بحر عرفان عید میلاد امام عسکری است آن که شمس آسمانِ سروری است   آنکه بعد از حضرت هادی به حق متکی بر متّکای رهبری است   نام نیکویش حَسن، خُلقش حَسن پای تا سر حُسن و نیکو منظری است   الامام بن الامام بن...
يكشنبه: 1398/09/17 - (الأحد:11/ربيع الثاني/1441)
Printer-friendly versionSend by email
امام جواد علیہ السلام ؛ علم اور جود و سخا کے پیشوا
حضرت امام تقی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی کی خصوصی تحریر

حضرت امام تقی علیہ السلام اخلاق کریمہ ، صفات حسنہ ، معرفت ، علم و دانش اور زہد و تقویٰ میں اپنے اجداد اطہار علیہم السلام کے وارث تھے اور آپ کی عظمت و جلالت زبان زد خاص و عام تھی ۔ بزرگ علمی و دینی شخصیات آپ کے سامنے خاضع و متواضع ہوا کرتی تھیں  ۔

بزرگ محدثین اور عالیقدر علماء کو آپ سے علوم کسب کرنے کا افتخار حاصل تھا اور وہ حضرات سخت اور دشوار ترین علمی مسائل میں آپ  کو ہی اپنا حلّالِ مشکلات سمجھتے تھے ۔

آپ کے فضائل و کرامات اور آپ کی امامت پر دلالت کرنے والی روایات و نصوص بہت زیادہ ہیں ۔ اگرچہ امام جواد علیہ السلام کی  حیات طیبہ طولانی نہیں تھی اور آپ کا سن مبارک چھبیس سال تک بھی نہیں پہنچا تھا  ( لیکن اس کے باوجود )  اس بزرگ ہستی سے بہت سے علوم صادر ہوئے ہیں ۔ جب کہ امام تقی الجواد علیہ السلام اور اس زمانے کے بزرگ علماء کے درمیان ابحاث اور مناظرات بھی ہوئے ہیں ؛ جیسا کہ عباسی خلیفہ مأمون الرشید ، بنی عباس کے کچھ افراد اور کچھ دوسرے لوگوں کے سامنے قاضی القضاۃ «يحيي بن اكثم» کے ساتھ  ہونے والا مناظرہ اور علمی مباحثہ  ، کہ جس میں  آپ نے اس کے جواب میں ایسی ایسی شقیں بیان فرمائیں کہ قاضی القضاۃ حیران اور شرمندہ ہو گیا اور پھر آپ نے ان تمام شقوں کا جواب بیان فرمایا ۔ پھر مأمون کے کہنے پر آپ نے اس سے ایک مسألہ پوچھا کہ وہ جس کا جواب دینے سے  عاجز ہو گیا ۔ اس نے امام تقی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ  ہی اس مسألہ کا جواب دیں ۔ پھر آپ نے اس سوال کا جواب دیا اور یوں سب بنی عباس پر واضح ہو گیا کہ  مأمون کے مطابق بھی امام تقی علیہ السلام کمسن ہونے کے باوجود  تمام علماء سے افضل و اعلم ہیں ، اور خداوند متعال نے آپ کو اس  فضیلت و کمال سے مزین کیا ہے ۔

امام تقی الجواد علیہ السلام کے مناظرات و مباحثات میں ایک  ایسا مناظرہ ہے کہ  كتاب «الجلاء والشفاء» میں « ابن شهر آشوب » کی روایت کے مطابق آپ نے سات سال کی عمر میں علماء اور دانشوروں کے ایک گروہ کے ساتھ مناظرہ کیا اور آپ نے ان کے مشکل مسائل کا علمی جواب دیا ۔

 

کمسنی میں امامت

اگرچہ اس زمانے تک سن بلوغ سے پہلے امامت کے منصب پر فائز ہونے کا کوئی سابقہ نہیں تھا اور ائمہ میں سے کوئی بھی اس عمر میں مسند امامت پر جلوہ افروز نہیں ہوا تھا ؛ لیکن تمام انبیاء اور پیغمبروں میں یہ امر سابقہ رکھتا ہے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام بچپن میں ہی مقام نبوت پر فائز ہوئے  اور قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے : اِنّي عَبْدُ اللهِ آتانِي الْكِتابُ وَ جَعَلني نَبِيّاً؛  بیشک میں خدا کا بندہ ہوں ، مجھے کتاب دی گئی ہے اور مجھے پیغمبر قرار دیا گیا ہے ۔

اور حضرت يحييٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے : (وَ آتَيْناهُ الْحُكْم صَبِيّاً ) ؛ اور بچپن میں ہی انہیں نبوت دی گئی ۔ 

اس بات کو خاص و عام سبھی قبول کرتے ہیں کہ ائمہ اطہار علیہم السلام کے علوم ، دانش ، قوتِ فہم اور کثرتِ معارف جسمانی رشد و نما ، زمانے اور تعلیم کے حصول سے وابستہ نہیں ہیں ۔

ائمہ علیہم السلام کے بچپن کے زمانے کے متعلق ہی ایسے حیرت انگیز واقعات نقل ہوئے ہیں کہ جو آپ کے کمالات و فضائل  کی فعلیّت اور آپ کے غیر معمولی نبوغ کی عکاسی کرتے ہیں  ۔ یہاں تک کہ معاويه ، يزيد اور عبد الله بن عمر نے بھی آپ کے علم لدنّی کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اور جب حضرت امام موسی بن جعفر علیہما السلام سات سال کے تھے تو ابو حنیفہ آپ سے فقہی مسائل پوچھتا تھا اور ان کا جواب حاصل کرتا تھا ۔

جو کوئی بھی ان بزرگ ہستیوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کرے اور آپ کے بچپن کے زمانے اور سن بلوغت کے بعد صادر ہونے والے علوم کو ملاحظہ کرے تو وہ یہ بات سمجھ جائے گا کہ یہ تمام علوم اور معرفت حصولی طریقے سے حاصل نہیں کئے جا سکتے ۔

اسلام علوم کے تمام شعبوں ، حقوق ، معارف اور الٰہیات میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بے پایان علوم کو تعلیم کے ذریعے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور اس زمانے میں حضرت خاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مکتب و مدرسہ کے علاوہ کس مکتب و مدرسہ سے ایسے شاگرد فارغ التحصیل ہو سکتے ہیں ، اور کون سا استاد ایسے بے نظیر شاگردوں کی تربیت کر سکتا ہے ، اور علی علیہ السلام کے علاوہ کون نبوت کے علوم کو حمل کرکے علوم نبوی کا باب مدینۃ العلم بن سکتا ہے ؟

علی علیہ السلام کے علوم کے مقابلے میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مکتب کے تمام اصحاب اور شاگردوں کے تمام علوم بحر بیکراں کے سامنے ایک قطرہ کی طرح ہیں۔

یہ علوم خدا کا فضل اور آپ کو رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے حاصل ہونے والی میراث ہے ۔ اس باب میں سات سال کے بچے اور ستّر سال کے ضعیف العمر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ دونوں خاص استعداد اور کمال صلاحیت کے ساتھ ان علوم کو اخذ  کر سکتے ہیں اور اس کے مُلْهَمْ وَمُفَهَّمْ و محّدث بن سکتے ہیں ۔

جیسا کہ منصور (عباسی خلیفہ ) نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں گواہی دی ہے کہ آنحضرت ان لوگوں میں سے ہیں کہ جن کی شان و منزلت کے بارے میں خدا نے یہ گواہی دی ہے : (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا... )

ائمہ (علیہم السلام ) میں سے ہر امام خدا کا برگزیدہ بندہ ہے  کہ جنہیں خدا نے کتاب اور کتاب کا علم عطا فرمایا ہے اور کبھی بھی امت ایسے اہل بیت (علیہم السلام ) میں سے ایسی شخصیت سے محروم نہیں ہو گی ۔

احاديث «ثقلين»، «سفينة»، «امان» اور حديث «في كّل خلف من امتي» اور (ان کے علاوہ ) دیگر روايات اسی موضوع کو بیان کرتی ہیں اور اسی کی تائید کرتی ہیں ۔ نیز وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ان ذوات مقدسہ کے علاوہ کوئی بھی ان احادیث کا مصداق نہیں ہے اور صرف یہی وہ ہستیاں ہیں کہ جن کا علم ، خدا کے علم اور جن کی بصیرت خدا کی خاص عطا ہے ۔ مسلمان مشرق کی طرف جائیں یا مغرب کی طرف ؛ انہیں کہیں بھی ان کے علاوہ صحیح علم نہیں ملے گا ۔

دوشنبه / 14 مرداد / 1398