے پیچھے چلنے کا کیا حکم ہے؟

ج)اگر اس سے معصیت کا ارتکاب لازم نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

مجلس عزا کے خطباء و ذاکرین 

س)مداحی کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟اور ایک ذاکر و مداح اہلبیت علیہم السلام میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں؟

ج)اگر اہلبيت عصمت و طهارت سلام الله عليهم اجمعين کی مداحی خدا کے لئے ہو تو عبادت ہے اور اس کا اجر عظیم ہے۔اس لئے ذاکر و مداح کو متقی و پرہیزگار ہونا چاہئے نیز اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جو اشعار پڑھے وہ حقیقت کے برخلاف اور جھوٹ پر مبنی نہ ہوں۔جہاں تک ہو سکے ان عبادات کو قصد قربت سے انجام دے تا کہ ان کا ثواب حاصل ہو سکے اگرچہ اس عمل کے لئے اجرت لینے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

س)بعض مداح اس انداز میں حسین حسین کا ذکر کرتے ہیں کہ جو شور اور ہیجان کا باعث بنتا ہے اور وہ گریہ و ماتم کے ساتھ لوگوں میں اچھلنے کودنے جیسا عمل ایجاد کرتے ہیں ،کیا یہ کام صحیح ہے؟

 ج)اگر نوحہ خوانی و مداحی غنا کی صورت میں ہو تو حرام ہے۔

س)کیا موسیقی کے سر ،ساز اور غنا کی صورت میں کی جانے والی مداحی حرام ہے؟

ج)جی ہاں!حرام ہے۔

س)کیا سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا میں  ذاکرین و مداح اور خطباء کا اجرت لینا جائز ہے؟

ج)جائز ہے۔

س)مداح حضرات دعائے کمیل ، دعائے ندبہ اور زیارت عاشورا کے درمیان اشعار اور مصائب پڑھتے ہیں ،اس عمل کا کیا حکم ہے؟

 ج)بہتر یہ ہے کہ وارد ہونے والی دعاؤں کو ان کے ضمن میں اشعار یا کوئی اور چیز پڑھے بغیر ہی پڑھا جائے لیکن بعض موقعوں  پر صحیح مصائب پڑھنے میں کوئی شرعی اشکال نہیں ہے کہ جو دعا سے مناسب ہو۔جی ہاں!اگر اس عمل میں اس طرح سے افراط کیا جائے کہ جو دعا پڑھنے کی صورت سے خارج ہو جائے تو معلوم نہیں کہ اس دعا کا ثواب ملے۔

 

عزاداری کے روائی منابع

س)کیا مرحوم ملّا حسین کاشفی کی کتاب روضه الشهداء اور ملّا آقا دربندی کی کتاب  اسرار الشهادة میں واقعۂ کربلا کے متعلق تحریف شدہ روایات ہیں؟

ج) ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم مذکورہ دو کتابوں کے مؤلفین کو واقعۂ کربلا میں تحریف کرنے سے متہم کریں۔ان میں جو مطالب درج ہیں کہ جو محتمل الوقوع ہیں لہذا جب تک ان کے نہ ہونے پر کوئی دلیل نہ ہو ان کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ ہی مؤلفین کی طرف جھوٹ لکھنے کی نسبت دے سکتے ہیں  اور اگر دلیل کی رو سے کسی چیز کا واقع نہ ہونا قطعی ہو تو اسے نقل نہیں کرنا چاہئے۔ 

س) آپ کی نظر میں فارسی اور عربی میں معتبر مقاتل کون سے ہیں؟

ج)اس بارے میں مرحوم محدّث جناب حاج شيخ عباس قمی صاحب کی تألیفات سے استفادہ کیا جائے۔

س)مداحان و ذاکرین اور خطباء کا بے بنیاد اورمشکوک مصائب پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

ج)بے بنیاد مصائب پڑھنا جائز نہیں ہے اور ایسی چیز پڑھنا کہ جس کے صحیح ہونے کا احتمال ہو تو اگر یہ احتمال کی صورت میں ہو تو اشکال نہیں ہے۔

س)اگر بے بنیاد مصائب پڑھا جائے تو ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

ج)اگر ذاکرین سے جھوٹ سنیں تو شرعی ذمہ داری کے طور پر انہیں نہی از منکر کے عنوان سے تنبیہ کریں اور یہ سب مکلفین کی ذمہ داری ہے۔ 

 

عزاداری منعقد کرنے سے مخصوص اموال

س) اگرماتمداری و عزاداری کے لئے فرض کریں کہ کسی ایسے مال سے استفادہ کیا جائے کہ جس کا مالک راضی نہ ہو تو ان مجالس کے انعقاد اور ان میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر مال کے مالک کی رضائیت کا علم نہ ہو تو مسئلہ کا کیا حکم ہو گا؟

ج)اگر کسی ایسے عین مال (اصل مال)سے استفادہ کیا جائے کہ جس کا مالک راضی نہ ہو تو حرام ہے اوروہ  اس کا ضمان بھی ہو گا۔

س)اگر عزاداری میں کوئی مال کسی خاص مقصد کے لئے دیا جائے تو کیا اسے عزاداری میں کسی دوسرے مورد میں خرچ کر سکتے ہیں؟(مثلاً کھانے کے لئے دئے گئے پیسوں کو کسی دوسری چیز کی خریداری میں خرچ کیا جائے)

ج)ایسے کسی خاص مورد میں خرچ کرنے کے لئے پیسے دیئے گئے ہوں تو ان کسی دوسرے مورد میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے  نیز وہ ضامن بھی ہو گا۔

اگر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری  میں استفادہ کرنے کے لئے کچھ وسائل و لوازمات صیغۂ وقف پڑھے بغیر لئے گئے ہوں تو ان وسائل و لوازمات سے ذاتی طور پر استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟اور اگر کوئی شخص کئی بار مسئلہ نہ جانے کی صورت میں یہ ایسا کرے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج)مذکورہ  وسائل سے ذاتی طور پر استفادہ کرنا جائز نہیں ہے اور جس نے ان سے ذاتی طور پر استفادہ کیا ہو وہ توبہ کرے اور بعض موارد میں یہ ضامن ہونے کا بھی باعث ہے۔

س) اگر ظہر عاشورا کے لئے کھانے اور نذر و نیاز کی منت مانگی گئی ہو تو کیا اسے محرم کے دوسرے ایّام میں انجام دے سکتے ہیں؟

ج)سوال کے فرض کی بنیاد پر مذکورہ نذار و نیاز ظہر عاشورا کے علاوہ کسی اور دن نہیں دے سکتے۔

  

عزاداری میں موسیقی کے آلات

 

س)عزداری میں موسیقی کے آلات جیسے ڈھول،صنج ،ارگ وغیرہ سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)جائز نہیں ہے۔

س)سرور شہیداں حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام کی عزداری کے وقت عزاداروں میں ہماہنگی کے لئے ڈھول اور صنج سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج)اس میں اشکال ہے۔

آيت الله العظمی صافی کی كتاب « گفتمان عاشورايي» سے اقتباس

موضوع:

جمعه / 8 شهريور / 1398
حج کے بعض احکام

حج کے بعض احکام

س۔اگر حاجی نے احرام کا لباس ایسے پیسوں سے خریدا ہو کہ جس کا خمس ادا نہ کیا گیا ہو تو کیا اس کا احرام صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔اگر خمس نہ دیئے گئے انہی پیسوں سے معاملہ نہ کیا گیا ہو کہ جن کا خمس دینا واجب تھا تو اس مال میں تصرف کرنا جائز ہے۔

 

س۔ کیا احرام کی حالت میں پِن(pin) کے ذریعہ رداء کی دونوں طرف کو ایک دوسرے دے متصل کر سکتے ہیں یا اسے گرہ باندھ سکتے ہیں؟

ج۔ اس میں اشکال ہے اور رداء کے دونوں طرٖف کو ایک دوسرے سے متصل نہیں کرنا چاہئے۔

 

س۔ اگر عورتیں اس طرح سے بلند آواز میں ’’تلبیہ‘‘ (یعنی لبیک کہنا)کہیں کہ جسے اجنبی سنیں تو کیا اس میں اشکال ہے یا نہیں؟

ج۔ اگر بلند آواز میں ’’تلبیہ‘‘کہی جائے کہ جسے اجنبی نے سنا ہو تو احوط و اولیٰ یہ ہے کہ اسے دوبارہ بجالایا جائے۔

 

س۔ کیا احرام کی حالت میں صابن اور  مختلف قسم کے شیمپو سے استفادہ کرنے میں اشکال ہے؟

 ج۔ اگر ان پر خوشبو صدق کرے تو ان سے اجتناب کیا جائے ،ورنہ ان میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س۔ احرام کی حالت میں کچھ لوگ ڈیجیٹل کیمروں سے ایک دوسرے کی تصاویر بناتے ہیں اور تصاویر کو دیکھتے وقت اس کے مونیٹر میں دیکھتے ہیں کہ جو شفاف اور آئینہ کی مانند ہے ۔کیا اس میں اشکال ہے یا نہیں؟
ج. اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

 

س۔احرام کی حالت میں عورتوں کے لئے ہاتھ اور چہرے کی آرائشی کریموں کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج. جائز نہیں ہے.

 

س۔احرام کی حالت میں عقد(نکاح)کرنے کا کیا حکم ہے؟

 ج۔ عقد(نکاح) باطل ہے اور ہمیشہ کے لئے حرمت کا موجب ہے۔

 

س۔ اگر احرام کی حالت میں بسیں راستہ میں موجود پل وغیرہ کے نیچے سے گزریں اور مجبوراً محرمین کو بھی پل کے نیچے سے گزرنا پڑے یا بسیں پٹرول پمپ پر چھتوں کے نیچے رکیں تو کیا اس میں اشکال ہے؟

ج۔ احرام کی حالت میں سر پر سایہ کرنا حرام ہے۔ اس بناء پر مذکورہ سوال کی رو سے محرم کے لئے کوئی اشکال نہیں ہے اور اس کا کفّارہ بھی نہیں ہے۔

 

 س۔اگر کسی کے مصنوعی بال ہوں اور وہ محرم ہو جائے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
ج.حج و عمرہ کے لئے کوئی ضرر نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر وہ مرد ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کفارہ دے لیکن اس کے مصنوعی بال اس کے وضو یا غسل کے صحیح  ہونے کے لئے مضر نہ ہوں(یعنی مصنوعی بال وضو یا غسل کے لئے مانع نہ ہوں)

 

س۔اگر کوئی شخص طواف کے دوران پیشاب کو نہ روک سکتا ہو تو کیا اسے نائب لینا چاہئے؟

ج۔ مسلوس (جو شخص پیشاب وغیرہ کو نہ روک سکتا ہو) کے لئے طواف کا وہی حکم ہے جو نماز کے لئے مسلوس کا حکم ہے اور مبطون نائب لے ،اور احتیاط یہ ہے کہ خود بھی بجا لائے اور نائب بھی لے۔

 

س. کيا شاذروان كعبه کا جزء شمار ہوتا ہے؟اگر طواف کرنے والے کے بدن کا کوئی عضو یا اعضاء اس کے اوپر آجائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج.جی ہاں! یہ کعبۂ معظمہ کا جزء ہے۔ اس بناء پر اگر طواف کے دوران اس پر چلیں یا بدن کا کوئی عضو اس پر آجائے تو اس مقدار میں طواف دوبارہ سے صحیح طور پر انجام دیا جائے اور طواف تمام کیا جائے اور پھر طواف  اور اس کی نماز تمام کرنے کے بعد احتیاطاً طواف اور نماز  طواف دوبارہ سے بجا لایا جائے۔

 

س۔ہجوم کے موقع پر اگر عورتیں 5/26 ذراع حدود کے اندر طواف بجا لانا چاہیں یا مقام ابراہیم کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہیں,کیونکہ نا محرم مردوں کے دھکے نہ لگیں توانہیں کیا کرنا چاہئے
ج. صرف یہی امر حدود سے باہر طواف کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

 

س.آج کے زمانے میں صفا و مروہ کے درمیان فاصلہ کو دو منزلہ ہال کی صورت میں بنا دیا گیا ہے ، اس کی دوسری منزل پر سعی انجام دینے کا کیا حکم ہے؟
ج.اگر دوسری منزل کوہ صفا و مرورہ کے درمیان ہو اور اس سے بلند نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س. اگر کوئی تقصير کی بجائے حلق کر لے تو کیا یہ کافی ہے؟
ج۔یہ عمرهٔ تمتّع میں کافی نہیں ہے لہذا اسے چاہئے کہ وہ کفارہ کے طور پر ایک بھیڑ دے۔

 

س۔ کیا آپ کی نظر میں بالائی منزلوں سے رمی جمرات کرنا کافی ہے یا نہیں؟

ج۔  جمرات کے ستون میں اضافہ شدہ حصہ پر رمی کرنا احتیاط کے برخلاف ہے لیکن اگر بالائی منزلوں سے جمرات کے سابقہ حصہ پر رمی کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س۔ کچھ عرصہ قبل قربانی کے مقام کو منیٰ سے تبدیل کرکے وادی محسّر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ کیا منیٰ کے علاوہ دوسرے مقام پر قربانی کر سکتے ہیں یا منیٰ میں ہی قربانی کرنی چاہئے؟

ج۔ جب تک منٰی میں قربانی کرنا ممکن ہو تو منٰی کے علاوہ دوسرے مقامات پر قربانی کرنا کافی نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر منیٰ میں قربانی کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دے دی جائے تو اقویٰ یہ ہے کہ وادی مجسّر میں بھی قربانی کرنا کافی ہے۔

 

س.کیا اہلسنت کی نماز جماعت میں شریک ہو کر ان کے ساتھ یومیہ نمازیں پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔ضرورت کی حالت میں عامہ (اہلسنت) کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ضرورت کے علاوہ دوسرے موارد میں بھی اگر ان کے ساتھ نماز ادا کرنا ان کے دلوں کو جذب کرنے ، تألیف قلوب اور شیعوں پر تہمتوں کو دور کرنے کا باعث ہو تو یہ ایک اچھا عمل ہے اور نماز اعادہ کرنا(یعنی دوبارنماز پڑھنا) ضروری نہیں ہے ، اگرچہ یہ احتیاط کے موافق ہے۔

 

س۔ کیا دو افراد کی نیابت میں ایک حج انجام دے سکتے ہیں؟
ج.کوئی بھی شخص ماہ ذی الحجہ میں اپنے لئے یا کسی اور کی نیابت میں صرف ایک ہی حج انجام دے سکتا ہے، لیکن مستحبی حج دو یا چند افراد کی نیابت میں انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س۔کیامسجد الحرام میں فرش پر لگے پتھروں ( جیسے سنگ مرمر) پر سجدہ کرنا جائز ہے؟
ج. جی ہاں!جائز ہے،ان معدنیات پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے کہ جنہیں عرف میں زمین نہ کہا جائے مثلاً سونا، چاندی، عقیق، تانبا اور تمام دوسری دھاتیں۔

 

س۔ کیا عورتیں احرام کی حالت میں جورابیں پہن سکتی ہیں یا ان کے پاؤں کا بالائی حصہ بھی مردوں کی طرح کھلا ہونا چاہئے؟
ج. اقویٰ یہ ہے کہ عورتوں کے لئے جورابیں پہننا جائز ہے۔جی ہاں! نامحرم کے سامنے چھپانا واجب ہے۔

 

س.آج کل حج تمتع میں سر کے بالوں کو تراشنے کے کچھ ایسی مشینیں ہیں کہ جو بعض حجاج بیت اللہ الحرام کے لئے مشکلات ایجاد کرتی ہیں۔ براہ کرم اس بارے میں مندرجہ ذیل چند سوالوں کے جواب عنائت فرمائیں:
الف) کیا حج تمتع میں حتمی طور پر حلق کرنا ضروری ہے تقصير کا امکان بھی موجود ہے؟

ب) جن موارد میں حلق کرنا معین ہوا ہے تو کیا حلق کرنے کے لئے بلیڈ کا استعمال ضروری ہے یا آج کل کے زمانے میں موجود دوسرے ذرائع سے بھی حلق کر سکتے ہیں؟
ج)اگر کسی آلہ میں بلیڈ ہو لیکن اس میں متعارف آلہ کی طرح بلیڈ نہ ہو اور عرف میں وہ کوئی دوسرا آلہ ہو لیکن اس میں بلیڈ ہو تو کیا یہ کافی ہے؟
د) اگر کوئی ایسا آلہ ہو کہ جس میں بلیڈ  نہ ہو لیکن وہ آلہ بالوں کو جڑوں سے کاٹ دے کہ جس سےبالوں کی جڑیں بھی باقی نہ رہیں تو کیا یہ کافی ہے یا نہیں؟
ج. الف. صرورة (پہلی مرتبہ حجّ تمتع انجام دینے والے) کے لئے احتیاط کی بناء پر حلق کرنا واجب ہے۔

ب. بیلڈ سے تراشنا ضروری ہے۔
ج..اگر یہ بلیڈ کے ساتھ ہو اور حقیقت میں سر کو بلیڈ کے ساتھ تراشا گیا ہو تو اشکال نہیں ہے۔
د. یہ کافی نہیں ہے.

 

س.اگر کوئی واجب حج کے طواف میں شک کرے کہ کیا طواف کے ۶ چکر لگائیں ہیں یا ۷،لیکن اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی طواف کر رہی ہو جو یہ کہے کہ طواف کے ۷ چکر لگائے ہیں تو کیا وہ شخص اپنی بیوی کے قول پر اعتماد کرسکتا ہے تا کہ پھر اپنے شک پر اعتناء نہ کرے؟
ج. اگر بیوی کے قول سے اطمینان حاصل ہو جائے تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س.کیااختیاری یا اضطراری حالت میں (چاہے مالی لحاظ سے اضطرار ہو یا جدید منیٰ [ جو منیٰ سے باہر ہے] میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اضطرار ہو اور بعض خیمہ وادی محسر اور مزدلفہ میں نصب ہوتے ہیں) ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کی رات منیٰ میں بیتوتہ جائز ہے یا نہیں؟
ج. بيتوته؛ منیٰ میں ہونا چاہئے۔

 

س۔مکۂ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں دیگر مساجد، ہوٹلوں اور دوسرے مقامات پر نماز پوری پڑھی جائے یا قصر؟
ج. مکہ اور مدینہ کے پوری شہر میں زائرین مخیر ہیں یعنی انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نماز قصر پڑھیں یا پوری نماز پڑھیں۔

 

س۔ اگر کوئی پہلی مرتبہ حج تمتع کے لئے جائے تو کیا وہ حلق کی بجائے تقصیر کر سکتا ہے؟

ج. احتياط واجب کی بناء پر حلق کرنا ضروری ہے۔

 

س۔گذشتہ سال میں نے اپنی سات سالہ بیٹی کو عمرۂ مفردہ میں محرم کیا۔ اپنے وطن ایران واپس آنے کے بعد میں متوجہ ہوا کہ اس کا وضو غلط تھا، اب اس کا حکم کیا ہے؟کیا جتنی مدت وہ ایران میں تھی، اسے احرام کے محرمات سے پرہیز کرنا چاہئے تھا؟ اور کیا اس کا مرتب کفارہ ہے؟
ج۔اگر واپس جانا ممکن ہو تو طواف اور اس کی نماز انجام دے اور بہتر یہ ہے کہ اعمال مترتبہ کو بھی انجام دے یا کوئی نائب لے کہ جو اس کی طرف سے یہ اعمال انجام دے اور بعد میں آپ کو اس کے بارے میں خبر دے یہاں تک کہ وہ تقصیر کرے اور اس کے بعد نائب طواف النساء اور نماز طواف  بجا لائے اور ان اعمال کو انجام دینے سے پہلے تک  احرام کے محرمات سے اجتناب کرے اور اگر محرمات احرام کو جانتے ہوئے عمداً انجام دے تو کفارہ واجب ہے اور یہ کفارہ بچہ کے ولی کے ذمہ ہے۔

 

س۔اگر کسی نے سر پر مصنوعی بال لگوائے ہوں(hair transplant) اور  پہلی بار حج تمتع سے مشرف ہونے کی صورت میں کیا وہ حتمی طور پر ان مصنوعی بالوں کو تراشے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور راہ ہے ؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

ج۔ چونکہ مصنوعی بال جلد میں کاشت کئے جاتے ہیں اور وہ نشوونما پاتے ہیں، لہذا وہ قدرتی بالوں کا حکم رکھتے ہیں۔ احتیاط واجب کی بناء پر مرد کو پہلی مرتبہ حج تمتع میں سر کے بالوں کو تراشنا چاہئے  اور اس حکم میں وہ کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کر سکتا ہے کہ جس نے تقصیر پر ہی اکتفاء کرنے کے جواز کا فتویٰ دیا ہو اور دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنے میں الاعلم فالاعلم کی رعائت کرے۔ لیکن اگر منصوعی بالوں کو سر پر چپکا دیا گیا تو انہیں سر سے ہٹانا واجب ہے اور اسی طرح اگر مصنوعی بال نشوونما  نہ کریں تو بھی یہی حکم ہے۔

 

س.کیا محرم شخص احرام کی طرح کوئی ایسی چادر یا کمبل وغیرہ لپیٹ سکتا ہے کہ جس کے اردگرد سلائی ہوئی ہو،یا وہ سوتے وقت اسے اوڑھ سکتا ہے؟
ج۔اگر سوتے وقت کمبل کو اپنے اردگرد اس طرح سے نہ لپیٹے کہ جو لباس کی مانند ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر بیٹھے یا کھڑے ہوں تو اپنے اوپر سلائی شدہ کمبل وغیرہ نہ ڈالے یعنی اسے  اوڑھنے سے اجتناب کرے۔

 

س.گذشتہ سالوں کے دوران عرفات، مشعر اور منیٰ سے گذرتے ہوئے عاجز و ناتوان(مثلاً بوڑھے افراد) اور عورتوں کو منی ٰٰکی طرف لے گئے اور مشعر الحرام میں وقوف کے بغیر ان حجاج کو وہاں سے گزار دیا گیا اور پھر انہیں منیٰ کی طرف اور رمی جمرات کے لئے لے گئے۔ کیا وقوف کے بغیر مشعر الحرام سے گزر جانا ہی کافی ہے  اور کیا وقوف کے لئے چند لمحات کافی ہیں یا یہ کہ کچھ دیر لئے وقوف ضروری ہے۔
ج. وقوف کے معنی توقف اور رکنا نہیں ہیں بلكه اس سے مراد مشعر الحرام  میں ہونا ہے۔ اس بناء پر اگر مشعر سے گزرتے وقت وقوف کا قصد کریں تو کافی ہے۔

 

س۔معذورین کو نقل و حمل کے ذرائع سے عرفات سے منیٰ کی طرف لے جانے کے لئے جدید پروگراموں کے مطابق کبھی مزدلفہ میں نہیں ٹھہراتے،اس صورت میں کیا کرنا چاہئے؟ دوسرے لفظوں میں کیا صرف مزدلفہ میں حاضر ہونا(یعنی رات کے وقت معذور یا طلوعین کے درمیان غیر معذور زائرین کا وہاں سے گزرنا ہی کافی ہے) اور وہاں سے گزرتے ہوئے وقوف کی نیت کر لینا کافی ہے یا نہیں؟
ج۔مذکورہ سوال کی رو سے وقوف کافی ہے اگرچہ یہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہو۔

 

 س۔کیا موجودہ شرائط میں حج عمرۂ مفردہ انجام دینے کے عنوان سے ایک سال پیسے ودیعہ کے طعر پر رکھے جاتے ہیں اور چند سالوں کے بعد حج کے لئے بھیجا جاتا ہے کہ ودیعہ کے ان پیسوں پر خمس لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟
ج.اگر سال کے اخراجات سے نام درج کروایا گیا ہو اور بعد کے سالوں میں حج سے مشرف ہوں تو اصل پیسوں اور حج کے لئے جانے سے پہلے والے سالو ں میں ان پیسوں کے منافع پر خمس ہے، نیز اگر حج کے لئے نام درج کروانے سے پہلے پیسوں پر خمس لاگو ہو چکا ہو تو ان پیسوں کا خمس ادا کرنا ضروری ہے۔

 

موضوع:

دوشنبه / 14 مرداد / 1398
عید الفطر کی نماز کے احکام

عید الفطر کی نماز کے احکام

۱۔امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے زمانۂ حضور میں عید کی نماز واجب ہے اور اسے جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے لیکن ہمارے زمانے میں کہ جب امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف غائب ہیں،یہ نماز مستحب ہے اور اسے جماعت کے ساتھ اور فرادیٰ پڑھا جا سکتا ہے لیکن احتیاط یہ ہے کہ اسے جماعت کے ساتھ رجاءاً پڑھا جائے۔
۲۔عید فطر کی نماز کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب سے ظہر تک ہے۔.

۳۔عید فطر میں مستحب ہے کہ سورج چڑھ آنے کے بعد افطار کیا جائے اور فطرہ دیا جائے اور پھر عید فطر کی نماز ادا کی جائے۔
۴۔عید فطر کی نماز دو رکعت ہے جس کی پہلی رکعت میں الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد پانچ تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھے اور پانچویں قنوت کے بعد ایک اور تکبیرکہے اور رکوع میں چلا جائے اور پھر دو سجدے بجا لائے اور پھر اٹھ کھڑا ہو اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد قنوت پڑھے اور پھر پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور پھر دو سجدے بجا لائے اور تشہد پڑھے اور پھر سلام کہہ کر نماز تمام کر دے۔
۵۔عید الفطر کی نماز کے قنوت میں جو دعا اور ذکر پڑھے کافی ہے، لیکن بہتر ہے کہ یہ دعا پڑھی جائے:

’’اللهم اهل الكبريا والعظمة واهل الجود والجبروت واهل العفو والرحمة واهل الـتـقـوى والـمغفرة اسالك بحق هذا اليوم الذى جعلته للمسلمين عيداً ولمحمد ذخراً وشرفاً وكـرامة ومزيداً ان تصلى على محمد وآل محمد وان تدخلنى فى كل خير ادخلت فيه محمداً وآل مـحـمد وان تخرجنى من كل سوء اخرجت منه محمداً وآل محمد صلواتك عليه وعليهم. اللهم انى اسالك خير ما سألك به عبادك الصالحون واعوذ بك ممااستعاذ منه عبادك المخلصون.‘‘

۶۔امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے زمانے میں مستحب ہے کہ عید الفطر کی نماز کے بعد دو خطبے پڑھے جائیں اور بہتر ہے کہ عید الفطر کے خطبہ میں زکات فطرہ کے احکام بیان کئے جائیں  ۔
۷۔عید کی نماز کے لئے کوئی سورہ مخصوص نہیں ہے لیکن بہتر ہے کہ اس کی پہلی رکعت میں سورهٔ شمس (۹۱ واں سوره) اور دوسری رکعت میں سورهٔ غاشيه (88 واں سوره) پڑھا جائے، يا پہلی رکعت میں سورهٔ سبح اسم (87 واں سوره) اور دوسری ركعت  میں سورهٔ شمس (91 واں سوره) پڑھا جائے.
۸۔ عید کی نماز کھلے میدان میں پڑھنا مستحب ہے لیکن مکۂ مکرمہ میں مستحب ہے کہ عید کی نماز مسجد الحرام میں پڑھی جائے.

۹۔ مستحب ہے کہ نماز عید کے لئے پیدل اور پا برہنہ اور باوقار طریقہ سے جائیں اور نماز سے پہلے غسل کریں اور سفید عمامہ سر پر رکھیں۔

۱۰۔مستحب ہے کہ نماز عید میں زمین پر سجدہ کیا جائے اور تکبیریں کہتے وقت ہاتھوں کو بلند کیا جائے اور جو شخص نماز پڑھ رہا ہو تو چاہے وہ امام جماعت ہو یا فرادیٰ نماز پڑھ رہا ہو ،وہ نماز بلند آواز سے پڑھے۔

۱۱۔مستحب ہے کہ عید الفطر کی رات مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد اور عید الفطر کے دن نماز صبح کے بعد اور عید فطر کی نماز کے بعد بلکہ عید الفطر کے دن ظہر و عصر کے نماز کے بعد بھی یہ تکبیریں کہے: الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد، الله اكبر على ما هدانا.
۱۲۔احتیاط مستحب یہ ہے كه عورتیں عید کی نماز پڑھنے کے لئےجانے سے گریز کریں لیکن یہ احتیاط عمر رسیدہ عورتوں کے لئے نہیں ہے۔

۱۳۔دوسری نمازوں کی طرح عید کی نماز میں بھی مقتدی کو چاہئے کہ وہ الحمد اور سورہ کے علاوہ نماز کے دوسرے اذکار خود پڑھے۔

۱۴۔اگر مقتدی اس وقت پہنچے کہ امام کچھ تکبیریں کہہ چکا ہو تو امام کے رکوع میں جانے کے بعد ضروری ہے کہ اس نے جتنی تکبیریں اور قنوت امام جماعت کے ساتھ نہیں پڑھے،انہیں خود پڑھے اور اگر ہر قنوت میں ایک مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ اور ایک مرتبہ ’’ الحمد للہ‘‘ کہے تو کافی ہے۔

۱۵۔اگر کوئی عید کی نماز میں اس وقت پہنچے کہ امام جماعت رکوع میں ہو تو وہ اقتدا کر سکتا ہے اور وہ تکبیریں اور قنوت مختصر طور سے بجا لائے اگرچہ ایک مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ ہی کہے اور رکوع کو درک کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ورنہ احتیاط یہ ہے کہ رکوع کی حالت میں اقتدا نہ کرے۔

۱۶۔اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایک سجدہ یا تشہد بھول جائے تو احتیاط یہ ہے کہ نماز کے بعد اسے بجا لائے۔ نیز اگر نمازعید کے دوران کوئی ایسا فعل سرزد ہو جائے کہ جس کے لئے سجدۂ سہو لازم ہو جاتا ہو تو احتیاط کی بناء پر نماز کے بعد دو سجدۂ سہو بجا لائے۔

موضوع:

يكشنبه / 12 خرداد / 1398
روزہ کے احکام

دوربین وغیرہ سے رؤيت ہلال

س۔کیا رؤیت ہلال کے لئے نجومی آلات جیسے دوربین، ٹیلی اسکوپ وغیرہ کو استعمال کرنا شرعی لحاظ سے معتبر ہے؟
ج. ایسے آلات سے استفادہ کرکے رؤیت ہلال کو ثابت کرنے میں اشكال ہے.والله العالم

 

مہینہ کی پہلی تاریخ کا ثابت ہونا

س۔اگر ریڈیو یا ٹیلویژن وغیرہ پر یہ خبر نشر ہو کہ فلاں شہر میں چاند نظر آ گیا ہے تو کیا اس ملک کے تمام لوگ اس دن کو عید قرار دیں یا نہیں؟
ج. اگر ریڈیو یا ٹیلی ویژن وغیرہ سے نشر ہونے والی خبر سے انسان کو علم حاصل ہو جائے، تو اسے عيد قرار دیں. والله العالم

 

افق کا اتحاد ہونا

س۔اگر کسی ایک شہر میں چاند نظر آجائے تو کیا دوسرے شہر (کہ جن کا افق یکساں ہو اور جن میں دو گھنٹے کا فرق ہو)میں بھی اوّل ماہ ثابت ہو جائے گا یا نہیں؟

ج۔ایک شہر میں رؤیت ہلال کا تمام شہروں کے لئے کافی ہونا بعید نہیں ہے۔ والله العالم 

 

منجّمين کے محاسبات سے چاند کا اثبات

س۔کیا نجومیوں کے محاسبات سے چاند ثابت ہو جاتا ہے  اور بالخصوص جب ماضی کے مقابلہ میں آج انہیں بہت دقیق سہولیات میسر ہیں اور وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ آج کے علمی آلات سے حاصل ہونے والے نتائج کا نکار نہیں کیا جا سکتا ؟

ج۔ منجوموں کی پیشنگوئیاں بذاتہ حجت شرعیہ نہیں ہیں۔جی ہاں! اگر کسی کو محاسبہ کے صحیح ہونے کا علم ہو تو وہ نجومی کے قول سے حاصل ہونے والے علم کے مطابق عمل کرے۔ والله العالم

 

يوم الشك کا روزہ

س۔ اگر شعبان کی نیت سے یوم الشک(یعنی ماہ شعبان کے آخری اور ماہ رمضان کے پہلے دن کے درمیان شک) کا روزہ رکھے اور پھر افطار کی نیت کرے، لیکن ظہر یا افطار کرنے سے پہلے یہ معلوم ہو جائے کہ ماہ رمضان ہے ،اس صورت میں اگر رمضان کے روزے کی نیت کرے تو کیا اس کا روزہ صحیح ہے؟.

ج۔اس سوال کی رو سے ماہ رمضان کے روزے کی نیت کرے اور روزہ صحیح ہے۔والله العالم

 

چاند کا بلند ہونا

س۔کیا آپ چاند کے بلند ہونے کو دوسری رات کی دلیل سمجھتے ہیں؟

ج۔چاند کا بلند ہونا دوسری رات کی شرعی دلیل نہیں ہے۔ والله العالم

 

ماہ مبارک رمضان میں مبطلات روزہ سے اجتناب کرنے کا وقت

س.شہروں کی وسعت کی وجہ سے وجہ سے ماہ مبارک رمضان میں طلوع فجر کے وقت کو دقیق طور سے مشخص نہیں کر سکتے ،لہذا آپ سے گذارش ہے کہ آپ ماہ رمضان میں روزہ رکھنے(یعنی جس وقت سے مبطلات روزہ کو انجام دینے سے پرہیز کیا جائے  ) اور فجر کی نماز کے اوقات بیان فرما دیں؟
ج. جب انسان کو طلوع فجر صادق کا یقین ہو جائے تو مبطلات روزہ کو انجام دینے سے گریز کرنا واجب ہے اور وہ صبح کی نماز پڑھ سکتا ہے۔طلوع فجر کے وقت کو دقیق طور پر معین کرنا ممکن نہیں ہے کہ جس میں مبطلات روزہ سے اجتناب کرنا واجب ہو اور جو نماز صبح کا وقت ہو،احتیاط یہ ہے کہ روزہ میں طلوع فجر سے کچھ دیر پہلے سے ہی مبطلات روزہ کو انجام دینے سے  پرہیز کیا جائے۔والله العالم

 

بالغ لڑکیاں اور روزہ رکھنے پر قادر نہ ہونا

س۔توضیح المسائل میں عورت کے بالغ ہونے کی عمر نو سال ذکر ہوئی ہے کہ جس میں اس پر شریعت کے احکام واجب ہو جاتے ہیں،جب کہ نو سال کی عمر میں لڑکیاں اس قدر چھوٹی ہوتی ہیں کہ اگر وہ روزہ رکھیں تو بیمار ہو جائیں، بلکہ وہ روزہ نہیں رکھ سکتیں اور ان میں بالغ ہونے کی دوسری نشانیاں بھی نہیں ہوتیں،لہذا اس صورت میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟

ج۔لڑکیوں میں شریعت کے احکام نو قمری سال مکمل ہو جانے کے بعد واجب ہو جاتے ہیں، جب کہ واجبات کے انجام دینے کے لئے قدرت کی بھی شرط ہے۔جو واجبات کو انجام دینے کی قدرت رکھتا ہووہ انہیں انجام دے  اور جو انجام دینے پر قادر نہ ہو اس سے یہ ساقط ہے۔مثلاً اگر روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو  تو روزہ نہیں رکھنا چاہئے  اور جب بھی روزہ رکھنے پر قادر ہو تو اس کی قضا بجا لائے  لیکن نماز،حجاب اور ان جیسے دوسرے واجبات کو انجام دے کہ جن کو انجام دینے پر قادر ہو۔ والله العالم

 

روزگار کی سختی اور گرم موسم کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہونا

س۔ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے کہ جس کا روزگار بہت سخت اور دشوار  ہو اور جو بہت گرم شہر میں کام کرتا ہو،اور گرمیوں میں اس کے لئے روزہ رکھنا تقریباً ناممکن ہے؟

 ج۔اگر اوقات کار کو کم کرکے روزہ رکھ سکتا ہو تو روزہ رکھے تا کہ اس کی برکتوں سے محروم نہ ہو اور اگر یہ کام ممکن نہ ہو تو ہر دن صبح شرعی مسافت کے برابر سفر کرے اور وہاں اپنا روزہ افطار کرے ،اس صورت میں اس شخص پر صرف روزہ کی قضا واجب ہو گی اور کفارہ نہیں ہو گا۔واللّٰہ العالم

 

ماہ رمضان میں ہر دن کے روزہ کو نیت میں معین کرنا

س۔کیا ماہ رمضان کے روزہ کی نیت میں یہ معین کرنا چاہئے کہ ماہ رمضان کے کس دن کا روزہ رکھ رہے ہیں؟

ج۔یہ ضروری نہیں کہ ہر دن کے روزہ کی الگ سے نیت کی جائے بلکہ صرف یہی جان لینا کہ ماہ رمضان کا روزہ رکھ رہے ہیں تو یہ کافی ہے۔ والله العالم

 

ماه رمضان کے روزہ کی نیت بھول جانا

س۔اگر ماہ رمضان میں طلوع فجر سے پہلے نیت کرنا بھول جائیں تو کیا کرنا چاہئے؟

ج۔اگر ظہر سے پہلے یاد آجائے تو نیت کرے اور اگر ظہر کے بعد یاد آئے تو روزہ باطل ہے ، لیکن اس دن بھی مبطلات روزہ کو انجام دینے سے اجتناب کرے  اور بعد میں قضا بھی بجا لائے۔والله العالم

 

روزہ دار کا صبح کی نماز کے بعد روزہ کی نیت کئے بغیر بیدار ہونا
س۔اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کا قصد رکھتا ہو لیکن سحری کے لئے بیدار نہ ہو  اور صرف نماز کے لئے بیدار ہو اور اس کے بعد پھر سو جائے تو کیا ایسے شخص کا روزہ رکھنا صحیح ہے؟

ج۔صرف روزہ رکھنے کا قصد کرنا ہی کافی ہے اور سحری کھانا ضروری نہیں ہے۔ والله العالم

 

روزہ کی حالت میں ٹیکہ یا ڈرپ لگوانا

س۔کیا ماہ رمضان میں روزہ دار انجیکشن یا ڈرپ لگوا سکتا ہے؟

ج۔احتیاط مستحب یہ ہے کہ انجیکشن اور ڈرپ کے استعمال سے پرہیز کرے اور اگر یہ ضروری ہو تو انجیکشن یا ڈرپ لگوا سکتا ہے ،اور اس کا روزہ باطل نہیں ہو گا۔والله العالم

 

ناک کے قطروں کا استعمال

س۔ روزہ کی حالت میں سانس کی نالیوں کو کھولنے کے لئے ناک کے قطرے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ،جب کہ بعض موارد میں وہ یقینی طور پر حلق میں چلے جاتے ہیں؟
ج. اگر یہ حلق میں چلے جائیں تو روزہ باطل ہو  جائے گا. والله العالم

 

مسواك‌ كرنا

س۔کیاماہ رمضان میں دن کے وقت برش کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے نہیں؟

ج۔اگر توٹھ پیسٹ سے پیدا ہونے والا پانی یا بیرونی پانی حلق میں داخل نہ ہو اور اسے منہ سے باہر پھینک دیں تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ والله العالم

 

 اینڈوسكوپی(Endoscopy)

س۔اینڈوسکوپی(Endoscopy)ایک ایسی مشین ہے کہ کہ جو معدہ میں داخل ہوتی ہے اور معدہ کی تصویر لیتی ہے ،جب کہ اس سے معدہ میں کوئی چیز داخل نہیں ہوتی،کیا یہ عمل روزہ کے باطل ہونے کا باعث ہے یا نہیں؟ 

ج۔احتیاط کی بناء پر روزہ دار کے لئے اس عمل میں اشکال ہے۔والله العالم

 

حمام میں بخارات کا ہونا

س۔اگر حمام میں بخارات ہوں تو کیا یہ روزہ کے باطل ہونے کا موجب بنتے ہیں؟

ج۔اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔ والله العالم

 

چیونگم چبانا

س۔روزہ کی حالت میں چیونگم چبانے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اس کا کوئی ذائقہ نہ ہو کہ جو حلق میں جائے تو روزہ صحیح ہے ،لیکن روزہ دار کے لئے یہ عمل اچھا اور پسندیدہ نہیں ہے اور اسے ظاہری طور پر انجام دینے میں اشکال ہے۔والله العالم

 

تمباکو نوشی

س۔کیا سگریٹ نوشی یا حقہ پینے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟

ج۔ احتیاط واجب کی بناء پر روزہ دار سگریٹ یا حقہ کا دھواں حلق تک نہ پہنچائے۔والله العالم

 

خون دینا

س۔کیا روزہ دار کو خون دینے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟ 

ج۔ اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔والله العالم

 

خون کا ٹیسٹ

س۔اگر ماہ مبارک رمضان میں ٹیسٹ کے لئےمجھ سے  ۵سی سی خون لے لیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اس میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر یہ کمزوری اور ضعف کا باعث بنے تو مکروہ ہے۔والله العالم

 

دانت بھروانا

س۔ماہ رمضان میں دانتوں کی بھرائی کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ڈاکٹروں کے لئے ماہ رمضان میں دانتوں کی بھرائی کرنا،ان کی صفائی کرنا اور دانتوں کو نکالنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن روزہ دار کے لئے اسی صورت میں جائز ہے کہ جب وہ مطمئن ہو کہ  خون یا مشین کے ذریعہ منہ میں ڈالا جانے والا پانی  حلق میں نہیں جائے گا۔ والله العالم

 

بناؤ سنگھار کی چیزوں کا استعمال

س۔ماہ رمضان میں روزہ دار کے لئے بناؤ سنگھار کی چیزوں(جیسے کریم،سرمہ وغیرہ)کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج۔اس میں اشکال نہیں ہے لیکن کسی ایسے سرمہ کو استعمال کرنا مکروہ ہے کہ جس کی بو یا ذائقہ حلق تک پہنچ جائے ۔ والله العالم

 

حیض کو روکنے والی ادویات کا استعمال

س۔ماہ مبارک رمضان میں کچھ عورتیں ماہواری کو روکنے کے لئے ادویات استعمال کرتی ہیں،کیا ان کا روزہ صحیح ہے یا نہیں ؟
ج. اگر حیض نہ آئے تو ان کا روزہ صحیح ہے. والله العالم

  

روزہ کی حالت میں غوطہ خوری

س۔آپ سے گذارش ہے کہ آپ غوطہ خوروں کے روزہ کے متعلق شریعت مقدسہ کا حکم بیان فرما دیں؟
ج.غوطہ خوری کے لباس کے ساتھ بھی پانی میں جانا احتیاط واجب کی بناء پر روزہ کے باطل ہونے کا سبب ہے۔لیکن اگر انسان سمندر میں کسی کمرے نما جگہ میں جائے کہ اس کا بدن پانی سے نہ ملے تو روزہ باطل نہیں ہو گا۔. والله العالم

 

کام کاج کی جگہ گرد و غبار ہونا
س۔ میں جہاں کام کرتا ہوں ،وہاں گرد و غبار کے ذرات ہوا میں پھیل جاتے ہیں اور اس جگہ سے دوری ممکن نہیں ہے۔ان سے بچنے کے حتی الامکان وسائل جیسے ماسک وغیرہ سے استفادہ کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی گرد و غبار حلق تک پہنچ جاتی ہے ۔ایسی جگہ پر روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔اگر گرد و غبار حلق تک پہنچ جائے تو روزہ میں اشکال ہے۔ والله العالم

 

حاملہ عورت کا روزہ

س۔ کیا پانچ مہینہ سے حاملہ عورت کے لئے روزہ رکھنا واجب ہے؟

ج۔ اس سلسلہ میں خواتین کی طبیعت مختلف ہوتی ہے لیکن کلی طور پر اگر تجربہ سے بات ثابت ہو جائے یا ماہر ڈاکٹر و طبیب یہ کہے کہ روزہ رکھنا عورت یا بچہ کے لئے کے لئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے تو روزہ نہ رکھے۔ والله العالم

 

قرآن مجید کو غلط طریقہ سے پڑھنا

س۔ اگر ماہ رمضان میں غلط طریقہ سے قرآن کی تلاوت کی جائے تو کیا روزہ میں کوئی اشکال ہے؟(قرآن کے الفاظ و کلمات کو صحیح طور سے تلفظ نہ کرنا)

ج۔ اگر عمداً اور جان بوجھ پر آیات کو غلط نہ پڑھے تو اشکال نہیں ہے۔ والله العالم

 

ایک معصوم کی روایت کو دوسرے معصوم سے نسبت دینا

س۔معصومیں علیہم السلام کے کلام کو غلطی سے کسی دوسرے معصوم سے نسبت دے دیں ،مثلاً یہ کہنے کی بجائے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا،یہ کہہ دیں کہ امیر المؤمین علی علیہ السلام نے یوں فرمایا،تو کیا یہ روزہ کے باطل ہونے کس سبب ہے؟

اور اگر عمداً ایسا کریں تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج۔اشتباہ کی صورت میں اشکال نہیں ہے لیکن اگر جان بوجھ کر ایسا کرے تو چونکہ اس انتساب و نسبت سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت نے یہ کلام ارشاد فرمایا ہے ، حالانکہ وہ شخص جانتا ہے کہ یہ کلام آنحضرت کا نہیں ہے ،لہذا یہ جھوٹی نسبت ہے کہ جو روزہ کو باطل کر دیتی ہے اور جس کی وجہ سے قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔ والله العالم

 

ماہ رمضان میں سفر کرنا
س۔کیا انسان ماہ رمضان میں روزہ سے بچنے کے لئے عمداً سفر کر سکتا ہے؟

ج۔ اس میں اشکال نہیں ہے، لیکن یہ مکروہ ہے۔ والله العالم

 

وطن کے لحاظ سے عورت کا شوہرکی تبعیت کرنا

س۔شادی کرنے کے بعد عورت اپنے اصلی وطن سے دوسرے شہر چلی جاتی ہے اور ایک سال میں کئی مرتبہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے اپنے اصلی وطن واپس آتی ہے تو اس کے نماز اور روزے کا کیا حکم ہے؟.

ج۔اس سوال کی بناء پر عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ اس کے وطن میں زندگی بسر کرے ،اور یہ اس کے اپنے وطن سے اعراض قہری ہے ، اور رشتہ داروں سے ملنے کے لئے اپنے وطن جانے کی صورت میں بھی اس پر مسافر کا حکم جاری ہو گا۔ والله العالم

 

حد ترخص میں افطار کرنا

س۔جو شخص ماہ رمضان میں سفر کرے کیا وہ اپنے گھر میں ہی افطار کر سکتا ہے یا یہ کہ حدّ ترخص سے نکلنے کے بعد افطار کرے؟

ج۔ حد ترخص تک پہنچنے سے پہلے افطار نہیں کرنا چاہیئے۔ والله العالم

 

قصد کے بغیر منی خارج ہونا

س۔اگر روزہ دار منی نکلنے کے قصد کے بغیر اپنی بیوی سےمستی و مذاق کرے اور  اس کے بعد منی خارج ہو جائے ،اور اگر انسان جانتا ہو کہ اس عمل  سے منی خارج ہو جائے گی تو  اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟
ج. اس سوال کی رو سے کہ جب روزہ دار یہ جانتا ہو کہ بیوی سے مستی ومذاق کرتے وقت منی خارج ہو جائے گی تو منی خارج ہو جانے کی صورت میں اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔ والله العالم

روزہ کی حالت میں استمناء

س۔اگر کوئی انسان یہ نہ جانتا ہوں کہ استمناء سے روزہ باطل ہو جاتا ہے ،حتی کہ وہ یہ بھی نہ جانتا ہو کہ یہ عمل ایک گناہ کبیرہ ہے،تو کیا اس کا روزہ باطل ہو جائے گا؟اور اگر روزہ باطل ہے تو کیا اس کا کفارہ بھی ہے یا نہیں؟ 
ج۔مذکورہ سوال کی رو سے روزہ کی قضا بجا لائے لیکن اس کا کفارہ نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر وہ جاہل مقصر ہو ،یعنی اس عمل کا مرتکب ہوتے وقت اس کی حرمت کا احتمال دے لیکن کسی سے اس کے بارے میں نہ پوچھے یا وہ جانتا ہو کہ استمناء حرام عمل اور گناہ ہے اگرچہ وہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے تو اگر وہ یہ عمل ماہ رمضان میں انجام دے تو اس پر کفارہ جمع(یعنی تینوں کفارہ) ہے۔  والله العالم

سو جانے کی صورت احتلام ہو جانے کا علم

س۔ ماہ رمضان میں صبح کی اذان ہونے میں ایک گھنٹہ باقی ہو اور کوئی شخص یہ جانتا ہو کہ اگر وہ سو جائے تو محتلم ہو جائے گا اور صبح کی اذان تک بیدار نہیں ہو سکے گا،کیا اس کے باوجود بھی وہ شخص سو سکتا ہے یانہیں؟ اور اگر وہ سو جائے اور اسے احتلام ہو جائے اور صبح کی اذان بھی ہو جائے تو کیا اس کا روزہ صحیح ہے یا نہیں؟

ج۔ اس سوال کی رو سے اگر مذکورہ شخص یہ جانتا ہو کہ صبح کی اذان سے پہلے محتلم ہو جائے گا تو احتیاط واجب کی بناء پر اسے نہیں سونا چاہئے۔والله العالم

 

ماہ رمضان میں دن کے وقت احتلام ہونا

س۔ اگر کوئی ماہ رمضان میں صبح کی اذان کے بعد نیند میں مجنب ہو جائے تو کیا اس کا روزہ باطل ہو جائے گا یا نہیں؟ اور اگر روزہ باطل نہیں ہو گا ،کیا وہ ظہر یا مغرب کی اذان کے بعد غسل کر سکتا ہے یا نہیں؟

ج۔ اس کا روزہ باطل نہیں ہو گا لیکن ظہر کی نماز کے لئے واجب ہے کہ غسل کرے۔والله العالم

 

غسل کرتے وقت صبح کی اذان ہو جانا

س۔اگر کوئی شخص صبح کی اذان سے پہلے بیدار ہو جب کہ وہ مجنب ہو،اور وہ غسل کرنے میں مشغول ہو جائے لیکن غسل کے دوران اذان ہو جائے تو کیا اس کا روزہ صحیح ہے یا نہیں؟اور کیا اس کا کفارہ ہے یا نہیں؟
ج. اس میں اشكال نہیں ہے اور اس کا روزہ صحیح ہے. والله العالم

 

روزوں کی قضا بجا لانے میں تأخير کا کفارہ

س۔ اگر کوئی شخص گذشتہ سال ماہ رمضان کے روزوں کی قضا آئندہ سال ماہ رمضان تک نہ بجا لائے  تو اس کا حکم کیا ہے؟
ج۔ اس سوال کی رو سے روزوں کی قضا کے علاوہ ہر دن کے روزے کی وجہ سے کسی غیر سید فقیر کو کفارہ کے عنوان سے(۷۵۰ گرام) گندم یا جو یا آٹا وغیرہ دے۔ ان کے بدلے پیسے دینا کافی نہیں ہے۔بلکہ کفارہ میں خود جنس ہونی چاہئے اور تمام روزوں کا کفارہ کسی ایک فقیر کو بھی دے سکتے ہیں۔ والله العالم

 

فقير کو کفارہ کے پیسے دینا

س۔ کیا کفارہ کے پیسے کسی فقیر کو دے کر اسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم ہر دن کا کھانا کھاتے وقت کفارہ کا قصد کرو؛یا ضروری ہے کہ فقیر  اسی پیسوں سے کھانا خریدے؟
ج۔اس سوال کی بناء پر فقیر پیسے دینے والے کی طرف سے انہی پیسوں سے کھانا خریدے اور اس کی وکالت میں کھانے کو کفارہ کے عنوان سے لے لے۔والله العالم

 

سپاہیوں کا فطرہ

س۔ پولیس یا فوج کے ان سپاہیوں کا کیا حکم ہے کہ جو عید فطر کی رات اپنے ادارہ میں ہی ہوں،تو اس صورت میں کیا فطرہ خود ان پر یا ان کے باپ پر یا پولیس اور فوج کے ادارے پر واجب ہے؟
ج۔ اس سوال کی بناء پر اگر مالی طور پر ممکن ہو تو خود فطرہ دے۔والله العالم

 

مہمان کا اپنا فطرہ خود دینا اور میزبان سے فطره‌ ساقط ہو جانا

س۔اگر میزبان کی اجازت سے مہمان اپنا فطرہ خود دے تو کیا  میزبان سے ان کا فطرہ ساقط ہو جائے گا؟
ج. ساقط نہیں ہو گا. والله العالم

 

واجب النفقة افراد کو زکات فطرہ دینا

س۔کیا زکات فطرہ ماں،باپ،بیٹے یا بیوی وغیرہ(اگر یہ لوگ مستحق ہوں) کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
ج. واجب النفقه افراد کو زکات فطرہ نہیں دے سکتے. والله العالم

 

خیراتی اداروں کو زكات فطره دینا

امداد کمیٹیوں اور بعض خیراتی اداروں کو زکات فطرہ کس صورت میں دے سکتے ہیں؟
ج.میری نظر میں احتیاط واجب کی بناء پر زکات فطرہ شیعہ اثنی عشری فقراء تک پہنچنی چاہئے اور اگر مکلف امدادی کمیٹیوں یا خیراتی اداروں کو زکات فطرہ دے تو یہ یقین ہونا چاہئے کہ وہ وہ کسی کمی و زیادتی کے بغیر شیعہ اثنی عشری فقراء پر خرچ ہوئی ہے ورنہ وہ بری الذمہ نہیں ہو گا۔پس اگر کسی کو یہ یقین حاصل ہو جائے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ مثلاً اگر غیر سید زکات فطرہ دے تو اسے یقین ہو کہ یہ غیر سید فقیر پر ہی خرچ ہوئی ہے نہ کہ کسی سید  یا مسجد و مدرسہ یا امام بارگاہ پر۔والله العالم

 

شکم مادر میں بچہ کی زکات فطرہ

س۔ کیا ماں کے شکم میں موجود بچہ کا فطرہ واجب  ہے یا نہیں؟
ج. واجب نہیں ہے. والله العالم

موضوع:

شنبه / 14 ارديبهشت / 1398
احكام روزہ

س۱۔ اگر كوئي شخص ماہ رمضان المبارك ميں سو كر اٹھے اور اسے معلوم ہو كہ اذان كا وقت گزر چكا ہے تو كيا اس كا روزہ صحيح ہے ؟
جواب: ہاں اس كا روزہ صحيح ہے ۔

س۲۔ جو شخص نماز پڑھنے ميں كوتاہي كرتا ہے اس كے روزے كا كيا حكم ہے ؟ 
جواب : روزہ ايك دوسرا امر واجب ہے ، نماز نہ پڑھنے والا انسان گنہگار ہے ليكن اس نے جو روزہ ركھا ہے وہ صحيح ہے ۔

س۳۔ اگر ماہ رمضان المبارك ميں غلط طريقہ سے قرآن پڑھيں تو روزہ پر كيا اثر پڑے گا (يعني قرآني كلمات كو صحيح تلفظ سے ادا نہ كريں) 
جواب : اگر جان بوجھ كر آيات كو غلط نہيں پڑھتا تو كوئي حرج نہيں ہے ، تلاوت قرآن ميں تجويدي قواعد كي رعايت واجب نہيں ہے ۔ 
 

سوال ۴۔ جن لوگوں كا كام دريا ميں غوطہ لگانا ہے ان كے روزے اور نماز كا حكم بيان فرمائيں ؟ 
جواب : احتياط واجب كي بنا پر غواصي كا لباس پہن كر پاني ميں جانے سے بھي روزہ باطل ہو جاتا ہے ليكن اگر انسان ايسے كيبن ميں بيٹھ كر پاني ميں جائے جو كمرے كےمانند ہوتا ہے اور انسان كے بدن سے چپكا ہوا نہيں ہوتا تو اس كا روزہ باطل نہيں ہوگا ۔ نماز كے متعلق اگر كوئي انسان غواصي كے لباس ميں پاني كے اندر جائے اور باہرنكلنا ممكن نہ ہو وقت تنگ ہو تو پاني كے اندرہي جس قدر ممكن ہو قرائت كرے اور ذكر ركوع و سجود كےساتھ اشارے سے ركوع و سجدہ بھي بجالائے اور احتياط واجب يہ ہے كہ اس نماز كي بعد ميں قضا بھي بجا لائے ۔ واللہ العالم

 

سوال ۵۔ كيا سگريٹ اور حقہ پينے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے ؟ 
جواب: احتياط واجب كي بنا پر روزہ دار كو سگريٹ اور حقہ  کا دھواں حلق ميں نہيں لے جانا چاہئے ۔ 
 

سوال۶۔ اگر سگريٹ پئے اوراس كا دھواں حلق ميں نہ لے جائے تو كيا روزہ باطل ہو جائے گا ؟ 
جواب : اگر دھواں حلق ميں نہ لے جائے تو روزہ باطل نہيں ہوگا ليكن علي الاعلان سگريٹ نوشي مناسب نہيں ہے لہذا ماہ رمضان كےاحترام ميں اس سے پرہيز كرنا چاہئے ۔
 

سوال ۷۔ طاقت اور پن سلين كا انجكشن لگوانےسے كيا روزہ باطل ہو جاتا ہے ؟
جواب : كوئي حرج نہيں ہے ، تمام قسم كے انجكشن ايك طرح ہيں البتہ احتياط مستحب يہ ہے كہ اسے ترك كر ديا جائے ۔ 
 

سوال ۸۔ اگر كوئي ماہ رمضان ميں نماز صبح سے پہلے بيدار ہو جبكہ وہ سوتے وقت محتلم ہو گيا ہو ليكن اس كے لئے اس وقت غسل ممكن نہ ہو تو اس كے روزے كا كيا حكم ہے؟ 
جواب : مفروضہ سوال كي صورت ميں اگر مكلف غسل كرنے پر قادر نہيں ہے تو غسل كے بدلے تيمم كر كے روزہ ركھے گا ۔
 

سوال ۹۔ اگر كوئي انسان اپنے عضو تناسل سے چھيڑ چھاڑ كرے اور مني نہ نكلے ليكن بعد ميں وہ پيشاب كرے تو اس وقت سفيد رنگ كي رطوبت خارج ہو جس ميں شك ہے كہ مني ہے يا نہيں تو اس كا روزہ صحيح ہے كہ نہيں اور اگر باطل ہے تو روزے كا كفارہ بھي دينا ہوگا يا نہيں ؟ 
جواب: اگر ايسا كام كرے جس كي وجہ سے عام طور پر مني نكلتي ہے تو اس كا روزہ باطل ہے چاہے انزال ہو يا نہ ہو ليكن مذكورہ فرض كي صورت ميں كفارہ كا واجب ہونا معلوم نہيں ہے ۔ واللہ العالم 
 

سوال ۱۰۔ اگر كسي كو نہ معلوم ہو كہ استمنا سے روزہ باطل ہو جاتا ہے حتيٰ يہ بھي نہ جانتا ہو كہ يہ گناہ كبيرہ ہے اور اس عمل كو انجام دے تو كيا اس كا روزہ باطل ہے ؟ اگر باطل ہے تو اس پر كفارہ بھي ہے يا نہيں؟ كفارہ كي مقدار كيا ہوگي ؟
جواب: مذكورہ سوال كي صورت ميں روزے كي قضا واجب ہے ليكن كفارہ واجب نہيں ہے ؟ ليكن اگر جاہل مقصر ہو يعني اس عمل كے ارتكاب كے وقت اسے اس فعل كے حرام ہونے كا احتمال ہو اور وہ كسي سے دريافت نہ كرے تا اسے معلوم ہو كہ استمناء حرام ہے چاہے يہ نہ جانتا ہو كہ اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے اور رمضان المبارك كے دن ميں يہ فعل انجام دے تو اس پر كفارہ جمع واجب ہوگا (اس كي تفصيل توضيح المسائل كے مسئلہ نمبر ۱۶۷۴ پر موجود ہے )
 

سوال ۱۱۔ اگر كوئي انسان كلاس ميں ہو اور اسے محسوس ہو كہ اس كے دانتوں ميں كھانا پھنسا ہے اور وہ تھوڑي دير صبر كرے تاكہ كلاس ختم ہونے كے بعد اسے منہ سے باہر نكال دے ليكن بعد ميں اسے يہ احتمال قوي ہو كہ وہ كھانا تھوك كے ساتھ حلق كے اندر چلا گيا ہے تو كيا اس كا روزہ باطل ہے يا ايسا شخص معذور ہے ؟ 
جواب: مفروضہ صورت ميں صرف غذا كے دانتوں ميں پھنسے ہونے كے احتمال كي بنياد پر جب تك كہ وہ تھوك كے ہمراہ حلق كے اندر نہ جائے، اس سے روزہ باطل نہيں ہوتا ہے ليكن ايسے شخص پر ضروري ہے كہ جس طرح بھي ممكن ہو كھانا پيٹ ميں نہ جانے دے ليكن اگر وہ صرف احتمال دے كہ كھانا پيٹ ميں چلا گيا ہے تو احتمال كي بنياد پر روزہ باطل نہيں ہوگا ۔

موضوع:

سه شنبه / 1 خرداد / 1397
زکات فطره کے بعض احکام

 

* اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے وقت بالغ،عاقل اور ہوش میں ہو اور کسی کا غلام اور فقیر بھی نہ ہو تو وہ اپنا اور اپنے ہاں کھانے والوں لوگوں کا فطرہ دے۔ اور فی کس  فطرہ کی مقدار ایک صاع تقریباً تین کلو گندم یا جو یا کھجور یا کشمش یا چاول یا مکئی وغیرہ کسی مستحق کو دے۔ اور اگر ان میں سے کسی ایک کی مقدار کے بربار پیسے بھی دے تو کافی ہے ۔احتیاط کی بناء ہر اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے وقت بے ہوش ہو تو احتیاط کی بناء پر اس پر بھی فطرہ واجب ہے۔

* جس شخص کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ایک سال کے اخراجات نہ ہوں اور اس کا کوئی روزگار بھی نہ ہو کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کے اخراجات پورے کرے،تو وہ فقیر ہے اور اس پر زکات فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

* جو لوگ عیدالفطر کی رات مغرب کے وقت کسی کے ہاں کھانے والے شمار ہوں تو ضروری ہے کہ وہ شخص ان کا فطرہ دے،چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے،مسلمان ہوں یا کافر، ان کا خرچہ اس پر واجب ہو یا نہ ہو، اور وہ اس کے شہر میں ہوں یا کسی دوسرے شہر میں ہوں۔

* اگر کوئی کسی ایک ایسے شخص کو جو اس کے ہاں کھانا کھانے والا شمار کیا جائے ،اسے دوسرے شہر میں نمائندہ و وکیل مقرر کرے کہ اس کے مال(یعنی صاحب خانہ کے مال)سے اپنا فطرہ دے دے اور اسے اطمینان ہو کہ وہ شخص فطرہ دے دے گا تو خود صاحب خانہ کے اس کا فطرہ دینا ضروری نہیں ہے۔

* عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی سے آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ آج رات اسے کھانا کھلایا گیا،اور اگرچہ وہ شخص اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار نہ ہو۔

* اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے میزبان کی رضامندی کے بغیر مہمان آئے اور کچھ مدت میزبان کے ہاں رہے تو احتیاط کی بناء پر اس کا فطرہ بھی میزبان و صاحب خانہ پر واجب ہے اور اسی طرح اگر انسان کو کسی کا خرچہ دینے پر مجبور کیاگیا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

* عید الفطر کی رات مغرب کے بعد آنے والے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب نہیں ہے ،اگرچہ اسے مغرب سے پہلے دعوت دی گئی ہو اور وہ میزبان و صاحب خانہ کے گھر ہی افطار کرے۔

* اگر کوئی عید الفطر کی رات مغرب کے وقت پاگل و دیوانہ ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔

* اگر مغرب سے پہلے یا مغرب کے قریب بچہ بالغ ہو جائے ،یا پاگل و دیوانہ عاقل ہو جائے ،یا فقیر غنی ہو جائے تو اگر ان میں فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود ہوں تو انہیں زکات فطرہ ادا  کرنی چاہئے۔

* اگر کسی شخص میں عید الفطر کی رات مغرب تک زکات فطرہ واجب ہونے کی شرائط موجود نہ ہوں(یعنی اس پر زکات فطرہ واجب نہ ہو)،لیکن عید الفطر کے دن ظہر سے پہلے تک اس میں زکات فطرہ کے واجب ہونے کی شرائط موجود ہو جائیں تو مستحب ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے

* عید الفطر کی رات مغرب کے بعد مسلمان ہونے والے کافر پر فطرہ واجب نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا مسلمان جو شیعہ نہ ہو اور وہ عید کا چاند دیکھنے کے بعد شیعہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ زکات فطرہ ادا کرے۔

* اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک صاع (تقریباً تین کلو)گندم  یا اس جیسی کوئی جنس ہو تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ فطرہ ادا کرے اور اگر اس کے اہل و عیال بھی ہوں اور وہ ان کا فطرہ بھی دینا چاہتا ہو تو وہ فطرہ کی نیت سے ایک صاع گندم وغیرہ اپنے اہل و عیال میں سے کسی ایک فرد کو دے اور وہ بھی اسی نیت سے دوسرے فرد کو دے دے، یہاں تک کہ وہ خاندان کے آخری فرد تک پہنچ جائے اور بہتر ہے کہ جو چیز آخری فرد کو ملے ،وہ کسی ایسے شخص کو دے کہ جو خود ان لوگوں میں سے نہ ہو۔ اور اگر ان میں کوئی بچہ(نابالغ) ہو  تو اس کا ولی و سرپرست اس کی بجائے فطرہ لے سکتا ہے اور احتیاط یہ ہے جو چیز  بچہ(نابالغ)کے لئے لی جائے وہ کسی دوسرے کو نہ دی جائے۔

* اگر عید الفطر کی رات مغرب کے بعد کسی کے ہاں بچہ پیدا ہوا  یا کوئی اس کے ہاں کھانا کھانے والوں میں شمار ہو تو ان کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے ؛اگرچہ ان لوگوں کا فطرہ دینا مستحب ہے کہ جو عید الفطر کی رات مغرب کے بعد سے عید کے دن ظہر سے پہلے تک صاحب خانہ کے ہاں کھانا کھانے والے شمار ہوں۔

* اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کھانا کھاتا ہو اور مغرب سے پہلے کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھانے والا بن جائے تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب کہ جس کے ہاں وہ  کھانا کھانے والا بن جائے۔مثلاً اگر عورت مغرب دے پہلے اپنے شوہر کے گھر چلی جائے تو ضروری ہے کہ اس کا شوہر اس کا فطرہ دے

* جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو،اس پر اپنا فطرہ خود دینا واجب نہیں ہے۔

* جس شخص کا فطرہ کسی دوسرے شخص پر واجب ہو  اور اگر وہ فطرہ نہ دے تو خود اس انسان پر فطرہ واجب نہیں ہو گا۔مگر یہ کہ کوئی غنی کسی فقیر کے ہاں کھانا کھائے تو اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ غنی اپنا فطرہ خود دے۔

* اگر کسی شخص کا فطرہ کسی اور پر واجب ہو لیکن وہ اپنا فطرہ خود دے تو جس شخص پر اس کا فطرہ واجب ہو اس پر اس فطرہ کی ادائیگی کا وجوب ساقط نہیں ہو گا۔

* جس عورت کا شوہر اس کو اخراجات نہ دیتا ہو اور اگر وہ کسی دوسرے کے ہاں کھانا کھاتی ہو تو اس کا فطرہ اسی شخص پر واجب ہے کہ جس کے ہاں وہ کھانا کھاتی ہے اور اگر وہ کسی کے ہاں کھانا نہ کھاتی ہو اور فقیر بھی نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ اپنا فطرہ خود دے۔

* غیر سید کسی سید کو فطرہ نہیں دے سکتا حتی اگر کوئی سید اس کے ہاں کھانا کھاتا ہو تو بھی اس کا فطرہ کسی سید کو نہیں دے سکتا۔

* جو بچہ ماں یا دایہ کا دودھ پیتا ہو ،اس کا فطرہ اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراجات برداشت کرتا ہو لیکن اگر ماں یا دایہ کے اخراجات خود بچہ کے مال سے پورے ہوتے ہوں تو بچہ کا فطرہ کسی پر واجب نہیں ہے۔

* اگرچہ انسان اپنے اہل و عیال کے اخراجات حرام مال سے ادا کرتا ہو لیکن ان کا فطرہ حلال مال سے دینا ضروری ہے۔

* اگر انسان کسی شخص کو أجرت پر رکھے اور اس سے اس کے اخراجات ادا کرنے کی شرط کرے تو اس کا فطرہ دینا بھی واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ شرط کرے کے اس کے کچھ اخراجات ادا کرے مثلاً اس کے کچھ اخراجات کے لئے پیسے دے تو اس کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

* اگر کوئی شخص عید الفطر کی رات مغرب کے بعد فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دیا جائے ؛لیکن اگر عید الفطر کی رات مغرب سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے مال سے اس کا اور اس کے اہل و عیال کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔

موضوع:

سه شنبه / 1 خرداد / 1397
اعتکاف کے احکام

تعريف

اعتكاف؛ یعنی مسجد میں ان قیود کے ساتھ توقّف کہ اس توقّف اور قیام میں قصد ہو اور اس میں تعبد و بندگی کی نيّت ہو۔ بہتر ہے کہ اعتکاف میں دوسری عبادات جیسے نماز اور روزه وغيرہ کو بھی نیت میں شامل کیا جائے۔

 

اعتكاف کا وقت

جس وقت بھی روزہ رکھنا صحیح ہو ،اس وقت اعتکاف بھی صحیح ہے لیکن اعتکاف کا افضل وقت ماہ مبارک رمضان  ہےاور ماہ مبارک رمضان میں بھی اعتکاف کا افضل وقت آخری عشرہ ہے۔

 

 

معتكف کی شرائط

- عقل

س. کيا ممیز بچہ کا اعتكاف صحیح ہے؟

ج. اقوی یہ ہے کہ اس کا اعتکاف صحیح ہے۔

 

- نيّت‌كرنا

* نيّت

س. کيا واجب یا مستحب اعتكاف میں وجوب یا استحباب کا قصد کرنا ضروری ہے؟

ج. یہ لازم نہیں ہے.

 

س. اگر اشتباہاً واجب اعتکاف کے لئے استحباب کی نیت کرے یا اس کے برعکس تو کیا کرنا چاہئے؟

ج. اس میں کوئی اشکال نہیں ہے.

 

س. کيا مستحب اعتکاف کے تیسرے دن تجديد نيّت کرنا ضروری ہے؟

ج. یہ ضروری نہیں ہے اگرچہ یہ احوط ہے۔

 

س. کيا اعتكاف میں اعتکاف کی نیت کے علاوہ دوسری عبادات کا قصد کرنے کی ضرورت ہے؟

ج. احتیاط کی بناء پر دوسری عبادات کا بھی قصد کیا جانا چاہئے۔

 

* نيّت کا وقت

س. اعتکاف کی نيّت کس وقت کرنی چاہئے؟ اعتکاف کا وقت کیا ہے؟ کیا رات کے شروع میں بھی نیت کر سکتے ہیں؟

ج. اعتکاف کی نيّت کا وقت فجر صادق سے پہلے ہے اور رات کے آغاز میں کی جانے والی نیت پر ہی اکتفاء کرنا مشکل ہے مگر یہ کہ رات کے آغاز میں کی جانے والی نیت فجر تک باقی ہو۔

 

س. کیا اعتکاف کی مراسم میں صبح کی اذان سے پہلے مسجد میں ہونا چاہئے؟ اگر اذان کے کچھ دیر بعد مسجدمیں آئیں تو اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

ج. طلوع فجر صادق سے پہلے مسجد میں ہونا چاہئے۔

 

* نيّت کے وقت اعتکاف سے رجوع کرنے کی شرط

س. کیا انسان اعتکاف کے آغاز میں ہی نیت کرتے وقت یہ شرط کر سکتا ہے کہ اگر اس کے ساتھ کوئی اتفاق یا مشکل پیش آئی( مثلا وہ شخص کہے کہ اگر موسم سرد ہو گیا) تو وہ اعتکاف کو ترک کر دے گا چاہے اعتکاف کا تیسرا دن ہی کیوں نہ ہو؟ کیا ضروری  ہے کہ وہ کسی خاص اتفاق یا کسی خاص مشکل کو مدنظر رکھے یا اس کی ضرورت نہیں ہے؟

ج. جائز ہے کہ نیت کے وقت (نہ اس سے پہلے اور نہ ہی اعتکاف کے شروع ہو جانے کے بعد) وہ اعتکاف سے رجوع کرنے کی شرط کرے کہ جب بھی وہ چاہے ،حتی تیسرا دن ہی کیوں نہ ہو اور چاہے کوئی سبب عارض نہ بھی ہو۔

 

س. کیا نذری اعتکاف (نذر کی وجہ سے واجب ہونے والا اعتکاف) میں انسان نذر کا صیغہ پڑھتے وقت یہ شرط کر سکتا کہ اگر کوئی مانع پیش آیا تو میں اعتکاف کو ترک کر دوں گا؟

ج. نذر میں اعتکاف سے رجوع کرنے کی شرط کے صحیح ہونے میں متأمل ہے بلکہ یہ ممنوع ہے۔ البتہ مشروط اعتکاف کی نذر صحیح ہے۔

 

س. آپ نے یہ فرمایا کہ معتکف کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ نیت کے وقت شرط کر سکتا ہے کہ (جب بھی وہ چاہے حتی تیسرا دن ہی کیوں نہ ہو) اعتکاف سے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر نیت کے بعد وہ اپنی شرط کے حکم کو ساقط کر دے تو کیا اس کی شرط ساقط ہو جائے گی یا نہیں؟

ج. نیت کے وقت حتی تیسرے دن کے دوران بھی اعتکاف سے رجوع کرنے کی شرط کرنا جائز ہے اور ظاہر یہ ہے کہ شرط کا حکم ساقط نہیں ہو سکتا اگرچہ احتیاط آثار سقوط کی ترتیب میں ہے یعنی اگر دو دن مکمل ہو جانے کے بعد شرط کو ساقط کرے تو اعتکاف کو تمام کرے اور اعتکاف کو ترک نہ کرے۔

 

* نيّت سے عدول کرنا

س. ایک اعتکاف سے دوسرے اعتکاف کی طرف عدول کرنے کا کا کیا حکم ہے؛ اگرچہ دونوں واجب ہوں یا دونوں مستحب ہوں، یا ایک واجب اور دوسرا مستحب ہو، یا ایک اعتکاف اپنے لئے ہو یا دوسرا کسی کی نیابت میں یا دونوں اعتکاف کسی کی نیابت میں ہوں؟

ج. مذکورہ صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی ایک اعتکاف سے دوسرے اعتکاف کی طرف عدول کرنا جائز نہیں ہے۔

 

* نيابت

س. کیا کسی ایسے شخص کی نیابت میں اعتکاف انجام دے سکتے ہیں کہ جو وفات پا چکا ہو؟ اور کیاکسی زندہ کی نیابت میں اعتکاف انجام دے سکتے ہیں؟

ج. میت کی نیابت میں اعتکاف انجام دینا صحیح ہے اور زندہ کی نیابت میں اعتکاف بجا لانے میں اشکال ہے۔ البتہ رجاء کے قصد سے زندہ کی نیابت میں اعتکاف انجام دینے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

- روزه‌ رکھنا

*  روزه کی اقسام

س. کيا اعتکاف کے لئے ہر قسم کا روزہ کافی ہے ؛چاہے استيجاری روزہ ہی کیوں نہ ہو؟

ج. جی ہاں؛ اس کے لئے مطلق صوم (ہر قسم کا روزہ) کافی ہے۔

 

س. ماہ رمضان کے اعتکاف میں روزہ کی نیت کیسی ہونی چاہئے؟

ج. ماہ رمضان المبارک کے روزہ کی نیت سے روزہ رکھنا چاہئے۔

 

س. اگر کوئی شخص نذر کرے کہ وہ معین ایّام میں معتکف ہو گا۔ اگر انہی ایّام میں اس کے ذمہ نذری یا استیجاری روزہ ہوں تو کیا وہ شخص اسی اعتکاف میں اپنے نذری یا استیجاری روزہ رکھ سکتا ہے؟

ج. جی ہاں؛ اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

* سفر کے دوران اعتکاف

س. کيا انسان سفر میں روزہ رکھنے کی نذر کر سکتا ہے؟

ج. اگر حضر میں ایسی نذر کرے تو صحیح ہے۔

 

س. کيا سفر کے دوران سفر میں روزہ  رکھنے کی نذر کر سکتا ہے؟

ج. یہ صحيح نہیں ہے۔

 

س. مسافر کو کس صورت میں اعتکاف کرنا چاہئے؟

ج. جن موارد میں مسافر کے لئے روزہ رکھنا صحیح ہے۔ جیسے یہ کہ اس نے وطن میں یہ نذر کی ہو کہ وہ سفر میں روزہ رکھے یا ایسے شہر میں کہ جہاں مسافر طلب حاجت کے لئے تین دن روزہ رکھ سکتا ہو۔

 

س. کسی شخص نے یہ نذر کی کہ وہ ماہ رجب کے ایّام البیض میں مسجد مقدس جمکران میں معتکف ہو گا اور یہ نذر کی کہ سفر کی صورت میں روزہ بھی رکھے گا، کیا اس کی نذر صحیح ہے؟ کیا اس کا اعتکاف صحیح ہے؟( اگرچہ وہ مسافر ہی کیوں نہ ہو)

ج. مذکورہ سوال کی رو سے اعتکاف صحیح ہے۔

 

س. کسی شخص نے مشہد مقدس میں اعتکاف کی فضیلت کو درک کرنے کے لئے مشہد پہنچنے کے بعد وہاں قیام کے قصد کے بغیر نذر کی کہ وہ تین دن روزہ رکھے گا۔ کیا ایسی نذر صحیح ہے؟

ج. صحيح نہیں ہے۔

 

س. مساجد مدینہ، کوفہ، مسجد الحرام، مسجد سہلہ اور مقامات مقدسہ ومشرفہ میں روزہ کی نذر اور قیام کے قصد کے بغیر مسافر کے اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

ج. جس مقام پر روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے وہاں اعتکاف بھی صحیح نہیں ہے۔

 

* حرام سفر کے دوران اعتكاف

س. کيا حرام سفر کے دوران اعتکاف انجام دے سکتے ہیں؟

ج. مذکورہ سوال میں قصد قربت سے اعتکاف کے متحقق ہونے اور اعتکاف کی تمام شرائط کے حصول کی صورت میں اعتکاف صحیح ہے۔

 

* اعتكاف کے لئے اجازت

س. کیا عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اعتکاف کے لئے اپنے شوہر سے اجازت لے؟ حتی اگر اس کا معتکف ہونا شوہر کے حق سے کوئی منافات بھی نہ رکھتا ہو۔

ج. اگر عورت کا اعتکاف شوہر کے حق سے کوئی منافات نہ رکھتا ہو تو عورت کے اصل اعتکاف میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن چونکہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا گھر سے باہر نکلناجائز نہیں ہے پس اگر عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر مسجد میں اعتکاف کے لئے جائے تو اس وجہ سے اس کا اعتکاف باطل ہے۔

 

س. کیا عورت اپنے شوہر کے حکم پر تیسرے دن اپنے اعتکاف کو ترک کر سکتی ہے؟ اور اگر اس کا شوہر اسے اس کام پر مجبور کرے تو کیا کفارہ شوہر کے ذمہ ہو گا یا نہیں؟

ج. اگر زوجہ اپنے شوہر  کی اجازت سے معکف ہوئی ہو تو شوہر اسے اعتکاف کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا لیکن مجبور کرنے کی صورت میں کفّارہ ثابت نہیں ہے۔

 

س. کیا بیٹے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اعتکاف کے لئے اپنے والدین سے اجازت لے؟ حتی اگر اس کا معتکف ہونا والدین کے لئے تکلیف، اذیت اور زحمت کا باعث نہ ہو؟

ج. اگر چہ والدین کے لئے اذیت کا باعث نہ ہو تو والدین کی اجازت شرط نہیں ہے۔ لیکن احتیاط بہتر ہے۔

 

- عدد (‌تین دن سے کم کا صحیح نہ ہونا)

س. تین دن سے کم اعتكاف كا کیا حکم ہے؟

ج. تین دن سے کم اعتکاف صحيح نہیں ہے۔

 

س.کیا معتکف چھ یا دس دن کے اعتکاف کی نیت کر سکتا ہے؟

ج. اس میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

س. اعتکاف میں دن سے کیا مراد ہے؟ کیا دن کا اختتام غروب آفتاب ہے یا مغرب؟

ج. غروب سے مراد زوال حُمرِه مَشرقيّه (یعنی غروب کے وقت افق پر نمودار ہونے والی سرخی کا زائل ہو جانا)ہے كہ جسے عرف میں مغرب کہا جاتا ہے۔

 

س. اگر کوئی شخص تین دن بطور منفصل اعتکاف انجام دینے کی نذر کرے تو کیا اس کی نذر صحیح ہے؟

ج. صحيح نہیں ہے۔

 

- اعتكاف کی جگہ

س. جامع مسجد کی تعیین کا کیا معیار ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شہر یا گاؤں میں مساجد کی تعداد متعدد ہو؟ کیا ممکن ہے کہ مساجد جامع ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہوں؟

ج. جامع مسجد ایسی مسجد ہے کہ جو کسی خاص گروہ کے لئے نہ بنائی گئی ہو اور اس  کے مقابلہ میں بازار، قبیلہ وغیرہ کی مساجد ہیں کہ جن میں شہر کے اکثر لوگ جمع نہیں ہوتے اور وہ مسجد بھی ان سب کے اجتماع کے لئے تیار نہیں ہوئی ۔ نیز ممکن ہے کہ جامع مسجد متعدد ہوں اور ایک دوسرے سے نزدیک بھی ہوں۔

 

س. جامع مسجد کے علاوہ حسینیہ (امام بارگاہ) اور یونیورسٹی کے نماز خانہ میں اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

ج. جامع مسجد کے علاوہ دوسرے مقامات پر اعتكاف صحيح نہيں ہے۔

 

س.  شیعوں کا دوسرے اہل کتاب کی عبادت گاہوں یا مخالف فرقوں کی مساجد میں اعتکاف بجا لانے کا کیا حکم ہے؟

ج. اہل کتاب کی عبادت گاہوں میں اعتكاف صحیح نہیں ہے لیکن اہلسنت کی جامع مسجد میں اعتکاف بجا لانا جائز ہے۔

 

س. کیا تہران بزرگ میں کسی بھی محلہ کی جامع مسجد میں اعتکاف بجا لا سکتے ہیں؟

ج. اگر ان میں جامع مسجد کی خصوصيات ہوں تو ان  میں اعتکاف بجا لا سکتے ہیں۔

 

س. اگر کوئی شخص کسی ایسی مسجد میں اپنا واجب اعتکاف بجا لائے کہ جس کے بارے میں اسے بعد میں معلوم ہو کہ یہاں اعتکاف صحیح نہیں تھا تو اس کے اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

ج. اگر واجب اعتكاف ہو تو اسے نئے سرے سے انجام  دے يا اس کی  قضا بجا لائی جائے۔

 

س. کیا مسجد مقدس جمکران یا اس کے تہہ جانے(Basement) میں اعتکاف بجا لانا صحیح ہے یا نہیں؟

ج. موجودہ دور میں اسے جامعیت کا عنوان حاصل ہے لہذا اس میں اعتکاف بجا لانا صحیح ہے؟

 

س. کیا مسجد کے اطراف کا حصہ ( جس سے مسجد کے صحن  کے عنوان سے استفادہ کیا جاتا ہے) بھی مسجد کا حکم رکھتا ہے؟

ج. صحن پر مسجد کا حکم لوگو نہیں ہوتا مگر یہ کہ اسے مسجد کے عنوان سے وقف کیا گیا ہو۔

 

س. کیا مسجد کی چھت، سرداب، محراب اور توسیع کی وجہ سے مسجد میں شامل ہونے والے دوسرے حصہ بھی مسجد کا جزء شمار ہوتے ہیں؟ اور کیا شک  کی صورت میں ان مقامات پر مسجد کا حکم لاگو ہوتا ہے؟

ج. مسجد کی چھت، سرداب اور محراب مسجد کا جزء ہیں اور جن جگہوں کا مسجد کے جزء کے قصد سے اضافہ کیا گیا ہو مثلاً خود مسجد کو توسیع دی گئی ہو تو اس صورت میں وہ حصے مسجد کا جزء شمار ہوں گے اور اگر اس بارے میں شک ہو کہ جس حصہ کا اضافہ کیا گیا ہے کیا وہ مسجدیت کے قصد سے تھا یا نہیں تو اس صورت میں وہ حصہ مسجد شمار نہیں ہو گا۔

 

* وحدت مسجد

س. کیا معتکف اعتکاف کا کچھ حصہ ایک جامع مسجد میں اور دوسرا حصہ کسی دوسری جامع مسجد میں بجا لا سکتا ہے؟

ج. نہیں؛ ایسا نہیں کر سکتے۔

 

س. کیا آپس میں متصل دو مساجد میں اس طرح سے اعتکاف جائز ہے کہ اعتکاف کے دوران کچھ اوقات میں ایک مسجد میں رہے اور کچھ اوقات دوسری مسجد میں رہے؟

ج. اعتكاف ایک ہی مسجد میں ہونا چاہئے اور مذکرہ سوال کی رو سے اعتکاف باطل ہے۔

 

س. اگر اعتكاف کچھ موانع کی وجہ سے ختم ہو جائے:

الف: کيا ان موانع کے برطرف ہو جانے کے بعد اسی اعتکاف کو اسی مسجد میں اختتام تک پہنچا سکتے ہیں؟

ب: کيا وہ اعتکاف کسی دوسری مسجد میں جاری رکھ سکتے ہیں؟

ج. اس اعتکاف کو اسی طرح جاری رکھنا صحیح نہیں ہے ، چاہے وہ اسی مسجد میں ہو یا کسی دوسری مسجد میں۔

 

*‌ مسجد کے وسائل کو ذاتی استعمال میں لانا

س. اعتکاف کی حالت میں مسجد کے وسائل کو ذاتی استعمال میں لانے کا کیا حکم ہے؟

ج. یہ جائز نہیں ہے جیسا کہ یہ اعتکاف کے علاوہ بھی جائز نہیں ہے، البتہ اس سے اعتکاف باطل نہیں ہوتا۔

 

* غصبی جگہ اور اعتکاف

س. کیا اس شخص کا اعتکاف صحیح ہے کہ جس نے(اعتکاف میں) کسی دوسرے کی جگہ کو غصب کیا ہو یا عمداً غصبی قالین پر بیٹھے؟

ج. احتیاط کی بناء پر دونوں صورتوں میں اعتکاف باطل ہے اور دونوں صورتوں میں اگر دو دن مکمل کرنے کے بعد ہو تو احتیاط کرے کہ اعتکاف کو آخر تک پہنچائے نیز اگر نذر یا عہد کی وجہ سے اعتکاف واجب ہوا ہو اور چاہے اعتکاف کا پہلا دن ہو، احتیاط یہ ہے کہ اعتکاف کو مکمل کرے۔ جی ہاں! اگر غصب سے جاہل ہو یا یہ بھولے سے ہو تو اعتکاف صحیح ہے۔

 

س. اگر معتکف کسی دوسرے کی جگہ کو غصب کرے تو آپ نے فرمایا کہ اس کا اعتکاف باطل ہے۔  اگر وہ جاہل ہو یا عمد یہ کام انجام دے لیکن اب وہ اس پر پشیمان ہو اور اپنی جگہ کو تبدیل کر دے تو کیا اس کا اعتکاف صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر جان بوجھ کر ایسا کرے تو کیا اس کا کفارہ بھی ہے یا نہیں؟

ج. اس سوال کی رو سے اگر وہ اس چیز سے جاہل ہو تو اعتکاف صحیح ہے اور اگر جان بوجھ کر ایسا کرے اور جگہ کو غصب کرنے کے بعد اور اعتکاف کے عنوان سے وہاں بیٹھنے پر پشیمان ہو تو اس کا اعتکاف باطل ہے لیکن اس کا کفارہ نہیں ہے اگرچہ یہ بہتر ہے۔ اور اگر اعتکاف کے عنوان سے غصبی جگہ پر تصرف نہ کیا ہو بلکہ حق دار شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا ہو اور خود کسی دوسرے کی جگہ جا کر اعتکاف کے لئے بیٹھے تو اس صورت میں اگرچہ اس نے حرام فعل انجام دیا ہے لیکن اس کا اعتکاف باطل نہیں ہے۔

 

* مسجد میں توقف

س. کن موارد میں معتکف مسجد سے خارج ہو سکتا ہے؟

ج. جن موارد میں عقلی يا شرعی يا عادی ضرورت ہو جیسے رفع حاجت کے لئے  یا جنابت اور استحاضہ کی وجہ سے غسل کے لئے، اور ان جیسے دوسرے موارد، اسی طرح گواہی دینے یا جنازہ میں شریک ہونے یا مریض کی عیادت اور تیمارداری کرنے کے لئے۔

 

س. معتكف ضروری موارد کے لئے کتنی مدت تک مسجد سے باہر رہ سکتا ہے؟

ج. ضروری امور کے لئے مسجد سے باہر جانے کی صورت میں اگر اتنی مدت تک مسجد سے باہر رہیں کہ جو اعتکاف کی صورت کو ختم کر دے تو اعتکاف باطل ہو جائے گا۔

 

س. جب معتکف رفع حاجت یا وضو کرنے کے لئے مسجد سے باہر جاتا ہے تو کبھی کبھار ایسا اتفاق بھی ہوتا ہے کہ تقریباً ۱۰ منٹ تک اپنی باری کے لئے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ کیا یہ عمل اعتکاف کو کوئی ضرر پہنچاتا ہے؟ اور کیا اس مدت کے دوران کچھ دوسرے کام انجام دے سکتا ہے جیسے برتن دھونا وغیرہ؟

ج. اگر رفع حاجت یا وضو کرنے کے لئے مسجد سے باہر جانا ضروری ہو اور اپنی باری کے لئے قطار میں کھڑے رہنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس مدت کے دوران دوسرے کاموں کو انجام دینے میں مشغول ہو جانا احتیاط کے برخلاف ہے لہذا انہیں ترک کرنا چاہئے۔

 

س. کن موارد میں معتکف کا مسجد سے خارج ہونا واجب ہے؟ اور اگر وہ واجب موارد میں بھی مسجد سے خارج نہ ہو تا کیا اس عمل سے اس  کے اعتکاف کو کوئی ضرر پہنچے گا؟

ج. اگر مسجد میں جنب ہو جائے تو مسجد سے خارج ہونا واجب ہے پس اگر وہ اس صورت میں بھی مسجد سے خارج نہ ہو تو اس کا اعتکاف باطل ہے لیکن واجب الأداء قرض کی ادائیگی یا کسی دوسرے واجب کام کو انجام دینے کے لئے مسجد سے خارج نہ ہو کہ جن کی انجام دہی مسجد سے خارج ہونے پر موقوف ہو تو اس صورت میں اس نے گناہ کیا ہے لیکن اس کا اعتکاف باطل نہیں ہو گا۔   

س. اگر اعتکاف کے دوران جائز یا واجب موارد میں مسجد سے خارج ہوں تو کیا اس ودران سائے میں چل سکتے ہیں؟ اور کیا سائے میں بیٹھ سکتے ہیں؟ اور کیا سب سے نزدیک راستہ کا انتخاب کرنا واجب ہے؟

ج. بہتر یہ  ہے کہ سب سے قریبی اور نزدیکی راستہ کی رعائت کی جائے اور واجب ہے کہ اس کا قیام ضرورت کے مطابق ہو نہ کہ اس سے زیادہ، اور واجب ہے کہ امکانی  صورت میں سائے میں نہ بیٹھے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ سائے میں نہ چلے، اور احتیاط یہ ہے کہ مطلق طور پر نہ بیٹھے مگر ضرورت کی صورت میں۔

 

س. مندرجہ ذیل موارد میں اگر اپنے اختیار سے عمداً( غیر مجاز موارد میں) مسجد سے باہر جائے تو اس کے اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

الف: اگر اس کے حکم سے جاہل ہو۔

ب: اگر بھولے سے یا جبر و اکراہ کی وجہ سے مسجد سے باہر  جائے۔

ج(الف). اعتكاف باطل ہے۔

ج(ب). بھولنے اور نسيان کی صورت میں اشكال ہے اور احتياط کی رو سے اعتکاف کو مکمل کیا جائے اور اگر اعتکاف واجب ہونے کی صورت میں اعتکاف کا اعادہ کرنا ترک نہ ہو۔ اور یہ بعید نہیں ہے کہ جبر و اکراہ ضروری موارد سے ملحق ہو اور اس صورت میں اعتکاف باطل نہ ہو۔

 

س. اگر معتکف اعتکاف کے تیسرے دن کسی شرعی عذر کے بغیر مسجد سے خارج ہو جائے تو کیا اس صورت میں صرف قضاء ضروری ہے یا اسے کفارہ بھی ادا کرنا ہو گا؟

ج. اس سوال کی رو سے صرف قضا ہے اور کفّارہ نہیں ہے؟

 

س. کیا اعتکاف کے دوران واجب غسل جیسے غسل جنابت یا غسل مس میت میں تأخیر سے اعتکاف باطل ہو جاتا ہے؟

ج. غسل مس میت میں تأخیر سے اعتکاف باطل نہیں ہوتا لیکن چونکہ مسجد میں مجنب کا توقف کرنا اور ٹھہرنا حرام ہے لہذا غسل جنابت میں تأخیر بھی حرام ہے کہ جو اعتکاف کے باطل ہونے کا سبب ہے۔

 

س. کسی شخص کے مسوڑھوں سے خون آتا ہو اور وہ مسجد میں ہی اپنا منہ کسی برتن میں دھوئے اور بعد میں وہ پانی مسجد سے باہر گرا دے یا اس بارے میں تشریع واجب ہے یا مسجد سے باہر جا کر منہ دھونا ضروری ہے؟

ج. اگر یہ عمل مسجد کے نجس ہونے کا باعث نہ بنے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س. مندرجہ ذیل موارد میں معتکف کے لئے مسجد سے باہر جانے کا کیا حکم ہے:

الف: وضو کرنے کے لئے؟

ب: مستحب غسل اور مسواک کرنے کے لئے‌؟

ج: غیر ضروری موارد میں بطور متعارف اور معمول کے مطابق اہل خانہ کو ٹیلی فون کرنے کے لئے؟

د: مسجد کی حدود سے باہر جا کر اہل خانہ سے ملاقات کے لئے؟

هـ: حوزه (مدرسہ) یا یونیورسٹی کے دروس میں شرکت کرنے کے لئے؟

و: نماز جماعت يا نماز جمعه کے لئے؟

ج. دروس، نماز جماعت، اہل خانہ کو ٹیلی فون کرنے، جلوس جلسہ یا اہل خانہ سے ملاقات کے لئے مسجد سے باہر جانے میں اشکال ہے بلکہ یہ ممنوع ہے۔ نماز جمعہ کے لئے مسجد سے باہر جانے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اسی طرح وضو، مستحب غسل اور اگر ضرورت ہو تو مسواک کرنے کے لئے مسجد سے باہر جانے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س. اگر کوئی شخص کسی مسجد یا مدرسہ میں امام جماعت ہو تو کیا وہ اعتکاف کی حالت میں نماز جماعت کی ادئیگی کے لئے مسجد سے خارج ہو سکتا ہے؟

ج. نماز جماعت کی ادائیگی کے لئے مسجد سے باہر جانے کے جواز میں اشکال ہے۔ البتہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد سے باہر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س. اگر اعتکاف کے دوران بدن کے کچھ حصہ پر خون لگ جائے تو کیا اسے مسجد سے باہر جا کر فوراً زائل کرنا چاہئے یا اس میں تاخیر بھی جائز ہے؟

ج. اگر اس نے ابھی نماز نہ پڑھنی ہو تو اسے فوراً پاک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

  

س. مسجد میں کھانا صرف کرنے کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اعتکاف میں بیٹھے افراد کے لئے مسجد کے احاطہ میں موجود کھانے کے ہال میں کھانا کھانا جائز ہے؟

ج. جائز نہيں ہے۔

  

- اعتكاف کو توڑنا

س. انسان کن مواقع پر اپنے اعتکاف کو توڑ سکتا ہے اور کن موارد میں اعتکاف نہیں توڑ سکتا؟

ج. جب اعتکاف مستحبّ ہو تو وہ پہلے دو دن میں اعتکاف کو توڑ سکتا ہے اور اگر واجب اعتکاف ہو جیسے نذری اعتکاف (نذر کی وجہ سے واجب ہونے والا اعتکاف) اور اگر اس نے اعتکاف کا وقت معین کیا ہو تو اسے حتی پہلے دن بھی اعتکاف کو توڑنے کا حق حاصل نہیں ہے، اور اگر نذر میں اعتکاف کا وقت معین نہ کیا ہو تو اس کا حکم مستحب اعتکاف کی طرح ہے اور وہ پہلے دو دن میں اعتکاف کو توڑ سکتا ہے۔

 

س. اگر کوئی اعتکاف کے دوران بیمار ہو جائے ( اور اس نے پہلے کوئی شرط نہ کی ہو) تو کیا وہ تیسرے دن اعتکاف کو توڑ سکتا ہے؟

ج. جو بیماری روزہ کے باطل ہونے کا سبب بنتی ہے، اس سے اعتکاف بھی باطل ہو جاتا ہے، چاہے اعتکاف کا تیسرا دن ہی کیوں نہ ہو۔

 

س. اگر اعتکاف میں بیٹھی عورت کو طلاق رجعی دے دیں تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ اور اس کے اعتکاف کا کیا حکم ہے؟

ج اس سوال کی رو سے مطلّقه کا اعتکاف باطل ہے اور اسے چاہئے کہ وہ عدت گذارنے کے لئے گھر چلی جائے اور اگر اس کا اعتکاف واجب موسّع ہو تو عدت گذارنے کے بعد اسے نئے سرے سے انجام دے اور اگر اس کا اعتکاف واجب معین ہو تو اس صورت میں اگر اعتکاف کے تیسرے دن طلاق واقع ہو تو بعید نہیں ہے کہ وہ اعتکاف کو تمام کرنے کے بعد اعتکاف سے خارج ہونے اور اعتکاف کو باطل کرکے فوراً خارج ہونے کے درمیان مخیر ہو، اور اگر اعتکاف اجارہ، نذر یا ان جیسے دوسرے امور کی وجہ سے واجب معین ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اعتکاف سے خارج ہو جائے۔

 

س. اگر معتکف واجب اعتکاف کے دوران (نذر وغیرہ کی وجہ سے واجب ہونے والا اعتکاف) مر جائے تو کیا اس کے ولی پر اس اعتکاف کی قضا بجا لانا واجب ہے؟

ج. اس سوال کی رو سے ولی پر اس اعتکاف کی قضا بجا لانا واجب نہیں ہے اگرچہ یہ بہتر ہے۔ جی ہاں! اعتکاف کی حالت میں روزہ کی نذر کی ہو تو ولی پر اس کی قضا واجب ہے۔

 

- اعتكاف کے محرمات

س. معتکف پر کون سی چیزیں حرام ہیں؟

ج. اس بارے میں تفصیلی کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔ اجمالی طور پر اعتکاف کے محرامات یہ ہیں:

1- عورت سے مباشرت 2- خوشبو سونگھنا 3- خرید و فروش 4-‌ دینی یا دنیاوی امور کے بارے میں جدال

 

س. اعتکاف کی حالت میں ناخن یا بال کاٹنے ( مثلا سر اور چہرے کی اصلاح) کا کیا حکم ہے؟

ج. اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ انہیں ترک کیا جائے۔ البتہ اگر چہرے کی اصلاح سے مراد داڑھی منڈوانا ہو تو یہ حرام ہے۔

 

س. معتکف کے لئے عطر لگانے، کنگھا کرنے اور آئینہ میں دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

ج. خوشبو سونگھنا جیسے عطر اور رياحين معتکف کے لئے حرام ہے لیکن کنگھا کرنا اور آئینہ میں دیکھنا حرام نہیں ہے اگرچہ انہیں ترک کرنا بہتر ہے۔

 

س. کیا اعتکاف کی حالت میں لذت کی غرض سے عطر اور خوشبودار جڑی بوٹیوں کو سونگھنا حرام ہے یا اگر اس سے لذت بھی حاصل نہ کرے تو کیا یہ جائز نہیں ہے؟

ج. عطریات کے سلسلہ میں حرمت میں لذت کے اعتبار میں محل تأمل ہے لیکن پھولوں کے بارے میں یہ بعید نہیں ہے کہ حرمت؛ لذت کے موارد سے مخصوص ہو۔ جی ہاں! جس کی قوۂ شامہ (سونگھنے کی حس) فاقد ہو اس کے لئے اس میں اشکال نہیں ہے۔

 

س. اعتکاف کی حالت میں بیوی اور شوہر کے لئے مندرجہ ذیل موارد کا کیا حکم ہے؟

الف: لمس کرنا

ب: چومنا

ج: شہوت کی نظروں سے دیکھنا

د: ٹیلی فون پر شہوت آمیز گفتگو کرنا

ج(الف اور ب). احتیاط کی بناء پر معتکف اور معتکفہ کے لئے شہوت سے ‌لمس کرنا اور چومنا حرام ہے بلکہ اعتکاف کے باطل ہونے کا باعث ہے۔

 (ج اور د). بیوی کو شہوت کی نظروں سے دیکھنا جائز نہیں ہے اگرچہ اسے ترک کرنے میں احتیاط ہے اور اسی طرح جس کے ساتھ اعتکاف کے علاوہ دوسرے موارد میں شہوت آمیز گفتگو کرنا جائز ہے، اس سے اعتکاف کے دوران بھی ٹیلی فون پر شہوت آمیز گفتگو کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س. کیا ضروری موارد میں خرید و فروش کر سکتے ہیں؟ کیا ان امور میں کسی دوسرے شخص کو وکالت دے سکتے ہیں کہ وہ اس کی طرف سے خرید و فروش انجام دے یا خرید و فروخت کے علاوہ قرض اور بخشش کو منتقل کرے؟

ج. اگر خود اعتکاف میں کھانے اور پینے کے لئے خرید و فروش ہو اور اس کی ضرورت ہو، نیز اس کام کے لئے کسی کو وکیل بنانے سے بھی معذور ہوں اور خرید و فروش کے علاوہ حاجت رفع نہ ہوتی ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س. کن امور میں مجادلہ (بحث میں نزاع و اختلاف) حرام ہے؟

ج. جب دینی یا دنیاوی امور کے بارے میں مجادلہ اور بحث کا مقصد طرف مقابل پر غلبہ پانا اور اس پر اپنی فضیلت کا اظہار کرنا ہو تو یہ حرام ہے۔ لیکن اگر مجادلہ کا ہدف و مقصد حق کا اظہار کرنا ہو یا اس کام کے لئے مجادلہ کیا جائے کہ طرف مقابلہ اپنی خطا سے دستبردار ہو جائے تو اس میں اشکال نہیں ہے بلکہ اس قسم کا مجادلہ اور بحث بہترین اعمال میں سے شمار ہوتا ہے۔

 

س. اگر معتكف کی عادت یہ ہو کہ استمتاع کی صورت میں یا ذہن میں بعض افکار آ جانے سے اس کی منی خارج ہو جائے تو کیا ان کاموں کی وجہ سے منی خارج ہو جانے کی صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر اس کی یہ عادت نہ ہو اور منی خارج ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر اس کی یہ عادت ہو لیکن منی خارج نہ ہو تو کیا اس صورت میں بھی اس کا کوئی حکم ہے؟

ج. اگر عمدی طور پر اور جان بوجھ کر ایسا نہ کرے اور یہ بے اختیار ہو جائےتو کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

- اعتكاف کے محرمات  کا کفارہ

س. اگر معتكف واجب یا مستحب اعتکاف کو جماع کے ذریعہ باطل کرے تو کیا اس پر کفارہ واجب ہے؟ کیا رات یا دن میں یہ عمل انجام دینے کی وجہ سے حکم میں کوئی فرق ایجاد ہوتا ہے؟ کیا اس عمل کو اعتکاف کے پہلے دو دنوں یا تیسرے دن میں انجام دینے کی وجہ سے حکم میں کوئی فرق ایجاد ہوتا ہے؟

ج. واجب اعتکاف کے دوران اگر جماع رات میں بھی ہو تو اس سے کفارہ واجب ہو جاتا ہے اور مستحب اعتکاف میں اگر یہ دو روز مکمل ہونے کے بعد انجام دیا جائے تو احتیاط کی بناء پر اس کا کفارہ ہے اور اگر اس سے پہلے انجام دیا جائے تو کفارہ کا واجب ہونا معلوم نہیں ہے۔

 

س. اگر واجب اعتکاف کے دوران قضاء روزہ رکھے اور پھر ظہر کے بعد اپنا روزہ باطل کرے تو اس پر کتنے کفارہ واجب ہیں؟ اور اگر اعتکاف مستحب ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج. واجب اعتکاف میں دو کفارہ ہیں اور مستحب اعتکاف میں چونکہ اس نے روزہ کی قضا کو ظہر  کے بعد باطل کیا ہے لہذا اس پر ایک کفارہ واجب ہے اور اگر اس نے اعتکاف کے تیسرے دن باطل کیا تو احوط یہ ہے کہ اس عنوان سے بھی کفارہ لازم ہے۔

 

- اعمال امّ داوود

س. مفاتیح الجنان کے مندرجات کے مطابق اعمال ام داؤود اذان ظہر کے بعد شروع ہوتے ہیں لیکن بعض مساجد میں اعتکاف کی مراسم کے دوران مجالس اور نوحہ خوانی کی وجہ سے اعمال کو اذان ظہر سے دو گھنٹے پہلے شروع کر دیتے ہیں اور ان کا یہ موقف ہوتا ہے کہ یہ تمام اعمال مستحب ہیں لہذا اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ اذان سے پہلے ہوں یا بعد میں۔ کیا یہ کام صحیح ہے؟

ج. اگر ثواب کے عنوان سے رجاءاً انجام دیا جائے تو اس  میں کوئی مانع نہیں ہے۔

 

موضوع:

سه شنبه / 24 اسفند / 1395
نکاح موقت (متعہ) کے کچھ احکام

باکرہ لڑکی کے ازدواج میں باپ کی اجازت
س. کيا نکاح موقت میں باکرہ لڑکی کے باپ کی اجازت ضروری ہے؟ اور اگر لڑکی رشیدہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج.میری نطر میں احتیاط واجب کی بناء پر باکرہ لڑکی کے ازدواج میں باپ یا دادا کی اجازت ضروری ہے اور چونکہ مسئلہ احتیاط کی بناء پر ہے لہذا الاعلم فالاعلم کی رعائت کرتے ہوئے کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنا جائز ہے کہ جو اجازت کو لازم نہ سمجھتے ہوں.‌والله العالم

  

ولیّ کی اجازت کے بغیر نکاح موقت
س.اگر باب یا دادا کی اجازت کے بغیر نکاح موقت انجام پائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج. احتیاط یہ ہے کہ یا ولیّ اجازت دیدے یا پھر شوہر مدت بخش دے۔ اور چونکہ مسئلہ احتیاط کی بناء پر ہے لہذا اس مسئلہ میں دوسرے مجتہد کی طرف رجوع کرنا جائز ہے کہ جو اجازت کو لازم نہ سمجھتے ہوں البتہ اس میں الاعلم فالاعلم کی رعایت کی جائے.‌والله العالم

 

عدم دخول کی شرط اور باپ کی اجازت

س. اگر عقد موقت میں عدم دخول یا بکارت زائل نہ کرنے کی شرط کی جائے تو کیا پھر بھی ولی کی اجازت ضروری ہے؟

ج. میری نظر میں احتیاط واجب کی بناء پر باکرہ لڑکی کے ازدواج میں باپ یا دادا کی اجازت ضروری ہے  اور سوال میں مذکورہ شرط اس حکم پر اثرانداز نہیں ہوتی.والله العالم

 

ازدواج کے علاوہ بکارت کا زائل ہونا اور ولی کی اجازت
س. اگر کھیل، ورزش یا زنا وغیرہ کی وجہ سے لڑکی کی بکارت زائل ہو جائے تو کیا ازدواج کے لئے باپ یا دادا کی اجازت ضروری ہے؟
ج. جس لڑکی کی بکارت زنا اور شرعی ازدواج کے علاوہ کسی اور وجہ سے زائل ہو چکی ہو،احتياط واجب کی بناء پر اس کی شادی بھی باپ یا دادا کی اجازت سے ہونی چاہئے.والله العالم

 

ولی کی اجازت میں برتری
س. اگر صغیرہ یا باكرهٔ رشيده کے ازدواج میں باپ اور دادا کے درمیان اختلاف ہو جائے تو کس کے قول کو مقدم کرنا چاہئے؟
ج. دادا یا باپ میں سے جو کوئی بھی صغیرہ کے ازدواج میں سبقت کرے تو اس میں دوسرے کے لئے کوئی محل باقی نہیں رہتا چونکہ دونوں میں سے ہر ایک مستقل ولایت رکھتا ہے  اور ظاہراً بالغۂ رشیدہ کے ازدواج میں اذن کے بارے میں یہی حکم ہے جو احتیاط کی بناء پر ہے . والله العالم

 

کفار سے متعہ
س. کفار سے نکاح موقت کرنے کا کیا حکم ہے؟

ج. مسلمان مرد کا اہل کتاب کافر کے علاوہ کسی اور کافر عورت سے نکاح کرنا حرام اور باطل ہے۔ لیکن مسلمان مرد اہل کتاب کافر عورت جیسے یہودی، عیسائی، زرتشتی سے نکاح موقت کر سکتا ہے.والله العالم

 

اہل كتاب لڑکی سے ازدواج میں باپ کی اجازت
س.کیا اہل کتاب لڑکیوں سے نکاح موقت کرنے کے لئے ان کےباپ سے اجازت لینا شرط ہے؟
ج. اگر وہ اپنے دین میں باپ کی اجازت کو شرط نہ سمجھتے ہوں تو اس کی رعایت کرنا ضروری نہیں ہے.والله العالم

 

زانیہ سے متعه کرنا اور اس کی عدت

س. اگر کوئی کسی زانیہ سے متعہ کرنا چاہئے تو کیا زاینہ عورت کو عدت گزارنی چاہئے؟

ج. زنا کی عدت نہیں ہے اور زاینہ سے متعہ کرنا کراہت رکھتا ہے.والله العالم

 

عورت کی وکالت میں مرد کا صیغہ پڑھنا
س. کیا مرد عورت کی طرف سے وکیل بن کر اسے اپنے عقد موقت میں قرار دےسکتا ہے؟

ج. مرد عورت کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے اور اس سے دائمی یا غیر دائمی( نکاح دائم یا نکاح موقت) عقد کر سکتا ہےلیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ دو افراد عقد پڑھیں.والله العالم

 

صیغہ پڑھنے کے لئے صحیح قرائت 
س. اگر کوئی شخص قرآن پڑھ سکتا ہو لیکن اسے کے مخارج اور لہجہ صحیح نہ ہو تو کیا وہ عقد دائم یا عقد موقت کا صیغہ پڑھ کر سکتا ہے؟
ج. عقد کا صیغہ پڑھنے والے کے لئے کلمات کو صحیح طور سے ادا کرنا اور قصد انشاء کے معنی کو جاننا ضروری ہے.والله العالم

 

عقد موت میں مدت کا ذکر نہ ہونا
س. اگر عقد موقت میں مدت ذکر نہ کی جائے تو کیا کرنا چاہئے؟اور کیا  ایک دوسرے سےجدا ہونے کے لئے طلاق کی ضرورت ہے؟

ج. اس سوال کی رو سے اگر مدت ذکر نہ ہو تو یہ عدق دائم کا حکم رکھتا ہے اور اگر ایک دوسرے سے جدا ہونا چاہئیں تو جدائی طلاق کے ذریعہ ہونی چاہئے.والله العالم

 

عقد موقت کو دائم میں تبدیل کرنا
س. اگر عقد موقت کو عقد دائم میں تبدیل کرنا چاہیں تو اس کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج. عقد موقت کی مدت تمام ہو جائے یا شوہر بقیہ مدت بخش دے اور پھر عقد دائم پڑھا جائے۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ عقد دائم باطل ہے.والله العالم

 

99 سالہ عقد
س. کیا ننانوے (۹۹) سال کے لئے عقد موقت پڑھنے سے اس پر عقد دائم کا حکم لاگو ہو گا یا عقد موقت کا ؟
ج. اس پر عقد موقت کا حکم لاگو ہو گا.والله العالم

 

عقد موقت میں مجہول مدت ذکر کرنا
س.اگر کوئی شخص کسی عورت سے معین مہر کے ساتھ عقد موقت کرے اور اس کی مدت اس وقت تک قرار دیں کہ جب تک شوہر کو کوئی مناسب گھر مل جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ان کے عقد کا کیا حکم ہے؟
ج. اس سوال کی رو سے مذکورہ عقد، دائمی عقد میں تبدیل ہو جائے گا کیونکہ اس میں مدت مجہول ہے اور اس پر مدت ذکر نہ کرنے کا حکم جاری ہوتا ہے.والله العالم

 

حالت حيض میں عقد موقت کا صیغہ جاری کرنا
س. اگر عورت حالت حیض میں ہو تو کیا عقد موقت کا صیغہ پڑھنا صحیح ہے؟
ج. اس میں کوئی حرج(اشكال) نہیں ہے اور صیغہ عقد پڑھتے وقت عورت کا پاک ہونا عقد کے صحیح ہونے کی شرط نہیں ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں شاہد
س. کیا عقد موقت میں شاہد اور گواہ کی ضرورت ہے؟
ج. نکاح دائم یا موقت میں شاہد اور گواہ کے حاضر ہونے کی ضرورت نہیں ہے.والله العالم

 

زوجہ کی رضامندی سے عدم دخول کی شرط کو نقض کرنا

س. اگر عقد موقت میں دخول نہ کرنے کی شرط کریں لیکن بعد میں عورت نزدیکی کرنے پر راضی ہو جائے تو کیا نزدیکی کرنا جائز ہے؟
ج. اگر زوجہ عقد  کے بعد نزدیکی کرنے پر راضی ہو جائے تو شوہر اس سے نزدیکی کر سکتا ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں نفقه اور ارث

س. کیا عقد موقت میں عورت نفقہ اور شوہر کی وفات کے بعد اس سے ارث کا حق رکھتی ہے؟
ج. نہ وہ نفقہ کا حق رکھتی ہے اور نہ ہی شوہر سے ارث لے سکتی ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں نفقہ کی شرط
س. کیا عقد موقت میں نفقہ کی شرط کو شرط نتیجہ کے طور پر بیان کر سکتے ہیں ؟
ج. شرط فعل کے طور پر نکاح منقطع میں نفقہ کی شرط صحیح ہے اور شوہر پر واجب ہے کہ وہ اس شرط پر عمل کرے لیکن اس کی خلاف ورزی نکاح کو فسخ کرنے کے حق کا موجب نہیں بن سکتی بلکہ شوہر کو نقفہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا.والله العالم

 

عقد موات میں توارث( ایک دوسرے سے ارث لینے) کی شرط
س. کیا عقد موقت میں زوجین ایک دوسرے سے ارث لینے کی شرط کر سکتے ہیں؟
ج. اس مسئلہ میں اشکال ہے اور توارث ( ایک دوسرے سے ارث لینا)کی شرط کو ترک کرنے میں احتیاط ہے اور اسے شرط کرنے کی صورت میں باقی ورثہ کے ساتھ مصالحت کرنے میں احتیاط ہے.والله العالم

 

عقد موقت میں گھر سے باہر جانے کے لئے اجازت
س. جس عورت سے نکاح موقت کیا جائے کیا اس عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز ہے ؟ 
ج. جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جا سکتی ہے لیکن اگر گھر سے باہر جانے کی وجہ سے شوہر کا حق ضائع ہو تو اس کا گھر سے باہر جانا حرام ہے. والله العالم

 

مدت بخشنے کی صورت میں حق مہر
س.میں نے ایک شخص سے نکاح موقت کیا، ابھی عقد کی مدت باقی تھی کہ شوہر نے مدت بخش دی۔ کیا اس صورت میں اسے تمام حق مہر دینا چاہئے؟
ج. اگر دخول واقع ہوا ہو تو اسے پورا حق مہر دینا چاہئے اور اگر دخول واقع نہ ہوا ہو تو اسے آدھا حق مہر دینا ہو گا.والله العالم

 

ولی اور بکارت کے نہ ہونے اور یائسہ ہونے کے بارے میں عورت کے قول کو قبول کرنا
س. اگر کوئی شخص کسی عورت سے عقد موقت کرنا چاہے اور وہ عورت کہے کہ میرا کوئی ولی( باپ یا دادا) نہیں ہے یا کہے کہ میں ثیّبہ (غیر باکرہ) یا یائسہ ہوں تو کیا اس کی بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے؟
ج. اگر وہ کہے کہ اس کا باپ یا دادا نہیں ہے تو احتیاط واجب کی بناء پر اس کا قول قابل قبول نہیں ہے اور اس کے بارے میں تحقیق و جستجو کی جائے اور اگر وہ کہے کہ میں یائسہ ہوں تو اس کی بات کو قبول نہ کیا جائے لیکن اگر وہ کہے کہ اس کا کوئی شوہر نہیں ہے اور اس  کے بارے میں صدق کا احتمال دیا جائے تو اس کا قول قابل قبول ہے اور اس بارے میں تحقیق و جستجو کرنا ضروری نہیں ہے۔ جی ہاں! اگر وہ متہم ہو تو اس صورت میں تحقیق و جستجو کرنا بہتر ہے.والله العالم

 

ولی کی اجازت کے بغیر باکرہ لڑکی کا ازدواج
س. جس لڑکی باپ فوت ہو چکا ہو اور اس کا دادا بھی نہ ہو تو کیا نکاح موقت کے لئے کسی کی ضروت ہے؟
ج. اگر لڑکی باکرہ ہو اور اس کا باپ اور دادا نہ ہو تو اس صورت میں خود بالغہ و رشیدہ لڑکی کی اجازت اور رضائیت  کے علاوہ کسی کی اجازت کی ضروت نہیں ہے.والله العالم

 

عقد دائم پڑھنے کے لئے عقد موقت کی مدت بخشنا

س. مسلمانوں میں یہ رسم ہے کہ زوج اور زوجہ میں عقد دائم پڑھنے سے پہلے محرمیت کا صیغہ پڑھا جاتا ہے۔ کیا عقد دائم پڑھتے وقت زوج کی طرف سے عقد موقت و محرمیت کی مدت کو بخشنا واجب ہے یا نہیں؟
ج. جی ہاں! اس کے لئے مدت کو بخشنا ضروری ہے اور اگر وہ مدت کو نہیں بخشے گا تو اس صورت میں عقد دائم کا صیغہ صحیح نہیں ہے.والله العالم

موضوع:

احكام غير مسلمين

مصافحہ کرنا اور معاشرت
۱۔اہل کتاب کے ساتھ معاشرت اور ان کے ساتھ کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟
ج. اهل كتاب کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار اور نجس است  اور اسے کھانا جائز نہیں ہے اور احتیاط کی بناء پر وہ خود بھی نجس ہیں۔ اس بناء پر رطوبت کی حالت میں جو چیز بھی ان سے مس ہو وہ احتیاط کی بناء پر نجس ہو جائے گی. والله العالم.
۲۔ اگر عیسائیوں، یہودیوں اور ہندؤں کی اشیاء اور ان کے در و دیوار کو تر ہاتھ لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج. اگر اس جگہ کی نجاست کے بارے میں علم ہو تو ہاتھ کو پانی سے دھونا چاہئے اور اگر اس کا علم نہ ہو تو یہ ضروری نہیں ہے. والله العالم.
۳۔ اگر مسلمان کے علاوہ کسی اہل کتاب سے تر ہاتھ ملائیں تو کیا ہاتھ کو دھونا چاہئے یا نہیں؟
ج. باحتياط واجب کی بناء پر اپنے ہاتھ کو پانی سے دھوئیں. والله العالم.
۴۔ کیا زرتشتی مرد کا کسی مسلمان عورت سے نکاح موقت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ج. مسلمان عورت کا زرتشتی مرد سے نکاح کرنا باطل ہے چاہے وہ نکاح موقت ہی کیوں نہ ہو. والله العالم.
۵۔ کیا آپ کے فتوی کے مطابق زرتشتی تمام مسائل میں اہل کتاب سے ملحق ہیں مثلاً کیا وہ پاک ہیں اور کیا ان کی عورتوں اور لڑکیوں سے نکاح دائم اور نکاح موقت کرنا جائز ہے؟

ج. احتیاط کی بناء پر اہل کتاب کی طرح زرتشتی بھی نجس ہیں اور اس سے نکاح کے سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ اسے ترک کیا جائے چاہے یہ دائمی ہو موقت. والله العالم.

۶۔ اہل ذمہ کو دیکھنے، ان سے ازدواج اور ان کی طہارت و نجاست کا کیا حکم ہے؟
ج.کافرہ کے جسم کے ان حصوں کو لذت اور ریبہ کے بغیر دیکھنا جائز ہے جنہیں وہ اپنی عادت کے مطابق نہ چھپاتی ہوں۔ کتابیہ کے ساتھ نکاح موقت جائز ہے اور نکاح دائمی میں احتیاط کے خلاف ہے۔ اور میرے نظریہ کے مطابق اہل کتاب بھی احتیاط کی بناء پر نجس ہیں۔ والله العالم.
۷۔ کیا اهل كتاب اور كافر (جو آسمانی ادیان کا معتقد نہ ہو) سے متعہ جائز ہے؟
ج. اہل کتاب سے متعہ کرنا جائز ہے لیکن تمام کفار سے متعہ کرنا جائز نہیں ہے. والله العالم.
۸۔ ائمہ معصوم علیہم السلام اور امام زادوں کے حرام مقدس میں غیر مسلم اور اہلسنت حضرات کے جانے کا کیا حکم ہے؟

ج. اهلسنت کے جانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن کفار کے جانے میں اشکال ہے. والله العالم.
۹۔ خوزستان (ایران کا ایک شہر) میں صائبین کا ایک فرقہ ہے ، کیا وہ اہل کتاب ہیں؟ اور کیا وہ پاک ہیں یا نہیں؟

ج. ہمارے نزدیک صائبین کا اهل كتاب ہونا ثابت نہیں ہے. والله العالم.
صوفيه فرقہ
۱۰۔ صوفیہ اور ان کے عقائد کے بارے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
ج. صوفيوں کے مختلف فرقہ اور شاخیں ہیں اور انحراف کے لحاظ سے سب یکساں نہیں ہیں، ممکن ہے کہ ان میں سے بعض دائرہ اسلام سے خارج شمار نہ ہوں۔ مجموعی طور پر وہ منحرف ہیں اور ان کے مخصوص عقائد غیر اسلامی ہیں. والله العالم.
۱۱۔غلاة ،مجسمه، مجبره اور صوفيه (جنہیں مرحوم سید نے عروه میں بيان فرمایا ہے) کے مسئلہ کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟

ج. مجھ حقير کا بھی وہی نطریہ ہے جو ہمارے استاد اعظم زعیم اکبر آیت اللہ العظمی بروجردی تھا اور جو مرحوم سيد صاحب عروه اعلي‌الله مقامه کے مطابق مطابق ہے۔اس کے علاوہ میں مؤمنين کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کفر اور کافر کے احکام کے آثار پر اسی طرح سے عمل کریں جیسا کہ عروۃ میں بیان ہوا ہے ، نیز ان کے ساتھ معاشرے ، میل جول اور اٹھنے بیٹھنے اور بالخصوص ازدواج اور رفاقت و دوستی سے پرہیز کریں کہ اس کے سنگین خطرات اور بزرگ نقصانات و مفاسد ہیں. والله العالم.
۱۲۔ بهائيت اور تصوّف سے برتاؤ کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟

ج. کلی طور پر مساعدتی اور موافقت آمیز برتاؤ اور فرقہ ٔ ضالہ (گمراہ فرقہ) کی ترویج اور اس کی تقویت کا باعث بننے والا ہر ارتباط و تعلق جائز نہیں ہے اور ان سے میل جول اور اٹھنے بیٹھنے کو ترک کرنا لازم ہے. والله العالم.
۱۳۔ کیا ردویشوں اور صوفیہ کی خانقاہوں میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی عزاداری اور مرثیہ سننے کے لئے جانا اور وہاں فاتحہ خوانی وغیرہ میں شرکت کرنا جائز ہے؟

ج. یہ باطل کی ترويج ہے اور جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۴۔ کیا درویشوں کی کانقاہوں کی تعمیر میں ان کی مدد کرنا اور ان سے ہر قسم کی جنسی مدد کا کیا حکم ہے؟

ج. خانقاہ کی تعمیر میں ان کی مدد کرنا اور ان کے مسلک اور عقیدہ سے منسلک ہر قسم کی جنسی مدد کرنا جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۵۔ کیا صوفیہ کی مجالس میں شریک ہونا اور ان سے کوئی جنس خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
ج. ان کی مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے اور اگر ان سے کوئی جنس خریدنا ان کی تقویت کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے. والله العالم.
۱۶۔ میں اس مسئلہ کے شرعی حکم کو نہیں جانتا تھا اور میں نے علی اللہی فرقہ کی ایک خاتون سے شادی کر لی اور اس مدت کے دوران وہ اپنے خاص مذہب کی وجہ سے ہمار شرعی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے پابند نہیں ہیں، لہذا وہ نماز نہیں پڑھتی، روزہ نہیں رکھتی، اور تمام شرعی احکام کو انجام نہیں دیتی اور اپنے فرقہ کی پیروی کرتی ہے۔ کیا ہماری شادی صحیح ہے یا نہیں؟

اگر شادی باطل ہے تو پھر مہر اور اس کے تمام حقوق کا کیا حکم ہے؟ اور ہمارے بچوں کے لئے کیا حکم ہے؟

ج. کلی طور پر مذکورہ سوال جیسے مسائل میں اگر بیوی واقعاً امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو اللہ سمجھتی ہو تو یہ شادی باطل ہے اور شوہر کا اس سے علیحدہ ہونا ضروری ہے اور اس کے لئے طلاق کی ضرورت نہیں ہے اور چونکہ شوہر نہیں جانتا تھا اور اس نے شادی کیا لہذا اس سوال کی رو سے بچے باپ سے ملحق ہوں گے اور شرعی طور پر وہ بچہ حلال زادہ ہیں۔ اور چونکہ اس بیوی پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے لہذا اسے مہر ادا کرنے لے لزوم کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی. والله العالم.
۱۷۔ کیا خود کو اہل حق کا نام دینے والا فرقہ مسلمان ہے یا نہیں؟ اگر کوئی مسلمان اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا اس مسلمان سے قصاص لینا جائز ہے؟

ج. اس سوال کی رو سے جو لوگ حضرت علی علیہ السلام کو خدا سمجھتے ہیں یا ضروریات اسلام میں سے کسی ایک کے منکر ہوں ،ان پر کفر کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ کسی مسلمان کو کافر کے قتل کی وجہ سے قصاص نہیں کر سکتے لیکن حاکم شرع موازین کے مطابق قاتل پر تعزیر کا حکم لگا سکتا ہے. والله العالم.
۱۸۔ «علي اللهي» فرقہ؛ جو اهل حق کے نام سے مشہور ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ملک کے مختلف شہروں جیسے ہمدان، کرمانشاہ، سنندج، کنگاور اور ان شہروں سے ملحقہ دیہاتوں میں آباد ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ نہ تو اصول دین کے معتقد ہیں اور نہ ہی فروع دین کے اور یہ لوگ نہ ہی اسلامی احکام جیسے غسل وغیرہ پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ شادی کرنے، کھانا کھانے،معاشرت اور میل جول کا کیا حکم ہے؟
ج. اگر مذکورہ فرقه اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام کو خدا سمجھے یا ضروریات دین جیسے نماز اور روزہ وغیرہ کے منکر ہوں تو وہ کافر ہیں اور واضح ہے کہ اس صورت میں ان سے شادی کرنا جائز نہیں ہے اور باطل ہے اور اگر وہ لوگ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو خدا نہ سمجھیں اور ضروریات دین کا انکار بھی نہ کریں تو پھر بھی ان میں عقیدتی و اخلاقی اور عملی لحاظ سے متعدد انحرافات پائے جاتے ہیں لہذا ان سے شادی کرنے میں اشکال ہے بلکہ اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ جی ہاں!ان میں سے جو لوگ شہادتین کے قائل ہوں نیز وہ ضروریات دین کا انکار اور باطل عقائد کا اقرار بھی نہ  کرتے ہیوں  تو وہ محقون الدم ہیں یعنی ان کی جان ،مال اور عرض محترم ہے. والله العالم.
فرقه ضالّه بهائيت

۱۹۔فرقۂ بہائی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ خرید و فروخت، لوازمات زندگی کو کرایہ پر یا عاریہ کے طور پر دینے اور ان کے تحائف قبول کرنے کے بارے مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہےَ
ج. اگر مذکورہ امور ان کی تقویت کا باعث ہوں تو یہ جائز نہیں ہیں ‎‎والله العالم.
۲۰۔ بہائیت جیسے گمراہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرنے، ان سے ہاتھ ملانے اور دوستی کا اظہار کرنے کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے؟
ج. بہائی سے دوستی کا اظہار کرنا اور اس سے ہاتھ ملانا اور دیگر صورتیں جائز نہیں ہیں. والله العالم.
كتب ضالہ (گمراہ کرنے والی کتابیں)
۲۱۔ایسی کتابیں پڑھنے کے بارے میں آپ جناب کا کیا نظریہ ہے جو اگر انسان ذہن کی وسعت کے لئے جاسوسی کی کتابیں پڑھے کہ جو اپنی طاقت کو دوسروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ایسی کتابیں جو کسی جاسوس نے لکھی ہوں۔ نیز یہ بھی جانتے ہوں کہ اس کچھ غیر اخلاقی نکات بھی پائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں آپ جناب اپنا نظریہ بیان فرمائیں۔

ج. اس بارے میں مختلف موارد ییں لہذا ہر کتاب کے بارے میں الگ سے سوال کیا جائے تا کہ اسی کے بارے میں جواب دیا جائے لیکن کلی طور پر جو کتابیں مطالعہ کرنے والے کے عقیدہ یا اخلاق میں انحراف کا باعث ہوں ان کتابوں کا مطالعہ کرنا جائز نہیں ہے. والله ‎العالم.
 

۲۲۔کیا غیر اسلامی کتابیں پڑھنا جیسے بہائیت، کیمونیسم  اور دوسرے مذاہب کی کتابیں پڑھنا حرام ہے یا نہیں ہے؟
ج. کتاب ضلال کی حفاظت کرنا اور انہیں پڑھنا حرام ہے مگر یہ ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو حق کو باطل سے تشخیص دینے کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کی غرض ( مثلاً باطل نظریات کو رد کرنا) صحیح ہو. والله العالم.
۲۳۔ کتابوں کے ضلال ومضل ہونے کا معیار کیا ہے؟
ج.کتابوں کے مضل و ضلال ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ ایسے مطالب پر مشتمل ہوں کہ جو قاری کو مذہبی لحاظ سے گمراہ کرنے کا باعث ہوں۔. والله العالم.
۲۴۔ صوفيه کتب کی خرید و فروخت اور ان کے مطالعہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
ج. صوفیہ کتب کو چھاپنا، ان کی نشر و اشاعت،  انہیں خريدنا،ان کی حفاظت اور ان کا  مطالعه كرنا حرام ہے  اور ان کی کتابیں کتب ضلال کا حکم رکھتی ہیں کہ جن کا مطالعہ صرف اہل نظر کے لئے ان کے باطل کو ابطال کرنے کی رو سے جائز ہے. والله العالم.

موضوع:

سه شنبه / 25 آبان / 1395
خمس کے احکام

س1-کیا کسی ایسی کتاب پر بھی خمس لاگو ہوتا ہے جسے خریدنے کے بعد اس کا مطالعہ نہ کیا گیا ہو؟

ج) اگر انسان کو اس کتاب کی ضرورت ہو اور وہ انسان کی شان کے مطابق ہو تو اس پر خمس لاگو نہیں ہوتا اگرچہ پورا سال اس کا مطالعہ نہ کیا ہو۔

 

س2-اگر کسی عورت کو کچھ مقدار میں سونا بطور تحفہ دیا  جائے اور وہ اب بھی اس سے استفادہ کرتی ہو تو کیا اسے اس کا خمس اور زکاۃ دینا چاہئے؟

ج) مذکور زینت میں زکات نہیں ہے اور یہ معمول اور متعارف حد سے زیادہ نہ ہو تو اس کا خمس بھی نہیں ہے۔

لیکن اگر یہ معمول اور انسان کی شأن سے زیادہ ہو تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔

 

س3- کيا سونے کے سکہ (سکۂ بہار آزادی) پر خمس ہے؟

ج) سكه بهار آزادي بھی دوسرے تمام سرمایہ کی مانند ہے۔ چنانچہ اگر یہ خمس کے سال کے دوران باقی رہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب  ہے۔

 

س4- اگر بینک میں پیسے رکھے جائیں تو کیا اس کے منافع اور سود پر خمس لاگو ہوتا ہے جب کہ اصل سرمایہ کا پہلے سے خمس ادا کر دیا گیا ہو؟

ج) اگر سود اور منافع جائز اورشرعی ہو تو جتنی مقدار استعمال نہ ہو اور خمس کے پورا سال تک باقی رہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔

 

س5- مجھے طالب علم کے عنوان سے قرض دیا گیا۔ اگر میں اسے بینک میں رکھوں تو کیا اس پر خمس ہے؟

ج) قرض پر خمس نہیں ہے مگر اتنی مقدار میں کہ جس کی اقساط ادا کر دی گئی ہوں اور وہ  سرمایہ شمار ہو۔

 

س6- جو خواتین کسی ادارہ وغیرہ میں کام کرتی ہیں، کیا ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر مہینہ اپنی تنخواہ سے خمس نکال کر الگ کریں یا خمس کے لئے سال کو معین کرنا ہی کافی ہے؟

ج) ہر مہینہ خمس ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ جب وہ پہلی تنخواہ لیں تو یہ ان کے خمس کے سال کا آغاز ہو گا اور اگر یہ کمائی ان کے سالانہ اخراجات سے زیادہ ہو تو اس کا خمس دینا چاہئے۔

 

س7- میں اپنے شوہر سے تدریجاً مہر لیتی ہوں، کیا اس پر خمس ہے یا نہیں؟

ج) مهر پر خمس نہیں ہے.

 

س8- میں نے عمرۂ مفردہ پر جانے کے لئے نام لکھوایا ہے۔ میں نے اس کی کچھ رقم ادا کر دی ہے جب کہ بقیہ رقم قرض لی ہے۔ کیا اس کا خمس ادا کرنا ضروری ہے؟

ج) آپ نے جو رقم ادا کی ہے ، اگر وہ آپ کی کمائی ہو اور اس کو ایک سال گزر چکا ہو اور اس کے بعد عمرہ کے لئے دی ہو تو اس پر خمس ہے لیکن مذکورہ قرض میں خمس نہیں ہے۔

 

س9- اگر خمس نہ دینے کی نیت سے اس طرح سے خرچ کریں کہ سالانہ اخراجات سے کوئی چیز باقی نہ بچے تو کیا اس میں اشکال ہے؟

ج) اگر حلال امور میں خرچ کیا ہو اور وہ اس کی شان سے زیادہ بھی نہ ہو تو اس میں اشکال نہیں ہے اور اس سوال کی رو سے خمس ادا کرنا لازم نہیں ہے۔

 

س10- نذر کے عنوان سے دی جانے والی غذا کھانے کا کیا حکم ہے جب کہ ہم یہ نہ جانتے ہوں کہ کیا اس کے مالک نے اس کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں؟

ج) اگر آپ کو یہ یقین نہ ہو کہ آپ جو غذا کھا رہیں ہیں ،اس پر خمس تھا یا نہیں تو آپ کے لئے اسے کھانے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

 

س11-کیا مرجع تقلید کی طرف رجوع کئے بغیر اپنی نظر میں مصلحت کے مطابق خرچ  کر سکتے ہیں؟

ج) نہیں! مجتهد جامعالشرائط کی اجازت کے بغیر خمس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن مجتہد یا ان کے وکیل کی اجازت سے معین شدہ شرعی امور میں خرچ کر سکتے ہیں۔

 

س12- اگر میں نے قرض لیا ہو اور اسے خرچ کرنے سے پہلے ہی خمس کے سال کا وقت ہو جائے تو کیا اس کا خمس ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

ج) قرض کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے، مگر اس مقدار میں کہ جس کی اقساط ادا کر دی گئی ہوں۔ چونکہ اس پر سرمایہ کا حکم لاگو ہوتا ہے۔

 

س13- میں نے گھر خریدنے کے لئے تدریجاً (تھوڑے تھوڑے کر کے) پیسے جمع کئے ، کیا ان پر خمس لاگو ہوتا ہے یا نہیں؟

ج) اگر ضرورت کے مطابق گھر خریدنے کے لئے تدریجی طور پر پیسے جمع کرنے کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہ ہو تو مذکور سرمایہ میں خمس نہیں ہے۔

 

س1۴-اگر اپنی کمائی سے کسی کو قرض دیا ہو اور وہ دو سال کے بعد واپس کرے تو کیا اس پر خمس ہے؟

ج) جی ہاں! فوراً اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔

  

س1۵- کیا ہم اپنے فقیر ماں باپ کو خمس دے سکتے ہیں؟

ج) فقیر ماں باپ اولاد کے واجب النفقہ ہیں اور اگر اولاد مالی طور پر قدرت رکھتی ہو تو اسے ان کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں اور اگر وہ سادات ہیں تو واجب نفقہ کے لئے انہیں سہم سادات نہیں دے سکتے ، اور سہم مبارک امام علیہ السلام بھی جامع الشرائط فقیہ کی اجازت پر موقوف ہے۔

 

س1۶- کیا ہم حسینہ اور امام بارگاہ یا تمام نیک امور میں خرچ کر سکتے ہیں؟

ج) سهم سادات فقير سید کو دیا جانا چاہئے۔لیکن سہم امام علیہ السلام کے لئے مرجع تقلید یا ان کے نمائندہ کی اجازت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

س1۷- اگر کوئی کسی ایسے مجتہد کی تقلید پر باقی ہو جو وفات پا چکے ہوں تو اسے اپنا خمس کسے ادا کرنا چاہئے؟

ج) ضروری ہے کہ وہ زندہ مجتہد کو خمس ادا کرے، اور فوت ہو جانے والے مجتہد کے وکیل کو خمس ادا کرنا کافی نہیں ہے۔

 

س۱۸- میں نے کچھ کتابیں خریدیں لیکن ان کا مطالعہ نہیں کر سکا ، کیا ان پر خمس لاگو ہوتا ہے؟

ج) اگر ان کی ضرورت ہو اور ان سے استفادہ کیا جائے تو ان پر خمس نہیں ہے۔

 

موضوع:

چهارشنبه / 19 آبان / 1395

صفحات

Subscribe to RSS - موضوعی